مجھے بچا لو!
محمد فاروق دانشؔ
…..
’’ وثیق ! کہاں چلے گئے تم؟‘‘اُس کی امی نے دروازے کی جانب آتے ہوئے آواز لگائی لیکن اُنھیں کوئی جواب نہیں ملا تو وہ دروازے کی جانب آئیں۔ وثیق کا دُور دُور تک پتا نہ تھا۔
’’ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ دروازے پر کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔‘‘
وہ اپنے آپ سے کہتے ہوئے اندر جانے لگیں اور پھر کسی خیال کے تحت رک گئیں۔ انھیں خیال آیا کہ وہ کہیں باڑے میں نہ چلا گیا ہو ۔ اس خیال کے آتے ہی انھوں نے گھر کا دروازہ باہر سے بند کیا اورباڑے کی جانب چل دیں۔
نصرت پور نامی گاؤں میں وثیق اور اُس کی والدہ رہا کرتی تھیں۔ ان کے والد زمین دار تھے،کچھ ایکڑ زمین پر وہ گندم کاشت کیا کرتے تھے۔باڑے میں ان کی اپنی ۵ بھینسیں، تین بکریاں ،کئی مرغیا ں اور دیگر پرندےتھے، جس کی دیکھ بھال وہ اچھی طرح کر تے تھے ، اپنی زمین توانھوں نے مقاطعے پر دی ہوئی تھی اس لیے کوئی خاص پریشانی نہ تھی، انھیں اپنے حصے کی گندم مل جایا کرتی تھی ۔دودھ کی فراوانی تھی علاقے میں ان کا دودھ بے حدمشہور تھا،اس لیےان کادودھ تو بکتا بھی خاصا تھا۔ لوگ دور دور سے دودھ لینے آیا کرتے تھے۔اس کے والد جان وروں کے چارے اور خوراک کا بے حد خیال رکھتے تھے۔اچھی سے اچھی غذا کے بعد بھینسیں اچھا دودھ نہ دیں، یہ کیسے ممکن تھا۔ دودھ کے حصول کے لیے لائن میں لگ کر لوگ یہیں سے دودھ لینا پسند کرتے تھے۔ان کی گزر بسر اچھے طریقے سے ہو رہی تھی۔
وثیق کے والد توثیق احمد سویرے منھ اٹھ کر نماز پڑھتے اور اپنےباڑے میں مصرووف ہو جاتے، چوائی کے لیے تین ،چار افراد ملازمت پر تھے لیکن توثیق صاحب اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ وہ ملازمین کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہتے اورسارے کام کی نگرانی کرتے ، چوائی کے دوران بکریوںکو چارہ دیتے، مرغیوں کو دانہ کھلاتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ شام کے وقت اسکول سے فراغت ہوتی تھی تو وثیق بھی یہیں آجاتا اور جانوروں میں گھل مل جاتا۔ اسے اپنی بکری نینا بہت پیاری لگتی تھی، بکری بھی اس کی منتظر رہتی تھی۔ جب وہ آتا تو وہ اُچھل کود کرتی اور اس کے ساتھ کھیلتی۔ وہ بھینسوں کو بھی چارہ اور پانی دینے میں اپنے والد کی مدد کرتا۔ دن ہنسی خوشی بسر ہو رہے تھے کہ ایک دن عجیب واقعے نے ان کی زندگی میں تلاطم برپا کر دیا۔
رات کا دوسرا پہر ہوگا ، اچانک کسی کھڑکھڑاہٹ یا خطرے کے احساس کے سبب توثیق صاحب ایک دم بستر سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک ان جانا سا خوف ان کے دل میں پہلے ہی موجود تھا اور اب ان آوازوں نے انھیں ایک دم بیدار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ان کےباڑے میں کوئی حرکت ہو رہی ہے۔ انھوں نے ’’یا الہٰی خیر!‘‘ کے الفاظ ادا کیے اور اپنی لاٹھی اُٹھا کر کسی کو جگائے بغیر گھر سے باڑے کی طرف چل دیے۔
اِن کا گاؤں پرسکون علاقہ تھا، یہاں چوری نہ چکاری، قتل نہ فاقہ۔۔۔۔۔اس لیے کسی طرح کی چوکی داری یا نگرانی کی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ وہ رات دیر گئے اپنےباڑے کو تالا لگا کر آجاتے تھے اور منھ اندھیرے واپس ہو جاتے تھے،یوں کوئی خطرہ محسوس بھی نہ ہوتا تھا ۔ اچانک انھوں نے دور سے دیکھا کہ ان کےباڑے کا دروازہ چوپٹ وا ہوا ہواہے، اور دو تین افراد وہاں سے ان کی بھینسوں کو باہر نکال کر لا رہے ہیں۔ تین بھینسیں باہر نکالی جا چکی تھیں۔
