skip to Main Content

اصل محبت

کاوش صدیقی
۔۔۔۔۔
بہز بن حکیم ، اپنے والد حکیم کے واسطے سے اپنے دادا معاویہ بنی حیدہ قشیری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’غصہ ایمان کو ایسا خراب کر دیتا ہے جیسے ایلوا شہد کو خراب کر دیتا ہے۔‘‘ (شعب الایمان، للبیہقی ،معارف الحدیث جلد نمبر1 صفحہ نمبر 125)
۔۔۔۔۔

’’اے صاحب ذرا بھی چُوںچَراں کریں توپکڑکے کُوٹ دیجئے۔‘‘ ہمارے گھر کے سامنے والے صاحب نے کہاجو اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کی غرض سے لے کر آئے تھے۔ اطمینان سے بولے’’ذرا نا سوچئے گا کہ میں کچھ کہوں گا۔وہ کیا کہتے تھے پرانے زمانے میں، لیجئے گوشت کھال آپ کی، ہڈ ی ہڈی ہماری…!‘‘ انھوں نے مسکراتے ہوئے بھائی جان سے کہا۔
’’مجھے بچے اپنے طریقے سے پڑھانے آتے ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں…!‘‘ بھائی جان نے کہا۔
’’مجھے آپ کے طریقہ کار پر میرا مطلب ہے کہ پڑھانے پر اعتراض نہیں، لیکن یہ نسخہ بھی اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کر لیں…!‘‘ وہ ہنس کے بولے۔
اور اپنے تینوں بچوں کوچھوڑ کے چلے گئے۔
وہ تینوں بچے بڑے لاابالی انداز میں اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ بھائی جان نے پوچھا۔’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ تینوں چپ چاپ بھائی جان کو دیکھتے رہے۔
بھائی جان نے دوبارہ پوچھا: ’ہاں تو بچو! ذرا اپنا نام تو بتائو…!‘‘
تینوں بچے خاموشی سے کھڑے رہے۔
بھائی جان نے ذرا دیر انھیں دیکھا اور بڑے تحمل سے بولے: ’’کیا آپ اپنا نام بتانا نہیں چاہتے؟‘‘
’’مگر آپ نے پوچھا کس سے ہے؟‘‘ ان میں سے ایک بچے نے پوچھا۔
’’ابا کہتے ہیں جس سے پوچھا جائے بس وہی جواب دے۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ بھائی جان نے ایک لمبی سانس لی اور بولے: ’’اچھا باری باری اپنا نام بتائیں پہلے آپ‘‘ بھائی نے پہلے بولنے والے لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔
’’میرا نام عاطف ہے…!‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’میرا نام واصف ہے…!‘‘ دوسرے نے بتایا۔
تیسرا جو ان میں سب سے چھوٹا تھا، شرمایا شرمایا سا کھڑا تھا۔ اٹکتے ہوئے بولا: ’’مم… میرا نام کاشف ہے، میں تیسری میں پڑھتا ہوں…!‘‘ اس نے نام کے ساتھ اپنی جماعت بھی بتا دی جبکہ عاطف ساتویں اور واصف پانچویں میں تھا۔

٭٭٭

ہمارا ٹیوشن سنٹر ہے۔ آپی اور بھائی جان پڑھاتے تھے۔ بھائی جان نے میتھ میں ایم ایس سی کی تھی لیکن کوئی ملازمت نہیں ملی تو بھائی جان بہت چپ چاپ رہنے لگے۔ سارا سارا دن کبھی درخواستیں بھیجنے، کبھی انٹرویو دینے میں لگ جاتا۔ مگر دو سال کے بعد نوکری کا نتیجہ صفر تھا۔ اس دوران باجی کا ایم اے بھی مکمل ہو گیا۔ انھوں نے اردو ادب میں ایم اے کیا تھا۔ انھیں ایک اسکول میں پانچ ہزار ماہانہ جاب کی آفر بھی ہوئی تھی۔ وہ تنک کر بولیں۔
