skip to Main Content

جُحا اور قاضی

مصنف: شوقی حسن

ترجمہ: محمد فیصل علی

۔۔۔۔۔۔

ایک بار شہر کا قاضی بیمار پڑ گیا۔ بادشاہ نے قاضی کی شفایابی تک ایک نئے آدمی کو قاضی بنا دیا۔ یہ نیا شخص انصاف پسند نہ تھا۔ایک دن جحا کا سابقہ نئے قاضی سے پڑ گیا۔ہوا کچھ یوں کہ جحا بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک کسی نے اسے ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا۔ساتھ ہی کوئی زور زور سے ہنسا بھی۔جحا غصے سے پلٹا اور تھپڑ مارنے والے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا:
”تم نے مجھے کیوں مارا؟“جحا دھاڑا۔
”معاف کیجیے جناب، مجھ سے غلطی ہو گئی، میں سمجھا آپ میرے دوست ہیں۔“وہ آدمی منمنایا۔
”ہرگز نہیں، چلو قاضی کے پاس۔“جحا نے غصے سے کہا اور اسے گھسیٹتا ہوا قاضی کے پاس لے گیا۔اتفاق سے وہ شخص قاضی کا دوست تھا۔
قاضی نے جحا کی شکایت سنی اور فیصلہ سنایا کہ جحا اپنا بدلہ لے۔ جحا نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا۔ تب قاضی نے کہا:
”عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ جحا کو دس دراھم دیے جائیں۔“
اس پہ جحا خوش ہو گیا۔قاضی نے اس شخص کو درھم لانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی آنکھ سے اشارہ کر دیا۔جحا بھانپ گیا کہ قاضی اس شخص کو بھگا رہا ہے لیکن وہ خاموش رہا۔وہ شخص چلا گیا اور قاضی بھی اپنے کاموں میں لگ گیا۔جحا بیٹھا انتظار کرتا رہا اور غصے میں جلتا رہا۔ جب کافی دیر ہو گئی تو وہ اٹھا اور قاضی کے ارد گرد منڈلانے لگا۔ اب بھی قاضی اطمینان سے بیٹھا رہا۔تب جحا نے ایک زوردار تھپڑ قاضی کو دے مارااور بولا:
”قاضی صاحب،دراصل میں نے کہیں کام پہ جانا ہے اور میں مزید انتظار نہیں کر سکتا،لہٰذا وہ دس دراھم آپ رکھ لیجیے گا، چلتا ہوں۔“
جحا یہ کہہ کر چلتا بنا اور قاضی بے چارہ اپنی گردن سہلاتا رہ گیا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top