skip to Main Content

بچوں کے محمد ﷺ

خواجہ شمس الدین عظیمی

۔۔۔۔۔

حضرت محمد ﷺ کی ولادت

پیارے بچو!

حضرت محمد ﷺ  ۱۲  ربیع الاول کو پیر کے دن عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔حضرت محمد ﷺ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام بی بی آمنہ تھا۔

حضرت محمد ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش کے مشہور خاندان بنو ہاشم سے ہے۔

آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کا نام محمد رکھا۔

محمد کے معنی ہیں تعریف کیا گیا۔

حضرت محمد ﷺ کے والد عبداللہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔

عربوں میں رواج تھا کہ پرورش کے لیے کم سن بچوں کو دیہات میں بھیج دیتے تھے۔ دیہاتوں میں رہنے والی عرب عورتیں سال کے مختلف حصوں میں مکہ آتی تھیں اور شیر خوار بچوں کو پرورش کرنے کے لیے صحرا اور دیہاتوں میں لے جاتی تھیں تاکہ صحرا اور دیہاتوں کی کُھلی فضا میں پرورش پا کر بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر  تندرست و توانا ہو ۔حضرت محمد ﷺ نے بھی چار سال کی عمر تک اماں حلیمہ کے پاس دیہات میں پرورش پائی۔ اس کے بعد اپنی والدہ حضرت آمنہ کے پاس آگئے۔

جب حضرت محمد ﷺ چھ (۶)سال کے ہوئے تو آپ ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے یثرب تشریف لے گئیں۔اس سفر میں اُم ایمن بھی ساتھ تھیں۔یثرب میں آپ ﷺ نے عزیزو اقارب اور رشتہ داروں سے ملاقات کی۔آپ ﷺ اپنے خاندان کے بچوں اور بڑوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔

حضرت محمد ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ ایک ماہ تک یثرب میں مقیم رہیں۔یثرب میں قیام کے دوران حضرت آمنہ  کی صحت روز بروز خراب ہونے لگی  اور مکہ واپس آتے وقت سفر میں ان کا انتقال ہو گیا۔اِنّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

والدہ کے انتقال کے بعد حضرت عبدالمطلب نے حضرت محمد ﷺ کی پرورش کی۔حضرت عبدالمطلب کو اپنے پوتے محمد ﷺ  سے بہت محبت تھی۔وہ آپ ﷺ سے بہت محبت کرتے تھے۔ حضرت عبدالمطلب مکہ کے معزز فرد اور قریش کے نامور سردار تھے۔جب آپ ﷺ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا کا بھی انتقال ہو گیا۔

دادا کے انتقال کے بعد حضرت محمد ﷺ کی پر ورش آپ ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب نے کی۔حضرت ابو طالب بھی اپنے پیارے بھتیجے سے شفقت و محبت کرتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔

حضرت محمد ﷺ کا بچپن

حضرت محمد ﷺ بچپن ہی سے ذہین تھے۔ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور سب سے محبت کرتے تھے۔ حضرت محمد ﷺ بڑوں کا ادب کرتے تھے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔کسی بات پر ضد نہیں کرتے تھے۔دُھلے ہوئے اُجلے کپڑے پہننے کا شوق تھا۔

حضرت محمد ﷺ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔کُشتی لڑتے اور بچوں کے ساتھ دوڑ لگاتے تھے۔آپ ﷺ نے تیراکی بھی سیکھی تھی۔گھر کے چھوٹے بڑے کام خوش ہو کر کرتے تھے۔

حضرت محمد ﷺ نے بچپن ہی سے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔حضرت محمد ﷺ صبح سویرے مویشیوں کو لے کر شہر سے باہر چلے جاتے تھے۔دن بھر بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کرتے،اونٹوں کی مہار پکڑتے اور سورج ڈوبنے سے پہلےگھر آجاتے تھے۔

پیارے بچو!

ایک مرتبہ خشک سالی کی وجہ سےمکہ میں قحط پڑ گیا لوگ  حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور عرض کیا:

“یا ابوطالب! بچے، بڑے بھوک سے پریشان ہیں،کعبہ میں چل کر دعا کیجئے۔”

حضرت ابوطالب نے کم سن حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کعبہ میں آکر دعا کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چاروں طرف بادل چھا گئے اور موسلادھار بارش برسنا شروع ہو گئی۔

حضرت ابوطالب نے آپ ﷺ کی شان میں یہ شعر کہا:

“وہ خوبصورت چہرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کے فیضان سے بارش برستی ہے۔”

حضرت محمد ﷺ کا حلیہ مبارک

پیارے بچو!

ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ بہت خوبصورت ہیں۔ چاند سے زیادہ حسین ہیں۔آپ ﷺ کی آنکھیں روشن اور بڑی ہیں۔آنکھ کا ڈھیلا سفید چمکدار اور پتلی کا رنگ سیاہ ہے۔ پتلی کے چاروں طرف سرخ ڈورے نظر آتے  ہیں۔ جیسے سورج سے چاروں طرف شعاعیں نکلتی ہیں۔حضرت محمد ﷺ جب مسکراتے ہیں تو آنکھیں بھی مسکراتی ہیں۔

بھنویں گھنی اور ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔حضرت محمد ﷺ کی پیشانی کشادہ ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی ناک مبارک کھڑی اور نیچے سے اعتدال کے ساتھ چوڑی ہے۔

حضرت محمد ﷺ کے ہونٹ بہت خوبصورت ہیں، اوپر کا ہونٹ پتلا اور نیچے کا ہونٹ قدرے موٹا ہے۔

حضرت محمد ﷺ کے دندان مبارک سیدھے ہیں۔دانتوں کے درمیان بڑا خوبصورت فاصلہ ہے۔دندان مبارک موتی کی طرح چمکتے ہیں۔

پیارے بچو!

جو لوگ حضرت محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں اور کثرت سے درود شریف پڑھتے ہیں۔انہیں آپ ﷺ کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔

حضرت محمد ﷺ اور تجارت

پیارے بچو!

مکہ شہر میں رہنے والے لوگ دو طریقوں سے کاروبار کرتے تھے۔

۱۔ تجارت کے ذریعہ۔

۲۔مویشیوں(بھیڑ، بکری، گائے اور اونٹ) کی پرورش کے ذریعہ۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے خاندان کے زیادہ تر لوگ تجارت کرتے تھے ۔  آپ ﷺ کے چچا ابو طالب بھی تاجر تھے اور آپ ﷺ نے بچپن میں ان کے ساتھ کئی تجارتی سفر کئے تھے۔

عرب میں رواج تھا کہ لوگ اپنا مال کسی تجربہ کار اور دیانت دار شخص کے حوالہ کر دیتے تھے۔وہ شخص ان کا مال دوسرے شہروں میں لے جا کر فروخت کرتا تھا اور منافع میں شریک ہوتا تھا۔

حضرت محمد ﷺ جب بڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے بھی کاروبار کیا۔حضرت محمد ﷺ امین، صادق اور وعدے کے پابند تھے۔حساب کتاب میں دیانت دار تھے۔آمدو خرچ کے حساب میں ایک پیسے کا فرق نہیں ہوتا تھا۔حضرت محمد ﷺ نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔کسی کو اپنے مال کےبارے میں مغالطے میں نہیں رکھا۔مال میں جو نقص ہوتا تھا وہ بتا دیتے تھے۔

حضرت محمد ﷺ کے اچھے اخلاق کا اتنا اثر تھا کہ مکہ والے انہیں صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے اور اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے تھے۔

حضرت صائب ؓ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مل کر تجارت کرتے تھے۔وہ کافی عرصہ بعد  حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے صائب ؓ سے فرمایا:

صائب!  مجھے پہچانتے ہو؟

حضرت صائب ؓ نے عرض کیا:

“کیوں نہیں آپ ﷺ تو میرے نہایت ہی اچھے شریک تجارت تھے نہ کسی بات کو ٹالتے تھے اور نہ کسی بات میں جھگڑتے تھے۔ “

حضرت محمد ﷺ جب بھی تجارت کی غرض سے سفر پر روانہ ہوتے  تو مکہ کے دوسرے تاجر یہ خواہش کرتے تھے کہ آپ ﷺ ان کا سامان اپنے ساتھ لے جائیں۔انہی تاجروں میں سے ایک خاتون حضرت خدیجہؓ تھیں۔

حضرت خدیجہؓ  ایک معزز شریف خاندان کی نیک سیرت اور ذہین تاجرہ تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کا کاروبار بہت وسیع تھا۔

حضرت خدیجہؓ نے حضرت محمدﷺ کی تعریف سنی تو آپ ﷺ کو پیغام بھجوایا کہ اگر آپ ﷺ میرا مال لے کر سفر پر جائیں تو میں جو معاوضہ دوسروں کو دیتی ہوں اس سے دو گنا منافع آپ ﷺ کو پیش کروں گی۔

حضرت محمد ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کے مشورہ سے اس پیش کش کو مننظور کر لیا اور تجارتی معاملات طے کرنے کے بعد سفر پر روانہ ہو گئے۔اس سفر میں حضرت محمدﷺ کو بہت زیادہ منافع ہوا۔

شادی مبارک

حضرت خدیجہؓ  اعلیٰ سیرت،سرتاپا شفیق خاتون تھیں۔ان کے گھروں کے دروازے حاجت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ سخی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ان کی خاندانی شرافت، عزت وقار اور اعلیٰ کردار کی بنا پر مکہ کے بڑے بڑے رئیس اور سردار  ان سے شادی کے خواہش مند تھے۔

حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کے بلند اخلاق اور ذہانت سے بے حد متاثر ہوئیں ۔انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعے شادی کا پیغام بھیجا۔آپ ﷺ نے شادی کا پیغام قبول کر لیا۔

نکاح کی تاریخ مقرر ہونے پر حضرت محمد ﷺ اپنے  چچا حضرت ابو طالب، خاندان کے افراد اور مکہ کے معزز  افراد کے ہمراہ  حضرت خدیجہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت خدیجہؓ سے آپ ﷺ کا نکاح ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حضرت خدیجہؓ سے چھ اولادیں عطا کیں۔

۱۔حضرت زینبؓ             ۲۔ حضرت رقیہؓ                   ۳۔حضرت کلثومؓ

۴۔ حضرت فاطمہؓ          ۵۔ حضرت قاسمؓ                 ۶۔حضرت عبداللہؓ 

دو بیٹے قاسمؓ اور عبداللہؓ بچپن ہی میں انتقال کرگئے۔ 

حضرت محمد ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کی شادی ہر اعتبار سے ایک مثالی شادی ثابت ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ نے ہر دکھ سکھ میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔حضرت محمدﷺ بھی اپنی اہلیہ کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت ماریہ قبطیہؓ سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ایک بیٹا عطا کیا۔ان صاحبزادہ کا نام ابراہیمؓ تھا۔ان کا بھی بچپن میں انتقال ہو گیا۔ اِنّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

پہلی وحی

اللہ کے محبوب حضرت محمدﷺ کی عمر مبارک جب پینتیس(۳۵) سال کی ہوئی تو طبیعت  کا میلان تنہائی کی طرف زیادہ ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر ایک پہاڑی ہے۔اس پہاڑی کے دامن میں ایک غار ہے اس غار کا نام حرا ہے۔حضرت محمد ﷺ ستو  اور پانی لے کر اکثر اس غار میں تشریف لے جاتے تھے۔جب کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تھا تو حضرت محمد ﷺ  گھر لوٹ آتے تھے۔یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔

حضرت محمد ﷺ غار حرا میں کائنات کی تخلیق پر غور فرماتے تھے۔آپ ﷺ یہ سوچتے تھے کہ یہ دنیا کیسے بنی؟ آسمان کیسے بلند ہوا؟ زمین کیسے بچھی؟ چاند اور سورج کی تخلیق کس طرح ہوئی؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے؟

حضرت محمدﷺ کبھی کبھی پہاڑ سے اتر کر صحرا میں چلے جاتے تھے اور کچھ وقت کے بعد واپس آجاتے تھے۔

پیار ے بچو!