’’میں تو ٹیوشن پڑھا کے ایک بچے سے چار ہزار روپے لے لوں۔ یہ مجھے مہینے بھر اور آٹھ گھنٹوں کے پانچ ہزار روپے دے رہے ہیں…!‘‘
شوبی نے کہا: ’’تو کیا ہوا۔ آپ ٹیچر بھی تو بن جائیں گی…!‘‘
’’نہیں بھئی مجھے تو مزے سے افسانے پڑھنے دو، کہانیاں پڑھوں گی اور بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر مزے سے چھ سات ہزار روپے کما لوں گی…!‘‘
ابو چائے پیتے ہوئے ان کی بات سن رہے تھے۔ انھوں نے باجی اور بھائی جان کو اپنے پاس بلایا۔ اور پاس بٹھا کے بولے: ’’ذرا ایک سوال کا جواب تو دو…!‘‘
’’جی ابو…!‘‘ بھائی جان نے ابو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ذرا یہ تو بتائو کہ تم نے تعلیم کیوں حاصل کی…؟‘‘
’’تعلیم…!‘‘ بھائی جان نے سوچتے ہوئے کہا: ’’اس لئے کہ بہتر ملازمت، بہتر زندگی گزار سکوں…!‘‘
’’اور تم؟‘‘ ابو نے باجی کی طرف دیکھا۔
’’جی ابو اسی لئے…!‘‘ باجی نے جواب دیا۔
’’پھر تو تم نے تعلیم کا صحیح مقصد حاصل نہیں کیا۔‘‘ ابو نے چائے کا خالی کپ واپس رکھتے ہوئے کہا: ’’تعلیم کا بنیادی مقصد شعور حاصل کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگی بہتر بنانا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم ہمیں معاشرے سے، حالات سے مطابقت پیدا کرنا سکھاتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہی نہیں ہے بلکہ غیر موزوں حالات میں اپنی صلاحیت کو کام میں لا کے بہتری لانا ہوتا ہے…!‘‘ ابو نے کہا اور انھیں دیکھا۔
’’کیا سمجھے؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
’’جی ابو…!‘‘ بھائی جان نے کہا۔
’’تو کیا کرو گے…؟‘‘ ابو نے پوچھا۔ باجی اور بھائی جان دونوں چپ رہے۔ ابو تھوڑی دیر انھیں دیکھتے رہے پھر مسکرائے اور بولے۔ ’’بتائو…!‘‘
’’میں نہیں جانتا…!‘‘اب بھائی جان نے صاف گوئی سے کہا۔
’’شاباش…!‘‘ ابو نے مسکرا کے کہا۔’’ جاننے کا آغاز ہی نہ جاننے کے اقرار سے ہوتا ہے۔ جو نہیں جانتے اس پر بحث کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے…!‘‘
پھر انھوں نے باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’تم اپنے بھائی سے کہہ رہی تھیں کہ تم ٹیوشن سے ہی چھ سات ہزار تو کما سکتی ہو تو ٹیوشن پڑھانا شروع کرو۔ تمھاری امی کہہ رہی تھیں کہ اوپر والا حصہ خالی پڑا ہے۔ اس لئے اس میں کرائے دار رکھ لیں کچھ آمدنی میں اضافہ ہو جائے گا۔ تم لوگ اس میں ٹیوشن سنٹر کھول لو۔‘‘
’’زبردست…!‘‘ باجی نے خوش ہو کر کہا: ’’یہ تو زبردست آئیڈیا ہے۔‘‘
