skip to Main Content

کھیر بہت مہنگی پڑی

میرزا ادیب
۔۔۔۔۔

شبنم نے دوسری بار اپنے سارے کمرے کی تلاشی لی۔ایک ایک الماری کو کھولا،اس کی تمام چیزوں کو باہر نکال نکال کر دیکھا،میز کی ایک ایک دراز کو خوب اچھی طرح دیکھا،اس کے علاوہ جہاں جہاں اور جس جس جگہ پر اسے شک ہوسکتا تھا کہ وہاں اس نے ڈیٹ شیٹ رکھ دی ہوگی،وہاں بھی نظر ڈالی مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی۔نہ جانے وہ اسے کہا ں رکھ کر بھول گئی تھی۔
اس کے بھائی ناصر نے اسے اس پریشانی کے عالم میں دیکھا تو کہنے لگا،” باجی! ہوا کیا ہے؟اس قدر پریشان کیوں ہیں؟“
”کیا کروں ناصر! وہ کم بخت ڈیٹ شیٹ ملتی ہی نہیں۔“
”میں بھی ڈھونڈوں باجی؟“
”کیا ڈھونڈو گے۔ ہرہر جگہ ڈھونڈ چکی ہوں۔ یہاں نہیں ہے۔خبر نہیں عاصمہ کے گھر گئی تھی، وہاں بھول آئی ہوں یا رکشے میں رہ گئی ہے۔“ شبنم تھک کر کرسی میں گر پڑی۔
”ڈیٹ شیٹ بہت ضروری ہے؟“
”ضروری کیوں نہیں، بغیر اس کے کیا پتا چل سکتا ہے کہ کس دن کس مضمون کا پرچہ ہے اور کتنے بجے ہے۔“
”اچھا باجی!“
”اور کیاہاں سنو! عاصمہ کا گھر تو بہت دو رہے۔نزہت کا مکان زیادہ دور نہیں۔کیاتم“ناصر سمجھ گیا کہ شبنم کیا کہنا چاہتی ہے۔جلدی سے بولا،”باجی! آج تو میں اس قدر تھک گیا ہوں کہ اسکول گراؤنڈ میں بھی نہیں جاسکا۔کل جہاں سے کہیں گی لادوں گا۔“
”کل تک کیسے انتظار کر سکتی ہو ں! مجھے ڈیٹ شیٹ آج ہی چاہیے۔ کل پرچہ ہے۔“
”مجبوری ہے باجی۔“ناصر کمرے سے نکلنے لگا۔
”دیکھو!“
ناصر جاتے جاتے رک گیا۔”جی فرمایے باجی!“
”تمہیں کھیر بہت پسند ہے نا۔“
”سچ،بہت پسند ہے۔“
”تو بس فیصلہ ہوگیا۔“
ناصر سوچنے لگا۔
”باجی! ایک مرتبہ پہلے بھی آپ نے مجھ سے کام کروایا تھا اور کھیر پکانے کا وعدہ بھی کیا تھا مگر پکائی نہیں تھی۔“
”اب کے ایسا نہیں ہوگا۔پکا وعدہ کرتی ہوں، بلکہ ابھی کھیر پکانا شروع کر دیتی ہوں۔تم جاؤ اور جلدی سے ڈیٹ شیٹ کی نقل لے آؤ۔ نزہت فوراً نقل کر کے دے دے گی۔ شاباش میرے اچھے اور لاڈلے بھائی۔“
ناصر لالچ میں آ گیا اور گھر سے نکل کھڑا ہوا۔موسم خوش گوار تھا۔اس نے بس اور ویگن کا انتظار نہ کیا اور پیدل ہی چلنے لگا۔شام ہونے میں کچھ دیر باقی تھی کہ نزہت کے ہاں پہنچ گیا۔وہاں زبردست ہنگامہ برپا تھا۔ معلوم ہوا کہ نزہت کے چھوٹے بھائی کی سال گرہ کی تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی جارہی ہے اور آفتاب نے اپنے سارے کے سارے دوستوں کو بھلا رکھا ہے، سب خوشی منا رہے ہیں۔ آفتاب نے جو ناصر کو دیکھا تو اسے روک لیا:
”میں تمہیں بلانا بھول گیا تھا۔بہت اچھا ہوا جو خود آگئے ہو۔اب فنکشن ختم ہوگا تو جاؤ گے، اس سے پہلے ہرگز نہیں۔“
ناصر نے بار بار اپنی مجبوری کا اظہار کیا مگر آفتاب اور باقی سب نے اسے اصرار کرکے روک لیا اور جانے نہ دیا۔ رات کے آٹھ بجے تک ہنگامہ برپا رہا۔پھر لوگ جو سال گرہ میں شریک ہونے کے لیے آئے ہوئے تھے ،وہ اپنے گھروں کو جانے لگے۔جب سب چلے گئے تو ناصر نے نزہت سے کہا:
”باجی کی ڈیٹ شیٹ گم ہوگئی ہے۔آپ کے پاس ہوگی،اس کی نقل دے دیں۔“
نزہت کہنے لگی: ”اوہو! میں تو اس سال امتحان ہی نہیں دے رہی۔رفعت کے گھر جا کر لے لو۔“
”مگر میں تو باجی رفعت کے گھر کبھی گیا ہی نہیں۔ پتا نہیں ان کا مکان ہے کہاں؟“