ایک رات غار حرا میں ہر طرف خاموشی اور گھپ اندھیرا تھا۔حضرت محمد ﷺ ان پر سکون لمحات میں اللہ کی نشانیوں پر غور فرما رہے تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے۔حضرت جبرائیل نے عرض کیا:

اے محمد ﷺ! آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرائیلؑ ہوں۔

اس کے بعد حضرت جبرائیل ؑنے حضرت محمدﷺ سے سورۃ علق کی پانچ آیتیں پڑھنے کے لیے کہا:

پڑھیئے اپنے رب کے نام سے جس نے بنایا(۱)

آدمی کو لہو کی پھٹکی سے (۲)

پڑھیئے اپنے رب کے نام سے جو بڑا کرم والا ہے۔(۳)

جس نے علم سکھایا قلم سے (۴)

انسان کو علم سکھایا جو نہیں جانتا تھا (۵)

یہ پہلی وحی تھی جو ہمارے پیارے نبی ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی۔نزول قرآن کا سلسلہ تئیس (۲۳) سال تک جاری رہا۔

حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے پیغام کو پھیلانے کا کام اپنے گھر سے شروع کیا۔حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والی پہلی خاتون حضرت خدیجہؓ ہیں اور اس کے بعد آپ ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب کے بیٹے حضرت علیؓ مسلمان ہوئے۔جنھیں حضرت محمد ﷺ نے اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا تھا۔ تیسرے مسلمان آپ ﷺ کے غلام زیدؓ تھے۔جنھیں آپ ﷺ نے آزاد کر دیا تھا۔ حضرت زیدؓ کے والد جب اپنے بیٹے کو لینے کے لیے آئے تو حضرت زیدؓ نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

انھوں نے کہا:

“میں حضرت محمد ﷺ کے پاس رہوں گا۔”

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اسلام قبول کیا۔اس طرح مسلمانوں کی تعداد چار ہو گئی۔

دعوتِ حق

نبوت کے ابتدائی سالوں میں حضرت محمد ﷺ نے نہایت محتاط طریقے سے اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنے قریبی رشتہ داروں کو پہنچایا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ سے فرمایا:

ترجمہ: آپ کو جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اسے خوب کھول کر بیان کیجئے اور مشرکوں کی پرواہ نہ کیجئے۔(سورۃ الحجر۔۹۴)

یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت محمدﷺ  اعلانیہ اسلام کی دعوت دینے میں مصروف ہوگئے۔ایک روز حضرت محمدﷺ نے مکہ کے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ صفا کی پہاڑی پر جمع ہو جائیں میں ایک اہم بات لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں۔سب لوگ جن میں حضرت محمدﷺ کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے پہاڑ پر جمع ہو گئے۔

حضرت محمد ﷺ نے لوگوں سے فرمایا:

“اے لوگو! اگر میں تم سے کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے سے دشمن کا ایک لشکر ہے، جو تم پر حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کر و گے؟”

مکہ کے تمام لوگ یہ بات جانتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ صادق اور امین ہیں اس لیے سب نے جواب دیا”جی ہاں ہم یقین کر لیں گے۔”

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

“اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چُن لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے  نبوت سے سرفراز فرمایا ہے  تاکہ میں تمہیں دعوت دوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اگر تم نے اللہ کی اطاعت کو قبول نہیں کیا اور بت پرستی میں لگے رہے تو یقین کرو، تم پر اللہ کا عذاب ہو گا۔”

حضرت محمد ﷺ کی یہ بات سن کر آپ ﷺ کے چچا ابو لہب نے غصہ میں چیخ کر کہا:

“اے محمد) ﷺ(! کیا تو نے نے یہی بات سنانے کے لیے ہمیں یہاں بلایا ہے۔ان باتوں کی اتنی اہمیت نہیں کہ ہم اپنا قیمتی وقت اور اپنا کاروبار چھوڑ کر تمہاری بات سُنیں۔”

پھر ابو لہب نے لوگوں سے کہا ” محمد (ﷺ) کی باتوں پر توجہ نہ دو اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ”۔ مشرکین وہاں سے چلے گئے۔اس واقعہ کے بعد حضرت محمد ﷺ کے قریبی رشتہ داروں نے آپ ﷺ کی مخالفت شروع کر دی۔

پیارے بچو!

جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نبوت عطا کی اس وقت دنیا میں جہالت کا یہ عالم تھا کہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار عام تھی۔لوگوں کو پکڑ کرغلام بنا لیتے تھے اور ان کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈیاں لگتی تھیں۔ لوگ اپنی معصوم بچیوں کو زمین میں زندہ دفن کر دیتے تھے۔ ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ ذہنی پستی کی انتہا یہ تھی کہ لوگ بتوں کو پوجتے تھے۔

حضرت محمد ﷺ چاہتے تھے کہ لوگ ان سب برائیوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں۔

مکہ کے اُمراء، رؤسا اور صاحب اختیار حکمرانوں نے جب دیکھا کہ اسلام  ۔۔۔۔۔ معصوم بچوں کے قتل سے  روکتا ہے ۔۔۔۔۔ غلاموں کے حقوق کے تحفط کا حکم دیتا ہے ۔۔۔۔۔ غریب اور امیر کا امتیاز ختم کرتا ہے ۔۔۔۔۔ اسلام انسانیت کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے تو اہل مکہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا۔انہوں نے سوچا اس طرح تو ہمارا اختیار ختم ہو جائے گا ۔ سب کو برابر کے حقوق ملیں گے تو ہم اپنی من مانی نہیں کر سکیں گے۔

ان وجوہات کی بناء پر مکہ کے لوگ حضرت محمد ﷺ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے حضرت محمدﷺ کی مخالفت کے لیے طرح طرح کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے۔

برداشت اور صبر

پیارے بچو!

حضرت محمدﷺ نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسلام پھیلانے کا کام شروع کیا تو مکے کے لوگ آپ ﷺ کے مخالف ہو گئے۔حضرت محمدﷺ کو طنز اور مذاق کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔مشرکین حضرت محمدﷺ کے گھر پر پتھر پھینکتے تھے جس سے حضرت محمد ﷺ کے گھر کی کھڑکیاں ٹوٹ جاتی تھیں، راستے میں نوکیلے کانٹے بچھا دیتے تھے تا کہ حضرت محمد ﷺ  کے پیر زخمی ہو جائیں۔ حضرت محمدﷺ گھر پہنچ کر پیروں سے کانٹے نکالتے تو خون نکل آتا تھا۔

حضرت خدیجہؓ انہیں اس حال میں دیکھ کر دکھ بھرے لہجے میں پوچھتیں:

“یا محمد ﷺ! کیا آج بہت رنج اٹھایا ہے؟ ”

حضرت محمدﷺ جواب میں فرماتے:

“اے خدیجہؓ! جب انسان یہ جان لے کہ وہ کس مقصد کے لیے اور کس کی خاطر رنج اٹھا رہا ہے تو اسے دکھ اور درد کا احساس نہیں رہتا۔ ”

حضرت محمدﷺ ہر طرح کے حالات اور مشکلات کو صبر اور حوصلے سے برداشت کرتے رہے اور اسلام پھیلانے کا کام جاری رکھا۔مشرکوں نے جب دیکھا کہ انکی تمام تدبیریں ناکام ہو رہی ہیں اور شدید مخالفت کے باوجود لوگ مسلمان ہو رہے ہیں،تو انہوں نے میٹنگ کر کے ایک اذیت کمیٹی بنائی۔اس کمیٹی میں قبیلہ قریش کے پچیس سردار شامل تھے۔اس کمیٹی کے دو اہم مقاصد تھے:

۱۔اسلام کی ہر طرح سے مخالفت کی جائے۔

۲۔حضرت محمدﷺ اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچائی جائے اور ہر طرح سے اذیت دی جائے۔

کمیٹی کا اہم رکن ابوجہل حضرت محمدﷺ کی مخالفت میں سب سے آگے رہتا تھا۔(پناہ بخدا ) ایک دفعہ اس نے حضرت محمدﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اس زمانہ میں عرب میں کسی کو سزائے موت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ پانی، خون، گندگی اور سڑی ہوئی چیزیں اونٹ کی اوجھڑی میں جمع کر لیتے تھے اور اونٹ کی اوجھڑی کو سر پر اس طرح باندھ دیتے تھے کہ سر اور چہرہ اوجھڑی کے اندر پھنس جاتا تھا اور اوجھڑی کے نچلے حصہ کو کسی تھیلے کے منہ کی طرح مضبوطی سے گردن میں باندھ دیا جاتا تھا۔اس طرح ناک اور منہ مکمل طور پر اوجھڑی کے غبارے میں بند ہو جاتے تھے۔سانس رک جاتا تھا اور دم گھٹنے کے باعث آدمی مر جاتا تھا۔

ایک روز ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ خانہ کعبہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے تھے۔ابو جہل اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ اونٹ کی اوجھڑی لیکر وہاں پہنچ گیا۔ حضرت محمدﷺ جیسے ہی سجدہ میں گئے ابوجہل نے اونٹ کی اوجھڑی حضرت محمدﷺ کے سر پر رکھ دی اور بڑی تیزی کے ساتھ اوجھڑی کے نیچے والے حصے کو ایک تھیلی کی طرح حضرت محمدﷺ کی گردن میں باندھ دیا۔اس طرح ناک اور منہ مکمل طور پر اوجھڑی میں بند ہو گئے۔حضرت محمدﷺ نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔جو لوگ حضرت محمدﷺ کے آس پاس موجود تھے انہیں معلوم تھا کہ سانس رکنے کی وجہ سے آپ ﷺ کا جلد ہی انتقال ہو سکتا ہے۔لیکن انہیں ابوجہل کا خوف تھا کہ اگر انہوں نے حضرت محمدﷺ کی مدد کی تو ابوجہل جیسا ظالم شخص ان کا دشمن بن جائے گا، اس لیے انہوں نے حضرت محمد ﷺکی کوئی مدد نہیں کی۔

قریش کی ایک عورت جو وہاں موجود تھی اس تکلیف دہ منظر کو برداشت نہ کر سکی۔ دوڑتی ہوئی حضرت محمدﷺ کے گھر پہنچی اور حضرت فاطمہؓ کوبتایا کہ حضرت محمدﷺ کی جان خطرہ میں ہے۔  حضرت فاطمہؓ  دوڑتی ہوئی خانہ کعبہ میں آئیں۔ابوجہل نے جب حضرت فاطمہؓ کو آتے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا۔  حضرت فاطمہؓ نے فوراً آپ ﷺ کے چہرہ اور سر پر سے اوجھڑی کو ہٹایا اور اپنے دوپٹہ سے چہرہ ٔمبارک صاف کیا۔ حضرت محمدﷺ دم گھُٹنے کے باعث تقریبا ایک گھنٹہ تک حرکت کرنے کے قابل نہ ہو سکے۔حضرت محمدﷺ ہمت کر کے   حضرت فاطمہؓ کے سہارے کھڑے ہوئے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گھر تشریف لے گئے اور اگلے دن بغیر کسی ڈر اور خوف کے دوبارہ خانہ کعبہ تشریف لے آئے ۔