ابو نے کہا: ’’زیادہ تر بچے میتھ اور اردو میں کمزور ہوتے ہیں، کچھ بچے انگریزی میں۔ تم لوگ انھیں چار پانچ مضامین پڑھائو، روزانہ دو گھنٹے، مناسب فیس رکھو، ایک گھر سے دو یا تین بچے آئیں تو فیس اور کم کر دو، پیار اور توجہ ان دو چیزوں کو اپنا ٹول بنائو، دیکھو تمھارا ٹیوشن سنٹر چل نکلے گا۔ اگر تم لوگ بیس بچے دو ہزار کے حساب سے بھی پڑھائو تو مہینے کے گھر بیٹھے چالیس ہزار…!‘‘
ابو کی صلاح بہت مناسب تھی۔
واقعی اوپر والا پورشن بالکل خالی پڑا تھا۔ کبھی کبھار کوئی مہمان آ جاتا تو اس میں رہتا تھا۔ ورنہ خالی پڑا رہتا تھا۔
ابو نے ساتھ جا کر پرانے فرنیچر مارکیٹ سے ہمیں کچھ ڈیسکس، دو بلیک بورڈ اور کچھ متعلقہ چیزیں دلوا دیں۔ اور ایک ہی دن میں دو کلاس روم تیار ہو گئے۔
باجی نے لڑکیوں اور بھائی نے لڑکوں کو پڑھانا تھا۔
شام تک دس بینر بھی ’’اقرا ٹیوشن سنٹر‘‘ کے نام سے بن کر آ گئے۔ جو میں نے، بھائی جان اور شوبی نے مل کر مختلف جگہوں پر لگا دیئے۔

٭٭٭

آئندہ تین چار دنوں میں لوگوں نے رابطہ شروع کر دیا۔ سالانہ امتحانات میں تین چار ماہ ہی رہ گئے تھے۔ اس لئے والدین اچھے ٹیوشن کی تلاش میں تھے۔ مگر بھائی نے سب سے ایک ہی شرط رکھی۔
بھائی نے ہر والدین سے یہی کہا: ’’میں آپ کے بچے کی فیس صرف پندرہ سو روپے لوں گا چاہے، بچہ کسی بھی کلاس میں ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ اگر آپ کا بچہ پہلی سے پانچویں پوزیشن میں آیا تو فیس ڈبل ہو گی ورنہ کہیں اور پڑھا لیں…‘‘
’’کیا مطلب پانچویں پوزیشن…!‘‘ ایک خاتون نے چمک کر کہا۔ ’’ہم فیس بھی دیں اور بچہ پانچویں نمبر پرآئے …!‘‘
’’دیکھیں باجی آپ کا بچہ اتنا ہی ذہین ہوتا تو آپ ٹیوشن کے لئے پریشان نہ رہتیں اور جو بچہ پہلے ہی دس نمبروں میں بھی نا آ سکے اس کو کلاس کے چالیس پچاس بچوں میں اول ہونے کی ضد کرنا خود بچے کے ساتھ زیادتی ہی نہیں حوصلہ شکنی ہے…!‘‘
’’ہاں کہہ تو صحیح رہے ہیں آپ…!‘‘ انھوں نے آہستہ سے کہا۔
یہ ایک ایسی شرط تھی کہ ہمارا خیال تھا کہ پہلے مہینے بمشکل آٹھ دس بچے ہوں گے، مگر پہلے ہی مہینے چالیس بچے مل گئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے عطا کر دی تھی۔ باجی اور بھائی تن دہی سے اپنے کام میں لگ گئے۔
پانچ ماہ کے بعد رزلٹ آیا تو تقریباً سارے ہی بچے پہلی سات پوزیشنوں کے حامل تھے۔
والدین بہت خوش تھے اور سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ سالانہ امتحانات کے بعد چھٹیوں میں بھی والدین نے نئی کلاس کی تیاری کے لئے ٹیوشن جاری رکھنے کے لئے اصرار کیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ والدین پڑھائی سے مطمئن تھے۔
ابو نے پوچھا ’’کیا خیال ملازمت ڈھونڈی جائے یا نہیں؟‘‘
’’نہیں ابو…!‘‘ بھائی جان نے کہا: ’’یہ ملازمت بھی ہے۔ عبادت بھی اور ساتھ ساتھ لوگوں کی خدمت بھی!‘‘
’’بلکہ ابو…‘‘ باجی نے کہا: ’’ہمیں تو یوں لگ رہاہے کہ ہماری تعلیم میں اضافہ ہو رہا ہے…!‘‘
ابو نے کہا: ’’جی یہی تو ہمارے باب العلم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ نے فرمایا کہ ’’علم بانٹنے سے بڑھتا ہے…!‘‘
