بس اور ریل گاڑی کا جھگڑا
کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
ملی ریل گاڑی کو بس ایک دن
نہ رہ پائیں دونوں لڑائی کے بِن
کہا ریل گاڑی نے لہرا کے یہ
ذرا ناز سے اور اِٹھلا کے یہ
بھلا کس وجہ سے اکڑتی ہے تُو؟
مرے کس لیے پیچھے پڑتی ہے تُو؟
ذرا سی ہے اس پر ہے کتنا غرور
نشے میں بڑائی کے کتنی ہے چُور
جو چالیس بندے بٹھاتی ہے تُو
تو باقی وہیں چھوڑ جاتی ہے تُو
بٹھاتی ہے جس کو ، جکڑتی ہے تُو
اسی سیٹ پر ہی پکڑتی ہے تُو
سفر کی تھکن چین لینے نہ دے
شکایت بدن کو تجھی سے رہے
کسی کو جو حاجت ستانے لگے
تو بس کو ڈرائیور بھگانے لگے
کرو ضبط جب تک کہ بس نہ رکے
اترنے کی جب تک اجازت ملے
جگہ اتنی چھوٹی کہ پھنس جائیں پاؤں
سکڑنا پڑے اس قدر، کیا بتاؤں
مسافر اترتا ہے منزل پہ جب
تو دُکھتے ہیں بے چارے کے جوڑ سب
***
مرا حال بھی اب سناتی ہوں میں
کئی سو مسافر لے جاتی ہوں میں
کسی کو اگر دُور جانا پڑے
تو وہ برتھ اپنے لیے بُک کرے
بڑے شوق سے نیند پوری کرے
مزے میرے جُھولے کے لیتا رہے
چلوں میں ہمیشہ توازن کے ساتھ
میں چلتی ہوں سب سے تعاون کے ساتھ
چلوں تو چلے گاڑی کھانے کی ساتھ
کرے آپ کی بھوک سے دو دو ہاتھ
کھٹا کھٹ مری، دیتی ہے لوریاں
کہ جس پر مدھر گیت کا ہو گماں
پہاڑوں کے اندر چلوں میں کبھی
چلوں گَڑگَڑاتی پُلوں پر سے بھی
رکوں تو نیا ایک منظر کُھلے
جو اترے مسافر کئی ہیں چڑھے
سفر سے مسافر رہیں مطمئن
مجھے دیں دعائیں سبھی رات دن
***
سُنی یہ حکایت تو بولی یہ بس
قصیدے میں تیرے نہیں کوئی رَس
تری بوگی میں چڑھنا مانگے جتَن
کھچاکھچ بھرے ہوتے ہیں مرد و زَن
کوئی ہے صراحی پہ بیٹھا ہوا
کوئی گیٹ سے نیچے لٹکا ہوا
چڑھیں جو کئی حقہ والے اگر
دھواں دار ہوجائیں دیوار و در
کوئی لے کے آیا ہے اک ٹوکری
اسی میں بٹھا دی ہے اک چھوکری
مسافر جو رستوں میں بیٹھے رہیں
جو چلنا ہو تو کیا سروں پر چلیں؟
جو پنکھا چلے قمقمے نہ جلیں
مسافر اندھیرے میں بے شک رہیں
جو جائیں ٹوائلٹ ، نہ پانی ملے
مسافر کریں ریلوے سے گِلے
بنے ہےکھٹا کھٹ تری دردِ سر
بڑی ہے سزا تجھ سے کرنا سفر
***
ذرا خوبیاں اب تو میری بھی سُن
تجھے کیا خبر کتنے میرے ہیں گُن
بڑی ٹھنڈی ٹھنڈی مری ہے ہوا
کہ دَم بھر میں ہر ایک کو دے سُلا
ڈرائیور مرے چاق چوبند ہیں
چلیں وقت پر، سارے پابند ہیں
مری میزباں نرم گفتار ہیں
وہ خدمت کو ہر وقت تیار ہیں
جو پینا ہو پانی تو حاضر جناب
لگے پیاس تو صرف کہیے کہ” آب” !
جو کرنا ہو سیل فون پر کوئی کام
تو ہے وائی فائی کا بھی انتظام
چلوں میں سُبک ، تیز رفتار ہوں
ہوا بن کے اُڑنے کو تیار ہوں
میں لے جاؤں سب کو گھروں کے قریب
نہ تفریق اس میں امیر و غریب
بچاتی ہوں ہر ایک کا وقت میں
مسافر ہر اک مجھ سے پاتا ہے چیں
***
مسافر نے جھگڑا سنا تو کہا
کرو تم نہ تکرار کی انتہا
نہ اِتراؤ تم خوبیوں پر کبھی
نہ ڈھونڈو کبھی خامیاں غیر کی
جو پوچھو گے مجھ سے تو بتلاؤں میں
ہے دل میں زباں پر وہی لاؤں میں
مجھے تو یہ دونوں ہی محبوب ہیں
کہ دونوں ہی اپنی جگہ خوب ہیں !
Facebook Comments

