skip to Main Content
ڈائنامائیٹ :دھماکا خیز مواد

ڈائنامائیٹ :دھماکا خیز مواد

محمد فرحان اشرف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیامیں سب سے پہلادھماکاپیداکرنے والامادہ بارودتھا،جس کوچین کے لوگوں نے نویں صدی عیسوی کے قریب ایجادکیاتھا۔بعدمیں مسلمانوں نے اس کومزیدبہتربنایااورتوپوں میں استعمال کیا۔ انیس ویں صدی عیسوی تک بارودسب سے زیادہ استعمال ہونے والامادہ تھا۔بارودکے کچھ نقصانات بھی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے گئے۔اس کی دھماکے کی طاقت کم تھی۔الفریڈنوبل سویڈن کا سائنس دان تھا،جس نے 1859ء میں اپنے بھائی کے ساتھ مل کرایک کیمیائی مادے نائٹروگلیسرین پرتجربات شروع کیے۔تجربات کے دوران ایک حادثے میں اُس کابھائی اورکئی دوسرے لوگ ہلاک ہو گئے۔ الفریڈنوبل نے ہمت نہ ہاری اور1866ء میں نائٹروگلیسرین کوسلی کان کے ساتھ ملاکرایک مائع حالت میں مادہ ’ڈائنامائیٹ‘تیارکیا۔جس کوحفاظت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیاجا سکتا تھا اور اُسے شعلے سے جلاکر دھماکا کیا جاسکتاتھا ۔ ڈائنامائیٹ یونانی زبان کے لفظ ڈائناس سے نکلاہے،جس کے معنی ہیں طاقت۔یہ ایک دھماکاپیداکرنے والامادہ ہے۔اسے کان کنی،کھدائی اورپرانی عمارتیں گرانے کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔
ڈائنامائیٹ میں نائٹروگلیسرین،سفیدریت اورسوڈیم کابونیٹ استعمال کیاجاتاہے۔جس سے بہت طاقت وردھماکہ پیداہوتاہے۔اس دھماکے کے نتیجے میں آگ نہیں لگتی ،جب کہ بارودکے دھماکے سے آگ لگ جاتی ہے اورگہرادھواں بھی پیداہوتاہے۔ڈائنامائیٹ کوجب مطلوبہ حرارت ملتی ہے تویہ بڑی مقدارمیں گیسیں پیداکرتاہے۔نائٹروگلیسرین میں موجودکاربن اورہائیڈروجن ،آکسیجن سے مل جاتی ہیں اور نائٹروجن آزادہوجاتی ہے۔جس کے نتیجے میں دھماکاپیداہوتاہے۔جس مقام پرڈائنامائیٹ کادھماکاہوتاہے ،اُسے شدیدنقصان پہنچتاہے۔ڈائنامائیٹ کے تین بنیادی حصے ہوتے ہیں۔سخت پلاسٹک سے ایک راڈیاسلاخ تیارکی جاتی ہے۔ اس سلاخ میں تین حصے نائٹروگلیسرین ،ایک حصہ سفیدریت اورسوڈیم کاربونیٹ رکھی جاتی ہے۔پھرراڈکوخاص قسم کے کاغذمیں لپیٹ دیاجاتاہے۔بلاسٹنگ کیپ چھوٹی سلاخیں ہوتی ہیں،جن میں تھوڑادھماکاپیدا کرنے والاموادہوتاہے۔ابتدامیں اسے چلاکرایک چھوٹادھماکاکیاجاتاہے۔جس سے ڈائنامائیٹ راڈمیں حرارت پیداہوتی ہے اورڈائنامائیٹ دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتاہے۔ڈائنامائیٹ میں فلیتہ کوبطورفیوز استعمال کیاجاتاہے۔اس میں بجلی گزارکریاعام شعلے سے آگ لگائی جاتی ہے،جس سے ڈائنامائیٹ میں دھماکاپیداہوتاہے۔
ڈائنامائیٹ کوبارودی سرنگوں میں بھی استعمال کیاجاتاہے۔جب یہ سرنگیں پھٹتی ہیں توبہت زیادہ جانی ومالی نقصان ہوتاہے۔کانوں میں کھدائی کے دوران جب کہیں کوئی سخت چٹان آجائے تواُسے اس مادہ سے اڑادیا جاتاہے۔ایسی عمارتیںیاپل جوگِراکرنئے تعمیرکرنے ہوں،انہیں گِرانے کے لیے ڈائنامائیٹ سے دھماکاکیاجاتاہے۔پانی کے اخراج کے لیے کسی بندکوتوڑنے کے لیے بھی ڈائنامائیٹ ہی استعمال کیاجاتاہے۔بیسوی صدی عیسوی میں سائنس نے کافی ترقی کی۔دھماکاپیداکرنے والے بے شمارمادے ایجادکیے گئے۔