سب مسکرا دیئے۔
تو یہ تھا ہمارے ٹیوشن سنٹر کا حال۔ اور عاطف کے ابا جو گھر کے سامنے والے گھر میں کرائے دار بن کے آئے تھے، اور اپنے تینوں بچوں کو ٹیوشن کے لئے داخل کرا گئے تھے۔
عاطف، واصف اور کاشف تینوں بچے بہت اچھے تھے۔ مگر ہم نے محسوس کیا کہ وہ ڈرے سہمے رہتے تھے۔ ذرا سی تیز آواز سے سہم جاتے اور خوف زدہ ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان سے کوئی سوال پوچھا جاتا تو وہ چپ ہو جاتے اور اگر وہی سوال انھیں لکھ کر لانے کے لئے دیا جاتا تو بالکل درست جواب لکھتے۔ مگر سنانے میں بوکھلا جاتے۔
بھائی جان نے کہا: ’’مجھے لگتا ہے کہ ان کے گھر کے ماحول میں کوئی گڑبڑ ہے…!‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے پوچھا: ’’گڑبڑ سے کیا مراد ہے آپ کی؟‘‘
’’مجھے لگتا ہے کہ ان کے والد سخت مزاج ہیں جب ہی بچوں کی یہ حالت ہے…!‘‘
’’شاید…!‘‘ میں نے کہا: ’’لیکن ہم ان کے گھر کے ماحول پر کیسے کچھ کر سکتے ہیں۔‘‘
’’مجھے بچے پسند ہیں، دیکھو کتنے سہمے رہتے ہیں، مگر ذہین بھی ہیں۔ مگر بار بار اس فٹے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں جو میز پر رکھا رہتا ہے…!‘‘ بھائی جان نے کہا۔
’’پہلے ایک ٹیچر ان کو گھر پر پڑھانے کے لئے آتے تھے…!‘‘ باجی نے بتایا: ’’ایک دن کاشف مجھے بتا رہا تھا کہ وہ ان کی فٹے سے پٹائی کرتے رہتے تھے اور ابو ان کو دیکھتے رہے تھے!‘‘
’’توبہ ہے کتنا سخت دل باپ ہے…!‘‘ امی نے کہا۔
’’تو پھر یہ تو پکا ہے کہ مسئلہ ان کے گھر میں ہے…!‘‘ بھائی نے بڑے جوش سے کہا۔
پھر معلوم ہوا ان کے ابو جنید صاحب بیمار ہیں۔ بھائی جان نے کہا ’’چلو ان کی عیادت کر آئیں اور ان کے گھر کا چکر بھی لگا لیں…!‘‘
’’چلیں…!‘‘ میں نے کہا۔ مجھے بھی بڑی کھد بُد تھی کہ اتنے اچھے بچے سہمے سہمے ڈرے ڈرے کیوں رہتے ہیں۔

٭٭٭

دوسرے دن اتوار تھا۔ ٹیوشن سنٹر چھٹی کی وجہ سے بند تھا۔ بھائی جان اور میں ان کے گھر جا پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر سے عاطف نکلا۔ ہمیں دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گیا۔
’’جج… جی کہیے…!‘‘ اس نے گھبرا کے پوچھا۔
’’بھئی ہم تمھارے ابو سے ملنے آئے ہیں۔ جا کر انھیں بتائو…!‘‘
’’کک …کیوں…‘‘ اس نے گھبرا کے پوچھا۔
’’ارے اپنے ابو کو تو جا کے بتائو…!‘‘ بھائی جان نے کہا۔ وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں ہمیں دیکھتا ہوا اندر چلا گیا۔
پھر اچانک اندر سے زور دار آواز آئی۔ ’’مجھے پتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ آج نہیں تو کل تمھاری شکایت آنا ہی آنا ہے، ذلیل کراتے ہو تم لوگ مجھے…!‘‘
’’ہم دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے کچھ بولتے، برابر کے دوسرے کمرے کا دروازہ کھلا اور واصف باہر نکلا۔
