skip to Main Content

جادُو کا لفظ

ترجمہ: ظفر محمود
۔۔۔۔۔
چھ سالہ نینسی اپنے ساٹھ سالہ دادا جان کو اللہ حافظ کہنے اپنے گھر کے صدر دروازے تک آئی۔ وہ اُچھلتی کُودتی چل رہی تھی۔ نینسی کی شروع سے یہ عادت تھی کہ وہ جب بھی چلتی کبھی اُچھلتی، کبھی کُودتی اور کبھی رقص کرتی۔ راستہ چلتے ہوئے کبھی وہ سیدھی طرح نہیں چلتی تھی۔ شام کا ملگجا سا اندھیرا ہر طرف پھیل رہا تھا، مگر آسمان پر چھائی ہوئی سُرخ شفق کی وجہ سے ابھی تک کُچھ روشنی باقی تھی۔ اپنے گھر کے صدر دروازے پر پہنچ کر نینسی نے اپنے دادا جان سے اِٹھلاتے ہوئے کہا:
’’دادا جان! ایک بار پھر وہی جادُو دِکھائیے نا! مُجھے ایک بار پھر سِکّہ غائب کر کے دِکھائیے۔‘‘
کُچھ دیر پہلے نینسی کے دادا جان اُسے یہ جادُو دِکھا چکے تھے، مگر نینسی اب پھر ضد کر رہی تھی کہ اُسے وہی جادُو دوبارہ دِکھایا جائے۔ لہٰذا دادا جان نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک پینی نکالی اور اُسے اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان پکڑ لیا۔ پھر اُنہوں نے پینی نینسی کو دِکھائی تا کہ وہ اچھی طرح دیکھ لے۔ نینسی بڑے غور سے دادا جان کی اُنگلیوں کو دیکھ رہی تھی۔ دادا جان نے پھر آہستہ سے کُچھ پڑھا اور پینی اُن کی انگلیوں کے بیچ میں سے غائب ہو گئی۔ نینسی نے خُوشی سے تالیاں بجائیں اور پھر کہا:
’’ایک بار اور دادا جان! پلیز!‘‘
دادا جان نے پھر اُس کو کئی بار یہی تماشا دِکھایا اور ہر بار پینی غائب ہوتی رہی۔ نینسی بڑے غور سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ پھر اُس نے اُن سے کہا:
’’دادا جان! مُجھے کبھی یہ جادُو سِکھا دیجیے نا! میں کبھی آپ کی طرح چیزیں لوگوں کی نظروں کے سامنے سے غائب کروں گی۔ اچھا، یہ بتائیے کہ سچ مُچ جادُو ہے یا۔۔۔۔‘‘
’’یہ بالکل سچ مُچ کا جادُو ہے۔‘‘ دادا جان نے مُسکراتے ہوئے کہا۔
’’مگر یہ آخر کس طرح ہوتا ہے۔ مُجھے بتائیے، مُجھے سکھائیے دادا جان، پلیز!‘‘
نینسی اب مچلنے لگی تھی۔ اُس کی ضِد دیکھ کر دادا جان نے کُچھ دیر سوچا اور پھر اُس کی طرف جھُک کر سرگوشی کرتے ہوئے کہا:
’’یہ کوئی بہت بڑا جادُو نہیں ہے۔ بس میں کسی بھی چیز پر ’اوگلی ڈیبو‘ کہتا ہوں اور وہ چیز غائب ہو جاتی ہے۔ ہے نا آسان سا جادُو؟ کیا تُم کہ سکتی ہو؟ چلو میرے ساتھ دوہراؤ۔‘‘
نینسی نے بہت آہستگی سے کہا: ’’اوگلی ڈیبو۔‘‘
’’شاباش۔‘‘ دادا جان نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ’’اب تُم اِس سِکّے پر ’اوگلی ڈیبو‘ کہو۔ پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔‘‘
  یہ کہ کر اُنہوں نے سِکّے کو پہلے کی طرح اپنی اُنگلی اور انگوٹھے کے درمیان میں پکڑ لیا۔
نینسی نے کُچھ ہچکچاتے ہوئے کہا: ’اوگلی ڈیبو۔‘‘ دادا جان کی اُنگلیاں خالی ہو چکی تھیں۔ سِکّہ غائب ہو گیا تھا۔
نینسی نے اُن کی طرف جھُکتے ہوئے کہا:  
’’ایک بار اور دادا جان!‘‘
دادا جان نے پھر ویسے ہی کیا اور نینسی کے اوگلی ڈیبو کہتے ہی سِکّہ پھِر غائب ہو گیا۔ اس بار دادا جان کے چہرے پر حیرت کے ساتھ ساتھ کُچھ پریشانی بھی نظر آئی مگر پھِر وہ بے پروا ہو گئے۔ اُنہوں نے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا: 
’’نینسی اب میں چلتا ہوں، اللہ حافظ۔‘‘
نینسی نے ہاتھ ہلاتے ہوئے اُنہیں اللہ حافظ کہا اور وہ مکان سے باہر نکل کر پیدل ہی گلی میں چلتے چلے گئے۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو نینسی کھیلتی ہوئی اُس جگہ واپس آئی جہاں وہ دادا جان کے جانے سے پہلے کھیل رہی تھی۔ آج اِس کھیل میں وہ دادا جان کی اُس حرکت کو بھی نہ سمجھ سکی جس میں وہ بار بار اپنے کوٹ کی آستین کو جھٹک کر کُچھ باہر نکالنا چاہ رہے تھے، مگر شاید وہ چیز باہر نہیں نکل سکی تھی کیوں کہ دادا جان آخر تک اپنے کوٹ کی آستین کو جھٹکتے رہے تھے۔ دراصل ہر بار پینی کو وہ اپنے کوٹ کی آستین میں چھپا لیا کرتے تھے اور نینسی سمجھتی تھی کہ اُنہوں نے جادُو سے غائب کر دی ہے اور پھر ہوا یہ کہ پینی سچ مُچ غائب ہو گئی۔ اِسی چیز نے دادا جان کو پریشان کر دیا تھا۔ اُنہوں نے اوگلی ڈیبو کہہ کر پینی غائب کی اور پھر اُن کے ساتھ نینسی نے بھی یہی لفظ دہرایا اور پینی غائب ہو گئی۔ اِسی لیے وہ پریشان ہو گئے تھے۔
نینسی اپنی جگہ آ کر ایک بار پھر اُسی مصنوعی سانپ سے کھیلنے لگی جس سے وہ دادا جان کے آنے سے پہلے کھیل رہی تھی۔ کھلونے والا سانپ جب زمین پر رینگتا تو نینسی کو بالکل اچھا نہ لگتا۔ نینسی نے اُسی پر اپنے جادُو کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے سانپ کے قریب آ کر بہت آہستگی سے کہا:
’’اوگلی ڈیبو۔‘‘ 
اور کھلونے والا سانپ غائب ہو گیا۔ نینسی کو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اب وہ دادا جان کی مدد کے بغیر بھی چیزیں لوگوں کے سامنے سے غائب کر سکتی تھی۔ سانپ کے غائب ہونے کے بعد نینسی اپنی گڑیا سے کھیلنے لگی۔ اب اندھیرا بڑھنے لگا تھا۔ نینسی کی امّی نے اُسے آواز دی تو وہ اپنی گڑیا کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتی ہوئی اندر لے گئی۔ نینسی کی امّی نے اُسے دُودھ کا گلاس اور کُچھ چیزیں کھانے کو دیں۔ نینسی نے سب چیزیں بڑے شوق سے کھائیں مگر دُودھ اُسے شروع سے ہی پسند نہیں تھا۔ اُس کے ابّو قریب بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اب وہ مرحلہ آنے والا تھا جو اِس گھر کے لیے خطرے کی گھنٹی بننے والا تھا۔ نینسی نے دُودھ کی طرف مُنہ بنا کر دیکھا۔ اُس کی امّی نے اُس کے موڈ کو دیکھتے ہوئے کہا:
’’نہیں نینسی! یہ دُودھ تو تمہیں ہر حال میں پینا ہو گا۔ جلو جلدی کرو شاباش!‘‘
مگر نینسی تہیّہ کر چُکی تھی کہ وہ دُودھ کسی حال میں نہیں پیے گی۔ اُسی وقت فون کی گھنٹی بجی۔ نینسی کی امّی فون سُننے گئیں اور نینسی کو موقع مل گیا۔ اُس نے بڑے غور سے گلاس میں موجود دُودھ کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:‘‘اوگلی ڈیبو۔‘‘ اور گلاس میں موجود سارا دُودھ غائب ہو گیا۔
پھر وہ ہنستی مُسکراتی اور اپنی عادت کے مطابق اُچھلتی کُودتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جانے سے پہلے اُس نے اپنے امّی ابّو کو اللہ حافظ بھی کہا۔ آج اُسے بڑی اچھّی نیند آئی تھی۔ ساری رات وہ سُہانے سپنے دیکھتی رہی اور اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو اوگلی ڈیبو کہہ کر غائب کرتی رہی۔
صُبح نینسی جب سو کر اُٹھی تو وہ ہر روز کی طرح بہت خوش تھی۔ اُس نے گنگناتے ہوئے سب کام کیے۔ اُس کی امّی نے اُسے کپڑے بدلوائے اور پھر اُسے ناشتا کرایا۔ ناشتے میں پھر وہی مسئلہ تھا کہ اُسے دُودھ میں بھیگا ہوا دلیہ کھانا تھا جو اُسے بالکل پسند نہیں تھا۔ اب کیا ہو؟ مگر اِس سے پہلے کہ نینسی کُچھ کہتی، دُودھ والا آ گیا۔ اُس کی امّی اُس سے دُودھ کی بوتلیں لینے چلی گئیں اور نینسی نے کام کر دکھا دیا۔ جب اُس کی امّی واپس آئیں تو دلیے کا پیالہ بالکل خالی تھا۔ نینسی کی امّی یہ دیکھ کر خوش ہو گئیں۔ اُنہوں نے نینسی کے گال تھپتھپائے اور اُسے شاباشی دی۔ اُنہیں یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ اب دلیہ نینسی کو اتنا پسند آنے لگا ہے کہ اُس نے لمحے بھر میں پیالہ خالی کر دیا۔
یہ بڑی خوش گوار صُبح تھی نینسی حسبِ معمول اپنے مکان کے پچھلی طرف چلی گئی جہاں وہ ریت پر ہر روز گھروندے بناتی تھی اور خوب کھیلتی تھی۔ وہ کھیل بھی رہی تھی اور کوئی گانا بھی گا رہی تھی۔ وہ ایک بہت اچھی اور ہمیشہ خوش گوار موڈ میں رہنے والی بچّی تھی۔ اُسی وقت چارلس وہاں چلا آیا۔ وہ اُس کے برابر والے گھر میں رہتا تھا۔ چارلس نینسی کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ چارلس نے وہاں آتے ہی نینسی کا بنایا ہوا ریت کا گھروندا توڑ ڈالا۔ نینسی کو غصّہ آ گیا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کُچھ بولتی چارلس نے کہا:
’’تم تو بے وقوف ہو نینسی! بھلا یہ بھی کوئی ریت کے گھروندے بنا کر کھیلنے کا زمانہ ہے۔ کھیلنا ہے تو چاند کے سفر کا کھیل کھیلو۔ ہمیں کھیل ہی کھیل میں بلّی نما آدمی سے مُقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘ 
اور پھر اُس نے مُنہ سے ایسی آوازیں نکالنی شروع کر دیں جیسے وہ کسی انوکھی مخلوق سے لڑ رہا ہے، مگر نینسی کو چارلس کی تجویز پسند نہ آئی۔ چارلس نے پھر کہا:
’’چلو خلائی جہاز کا کھیل کھیلیں۔‘‘ اِس کے ساتھ ہی چارلس نے مُنہ سے بہت تیز آوازیں نکالیں جن سے کبھی تو ایسا لگتا تھا کہ وہ مُقابلہ کر رہا ہے اور کبھی لگتا تھا کہ وہ بھاگ رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ مُنہ سے یہ جملے ادا کر رہا تھا:
’’زحل کی طرف لے جانے والے راکٹ چلا دو شاباش!‘‘
’’دھیان سے! سامنے سے خلائی قزّاق آ رہے ہیں!‘‘
’’دوسرے انجن بھی اسٹارٹ کرو!‘‘
’’فائر! فائر کرو!‘‘