’’ائے ! رکو، یہ کیا کر رہے ہو۔‘‘ وہ وہیں سے چلائے اور بھاگ کر اس طرف آئے۔ انھوں نے اپنی لاٹھی لہرائی۔ اس عرصہ میں اندر سے دو اور ڈاکو باقی کی دو بھینسیں بھی باہرلا چکے۔ اب تمام بھینسیں ان پانچوں نقاب پوشوں کے قبضے میں تھیں۔
’’تم لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘ قریب پہنچ کر انھوں نے لاٹھی کو حملے کے انداز میں ایک کی طرف لہرایا۔
’’تم اکیلے کب تک خالص دودھ پیتے رہو گے بابیو!‘‘ ایک نے قہقہہ لگا کر کہا۔
’’ہمارا بھی حق ہے ان بھینسوں پر۔۔۔۔‘‘ دوسرے نے اپنے ہاتھ میں موجود رائفل کو لہرا کر کہا۔
ان کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر وہ ایک لمحے کو ٹھٹھک گئے۔وہ بھینسیں ایک جانب ہانکنے لگے تو وہ برداشت نہ کر سکے۔
’’رک جاؤ، ورنہ۔۔۔۔۔۔‘‘
ان پر اس بات کا کوئی اثر نہ ہوا تو انھوں نے اپنی لاٹھی ایک ڈاکو کے سر پر جڑ دی، وہ تکلیف سے بلبلایا تو رائفل والے نے اس گن کا رُخ ان کی جانب کر دیا۔
’’کیوں اپنی موت کو آواز دے رہے ہو، خاموشی سے ہمارا راستا چھوڑ دو ورنہ۔۔۔۔۔‘‘
وہ اپنا مشن پورا کرنا چاہتے تھے اور یہ کسی صورت میں اپنے رزق کاذ ریعہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ اس قسم کی ہاتھا پائی میں نقصان بہرحال نہتے فرد کا ہی ہوتا ہے۔ انھوں نے ایک ساتھ تین چار فائر کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔
۔۔۔۔۔
وثیق کے دادا نیل پورکےشہر گھمن آباد میں رہتے تھے۔اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد انھوں نے چاہا کہ وہ دونوں ان کے پاس آ جائیں اور وہیں رہیں لیکن اس کی امی کسی طور اپنے شوہر کے علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوئیں ،حال آں کہ وثیق کو ہمیشہ سے اپنے دادا کے گھر جانا پسند تھا۔ وجہ بہت خاص تھی، دادا کا گھر خوب صورت نیلے سمندر کے پاس تھا۔ سمندر کے کنارے گھنے اور لمبے ناریل کے درخت موجود تھے ،جن پر سبز ناریل لٹکے بڑے خوب صورت دکھتے تھے۔ یہ لہراتے ناریل جب نیچےگرتے تو بچے انھیں توڑ کر ناریل کا پانی پیتے اور اس کا پھل کھا کر موج اُڑاتے۔ وثیق کو درخت اور جھاڑیوں میں گھومتےپھرتے خرگوش اور گلہریوں کے ساتھ کھیلنا پسند تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں خوب کھیلتاتھا۔ دادا جی کے گھر آ کرچھٹیاں گزارنے میں اسے بڑا مزہ آتا تھا لیکن اب امی کی مرضی کا احترام ضروری تھا ۔ اس کے نانا، نانی، ماموں اور دیگر رشتے دار نصرت پورمیں رہتے تھے، پھر ان کے مرحوم شوہر کی ملکیت کی نگرانی کو بھی وہ اپنا فرضِ اوّلین سمجھتی تھیں۔ انھوں نے ان کے بچے ہوئے کارُبار کو اپنی ذہانت سے سنبھالا۔ نفیس ماموں نے اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھاجس سے ان کو بہت حوصلہ ملا ۔وہ اپنے شوہر کے قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہتی تھیں۔
