اک طائرِ ذہین
کلیم چغتائی
…..
مانوس ہوں انسان سے، ملتا ہوں میں گھر گھر
اللہ نے بخشے ہیں مجھے قیمتی جوہر
شاید کہ میں پالا گیا پہلا ہوں پرندہ
اس دنیا میں صدیوں سے مرا نام ہے زندہ
ہے وزن مرا آدھے کلو سے بھی ذرا کم
چھوٹا سا ہوں، کرتا ہوں مگر کوششِ پیہم
جنگوں میں جواں مرد ہزاروں جو بچائے
اس کارِ نمایاں پہ کئی تمغے ہیں پائے
میں ڈوبتی کشتی سے بھی پیغام لے آیا
اور کتنے ہی انسانوں کو اس طرح بچایا
آباد قریباً ہوں میں اِس پورے جہاں میں
ہیں مختلف اوصاف لیے ڈھائی سو قِسمیں
قِسموں کو مری نام دیے جاتے ہیں اکثر
لوٹَن بھی ہے، لقّا بھی ہے ، جنگلی بھی یہاں پر
رنگت ہے پروں کی، کبھی سُرمئی، کبھی نیلی
ہوتی ہے سفید اور سیاہ ، سبز یا خاکی
انڈے تو ہمیشہ ہی مری مادہ ہے دیتی
سَیتا ہوں میں اک دن انہیں ، اک دن ہے وہ سَیتی
انڈوں سے جو بچّے ہیں ہمارے، نکل آتے
ہم دونوں انہیں دودھ حلق کا ہیں پلاتے
پائی ہے یہ خصلت کہ منظّم ہوں میں رہتا
ایک اور ہے عادت مری، رہتا ہوں میں سُتھرا
ماحول کو میں صاف رکھوں، کھا کے مکوڑے
کچھ بیج بھی کھاؤں جو مجھے لگتے ہیں اچھے
پیتے ہوئے پانی، میں نہ گردن کو اُٹھاؤں
میں چونچ کو پانی میں ڈُبو کر اسے چُوسوں
بی فاختہ سے ہے مرا رشتہ جو قریبی
عادات اسی واسطے دونوں کی ہیں اک سی
میلوں کا سفر ایک اُڑاں ہی میں ہوں کرتا
مضبوط پروں سے ہوں فضاؤں میں اُبھرتا
آنکھیں ہیں مری تیز تو حسّاس مرے کان
ہوتے ہیں مری دونوں حِسوں سے سبھی حیران
مجھ کو نظر آتا ہے عقب میں ہو جو منظر
اس طرح نظر رکھتا ہوں اطراف میں سب پر
رہتا ہے مجھے سیکڑوں مِیلوں سے بھی گھر یاد
اس حافظے پہ دیتے ہیں سب لوگ مجھے داد
دیکھوں جو کبھی عکس میں اپنا تو، لوں پہچان
اس خوبی سے محروم ہیں دیگر کئی حیوان
پہچانتا انسان کا ہوں مُوڈ بہت خوب
انسان ہے مسرور یا غصے سے ہے مغلوب
تصویر و تحریر کی پہچان مجھے ہے
حرفوں کو سمجھ لینا بھی آسان لگے ہے
آوازیں جو سُنتا ہوں انہیں یاد ہوں رکھتا
سب مانتے ہیں ، یہ ہے مرا وصف تو یکتا
سائنس داں ذہانت کی مری، کرتے ہیں توصیف
تحقیقی مقالوں میں مری ہوتی ہے تعریف
ہر خوبی مجھے مالکِ رحمان نے بخشی
یہ ساری ذہانت بھی اسی نے ہے عطا کی
گو نام تو لینے کی ضرورت نہیں یکسر
ہوں آپ کا پیغام رساں، میں ہوں کبوتر!
Facebook Comments

