skip to Main Content

جنگل کا ڈاکٹر

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
ایک بڑھئی ہے اِس کے اندر
کہلاتا ہے یہ وُڈ پیکر
سر پر اِس کے سُرخ ہے کلغی
نام اِس کا ہے کٹھ بڑھئی بھی
رنگ، جسامت الگ ہیں اِس میں
تقریباً ہیں ڈھائی سو قِسمیں
ملتا ہے پاکستاں میں بھی
قِسمیں ہیں دس بارہ طرح کی
سب سے چھوٹا تین انچ لمبا
بیس گرام سے بھی ہو ہلکا
بڑا ہے اٹھارہ اِنچوں کا
ہوگا وزن، کِلو کا آدھا
پیڑ میں یہ سوراخ بنائے
رات کو اُس میں ہی سو جائے
چونچ ہے لمبی اور نوکیلی
سخت اور سیدھی، جیسے چَھینی
جلدی جلدی چونچ چلائے
منٹوں میں یہ پیڑ کو چَھیدے
چونچ چلائے یہ بے کھٹکے
لگتے نہیں ہیں اِس کو جھٹکے
بارہ سو بار ایک منٹ میں
پیڑ کو مارے ہے یہ چونچیں
رب نے اِس کو ایسی زباں دی
جو ہے اِس کی چونچ سے دُگنی
اور لپٹ کر سر میں رہتی
جھٹکوں کو وہ خود ہے سہتی
جب یہ کیڑے کھانا چاہے
اپنی زباں کو منہ سے نکالے
کیڑے اِس سے لگ کر چِمٹیں
اِس کے کانٹوں میں پھنس جائیں
ہلکی آوازیں بھی سُن لے
سُن کر کیڑوں کو یہ چُن لے
رب نے تیز نظر بھی دی ہے
چُھپے ہوئے کیڑے بھی دیکھے
کیڑے کھا کر بھوک مِٹائے
ویسے بیج اور پھل بھی کھائے
جب کیڑے چُن چُن کر کھائے
بیماری پیڑوں کی جائے
روگ سے یہ پیڑوں کو بچا کر
جنگل کا، کہلائے ڈاکٹر
پیڑ میں کھودے گھونسلا اپنا
پیالہ نما دو فٹ تک گہرا
گھونسلا اونچائی پہ بنائے
دشمن آسانی سے نہ آئے
بلی، اُل٘و، سانپ اور کو٘ے
باز اور شِکرے، دشمن اِس کے
پہرہ دیتا ہے یہ گھر پر
دشمن دُور بھگائے لڑ کر
گھونسلا یہ ہر سال بنائے
پِچھلا اوروں کے کام آئے
گھر سے گر یہ دُور بھی جائے
واپس آسانی سے آئے
اپنے بچ٘وں کو پہچانے
ہر بچ٘ہ ماں باپ کو جانے
کھٹ کھٹ بولی وُڈ پیکر کی
ہوتی ہے ہر اِک کی الگ سی
سُتھرا رہنا چاہت اِس کی
پاکی رکھنا عادت اِس کی
گھونسلے کو بھی صاف بنائے
پانی مل جائے تو نہائے
اُڑنے کا انداز جُدا ہے
لہروں سے مِلتا جُلتا ہے
دُم ہوتی ہے سخت پَروں کی
بیٹھے تو اسٹینڈ ہے بنتی
خاص طرح کے، اِس کے پنجے
شاخیں مضبوطی سے پکڑے
رب نے بنایا اِس کو انوکھا
وُڈ پیکر کچھ ہے ہی الگ سا
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top