’’آیئے ابا بلا رہے ہیں…‘‘
ہم اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی جنید صاحب بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ عاطف اور کاشف ایک طرف سر جھکائے کھڑے تھے۔ اور وہ انھیں گھور رہے تھے۔
’’السلام علیکم…‘‘ ہم نے کہا۔
’’وعلیکم السلام…!‘‘ انھوں نے جواب دیا اور پاس کھڑے لڑکوں کی طرف دیکھ کر بولے: ’’کرسی آگے نہیں کھسکا سکتے۔ تمھارے ماسٹر آئے ہیں ذرا تمیز نہیں…!‘‘
’’جج … جی…!‘‘ عاطف اور واصف نے جلدی سے بڑھ کر کرسیاں آگے کیں۔
ہم دونوں بیٹھ گئے۔
عاطف کے ابا نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ آپ ان کو اچھی طرح کوٹ کر رکھیے گا، ذلیل کرا دیا باپ کو۔ نہ پڑھنے کے، نہ لکھنے کے، بس کیا بتائوں…!‘‘ وہ بلاتکان بولے چلے جا رہے تھے۔ ان کی سانس پھول گئی۔
لگتا تھا کہ وہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔
’’اب شکل کیا دیکھ رہے ہو…! کچھ چائے پانی لائو…!‘‘ انھوں نے کہا۔ تینوں بچے یہ سنتے ہی اندر کے دروازے کی طرف تیزی سے لپک گئے۔ جیسے نجات کے ہی منتظر ہوں۔
’’ہاں تو بتایئے کیا حرکتیں کی ہیں انھوں نے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں…!‘‘ بھائی جان نے اطمینان سے کہا۔
میں نے دیکھا کہ وہ تینوں دروازے کی درز سے جھانک رہے تھے۔
’’کیا مطلب؟‘‘ جنید صاحب نے حیرت سے کہا۔
’’مطلب یہ کہ آپ کے بچے تو بہت اچھے ہیں۔ ‘‘ بھائی جان نے کہا: ’’انھوں نے تو ہمیں شکایت کا کوئی موقع نہیں دیا۔ بلکہ اب تو اچھا پڑھنے لگے ہیں…!‘‘
’’اچھا بھئی…!‘‘ عاطف کے ابا نے حیرت سے کہا۔’’ آپ تو پہلے لوگ ہو جو ان کی تعریف کر رہے ہو۔ ورنہ تو یہ ایک نمبر کے ہڈ حرام ہیں…!‘‘ انھوں نے قدرے غصیلے انداز میں کہا۔
’’نہیں ایسی بات نہیں!‘‘ بھائی جان نے نرمی سے کہا: ’’ہم تو آپ کی مزاج پرسی کے لئے آئے تھے۔ کاشف نے بتایا تھا کہ آپ کی طبعیت خراب ہے…!‘‘
’’ہاں ایک تو بخار تھا اوپر سے بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔‘‘ جنید صاحب نے کہا۔ اتنے میں عاطف ایک ٹرے لے کر اندر داخل ہوا۔ جس میں چائے تھی۔
’’ارے گدھو…!‘‘ جنید صاحب بولے: ’’کب تمیز سیکھو گے، چائے لا کے پٹخ دی، پہلے پانی پیش کرتے ہیں…!‘‘
’’جی ابا…!‘‘ وہ جلدی سے ٹرے رکھ کر اندر چلا گیا۔
جنید صاحب پھر چیخے: ’’ارے یہ واصف کہاں مر گیا۔ گدھا کہیں کا کب سے بولا ہے کہ ایک گلاس پانی لے آئو۔ دوا کھانی ہے مگر یہ خبیث سنتے ہی نہیں…!‘‘
فوراً ہی واصف پانی کا گلاس لے کر اندر داخل ہوا۔ اور ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ جنید صاحب نے گلاس لیا۔
میں نے دیکھا کہ واصف کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
