skip to Main Content

کٹھ پُتلا

حمیدہ اختر حسین رائے پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔

جمن خاں کو ایک لکڑی کا ٹکڑا ملتا ہے جو بچوں کی طرح ہنستا اور بولتا ہے۔
ایک تھا لکڑی کا ٹکڑا۔ کوئی خاص بات نہ تھی اس لکڑی کے ٹکڑے میں بہت معمولی سا تھا بس بالکل ایسا ہی تھا جو ہم تم چولہے یا انگیٹھی میں جلاتے ہیں۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں یہ لکڑی کا ٹکڑا جمن بڑھئی کی دوکان میں آیا تو کیسے آیا۔ جمن کی نظر جیسے ہی لکڑی کے ٹکڑے پر پڑی وہ خوش ہوگیا۔ خوب وقت پر مجھے یہ ملا۔ میز کا ایک پایہ تو اس سے اچھی طرح بنالوں گا۔
جلدی سے اٹھا۔ تیز سا رندا اٹھا لایا کہ پہلے لکڑی پر رندا کرکے صاف اور چکنا کرلے۔ پھر میز کے پائے کی شکل کا بنائے۔ جیسے ہی اس نے رندہ لکڑی پر چلانے کا ارادہ کیا ،اس کا ہاتھ رک گیا۔ جمن کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مدھم آواز سے کہہ رہا ہو:
” د یکھنا زور سے رندا مجھ پر نہ چلا د ینا۔“
بچو! سوچو تو سہی جمن یہ سن کر کتنا حیران ہوا ہوگا۔ اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ آخر یہ آواز کہاں سے آئی۔ مگر کوئی بھی تو د کھائی نہ دیا۔ اپنی چوکی کے نیچے د یکھا۔ وہ الماری جس کو وہ ہمیشہ بند رکھتا تھا، اس میں بھی دیکھ ڈالا۔ کوئی ہو تو نظر آئے۔ آخر اس نے کوڑے کی ٹوکری میں بھی جھا نک کر د یکھا ۔دروازہ کھول کر باہر گلی میں د یکھا کہ وہاں تو کوئی نہیں کھڑا۔ کوئی بھی تو نہیں ہے ،پھر بات کیا ہے؟ داڑھی کھجا کر ہنسا اور اپنے آپ سے بولا ،”ہو نہ ہو میرے کان بج رہے ہوں گے۔ میاں جمن کام کرو کام۔“
پھر لکڑی کے ٹکڑے پر گھِسّا مارنے ہی کو تھا کہ آواز آئی:”ہائے تم تو مجھے دکھ دے رہے ہو۔“
اب تو جیسے جمن پر بجلی گر پڑی۔ ڈر کے مارے آنکھیں پھٹ پڑیں اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور زبان باہر کو لٹک گئی۔ جب ذرا ہوش درست ہوئے تو بولا:” لیکن یہ آواز کہاں سے آرہی ہے؟ یہاں تو چِڑیا کا بچّہ تک نہیں ۔ایسا تو نہیں یہ لکڑی کا ٹکڑا ہی بچے کی طرح بول رہا ہو ،پر کیسے یقین کروں ؟ارے یہ تو آخر ایک جلانے والی لکڑی کا ٹکڑا ہی تو ہے اور کون ہے۔ ارے اس میں کوئی چھپ کر تو نہیں بیٹھا ہوا۔ اگر یہ ہے تو دیکھ کیسا مزا چکھاتا ہوں۔ “
یہ کہتے ہی لکڑی کے ٹکڑے کو ہاتھ سے پکڑ کر دیوار میں دے مارا ۔پھر تھوڑی دیر کو رکا اور کان لگا کر سنا۔ دو چار منٹ گزر گئے لیکن کوئی بھی نہیں بولا ۔اپنے آپ پر اسے بے تحاشا ہنسی آئی۔ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا :”یہ سب میرا خیال ہی تھا۔ بَس اب کام شروع کرو۔“
اپنے ڈر کو کم کرنے کے لیے وہ گنگنانے لگا۔ رندہ تو ایک طرف رکھ دیا اور ریگ مال لے کر لکڑی کو گھِسنا شروع کیا تو وہی آواز ہنستی ہوئی سنائی دی:” چھوڑو ،چھوڑو مجھے گد گداﺅ نہیں ۔“
اب تو جمن میاں پیچھے کو یوں دھڑ سے گرے جیسے کسی نے پہاڑ پر سے دھکیل دیا ہو۔ تھوڑی دیر بعد ہلکے ہلکے آنکھ کھو لی۔ جمن کا چہرہ مارے خوف کے پیلا پڑ چکا تھا۔