ہجرتِ حبشہ

حضرت محمد ﷺ کی کوششوں سے مکہ میں دین اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا۔مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر کفار مکہ کو تشویش ہو گئی۔حضرت محمدﷺ کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوسرے مسلمانوں پر بھی ظلم کرنا شروع کر دیا۔

جب مسلمانوں کے لیے مکہ میں رہنا ممکن نہیں رہا تو حضرت محمد ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حبشہ افریقہ میں واقع ہے اور آج کل حبشہ کو ایتھوپیا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس زمانے میں حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی کہا جاتاتھا۔نجاشی عیسائی دین کا پابند تھا۔بہت انصاف پسند اور رحم دل بادشاہ تھا۔نجاشی کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو تکلیف نہیں پہنچاتا تھا۔حبشہ میں ہر شخص کو مذہب کی مکمل آزادی تھی۔

مسلمان چھوٹے چھوٹے گروہوں میں مکہ سے نکل کر سمندر کے کنارے جمع ہو گئے اور کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی طرف روانہ ہو گئے۔یہ مسلمانوں کی پہلی ہجرت تھی جسے ہجرت حبشہ کہا جاتا ہے۔اس سفر میں پندرہ مسلمانوں نے ہجرت کی ۔

آہستہ آہستہ مسلمان ہجرت کر کے حبشہ پہنچتے رہے اور کچھ عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد ۱۰۹ ہو گئی۔ مہاجرین امن و سکون کے ساتھ حبشہ میں رہنے لگے۔

دوسری طرف مکے کے کافروں کو جب  معلوم ہوا کہ مسلمان حبشہ چلے گئے ہیں تو انہوں نے اس کو اپنی شکست اور ناکامی محسوس کی۔  وہ اس بات سے پریشان تھے کہ حبشہ میں اسلام پھیل جائے گا۔چنانچہ وہ مسلمانوں کو مکہ واپس لانے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔

کفار نے منصوبہ بنا کر عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیع کو حبشہ بھیجا۔کفار کے دونوں نمائندے بادشاہ کے لئے قیمتی تحائف لے کر شاہی دربار میں پہنچے اور بادشاہ سے فریاد کی:

“اے بادشاہ! اپنے وطن میں جن لوگوں کو تو نے پناہ دے رکھی ہے وہ ہمارے مجرم ہیں۔انہوں نے اپنے آباو اجداد کے دین کو چھوڑ کرایک نیا دین اختیار کر لیا ہے۔آپ انہیں ہمارے حولہ کر دیں تاکہ ہم انہیں مکہ واپس لے جائیں۔”

نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا اور کہا:

“یہ دو افراد مکہ سے آئے ہیں اور کہتے ہیں تم لوگ مجرم ہو۔کیا تم لوگ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو۔”

مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفرؓ نے جواب دیا:

“اے بادشاہ!

ہم لوگ جاہل تھے۔بتوں کو پوجتے تھے۔لوٹ مار، چوری، قتل و غارت گری اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا تھے۔بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔اس مقدس ہستی نے ہمیں اسلام کی دعوت دی اور بتایا کہ پتھروں کو پوجنا چھوڑ دیں۔ایک اللہ کی عبادت کریں۔ سچ بولیں۔امانت میں خیانت نہ کریں۔رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے اچھا سلوک کریں۔

اے بادشاہ!

ہم اس پیغمبر پر ایمان لے آئے۔ اس کی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن بن گئی۔ان لوگوں نے ہمیں اتنی تکلیف پہنچائی ہے اور ہمیں اتنا ستایا ہے کہ ہم نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور آپ کے ملک میں پناہ لے لی ہے۔یہ لوگ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم پھر پرانی گمراہی میں لوٹ جائیں۔”

حضرت جعفرؓ کی باتیں سن کر نجاشی نے کہا:

“تمہارے پیغمبر پر جو اللہ کا کلام نازل ہوا ہے اس میں سے کچھ سناؤ۔”

حضرت جعفرؓ نے سورۃ مریم کی آیات تلاوت کیں۔نجاشی یہ آیات سن کر رو پڑا۔

اس نے کہا:

“تمہارا پیغمبر ایک عظیم اور سچا انسان ہے۔ یقیناً یہ کلام بھی اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑپر انجیل نازل فرمائی تھی۔تم لوگ جب تک چاہو میرے ملک میں آزادی سے رہ سکتے ہو۔کوئی تمہیں اس ملک سے نہیں نکالے گا۔”

نجاشی نے  عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیع کے لائے ہوئے تحفے واپس کر دیے اور یہ لوگ ناکام مکہ واپس لوٹ گئے۔

شعب ابی طالب

مکہ کے اردگرد پہاڑ ہیں۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں ۔ دو اونچے پہاڑوں کے درمیان جو راستہ یا تنگ میدان ہوتا ہے وہ گھاٹی کہلاتا ہے۔ عرب کے دستور کے مطابق یہ گھاٹیاں قبیلوں کی ملکیت ہوتی تھیں۔ان ہی میں سے ایک گھاٹی حضرت ابوطالب کو ورثہ میں ملی تھی۔جو شعب ابی طالب کے نام سے مشہور تھی۔

حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو مکہ واپس بھیجنے سے انکار کر دیا اور کفار کے نمائندے حبشہ سے ناکام واپس لوٹ آئے۔مکہ میں مسلمانوں کی تعداد برھتی جا رہی تھی۔ان ہی دنوں مکہ کی دو مؤثر اور اہم شخصیات حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت حمزہؓ نے اسلام قبول کر لیا۔

ان حالات کو دیکھ کر کافر غصہ میں آگ بگولہ ہو گئے۔

نبوت کے ساتویں سال مکہ کے تمام سردار ایک جگہ جمع ہو ئے اور سب نے مل کر یہ عہد نامہ لکھا۔جب تک بنو ہاشم اور بنو مطلب محمد (ﷺ) کو ہمارے حوالہ نہیں کرتے۔

۱۔  کوئی شخص محمد(ﷺ) کے خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب سے میل جول اور تعلق نہ رکھے۔

۲۔ان کے ساتھ کسی قسم کی خریدو فروخت نہ کی جائے۔

۳۔اور نہ ہی ان کے خاندان میں کوئی شادی بیاہ کرے۔

۴۔کوئی ان کو مہمان نہیں ٹھہرا سکتا۔نہ ہی انھیں کھانے پینے کا کوئی سامان دیا جائے گا۔

اس عہد نامہ پر مکہ کے چالیس سرداروں نے  دستخط کئے اور اسے خانہ کعبہ کی دیوار پر لگا دیا۔اس  عہد نامہ کے مطابق حضرت محمدﷺ اور مسلمانوں کو مکہ سے نکال دیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کے خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کے وہ افراد جنہوں نے اسلام قبول  نہیں کیا تھا۔وہ بھی مکہ کے باہر شعب ابی طالب میں چلے گئے۔

کفار نے تین سال تک مکمل بائیکاٹ رکھا۔کھانے پینے کی کوئی چیز گھاٹی تک نہیں جانے دیتے تھے۔گھاٹی میں مسلمانوں کے پاس گھریلو سامان نہیں تھا۔دھوپ کی تپش اور راتوں کو سردی،بوڑھوں ،جوانوں اور بچوں سب ہی نے برداشت کی۔چھوٹے چھوٹے بچے بھوک سے روتے تھے۔ان کے رونے کی آوازیں گھاٹی سے باہر دور دور تک سنائی دیتی تھیں۔مکہ کے بعض لوگ اپنے عزیزوں کو تکلیف میں دیکھتے تھے تو چھپ کر ان کے لیے کھانے پینے کا سامان بھیج دیتے تھے۔

ایک روز حضرت محمدﷺ نے ابو طالب سے کہا:

“چچا جان!

مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ سرداروں نے جو عہد نامہ لکھ کر خانہ کعبہ میں لگایا تھا ۔اس کو دیمک نے چاٹ لیا ہے۔لیکن جس حصہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہے وہ حصہ باقی ہے۔”

مکہ میں چند بزرگوں کو یہ عہد نامہ پسند نہیں تھا۔ انھوں نے ایک جگہ جمع ہو کر فیصلہ کیاکہ اس ظالمانہ فیصلہ کو ختم کر کے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو شہر میں واپس بلا لینا چاہیے۔ابھی یہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت محمدﷺ کے چچا  حضرت ابو طالب تشریف لائے اور بائیکاٹ کرنے والوں سے کہا:

“قریش کے لوگو!

میرے بھتیجے حضرت محمدﷺ نے اطلاع دی ہے کہ تم نے جو عہد نامہ لکھ کر خانہ کعبہ پر لگایا تھا اس کو دیمک نے چاٹ لیا ہے۔اس میں لکھا ہوا صرف اللہ تعالیٰ کا نام باقی رہ گیا ہے۔اب تم عہد نامہ منگوا کر دیکھو اگر ایسا ہے جیسا حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے تو تم بائیکاٹ ختم کر دو اور اگر ایسا نہ ہو تو میں حضرت محمدﷺکو تمہارے حوالہ کر دوں گا۔”

کافروں نے حضرت ابوطالب کی یہ بات مان لی۔عہد نامہ منگوا کر دیکھا تو نبی کریم حضرت محمدﷺ نے جو فرمایا تھا وہ صحیح تھا۔اس طرح یہ عہد نامہ ختم  کر دیا گیا۔اور مسلمان شعب ابی طالب سے باہر آگئے۔

کچھ ہی عرصہ بعد مسلمانوں کو ایک بڑا صدمہ پہنچا۔حضرت محمدﷺ کے شفیق چچا حضرت ابوطالب کا انتقال ہو گیا۔ 

حضرت ابو طالب نے بچپن سے حضرت محمدﷺ کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر مرحلہ میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔ابھی چچا ابوطالب کا دکھ کم نہ ہوا تھا کہ حضرت بی بی خدیجہؓ کا بھی انتقال ہو گیا۔اسی لیے اس سال کا نام عام الخزن رکھ دیا گیا۔ عام الحزن کا ترجمہ ہے غم کا سال۔

طائف کا سفر

اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ کو مکے میں اسلام کی تبلیغ کرتےہوئےدس سال گزر چکے تھے۔مکہ کے سرداروں نے حضرت محمدﷺ کی تبلیغ پر پابندی لگا دی، انہیں کسی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ان حالات میں حضرت محمدﷺ نے مکے کے قریب کے شہر اور بستیوں کا انتخاب کیا تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا جائے۔حضرت محمد ﷺ حضرت زیدؓ کو ساتھ لے کر طائف تشریف لے گئے۔

طائف مکے سے جنوب کی طرف تقریباً ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک سر سبزوشاداب اور ٹھنڈا شہر ہے، اس شہر میں برف بھی گرتی ہے۔ طائف میں بڑے بڑے امراء اور خوشحال لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ مشہور دیوی لات کے پجاری تھے، جسے وہ خدا کی بیٹی  کہتے تھے۔

حضرت محمدﷺ طائف کے تین بڑے سرداروں کے پاس تشریف لے گئے اورانہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ غصے میں آگ بگولہ ہو گئے۔

ایک سردار بولا:

”اگر اللہ نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تو میں کعبے کے پردےپھاڑ کر پھینک دوں گا۔“

دوسرے نے کہا:

”کیا خدا کو رسول بنانے کے لیے تم سے بہتر کوئی نہیں ملا تھا۔اس نے رسول بنانا تھا تو کسی حاکم یا سردار کو بناتا۔“