’’اب یہ کیا ہو گیا، رعشہ ہو گیا ہے تجھے؟‘‘ انھوں نے اس کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی ایک مشہور جانور سے اس کا تعلق جوڑ دیا۔
واصف نے شرمندہ نگاہوں سے ہمیں دیکھاا اور جلدی سے واپس چلا گیا۔
اتنے میں عاطف پانی او ر بسکٹ لے کر اندر داخل ہوا۔ اور ٹرے کے ساتھ ہی میز پر رکھ دیئے۔
’’اتنی دیر، برف کر دی ہو گی چائے جا گرم کروا کے لا…!‘‘ انھوں نے کہا۔ حالانکہ چائے لائے ہوئے ذرا سی دیر نہیں گزری تھی۔
بھائی جان نے کہا: ’’بس رہنے دو۔ چائے ابھی گرم ہے۔ اور میں ویسے بھی زیادہ گرم چائے نہیں پیتا…!‘‘
’’چلو جائو سب کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔
انھوں نے کہا: ’’اور سنائیں بچے تنگ تو نہیں کرتے؟‘‘
’’بالکل نہیں…!‘‘ بھائی جان نے کہا۔ بچے تو بہت تمیز کے ہیں…!‘‘
’’ہاںجی۔ بزرگ کہتے ہیں کہ کھلائو سونے کا نوالہ ، مگر دیکھو شیر کی نگاہ سے۔‘‘
انھوں نے اطمینان سے کہا: ’’میں تو ان کو تیر کی طرف سیدھا رکھتا ہوں…!‘‘
’’جی صحیح کہتے ہیں آپ۔‘‘ بھائی جان نے کہا: ’’ویسے کیا کبھی آپ نے نیشنل جیو گرافک چینل پر شیر کی ڈاکومنٹری دیکھی ہے۔!‘‘
’’ہیں …جی…؟‘‘ وہ چونک کر بولے: ’’بھلا میں اس عمر میں ٹی وی دیکھوں گا؟‘‘
’’تو اس میں کیا حرج ہے…!‘‘ بھائی جان نے اطمینان سے کہا: ’’کبھی دیکھئے گا، تاکہ پتہ چلے کہ جانور بلی، کتے، بندر ، شیر اپنے بچوں کو کیسے پالتے ہیں۔ مجھے تو بہت اچھے لگتے ہیں۔ معلومات میں اضافہ ہوتا ہے…!‘‘
’’اچھا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولے۔
ہم نے چائے ختم کی ۔ ان کی صحت کے متعلق دو چار باتیں کیں اور چلے آئے۔ بھائی جان نے واپسی میں کوئی بات نہیں کی۔
البتہ دوسرے دن ہم نے دیکھا کہ تینوں بچے بہت خوش تھے۔ میں نے واصف سے پوچھا۔
’’تم لوگ کیا سمجھے تھے کہ ہم لوگ تمہاری کوئی شکایت لے کر آئے ہیں؟‘‘
’’ہاں…!‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’ہم تو بہت ڈر گئے تھے۔ پہلے ٹیچر ہماری شکایت کرتے تھے۔ پہلے وہ پیٹا کرتے تھے پھر ابا ہمیں کوٹتے تھے…!‘‘ واصف نے بتایا۔
’’پریشان نا ہو ، تمھارے ابا بہت اچھے ہیں…!‘‘ بھائی جان نے پیا رسے کہا۔ وہ تینوں اس بات پر حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔

٭٭٭

چند دنوں کے بعد عید میلاد النبیؐ کی گہما گہمی شروع ہو گئی۔ ہم نے اس مرتبہ بڑا اہتمام کیا تھا۔ ٹیوشن میں آنے والے تمام ہی بچے پرجوش تھے۔ اس مرتبہ محلے کی میلاد کمیٹی جس کے ہم سب ممبر تھے، نے فیصلہ کیا کہ نعتیہ مقابلے کے ساتھ ساتھ تقریری مقابلہ بھی رکھا جائے اور تقریر کا موضوع تھا ’’بچوں سے شفقت، اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں…!‘‘
’’یہ موضوع کیوں چنا آپ نے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بس تم دیکھنا…!‘‘ بھائی نے ہنس کے کہا۔ ’’آج ہم اس کی دعوت دینے چلیں گے جنید صاحب کو…!‘‘
