skip to Main Content

برفانی ہرن

کلیم چغتائی
 ۔۔۔۔۔
ہرن ہے دیکھو یہ برفانی
دیتا ہے سب کو حیرانی
انساں کے بے حد کام آئے
رینڈئیر بھی یہ کہلائے
قُطبی خِط٘وں میں ہے ملتا
جیسے، سائبیریا، کینیڈا
کچھ نہ بگاڑے اِس کا سردی
اِس کی حفاظت رَب نے کردی
درجہ حرارت کا گِر جائے
منفی اِکیاوَن تک آئے
تب بھی یہ آرام سے گُھومے
برف پہ لیٹے اور سو جائے
ایک تو اِس کے بال گھنے ہیں
کھوکھلے پھر وہ اندر سے ہیں
ٹھنڈک کا یہ رستہ روکیں
تَن کی حرارت اندر رک٘ھیں
شاخوں والے سینگ اِس کے ہیں
سال میں اِک دن جَھڑ جاتے ہیں
نئے سینگ پھر اُگ آتے ہیں
شان اِس کی واپس لاتے ہیں
پندرہ برس کی عُمر ہے پاتا
کبھی یہ بیس برس جی جاتا
ناک اِس کی ہے بڑی خُصوصی
رک٘ھے اندر سانس کی گرمی
غذا دبی ہو برف میں گہری
سُونگھے وہ بھی با آسانی
یہ ہر اِک بُو فوراٌ سُونگھے
دشمن کو بُو سے پہچانے
روشنی کی وہ لہریں دیکھے
انساں جِن کو دیکھ نہ پائے
لہریں کردیں، رستہ آساں
ہر اِک شے ہو جائے نُمایاں
کان اِس کے حس٘اس بڑے ہیں
ہلکی آہٹ بھی سُنتے ہیں
اِس کے کُھر ہیں نرم اور چوڑے
برف پہ جب ہی، نہیں یہ پِھسلے
پاؤں سے گہری برف ہٹالے
یوں یہ اپنی راہ بنا لے
پانی میں یہ جب بھی اُترے
کُھر پھیلیں، ہوں چپ٘و جیسے
چپ٘و تیز چلائے کُھر کے
تَیرے ہے یوں، آسانی سے
گرمی میں کُھر ہوں لچکِیلے
سردی میں سخت اور کٹِیلے
کائی جیسا سبزہ “لائکن”
شوق سے کھائے، اُس کو ہر دِن
گھاس اور پت٘ے بھی یہ کھالے
پودے، بیری، چھال چَبا لے
زہریلا سبزہ بھی کھا لے
اور نہ اس کا کچھ بھی بِگڑے
کسی جگہ یہ گھر نہ بنائے
عُمر سفر ہی میں کٹ جائے
ایک برس میں چلے یہ بے شک
پانچ ہزار کِلو مِیٹَر تک
گوشت اِس کا انساں کھاتے ہیں
دودھ بھی انساں پی جاتے ہیں
دودھ اِس کا ہوتا ہے گاڑھا
لگتا ہے جو مک٘ھن جیسا
کھال کے انساں پہنیں کپڑے
یہ انساں کی گاڑی کھینچے
گاڑی “سِلی” یہ کہلاتی ہے
برف پہ ساماں لے جاتی ہے
رب نے اتنی طاقت دی ہے
ساری رات سِلی یہ کھینچے
جب دوڑے، رفتار یہ پکڑے
اس٘ی کِلومیٹر فی گھنٹے
وزنی ساماں برف پہ کھینچے
مَن سے زائد آسانی سے
نیند اِس کو قِسطوں میں آئے
کھڑے کھڑے بھی یہ سوجائے
جب جانا ہو لمبے سفر پر
لاکھوں چلتے ہیں یہ مِل کر
چلنے سے آوازیں آئیں
پاؤں ٹَک ٹَک کرتے جائیں
ٹَک ٹَک سے ساتھی پہچانے
کوئی نہ ریوڑ سے ہے بِچھڑے
اِک رُت آئے، اِک رُت جائے
آنکھوں کی رنگت یہ بدلے
گرمی میں ہوں سونے جیسی
سردی میں ہوجائیں نِیلی
رنگت آنکھوں کی جو بدلے
یہ خوبی کوئی اور نہ پائے
اپنی خاص آنکھوں سے دیکھے
دائیں، بائیں، آگے ، پیچھے
رات میں بھی دیکھے یہ ہر شے
دُھند میں بھی رستہ پہچانے
یاد ہے رکھتا رستے سارے
یہ نسلوں تک بھی نہ بُھولے
چاہے ہزاروں جمع ہوں بچ٘ے
ماں اپنا بچ٘ہ پہچانے
وزن کِلو ہو ایک سو اس٘ی
چار فٹ اِس کی ہو اُونچائی
رنگ بدل لیں بال بھی اِس کے
موسم کوئی جب بھی بدلے
گرمی میں خاکی یا بھورے
سردی ہو تو چاندی جیسے
جنگلی بِل٘ے، شاہیں، کُت٘ے
ریچھ، بھیڑیے دُشمن اِس کے
حیرت ناک صِفات اِس کی ہیں
جو اِس کو اللہ نے دی ہیں
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top