تیسرے نے کہا:

”اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو یہ خطرناک بات ہو گی کہ میں تمہاری بات نہ سنوں اور اگر تم اللہ کے رسول نہیں ہو تو تم جھوٹے اور فریبی ہو۔اس صورت میں بھی تم سے بات نہیں کرنی چاہیے۔“

سرداروں نے نہ صرٖف اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ شہر کے شرارتی اور اوباش لڑکوں کو حضرت محمدﷺ کے پیچھے لگا دیا۔جنہوں نے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی،تالیاں بجائیں اور حضرت محمدﷺ کا مذاق اڑایا اور پتھر مارے ۔حضرت محمدﷺ شدید زخمی ہو گئے۔حضرت محمدﷺ کے جسم مبارک سے اتنا خون بہا کہ حضرت محمدﷺ کے جوتے خون سے بھر گئے۔

حضرت محمدﷺ کے پاس حضرت جبرائیل امین ؑ آئے اور عرض کیا:

”اگر آپ اجازت دیں تو بستی والوں پر پہاڑ الٹ دئیے جائیں۔“

رحمت اللعالمین ﷺ نے فرمایا:

”میں مخلوق کے لیے زحمت نہیں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“

میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے بندے پیدا فرمائےگا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔

زخموں سے چُور حضرت محمدﷺ نے ایک باغ میں پناہ لی اور ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔اس باغ کے مالک دو بھائی شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ تھے۔ انہوں نے حضرت محمدﷺ کو زخمی حالت میں دیکھا تو اپنے ایک عیسائی غلام عداس  کے ہاتھ انگور بھیجے۔

حضرت محمدﷺ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر انگور کھائے تو عداس کو عجیب لگا۔

حضرت محمدﷺ سے عداس نے پوچھا:

آپ نے یہ کیا کلمہ کہا تھا؟میں نےتو ابھی تک کسی کی زبان سے ایسا کلمہ نہیں سنا۔

حضرت محمدﷺ نے عداس سے پوچھا:

اے عداس!تمہارا تعلق کس شہر سے ہے۔تمہارادین کیا ہے؟

عداس نے عرض کیا:

میں عیسائی ہوں اور نینوا کا رہنے والا ہوں۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

تم میرے بھائی یونسؑ کے شہر کے رہنے والے ہو۔یونس ؑبھی میری طرح اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔

یہ سن کر عداس نے جھک کر حضرت محمدﷺ کے سر اور ہاتھوں کو بوسہ دیا۔جیسے ہی رات گہری ہوئی عداس، حضرت محمدﷺ کو طائف شہر سے باہر لے آیا اور بولا:

”اے اللہ کے پیغمبر ﷺ! آپ اس شہر سے دور نکل جائیے۔یہاں کے لوگ آپ کی جان کے دشمن ہیں۔“

جنات میں اسلام

حضرت محمدﷺ صحرا میں چلتے ہوے ایک ایسی جگہ پہنچے جسے “بطن نخلہ” کہتے تھے۔رات کا سماں تھا۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔وہاں حضرت محمدﷺ نے انتہائی سوزوگداز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی ۔جنات نے نورانی اور میٹھی آواز میں قرآن سنا تو حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنات نے اسلام قبول کر لیا۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

ترجمہ:

”جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھےتا کہ قرآن سنیں۔

جب وہ اس جگہ پہنچے تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ،

پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو  وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔“

(سورۃ احقاف۔۲۹)

پیارے بچو!

شہر طائف کے باشندوں کی بدسلوکی سے حضرت محمدﷺ کے عزم و حوصلہ میں کوئی فرق نہیں آیا۔حضرت محمدﷺ صبر و تحمل سے مکہ واپس لوٹ آئے۔ہمت اور حوصلہ سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پھیلانے میں مصروف ہو گئے۔

شفقت و رحمت

حضرت محمدﷺ ایک روز کسی وادی سے گزر رہے تھے،کسی نے پکارا ”یا رسول اللہ ﷺ “حضرت محمدﷺ نے دیکھاکہ ایک ہرن بندھی ہوئی ہے اور اس کے قریب ایک آدمی سو رہا ہے۔حضرت محمدﷺ اس ہرن کے قریب تشریف لائے تو ہرن نے کہا:

یا رسول اللہ ﷺ اس آدمی نے مجھے پکڑ لیا ہے۔سامنے پہاڑ میں میرے دو بچے بھوکے ہیں۔آپ ﷺ تھوڑی دیر کے لیے مجھے آزاد کر دیں۔میں اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجاؤں گی۔

حضرت محمدﷺ نے ہرن کی بات سن کر اسکی رسی کھول دی۔ہرن وعدہ کے مطابق بچوں کو دودھ پلا کر واپس آگئی۔حضرت محمدﷺ اسے رسی سے باندھ رہے تھے کہ سویا ہوا آدمی اٹھ گیا۔ وہ شخص سمجھا کہ ہرن آپ ﷺ کو پسند آگئی ہے۔

اس نے کہا:

”یا رسول اللہ ﷺ میں یہ ہرن آپ ﷺ کو تحفہ میں پیش کرتا ہوں۔“

حضرت محمدﷺ نے ہرن کو آزاد کر دیا۔ہرن آزاد ہونے کے بعد خوشی سے بھاگتی ہوئی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔جیسے وہ حضرت محمدﷺ کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔

پیارے بچو!

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو ساری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجاہے۔ چرند، پرند، نباتات، جمادات، جنات، فرشتے اور انسان سب کے لیے حضرت محمدﷺ رحمت ہیں۔ حضرت محمدﷺ کی شفقت اور رحم دلی کا یہ حال تھا کہ حضرت محمدﷺ کسی کو بھی تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہو جاتے تھے۔ پرندے اور جانور بھی اس بات سے واقف تھے کہ حضرت محمدﷺ ان کا دکھ درد سنتے ہیں اور اس کا مداوا  کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا دیدار

رجب کے مہینے میں ۲۷ویں شب کو خاتم النبین حضرت محمدﷺ  چچازاد بہن ام ہانی کے گھر آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا:

”یارسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نےآپکو یاد فرمایا ہے۔“

حضرت محمدﷺ حضرت جبرائیلؑ کے ہمراہ زم زم کے کنوئیں کے پاس گئے،وہاں حضرت محمدﷺ  نے وضو کیا اور پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ بیت المقدس تشریف لے گئے۔

حضرت محمدﷺ جب بیت المقدس پہنچے تو وہاں تمام انبیاء کرام علیہم السلام جمع تھے۔حضرت محمدﷺ نے امامت کی اور تمام انبیاء علیہم السلام نے حضرت محمد ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی۔

حضرت محمدﷺ بیت المقدس سے آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے، وہاں حضرت محمدﷺ نے پیغمبروں سے ملاقات کی۔حضرت محمدﷺ کو دوزخ میں رہنے والے لوگوں کی سزاؤں کے بارے میں بتایا گیا۔ اس ہی طرح جنت میں رہنے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں حاصل ہونے کے بارے میں بتایا گیا۔

پیارے بچو!

اس رات حضرت محمدﷺ کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی۔جب حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمدﷺ سے جو چاہا باتیں کیں۔حضرت محمدﷺ نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”پھر باتیں کیں اللہ نے اپنے بندے سے جو باتیں کیں۔“

(سورۃ نجم۔۱۰)

حضرت محمد ﷺ کے اس سفر کو معراج النبیﷺ کہا جاتا ہے۔معراج کے معنی ہیں غیب کی دنیا میں سفر کرنا اور وہ رتبہ عطا ہونا جس سے بڑھ کر کوئی رتبہ تصور میں نہ آئے۔حضرت محمدﷺ کا آسمانوں میں جانا اور اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنا۔

معر اج النبیﷺ کا مطلب ہے کہ حضرت محمدﷺ نے زمین اور آسمانی دنیاؤں کی سیر کی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو ملاقات کا شرف بخشا۔اس سفر میں حضرت محمدﷺ نے بیت المقدس، سات آسمان، فرشتے، جنات، جنت، دوزخ، عرش و کرسی اور بیت المعمور کا مشاہدہ کیا۔

صبح کے وقت جب حضرت محمدﷺ نے معراج کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تو دل کے اندھے کافروں نے حضرت محمدﷺ کا مذاق اڑایا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کا فروں نے کہا:

”آپ نے کچھ سنا ہے؟ آپ کے رفیق محمدﷺ کہتے ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر کے آئیں ہیں۔“

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا:

”اگر محمدﷺ ایسا فرماتے ہیں تو یہ سچ ہے۔“

حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اس جواب سے کافر مایوس ہو گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ:

”جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا اب تم کیا اس سے جھگڑتے ہو،اس پر جو اس نے دیکھا۔“

(سورۃ نجم۔۱۲،۱۱)

معراج کی رات حضرت محمدﷺ نے مسجدالحرام سے بیت المقدس تک سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کیا اور زمین سے آسمانوں تک کتنا سفر کیا اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔یہاں تک کہ فرشتوں کی حد سے آگے تشریف لے گئے۔سات آسمان، عرش و کرسی،بیت المعمور اور سدرۃالمنتہیٰ سے بھی آگے اور بہت آگے تشریف لے گئے۔اللہ تعالیٰ سے باتیں کی اور اسی شب اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔

پیارے بچو!

معراج کی رات حضرت محمدﷺ نے جو سفر کیا وہ اتنا تیز رفتار سفر تھا کہ دنیا میں اسکی کوئی مثال ہے اور نہ آئندہ کبھی ہو گی۔

اسلام کی ابتدا

پیارے بچو!

خانہ کعبہ مکہ شہر میں واقع ہے۔خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔جب کوئی بندہ خانہ کعبہ کو دیکھتا ہے تو اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی روح میں اللہ تعالیٰ کا نور بھر جاتا ہے۔اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھ جاتی ہے۔خانہ کعبہ کی وجہ سے شہر مکہ کو ہمیشہ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

حج کے موقع پر مختلف قبیلوں کے لوگ دور دور سے خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔

حضرت محمدﷺ کا معمول تھا کہ تمام قبائل سے ملاقات کر کے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔حج کے دنوں میں عقبہ کے مقام پر کچھ افراد جن کی تعداد بارہ تھی،حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ لوگ یثرب سے آئے تھے(شہر مدینہ کو پہلے یثرب کہا جاتا تھا)۔حضرت محمدﷺ نے انہیں اسلام کی تعلیمات پیش کیں۔ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔اسلام میں داخل ہونے کے بعد حضرت محمدﷺ نے ان لوگوں سے مندرجہ ذیل باتوں پر عہد لیا۔

۱۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔

۲۔ خواتین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

۳۔ اپنی بیٹیوں کو قتل نہیں کریں گے۔

۴۔ جھوٹ نہیں بولیں گے۔

۵۔ چوری نہیں کریں گے۔

۶۔ جان و مال کے ساتھ حضرت محمدﷺ کی حمایت کریں گے۔

۷۔ اسلام کی حمایت کے لئے کفار سے لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔ 

یہ لوگ واپس یثرب جانے لگے تو حضرت محمدﷺ نے حضرت معصب بن عمیرؓ کو ان کے ساتھ کر دیا تاکہ وہ یثرب کے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سکھائیں۔

حضرت معصب بن عمیرؓ مدینے میں آکر اسعد بن زرارہ کے گھر مہمان ٹھہرے۔جو مدینے کے نہایت معزز آدمی تھے۔ حضرت معصب بن عمیرؓ روزانہ یثرب کے چند گھروں کا دورہ کرتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ حضرت معصب بن عمیرؓ کی کوششوں سے روزانہ ایک یا دو آدمی مسلمان ہو جاتے تھے۔

