skip to Main Content

گاجر کہاں گئی؟

کہانی: Mr.Snoop’s Carrots
مصنفہ: Enid Blyton
مترجمہ: گل رعنا صدیقی
۔۔۔۔۔

اس سال قصبے میں کھانے پینے کی شدید قلت ہو گئی تھی کیونکہ بارشوں کی وجہ سے ساری فصلیں خراب ہو چکی تھیں۔سردیوں کا موسم آنے تک قصبے والوں کی حالت پتلی ہو گئی۔
’’کیوں نا ایسا کریں کہ قصبے والے اپنے پاس موجود کھانے پینے کی تمام اشیاء لے کر قصبے کے حاکم کے پاس جمع کرادیں۔ کسی کے پاس گاجریں ہیں، کسی کے پاس آلو، کسی کے پاس چاول ہوں گے اور کسی کے پاس گندم! اس طرح قصبے کا حاکم ان تمام اشیاء کی راشن بندی کرکے سب قصبے والوں میں روزبرابر تقسیم کرتا رہے گا تاکہ کوئی بھی بھوکا نہ رہ جائے۔‘‘ ولی نے کہا جو قصبے کا سب سے عقل مند شخص تھا۔
’’بالکل درست! یہ سب کے ساتھ انصاف ہوگا۔ سب کو سردیاں گزارنے کے لیے ضرورت بھر راشن ملتا رہے گا جب تک کہ ہماری نئی فصلیں تیار نہ ہو جائیں۔‘‘ حاکم نے کہا۔
سب ہی نے اس تجویز کی تائید کی لیکن مکھی چوس یہ سن کر بالکل بھی خوش نہ ہوا۔نام تو اس کا اسنوپ تھا لیکن اس کی کنجوسی کی وجہ سے لوگ اسے مکھی چوس کہنے لگے تھے۔ اس کے گھر میں سیکڑوں گاجریں موجود تھیں اور وہ ساری سردیاں آرام سے ان کا سوپ پی کے گزار سکتا تھا۔ وہ قصبے کے دوسرے لوگوں میں اپنی گاجریں تقسیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔’’ بھلا یہ کیا انصاف ہے!‘‘ اس نے سوچا۔
قصبے کے تمام لوگوں نے حاکم کو اپنے پاس موجود تمام اشیائے خور و نوش کی تفصیل لکھوا دی تاکہ حاکم اپنے آدمیوں کے ذریعے وہ تمام سامان منگا کر سرکاری اسٹور میں محفوظ کر سکے اور روزانہ بنیادوں پر یہ خوراک راشن کی صورت میں سب کو برابر تقسیم کیا جا سکے۔ مکھی چوس نے اپنی باری آنے پر حاکم کو بتایا:
’’میرے پاس ایک درجن گاجریں، ایک پیکٹ چائے اور آدھا ڈبہ چینی ہے۔‘‘
’’لیکن مسٹر اسنوپ! آپ کے پاس تو سیکڑوں گاجریں ہیں۔ میں خود آپ کے گھر کا اسٹور دیکھ چکا ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے پاس صرف ایک درجن گاجریں ہیں؟‘‘ولی نے حیرت اور غصے سے کہا پھر وہ حاکم سے مخاطب ہوا:
’’جناب! مجھے امید ہے کہ آپ کے آدمی ان کے گھر کی تلاشی لیں گے۔ یہ حضرت مکھی چوس ہی نہیں ، خود غرض اور جھوٹے بھی ہیں۔‘‘
’’ ہر گز نہیں!‘‘ مکھی چوس غصے سے چلایا۔’’میں بالکل سچ بول رہا ہوں۔ میرے پاس صرف ایک درجن گاجریں ہیں۔جناب حاکم! آپ کے آدمی اچھی طرح میرے گھر کی تلاشی لے کر اپناا طمینان کر سکتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں خود غرض نہیں ہوں، میں سب کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ آپ روزانہ دوسرے لوگوں کو جتنا راشن تقسیم کریں گے، میں اس کا صرف نصف لیا کروں گا تاکہ دوسروں کو مجھ سے زیادہ خوراک مل سکے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ فاتحانہ انداز میں ولی کی طرف مڑا۔
یہ سن کر سناٹا چھا گیا۔ لوگ دل ہی دل میں مکھی چوس کی تعریف کرنے لگے لیکن ولی کو ابھی بھی اس کی باتوں پر یقین نہیں آیا تھا۔’’ خیر! کل دیکھا جائے گا۔‘‘اس نے کہا۔
مکھی چوس غصے میں بھرا ہوا گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اب اس کو اپنی تمام گاجروں کا اسٹاک کہیں چھپانا پڑے گا صرف اس ولی کی وجہ سے ! کیا مصیبت ہے!
