skip to Main Content

جان کی بازی

اشفاق احمد خان
۔۔۔۔۔

اسکول میں سالانہ کھیل منعقد ہورہے تھے۔ عمران، عارف اور میں میدان کے قریب بیٹھے ہاکی میچ شروع ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ اسکول میں گزشتہ ایک ہفتے سے صبح کے وقت جماعت لگ رہی تھی، کیوں کہ گیارہ بجے کے بعد کھیلوں کے مقابلے ہونے لگتے۔ گیارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے، ہاکی میچ شروع ہوا چاہتا تھا، لیکن زبیر ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ہم اسے جماعت ہی میں چھوڑ آئے تھے،کیوں کہ اس کے سر میں درد تھا۔ اس نے تھوڑی دیر بعد آنے کا کہا تھا،مگر اب تقریباً آدھا گھنٹہ ہو چلا تھا ہم چاروں یعنی عارف، عمران،زبیر اورمیں گہرے دوست تھے۔
”زبیر تو کمر ے میں بیٹھا رورہا ہے۔“ ایک لڑکے نے آکر بتایا۔
”ہیں!“ہم تینوں نے ایک ساتھ کہا اور کمرہئ جماعت کی طرف بڑھے۔ زبیر میز پر سر رکھے رورہا تھا۔ میں نے بڑھ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا،اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے،میں نے اس کے آنسو پونچھے اور کہا: ”یہ کیا بے وقوفی ہے؟ مرد ہو کر روتے ہو!“
”ہیں! کیا مطلب؟“عارف نے شرارتی انداز میں کہا: ”کیا یہ کام صرف عورتوں کے کرنے کا ہے؟“
”تم چپ رہو۔“ میں نے عارف کو ڈانٹا: ”دیکھ نہیں رہے، بے چارے کا رورو کر برا حال ہے۔“
”کچھ نہیں‘ کچھ بھی تونہیں۔‘‘ زبیر نے جیب سے رومال نکال کر آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔
”ہوں! تو اب ہم سے چھپاؤ گے۔“عمران اسے گھورتے ہوئے بولا: ”کَہ دو کہ رونے کی مشق کررہا تھا۔ کل ڈرامے میں جو حصہ لینا ہے۔“
”زبیر! یہ بہت بُری بات ہے۔“ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:”ہم اتنے اچھے دوست ہیں،بالکل بھائیوں کی طرح، پھر بھی ہم سے اپنا غم چھپا رہے ہو۔“
جواب میں زبیر خاموش رہا۔ عارف نے کرسی سرکائی اور قریب بیٹھ کر بولا: ”کاشف میں سمجھ گیا ہوں کہ یہ کیوں پریشان ہے؟“
یہ سنتے ہی زبیر کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔میں سمجھ گیا کہ عارف نے درست اندازہ لگایا ہے۔ہم جانتے تھے کہ اس کی امی بیمار رہتی ہیں، مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بیماری آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔
ہماری طرح زبیر کے والد بھی درمیانے درجے کے سرکاری ملازم اور بہت ایمان دار آدمی تھے۔ مہنگائی کے اس دور میں، انھیں ملنے والی کم تنخواہ سے، گھر کا خرچ ہی مشکل سے چلتا تھا،بیماری کا علاج کیسے ہوتا؟
”خالہ جان بہت بیمار ہیں کیا؟“ میں نے زبیر سے پوچھا۔
”وہ اسپتال میں داخل ہیں۔“ زبیر نے آہستہ سے بتایا: ”ان کا آپریشن ہونا ہے اور اس کے لیے ڈاکٹر نے پانچ ہزار روپے مانگے ہیں۔ابو نے رقم کا انتظام کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن ابھی تک ایک سو روپے بھی جمع نہیں ہوسکے۔“
یہ سن کر ہمیں بہت افسوس ہوا،مگر ہم بھی اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتے تھے۔ عارف اور عمران بھی یہ سن کر پریشان ہوگئے۔میں دل سے چاہتا تھا کہ زبیر کی مد دکی جائے لیکن کیسے،یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ہمیں یوں سر جھکائے دیکھ کر زبیر اٹھا اور باہر چل دیا۔ ہم اداس نظروں سے اسے جاتا دیکھتے رہے۔