چارلس اِسی طرح خلائی قزّاقوں سے مُقابلہ کرتا رہا جو کبھی زحل سیّارے کے دائروں میں چلے جاتے تھے اور کبھی باہر آ جاتے تھے۔ نینسی اُس کی طرف کوئی دھیان دیے بغیر اپنے آپ میں مگن تھی۔ اُس نے اِس دوران اپنا ریت کا گھروندا دوبارہ بنا لیا تھا اور اب اُسے سجا سنوار رہی تھی۔ اُس نے ریت سے صوفہ سیٹ بھی بنایا تھا اور ڈائننگ ٹیبل بھی۔ اب وہ اپنے گھروندے میں قالین بِچھانے کا کام کر رہی تھی۔
اُدھر چارلس مُصیبتوں میں گھِر گیا تھا۔ سیّارہ مُشتری کے سیاہ خلائی جہازوں کا ایک بیڑا اُسے گھیرے میں لے چکا تھا۔ اُس پر خوف ناک شعاعوں سے حملے جاری تھے۔ چارلس بھی اپنے دفاع کی بھر پور کوششیں کر رہا تھا۔ پھر اُس نے جوابی حملہ کیا اور اُس جوابی حملے میں اتنا پُر جوش ہو گیا کہ مُنہ سے طرح طرح کی آوازیں نکالتے ہوئے اِدھر اُدھر دوڑنے لگا۔ اِسی دوران وہ نینسی کے گھروندے پر چڑھ گیا اور اِتنی محنت سے تیّار کیا ہوا گھر لمحے بھر میں ریت کا ڈھیر بن گیا۔ نینسی بھی ریت میں اَٹ گئی۔ نینسی غصّے سے لرزنے لگی، مگر چارلس اُس کی طرف سے بے پروا زمین کے خلائی اسٹیشن سے رابطہ کرنے میں مصروف تھا:
’’ہیلو کنٹرول روم! میں نے خلائی ڈاکوؤں کو ختم کر دیا ہے اور اب میں پلوٹو کی طرف جا رہا ہوں۔‘‘
نینسی نے غصّے سے کہا۔ ’’پلوٹو کو چھوڑو، تُم اپنے گھر جاؤ بے وقوف!‘‘
چارلس نے اُس کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا:
’’میں اپنے خلائی جہاز کا کپتان ہوں۔ میرا کام خلا میں موجود تمام ڈاکوؤں کا صفایا کرنا ہے۔ ابھی تو بہت ڈاکو باقی ہیں۔‘‘
’’مگر میں تُم سے کہہ رہی ہوں کہ سیدھی شرافت سے اپنے گھر چلے جاؤ ورنہ میں کُچھ کہہ دوں گی۔‘‘
نینسی نے اُسے دھمکی دی، مگر چارلس کو اُس کی دھمکی کی کب پروا تھی۔ اگر وہ کُچھ کہتی ہے تو کہتی رہے۔ اِس سے چارلس کا کیا بگڑتا۔ وہ مُنہ سے تیز آوازیں نکالتا پلوٹو کی طرف روانہ ہو گیا جہاں اُس کے خیال میں اُس کی شدید ضرورت تھی۔ اُسے خلائی حملہ آوروں کو وہاں سے بھی بھگانا تھا۔ اب یہ چارلس کی بد قسمتی تھی کہ اُس کے پلوٹو کے سفر کے راستے میں پھر نینسی آ گئی جس نے اپنے گھروندے کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر دیا تھا۔ اِس بار اپنے گھروندے کے ساتھ نینسی بھی ریت پر ڈھیر ہو گئی اور اُس کے مُنہ سے نکلا: ’’اوگلی ڈیبو!‘‘ ساتھ ہی چارلس غائب ہو گیا۔ اب ہر طرف سنّاٹا تھا۔ چارلس کا اور اُس کے خلائی راکٹوں اور ڈاکوؤں کا شور بالکل غائب ہو چکا تھا۔ نینسی نے ہنستے مُسکراتے دوبارہ اپنے گھروندے کو بنانا شروع کر دیا۔ کھیل کود میں توانائی تو خرچ ہوتی ہی ہے۔ یہی نینسی کے ساتھ بھی ہوا۔ اُسے بہت زور کی بھوک لگنے لگی تھی۔ اُس نے کُچھ کھایا بھی تو نہیں تھا۔ اُس کی امّی سمجھیں کہ اُس نے دلیے کا پورا پیالہ کھایا ہے مگر وہ تو نینسی کے جادُو سے غائب ہو گیا تھا۔ وہ گھر کے اندر گئی اور امّی سے کُچھ کھانے کو مانگا۔ امّی نے اُس سے کہا:
’’کیا بات ہے نینسی! آج تمہارے ساتھ چارلس نہیں کھیل رہا؟ اُس کی آواز نہیں آ رہی ہے۔‘‘
  نینسی نے اطمینان سے جواب دیا:
’’وہ مُجھے بہت ستا رہا تھا۔ میں نے اُسے اوگلی ڈیبو کہہ دیا اور وہ غائب ہو گیا۔‘‘
اُس کی امّی مُسکرائیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔ اُنہیں ابھی بہت سے کام کرنے تھے۔ وہ اوگلی ڈیبو کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیں۔ یہی اُن کی غَلَطی تھی۔ اُنہیں اُسی وقت اوگلی ڈیبو کے بارے میں سوچنا اور پوچھنا چاہیے تھا کہ یہ سب کیا ہے؟
دوپہر کو کھانے کے وقت نینسی اپنی امّی کے پاس تھی کہ چارلس کی امّی چارلس کے بارے میں پوچھتی ہوئی وہاں آ گئیں۔ اُنہوں نے چارلس کو سب جگہ دیکھ لیا تھا مگر وہ نہیں مل رہا تھا۔ نینسی اپنا کھانا کھا رہی تھی اور اُس کی امّی چارلس کی امّی سے باتیں کر رہی تھیں۔ اُس نے چارلس کی امّی کو کہتے سُنا:
’’وہ نینسی کے ساتھ ہی کھیل رہا تھا۔‘‘
  پھر اُس کی امّی نے آواز دے کر اُس سے پوچھا:
’’نینسی! چارلس کہاں گیا؟ کیا وہ تمہارے ساتھ تھا؟’’
’’نہیں امّی، مُجھے پتا نہیں وہ کہاں ہے۔‘‘ وہ اُس وقت اپنے کھانے میں مصروف تھی اور کسی اور طرف توجّہ کر کے اپنے کھانے کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
دروازے پر دونوں خواتین، چارلس اور نینسی کی امّی کُچھ دیر باتیں کرتی رہیں۔ پھر چارلس کی امّی واپس چلی گئیں اور نینسی کی امّی اُس کے پاس چلی آئیں۔ اُنہوں نے کہا:
’’چارلس کی امّی بہت پریشان ہیں۔ عام طور سے وہ اُن کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتا۔ تمہیں یاد ہے کہ تُم نے اُسے کہیں جاتے نہیں دیکھا؟’’
نینسی نے انکار میں سر ہلایا:
’’نہیں امّی میں نے اُسے کہیں جاتے نہیں دیکھا۔ وہ کسی کے ساتھ نہیں گیا۔‘‘ 
