skip to Main Content

سفید شارک

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
ڈھائی ہزار کلو ہے وزنی
چھ میٹر ہوتی ہے لمبی
وزن زیادہ اِس کا پھر بھی
اللہ نے ہے پُھرتی بخشی
بلی جیسی آنکھیں اِس کی
دیکھیں گر ہو رات اندھیری
مِیلوں سے خوں کی بُو آئے
اُس کو بھی یہ فوراٌ سونگھے
سِیل زیادہ شوق سے کھائے
مچھلی بڑی بھی گر مل جائے
کھا لیتی ہے وہیل کے بچے
آکٹوپس اور بڑے کیکڑے
مُردہ مخلوقات بھی کھا کر
رکھتی ہے یہ صاف سمندر
بڑی سِیل جب چٹ کر جائے
ہفتے بھر تک کچھ نہ کھائے
دانت اِس کے ہیں تیز نُکیلے
کریں شکار کے چھوٹے ٹکڑے
دانت تین سو رب نے بخشے
پانچ قطاروں میں ہیں رک٘ھے
جب بھی دانت گریں یا ٹُوٹیں
پچھلے دانت آگے آ جائیں
یوں ہیں بدلتے دانت ہزاروں
منہ میں پورے دانت سدا ہوں
رہتی ہے یہ سدا سفر میں
کبھی نہیں ٹِکتی ہے گھر میں
نیند نہیں اِس کو آتی ہے
اُونگھ ذرا سی چھا جاتی ہے
تیرتی رہتی ہے یہ پھر بھی
موجوں کے دھارے میں بہتی
ہوتے ہیں کوئی دس بچ٘ے
ساتھ نہیں وہ اس کے رہتے
کِلَر وہیل ہے اِس کی دشمن
رہتی ہے اُس سے تو اَن بَن
منہ کھولے تو دَہلاتی ہے
شارک سفید کہلاتی ہے
مشکل الفاظ کے معنی:
سِیل: ایک سمندری جانور
نُکیلے: نوک رکھنے والے
دَہلاتی ہے: ڈراتی ہے
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top