ہم نے ایسے کئی راستے سوچے جن سے زبیر کی مدد کی جاسکے،لیکن کوئی راستہ بھی ایسا نہ تھا جس پر چل کر ہمیں پانچ ہزار کی ر قم مل سکتی۔ ہم تینوں بہت کوشش کرتے تو دو تین ہزار سے زیادہ رقم جمع نہیں کرسکتے تھے۔
شام کے وقت میں کسی ضروری کام کے لیے باہر نکلا تو دور سے عمران آتانظر آیا۔ قریب پہنچتے ہی اس نے بڑے جوش سے کہا: ”لو بھئی پانچ ہزار روپے حاصل کرنے کا ایک طریقہ نظر آ گیا۔“ میں نے دل میں اطمینان کی ایک لہر اٹھتی محسوس کی، خوش کر پوچھا: ”بہت خوب! وہ طریقہ کیا ہے؟“
”وہ۔۔۔اصل میں۔۔۔“ عمران بولا:”طریقہ ذرا خطرناک ہے۔“
”کیا مطلب۔۔۔؟ ہم غلط اور خطرناک طریقے سے روپیا حاصل کریں گے؟“ میں بھڑک اٹھا۔
”ارے نہیں۔۔۔ نہیں تم غلط سمجھے۔ یہ بات نہیں۔“عمران نے بوکھلا کر میری بات کاٹی:”ادھر ریلوے گراونڈ میں سرکس والے آئے ہوئے ہیں۔“
”ہاں آئے تو ہوئے ہیں۔۔۔پھر؟“
”آج انھوں نے ایک اشتہار لگایاہے کہ موت کے کنویں میں جوآدمی اُن کے ملازم سے زیادہ بلندی تک موٹر سائیکل چلائے گا، اسے پانچ ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔“
”مگر اس مقابلے سے ہمیں کیا فائدہ؟ہم اس میں حصہ نہیں لے سکتے۔“میں نے مایوسی سے کہا۔
”تم لے سکتے ہو۔“ عمران نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
”میں، مگر کیسے؟ میں نے تو کبھی موت کے کنویں میں موٹر سائیکل نہیں چلائی؟“
”تم جو یہ سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیتے ہو، اگلا پہیا اوپر اٹھالیتے ہو،یہ سب کیا ہے؟ کرتب ہی تو ہیں۔“ عمران نے مسکرا کر کہا۔
اب میں سمجھا کہ وہ مجھے کس خطرناک کام پر آمادہ کرنا چاہتا تھا۔”ہم جانتے ہیں کہ اس کام میں کتنا خطرہ،بلکہ سو فیصد خطرہ ہے۔“میں تنک کر بولا۔
”خطرہ تو وہاں بھی ہے۔۔۔اسپتال میں زبیر کی امی کو!“ عمران افسردہ لہجے میں بولا۔
یہ سن کر میں خاموش ہوگیا، میرے سامنے زبیر کا افسردہ چہرہ گھومنے لگا، اب میں عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ایک طرف وہ خطرناک کام تھا، جس کا مجھے ذرہ بھر تجربہ نہ تھا، دوسری طرف ہمارے بھائیوں جیسے پیارے دوست کی بیمارماں تھی۔
”کس سوچ میں پڑگئے؟“عمران نے پوچھا:”ٹھیک ہے تمھارا دل نہیں مانتا تو نہ سہی،تم مجھے موٹر سائیکل چلانا سکھا دو تم دیکھنا کہ میں جیتوں گا ان شاء اللہ۔“
اس کی یہ بات سن کر میں انکار نہ کرسکا۔
”ٹھیک ہے عمران،میں اس مقابلے میں حصہ لوں گا۔“ میں نے کہا۔
”یہ ہوئی نابات! آؤچلیں تمھیں ایک خاص آدمی سے ملواؤں۔“ عمران بولا۔
”خاص آدمی؟ کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا۔
”میرے محلے میں مقیم جمشید نور صاحب ایک زمانے میں، موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلاتے تھے۔آج کل ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے ہیں۔“ عمران نے بتایا: ”میں ان کے ساتھ بات کرچکا ہوں،پہلے تو وہ مانتے ہی نہیں تھے،ان کے نزدیک اناڑی لڑکے کا موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلانا موت کے منہ میں چھلانگ لگانا ہے۔“
