skip to Main Content

لوگ مجھے کہتے ہیں

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
سارے جہاں سے ہوں میں نرالا
لمبی سی اک گردن والا
جلد مری ہے کتنی پیاری
جیسے ہو پھولوں کی کیاری
تین انساں ہوجائیں کھڑے گر
ایک پہ دُوجا ، تیسرا اس پر
تب ہوں میرے قد کے برابر
بلکہ پھر بھی ، ہوں میں بڑھ کر
پتے شاخیں میں چَر جاؤں
روزانہ من بھر میں کھاؤں
کم لگتی ہے پیاس مجھے تو
پانی تھوڑا کافی مجھ کو
پانی کبھی کبھی پیتا ہوں
اکثر بِن اس کے جیتا ہوں
تیس منٹ روزانہ سوؤں
کھڑے کھڑے بس جھپکی لے لوں
دل کا بڑا ہوں سب نے مانا
میرا دل ہے گیارہ کلو کا
وزن نہیں کم ، نو سو کلو سے
اٹھارہ سو تک بھی پہنچے
گہری نیلی میری زباں ہے
منہ سے باہر بیس انچ آئے
شیر اور لگڑ بھگے دشمن
ان ہی سے رہتی ہے اَن بَن
ٹھوکر میری جو بھی کھائے
زخمی ہو جائے ، مر جائے
بینائی اچھی رکھتا ہوں
دُور سے دشمن کو میں تاڑوں
رہتے ہیں ہم پندرہ مل کر
کنبہ کہلاتا ہے “ٹاور”
جگ میں انوکھا ہوں میں اضافہ
لوگ مجھے کہتے ہیں زرافہ
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top