دیوانے پانچ چھ
قاسم بن نظر
۔۔۔۔۔
لقمہ…… کون سا لقمہ…… کیا کھانا کھل گیا؟ آپ کے سارے دلچسپ کردار ایک تقریب میں ایک ساتھ جمع ہو کر کیا گل کھلا رہے ہیں؟؟
۔۔۔۔۔
میں ماموں خوش باش کے ساتھ ہفتے کی رات کو ایک دعوت ولیمہ میں شرکت کرنے گیا۔ ماموں خوش باش کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ذی شعوران کے ساتھ بیٹھ کر بور نہیں ہو سکتا۔ لیکن مجھے آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ وہ یہ دعویٰ کس بنیاد پر کرتے ہیں۔
ہم گارڈن میں داخل ہوئے تو ماموں خوش باش نے اپنے بیٹھنے کے لیے کسی جائے وقوع کی تلاشی شروع کردی۔ ماموں خوش باش نے چاروں جانب طائرانہ بلکہ پولیس افسرانہ نظریں دوڑانے کے بعد نعرہ لگایا۔ ”وہ مارا……“
میں فوراً بولا۔ ”کیا ہوگیا؟ ولیمے کی تقریب میں کسے مار ڈالا؟“
وہ بولے۔ ”خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے پانچ چھ۔“
میں نے کہا۔”ولیمے میں کون دیوانے آگئے۔“
انہوں نے جواب دینے کے بجائے ایک طرف انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ میں نے عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے کے مصداق اس طرف نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ ماموں خوش باش کے خوش ہونے کی وجہ کیا تھی۔ اس کونے میں ادب اور فلسفے کی مشہور شخصیات براجمان تھیں جن میں چچا فلسفی، پروفیسر نقاد پوری اور دلشاد خان پوری شامل تھے اور کسی علمی و ادبی موضوع پر سرگرم بحث تھے۔ اس سے پہلے کہ میں ماموں خوش باش کو ان تینوں کے درمیان کباب میں ہڈی بننے سے روکتا۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گھسیٹتے ہوئے وہاں تک لے گئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ تینوں بھی پرتپاک استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور گلے مل کر بلکہ گلے بھینچ بھینچ کر ہمارا خیر مقدم کیا۔ اتنا والہانہ استقبال دیکھ کر کیمرہ مین نے بھی اس واقعے کی اس طرح عکس بندی شروع کر دی جیسے دو ممالک کے سربراہان ایئرپورٹ پر ایک دوسرے کا استقبال کررہے ہوں۔ بہرحال جب میں نے انہیں بتایا کہ اس طرح گلے ملنے سے قیمتی لباس میں شکنیں پڑ جائیں گی اور سوٹ خراب بھی ہوجائے گا تب انہوں نے ایک دوسرے کا گلا اور جان چھوڑی۔
چچا فلسفی بولے۔ ”ارے بھئی خوش باش! اتنی دیر لگا دی تم نے۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”بھئی یہ سب بجلی والوں کی مہربانی ہے۔ ہر ایک گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ جو شروع ہو گئی۔ اب آپ ہی بتائیے اپنے فلسفے کی لوڈ شیڈنگ میں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”بھئی …… فلسفے کی روشنی میں کہو۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔”بھئی کہاں کی روشنی۔ ذکر تو لوڈشیڈنگ کا ہو رہا ہے۔“
ماموں خوش باش گزشتہ سے پیوستہ ہوئے۔ ”بھئی ایک گھنٹے میں تو پوری تیاری نہیں ہو سکتی نا۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”یعنی آپ کی تیاری میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت خرچ ہوتا ہے۔ میں اس فضول خرچی پر سخت تنقید کرتا ہوں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”ارے رہنے بھی دیجئے۔ آپ کو تنقید کے علاوہ کوئی کام ہے یا نہیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”میں تنقید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گا۔ آخر کو میں اسمِ بامسمی ہوں۔“
ماموں خوش باش نے کہا۔ ”دیکھیں آپ جو کوئی بھی ہیں۔ آپ نے میری بات ہی نہیں سنی اور بیچ میں لقمہ دے دیا۔“
دلشاد خانپوری نے چونک کر کہا۔ ”لقمہ …… کون سا لقمہ…… کیا کھانا کھل گیا؟“
میں نے کہا۔”آپ بے فکر رہیں۔ کھانے کا افتتاح آپ ہی کریں گے۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”اور اختتام بھی میں ہی کروں گا۔“
ماموں خوش باش بولے۔”مگر میری بات تو نامکمل ہی رہ گئی۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”تم جلدی سے اپنی بات مکمل کرو تاکہ میں اپنا نیا فلسفہ عوام کے سامنے پیش کروں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”بھئی اب تم اپنا فلسفہ پیش کرکے محفل کو کشتِ زعفران نہ بنا دینا۔“
