skip to Main Content

سائے کا سجدہ

کلیم چغتائی

۔۔۔۔۔

ہارون میں اگر ایک برائی نہ ہوتی تو وہ بہت اچھا نو جوان ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہارون کو بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ صحت مند تھا، اچھے قد کاٹھ کا مالک تھا، ذہین تھا، کمپیوٹر کا ماہر تھا، اردو اور انگریزی بہت اچھی بولتا اور لکھتا تھا۔ یہی نہیں، سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتو بھی اچھی خاصی بول لیتا تھا۔ بہت عمدہ تقریر کرتا تھا۔ ہنر مند بھی تھا۔ فنی قسم کے کئی کام آسانی سے کر لیتا تھا مثلاً بجلی کا کام، گھریلو آلات کی مرمت، لکڑی کا کام، الیکٹرانک آلات میں خرابی کو دور کرنا وغیرہ۔
ان تمام خوبیوں کے ساتھ ہارون میں ایک بہت بڑی برائی تھی اور وہ یہ کہ وہ بہت مغرور تھا۔
ہارون کو اس بات کا بڑا گھمنڈ تھا کہ وہ بڑا با صلاحیت ہے، کئی قسم کے فنی کاموں میں ماہر ہے۔ اسے بڑا تکبر تھا کہ جتنی خوبیاں اس اکیلے میں ہیں، اتنی اس کے شہر بھر کے تمام نو جوانوں کو مل کر بھی نہیں ہوں گی۔ اس گھمنڈ کی وجہ سے ہارون میں کچھ اور برائیاں بھی پیدا ہوگئی تھیں۔ وہ شیخی خور ہو گیا تھا۔ بات بات پر اپنی بڑائی بیان کرنے لگا تھا۔ پھر ایک اور خرابی یہ پیدا ہو گئی تھی کہ وہ ہر ایک سے بد تمیزی اور بدزبانی کے ساتھ بات کرنے لگا تھا۔ یہ بدتمیزی اور بدزبانی وہ اپنے سے عمر میں چھوٹوں ہی کے ساتھ نہیں کرتا تھا بلکہ اس سے عمر میں بڑے اور قابل احترام بزرگوں کے ساتھ بھی اس کا ایسا ہی رویہ ہو گیا تھا جس سے حقارت کی بُو آتی تھی۔ ایک اور برائی یہ پیدا ہوگئی تھی کہ ہارون اپنی خوشامد پسند کرنے لگا تھا۔
ہارون کو اس کی والدہ، والد، بھائی بہنوں، عزیز رشتہ داروں، اساتذہ، اور دوستوں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن ہارون ہمیشہ بدتمیزی سے جواب دیتا:
”ارے بھئی یہ سب وعظ ونصیحت ہے۔ آپ میں اتنی صلاحیتیں نہیں ہیں جو مجھ میں ہیں، اس لیے آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ بھی با صلاحیت ہوتے تو آپ میری طرح سوچ رہے ہوتے۔“
کوئی زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا تو ترخ کر جواب ملتا:
”بس بس، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، میرے پاس ان فضول باتوں کو سننے کا وقت نہیں ہے۔۔۔ اور آئندہ یہ بے کار مشورے دینے کی تکلیف نہ کرنا، میرا دماغ جلدی گھوم جاتا ہے۔“
ہارون صاحب کو ایک شوق جوڈو اور کراٹے کا بھی تھا۔ ان کی صحت اچھی تھی اور اعتماد بھی بلا کا تھا، اس لیے انہوں نے جوڈو اور کراٹے میں بلیک بیلٹ جلد ہی حاصل کر لی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے جوڈو اور کراٹے کے اپنے استاد سے ذرا ادب سے بات کی کیونکہ استاد بھی ذرا غصے والے تھے، لیکن جس دن ہارون نے جوڈو، کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کی، اس دن انہوں نے اپنے استاد کے سامنے بھی وہی غرور والا انداز اختیار کر لیا۔