پھر نینسی نے کسٹرڈ کا چمچہ بھرتے ہوئے کہا:
’’امّی میں نے صرف اُس کو ’اوگلی ڈیبو‘ کہا تھا اور وہ چلا گیا۔‘‘
اُس کی امّی نے اُس سے اور کُچھ نہ پوچھا، مگر وہ خاصی پریشان لگ رہی تھیں۔ بچّہ کسی کا بھی کھو جائے، اُس کے لیے پریشان تو سب ہی ہوتے ہیں اور پھر ایک ماں دوسری ماں کی تکلیف کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ نینسی کی امّی عجیب سی اُلجھن میں مبتلا تھیں۔
دوپہر کے کھانے کے بعد نینسی کی امّی نے نینسی کو تیّار کیا، اُسے نئے کپڑے پہنائے۔ وہ اُسے شہر لے جا رہی تھیں۔ دراصل آج شہر میں ایک جلوس نکل رہا تھا جس میں فوجیوں کے علاوہ اسکول کے بچّے اور بچّیوں کے دستے بھی شامل تھے اور قومی اور علاقائی جھانکیاں (فلوٹس) بھی اِس جلوس میں نکلنے تھے۔ نینسی کی امّی نینسی کو یہی جلوس دِکھانے لے جا رہی تھیں۔ اِس کے لیے اُنہوں نے اپنے آج شام کے آرام کو قربان کر دیا تھا۔ اُنہیں اپنے آرام سے زیادہ نینسی کی خوشی عزیز تھی۔ اُنہوں نے سوچا کہ نینسی کو کُچھ شاپنگ بھی کروا دی جائے، اِسی لیے وہ جلدی جانا چاہتی تھیں۔ غرض نینسی نے خوب صورت لباس پہنا۔ عمدہ ہیٹ سر پر جمایا، ہاتھوں میں بڑے نرم اور خوب صورت دستانے پہنے، بڑا پیارا سا کوٹ پہنا اور اپنی امّی کے ساتھ اُن کی کار میں بیٹھ کر روانہ ہو گئی۔ وہ بہت خوش تھی اور اِس خوشی میں گُنگُنا رہی تھی۔
سڑکوں پر خاصا ٹریفک تھا۔ انہیں کئی جگہ رُکنا پڑا۔ سڑکوں پر لگی سُرخ بتّیاں ٹریفک کو رُکنے کا اشارہ دیتیں تو نینسی کی امّی اپنی گاڑی روک لیتیں، مگر نینسی اِن سب باتوں سے بے پروا صرف گانا گانے میں مگن تھی۔ لوگوں نے اُسے مُسکرا کر دیکھا۔ اِس معصوم بچّی کی حرکت ان کے دِل کو بہت بھائی۔ شہر میں ہر جگہ ہجوم تھا۔ سڑکوں پر، دُکانوں میں، بازاروں میں ہر جگہ بہت لوگ تھے۔ بچّے اپنی ماؤں کی اُنگلیاں پکڑے خوشی خوشی یہ جلوس دیکھنے آئے تھے۔ ایک دُکان میں نینسی کی امّی کُچھ لینے کے لیے رُکیں۔ وہاں خاصی بھیڑ تھی۔ ایک بہت موٹی عورت نینسی اور اُس کی ماں کے بیچ میں آ گئی۔ نینسی کو بڑی پریشانی ہوئی۔ اُس نے موٹی عورت کو ہٹانے کی کوشش کی، مگر وہ بھلا اُس سے کہاں ہٹ سکتی تھی؟ کسی شخص نے اُس موٹی عورت سے کُچھ کہا۔ موٹی عورت غصّے میں گھومی تو غریب نینسی اُس کی حرکت سے اور بھی بھنچ گئی اور دیوار کے ساتھ چپک کر رہ گئی۔ اُس کا دم گھُٹنے لگا تو اُس نے جلدی سے کہا:
’’اوگلی ڈیبو!‘‘
موٹی عورت اچانک غائب ہو گئی۔ کسی نے اِس طرف دھیان دینے کی کوشش بھی کی ہو گی تو اِسے اپنا وہم سمجھا ہو گا۔ وہاں اِس قدر ہجوم تھا کہ موٹی عورت کے غائب ہو جانے کی وجہ سے خالی ہونے والی جگہ فوراً بھر گئی۔ نینسی نے لپک کر اپنی امّی کی اُنگلی پکڑ لی۔ وہ اب اُنہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اُس کی امّی نے ایک خوب صورت ساپرس خریدا اور پھر اُسے لے کر جلدی سے بھیڑ میں سے باہر نکل آئیں۔ نینسی کا ہیٹ لوگوں کی وجہ سے بار بار اُس کے سر سے گِر رہا تھا۔ نینسی کو بہت غصّہ آ رہا تھا۔ اُس کی امّی نے کہا:
’’نینسی! مُجھے تمہیں اِس قدر ہجوم میں نہیں لانا چاہیے تھا۔ خیر کوئی بات نہیں ہم مارکیٹ کی اوپری منزل پر چل رہے ہیں۔ وہاں اتنی بھیڑ نہیں ہو گی۔‘‘
  وہ دونوں ایک لفٹ میں داخل ہو گئیں۔ اُسی وقت لوگوں کا ایک ریلا اُس میں داخل ہو گیا۔ اِس ریلے میں بہت سی عورتیں اور بچّے بھی شامل تھے۔ وہ سب بہت شور مچا رہے تھے۔ خاص طور سے اگر کہیں مرد نہ ہوں تو عورتوں کی اور بھی بن آتی ہے۔ لفٹ مین نے اُن لوگوں کو خاموش کرانے اور کُچھ لوگوں کو باہر چلے جانے کو کہا مگر کسی نے اُس کی ایک نہ سُنی۔ ایک بار پھر نینسی لوگوں کے درمیان پسنے لگی۔ جب بات اُس کی برداشت سے باہر ہو گئی تو اُس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا: ’’اوگلی ڈیبو۔‘‘
اب اُس لِفٹ میں صرف پانچ افراد نظر آ رہے تھے۔ عورتوں، بچّوں کا شور مچاتا ہجوم کہیں غائب ہو چکا تھا۔ نینسی کی امّی یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ پہلی مرتبہ خوف سے اُن کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ یہ سب اُن کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ کہاں تو اِس قدر بھیڑ اور کہاں خاموشی اور چند افراد! ایک آدمی نے لِفٹ مین سے پوچھا تو وہ بے وقوفوں کی طرح اُسے دیکھتا رہ گیا۔ بھلا وہ کیا بتا سکتا تھا۔ اُسے خود کُچھ معلوم نہ تھا۔ لِفٹ میں سوار باقی لوگوں کے چہرے بھی خوف سے زرد ہو چکے تھے۔ اُن سب کے سامنے ایک بھیڑ غائب ہو گئی تھی۔ وہ لوگ جلدی سے باہر چلے گئے۔ بہرحال کُچھ بھی ہو نینسی کو اطمینان ہو چُکا تھا کہ اگر اُسے کِسی نے پریشان کیا تو وہ اُس کا علاج آسانی سے کر سکے گی۔