”تو پھر وہ کیسے مانے؟“ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
جب میں نے انھیں ساری صورت حال بتائی،تو ان کا دل پگھل گیا۔ وہ بولے کہ:”تم ایک عظیم مقصد کے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہے ہو،میں ضرور تمھاری مدد کروں گا۔“
”واہ! یہ تو ہماری غیبی امداد ہوگئی۔“ میں نے خوش ہو کر کہا۔
”چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔“ عمران بولا۔
جمشید نور نے بڑی محبت سے ہمیں خوش آمدیدکہا۔انھوں نے ایک گھنٹے تک مجھے اس خطرناک کھیل کے گر بتائے اور موٹر سائیکل پر بٹھا کر اسے چلانا سکھایا۔ موٹر سائیکل کی رفتار اس پر قابو اور دائرے میں گھماتے ہوئے اپنے بائیں طرف جسم کا پورا زور لگانا۔یہ اہم امور سیکھ کر مجھے محسوس ہونے لگا کہ اب میں موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلا سکوں گا۔
شام تقریباً سات بجے مقابلہ شروع ہوا۔اس میں چار لوگ شریک تھے،کیوں کہ یہ کھیل ہر کسی کے بس کا نہیں تھا۔موت کا کنواں بہت بڑا اور مضبوط تھا، اس کے باوجود موٹر سائیکل کی گھن گرج سے لکڑی کے تختے لرز رہے تھے۔جمشید نور بھی تماشائیوں میں شامل تھے۔
اس کنویں کے اندر، اوپرتین فٹ نیچے، ایک لکیر لگائی گئی تھی۔ جو شخص اس لکیر پر سے گزرتا اسے فاتح قرار دیاجاتا۔ موت کے کنویں کا ملازم مہارت سے لکیر چھو کر نیچے اتر آیا۔ دو سرے دو آدمی چھونے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
مقابلہ دیکھنے کے لیے تقریباً چار سو تماشائی سرکس میں موجود تھے۔ عمران اور عارف، جمشید نور کے ساتھ اوپر کھڑے تھے۔ میں موٹر سائیکل پربیٹھا یہ خطرناک کھیل کھیلنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ زبیر کو اس معاملے کی کچھ خبر نہ تھی۔ ہم نے اسے کچھ نہیں بتایا، ورنہ وہ مجھے ایسا جان جو کھوں کا مقابلہ کبھی نہ کرنے دیتا۔
لیکن یہ ہماری غلط فہمی تھی،جب زبیر ہم تینو ں کے گھر گیا تو عمران کی والدہ نے اسے بتادیا کہ وہ دوستوں کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا ہے،چناں چہ وہ بھی آپہنچا۔ ادھر ادھر ڈھونڈنے کے بعد آخر اس نے ٹکٹ خرید ا اور موت کے کنویں پرچڑھ گیا،کیوں کہ وہیں سب سے زیادہ ہجوم تھا۔اسے یقین تھا کہ اس کے دوست بھی وہیں موجود ہوں گے۔
دس منٹ بعد اس نے عارف اور عمران کو تلاش کرلیا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ عمران بے اختیار بولا:”زبیر! تم کیوں چلے آئے؟“
”کیوں بھئی! تم لوگ آسکتے ہو تو میں نہیں آسکتا؟کاشف کہا ں ہے؟“
یہ سن کر عارف اور عمران چونک اٹھے۔اس دوران میں زبیرنے مجھے موٹر سائیکل پربیٹھے دیکھا تو بھونچکا رہ گیا۔
”یہ۔۔۔ یہ کاشف۔۔۔ وہاں کیا کررہا ہے۔“وہ ہکلا کر بولا۔پھر جیسے سارا معاملہ اس کی سمجھ میں آگیا۔ اس نے بھی وہ اشتہارپڑھ رکھا تھا۔زبیر سمجھ گیا کہ کاشف اس کی امی کے آپریشن کے لیے پانچ ہزار روپے حاصل کرنے کی کوشش میں موٹر سائیکل چلانے لگا ہے۔ لیکن اتنا خطرناک کھیل، وہ تھرا گیا اور پوری قوت سے چلایا: ”کاشف ایسا مت کرنا۔“