نبوت کے تیرھویں سال یثرب سے آنے والے ۷۵ لوگوں نے حضرت محمدﷺ سے ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا۔انہوں نے حضرت محمدﷺ کو دعوت دی کہ حضرت محمدﷺ اور دوسرے مسلمان یثرب آجائیں اور اسلام کے لئے جان و مال قربان کرنے کے عہد کو دہرایا۔

کفار مکہ نے اسلام کی مخالفت اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی،انہوں نے حضرت محمدﷺ کو تکلیف پہنچانے اور اسلام پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح سے ظلم کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔مشرکین مکہ حضرت محمدﷺ کی دشمنی میں اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ اگر کوئی ان کے گھر کا پتہ پوچھتا تو وہ یہ سمجھتے تھے کہ پتہ پوچھنے والا یا تو مسلمان ہے یا پھر مسلمان ہونا چاہتا ہے۔لہٰذا، اس کو پتھر مارنا شروع کر دیتے تھے۔

حضرت محمدﷺ نے قریش کے مظالم کو دیکھ کر مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ مکہ سے یثرب کی طرف ہجرت کر جائیں۔مسلمان اپنے گھر، کاروبار، عزیز و اقارب سب کچھ چھوڑ کر مکہ سے یثرب ہجرت کر گئے۔

اب مکہ میں صرف حضرت محمدﷺ اور چند مسلمان رہ گئے تھے۔حضرت محمدﷺ کو ہجرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم  کا انتظار تھا۔کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ  کے فرمان کے مطابق حضرت محمدﷺ بھی ہجرت فرما کر یثرب چلے گئے اس دن سے اس شہر کا نام مدینۃ النبیﷺ ہو گیا۔

نبی ﷺ مدینے میں آئے

پیارے بچو!

مدینہ والوں کو خبر ہو چکی تھی کہ حضرت محمدﷺ مکہ سے مدینہ تشریف لا رہے ہیں۔مدینہ کے مسلمان ہر روز حضرت محمدﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔وہ بڑا ہی خوبصورت دن تھا۔ مدینے میں ہر طرف چہل پہل تھی۔حضرت محمدﷺ اونٹنی پر سوار مدینہ داخل ہوئے۔ اس اونٹنی کا نام قصویٰ تھا۔ عورتیں،  مرد،  بچے،  غرض مدینے کے لوگ حضرت محمدﷺ کے استقبال کے لیے گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہو گئے۔لوگ قطاریں بنا کر مدینہ شہر میں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔

مدینہ میں بچوں نے حضرت محمدﷺ کا پر جوش استقبال کیا۔انہیں معلوم تھا کہ حضرت محمدﷺ بچوں سے پیار کرتے ہیں۔بچوں نے صاف ستھرے کپڑے پہنے اور خوشی کے گیت گائے۔

ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر یہ الفاظ تھے:

”اللہ کے نبی آئے اللہ کے رسول آئے۔“

پیارے پیارے چھوٹے بچوں کے جوش و جذبہ سے حضرت محمدﷺ بہت خوش ہوئے۔

حضرت محمدﷺ نے بچوں سے ہاتھ ملایا انہیں پیار کیا اور دعائیں دیں۔

حضرت محمدﷺ نے معصوم بچیوں سے پوچھا:

”کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟“

بچیوں نے کہا:

”جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ہم سب آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔“

پیارے نبی ﷺ نے فرمایا:

”میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔“

حضرت محمدﷺ نے بچوں کو بتایا کہ آپ ﷺ مدینے میں ان کے ساتھ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ہر شخص کی خواہش تھی کہ حضرت محمدنبی ﷺ مدینے میں اس کے گھر قیام کریں۔

حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”میں وہاں قیام کروں گا جہاں اللہ کے حکم سے میری اونٹنی بیٹھے گی۔“

اونٹنی جس جگہ بیٹھی وہ خالی زمین تھی اور سامنے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا گھر تھا۔حضرت محمدﷺ ان کے گھر ٹھہر گئے۔جس جگہ حضرت محمدﷺ کی اونٹنی بیٹھی تھی،وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی۔ان بچوں نے اپنی زمین حضرت محمدﷺ کو بطور تحفہ دینا چاہی لیکن حضرت محمدﷺ نے اصل قیمت سے زیادہ رقم دے کر وہ زمین مسجد کے لیے خرید لی۔

مسجد نبوی ﷺ

مدینے پہنچنے کے دوسرے دن حضرت محمدﷺ نے مسجد کی بنیاد رکھی۔مسجد کی تعمیر میں ہر شخص نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حضرت محمدﷺ نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا۔اینٹیں بنائیں، لکڑیاں کاٹیں،  جھاڑیاں صاف کر کے زمین ہموار کی۔سیڑھیاں بنائیں،ان پر چڑھ کر اینٹیں اور گارا،  اوپر پہنچایا، حضرت محمدﷺ مسجد کی تعمیر میں ضروری ہدایات بھی دیتے رہے۔

جب حضرت محمدﷺ بھاری بھاری اینٹیں اٹھاتے تو صحابہ کرامؓ دوڑ کر آتے اور حضرت محمدﷺ سے اینٹیں لے لیتے۔ مگر پھر حضرت محمدﷺ دوسری اینٹ اٹھا لیتے تھے۔

حضرت محمدﷺ مختلف کام سر انجام دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ مسکراتے بھی تھے۔لوگ بھی انہیں دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ حضرت محمدﷺ کے گرد جمع ہونے والے لوگوں نے حضرت محمدﷺ کا ہاتھ بٹایا  اور مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا۔

کچھ فاصلے پر حضرت بلالؓ بھی کام میں مشغول تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ بچے حضرت محمدﷺ کے گرد جمع ہو گئے ہیں تو بچوں کو منع کیا۔حضرت محمدﷺ بچوں کو روکنا بھی نہیں چاہتے تھے اور حضرت بلالؓ کی بات بھی رد کرنا نہیں چاہتے تھے لہذا حضرت محمدﷺ نے کمال فراست سے فرمایا:

”بچو! دیکھو بے چارہ بلال اکیلا کام کر رہا ہےتم بلالؓ کی مدد کرو۔“

بس پھر کیا تھا سارے بچے حضرت بلالؓ کی طرف شور مچاتے ،اچھلتے کودتے خوش ہوتے ہوئے دوڑ پڑے۔حضرت بلالؓ نے کام میں خلل ہونے کی وجہ سے بچوں کو روکا تھالیکن معاملہ الٹ ہو گیا۔حضرت بلالؓ بوکھلا گئے اور دوڑ کر اونچی جگہ پر چڑھ گئے اور یا بلال کہہ کر بچے شور کرتے رہے اور تالیاں بجاتے رہے۔

بچوں نے کہا:

بابا بلالؓ! ہم آپ کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔

حضرت بلالؓ جانتے تھے کہ بچوں کے ہاتھ بٹانے کا کیا نتیجہ ہو گا لہذا وہ نیچے نہیں اترے اور حضرت محمدﷺ کی طرف بے بسی سے دیکھا تو حضرت محمدﷺ تبسم فرمارہے ہیں اور حضرت بلالؓ بھی ہنسنے لگے۔

ایک مرتبہ پیارے نبی ﷺ نے ایک بچے کو گود میں اٹھایا۔اس کے ہاتھ میں ایک پتھر دیا اور کندھوں سے اونچا کر کے اس سے کہا:

”یہ پتھر دیوار میں لگادو۔“

بچے نے پتھر لگا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”شاباش اب تم اپنے دوستوں کو بتانا اس مسجد کو بنانے میں میرا بھی حصہ ہے۔“

حضرت محمدﷺ ہمیشہ یہ تعلیم دیتے تھے کہ:

”اللہ تعالیٰ کام کرنے والے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔“

پہلے مؤذن

مسجد نبوی جس دن مکمل ہوئی تمام لوگ تھک ہار کر مسجد کے فرش پر آرام کرنے لگے۔ ہلکی ہلکی دھوپ چھپر  پر پڑے ہوئے کھجوروں کے پتوں کے درمیان سےچھن چھن کر نیچے آرہی تھی۔ سبز پتوں کا سایہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہاتھا۔ ہر شخص مسجد کی تعمیر کے پہلووں پر تبصرہ کررہا تھا۔سب بہت خوش تھے۔ حضرت علیؓ نے حضرت بلالؓ سے کہا:

“میرے خیال میں مسجد میں ایک کمی ہے۔”

سب ان کی طرف متوجہ ہو گئےانہوں نے اوپر چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:” وہاں کچھ ہونا چاہیئے،کچھ ایسا انتظام جس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلایا جا سکے۔”

حضرت عمارؓ بولے۔۔۔۔۔۔۔

“میرے خیال میں مسجد پر ایک جھنڈا لگا دیں۔نماز کے وقت پرچم کشائی کر لیا کریں اور نماز کے بعد اتار دیں۔”

آس پاس کے سب لوگ گفتگو میں شامل ہوگئے۔حضرت محمدﷺ یہ گفتگو دلچسپی سے سنتے رہے مگر کچھ نہیں فرمایا۔

کسی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔”ہم چھت پر گھنٹیاں کیوں نہ لٹکا دیں۔”

کوئی صاحب بولے۔۔۔۔۔۔۔۔”گھنٹیاں تو کلیساؤں میں لگاتے ہیں۔”

کسی نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقارہ بجانا چاہیئے۔

ایک صاحب بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقارہ جنگ اور خون کی یاد دلاتا ہے۔ہمارا دین امن اور سلامتی کا دین ہے۔

ایک بزرگ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مناسب رہے گا کہ قرنا پھونکا جائے، اس کی آواز بہت دور تک سنائی دیتی ہے۔”

کوئی صاحب بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔” قرنا تو مینڈھے کے سینگ سے بنایا جاتا ہے، یہ کوئی اچھی علامات نہیں ہے۔”

اور پھر خاموشی چھا گئی۔جھنڈا، گھنٹیاں، نقارہ، قرنا کوئی بھی ان تجاویز سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا۔ گھنٹیوں کی آواز دیر تک کانوں میں گونجتی رہتی ہے،نقارہ دوران خون کو تیز کرتا ہے، جھنڈا ہوا کے رخ پر اڑتا ہے اور مخالف سمت سے نظر ہی نہیں آتا۔ پھر جھنڈا سوتے ہوؤں کو کیسے جگائے گا؟

حضرت عبداللہ بن زیدؓ آئے۔ شرمیلے اتنے تھے کہ ڈرتے تھے ان کی باتوں سے کوئی نا خوش نہ ہو جائے مگر خزرج کا یہ شرمیلا نوجوان اگلے ہی لمحہ ساری کائنات کو مرتعش کرنے والا انسان تھا۔

حضرت بلالؓ حضرت محمدﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت عبداللہؓ آپﷺ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ حضرت بلالؓ وہاں سے اٹھ گئے تاکہ حضرت عبداللہؓ  اطمینان سے بات کر لیں۔حضرت عبداللہؓ نے نہایت دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یا رسول اللہﷺ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سبز کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص ہاتھ میں ناقوس لیے جا رہا ہے۔میں نے اس سے کہا:

اے اللہ کے بندے! یہ ناقوس تم مجھے فروخت کر دو گے۔

اس سبز پوش نے پوچھا تم کیا کرو گے؟

میں نے کہا،اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا۔

اس شخص نے کہا نماز کے لئے بلانے کا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ بتاتا ہوں۔تم اس طرح کہا کرو۔