’’میں ایک درجن گاجریں چھوڑ کر باقی ساری گاجریں ٹرالی میں بھر کے اپنے گھر کے سامنے موجود میدان میں کھود کر دبادوں گا اور وہاں کوئی نشانی لگادوں گا۔ روز رات کو میں اپنے سوپ کے لیے دو، تین گاجریں نکال کے لے آئوں گا۔ اس طرح حاکم کی طرف سے ملنے والے نصف راشن سے بھی میرا کام چلتا رہے گا۔واہ! کیا ترکیب ہے۔‘‘
اس رات مکھی چاس نے اپنی تمام گاجریں گھر کے سامنے موجود میدان میں کھود کر دبادیں۔ پھر نشان کے طور پر اس نے وہاں چار سفید پتھر رکھ دیے۔ اگلے دن حاکم کے ملازم تمام گھروں سے اشیائے خوردنی جمع کرنے آئے۔جب وہ مکھی چوس کے گھر پہنچے تو اس نے گھر کے دروازے ان کے لیے کھول دیے:
’’ آکے تمام کھانے پینے کی اشیاء لے جائیے۔میں اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھنا چاہتا۔‘‘ اس نے اعتماد سے کہا۔
اسٹور میں صرف ایک درجن گاجریں پڑی تھیں۔
’’ یہ سچ بول رہا تھا۔ ولی کو ضرور غلط فہمی ہوئی تھی۔‘‘ ملازموں نے کہا۔
اگلی صبح سب لوگ سرکاری اسٹور سے راشن لینے گئے۔ مکھی چوس نے اپنے اعلان کے مطابق صرف آدھا راشن لیا اور راشن لیتے ہوئے کہنے لگا:
’’مجھے گاجریں بالکل نہ دیجیے گا کیونکہ مجھے سخت نا پسند ہیں۔‘‘اس نے ولی کو سنانے کے لیے اونچی آواز میں کہا۔
اس نے رات میں ہی میدان میں نشان زدہ جگہ کھود کر نصف گاجریں نکال لی تھیں، لہٰذا گھر آکر اس نے گاجروں کا مزے دار سوپ بنایا اور یوں باقی قصبے والوں کی نسبت سب سے زیادہ کھانا کھایا۔پیٹ بھر کھانے کے بعد وہ مزے سے لمبی تان کر سو گیاکیونکہ اس کے پاس ضمیر نامی کوئی شے نہیں تھی۔
لیکن جب وہ صبح اٹھا تو ایک نئی حیرت اس کی منتظر تھی۔ اس کے گھر کے باہر موجود میدان برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ پوری رات برف باری ہوئی تھی جو دن بھر جاری رہی، لہٰذا جب رات کو مکھی چوس گاجریں نکالنے میدان میں گیا تو اسے وہ جگہ نہیں ملی کیونکہ اس کی لگائی گئی نشانی برف کے نیچے دب کر غائب ہو چکی تھی۔ مکھی چوس ہاتھ مل کر رہ گیا۔اب وہ اپنی گاجریں نکالنے کے لیے پورا میدان نہیں کھود سکتا تھا اور حاکم کے ہاں سے بھی اس کی اپنی فرمائش کے مطابق صرف آدھا راشن ملتا تھا۔
’’ کوئی بات نہیں! جب برف پگھل جائے گی تو میں اپنی گاجریں پھر حاصل کر لوں گا۔ صرف چند دن کی بات ہے۔‘‘ اس نے خود کو تسلی دی۔