یوں تو ہارون کے بہت سے دوست تھے، لیکن وہ سب ہارون کے غصے اور اس کی بدزبانی سے ڈرتے تھے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان تو اس لیے ہارون کے دوست تھے کہ انہیں ہارون کی وجہ سے بہت سے فائدے حاصل ہو جاتے تھے، مثلاً ہارون سے ڈرنے والے لڑکے، ہارون کے دوستوں سے بھی ڈرتے تھے اور ان سے دوستی بنا کر رکھتے تھے، پھر کسی بھی نوعیت کا مسئلہ ہو، گھر میں کوئی آلہ یا مشین خراب ہو گئی ہو، کمپیوٹر ٹھیک کروانا ہو یا کمپیوٹر کا کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہو، کسی سے سفارش کروانی ہو، تقریر لکھوانی ہو، غرض کوئی کام ہو ہارون کو خوشامد کر کے کروایا جا سکتا تھا۔
ہارون کے تمام دوستوں میں صرف ایک دوست ایسا تھا، جس کا ہارون کسی حد تک لحاظ کرتا تھا، وہ تھا احمد۔۔۔ ہارون اپنے تمام دوستوں میں سے صرف احمد کی بات توجہ سے سن لیتا تھا، احمد اگر اسے کسی بات پر ٹو کتا یا نصیحت کرتا تو ہارون چپ ہو جاتا تھا، دوسروں کو تو وہ بے حد بد تمیزی سے جھڑک دیتاتھا لیکن احمد جب زیادہ روک ٹوک کرتا تو ہارون، احمد کا ہاتھ تھام کر ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے کہتا:
”یار۔۔۔ اب معاف بھی کر دو۔“
ہارون، احمد کا صرف اس لیے لحاظ کر لیتا تھا کہ ایک بار احمد نے ہارون کوحادثہ کا شکار ہونے سے بچایا تھا۔
احمد کو بہت زیادہ فکر رہتی تھی کہ ہارون جیسے باصلاحیت نوجوان میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں، انہیں دور کیسے کیا جائے۔ وہ روزانہ پانچوں فرض نمازوں کے بعد ہارون کے لیے، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا اور رب کریم سے التجا کرتا کہ وہ ہارون کو بہت اچھا انسان بنا دے۔ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے، اس کو غرور و تکبر سے نجات دلا دے، احمد دعا کرتا کہ اللہ اس کی یا کسی کی بھی زبان میں اتنا اثر دے دے کہ ہارون کے دل کی دنیا بدل جائے۔
ہارون ہر ہفتہ وار تعطیل کے روز، احمد کے گھر آتا تھا۔ ہفتہ وار چھٹی کے روز عام طور پر صبح دس بجے احمد کے گھر کی اطلاعی گھنٹی مخصوص انداز میں بجتی اور احمد کے گھر والے مسکراتے ہوئے، احمد سے کہتے:
”لو بھئی آگیا تمہارا گھمنڈی دوست۔“
اور احمد کی امی جان افسوس بھرے لہجے میں کہتیں:
”جانے کب اسے عقل آئے گی۔ سارے جہان کی خوبیاں ہیں لیکن اس ایک غرور نے اس کی خوبیوں پر پانی پھیر دیا۔“
احمد جا کر بیرونی دروازہ کھولتا اور صحن میں بنی سیڑھیوں کے ذریعے سے دونوں دوست چھت پر چلے جاتے۔ چھت پر ایک چار پائی اور دو تین کرسیاں ہر وقت پڑی رہتی تھیں۔ ہارون ایک کرسی گھسیٹ کر اس پر دھم سے بیٹھ جاتا اور کہتا:
”آج کیا کھلا پلا رہے ہو؟“
پھر وہ اپنی تعریف میں کوئی تقریر شروع کر دیتا۔ کل میں نے فلاں مشین دومنٹ میں ٹھیک کر دی جس کی خرابی ڈھونڈنے کے لیے تین ماہر انجینئر ایک گھنٹے سے ہلکان ہو رہے تھے۔ پتا نہیں کیا پڑھ لکھ کر آتے ہیں۔۔۔ اور ہاں، سہیل کا کمپیوٹر کسی سے ٹھیک نہیں ہو رہا تھا، بڑے بڑے تجر بہ والے سر مار کر تھک گئے، میں نے چار منٹ میں خرابی ڈھونڈ لی۔۔۔ وغیرہ
تھوڑی دیر میں احمد ایک ٹرے میں چائے اور دیگر لوازمات لے کر چلا آتا۔ چھت پر چونکہ دھوپ ہوتی اس لیے احمد اور ہارون اپنی کرسیاں، برابر والے دو منزلہ مکان کی دیوار کے سائے میں ڈال لیتے۔
