غالب
زبان اردو جس شاعر پر بجا طور سے ناز کرسکتی ہے اور جس کو دنیا کے بہترین شعراء کی صف میں پیدا کرسکتی ہے وہ مرزا اسد اللہ غالب ہے، جس نے شاعری کو تازہ زندگی بخشی اور اس کو بہترین اور بلند ترین مطالب کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔
مرزا غالب 1797 میں آگرہ کے مقام پر پیدا ہوئے۔ پانچ برس کے تھے کہ ان کے والد عبداللہ خاں ریاست الور میں مارے گئے۔ غالب نے آگرہ میں تعلیم پائی۔ نواب الہٰی بخش خاں معروف کی صاحبزادی امرائو بیگم سے شادی ہوئی۔ غالب آگرہ کو چھوڑ کر دہلی آگئے اور پھر عمر بھر یہیں رہے۔
مرزا غالب فارسی کے اعلیٰ پایہ ادیب اور شاعر تھے۔ اردو میں ان کی غزلوں کا دیوان اگرچہ مختصر ہے لیکن اردو کے نقاد اس کو آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ مرزا غالب کی شاعری پر بہ کثرت کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان کے دیوان کے بے شمار ایڈیشن چھاپے جاچکے ہیں۔ فارسی میں ان کی کلیات، اردو کلام کے مقابلے میں خاصی ضخیم ہے۔ فلسفہ اور تصوف کی باریکیاں شعر میں نہایت دلآویزی سے بیان کرتے ہیں۔
دیوان اردو اور کلیات فارسی کے علاوہ اردوئے معلی اور عود ہندی کے نام سے غالب کے رقعات بھی مرتب کیے گئے جو زبان و بیان کی سادگی اور بے تکلفی کے اعتبار سے اب تک اردو انشا پروازوں کے لیے نمونہ ہیں۔
بہتر سال کی عمر پا کر 1869 میں فوت ہوگئے۔