نینسی نے اپنی امّی کے ساتھ کیفے میں چائے پی۔ اُس کی امّی ابھی تک پریشان تھیں اور چاہتی تھیں کہ اُنہیں وہ منظر دوبارہ یاد نہ آئے۔ نینسی کی امّی کی تو حالت غیر تھی اور نینسی مزے سے چائے اُڑا رہی تھی۔ اُس کی امّی جلد از جلد گھر واپس جانا چاہتی تھیں۔ اُن کا اِرادہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ڈاکٹر جو ہالٹ کو دِکھائیں گی جو ایک ماہرِ نفسیات تھا اور اُن کو اچھّی طرح جانتا تھا۔ مگر چوں کہ وہ نینسی کو جلوس دِکھانے کا وعدہ کر چُکی تھیں، اس لیے اُنہیں اپنا وعدہ بھی پورا کرنا تھا۔
پھر جلوس شروع ہوا۔ اُس کے شروع میں ایک سپاہی آیا جو موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ اُسے دیکھتے ہی نینسی نے بڑے پُر جوش انداز میں ہاتھ ہلایا۔ اُس کی امّی نے اُس کے لیے ایسی جگہ مُنتخب کی تھی جہاں سے نینسی آسانی سے جلوس دیکھ سکتی تھی اور اُس کے دیکھنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ پھر اسکول کے بچّوں کا ایک دستہ آیا جو رنگ برنگے کپڑے پہنے تھے۔ وہ ڈرم بھی بجا رہے تھے اور قومی نغمے گا رہے تھے۔ اُس کے بعد این سی سی کے طلبہ آئے جو اپنی چمکتی وردیوں میں بڑے شان دار لگ رہے تھے اور پھر فلوٹس آئے۔
ایک فلوٹ نینسی کو بہت پسند آیا جس کی شکل اور بناوٹ ایک بڑے ہنس کی تھی۔ اُس لمبے چوڑے ہنس کو کُچھ لڑکیوں نے مل کر بنایا تھا۔ اُس کے بعد والا فلوٹ اسکاؤٹس کا تھا۔ اُس فلوٹ میں کیمپ فائر دِکھایا گیا تھا۔ پھر ایک بحری جنگی جہاز کا فلوٹ آیا اور اُس کے پیچھے گرلز اسکاؤٹ کا فلوٹ تھا اور پھر جو فلوٹ آیا اُس کو دیکھ کر خوشی سے وہاں موجود سب نونہالوں کی چیخیں نکل گئیں۔ نینسی نے بھی چونک کر اُدھر دیکھا۔ یہ ایک اژدہے کا فلوٹ تھا۔ یہ بہت ہی شان دار تھا۔ پورا فلوٹ ایک بہت بڑے اژدہے پر مشتمل تھا جس کی لمبی گردن ہل رہی تھی اور وہ اپنا سر اِدھر اُدھر گھُما کر لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کے نتھنوں میں سے دھواں بھی نکل رہا تھا۔ دراصل یہ فلوٹ ایک بہت بڑے ٹرک پر بنایا گیا تھا۔ اژدہے کے جسم نے ٹرک کو پوری طرح ڈھک لیا تھا۔ اُس کی دُم خاصی لمبی تھی اور کپڑے سے بنائی گئی تھی جو اُس کے پیچھے پیچھے زمین پر گھسٹتی چلی آ رہی تھی۔ اژدہے کی گردن بیس فیٹ لمبی تھی۔ اُس پر سُرخ رنگ کیا گیا تھا۔ اُس کا سر کوئی پانچ فیٹ کا تھا جس پر سینگ بھی تھے۔ اُس کی آنکھیں کھانے کی پلیٹوں کے سائز کی تھیں۔ اُس کا سر اِدھر اُدھر گھوم کر گویا لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ بس یہی چیز سب کو پسند آئی تھی، بڑوں کو بھی اور اُن کے نونہالوں کو بھی۔ 
جیسے جیسے اژدہے والا فلوٹ آگے بڑھ رہا تھا نونہالوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ وہ نعرے بھی لگا رہے تھے اور سیٹیاں بھی بجا رہے تھے۔ کُچھ ایسے بھی تھے جو اتنے بڑے اژدہے کو یکایک سامنے دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے تھے۔ نینسی بھی بہت خوش تھی اور اِس خوشی میں وہ اُچھل کُود رہی تھی۔ اب اژدہے کا فلوٹ اُس کے بالکل سامنے تھا۔ اژدہے کی حرکت کرتی ہوئی گردن نے اُس طرف بھی رُخ کیا۔ اُس کا سر نینسی کی طرف گھوما۔ نینسی کو لگا جیسے وہ اُسے براہِ راست دیکھ رہا ہے۔ اُس نے خُوشی سے اُچھلتے ہوئے کہا:
’’اوگلی ڈیبو۔‘‘
اُسی وقت فلوٹ بِکھر گیا۔ اس کا دھواں اُگلتا مُنہ غائب ہو گیا۔ گردن بھی کہیں چلی گئی۔ جو آدمی اُس فلوٹ کے ٹرک کو چلا رہا تھا اچانک اژدہے کے غائب ہو جانے سے سب کو نظر آنے لگا۔ وہ گھبرا کر سڑک پر گِر پڑا۔ وہ بوکھلا کر کبھی اپنے آپ کو دیکھتا اور کبھی ادھورے فلوٹ کو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شاید میری غَلَطی سے یہ سب ہو گیا ہے۔ اُس کے پیچھے دوسرا آدمی تھا۔ وہ رسّیوں کی مدد سے اژدہے کے سر کو اِدھر اُدھر حرکت دے رہا تھا۔ رسّیاں تو اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھیں مگر اژدہے کا کاغذی جسم کہیں نہیں تھا۔ اب صرف ٹرک سڑک پر کھڑا تھا۔ اِن دو آدمیوں کے علاوہ اُس ٹرک پر چار آدمی اور بھی سوار تھے، مگر اب وہ سب لوگوں کے سامنے تھے۔ سڑک پر سنّاٹا سا چھا گیا۔ اِتنے میں فائر انجن وہاں آ گئے۔ کسی نے اُنہیں اطلاع دے دی تھی۔ وہ یہ سمجھ کر آئے تھے کہ کوئی حادثہ ہو گیا ہے اور آگ لگ گئی ہے، مگر وہاں کُچھ بھی نہیں تھا۔ صرف ٹرک کھڑا تھا اور اُس پر بنا ہوا اژدہے والا فلوٹ غائب تھا۔