چچا فلسفی غصے سے بولے۔ ”کیا مطلب؟ کیا تم نے میرے فلسفے کو مزاحیہ شاعری سمجھ رکھا ہے۔ جو تم میرے فلسفے کو کشتِ زعفران سے تشبیہہ دے رہے ہو۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے فلسفی؟“
چچا فلسفی بولے۔ ”میں آگ بگولہ ہو گیا ہوں۔“
ماموں خوش باش نے کہا۔ ”تمہیں ٹھنڈا پانی دیا جائے یا تمہارے سر پر ڈال کر یہ آگ بجھائی جائے۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”یہ فلسفے اور فلسفی کی آگ ہے۔ ڈبل مکسچر ہے پانی سے نہیں بجھے گی۔ مجھے کولڈ ڈرنک چاہیے۔“
میں نے کہا۔ ”مگر ابھی دو گھنٹے ہیں کھانا شروع ہونے میں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”چلو۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق میں کولڈ ڈرنک کی امید پر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیتا ہوں۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”تو میں کیا کہہ رہا تھا؟“
نقاد پوری نے کہا۔ ”تمہیں خود ہی نہیں یاد تم کیا کہہ رہے تھے۔“
میں نے کہا۔ ”ماموں! آپ لوڈشیڈنگ کا ذکر کر رہے تھے۔“
ماموں بولے۔ ”ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ایک گھنٹے میں پوری تیاری میری بیگم کی نہیں ہو سکتی۔ اب بھلا بتائیں مستقل مزاجی نہ ہو تو کوئی کام پایہ تکمیل تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ بجلی کی آنکھ مچولی جاری تھی اس لیے بیگم صاحبہ کو گھر چھوڑ کر آنا پڑا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ آپ جیسی علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر کچھ سیکھنے کا موقع مل گیا۔“
اب چچا فلسفی شروع ہوئے۔ ”آج کی دعوت کے موقع پر میں مہذب انسان کی علامات پر گفتگو چھیڑنا چاہتا ہوں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”آپ نے علامات کا لفظ اس طرح استعمال کیا جیسے کہ آپ بیمار انسان کی علامات پر گفتگو چھیڑنا چاہتے ہیں۔“
دلشاد خان پوری نے کہا۔ ”آپ نے دیکھا کہ فلسفی نے جب مہذب انسان کی پردہ کشائی کیلئے لب کشائی کی تو آپ نے تنقید کے دروازے کھول دیے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”بھئی دیکھئے کتنے پڑھے لکھے لوگ یہاں پر موجود ہیں۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”مردم شماری کریں پھر پتہ چل جائے گا۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”شکل سے تو سب ہی پڑھے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”شکل سے تو آپ بھی پڑھے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”کوئی شک ہے آپ کو۔ آخر میں میں ایک علمی و ادبی شخصیت ہوں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”بھئی آپ نے کسی علمی و ادبی شخصیت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک علمی و ادبی شخصیت ہوں۔“
چچا فلسفی غصے سے بولے۔ ”یعنی آپ کو میری قابلیت پر شک ہے۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”آپ کسی مہذب انسان کی علامات بیان کرنے والے تھے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”ہاں میں یہ کہہ رہا تھا کہ اتنے پڑھے لکھے لوگوں میں آپ کس طرح اندازہ لگائیں گے کہ کتنے لوگوں نے تمیز کا دامن پکڑ رکھا ہے۔“
میں نے کہا۔ ”کسی نے بھی تمیز کا دامن نہیں پکڑا ہوگا۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”شاباش …… مگر تم نے کیسے اندازہ لگایا کہ کسی نے تمیز کا دامن نہیں پکڑا ہوگا۔“
میں نے کہا۔ ”کیونکہ …… تمام لوگ کوٹ پینٹ پہنے ہوئے ہیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”واہ برخوردار کتنی پیاری بات کی ہے تم نے اس میں تو تنقید کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔“
دلشاد خانپوری بھڑک کربولے۔”آپ بھی عجیب قسم کے نقاد ہیں۔ اس بات میں تو بے حد تنقید ہو سکتی ہے۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”آپ دیکھ لیجئے کہ میرے مہذب انسان کے فلسفے میں کتنی صداقت ہے۔“