ایک ہفتہ وار چھٹی کے دن ہارون صبح میں احمد کے گھر نہیں آیا۔ احمد کو تشویش ہوئی۔ اس نے ہارون کے گھر فون کر کے خیریت دریافت کی، ہارون کو زبر دست نزلہ ہو رہا تھا، سر میں درد تھا، نزلہ کی وجہ سے گلا بھی خراب تھا اور آواز مشکل سے نکل رہی تھی۔ ہارون نے فون پر بات کی تو احمد اس کی آواز نہ پہچان سکا۔ احمد نے کہا:
”ہارون کو بلا دیں۔“
”میں ہارون ہی بات کر رہا ہوں۔“ ہارون نے بیٹھی ہوئی آواز میں کہا۔
پھر اس نے اپنی بیماری کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں سہ پہر چار بجے تمہارے گھر آؤں گا۔ احمد نے اس سے کہا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آرام کرلو۔ مگر ہارون نے اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں اکڑ کر کہا:
”ارے معمولی نزلہ ہے۔ دوسرے لوگ ایسی بیماریوں سے ڈر جاتے ہیں میں نہیں ڈرتا۔ میں چار بجے تمہارے گھر آؤں گا، چائے تیار رکھنا۔“
ٹھیک چار بجے سہ پہر احمد کے گھر کی اطلاعی گھنٹی مخصوص انداز میں بجی اور احمد کے گھر والے مسکرا کر بولے:
”لو بھئی، آ گیا تمہارا گھمنڈی دوست!“
احمد نے دروازہ کھولا، ہارون کو چھت پر لے گیا۔ ہارون نے ایک کرسی اٹھائی اور اسے مخالف سمت کے مکان کی دیوار کے سائے میں لے گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر چھٹی کے دن تو دونوں دوست صبح کے وقت یہاں بیٹھتے تھے اور سورج ابھر رہا ہوتا تھا۔ آج سہ پہر کے چار بج چکے تھے اور سورج اپنا دن بھر کا سفر طے کر کے دوسری طرف جا چکا تھا۔ اب برابر والے دو منزلہ مکان کی دیوار کا سایہ نہ تھا، اس کی بجائے مخالف سمت کے مکان کی دیوار کا سایہ پڑ رہا تھا۔
احمد کے ذہن میں ایک بات آئی۔ وہ کل رات قرآن پاک ترجمہ اورتفسیر کے ساتھ پڑھ رہا تھا، اس نے ایک بڑی اہم بات پڑھی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ کو یاد کیا اور دعا مانگی کہ اللہ ہارون کو ہدایت عطا فرما، پھر اس نے ہارون سے کہا:
”آج تم اپنی مخصوص جگہ نہیں بیٹھے۔“
ہارون نے احمد کو حیرت سے دیکھا اور بیٹھی ہوئی آواز میں بولا:
”نظر نہیں آ رہا، وہاں دھوپ پڑ رہی ہے۔“
”ہاں، مجھے نظر آ رہا ہے۔ ہر چھٹی کے دن صبح کے وقت ہم جہاں بیٹھتے ہیں، وہاں سایہ ہوتا ہے۔ چھٹی کا دن آج بھی ہے لیکن وقت سہ پہر کا ہے، اس وقت اُس جگہ سایہ نہیں ہے، کیا تم اس تبدیلی کی وجہ بتاسکتے ہو؟“ احمد نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”کیا ہو گیا ہے تم کو؟ بچوں والے سوالات کر رہے ہو۔ بھئی،سورج کا رخ صبح میں اُسی طرف ہوتا ہے تو سایہ وہاں ہوتا ہے، اب سہ پہر میں سورج کا رخ ادھر ہے تو سایہ یہاں ہے۔“ہارون نے اکتاہٹ بھرے انداز میں جواب دیا۔
”یہی تو میں تم س پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی چیز کا سایہ کس کے حکم سے اپنی جگہ تبدیل کر لیتا ہے؟“
”حکم۔۔۔؟ تمہارا مطلب ہے حکم۔۔۔؟ بھئی یہ تو ایک لگا بندھا نظام ہے۔ زمین، سورج کے گردگھوم رہی ہے اور اپنے محور پر بھی گھوم رہی ہے، اس سے دن ہوتا ہے پھر رات آتی ہے، پھر دن نکل آتا ہے۔“