۔۔۔۔۲۔۔۔۔

ج±من خان اپنے دوست عیدو کو وہ لکڑی کا ٹکڑا دے دیتا ہے۔ عیدو اس لکڑی سے ایک کٹھ پتلا بناتا ہے جو اچھلتا کود تا قلا بازیاں کھاتا ہے۔
اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی ۔جمن کا اب تک ڈر کے مارے برا حال تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔ ایک چھوٹے قد کا مسخرا سا آدمی داخل ہوا۔ نام تو اس کا عیدو تھا۔ مگر بچے اس کو اکثر چھیڑنے کو” پُلپُلی خان“ کہہ دیا کرتے تھے۔ بات دراصل یہ تھی کہ عیدو کا حلیہ تھا ہی کچھ عجیب ڈھیلا ڈھالاسا ۔عیدو میاں مزاج کے بڑے تیز تھے۔ جہاں کسی نے ان کو پلپلی خان کہا، بس آگ بگولا ہو جاتے ۔ ہاتھ میں ڈ نڈا تھام پیچھے لگ جا تے۔
عیدو نے سلام کر کے جمن سے پوچھا :”کیا کر رہے ہو؟“
” آجکل بس کچھ نہیں، مکھیاں مار رہا ہوں۔“
” یہ تو کوئی دلچسپ کام نہ ہوا ۔“
”اور عیدو تم بتاﺅ کیسے آنا ہوا۔“
” آتا کیسے اپنے پاﺅں سے چل کرآیا ہوں۔ مگر تم کو خبر بھی ہے اس وقت میں تمہارے ہاں اپنے کام سے آیا ہوں۔“ اس نے اُٹھتے اُٹھتے عیدو سے کہا،” مجھے آج بہت دور کی سوجھی ہے۔“
” وہ کیا؟“
” میں نے یہ طے کیا ہے کہ کسی اچھی سی لکڑی کا کٹھ پتلا بناﺅں اور اس ہوشیاری سے بناﺅں کہ وہ اچھلے کو دے ناچے اور قلا بازیاں بھی لگا سکے۔ پھر میں اس کٹھ پتلے کو لے کر ساری دنیا کی سیر کو نکل جاﺅں اور اس کے کرتب تماشے دکھا کر اپنی روزی کماﺅں۔ کہو کیسی رائے ہے؟“
” شاباش، شاباش پلپلی میاں۔“ پھر وہی آواز سنائی دی۔
عیدو نے جو سنا کہ کوئی اس کو پلپلی کہہ کر آواز دے رہا ہے تو مارے غصّہ کے لال پیلا ہوکر جمن پر پل پڑا۔ اور کہنے لگا:” تمہاری یہ مجال کہ تم مجھے چھیڑو۔ میرا نام دھرو؟ “
”ارے میاں تمہیں کون کچھ کہہ سن رہا ہے؟“
” ہاں تم کہہ رہے ہو۔ تمہی نے ابھی ابھی مجھے پلپلی میاں کہا۔“
”ہر گز نہیں، میں نے کچھ بھی تو نہیں کہا۔“ جمن چیخ کر بولا ۔
”تم نے نہیں کہا تھا تو میں بولا تھا؟“
” میں کیسے مان جاﺅں کہ میں نے تمہیں کچھ کہا ہے۔“
عیدو کہنے لگا:” میں ہزار بار یہی کہوں گا کہ تم نے کہا، تم نے کہا مجھے پلپلی خان ۔“
زبانی جھک جھک کرتے دونوں ہاتھا پائی پر اتر آئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ عیدو کے ہاتھ میں جمن کی داڑھی اور جمن کے ہاتھ میں عیدو کی مونچھیں۔ کچھ دیرکی گتھم گتھا کے بعد دونوں کے ہوش ٹھکانے آئے تو ایک دوسرے کے گلے لگ کر وعدے کیے کہ اب زندگی بھر نہیں لڑیں گے۔ جمن نے عیدو سے پھر پوچھا:” بتاﺅ تو سہی تمہیں کیا چیز چا ہیے تھی؟“
” اگر ایک لکڑی کا ٹکڑا کٹھ پتلا بنانے کے لے مجھے دے دو تو تمہاری بڑی مہربانی ہوگی۔ “
جمن یہ سن کر بڑا خوش ہوا کہ عیدو پر احسان کا احسان ہو جائے گا اور اس کی جان اس لکڑی سے بھی چھوٹ جائے گی۔ جو ڈرا ڈرا کر دم ہی نکال دیتی ہے۔ جمن نے لکڑی کے ٹکڑے کو اُٹھا کر عیدو کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ وہ خود بخود زور لگا کر ہاتھ سے نکل عیدو کے پاﺅں پر جا گرا۔
” خوب ،تحفہ یوں ہی دیا جاتا ہے نا ؟ وہ تو کہو پیر کی ہڈی نہ ٹوٹ گئی۔“
” خدا کی قسم میں نے لکڑی تم پر نہیں پھینکی۔“
” تو کیا میں نے خود ہی اپنے پاﺅں پر لکڑی دے ماری؟“
” نہ یہ نہ وہ۔ سارا قصور اس کمبخت لکڑی کا ہے۔“ جمن نے کہا ۔
”میرے پیر پر چوٹ لکڑی سے لگی پر پھینکی تو تم نے ہی۔“
” میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے نہیں پھینکی۔“
” جھوٹے کہیں کے۔ “عیدو غصہ سے بولا۔
” دیکھو اگر تم یونہی مجھ کو جھوٹا سچّا کہتے رہے تو میں بھی تم کو پلپلی خان کہوں گا۔“
”بد معاش،گدھے،بندر۔“
”پلپلی۔۔۔“
اب جو تیسری بار جمن نے عیدو کو پلپلی کہا تو عیدو آگ بگولا ہوکر جمن پر پل پڑا۔ لڑائی کا دوسرا میدان پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر تھا۔ اللہ اللہ کر کے لڑائی، مارپیٹ کے بعد ختم ہوئی مگر دونوں ہی زخمی ہوگیے تھے۔ عیدو نے اٹھ کر جمن سے ہاتھ ملایا۔ پھر وعدے ہوئے کہ دونوں کبھی بھی آپس میں لڑائی نہیں کریں گے۔ لکڑی کے ٹکڑے کو اٹھا اپنے گھر کو چل دیا۔

