لسی اور چائے کا جھگڑا
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
لسی نے چائے کو پکڑا
دونوں میں پھر ہوگیا جھگڑا
لسی بولی ، میں ہوں ٹھنڈی
تُو تو ہے خطرے کی جھنڈی
میں دیتی ہوں دل کو تسکیں
چاہے میٹھی ہوں یا نمکیں
میں لاتی ہوں دل میں فرحت
پینے والا پائے راحت
ہضم کروں میں لکڑ پتھر
کردوں فوراً وزن کو کم تر
کردوں چربی تتر بتر
موٹاپے کا دُور ہو چکر
گرمی دُور بھگاتی ہوں میں
اور سکوں پہنچاتی ہوں میں
مکھن مجھ پہ یوں لہرائے
راج ہنس ہو پر پھیلائے
نیند بھی گہری لاتی ہوں میں
جب ہی سب کو بھاتی ہوں میں
ٹھیک رکھوں میں بلڈ پریشر
صحت بانٹوں میں تو گھر گھر
مجھے بتا تُو اپنی خوبی
تُو تو بڑھاتی ہے کمزوری
جوڑوں کا تُو درد بڑھائے
گُردوں کو کمزور بنائے
سینے کی تُو جلن بڑھائے
نیند کبھی پھر پاس نہ آئے
دل کا سکوں رخصت ہوجائے
دردِ دل سے دل گھبرائے
***
چائے بولی بہت ہوا جی
حد ہوتی ہے شیخی کی بھی
چکنائی تُو لے کر آئے
موٹاپا جلدی چھا جائے
لوگوں پر نزلہ گر جائے
کھانسی سے پھر جی گھبرائے
مکھی تجھ پر یوں منڈلائے
بس میں ہو تو ڈوب ہی جائے
تُو تو بنائے نیند کا ماتا
بیماری کا تُو ہے چھاتا
تُو تو نکمی ہے اور گندی
میں ہوں جبکہ کام کی بندی
دل کو میں مضبوط بناؤں
میں سرطاں سے بھی لڑ جاؤں
خلیوں کی میں کروں مرمت
دانتوں میں آجائے طاقت
میں چکنائی کو بھی گھٹاؤں
نیند بھی میں اچھی لے آؤں
خون میں شوگر کو سلجھاؤں
اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاؤں
سردی بھی مجھ سے گھبرائے
اور پھریری پاس نہ آئے
سوئے ہوئے اعصاب جگاؤں
ذہن کو میں چوکس کر جاؤں
خوشبو میری سب سے بہتر
سچ مانو یہ ہے جادوگر
ساری باتیں کروں میں سچی
مجھے بتا اب کون ہے اچھی؟
Facebook Comments