اللہ اکبر اللہ اکبر۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔

اللہ اکبر اللہ اکبر۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔

اشہد الا الہ الااللہ۔میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

اشہد الا الہ الااللہ۔میں گوہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

اشہد ان محمداًرسول اللہ۔یں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

اشہد ان محمداًرسول اللہ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

حی علیٰ الصلوٰہ۔آؤ نماز کی طرف۔

حی علیٰ الصلوٰہ۔آؤ نماز کی طرف۔

حی علیٰ الفلاح۔آؤ کامیابی کی طرف۔

حی علیٰ الفلاح۔آؤ کامیابی کی طرف۔

اللہ اکبر اللہ اکبر۔اللہ بہت بڑا ہے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔

لاالہ الااللہ۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

خواب سن کر حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”عبداللہ۔ تمہارا خواب سچا ہے۔نماز کیلئے اسی طرح بلایا جائے گا۔“

اب سوال یہ تھا کہ یہ الفاظ کس انداز میں اور کیسے ادا کیےجائیں۔میٹھے لہجے میں، نرم لہجے میں، اعلانیہ انداز میں، مرد کی آواز میں، عورت کی آواز میں،بچے کی آواز میں، کسی نوجوان کی آواز میں، کسی بزرگ کی آواز میں یا بیک وقت کئی لوگوں کی آواز میں۔

حضرت محمدﷺ نے حضرت بلالؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:

”بلال تمہاری آواز میں۔“

پھر حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”عبداللہ! تم بلال کو یہ الفاظ یاد کرا دو۔“

مسجد میں بیٹھے ہوئے سارے لوگوں کی نگاہیں حضرت بلالؓ پر مرکوز ہو گئیں۔ حضرت بلالؓ ابھی تک حضرت محمدﷺ کے فیصلے کے سرور میں تھے۔انہوں نے سوچا کہ مجھ ناچیز سیاہ فام حبشی کے ذمہ یہ خدمت سپرد کر دی گئی ہے کہ میں مسلمانوں کو نماز کی سعادت کے لئے بلایا کروں۔یہ میرے لیے کتنی بڑی سعادت ہے۔

پھر حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”بلال تمہاری آواز سب سے اچھی ہے۔اسے اللہ کی راہ میں استعمال کرو۔“

حضرت زیدؓ جو حضرت بلالؓ کے پاس ہی بیٹھے تھے۔حضرت بلالؓ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے:

”کاش میرے پاس اسلام کو دینے کے لئے کوئی ایسا تحفہ ہوتا۔“

انہی باتوں میں نماز کا وقت ہوگیا تو اللہ کے رسولﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا اور ایک چھت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

”جاؤ چھت پر جا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤ۔“

جس چھت کی طرف اشارہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا تھا وہ مسجد سے ملحق بنو نجار کی ایک خاتون کے گھر کی کچی چھت تھی۔حضرت بلالؓ حسب حکم اس چھت پر چڑھ گئے اور اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر بلند آواز میں آذان دی۔

پوری دنیا میں ہر روز پانچ دفعہ اذان کے الفاظ فضاء میں گونجتے ہیں۔مختلف ممالک میں طلوع اور غروب کے اوقات کے فرق کی وجہ سے کوئی لمحہ ایسا نہیں ہے جب دنیا کے کسی نہ کسی حصہ سے اذان کی آواز بلند نہ ہو رہی ہو۔حضرت بلالؓ اذان دے کر نیچے اترے تو حضرت محمدﷺ نے انہیں اپنے پاس بٹھا لیا۔ چاروں طرف لوگ اِدھر اُدھر آجا رہے تھے۔اذان کی آواز سن کر محلے کے بچے اکٹھے ہو گئے تھے۔حضرت بلالؓ کی طرف اشارہ کر کے ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہے تھے۔سب  کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔بہت دیر تک آپ ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا ۔حضرت بلالؓ بھی خوشی سے سرشار تھے کہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا۔۔۔۔

”بلال، تم نے میری مسجد مکمل کر دی۔“

بھائی بھائی

اپنے وطن کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہجرت کہلاتا ہے اور ہجرت کرنے والوں کو مہاجرین کہتے ہیں۔جو مسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تھے انھیں مہاجرین کہتے ہیں۔مہاجرین کے لیے مدینہ نئی جگہ تھی۔انکے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ مدینے میں آتے ہی فوراً معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔

اپناوطن ،عزیزواقارب، رشتہ دار، گھر، کاروبار چھوڑنے کا دکھ تھا۔اس کے علاوہ دونوں شہروں کے موسم اور آب وہوا میں بھی بڑا فرق تھا۔

اس وقت مدینہ ایک چھوٹا سا زرعی شہر تھا۔یہاں کے لوگ زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے تھے، جبکہ مہاجرین تجارت پیشہ تھے۔ مدینہ والوں کی طرح کھیتی باڑی نہیں جانتے تھے۔ اس موقع پر مدینہ کے لوگوں نے مکہ سے آئے ہوئے مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کی۔ قرآن کریم نے انہیں “انصار” کے خطاب سے پکاراہے۔انصار کے معنی ”مددگار“ کے ہیں۔

پیارے بچو!

مہاجرین کے لیے یہ ایک مشکل اور آزمائش کا وقت تھا۔ لیکن مہاجرین نے تمام تکلیفیں بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیں۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کو رہائش اور روزگار فراہم کرنا بہت بڑا کام تھا لیکن حضرت محمدﷺ نے یہ ساری مشکلات اور مسائل بہت اچھے طریقے سے حل کر دئیے۔ ایک روز حضرت محمدﷺ نے مہاجرین اور انصار کے خاندانوں کے سربراہوں کو ایک جگہ دعوت دی۔ وقت مقررہ پر تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوگئے۔حضرت محمدﷺ تشریف لائے۔ حسب عادت سب کو مسکرا کر دیکھا۔ حضرت محمدﷺ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا:

”یہ مہاجرین تمہارے دینی بھائی ہیں اللہ کے لیے

سب کچھ قربان کر کے یہاں آئے ہیں۔

ان کی مدد کرنا تمہارا فرض ہے۔“

پھر حضرت محمدﷺ نے یہ تجویز پیش فرمائی کہ انصار کا ہر خاندان مہاجر کے ایک خاندان کو اپنے خاندان میں شامل کر لے۔اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوجائے اور ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن جائے۔

حضرت محمدﷺ نے خود مہاجرین اور انصار میں سے ایک ایک کو بلایا اور یوں بھائی بھائی بنا کر رشتۂ اخوت قائم کر دیا۔

رشتہ اخوت کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ مہاجرین اپنا سارا بوجھ انصاریوں پر ڈال کر بے فکر ہو جائیں اور مہمانوں کی طرح زندگی بسر کریں۔حضرت محمدﷺ نے اس رشتہ کی وضاحت فرمائی کہ اب تک جو ایک تھا وہ دو ہو گئے۔جو دو تھے وہ چار ہو گئے۔جہاں ایک کماتا تھا،اب دو کمائیں گے۔جہاں دو محنت کرتے تھے،چار محنت کریں گے۔کام زیادہ ہو گا تو آمدنی بھی زیادہ ہو گی اور یوں کوئی کسی پر بار نہیں بنے گا۔اس طرح کئی سو خاندان گزر بسر اور معاش کے مسائل حل کرنے کے اہل ہوگئے۔

انصار مہاجرین کو اپنے اپنے گھروں میں لے گئے۔ انصار نے اپنے گھر،جائیداد اور آمدنی کا نصف حصہ مہاجرین کو پیش کر دیا۔ دوسری طرف مہاجرین نے بھی اپنے لیے روزی روزگار کے ذرائع تلاش کر لئے۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ مہاجر مسلمان جب محنت مزدوری کر کے خود کفیل ہو گئے تو انہوں نے اپنے انصاری بھائیوں کی املاک شکریئے کے ساتھ واپس کر دیں۔

انتظامی ذمہ داریاں

ہجرت سے پہلے مدینہ میں کوئی مملکت نہیں۔ تھی شہر میں نظم و ضبط اور فلاح و بہبود کے لیے انتظامات نہیں تھے۔ صرف قبیلے ہی قبیلے تھے جو آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے سب سے پہلے ایک ایک کر کے سب قبائلی سرداروں سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں مل جل کر رہنے کی افادیت بتائی۔ پھر سب کے مشورہ سے اس نئی مملکت کا اعلیٰ سربراہ بننا قبول فرمایا۔

حضرت محمدﷺ کی فہم و فراست اور مسلسل کوششوں سے مدینہ منورہ میں دس سال کے عرصے میں ایک بہترین فلاحی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ حضرت محمدﷺ نے فوج، عدلیہ، انتظامیہ، خزانہ، درس و تدریس، تجارت ،صحت وغیرہ کے ادارے قائم کئے۔

حضرت محمدﷺ نے بتایا کہ محض عمارتوں کے درمیان گلیاں اور بازار بنانے کا نام شہری منصوبہ بندی نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی فلاحی ریاست کے لیے اپنے شہریوں کو ایسا صحت مند ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے، جو فرد کی جسمانی اور روحانی نشونما کرے جہاں سب کو ذہنی سکون حاصل ہو اور معاشرے میں امن و امان قائم ہو اور معاشی آسودگی حاصل ہو۔

حضرت محمدﷺ نے مدینہ کی تعمیر میں ڈیزائن اور ترتیب پر خصوصی توجہ فرمائی۔ مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے۔ لوگ گھر اور دکانیں اپنی جگہ سے آگے بڑھا کر بنا لیتے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے ان ناجائز تصرفات کو ختم کر دیا۔ مدینہ کی گلیاں عام طور پر تنگ ہوتی تھیں۔ حضرت محمدﷺ نے گلیاں مناسب فاصلے کے ساتھ رکھوائیں۔ گلیوں میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ حضرت محمدﷺ نے روشنی کا انتظام فرمایا۔

مدینہ منورہ میں پانی وافر مقدار میں میسر نہیں تھا۔ مہاجرین جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو پانی کی کمی کا مسئلہ سامنے آیا۔ مدینہ میں چند گز کھدائی پر ہی پانی نکل آتا تھا لیکن یہ پانی کھارا تھا۔ میٹھے پانی کے کنویں اور چشمے بہت کم تھے۔ خصوصاً مدینے کے لوگ کنواں بیرروم کا پانی استعمال کرتے تھے۔

اس کا مالک ایک یہودی تھا جو پانی فروخت کرتا تھا۔ حضرت محمدﷺ کی خواہش تھی کہ یہ کنواں لوگوں کے عام استعمال کیلئے وقف ہو جائے۔ چنانچہ حضرت عثمان غنیؓ نے بڑی رقم دے کر کنواں خرید لیا۔ اس طرح اہل مدینہ کو سہولت کے ساتھ پانی ملنے لگا۔ اس کے بعد حضرت محمدﷺ نے سرکاری طور پر بھی کئی کنویں کھدوا کر پانی کا انتظام کیا۔

مدینہ باغوں کی سر زمین تھا۔ یہاں کے لوگ باغات کے بہت زیادہ شوقین تھے۔ حضرت محمدﷺ نے شہر اور مسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

حضرت محمدﷺ کے بعثت کے وقت تمام عرب میں جہالت کا دور دورہ تھا۔ جو ممالک علم و فنون کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے، وہاں بھی عام شخص زیادہ اخراجات کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ تعلیم صرف امیر لوگوں تک محدود تھی۔ عورتوں پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندی تھی۔ پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔ عام طور پر علوم زبانی یاد کیے جاتے تھے اور پھر نسل در نسل منتقل ہوتے تھے۔