اِس سال موسم سرما کی چھٹیاں ہوئیں تو اس کو امی نےاسے دادا کے گھر جانے کی اجازت دی۔ اس کے انکار کے باوجود انھوں نے اُسے نفیس ماموں کے ساتھ وہاں بھجوا دیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ وہ ذہنی طور کچھ بہتر حالت میں آجائے۔ وہ اکثرباڑے میں جا کر کافی دیر بیٹھ جاتا تھا اور اپنے والد کو یاد کرکے روتا تھا۔وہ اُس کو اِس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
وثیق اپنے دادا جان کے گھر آیا تو شدید حیرانی کا شکارہو گیا ۔ ان کے گاؤں میں شاید ہی کوئی درخت بچا ہو۔ سمندر کے اطراف سے درخت غائب ہو چکے تھے۔ اب سمندر کے کنارے پر مٹی کے ڈھیراور ٹیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے سمندر کے قریب بنے ہوئے مکانات دیکھے، چاروں طرف درخت کی شاخیں اور پتھر بکھرے پڑے تھے۔ لوگوں نے ناریل کے بہت سارے درخت کاٹ ڈالے تھے اور اب ہریالی کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا تھا۔
’’دادا، سارے درخت کہاں گئے؟‘‘ وثیق نے حیرانی سےپوچھا۔
’’کیا بتاؤں بیٹا!‘‘ دادا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک گہری سانس لے کر کہنا شروع کیا۔’’یہاں کے لوگوں نے انھیں کاٹ دیا ہے، پہلے کھانا پکانے کے لیے یہاں گیس میسر تھی لیکن اب اس کی کم یابی نے لوگوں کو ان لکڑیوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔‘‘ دادا جی نے جواب دیا۔
’’اوہ! تو اس طرح اب تودرخت ختم ہوتے جائیں گے، اب مزید درخت نہیں ہوپائیں گے۔ ‘‘ اس نے نہایت افسردگی سے کہا۔’’درخت نہ ہوں گے توپرندے کہاں بیٹھیں گے؟ گلہریاں کہاں کھیلا کریںگی؟‘‘ اسے درخت کاٹے جانے کا بے حد افسوس تھا۔
دادا جی کا گھرسمندر سے تھوڑا الگ تھلگ تھا۔ دادا نے اپنے گھر کے باہر نرسری میں ناریل کے دو درخت لگا رکھے تھے۔ وہ دروازے کے قریب دو اطراف میں لگےہوئے تھے۔وہ ان کا بڑا خیال رکھتے تھے، ان میں سے وہ ایک درخت کو بھولو اور دوسرے کو گوگلو کہ کر پکارتے تھے۔یہ درخت انھوں نے اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے، آج وہ گھنے تنوں والے بڑے بڑے درخت بن چکے تھے۔وہ لمبے اور سرسبز درخت تھے ۔ انھوں نے لوگوں کواپنے درخت کاٹنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی۔
وثیق جب بھی آتا تھا،وہ اسے درخت سےسب سے اچھا، میٹھااور رس دار ناریل کھانے کو دیتے تھے۔ناریل کا پانی دادا جی کو بے حد پسند تھا۔ وہ اپنے لیے لڈو بنواتے تو خشک ناریل پسوا کر اس میں شامل کرتے، یہ ان کے لیے بہترین خوراک تھی۔دادا جی یہاں اکیلے رہتےتھے اس لیے وثیق کے آ جانے سے بے حد خوش ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ باتیں کرنے میں انھیں ہمیشہ مزا آتا تھا۔
آج صبح وثیق نے نیلے آسمان کو دیکھا اورباہر نکل گیا۔ وہ کبھی آسمان کو اور کبھی نیلے سمندر کی طرف دیکھتا۔دونوں ہی بے حد خوب صورت تھے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بہت پرجوش تھا، وہ سب کچھ بھول کر کھیل میں لگ گیا۔ یہاں آ کر وہ اپنے والد کے ساتھ آنے والا واقعہ فی الحال بھول چکا تھا۔ وہ سمندر کنارےکبھی ریت کے قلعے بنا تا، کبھی آتی ہوئی لہروں میں اُچھلتا۔ اسے پانی میں چھلانگ لگانا اور اِدھر اُدھر دوڑنا بے حد پسند تھا۔ سمندر پرسکون تھا اور وثیق کو پکار رہا تھا۔
’’آؤ، میرے پاس آؤ۔۔۔۔اندر آجاؤ۔۔۔۔۔ وثیق، میرے ساتھ کھیلو!‘‘