۔۔۔۔۳۔۔۔۔

کٹھ پتلا بن کر تیار ہوجاتا ہے۔
عیدو کٹھ پتلے کو بڑے پیاروفخر سے د یکھتا ہے کہ واہ کیا کمال کی چیز اس نے بنا ڈالی۔ بڑے پیار سے کٹھ پتلے کو بلاتا ہے:” آجا میرے بیٹے، ذرا چین و سکون سے بیٹھ کر میری بات سن۔“
کٹھ پتلا ڈگمگ ڈگمگ کرتاکھٹ کھٹ چلتا عیدو کے پاس آکر اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اپنی لمبی سی ناک والا منہ اوپر کر کے پوچھتا ہے:” ابّا جان! یہ تو بتائیں کہ میری ناک اتنی لمبی کیوں ہے؟ میرا نام کیا ہے؟ اور مجھے سارا دن کیا کام کرنا ہے ؟ بس پڑھنے لکھنے کا نام نہ لیجیے گا۔ پڑھائی میں میرا دل نہیں لگتا۔ اس کے علاوہ آپ جو کام کہیں گے وہ میں کرنے کو تیار ہوں۔اگر میں بےکار بیٹھا رہا تو شرارتیں کر کے آپ کو تنگ کروں گا۔“
پتلے کی بات سن کر عیدو بہت خوش ہوا۔ اس کو جھک کر پیار کیا اور بولا:” بھئی پہلے تو تم اپنا نام سنو۔ میرے ذہن میں ایک نام ”دھمکی“ ہے کہ تم چلتے وقت دھم دھم کی آواز کرتے ہو۔ دوسرا ”نکو“ اس لئے کہ تمہاری ناک بہت لمبی ہے۔ بتاؤ تم کون سا نام پسند ہے؟“
کٹھ پتلا تالیاں بجا کر کہنے لگا :”بابا نکو نام خوب رہے گا۔“
عیدو نے کہا:” بیٹے آج سے یہ گھر تمہارا ہے ۔اس کی د یکھ بھال تمہارے ذمہ ہے۔ یوں مجھے گھر سے بے فکری ہوجائے گی۔ کام پر وقت ذیادہ دے سکوں گا۔ میں بڑا غریب آدمی ہوں۔ کام زیادہ کروں گا تو چار پیسے زیادہ ہاتھ آئین گے، تو تم کو اچھا کھانا دے سکوں گا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس پہنا سکوں گا۔ تھوڑے بڑے ہو جاؤ گے تو اسکول پڑھنے جاؤ گے۔ پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بنو گے۔ اپنا، میرا اور وطن کا نام روشن کرو گے۔ خود خوش رہو گے اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکو گے۔“
یہ باتیں سن کر عیدو کی گود سے اچھل کر نیچے اترا۔ چہک کر کہنے لگا: ”بابا جان! یہ پڑھنا لکھنا تو بعد میں ہوگا۔ پہلے ہم ڈھیر ساری دولت جمع کرلیں۔ میری بات مان کرمیرے ساتھ شہر کے بازار چلو۔ تم ایک طرف بیٹھ جانا۔ میں اپنے کرتب دکھاؤں گا۔ لوگ میرا تماشا دیکھ کر دھڑا دھڑ پیسوں کی بارش کریں گے اور آپ ان کو سمیٹ جمع کرتے جائیں۔ “
عیدو میاں بڑے خوش بھی تھے اور حیران بھی کہ کوئی ایسی ترکیب بھی ہوسکتی ہے کہ بغیر محنت کئے ڈھیر سی دولت ہاتھ آجائے۔ دوسرے دن صبح دونوں نے روکھی سوکھی روٹی کھا کر پانی پیا اور اللہ کا شکر کر کے گھر سے نکلے۔ چلتے گئے چلتے گئے ۔جہاں تھک جاتے گھڑی دو گھڑی آرام کرتے اور پھر چل پڑتے۔ آخر چلتے چلتے وہ دونوں شہر کے بازار میں پہنچ گئے۔ نکو میاں نے بازار میں جہاں کافی بھیڑ تھی عیدو کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑایا اور لوگوں کے درمیان یہ گانا گانا شروع کیا:

”میں تھا اِک لکڑی کا ٹکڑا
بابا نے بنایا مجھ کو اِک لڑکا
پاؤں ہیں میرے گز بھر لمبے
ہاتھ ہیں میرے چھوٹے چھوٹے
ناک میری پتلی لمبی اور نوکیلی
رنگت پیلی ہلدی جیسی
دمڑی پیسہ پاس نہیں
تن پر میرے ٹاٹ نہیں“

یہ گاتے گاتے قلابازیاں کھا نے لگا اور اچانک اچھل کر ایک موٹے دنبے جیسے آدمی کے کاندھے پر چڑھ بیٹھا۔ گنجے سر پر ہاتھ سے کھٹ کھٹ طبلہ سا بجا کرکہتا جائے :

”جلدی دے دے سارا مال
ورنہ گر جائے گا سرکا ہر بال“

اس آدمی نے گھبرا کر جھٹ اپنا بٹوہ نکال نکو میاں کے حوالے کر دیا۔ نکو میاں نے وہ بٹوہ دور بیٹھے عیدو کی طرف اچھال دیا۔ کچھ دیر بعد نکو میاں ایک اور صاحب کی داڑھی پکڑ کر جھولا جھولنے لگے اور گانے لگے :

”جیب میں جو کچھ ہے دیتے جاؤ
خاموشی سے آگے کو بڑھتے جاؤ“

اس بیچار نے مارے خوف کے بٹوہ نکال کر نکو میاں کو دے دیا۔ دھم دھم کرتا داڑھی کو چھوڑ نیچے اتر کر عیدو کے پاس پہنچ کر بولا:” چلو بابا گھر چلتے ہیں۔ آج کا کام ختم ہوا۔ اب کل د یکھا جائے گا۔“
رستہ بھر عیدو خاموش رہا۔ نکو نے دکانوں سے مٹھا ئیاں، پھل، بسکٹ،کیک وغیرہ خریدے اور تھیلیاں ہاتھوں میں تھام چلنے لگا اور یہ گاتا جائے :

”آؤ د یکھو میرا کما ل
لایا ہوں کیک ،بسکٹ اورکیا کیا مال“

عیدو بابا پیڑھے پر جمے بیٹھے رہے اور آگے بڑھ کر کسی چیز کو بھی ہاتھ نہ لگایا۔ نکو میاں نے حیران ہوکر پوچھا:” بابا آپ کچھ کھاتے کیوں نہیں؟“
”نکو میاں میری بات غور سے سنو۔ میں نے زندگی بھر محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔ جو دو چار پیسے ملے اس سے اپنا پیٹ بھرا۔ یہ جس طریقے سے تم نے لوٹ کھسوٹ کر کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لوگوں کی جیبیں خالی کروا کریہ سب کچھ جو تم نے خریدا ہے ،میں تو ہرگز ایسی چیزیں کھا کر گناہ گار نہ ہوںگا۔ اللہ میاں کے پاس کس منہ سے جاؤں گا؟ میری مانو تو بیٹا یہ سب چیزیں غریبوں اور محتاجوں کو دے آؤ۔ گھر میں جو حق حلال کی روکھی سوکھی ہے، کھا لیں گے۔ کل سے ہم دونوں کام پر نکلیں گے۔ محنت سے جو پیسے ملیں گے، ان سے کھانا کھا ئیں گے۔ اگر تم میری بات نہ مانو گے تو یہ گھر تمہیں دے کرمیں کہیں اور چلا جاؤں گا۔“
یہ سنتے ہی نکو میاں اس خیال سے ڈر گئے کہ اگر بابا مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میرا کیا بنے گا؟ نکو میاں نے رات بھر توبہ کی اور دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ اِن کو انسانوں جیسا کردے۔ اب صبح جو اٹھے تو بھئی کیا د یکھتے ہیں کہ وہ واقعی سچ مچ کے ایک دس سال کے لڑکے بن چکے ہیں۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top