حضرت محمدﷺ نے چند برسوں کے اندر مدینہ میں ایک ایسے علمی ماحول کی بنیاد ڈالی جس کی مثال دنیا کی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت محمدﷺ نے باقاعدہ تعلیم کا پہلا مرکز صفہ مسجد نبوی میں قائم فرمایا۔ اس مرکز کی حیثیت یونیورسٹی جیسی تھی،جس کا بنیادی نصاب قرآن تھا۔ صفہ میں مقامی اور دوسرے علاقوں سے آئے ہوئےطالب علم تعلیم حاصل کرتے تھے اور قیام بھی کرتے تھے۔ حضرت محمدﷺ خود اہل صفہ کی نگرانی فرماتے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تعلیم دینے کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ جو قبیلہ اسلام قبول کرتا تھا حضرت محمدﷺ ان کی تعلیم کے لئے معلم بھیجتے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض کیا کہ وہ علم حاصل کرے۔ حضرت محمدﷺ کے پاس حصول علم کے لیےصحابہ کے علاوہ صحابیات بھی حاضر ہوتی تھیں۔ حضرت محمدﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے دن مخصوص فرمائے تھے۔

غزوۂ بدر

مکہ سے مدینہ میں ہجرت کے بعد کفار زیادہ فکر مند ہو گئے۔ ان لوگوں نے مدینہ کی معاشی ناکہ بندی کر دی۔ اس بات سےحضرت محمدﷺ کو رنج پہنچا۔ انہیں احساس تھا کہ کفار نے دشمنی میں مدینہ کے باشندوں کو بھوکا رہنے کی سزا دے رکھی ہے۔

مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح کافروں نے مدینہ کو معاشی محاصرے میں لے رکھا ہے اسی طرح وہ بھی مکہ کے تجارتی قافلوں کو مدینہ کی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دیں۔ حضرت محمدﷺ بدوی قبائل میں تشریف لے گئے اور مکہ والوں کی زیادتیوں سے بدوی قبائل کو آگاہ کر کے انہیں مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کی دعوت دی۔ قبیلوں نے یہ پیشکش قبول کر لی اور اہل مکہ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے دستبردار ہو گئے۔

کفار کا ایک قافلہ مدینہ کی حدود سے گزر کر مکہ پہنچنے والا تھا۔  یہ ابوسفیان کی قیادت میں دوہزار اونٹوں پر قیمتی مالیت کا سامان لے کر جا رہاتھا۔ مکہ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ مسلمان قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں۔

کافروں نے اس بات کوبنیاد بنا کر نوسو پچاس جنگجو مرد، سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑوں پر مشتمل فوج مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دی۔ مسلمانوں کو جب اس کی اطلاع ملی تو تین سو تیرہ افراد ، سترہ اونٹ اور دو گھوڑوں پر مشتمل جماعت مقابلہ کیلئے تیار ہو گئی۔

ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان کو بدر کے مقام پر دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا۔ اس جنگ میں مسلمان تعداد کے لحاظ سے کفار کے مقابلے میں ایک تہائی تھے۔ بدر کے میدان میں جہاں مسلمانوں نے پڑاؤکیا تھا، اس جگہ پانی نہیں تھا۔جس طرف کفار کی فوج تھی وہاں پانی بھی تھا اس کے علاوہ انہوں نے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کنویں کھود لیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی جس سے پوری وادی جل تھل ہوگئی۔ جس ریت میں مجاہدین کے پیر دھنستے تھے وہ جم گئی جبکہ کفار نے قریبی پہاڑی کے پیچھے ایک نشیبی مقام پر پڑاؤ کیا تھا جس کی زمین نرم تھی۔ رات کو جب بارش ہوئی تو سارا علاقہ کیچڑ اور دلدل بن گیا۔

جب حضرت محمدﷺ نے کفار کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت دیکھی تو دعا فرمائی:

”اے اللہ! اپنے اس وعدہ کو پورا فرما۔جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔“

غزوہ بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتوں کے دستے اترے۔

ترجمہ: ”جب تم اپنے رب سے مناجات کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی۔بے شک میں تمہاری مدد پے در پے ہزار فرشتوں سے کرنے والا ہوں۔“

(سورۃ انفال۔۹)

جس وقت دونوں افواج ایک دوسرے کے مقابل تھیں حضرت محمدﷺ نے ایک مٹھی ریت کفار کی جانب پھینکی۔جب وہ ریت ان کے چہروں پر پڑی تو کوئی مشرک ایسا نہ تھا کہ اس کی آنکھوں اور ناک میں ریت کے ذرے نہ پہنچے ہوں پھر ان کے منہ پِھر گئے اور کفار شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ حضرت محمدﷺ کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے اپنا عمل قرار دیا:

ترجمہ: ”اور تم نے نہیں پھینکی مٹھی خاک جس وقت پھینکی

لیکن اللہ نے پھینکی اور چاہتا تھا، ایمان والوں پر

اپنی طرف سے خوب احسان، تحقیق اللہ ہے سنتا جانتا۔“

(سورۃ انفال ۔۱۷)

اس جنگ میں مسلمان تعداد کے لحاظ سے کفار کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی۔ کفار کی فوج کا سپہ سالار ابوجہل س جنگ میں مارا گیا۔

پیارے بچو!

جدوجہد، عمل اور نصرت کا یہ فارمولا مسلمانوں کے لیے ہر شعبہ زندگی میں مشعل راہ ہے۔ عمل کے بغیر دعا ایک ایسا جسم ہے جس میں روح نہیں ہوتی۔

غزوۂ اُحد

غزوہ بدر میں شکست کے بعد کفار مکہ کے سردار ابو سفیان نے انتقام کا عہد کیا۔ سردار ابو سفیان نے فوج کی تنظیم نو کر کے شوال ۳ ہجری میں مدینہ کی طرف کوچ کیا۔ اس مرتبہ تین ہزار جنگجو سپاہی ابوسفیان کے زیر کمان تھے۔ جن میں ساتھ سو سپاہی مکمل طور پر مسلح تھے۔ صفوان فوج کا نائب سالار تھا۔ ابو سفیان کے ہمراہ مدینہ آنے والے دوسرے سرداروں میں ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی ساتھ تھی۔ ہندہ اعلان کر چکی تھی کہ میں مسلمانوں کے ناک ، کان اور ہاتھ کاٹ کر ان کا ہار بنا کر گلے میں ڈالوں گی۔

حضرت محمدﷺ نے ساتھیوں کے مشورہ سے مدینہ سے باہر کافروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اُحد کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔منافقین اور ان کے سردار عبداللہ بن ابی نے جنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”اور تاکہ اللہ انہیں بھی جان لے جنہوں نے منافقت کی، اور ان سے کہا گیا کہ آو ٔاللہ کی راہ میں لڑائی کرو یا دفاع کرو تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم لڑائی جانتے تو یقیناً تمہاری پیروی کرتے۔یہ لوگ ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب ہیں منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو دل میں نہیں ہے اور یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔“

(سورۃآل وعمران۔۱۶۷) 

میدان جنگ میں فوج کی ترتیب و تنظیم قائم کر کے حضرت محمدﷺ نے مختلف مقامات پر دستے متعین فرمائے اور ہدایات کی کہ کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ جنگ احد میں بڑے بڑے نامی گرامی کفار ہلاک ہوئے۔ انکی صفیں درہم برہم ہوگئیں۔جوش و غیرت کے لیے دف بجا بجا کر اشعار سنانے والی قریشی عورتیں کفار کی پسپائی دیکھ کر بھاگ گئیں۔ قریش کا جھنڈا جب زمین پر گرگیا تو کوئی اسے نہیں اٹھا سکا۔ کفار کی فوج کا حوصلہ پست ہو گیا اور فوج سپاہیوں کی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہو گئیں۔

دوسری جانب مسلمان یہ سمجھے کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں اور متعین جگہ پہاڑی پر موجود دستے نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ مسلمان حضرت محمدﷺ کی ہدایت کے بر خلاف مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے تو خالد بن ولید نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ مسلمانوں کی فوج کی پشت پر پہنچ گئے۔ پہاڑی پر موجود چند مسلمان مقابلہ نہیں کر سکے۔ مشرکیں کی فوج کا جھنڈا ایک عورت نے اٹھا کر ہوا میں بلند کر دیا۔ مشرکیں کی پسپا فوج واپس پلٹ آئی اور مسلمان چاروں طرف سے ان کے نرغے میں آگئے۔ مسلمانوں میں ابتری پھیل گئی۔

کسی نے اعلان کر دیا کہ حضرت محمدﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ دونوں فوجیں ایک دوسرے میں گتھُم گتُھا ہو گئیں۔ مسلمانوں کے ہاتھ بعض مسلمان شہید ہو گئے۔ افراتفری کے عالم میں جب مسلمان منتشر ہونے لگے تو حضرت محمدﷺ نے بلند آواز میں پکارا۔۔۔۔۔۔

”میری طرف آؤ! میں اللہ کا رسول ہوں۔“

یہ صدا کفار نے بھی سنی اور وہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئے۔ اس وقت حضرت محمدﷺ کے قریب ۹ صحابہ کرام ؓ موجود تھے۔ کافروں نے بھر پور حملہ کر دیا اور اس معرکہ آرائی میں سات (۷) صحابہ کرام ؓ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ کافر چاہتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کو شہید کردیں لیکن جان نثاروں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کر کے انھیں حضرت محمدﷺ تک نہیں پہنچنے دیا۔ اس حملہ میں عقبہ بن ابی وقاص نے حضرت محمدﷺ کو پتھر مارا۔ شدید چوٹ کی وجہ سے حضرت محمدﷺ پہلو کے بل گر گئے۔ نچلا ہونٹ زخمی ہو گیا۔ ایک مشرک نے حضرت محمدﷺ کی پیشانی زخمی کر دی۔ ایک اور مشرک نے اتنی زور کی تلوار ماری کہ آپﷺ ایک عرصہ تک کندھے میں چوٹ کا اثر محسوس کرتے رہے۔ اس ہی دشمن نے دوسرا وار چہرے پر کیا جس سے خود (حفاظتی ٹوپی )کی دو کڑیاں چہرے کے اندر دھنس گئیں اور آنکھ کے نیچے کی ابھری ہوئی ہڈی میں بال آگیا۔

جس وقت حضرت محمدﷺ چوٹ کھا کر زمین پر گرے۔حضرت طلحہؓ سامنے آگئےاور کفار کے بیشتر حملے انہوں نے اپنے جسم پر روک لئے۔ حضرت ابودجانہؓ دشمنوں میں گھرے ہوئے اپنے محبوب ﷺ تک پہنچے تو حضرت محمدﷺ کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور تیروں کی برسات روکنے کے لئے اپنی پیٹھ کو ڈھال بنا دیا۔

کفار کے غلاموں میں ایک سیاہ فام غلام “وحشی “ تھا۔ اس نے لالچ میں آ کر حضرت حمزہؓ کو ڈھونڈ لیا اور ان کی تاک میں بیٹھ گیا۔ حضرت حمزہؓ بڑی دلیری سے تلوار چلا رہے تھے۔ وحشی کو سامنا کرنے کی تو جرأت نہیں ہوئی۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت حمزہؓ کی پیٹھ اس کی طرف ہے تو اس نے اپنا نیزہ اتنی قوت سے ان کی طرف پھینکا کہ نیزے کی نوک حضرت حمزہؓ کے سینے کے پار ہوگئی۔