نینسی کی امّی نے کُچھ سوچا۔ اُن کے ذہن میں واقعات گڈ مڈ ہونے لگے۔ پھر اُنہوں نے خاموشی سے نینسی کا ہاتھ پکڑا اور اُس طرف آہستہ آہستہ کھسکنے لگیں جہاں اُن کی کار کھڑی تھی۔ دہشت سے اُن کی آنکھیں پھٹی جا رہی تھیں مگر کسی نہ کسی طرح اُنہوں نے نینسی کو کار میں بٹھایا اور پھر خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھیں مگر ابھی تک وہ پریشان تھیں۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اِس حالت میں کار چلانی بھی چاہیے یا نہیں۔ پھر اُنہوں نے کار اسٹارٹ کی اور اُسے آگے بڑھا دیا۔
وہ خاصی دیر میں گھر پہنچیں۔ نینسی کے ابّو بھی اُن کے لیے پریشان تھے۔ اُنہیں چارلس کی اچانک اور پُراسرار گُم شدگی کا پتا چل چُکا تھا۔ اُس کو نہ صرف علاقے کی پولیس بلکہ اُس جگہ کا ہر فرد تلاش کر رہا تھا۔ نینسی کی امّی کار سے باہر نکلیں اور اپنے شوہر سے بولیں:
’’فوراً جاؤ اور ڈاکٹر جو ہالٹ کو بُلا کر لاؤ۔‘‘
نینسی کے ابّو کو اُن کے لہجے پر حیرت ہوئی۔ وہ اپنی بیوی کو اچھّی طرح جانتے تھے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کی دُکھ تکلیف دیکھ کر پریشان ہو جاتی تھیں، مگر آج اُنہیں نہ جانے کیا ہو گیا تھا کہ اُنہوں نے چارلس کے بارے میں کوئی بات کرنے کے بجائے ڈاکٹر جو ہالٹ کو بُلانے کو کہا تھا۔ اُنہوں نے غور سے اپنی بیوی کو دیکھا۔ وہ بہت پریشان لگ رہی تھیں۔ لگ رہا تھا وہ کسی ایسی اُلجھن میں مُبتلا ہو گئی ہیں جس کا حل اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ وہ نرمی سے اُن سے بولے:
’’مگر جَو تو ماہرِ نفسیات ہے۔ تمہیں اُس کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے؟‘‘
’’بس مُجھے اُس کی ضرورت ہے۔ اُسے بُلا کر لاؤ ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ آج ہر بات عجیب ہو رہی ہے۔ پہلے چارلس غائب ہوا۔ اُس کے بعد عورتوں اور بچّوں سے بھری ہوئی لفٹ میری نظروں کے سامنے خالی ہو گئی اور پھر اژدہے والا فلوٹ اُس وقت اچانک غائب ہو گیا جب میں اُسے دیکھ رہی تھی۔ کیا یہ سب صحیح ہوا ہے یا میں پاگل ہو گئی ہوں؟ صرف مُجھے یہ اُلٹی سیدھی چیزیں کیوں نظر آ رہی ہیں؟ میرا خیال ہے جو ہالٹ ہماری ضرور مدد کرے گا۔ اب تُم وقت ضائع نہ کرو، اُسے جلدی بلا کر لاؤ۔‘‘ کہتے کہتے نینسی کی امّی رو پڑیں۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ اگر واقعی میں پاگل ہو گئی تو میرے گھر کا کیا ہو گا؟ میری بچی نینسی اور میرے شوہر کا کیا بنے گا؟ نینسی کے ابّو نے حیرت سے اپنی بیوی کی ساری باتیں سُنیں اور پھِر خاموشی سے ڈاکٹر جو ہالٹ کو فون کرنے لگے۔ نہ جانے اُنہوں نے فون پر کیا کہا کہ ڈاکٹر صرف پانچ منٹ میں اُن کے گھر پہنچ گیا۔ ڈاکٹر جو ہالٹ نے نینسی کی امّی کو غور سے دیکھا۔ اُنہوں نے جَو کو ساری بات ایک بار پھر تفصیل سے بتائی۔ اِس دوران سب کی توجّہ نینسی کی امّی کی طرف تھی۔ نینسی کی طرف کسی نے دھیان نہ دیا۔ وہ اُن کے پاس کھڑی سب سُن رہی تھی۔ جب اُس کی امّی نے موٹی عورت کا ذکر کیا تو نینسی نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا:
’’مگر امّی! اُسے تو میں نے اوگلی ڈیبو کہہ کر غائب کیا تھا۔‘‘
اس کی امّی نے اُس کی بات پر کوئی توجّہ نہ کی بلکہ اُس کے ابّو اُس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئے تاکہ بچّی کے ذہن پر اِن باتوں کا بُرا اثر نہ پڑے مگر تھوڑی ہی دیر میں نینسی چُپکے سے آ کر وہاں کھڑی ہو گئی اور اپنی امّی کی باتیں سُننے لگی۔ وہ کہ رہی تھیں۔
’’میری نظروں کے سامنے لِفٹ میں موجود وہ سب لوگ غائب ہو گئے غریب اور معصوم لوگ!‘‘
’’مگر امّی، وہ سب مُجھے پریشان کر رہے تھے۔ اُنہوں نے مُجھے اِس قدر دبا دیا تھا کہ میرا دم گھُٹنے لگا تھا۔ بس اِسی لیے میں نے اوگلی ڈیبو کہا اور سکون پایا۔ بالکل اِسی طرح میں نے چارلس کو غائب کیا تھا۔ وہ بھی تو مُجھے پریشان کر رہا تھا نا؟‘‘ نینسی نے یہ بات اِتنے اطمینان سے کہی کہ اُس کی امّی کو جھٹکا سا لگا۔ وہ دیوانوں کی طرح نینسی کو گھورنے لگیں۔ اچانک اُن کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی۔ اُنہوں نے بڑی محبت سے نینسی سے کہا:
’’میری بچّی! کیا یہ سب تُم نے کیا تھا؟‘‘ 
  پھر وہ ڈاکٹر جو ہالٹ کی طرف گھومیں اور بولیں:
’’دیکھا جَو! تُم نے اِس کی بات سُنی؟ یہ سارے واقعات اِتنے حیرت انگیز ہیں کہ بچّی کے دماغ پر بھی اِن کا اثر ہو گیا۔ مُجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ پاگل نہ ہو جائے۔ تُم مُجھے چھوڑو ذرا اِس کو دیکھو!‘‘
مگر ڈاکٹر جو ہالٹ بڑے غور سے نینسی کو دیکھ رہا تھا۔ اُس نے نینسی سے کہا:
’’تو یہ سب تُم نے کیا ہے؟ بہت خوب نینسی ڈیئر، ذرا ہمیں بھی تو بتاؤ کہ تُم نے یہ سب کیسے کیا؟‘‘
نینسی اُس کی دِل چسپی کو دیکھ کر خوش ہو گئی۔ اُسے ہنستے مُسکراتے لوگ بہت اچھّے لگتے تھے۔ لہٰذا نینسی نے ڈاکٹر جو ہالٹ کو ساری کہانی سُنا دی کہ اُس نے کس طرح یہ جادُو اپنے دادا جان سے سیکھا اور پھر اتنے سارے لوگوں کو غائب کر دیا۔ اُس نے اوگلی ڈیبو کی کارستانی جَو کو بتا دی کہ اِس کی وجہ سے اُس کا کھلونے والا سانپ، دُودھ کا گلاس اور دلیہ بھی غائب ہوا تھا۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے نینسی نے جَو سے کہا:
’’آپ کہیں تو میں آپ کو بھی یہ جادُو دکھاؤں؟‘‘
نینسی کی باتیں اُس کے امّی ابّو بھی سُن رہے تھے۔ ڈاکٹر جو ہالٹ نے ساری بات سُن لی مگر وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ پھر اُس نے کُچھ دیر سوچنے کے بعد نینسی سے کہا:
’’اچھا ڈیئر، ذرا اِس گُل دستے کو تو غائب کر کے دِکھاؤ!‘‘
نینسی کی امّی نے جلدی سے کہا:
’’نہیں، اِس گُل دستے کو کُچھ مت کرنا۔ یہ مُجھے بہت پسند ہے۔‘‘ مگر پھر اُنہوں نے آہستگی سے بولا۔ ’’اچھّا، چلو، تمہارے جادُو کو بھی دیکھے لیتے ہیں۔‘‘
نینسی نے مُسکراتی نظروں سے اپنی امّی کو دیکھا اور پھر گُنگُناتی ہوئی آواز میں کہہ دیا۔
’’اوگلی ڈیبو۔‘‘
نینسی کا دعوا صحیح نکلا۔ گُل دستہ غائب ہو چکا تھا۔
اس وقت رات کے دو بجے تھے۔ بہت تیز بارش ہو رہی تھی کہ نینسی کے دادا جان کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اُنہوں نے اُٹھ کر دروازہ کھولا۔ دروازے پر برساتیاں پہنے نینسی کے ابّو اور ڈاکٹر جو ہالٹ تھے۔ اُن کے چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ نینسی کے ابّو نے اپنے ابّو سے کہا:
’’آپ کو ابھی ہمارے ساتھ چلنا ہے، فوراً۔ نینسی ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو گئی ہے اور یہ سب کُچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ جلدی چلیے، اُس کا علاج کرنا ہے۔‘‘
نینسی کے دادا جان نینسی کی بیماری کا سُن کر پریشان ہو گئے۔ اُنہوں نے فوراً اپنی برساتی اُٹھائی اور اُسے پہنتے ہوئے گھر سے باہر آ گئے۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ اُس میں روشنیاں بھی دُھندلی پڑ گئی تھیں۔ ڈاکٹر جو ہالٹ نے کار پوری رفتار سے نینسی کے گھر کی طرف دوڑانی شروع کر دی۔ راستے میں دادا جان نے اُن سے پوچھا:
’’مگر اُسے ہوا کیا ہے؟ وہ تو اچھّی خاصی تھی۔ کل ہی میں اُس سے ملا ہوں؟‘‘
نینسی کے ابّو نے کہا:
’’پتا نہیں اُسے کیا ہو گیا ہے۔ وہ جس چیز پر ’اوگلی ڈیبو‘ کہتی ہے وہ چیز غائب ہو جاتی ہے۔ ہم نے اُسے نیند کی دوا دے کر سُلا دیا ہے۔‘‘
نینسی کے دادا جان نے کہا۔ ’’یہ کیا بات ہوئی؟ دیکھو میں ابھی اوگلی ڈیبو کہتا ہوں مگر کُچھ بھی نہیں ہوا۔ میں نے ہی اُسے اوگلی ڈیبو کہنا سکھایا تھا۔‘‘
’’اوہ! یہ بات ہے۔‘‘ جو ہالٹ نے ٹھنڈی سانس بھری۔ ’’دراصل آپ نے اُسے یقین دِلایا تھا کہ اگر وہ کسی چیز پر اوگلی ڈیبو کہے گی تو وہ غائب ہو جائے گی۔ بس یہ بات اس کے دِل میں بیٹھ گئی۔ اُس کو اِس بات پر اس قدر یقین ہو گیا کہ اب وہ جس چیز پر بھی یہ لفظ کہتی ہے وہ غائب ہو جاتی ہے۔ یہ یقین اور عقیدے کی وہ منزل ہے جہاں یقین کرنے والا ناکامی کے بارے میں سوچتا بھی نہیں ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔‘‘
نینسی کے دادا جان نے کہا۔ ’’میں نے ایک نفسیات دان کی کتاب میں پڑھا تھا کہ یقین اور اعتماد کی یہ منزل حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے مگر نینسی نے تو۔۔۔‘‘
اسی دوران وہ سب گھر پہنچ گئے۔ دادا جان نے اندر جاتے ہوئے ڈاکٹر جو ہالٹ سے پوچھا کہ اب یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ ڈاکٹر جو ہالٹ نے جواب دیا:
’’اِسے صرف نینسی ہی حل کر سکتی ہے۔‘‘
اب وہ نینسی کے کمرے میں تھے۔ وہ اطمینان سے سو رہی تھی، مگر کمرے کی ڈھیروں چیزیں غائب تھیں۔ نینسی کی امّی کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ سب چیزیں نینسی نے سونے سے پہلے اُن کی فرمائش پر غائب کر کے دِکھائی ہیں۔ کمرے میں اچھا خاصا شور مچ گیا۔ نینسی کے ابّو اپنی بیوی کی بات ماننے کو تیّار نہیں تھے۔ دادا جان اور ڈاکٹر جو ہالٹ الگ بحث میں اُلجھے ہوئے تھے۔ اِسی دوران نینسی کی آنکھ کھُل گئی۔ اور وہ اتنی خاموشی سے بستر سے اُتر آئی کہ کسی کو پتا بھی نہ چل سکا۔ دادا جان کو گھر میں دیکھ کر وہ خوش ہو گئی۔ اُس نے اُن سے کہا:
’’آپ کا جادُو مُجھے خوب آ گیا ہے! کر کے دِکھاؤں؟‘‘
یہ سُن کر دادا جان پریشان ہو گئے۔ نینسی کے ابّو پیلے پڑ چُکے تھے اور جو ہالٹ بے چینی سے ہاتھ مل رہا تھا۔ اچانک دادا جان نے اُس سے کہا:
’’سُنو نینسی! میں تمہیں ایک جادُو اور سِکھاتا ہوں۔ یہ پہلے والے سے بھی اچھّا ہے۔ اچھّا، ایسا کرو ذرا میرا یہ اوور کوٹ تو غائب کر کے دِکھاؤ۔‘‘ نینسی کے لیے یہ کون سا مُشکل کام تھا۔ اُس نے اُن کا اوور کوٹ غائب کر دیا۔ اب تو دادا جان سردی سے کپکپانے لگے۔ یہ دیکھ کر نینسی پریشان ہو گئی۔ اُس نے کہا:
’’دادا جان! کیا آپ کو بہت سردی لگ رہی ہے؟‘‘
’’ہاں، مُجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔ میرا اوور کوٹ! کیا تُم اُسے واپس لا سکتی ہو؟‘‘
’’مگر دادا جان! مُجھے تو اُسے لانے والا جادُو نہیں آتا۔‘‘ نینسی نے پریشانی سے کہا۔
’’تُم ایسا کرو کہ اوگلی ڈیبو کو اُلٹا کر کے کہو یعنی ڈیبو اوگلی کہو۔ اِس سے غائب ہو جانے والی چیز واپس آ سکتی ہے۔‘‘
چناں چہ نینسی نے جیسے ہی ڈیبو اوگلی کہا دادا جان کا اوور کوٹ واپس آ گیا۔ اب دادا جان نے اُس سے باقی چیزیں اور لوگ بھی لانے کو کہا۔ نینسی سب کو ڈیبو اوگلی کہہ کر واپس لاتی گئی، مگر چارلس کے لیے وہ بالکل تیّار نہیں تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ چارلس مُجھے بہت تنگ کرتا ہے مگر دادا جان، ابّو اور امّی کے سمجھانے پر وہ مان گئی۔ اس نے ڈیبو اوگلی کہا اور چارلس اُسی طرح مُنہ سے طرح طرح کی آوازیں نکالتا، اپنا خلائی جہاز چلاتا اور خلائی ڈاکوؤں سے لڑتا واپس آ گیا۔ کمرے کا سامان، کُرسیاں، میز، گُل دستہ، پیانو، مینٹل پیس اور دیوار پر لگی پینٹنگز سب کُچھ واپس آ چکا تھا مگر ابھی لِفٹ کے لوگ اور اژدہے کا فلوٹ آنا تھا۔ چارلس کی آواز سُن کر اُس کی امّی بھی وہاں آ گئیں اور آنکھیں پھاڑے حیرت سے اپنے بیٹے کو تَک رہی تھیں۔ ابھی اُن کی حیرت دور نہیں ہوئی تھی کہ موٹی عورت اور اُس کے آس پاس کی عورتیں بھی آ گئیں۔ موٹی عورت اِسی طرح لوگوں کو دھکیل رہی تھی۔ اُسی وقت لِفٹ والی عورتیں اور بچّے بھی وہاں آن موجود ہوئے۔ بچّے اُسی طرح شور مچا رہے تھے اور عورتیں تیز آواز میں بول رہی تھیں مگر یہ سب لوگ اپنے آپ کو لِفٹ کے بجائے نینسی کے گھر میں دیکھ کر حیران تھے، وہ بھی آدھی رات کو اور طوفانی بارش ہو رہی تھی۔ موٹی عورت بھی حیران تھی کہ وہ ڈپارٹمنٹل اسٹور سے اُس گھر کے اندر کیسے آ گئی؟ پھر اژدہے کا پورا کاغذی جسم وہاں آ گیا، مگر اب اُس کی گردن حرکت نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔ نینسی کا کھلونے والا سانپ، اُس کی گڑیا، دُودھ اور دلیہ سبھی کُچھ تو واپس آ گیا تھا۔ نینسی یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ وہ نہ صرف چیزیں غائب کرنا سیکھ گئی تھی بلکہ اُنہیں واپس بھی لا سکتی تھی۔ اُس نے دادا جان سے یہ بات کہی تو اُنہوں نے بہت محتاط لہجے میں کہا:
’’اب تمہارا جادُو ختم ہو گیا ڈیئر۔ دراصل جب تم نے اُسے اُلٹا کر کے یعنی اوگلی ڈیبو کے بجائے ڈیبو اوگلی، کہا تو غائب کرنے والا جادُو خود بہ خود ختم ہو گیا۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ میں نے جب یہ جادُو سیکھا تو خوب چیزیں اور لوگ غائب کیے تھے مگر جب اُنہیں واپس لایا تو غائب کرنے والا جادُو میرے ہاتھ سے جاتا رہا۔ پھر میں نے سوچا کہ ایسے جادُو کا کیا فائدہ جو دوسروں کو دُکھ دے، مگر اُس دِن تُم نے مُجھ سے ضِد کی تو میں نے تمہیں یہ سِکھا دیا مگر واپس لانے والا جادُو بتانا بھول گیا جس کی وجہ سے یہ ساری پریشانی ہوئی۔‘‘
نینسی یہ سُن کر بہت مایوس ہوئی۔ اب وہ اپنے جادُو کی طاقت سے محروم ہو چُکی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اب میں اپنی ناپسندیدہ چیزوں سے نجات کس طرح حاصل کروں گی۔ اس کے دادا جان نے اُسے سمجھایا: 
’’دیکھو نینسی، یہ جادُو ،وادو سب بے کار کی باتیں ہیں۔ اِن سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر وقتی طور پر کوئی فائدہ پہنچتا بھی ہے تو اُس کا نتیجہ نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اصل جادُو عِلم کا جادُو ہے، عِلم کی طاقت ہے۔ علم حاصل کرو۔‘‘
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top