سمندر کی پکار سن کر اس نے ہلکے سے پانی میں ڈبکی لگائی اور ہاتھوں کو اس طرح چلانے لگا جیسے وہ پانی میں تیررہا ہو۔سمندر اسے مزید آگے اور آگے بلا رہا تھا۔ اچانک وہ اس سر مستی سے نکل آیا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ اسے سمندر میں تیرنا نہیں آتا۔ اسے اس کی امی نے ہر بار تاکید کی تھی۔
’’سمندر کی موجیں بے رحم ہوتی ہیں، پانی بلاتا ہے، اس کے قریب جانے والے ہر فرد کو وہ مستی دلاتا ہے۔وہ کہتا ہے، آؤ! میرے ساتھ کھیلو۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔یہ کھیل موت کا کھیل ثابت ہوتا ہے۔‘‘
اسے اپنی امی کے الفاظ یاد آئے تو اس نے جھر جھری لی اور فوراً پانی سے باہر نکل آیا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ کئی نوجوان پانی کی پکار پر اس کے قریب گئے ، پھر آگے ۔۔۔۔اور آگےجاتے گئے اور اس کے بعد۔۔۔۔۔ اس کے بعد کا تصور ہی خطرناک ہے۔
وہ دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔ وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔وہ سمجھ داری کے ساتھ گھر واپس آگیا۔
شام ہوتے ہی اس نے دادا جی کے ساتھ کھانا کھایا اور سونے کے لیےبستر پر چلا گیا۔
رات گئے ایک عجیب سی گڑ گڑاہٹ سنائی دی، وہ اسے سن کربیدار ہوگیا۔ وہ ایسی آواز بھیانک آواز تھی جسے سن کر وہ اب سو نہیں سکتا تھا۔ اچانک زمین ہلنے لگی،بستر نےاُسے اُوپر اچھال دیا، وہ حیران رہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پھٹ رہی ہو۔ وہ کوشش کرکے اُٹھا اور دادا جی کے پاس بھاگا۔ دادا بھی جاگ چکے تھے۔ وہ ان سے مضبوطی سے لپٹ گیا۔ دادا نےاسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا
’’ڈرو نہیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘انھوں نے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی۔
ایک بار پھر زمین ہلی۔ ’’ یہ زلزلہ ہے، زلزلہ۔۔۔۔۔‘‘ داداجی بھی گھبرا گئے۔’’چلو ۔۔۔گھر سے باہر نکلتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کرانھوں نے وثیق کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں اسی حالت میں گھر سے باہر دوڑ ے،دادا کو معلوم تھا کہ گھر سے باہر نکلنا محفوظ ہے ۔
باہر جا کر انھیں علم ہوا کہ زمین پھٹ نہیں رہی ،لیکن سمندر گرج رہا تھا۔ اس کی لہریں پر جوش تھیں۔ وہ ہر انداز سے لوگوں کو برباد کرنے پر تلا ہوا تھا۔ لوگ چیخ وپکار کررہے تھے، خواتین رو رہی تھیں۔
’’اب کیا ہوگا؟‘‘ انھیں اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی۔
’’سمندرکی لہریں بڑھ رہی ہیں بزرگ وار ۔۔۔۔وہ ہماری جانب تیزی سےبڑھ رہا ہے۔‘‘
کئی لوگوں کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اب کیا کیا جائے۔ کوئی تنکا، کوئی درخت ، کوئی معمولی ساسہارا بھی ان کے پاس نہ تھا سوائے میدان کے۔یہ سب ان کا اپنا کیا دھرا تھا۔گاؤں والے چیخ وپکار کرتے ہوئے ساحل سے دوربھاگنے لگے۔ اس وقت انھیں اپنے مال کی پروا نہیں تھی، فکر تھی تو صرف اپنی جان بچانے کی۔
وثیق نے حیرانی سے اُدھر دیکھا۔لہریں اوپر سے اوپر ہو تی جارہی تھیں۔
’’لہریں کتنی بڑی ہیں،کتنی طویل۔۔۔کتنی طاقت ور!‘‘
لہروں نے آگے بڑھنا شروع کیا۔ لوگ اندر کی طرف بھاگے جا رہے تھے، وہ موت سے دور ہونا چاہتے تھے۔
’’وثیق ۔۔۔۔ بھاگو۔۔۔۔گھر کی طرف دوڑ لگاؤ۔‘‘ دادا جان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔وہ بھی ضعیفی کے باوجود بھاگے تھے۔وثیق نے دیکھا کہ ہر طرف سے پانی آنا شروع ہو چکا ہے۔ وثیق کو یاد تھا کہ اس کی ماں نے اسے بہت پہلے سمجھایا تھا۔
