skip to Main Content

مخصوص آیات کی فضیلت

کلیم چغتائی
۔۔۔۔۔
’’باجی، السلام علیکم۔‘‘ عامر نے اپنا بستہ الماری میں رکھتے ہوئے سلام کیا۔ وہ ابھی ابھی اسکول سے واپس پہنچا تھا۔
’’و علیکم السلام، کیا حال ہے عامر؟‘‘ باجی دھلے ہوئے کپڑے تہ کرتے ہوئے بولیں۔
’’الحمد للہ۔ باجی آج ہمارے استاد سلیم صاحب کہنے لگے کہ اگر کوئی بیمارہو تو سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔ اس سورۃ میں شفا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ ‘‘
’’ہاں تمھارے اُستاد درست کہتے ہیں۔ بہت سی احادیث میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں یا آیات کی فضیلت اور خصوصیت بیان کی گئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن مجید کی صرف اُن ہی سورتوں اور آیات کو پڑھا جائے یا پھر ان کو صرف اس لیے پڑھ لیا جائے کہ ان سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ بے شک شفا بھی حاصل ہوتی ہے لیکن قرآن مجید تو پوری زندگی اور پورے نظام ِزندگی، ہر معاشرے کے لیے مکمل ہدایت ہے۔ اس کو سمجھ کر پڑھناچاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘
’’میں آپ کی بات سمجھ گیا لیکن باجی، میری خواہش ہے کہ آپ مجھے قرآن مجید کی مختلف سورتوں کی فضیلت کے بارے میں بتائیں۔‘‘
’’بتا دوں گی، پہلے تم نماز ادا کر کے کھانا کھا لو۔‘‘
عامر نماز پڑھنے اور کھانا کھانے کے بعد آ کر باجی کے پاس بیٹھ گیا۔ باجی کتابوں کی الماری کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ عامر کو دیکھ کر وہ مسکرائیں اور کہنے لگیں: ’’ قرآن مجید کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے۔ یہ بہت اہم سورۃ ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الحشر میں اسے ایسی سات آیات کہا گیا ہے جو بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ تمھیں معلوم ہے، ہم نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اس سورۃ کو احادیث میں اور بھی کئی نام دیے گئے ہیں مثلا الکنز یعنی خزانہ، اساس القرآن یعنی قرآن کی بنیاد۔ ایک اور حدیث میں پیارے نبی نے فرمایا: ’’سورہ فاتحہ میں ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔‘‘ ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کو قرآن مجید کے بالکل شروع میں کیوں رکھا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے، بے حد رحیم ہے، روزِ جزا کا مالک ہے، پھر یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اللہ ہمیں اس راستے کی ہدایت دے جس پر چل کر لوگوں کو انعام حاصل ہوا، اس راستے کا نہیں جس پر چلنے والوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ اس دعا کے جواب میں اللہ نے ہمیں پورا قرآن مجید عطا فرما دیا ہے کہ یہ مکمل ہدایت نامہ ہے جس پر چل کر ہم اُن لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کوانعام حاصل ہوا۔‘‘
’’باجی، آیت الکرسی بھی بڑی اہم آیت ہے؟‘‘
’’ہاں۔ قرآن مجید میں دو مقامات پر اللہ کی صفات کا ذکر بہت پُر اثر انداز میں اور بہت ہیبت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ایک، سورۃ البقرۃ میں آیت الکرسی ہے اور دوسرا مقام سورۃ الحشر کی آیات ہیں۔ آپﷺ سے سوال کیا گیا کہ قرآن مجید کی سب سے عظمت والی آیت کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا: آیت الکرسی، پھر آپ ﷺنے فرمایا: سورہ بقرہ کی آخری دو آیات اللہ کی رحمت کے خزانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں دنیا اور آخرت دونوں جہان کی نعمتیں موجود ہیں۔‘‘
’’باجی، رات کو سونے سے پہلے کیا پڑھنا چاہیے؟‘‘