لیکن لوگوں کا شور اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔وہ پھرچلایا: ”کاشف ایسا مت کرنا۔“
میں نے چونک کر اوپردیکھا تو مجھے عمران اور عارف کے بازوؤں میں جکڑا ہوا زبیر نظر آیا۔اس کے چہرے پر پھیلا دکھ اور آنکھوں میں آنسو دیکھ کر یوں لگا،جیسے آنسو میرے دل میں سوراخ کیے دے رہے ہوں۔ وہ التجا بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا، ساتھ ساتھ کچھ کَہ بھی رہا تھا، لیکن شور میں مجھے کوئی فقرہ سنائی نہ دیا۔ اس کی بے چینی اور پریشانی دیکھ کر میرے آنسو بھی آنکھوں کی قید سے رہائی پانے والے تھے کہ میں نے سر جھکا کر موٹر سائیکل چالو کردی۔
عارف اور عمران نے زبیر کے بازو پکڑے ہوئے تھے۔ وہ ان کی منتیں کررہا تھا: ”عارف! دیکھو! کاشف کو روک لو! اسے ایسا نہ کرنے دو!“ وہ اپنے آپ کو ان سے چھڑاتا اور کبھی منتیں کرتا۔ اس کی حالت دیکھ کر ان دونوں کے بھی آنسو نکل آئے۔ارد گرد کے لوگ انھیں تعجب سے دیکھ رہے تھے۔ جمشید نور صاحب نے اس کے سر پرہاتھ پھیر کر اسے دلاسا دیا تو زبیر روتا ہوا بولا:
”بابا جی! اسے روک لیں،و ہ مرجائے گا۔ میری امی توٹھیک ہوجائیں گی۔“وہ کَہ کر پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔
جمشیدنور صاحب نے تسلی کے ایک دو فقرے کہے اور اسے سینے سے لگالیا۔ اب عارف اورعمران دل ہی دل میں پریشان تھے کہ کاش وہ مجھے اس کام پر آمادہ نہ کرتے۔
ادھر میں موٹر سائیکل بڑی کامیابی کے ساتھ لکڑی کے تختوں پر گھما رہا تھا۔ ہر چکر مزید بلندی پر چڑھتا چلا گیا۔ میری آنکھوں میں روتے ہوئے زبیر کا چہرہ تھا۔بس ایک شعلہ تھا،جو میرے سینے میں لپک لپک جاتا۔ میں بڑے جذبے کے ساتھ مقررہ لکیر تک پہنچ رہا تھا۔ آخر کار میں نے اسے چھو ہی لیا۔ لوگوں نے تالیاں بجا کر مجھے خوب داد دی۔
اب میں لکیر سے بھی اوپر موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ لوگوں کا شور بتارہا تھا کہ میں فتح کا حق دار ہوچکا ہوں۔ میں پھر موٹر سائیکل دھیرے دھیرے نیچے لے آیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اتنا خطرناک مرحلہ پار کرچکا ہوں۔ جب میرے ہاتھ میں پانچ ہزارروپے تھمائے گئے، تو مجھے علم ہوا کہ میں کوئی خواب نہیں دیکھ رہا۔
انعام پا کر باہر نکلتے ہی عمران اور عارف نے زور دار نعرہ لگا کر مجھے آغوش میں لے لیا۔ زبیر ایک طرف کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: ”مجھے معاف کردینا میرے دوست! ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ نہ تھا۔“
یہ سن کر زبیر مجھ سے لپٹ گیا اور رندھی ہوئی آواز میں بولا:”تم نے اچھا نہیں کیا کاشف! اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہ کر پاتا۔“
”اسے کچھ نہیں ہوسکتاتھا۔“ یہ جمشید نور صاحب کی آواز تھی۔ وہ کہنے لگے:”اس کے دل میں محبت اور خلوص کی شمع جل رہی تھی۔وہ اسے کبھی ناکام نہ ہونے دیتی۔ تم خوش قسمت ہوکہ تمھیں اتنا پیارااور جان کی بازی لگانے والا دوست ملا۔“
جمشید نور صاحب کی بات سن کر زبیر نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرا کر مجھے گلے لگا لیا۔

٭٭٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top