شام کو ہم لوگ جنید صاحب سے ملنے پہنچے۔ وہ محفل میلاد کا سن کر بہت خوش ہوئے۔ بولے۔
’’یہ بتائو کہ میرے لئے کیا خدمت ہے، لائٹنگ کا، مٹھائی کا، شامیانے قنات، بچوں کے انعامات، کیا کرنا ہے؟‘‘
ہم نے حیرت سے انھیں دیکھا۔ وہ بہت پرجوش ہو رہے تھے۔ پھر وہ اچانک اٹھے اور دیوار سے ٹنگی واسکٹ سے بٹوہ نکالا۔ اور پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ نکال کے بھائی جان کے ہاتھ پر رکھے اور بولے: ’’میرے سرکار ؐکے لئے سب کچھ قربان۔ یہ لو۔ اور اگر پھر بھی کم پڑیں تو مجھے بتانا، میں حاضر ہوں…!‘‘
ہم ان کا یہ انداز اور جذبہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ ان کی محبت اور چاہت نے ہماری آنکھیں نم کر دیں۔
بھائی جان نے کہا: ’’جنید صاحب! آپ اپنے پیارے نبی سے اتنی محبت کرتے ہیں۔ اتنا پیار کرتے ہیں…!‘‘
’’اور کیا…!‘‘ انھوں نے عقیدت اور محبت سے بھرپور لہجے میں کہا: ’’میرے تو خون کا ایک ایک قطرہ ان پر نچھاور ہے!‘‘
’’بڑی سعادت کی بات ہے…!‘‘ بھائی جان نے کہا: ’’ایک بات پوچھوں…؟‘‘
’’کہو کہو…!‘‘ وہ جلدی سے بولے۔ ’’مزید پیسے چاہئیں…؟‘‘
بھائی بولے: ’’اگر وہ آج آپ سے ملیں اور کوئی حکم کریں تو آپ کیا کریں گے؟‘‘
’’ارے کیا کہہ رہے ہو بھائی؟‘‘ وہ کرسی سے اٹھ کے کھڑے ہو گئے: ’’ہماری اتنی اوقات اتنے نصیب کہاں کہ وہ ہم جیسے گناہگاروں سے ملیں اور براہ راست حکم کریں۔ اللہ کی قسم میں تو انھیں دیکھتے ہی ان کے قدموں میں گر کے ان کے قدموں کے بوسے لوں گا مگر بھیا ہمارے ایسے نصیب کہاں؟‘‘ وہ فرطِ عقیدت سے بولے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
بھائی جان نے کہا: ’’حضور سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نواسوں سے بڑی محبت فرماتے تھے۔ ان کو کندھوں پر بٹھا لیتے تھے۔ اگر وہ کچھ فرماتے تو بڑی شفقت سے محبت سے اس کو پورا کرتے۔ آپ اتنے کریم ہیں اپنے غلام سے بھی کبھی سخت لہجے میں بات تک نہ کی…!‘‘
’’بالکل … بالکل…!‘‘ وہ سر ہلا کے بولے۔ ’’سرکارؐ کی کیا بات ہے…!‘‘
’’تو پھر آپ بھی اپنے سرکار ؐ کو تحفہ دیجئے…!‘‘
’’ایں کیا…؟‘‘ وہ چونک کے بولے۔
’’کیوں آپ تحفہ دینا نہیں چاہتے؟‘‘ بھائی جان نے پوچھا۔
’’بالکل … بالکل مگر کیسے؟‘‘
رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ ’’غصہ ایمان کو ایسے خراب کر دیتا ہے جیسے ایلوا شہد کو خراب کر دیتا ہے۔اور یہ کہ مومن لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا اور نا فحش گو اور بد کلام ہوتا ہے۔‘‘
’’آپ کے غصے اور ہر وقت کے لعن طعن سے گالیوں سے بچوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ بہت اچھے ہیں مگر آپ سے اتنے خوف زدہ رہتے ہیں کہ آپ کو گھبرا کر کسی بات کا درست جواب نہیں دے پاتے۔ آپ اگر سرکارؐ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر سب سے پہلے اپنے گھر اپنے بچوں سے شروع کردیجئے۔ یہ کیسی محبت ہے کہ جن سے محبت کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا عزم کر رہے ہیں اس کی کسی بات پر عمل ہی نہیں؟‘‘ بھائی جان نے کہا اور چپ ہو گئے۔