ماموں خوش باش بولے۔ ”آپ جاری رکھیئے کم از کم میں تحمل مزاجی سے سن رہا ہوں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”فلسفی صاحب! آپ اپنی بات جاری رکھیئے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”جب کھانے کے ڈونگے کھلیں گے تو پھر دیکھئے گا۔ کیسے طوفانِ بدتمیزی برپا ہوگا۔ لوگ تمیز تہذیب سب بھول جائیں گے۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”تو آپ کیا چاہتے ہیں لوگ کس طرح کھانا کھائیں؟“
چچا فلسفی بولے۔ ”میرا فلسفہ کہتا ہے کہ کھانے کے لیے قطار بنا لینی چاہیے۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”ارے رہنے دیجئے ساری تہذیب بس کھانے کیلئے رہ گئی اور معاف کیجئے گا …… سب سے بڑے مہذب آپ ہی دکھائی دے رہے ہیں۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”آپ مجھ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہاں کہاں کیچڑ ہے جو آپ پر اچھالا جائے۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”میں نے محاورتاً کہا ہے۔ آپ کی تنقید بلاوجہ اور بوگس ہے۔“
ماموں خوش باش نے کہا۔ ”لڑیے مت! تہذیب اور ادب کا مظاہرہ اس طرح کیجئے جس طرح شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔“
چچا فلسفی نے کہا۔ ”بھئی ہر اچھے کام کی ابتدا اپنے گھر سے ہوتی ہے۔ معاشرے کو سدھارنے کی ابتدا بھی اپنے گھر سے ہی ہونی چاہیے۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”تو آپ جائیے اپنے گھر …… ہم تو پہلے ہی سے سدھائے ہوئے ہیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”مگر سدھایا ہوا تو گھوڑا یا ہاتھی ہوتا ہے۔“
دلشاد خانپوری بولے۔ ”میرا مطلب تھا کہ ہم تو پہلے ہی سے سدھرے ہوئے ہیں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”تو پھر امتحان دیجئے اپنی تہذیب کا دوسرے لوگوں کی طرح کھانے پر مت ٹوٹ پڑیے گا۔ صبر و تحمل سے کام لیجئے گا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر سبق سیکھیں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”آپ کہنا چاہتے ہیں کہ جب کھانا کھلے تو ہم ہاتھ باندھ کے بیٹھے رہیں۔ اور جب کھانا ختم ہوجائے تو ہم دیگیں چاٹیں۔“
پروفیسر نقاد پوری نے کہا۔ ”فلسفی تہذیب کی باتیں کررہے ہیں اور آپ دیگیں چاٹنے کی باتیں کررہے ہیں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”تو ایسا کرتے ہیں کہ جب کھانا کھلے گا تو ہم ویٹروں سے کہیں گے کہ آپ لوگ کھانا کھائیں ہم آپ کی جگہ یہ کھانا تقسیم کرتے ہیں۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”آپ تو دل پہ لے گئے۔ میرا مطلب تھا کہ بچوں کی طرح کھانے کے لیے چھینا جھپٹی مت کیجئے گا۔ ایسا برتاؤ کیجئے گا کہ جیسے سب سے زیادہ مہذب آپ ہی ہیں۔“
دلشاد خانپوری نے کہا۔ ”مگر لوگ ہمیں مہذب سمجھنے کے بجائے بے وقوف نہ سمجھیں۔ جیسا کہ آج ہم سب سے پہلے آگئے تو بعد میں آنے والے مہمان یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی بے قوف ہیں جو پہلے آگئے۔“
چچا فلسفی بولے۔ ”بھئی آپ معاہدہ کر لیجئے کہ آپ لوگ بے صبری اور بے چینی سے کام نہیں لیں گے۔ کھانے کے لیے صبر کریں گے۔“
پروفیسر نقاد پوری، میں اور ماموں خوش باش تو اس امن معاہدے میں شامل ہوگئے۔ مگر دلشاد خانپوری نے تھوڑی ٹال مٹول کی۔ پھر وہ بھی رضا مند ہو گئے۔
بالآخر دو گھنٹے انتظار کی صبر آزما جدوجہد کے بعد دیگیں کھڑکنے اور برتن کھٹکنے کی آوازیں آئیں۔
ہم سب کن اکھیوں اور چور آنکھوں سے کھانے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ دلشاد خانپوری نے تو اپنی گردن موڑ لی۔
لیکن اچانک چچا فلسفی اٹھے اور ہجوم کو چیرتے ہوئے لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے کھانے کی میز تک پہنچے۔ ایک سے پلیٹ چھینی اور ایک سے چمچہ اور اس طرح افراتفری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سالن اپنی پلیٹ میں انڈیلنے لگے جیسے کھانے کے لیے چھینا جھپٹی کا مقابلہ وہی جیتیں گے۔
٭……٭
Facebook Comments