’’اگر سیلاب بہت قریب آجائے تو ہمیشہ گھر سے باہر نکل جانا چاہیے۔‘‘
اس نے دادا کی پکار پر توجہ دی اور تیزی سے گھر کی طرف بھاگا۔ان کے گھر کی جانب بھی پانی تیزی سے آرہا تھا۔ وہاں ان کے لیے کوئی پناہ نہیں تھی۔پانی ان دونوں کو الگ کیے دے رہاتھا۔
’’گھر میں نہیں۔۔۔جان بچانے کے لیےہمیں گاؤں کے اندرونی حصے میں۔۔۔۔‘‘ اس کے ساتھ ہی دادا کی آواز بھی رندھ سی گئی۔
اس نے دادا جی کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا چاہا لیکن پانی بہت بڑھ چکا تھا۔گیارہ، بارہ میٹر اونچی لہریں تیزی سے آئیں اور ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لےلیا۔ اب چاروں طرف پانی ہی پانی تھا،سمندر کی بڑی لہروں نے دادا جی کے گھر کا رخ کیا۔ انھوں نے وثیق اور دادا کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہا۔دادا نے وثیق کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے۔ ایک اور بڑی لہر آئی تو دادا کا ہاتھ وثیق سے چھوٹ گیا، وہ پانی کی بے رحم موجوں کے حوالے ہوگئے۔ داداجی ہاتھ پیر مار رہے تھے۔انھوں نے لہروں کا مقابلہ کیا اور اپنا سر پانی سے اوپر رکھنے کی کوشش کی۔
نرسری میں داہنے ہاتھ پر لگے درخت کودادا جی نے پکڑ لیا۔ انھوں نے گھبرا کر چیختے ہوئےوثیق کو پکارا لیکن وہ انھیں دیکھ نہ سکے ، اچانک ہی ان کے ذہن میں جان بچانے کے لیے درخت بھولوکا سہارا نظرآیا اور وہ بائیں جانب موجود اس ناریل کے درخت پر چڑھ گئے۔ انھوں نےدرخت کی شاخ کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ پانی سب کچھ بہا کر لے جا رہا تھا۔ وہ درخت سے دیکھ رہا تھا کہ گھر کا سارا سامان پانی کے بہاؤ کے ساتھ باہر آ رہا ہے، کمبل ، کپڑے ، برتن۔ ان کا چولھا اور اناج کے ڈبے بھی تیرتے ہوئے باہر کی طرف جا رہے تھے۔ دادا جی کی یاد داشتوں پر مشتمل چھوٹی بڑی چیزوں پر مشتمل ان کا بریف کیس ان کی نظروں کے سامنے پانی میں تیرتا ہوا گزرا تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ وہ درخت سے اُتر جائیں ،لیکن ان حالات میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا تھا۔
دادا کواب صرف وثیق کے بارے میں تشویش تھی۔
’’وثیق، وثیق!‘‘ دادا جی نے شدت غم سے آواز لگائی۔
’’میں یہاں ہوں۔‘‘ اب کی بار اس نے دادا کو دیکھ لیا۔وہ گوگلو درخت پر چڑھا دادا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ان کی آواز سن کر اس نے چلا کر آواز دی۔ دادا نے اوپر کی طرف دیکھا اور اسے اشارہ کیا۔
’’گھبراؤ نہیں چھوٹے۔۔۔۔۔ادھر میرے پاس آجاؤ۔‘‘انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب آنے کو کہا۔
’’اوہ دادا! میں آپ تک نہیں پہنچ سکتا!پانی کا بہاؤ کم ہونے دیں ، پھر نیچے اترتا ہوں۔‘‘
اونچی لہریں خوف ناک رفتار اور طاقت کے ساتھ آئی تھیں۔ یہ سونامی تھا جس کی بے رحم موجوں نے سیکڑوں لوگوں کو بے گھر کر دیا اور کئی افراد ان موجوں کا شکار ہو گئے۔یہ شکر ہوا کہ لہروں نے واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔ چند منٹ کے اس طوفان کے بعد جلد ہی سکون ہو گیا،پانی واپس سمندر کی طرف جا رہا تھا۔دادا نے وثیق کو سمندر میں آنے والے ایسےطوفانوں کے بارے میں بتارکھا تھاکہ کس طرح کبھی کبھی پانی کی بڑی لہریں منٹوں میں سب کچھ اپنے ساتھ لے جاتی ہیں، پانی کی طاقت بڑی ہے، اس سے مقابلہ ممکن نہیں۔ یہ ہر چیز کونگل لینے کا ہنر خوب جانتی ہیں۔
