skip to Main Content

خوش نصیب بزرگ

طالب ہاشمی

۔۔۔۔۔

حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ہمارے رسول پاک ﷺ کے ایک بوڑھے صحابی تھے۔ وہ مدینہ منورہ سے دور ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق نجد میں آباد ایک قبیلے بنو عامر بن صعصعہ سے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت قبیصہ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:
”مرحبا اے قبیصہ! تم اب آئے جب تمہاری عمر زیادہ ہوگئی، تمہاری ہڈیاں پتلی ہوگئیں اور موت تمہارے قریب آ گئی۔“
حضرت قبیصہ نے عرض کیا:
”یارسول اللہ! اب میں آپ کی خدمت میں حاضر تو ہوا ہوں لیکن حاضر ہونے کی طاقت مجھ میں نہ تھی، میری عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے اور میری ہڈیاں پتلی (کمزور) ہوگئی ہیں۔ موت کا وقت قریب ہے اور میں محتاج ہوں اور لوگوں کی نظر میں ذلیل ہوں۔ آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ مجھے کچھ تعلیم فرمائیں جس سے دنیا میں بھی اور موت کے بعد بھی مجھے فائدہ ہو اور آپ کی تعلیم اتنی ہو جسے میں یا در رکھ سکوں کیونکہ میں بڑھاپے کی وجہ سے بھول جانے کے مرض کا بھی شکار ہوں۔“
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے قبیصہ!تم نے کیا کہا ذرا پھر کہو۔“
حضرت قبیصہ نے وہی باتیں دہرا ئیں جو پہلے کہہ چکے تھے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:
”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ یہاں تمہارے گرد جس قدر د رخت اور پتھر ہیں، سب تمہاری گفتگوسن کر رونے لگے۔“
ایک اور روایت میں یہ واقعہ حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کی زبانی اس طرح بیان ہوا ہے کہ:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:
”اے قبیصہ! تجھے کون سی ضرورت میرے پاس لائی ہے؟“
میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ! میری عمر زیادہ ہوگئی ہے، میری ہڈیاں پتلی پڑ گئی ہیں۔ آپﷺ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہبات سکھادیں جس کے ذریعے اللہ مجھے نفع دے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اے قبیصہ! تیرا گز رجس پتھر، درخت کے پاس سے اور جس مٹی پرہوا، سب نے اللہ سے تیرے لیے بخشش طلب کی ہے۔ جب تو صبح نماز پڑھے تین مرتبہ کہہ لے۔ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ، اس کی برکت سے اندھے پن،کوڑھ، اور فالج سے محفوظ رہے گا۔“

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top