’’ہاں، احادیث میں آیا ہے کہ آپﷺ نے رات کو سونے سے قبل آیت الکرسی، سورہ اخلاص یعنی قُلْ ہُوَ اللہ اَحَدُ اور سورہ فلق اور سورہ الناس یعنی قُل اعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بندے کے لیے، قُلْ اَعُوذُبِرَبِّ الْفَلَق سے زیادہ نفع پہنچانے والی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ (نسائی)
’’سورہ اخلاص کی بھی بڑی فضیلت ہے نا، باجی؟‘‘
’’بہت زیادہ، کئی احادیث میں اسے ایک تہائی قرآن کے برابر کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی صفت توحید کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے بنیادی موضوعات تین عقیدے ہیں، توحید، رسالت اور آخرت۔ ان تین میں سے ایک عقیدہ، سورۃ اخلاص میں بہت اچھی طرح بیان ہوا ہے۔ ایک صحابی ہر نماز میں سورۃ اخلاص پر اپنی قرآت ختم کرتے تھے۔ آپﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان صحابی سے وجہ دریافت کروائی۔ انھوں نے عرض کیا، اُس میں اللہ کی صفات بیان کی گئی ہیں، اس لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ آپ تک ان صحابی کا جواب پہنچا تو آپ ﷺنے فرمایا، ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ انھیں محبوب رکھتا ہے۔ اسی طرح ایک اور صحابی نماز کی ہر رکعت میں سورۃ اخلاص پڑھتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: اس سورۃ سے تمہاری محبت نے تمھیں جنت میںداخل کر دیا۔‘‘
’’باجی، آپ نے قرآن میں قبل سے شروع ہونے والی تین سورتوں کاذکر کیا۔ ایک سورۃ رہ گئی۔‘‘ عامر نے یاد دلایا۔
’’ ہاں، قُلْ یَأَیُّہَا الْکٰفِرُونَ بھی بڑی اہم سورۃ ہے۔ آپ ﷺنے فرمایاہے: ’’میں تمھیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے، وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ یَأْیُّہَا الکٰفِرُونَ پڑھ لیا کرو۔‘‘ (طبرانی) اس کے علاوہ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہر شے ایک زینت سے مزین ہوتی ہے، قرآن مجید کی زینت، سورۃ الرحمن ہے۔ (مشکوۃ) مزید یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مطابق آپﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھے، وہ کبھی فاقے سے دوچار نہ ہوگا۔‘‘
’’باجی، آپ نے آج بھی بہت کام کی باتیں بتائیں، جزاک اللہ۔‘‘عامر نے کہا۔
’’اللہ تمھیں بھی جزا دے۔ ایک اور حدیث سن لو، آپ ﷺنے فرمایا:’’ جوشخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے گا، اس کے لیے اگلے جمعے تک ایک نورہدایت روشن رہے گا۔‘‘
’’باجی، آپ نے سورہ یٰسین کے بارے میں نہیں بتایا؟‘‘ عامر نے پوچھا ۔
’’سورہ یٰسین کو آپ ﷺنے قرآن مجید کا دل قرار دیا ہے۔ (احمد، ابوداؤد)اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورۃ میں قرآن مجید کی دعوت کو پُر زور انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک اور حدیث یہ بھی ہے کہ اپنے مرنے والوں پر سورہ یٰسین پڑھا کرو۔ (احمد، ابوداؤد) اس کی وجہ یہ سمجھ میںآتی ہے کہ جب کسی شخص کا آخری وقت ہو تو اس کے ذہن میں تمام اسلامی عقائد تازہ ہو جائیں بلکہ عالم آخرت کا پورا نقشہ بھی آ جائے۔ اس غرض سے اگر اسے سورہ یٰسین کا ترجمہ بھی سنا دیا جائے تو اچھا ہوگا۔‘‘
’’باجی، آپ کا بہت بہت شکریہ اور آپ کے لیے دعا ئیں۔‘‘ عامر نے کہا اور باجی مسکرا کر بولیں:
’’دعاؤں کی مجھے ہمیشہ ضرورت ہے۔ ان میں کبھی کمی نہ کرنا، اور ہاں،یہ یاد رکھنا کہ قرآن مجید کی ہر آیت، ہر لفظ اہم ہے، اگر کچھ آیات یا سورتوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف انھی آیات یا سورتوں کی تلاوت کر لی جائے۔ ہمیں قرآن مجید کو پورا پڑھنا چاہیے، ترجمے اور تفسیر کے ذریعے سمجھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘
’’آپ نے بالکل درست کہا۔ ان شاء اللہ، میں ان با باتوں کا پورا خیال رکھوں گا۔السلام علیکم۔‘‘ عامر نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top