”بالکل ٹھیک کہا تم نے، لیکن تم نے یہ نہیں بتایا کہ یہ لگا بندھا نظام کس نے بنایا اور کس کے حکم پر یہ کام کر رہا ہے۔ کبھی ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک ساتھ دو دن آجائیں یا رات کے بیچ ہی میں اچانک سورج نکل آئے یا دو پہر کے وقت اچانک رات ہو جائے۔“احمد نے کہا۔
”او ہو، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ زمین جس رفتار سے گھوم رہی ہے، اس کے نتیجے میں ایک خاص وقت کے بعد ہی دن اور رات آتے ہیں۔“ ہارون نے الجھ کر کہا۔

”تم نے ٹھیک کہا۔ ٹھہرو، میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں، میں ابھی آیا۔“ احمد یہ کہہ کر تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے چلا گیا۔ چند منٹ بعد وہ ایک ہاتھ میں چائے کی ٹرے اور دوسرے ہاتھ میں ایک کتاب تھامے ہوئے اوپر چلا آیا۔
چائے کی ٹرے، اس نے ایک کرسی پر رکھ دی اور دوسری کرسی پر بیٹھ کر اپنے ہاتھ میں موجود کتاب کھول لی۔ وہ قرآن پاک کی تفسیر تھی۔ چند صفحے پلٹنے کے بعد احمد نے کہا:
”میں تمہیں قرآن پاک کی چند آیات کا ترجمہ سناتا ہوں۔ عربی میں پڑھوں گا تو سجدہ تلاوت آ جائے گا اور مجھ پر اور تم پر سجدہ تلاوت واجب ہوجائے گا۔“
”سجدہ تلاوت؟“ ہارون نے پوچھا۔
”ہاں۔ قرآن پاک میں چودہ آیات ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے کسی آیت کی تلاوت کی جائے تو ان کو پڑھنے اور سننے والے کو ایک سجدہ کرنا پڑتا ہے۔ بہر حال تم اس وقت سورۃ النحل کی آیات کا صرف اردو ترجمہ سنو اور اس پر غور کرو۔“
احمد نے پڑھنا شروع کیا:
”اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہوا دا ئیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ زمین اور آسمانوں میں جس قدر جان دار مخلوقات ہیں اور جتنے فرشتے ہیں، ان کے اوپر جو رب ہے، اس سے ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے، اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔“ (سورۃ النحل)
احمد نے تفسیر قرآن پاک کی کتاب بند کر دی اور ہارون پر نظر ڈالی، جو آنکھیں بند کیے لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔ احمد نے گھبرا کر ہارون کا شانہ ہلایااور بولا:
”ہارون۔۔۔ ہارون۔ خیریت تو ہے۔۔۔؟“
ہارون نے اسی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے احمد کو رکنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پھر اس کی بند آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور سسکیاں لے کر رونے لگا۔ احمد نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
تھوڑی دیر بعد ہارون نے آنسو پونچھ لیے۔ اس نے آنکھیں کھول کر احمد کو دیکھا اور اچانک احمد کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں کہنے لگا:
”احمد، تم میرے محسن ہو، تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔۔۔ میرے لیے دعا کرنا۔ میں چلتا ہوں، ان شاء اللہ عصر کی نماز میں ملاقات ہوگی۔اللہ حافظ……!“
یہ کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر تا ہوا چلا گیا۔
اب احمد کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ یہ شکر کے آنسو تھے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top