نزہت اسے رفعت کے گھر کا پتہ بتانے لگی۔”بڑی آسانی سے چلے جاؤ گے۔ حافظ احمد بخش بڑے مشہور آدمی ہیں۔ان کا نام کہیں سے بھی پوچھ لینا۔فوراً پہنچ جاؤ گے۔ان کے مکان کے بالکل سامنے رفعت کا گھر ہے۔میں تمہیں رقعہ لکھے دیتی ہوں۔“ اور نزہت نے رفعت کے نام رقعہ لکھ کر ناصر کے حوالے کیا اور ناصر اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔
نزہت نے تو کہا تھا کہ حافظ احمد بخش مشہور آدمی ہیں مگر ہوا یہ کہ کوئی بھی ان کا نام نہیں جانتا تھا۔جس سے بھی ان کا نام پوچھتا اور کہتا کہ وہ کہاں رہتے ہیں تو وہ نفی میں اپنا سر ہلا دیتا۔چلتے چلتے وہ کافی دور نکل آیا تھا۔آخر ایک ایسا شخص مل گیا جسے حافظ احمد بخش کا علم تھا۔
”بیٹا! تم تو بڑی دور آ گئے ہو۔حافظ صاحب کا گھر پیچھے چھوڑ آئے ہو۔“اور اس نے حافظ صاحب کا پتا بتا دیا۔ایک گھنٹہ ادھرادھر گھومنے کے بعد وہ حافظ صاحب کے مکان کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ۔نزہت نے بتایا تھا کہ ان کے مکان کے سامنے رفعت کا گھر ہے۔ناصر نے کال بیل بجائی۔رفعت کا بھائی دروازے پر آگیا۔ناصر نے رقعہ اس کے حوالے کردیا۔
”اچھا ٹھیک ہے۔رفعت آپا،خالہ جان کے گھر گئی ہیں۔بس آنے ہی والی ہیں۔آپ اندر بیٹھ کر ذرا انتظار کرلیں۔“
ناصر ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد چائے آ گئی۔کئی منٹ گزر گئے اور رفعت نہ آئی۔وہ اس کے بھائی سے کہتا کہ رفعت باجی کب آئیں گی تو وہ یہی جواب دیتا کہ بس آنے ہی والی ہیں۔انہیں امتحان کی تیاری بھی کرنی ہے۔آرہی ہوں گی۔آدھ گھنٹہ بیت گیا۔پندرہ بیس منٹ اور گزر گئے۔اللہ اللہ کرکے وہ آگئی۔ کئی منٹ میں اس نے ڈیٹ شیٹ نقل کی اور ناصر اسے لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔
”آپ چند منٹ اور ٹھہر جائیں تو میں آپ کو موٹرسائیکل پر چھوڑ آؤں گا۔“
”مہربانی۔“ ناصر خوش ہو گیا۔
”میرا ایک دوست موٹر سائیکل لے گیا ہے،لاتا ہی ہوگا۔“
”پہلے رفعت صاحبہ کا انتظار کیا۔ اب موٹر سائیکل کا انتظار کرو۔“ناصر نے دل میں کہا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
”پتا نہیں اب تک کیوں نہیں آیا۔اسے آ جانا چاہیے تھا۔“ناصر کے بار بار پوچھنے پر رفعت کا بھائی یہی جواب دیتا۔
”اب تو بڑی دیر ہوگئی ہے۔شکریہ آپ کا۔مجھے جانے کی اجازت دے دیں۔“
رفعت اور اس کے بھائی نے ہر چند روکا لیکن وہ گھر سے باہر آگیا۔اسے توقع تھی کہ تھوڑی دور چلنے کے بعد رکشا مل جائے گا مگر بازاروں کی رونق ختم ہو رہی تھی۔اکا دکا رکشا گزرتا تو اس میں کوئی نہ کوئی بیٹھا ہوتا۔اس نے دعا کی: ”اللہ جی رکشا مل جائے۔“مگر رکشا نہ ملا۔
وہ ایک جگہ کھڑا رہا کہ جو رکشا سواری لے کر گیا ہے وہ واپس آئے گا تو اس میں بیٹھ کر جاؤں گا۔رکشا واپس آیا ضرور لیکن وہ خالی نہ تھا۔اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ پیدل ہی سارا سفر کرے۔تھکان سے اس کا برا حال تھا اور جب گھر پہنچا تو گھر والے اس کے لئے پریشان تھے۔
”اتنی دیر کیسے ہوگئی؟“
”راستہ بھول گئے تھے کیا؟“
”رکشا نہیں ملا تھا؟“
اس نے جلدی جلدی جواب دیے اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔شبنم وہیں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
”باجی آپ کی کھیر بہت ہی مہنگی پڑی ہے۔“
شبنم کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ابا جی اندر آگئے۔
”ناصر بیٹا،لالچ کی کھیر بہت ہی مہنگی پڑتی ہے۔امید ہے یہ بات تم کبھی نہیں بھولو گے۔“
یہ سن کر ناصر اور شبنم نے شرمندگی سے اپنے سر جھکا لئے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top