اب سنیے! برف باری کے دوران قصبے کے نزدیک جنگل میں رہنے والے خرگوش بھی بھوک سے پریشان تھے کیونکہ سارا گھاس پھونس برف کے نیچے دفن ہوگیا تھا۔لیکن پھر ایک خرگوش کو گاجروں کے ذخیرے کی خوشبو آگئی۔زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس نے ذخیرے تک ایک لمبی سی سرنگ کھود لی۔ اس نے دوسرے تمام خرگوشوں کواس خزانے کے بارے میں مطلع کردیا۔یوں ساری خرگوش برادری روزانہ اس سرنگ میں جاکر دعوت اڑانے لگی۔
ایک دن ولی نے میدان سے گزرتے ہوئے برف پر ایک ادھ کھائی گاجر دیکھ لی۔ذرا سے فاصلے پر اسے ایک اور گاجر نظر آئی اور پھر ایک اور۔ جلد ہی وہ اس سوراخ تک پہنچ گیا جہاں تک خرگوشوں نے سرنگ کھود رکھی تھی۔گاجروں کا ذخیرہ دیکھتے ہی سارا معاملہ وہ فوراً سمجھ گیا۔’’ مجھے حاکم کو اطلاع دینی چاہیے کہ یہاں سیکڑوں گاجریں دفن ہیں۔‘‘ وہ فوراً حاکم کے پاس دوڑا۔
جلد ہی حاکم کے ملازموں نے وہاں دفن تمام گاجریں نکال کر سرکاری تحویل میں لے لیں لیکن اس ساری کارروائی کا علم مکھی چوس کو نہ ہو سکا۔
موسم بدل رہا تھا اور برف تقریباً پگھل چکی تھی۔ مکھی چوس بہت خوش تھا کیونکہ اب وہ دوبارہ اپنے ذخیرے سے گاجریں نکال سکتا تھا۔
اس رات وہ لالٹین لے کر میدان میں اس جگہ پہنچاجہاں اس نے نشانی کے پتھر رکھے تھے،لیکن اب وہاں ایک بھی گاجر نہیں تھی سوائے چند ادھ کھائی گاجروں کے جو خرگوش نے چھوڑی تھیں۔ مکھی چوس سر پکڑ کر رونے لگا:
’’اوہ!میری سب گاجریں خرگوش کھا گئے۔ ہائے ہائے! اب میں کیا کروں گا؟‘‘
اگلے دن جب وہ دوسروں کے ساتھ اپنا راشن لینے گیا تو اس نے وہاں گاجروں کا انبار دیکھا۔ولی پہلے گاجروں کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایااور بولا:
’’ مسٹر اسنوپ!کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ کو گاجریں بالکل پسند نہیں۔ یہ گاجریں کل شام آپ کے گھرکے باہر والے میدان سے برآمد ہوئی ہیں۔کتنی حیران کن بات ہے نا؟اب قصبے میں سب کوان میں سے روزانہ اچھا حصہ ملے گا سوائے آپ کے کیونکہ آپ گاجریں جو نہیں کھاتے۔‘‘
لہٰذا غریب مکھی چوس کو گاجریں نہیں ملیں اور چونکہ اسے راشن بھی دوسروں کے مقابلے میں نصف ملتا تھااس لیے وہ تقریباً پوری سردیاں بھوکا رہا۔ جب سردیاں گزر گئیں اور موسم بہار کی فصلیں کھڑی ہو گئیں تب مکھی چوس کو پیٹ بھر کھانے کو نصیب ہوا۔
’’ میں اب کبھی ایسی دھوکے بازی نہیں کروں گا۔اگر میں نے اپنی ساری گاجریں شروع میں ہی جمع کرا دی ہوتیں تو دوسروں کے ساتھ مجھے بھی ساری سردی اپنا حصہ ملتا رہتا لیکن میں نے پورے کی لالچ میں تھوڑا بھی گنوا دیا۔میری توبہ! ‘‘وہ جب بھی کھانا کھانے بیٹھتا، یہی دہراتا۔
خرگوشوں کی طرف سے ملا ہوا سبق اسے زندگی بھر کے لیے کافی ہوگیا تھا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top