skip to Main Content

نیا پنکھا

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
گھر میں اپنے لگا نیا پنکھا
اِک اشارے پہ گھوم اُٹھا پنکھا
گھر میں پنکھے ہیں اور بھی لیکن
ہے نہیں ایسا دوسرا پنکھا
کچھ سفید اور کچھ سنہرا ہے
موتیوں سے سجا ہوا پنکھا
ساتھ اس کے ریموٹ بھی تو ہے
بیٹھے بیٹھے چلا لیا پنکھا
اپنی رفتار یہ بدلتا ہے
دھیرے بھی ، تیز بھی چلا پنکھا
بِل ہمارا یہ کم کراتا ہے
کتنی بجلی بچا گیا پنکھا
شور بالکل نہیں مچاتا ہے
رہتا چُپ چُپ ہے گھومتا پنکھا
بُھول جائے ہر ایک گرمی کو
دینے لگ جائے جب ہَوا پنکھا
اِس کی ٹھنڈی ہوا میں نیند آئے
سوئیں سب، پر ہے جاگتا پنکھا
آج گرمی بہت زیادہ ہے
اُف ! چلا دے کوئی ذرا، پنکھا
صرف اللہ کا کرم ہے یہ
اتنا اچھا ہمیں ملا پنکھا
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top