روز گلے کاٹتا ہے، روز جیب کاٹتا ہے May 28, 2018 روز گلے کاٹتا ہے، روز جیب کاٹتا ہے پھر بھی نہ وہ قاتل کہلاتا ہے نہ چور (درزی) Facebook Comments Share ThisTweetSharePlus oneShareEmail متعلقہ تحریر آپ جلے، نہ مجھے جلائے آپ جلے، نہ مجھے جلائے اس کاجلنا،میرے من بھائے گھوم گھوم کر ہوئی تیار سب… ایک جگہ پہ بانس بریلی ایک جگہ پہ بانس بریلی ایک جگہ پہ کنواں ایک جگہ پہ آگ لگی ایک… کبھی چھوٹا کبھی بڑا کبھی چھوٹا کبھی بڑا بے سہارا فضا میں کھڑا شب کو آئے،دن کو جائے بوجھنے…