جوڈائنامائیٹ کے مقابلے میں محفوظ اورسستے تھے۔ڈائنامائیٹ کے دھماکے سے اردگردکے ماحول کی آکسیجن کم ہوجاتی ہے۔جس کے نتیجے میں جان داردم گھٹ کرمرجاتے ہیں۔دھماکے کی شدت سے اردگردکی عمارتیں بھی نقصان کی زدمیں آجاتی ہیں۔دھماکے سے زمین بھی متاثر ہوتی ہے اوربنجربن جاتی ہے۔اس طرح ڈائنامائیٹ کا استعمال بہت حدتک کم ہوگیا۔اب بھی کئی ممالک میں اس مادے کوگہرے کنوؤں اورکانوں کی کھدائی میں استعمال کیاجارہاہے۔
ٹی این ٹی ایک دھماکاخیزموادہے اور ڈائنامائیٹ سے بہت مختلف ہے۔اکثرڈائنامائیٹ کوہی ٹی این ٹی کہااورسمجھاجاتاہے۔یہ موادبھی دھماکاپیداکرنے کے کام آتاہے۔ٹی این ٹی کادھماکازیادہ طاقت ور نہیں ہوتااوراسے پھٹنے کے لیے حرارت بھی زیادہ درکارہوتی ہے۔ڈائنامائیٹ کومچھلیاں پکڑنے کے لیے بھی استعمال کیاجاتاہے۔ڈائنامائیٹ راڈکے ذریعے پانی میں دھماکاپیدا کیا جاتاہے۔جس سے مچھلیاں پانی سے باہرآگرتی ہیں۔اس دھماکے کے نتیجے میں پانی میں پائے جانے والے دیگرجانوراورپودوں کوشدیدنقصان پہنچتاہے اورآبی ماحول شدیدمتاثرہوتاہے۔یہ ایک خطرناک طریقہ ہے۔اس لیے اس پر دنیامیں پابندی لگادی گئی ہے۔ فروری2014ء میں امریکاکی ریاست مشی گن میں سِبی وائنگ نامی دریاسردی کی وجہ سے مکمل طورپرجم گیاتھا۔دریاکی سطح پرموجوددوفٹ موٹی برف کی تہہ کوتوڑنا مشکل ہوگیا۔ برف کی اس تہہ کوڈائنامائیٹ کی مددسے توڑاگیا۔اس طرح دریاکاپانی دوبارہ معمول کے مطابق بہنے لگا۔
آرڈی ایکس ،ڈائنامائیٹ سے ملتاجلتادھماکاپیداکرنے والامادہ ہے۔یہ سفیدپاؤڈرکی شکل میں ہوتاہے۔اس کودوسرے کیمیائی مادوں کے ساتھ ملاکردھماکاپیداکیاجاتاہے۔اس کادھماکاکم شدت کاہوتا ہے۔اسے کان کنی میں استعمال کیاجاتاہے۔جیلی اگنائیٹ ،ڈائنامائیٹ کی ایک قسم ہے۔اسے بھی الفریڈنوبل نے 1875ء میں ایجادکیاتھا۔اس میں لکڑی کی جگہ نائٹروسیلولوزاستعمال کیاجاتاہے۔ اسے ذخیرہ کرنابڑاآسان کام ہے۔یہ بلاسٹنگ جیلی کہلاتاہے اورعام ڈائنامائیٹ کے مقابلے میں آہستہ جلتااورکم دھماکاپیداکرتاہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدکافی عرصہ تک جنوبی افریقا،دنیامیں ڈائنامائیٹ تیارکرنے والاسب سے بڑاملک تھا۔وہاں سونے کی کانوں کی کھدائی کے لیے اسے استعمال کیاجاتاتھا۔1985ء میں اس مادے کے دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے باعث ڈائنامائیٹ کی تیاری پرپابندی عائدکردی گئی۔الفریڈنوبل نے ڈائنامائیٹ کوانسانی بھلائی کے لیے ایجادکیاتھا۔اس ایجادکوجنگوں میں بہت زیادہ استعمال کیاگیااوریہ ایجادکئی لوگوں کی ہلاکت کاباعث بنی۔جس کاالفریڈنوبل کوبہت افسوس ہوا۔کئی ممالک میں الفریڈکوموت کاسوداگرکاخطاب دیاگیا۔اُس نے اپنی غلطی کی تلافی کے لیے نوبل انعام جاری کیا،تاکہ انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔نوبل انعام ہرسال سویڈن کی رائل اکیڈمی آف سائنسزکی جانب سے طبیعیات،کیمیا،معاشیات،ادب،امن اورطب کے شعبوں میں کارکردگی دکھانے والے کسی شخص یاادارے کودیاجاتاہے۔یہ انعام ایک طلائی تمغے،ڈپلومااورتقریباً5لاکھ ڈالرپرمشتمل ہوتاہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top