میں نے دیکھا۔ دروازے کی درز سے حسبِ معمول بچے جھانک رہے تھے۔
جنید صاحب اچانک بجلی کی تیزی سے آگے بڑھے اور دروازہ کھول دیا۔ اچانک دروازہ کھلنے سے بچے ڈر کے پیچھے ہٹ گئے اور خوف زدہ نگاہوں سے انھیں دیکھنے لگے۔
انھیں یقین ہو گیا کہ بس اب گالیاں اور جوتے پڑنے والے ہیں۔
مگر جنید صاحب نے نرمی سے کہا: ’’آئو بچو! میرے پاس آئو…!‘‘
’’جی ابا…!‘‘ وہ تینوں آہستہ قدموں سے اندر آ گئے۔
’’مجھے معاف کر دو…!‘‘ انھوں نے تینوں بچوں کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ’’مجھے آج احساس ہوا کہ میں جس رحمت اللعالمین ؐکا کلمہ پڑھتا ہوں ان کا اصل پیغام، ان سے اصل محبت ، نرمی اور پیار ہے…!‘‘
وہ بچوں کے سر پر منہ رکھ کے رونے لگے۔
ہم اور بھائی جان مسکرانے لگے۔ مسکرا تو عاطف، واصف اور کاشف بھی رہے تھے آنسو بھری آنکھوںسے…!

٭…٭

کہانی پر تبصرہ کیجئے، انعام پائیے

کاوش صدیقی کے مداحو ! تیار ہو جاؤ ایک زبردست مقابلے کیلئے۔
کتاب دوست لے کر آرہا ہے ایک اور زبردست خبر ! کاوش صدیقی صاحب نے روشنائی ڈوٹ کوم پر اگست کے پورے مہینے کہانیاں لکھنے کی زبردست خبر سنائی تو کتاب دوست نے اس کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے آپ لوگوں کے لئے ایک زبردست مقابلے کا آغاز کرنے کا سوچا۔
☆ تو لیجئے کتاب دوست کی جانب سے ایک اور اعلان ہو رہاہے۔ وزٹ کیجئے روشنائی ڈوٹ کوم roshnai.com  پر اور پڑھئے کاوش صدیقی کی روزانہ ایک کہانی۔ اس پر اپنا بھرپور تبصرہ کیجئے اور جیتیے مندرجہ ذیل کیش انعامات مع کتاب دوست کی اعزازی سند کے۔
★ پہلا انعام : 1500 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ دوسرا انعام : 1000 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
★ تیسرا انعام : 700 روپے + کتاب دوست اعزازی سند
نوٹ: 31 اگست یعنی آخری کہانی تک کا وقت مقررہ ہے۔ یعنی آخری دن۔
جتنے زیادہ تبصرے ہوں گے اتنے جیتنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔
☆ ایک قاری کی طرف سے ایک کہانی پر ایک تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔
☆ تبصرہ ہر کہانی کے آخر میں کمنٹس باکس میں کرنا ہے اور اسے یہاں اس پوسٹ میں بھی کمنٹ کرنا ہے۔
☆ تبصرہ کم ازکم 300 الفاظ ہوں اس سے کم الفاظ کو صرف کمنٹ تصور کیا جائے گا۔ مقابلے میں شامل نہیں ہوگا۔
☆ ججمنٹ کے فرائض Shahzad Bashir – Author انجام دیں گے اور نتائج کا اعلان 6 ستمبر بروز “یومِ دفاع” کیا جائے گا۔
Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top