وثیق آج ہمت کرکے ناریل کے درخت پر لٹک گیاتھا۔جان بچانے کے لیے سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت وہ درخت پرلٹکا عجیب سا لگ رہا تھا ۔ ساحل کے آس پاس کی ہر چیز تباہ ہو چکی تھی، وہ درد میں مبتلا لوگوں کی چیخ و پکار سن رہا تھا۔اس نے ان شاخوں اور کٹے درخت کی باقیات کو بہتا ہواسمندر کی طرف جاتا دیکھا۔
‘‘اوہ، کیوں۔۔۔۔ لوگوں نے ناریل کے درخت کیوں کاٹ ڈالے! ‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔’’یہ تو زمیں کو طاقت دیتے ہیں ، ان کی جڑیں زمین کو سنبھالے رہتی ہیں، گھنے درخت زمین کی حفاظت کرتے ہیں ،جیسے لوگ ان کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں اور انھیں بڑھاوا دیتے ہیں۔کیوں تھوڑے سے لالچ کے لیے انھوں نے زمین کی دل کشی چھین لی اور۔۔۔۔اب۔۔۔۔ زمین کا بدلہ سمندر کی بے رحم موجوں نے لے لیا تھا۔یہ سودا ان کے لیے کس قدر نقصان کا باعث بنا تھا ۔۔۔۔لیکن اب افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔‘‘وہ سوچتا رہا۔
وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر رہا تھا، چاروں طرف خاموشی تھی۔ وہ بہت خوف زدہ ہو کر درخت سے نیچے آیا۔ سیلاب کا پانی سامان، پتھر اور مٹی سے ، سرکنڈوں سے بنے گھر کو بہا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ سونامی تھم چکا تھا،لیکن حالات ابتر ہوچکے تھے۔ درخت سے اُترکر وہ کچھ فاصلے پر موجوددوسرے درخت کی طرف آیا ۔ دادا جی نیم مدہوشی کی حالت میں درخت پر موجودتھے۔
’’دادا۔۔۔۔آنکھیں کھولو!۔۔۔۔یہ میں ہوں، وثیق۔‘‘
کچھ فاصلے پر وہ بہت سے لوگوں کو آتے دیکھ سکتا تھا۔ وثیق نے ان کی طرف ہاتھ ہلایا ، قریب آکرانھوں نے دادا کو تھام لیا۔ اس نے ناریل کے درخت کی طرف دیکھا ، درخت نے ان دونوں کو بچایا تھا، گوگلو اور بھولوچٹان کی طرح مضبوط اور ثابت قدم کھڑے تھے۔
’’اگرچہ یہ مجھے نہیں جانتا، اور نہ یہ بولتا ہےلیکن اس نے میری مدد کی ہے۔‘‘ وثیق نے درخت کی طرف شکرگزار نظروں سے دیکھا۔
دادا اب بھی اس درخت پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ان کا گھر بہہ چکا تھا،جسے اب دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔بھری آبادی میں مکانات کی تباہی کے منظر میں یہ دو سرسبزناریل کے درخت موجودتھے۔
’’دیکھو!یہ کس قدر خاموشی مگرشان و شوکت سے کھڑےہیں ،جیسے یہاںکبھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یہ ہمت اور صبر کی علامت ہیں۔‘‘
دادا جی نے مسکرا تے ہوئے کہا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں کے درخت باقی ہوتے تو یہ سونامی اس شدت سے آ کر ایسی تباہی تو نہ مچاتا۔ گھر تو پھر بن جائیں گے، لیکن کیا ایسے ہرے بھرے درخت پھر سے فوری لگ سکتے ہیں جو زندگی کا پیغام ہیں ، جو اپنی چھاؤں سے ہمیشہ ضرورت مندوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں ۔ہمیں کسی طور درخت نہیں کاٹنے چاہییں کہ یہ بھی زندہ ہیں اورہمیں بھی زندگی کی نعمتیں فراہم کرنے کا قدرت کی طرف سے ایک تحفہ ہیں۔
( مرکزی خیال ماخوذہے۔)