ہندہ نے جب سنا کہ حضرت حمزہؓ وحشی کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں تو اس نے اُس ہی لمحے وحشی کوآزاد کر دیا اور کھڑے کھڑے اپنے کنگن اور ہار اتار کر اسے بخش دئیے۔ ہندہ نے ایک تیز دھار چاقو سے حضرت حمزہؓ کا پیٹ چاک کر کے جگر نکال کر چبانا شروع کر دیا۔ درندگی چہرے سے عیاں تھی۔ آنکھوں سے انتقام کی چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اتنا دردناک منظر آسمان نے شاید پہلی بار دیکھا تھا۔ پھر ہندہ نے حضرت حمزہؓ کے ناک اور کان کاٹے۔ ہندہ نے اس ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قریب پڑی ہوئی مسلمانوں کی لاشوں کے کان اور ناک کاٹ کر ڈوری میں پرو کر ہار بنایا اور گلے میں ڈال کر میدان جنگ میں وحشیانہ رقص کیا۔

قریش کی ایک اور عورت سلافہ بن سعد بھی میدان جنگ میں آئی۔ درندہ صفت سلافہ، اس مسلمان شہید کا سر کاٹ کر لے گئی جس کے ہاتھوں جنگ بدر میں اس کا بیٹا قتل ہوا تھا۔ بہت مکروہ چیخ میں اس نے کہا:

”جب تک میں زندہ ہوں کھوپڑی کے اس پیالے میں پانی پیا کروں گی۔“

لڑائی ختم ہونے کے بعد حضرت محمدﷺ نے دیکھا کہ آپ کے چچا حضرت حمزہؓ کا پیٹ اور سینہ چاک ہے اور کلیجہ چبا کر پھینک دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی لاشوں کے ناک اور کان بھی کٹے ہوئے ہیں۔ یہ درد ناک منظر دیکھ کر حضرت محمدﷺ بے انتہا غمگین ہوئے۔ وحشی جب ابو سفیان کی فوج سے بھاگ کر حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اقرار کیا کہ وہ حضرت حمزہؓ کا قاتل ہے تو حضرت محمدﷺ نے اس کو معاف کر دیا۔

جنگ احد میں مسلمانوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث یہودیوں نے لوگوں سے کہا کہ حضرت محمدﷺ ، اللہ کے رسول ہوتے تو انہیں شکست نہ ہوتی۔ اس موقع پر سورۃآل عمران کی یہ آیت نازل ہوئی:

ترجمہ: ”کافروں کا مقابلہ کرنا نبیوں کا قدیم دستور ہے۔

اس سے پہلے بھی نبیوں پر تکالیف گزری ہیں لیکن وہ

یاس و نا امیدی کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ وہ استقامت اور پائیداری

کی وجہ سے کامیاب ہوئے اور اللہ صاحب استقامت لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔“

(سورۃ آل عمران۔آیت ۱۴۶)

بیعتِ رضوان

مسلمانوں کو مدینے میں رہتے ہوئے تقریباً پانچ سال گزر چکے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے مستقل رہائش کے لئے مدینہ کا انتخاب کر لیا تھا۔

ایک روز حضرت محمدﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں اور عمرہ ادا کیا ہے۔ حضرت محمدﷺ نے صحابہ کرام کو خواب سنایا اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ جانے کا ارادہ فرمایا۔

مکہ جانے کی خبر سن کر مسلمان بہت خوش ہوئے، مکہ مہاجرین کا آبائی اور محبوب وطن تھا۔ مہاجرین کافی عرصہ سے مکہ نہیں گئے تھے، مہاجرین کو اکثر مکہ کی یاد آتی تھی۔ انہیں زیارت کعبہ کی بھی بڑی خواہش تھی۔ مدینہ کے مسلمان بھی بے چینی سے اس وقت کے منتظر تھے جب انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت نصیب ہو۔

ہجرت کے چھٹے سال حضرت محمدﷺ مسلمانوں کی بڑی تعدادکے ساتھ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ مکہ سے کچھ دورحدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ کفار ہر حال میں انہیں مکہ آنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

قریش کے سرداروں کو اندیشہ تھا کہ اگر مسلمان مکہ میں داخل ہوئے تو وہ مکہ پر قبضہ کر لیں گے۔ اس پریشان کن صورت حال سے نمٹنے کیلئے قریش نے اپنے کئی قاصد بھیجے جنہوں نے حضرت محمدﷺ سے مذاکرات کئے۔ قاصدوں نے واپس جا کر قریش کو یہ یقین دلایا کہ مسلمان جنگ کی نیت سے نہیں آئے بلکہ خانہ کعبہ کی زیارت کرنے آئے ہیں۔ قریش کے سردار مکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر رضامند نہیں ہوئے اور اپنی ضد پر قائم رہے۔

حضرت محمدﷺ کو اندازہ ہوا کہ مکہ والے الجھن کا شکار ہیں۔چنانچہ حضرت محمدﷺ نے حضرت عثمان غنیؓ کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا کہ وہ اہل قریش کو صحیح صورت حال بتائیں۔

حضرت عثمان غنیؓ کو اہل قریش نے مکہ میں ہی روک لیا۔ عثمانؓ مکہ سے لوٹ کر واپس نہ آئے تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی اور یہ خبر پھیل گئی کہ قریش نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا ہے۔

حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”عثمان غنیؓ کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔جو شخص اس میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے کہ آخری دم تک وفادار رہے گا۔ تمام صحابہ کرامؓ نے نہایت جوش و خروش اور اطاعت کے ساتھ بیعت کر لی۔ اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں۔ “

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ترجمہ:

”جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں تو وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔

اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو شخص عہد توڑے گا سو اس کے عہد

توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر

اللہ سے عہد کیا ہے تو عنقریب اللہ اس کو بڑا اجر دے گا۔“

(سورۃ فتح۔۱۰)

بیعت رضوان کے بعد پتا چلا کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر صحیح نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ خیریت سے ہیں۔ مکے والوں نے سہیل بن عمرو کو سفیر بنا کر بھیجا تا کہ حضرت محمدﷺ سے ضروری مذاکرات کرے۔ حضرت محمدﷺ نے سہیل سے صلح کی شرائط طے فرمائیں اور حضرت علیؓ نے یہ معاہدہ تحریر کیا۔ اس معاہدہ کو صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔اس معاہدہ کی شرط یہ تھی کہ مسلمانوں کو اس سال مکہ میں داخل ہونے اور کعبہ کی زیارت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی لیکن اگلے سال وہ کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ میں صرف تین دن ٹھہر سکتے ہیں۔ معاہدہ کی رو سے مسلمان اس سال واپس مدینہ لوٹ گئے۔

ہجرت کے ساتویں سال حضرت محمدﷺ دو ہزار اصحابؓ کے ہمراہ عمرہ ادائیگی کیلئے مکہ تشریف لائے اور صلح حدیبیہ کے معاہدے کی رو سے مکہ میں تین روز قیام فرمایا۔

فتح مکہ

ہجرت کے آٹھویں سال دس (۱۰)رمضان المبارک کو حضرت محمدﷺ مدینے سے دس ہزار فوج کے ساتھ مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو فتح عطا فرمائی۔

انسانی تاریخ میں یہ دن یادگار ہے۔ کیونکہ اس روز مکہ بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔ فاتح فوج نے کسی کو نہیں ستایا۔ مسلمان نہایت امن اور ادب کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ اہل مکہ خوف و ہراس کے عالم میں تھے ۔ ان کے دل پریشان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو فاتح فوج مغلوب عوام کے ساتھ کرتی ہے۔ خون سے گلیاں بھر جائیں گی۔ آہ و بکا سے فضا لرز جائے گی۔ لوگ گھر سے بے گھر ہو جائیں گے۔ خواتین بے پردہ ہو جائیں گی۔ بچے یتیم ہو جائیں گے۔ لیکن حضرت محمدﷺ نے اعلان کروادیا:

”جو شخص مسجدالحرام میں داخل ہوجائے اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امان ہے۔

جو اپنا دروازہ بند کر لے اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امان ہے۔

جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امان ہے۔“

پیارے بچو!

ابو سفیان قریش کے وہی سردار ہیں جو اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ اسلام کے خلاف ہونے والی جنگوں میں پیش پیش تھے۔ رحمت اللعالمین حضرت محمدﷺ نے انہیں بھی معاف فرمایا۔

حضرت محمدﷺ نے مکہ والوں کو جمع کیا اور خانہ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا:

”تم لوگ مجھ سے کس سلوک کی توقع کرتے ہو؟“

کفار نے کہا:

”آپﷺ شریف باپ کے بیٹے اور شریف بھائی ہیں ۔“

رحمت اللعالمین حضرت محمدﷺ نے فرمایا:

”اے مکہ کے باشندو! آج میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں

جو یوسفؑ نے اپنے بھایئوں سے کہی تھی

اللہ تعالیٰ نے تم سب کی بخشش فرمادی ہے۔ تم لوگ آزاد ہو۔ فتح مکہ کے وقت خانہ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے ’’حق آیا باطل مٹ گیا بے شک باطل کو مت جانا ہی تھا۔‘‘( سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۱)، پڑھتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے سب سے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا، وہ اوندھے منہ گر گیا۔ اس کے بعد حضرت محمدﷺ کے حکم سےخانہ کعبہ سے ۳۶۰ بت نکال کر باہر پھینک دئیے گئے۔

فتح مکہ کے بعد حضرت محمدﷺ نے اپنے اور مسلمانوں کے سخت دشمنوں کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور انھیں عفوودرگزر سے نوازا۔ اسلام کے انتہائی خطرناک دشمنوں میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی تھی۔ اس عورت نے جنگ اُحد میں حضرت محمدﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔ ہندہ کو بھی حضرت محمدﷺ نے معاف کر دیا۔ اسلام کے بد ترین دشمن ابو جہل کی بہو اُم حکیم حضرت محمدﷺ کے پاس آئیں اور اسلام قبول کر لیا۔ اُم حکیم نے حضرت محمدﷺ سے درخواست کی:

”یا رسول اللہ ﷺ! میرے شوہر کو امان دیجئے۔“

انکے شوہر عکرمہ اسلام کی دشمنی میں پیش پیش تھے۔آپ ﷺ نے ان کے لئے بھی معافی کا اعلان کر دیا۔

حضرت محمدﷺ کی سیرت کے مطالعہ سے ہم پر یہ بات روشن ہوتی ہے کہ حضرت محمدﷺ کے مزاج اقدس میں معاف کر دینے کی صفت بہت نمایاں تھی۔ ہم حضرت محمدﷺ کے اُمتی ہیں۔ ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم بھی حضرت محمدﷺ کے نقش قدم پر چلیں اور حضرت محمدﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل کریں۔ ماں باپ، بہن بھائی، بیٹی اور بیٹے سے زیادہ حضرت محمدﷺ سے محبت کریں۔

خطبہ حجۃ الوداع

ہجرت کے دسویں سال حضرت محمدﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا۔ لوگوں کو جب پتہ چلا کہ حضرت محمدﷺ حج کے لئے مکہ تشریف لے جا رہے ہیں تو مدینہ منورہ اور عرب کے دیگر شہروں کے مسلمان حج کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت محمدﷺ مسلمانوں کے ہمراہ حج کےلئے مدینے سے مکہ تشریف لائے۔

حضرت محمدﷺ نے مناسک حج ادا کئے اور ۹ ذی الحج ۱۰ہجری کو جب سورج ڈھل گیا، حضرت محمدﷺ اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر میدان عرفات میں تشریف لائے۔ وہاں حضرت محمدﷺ نے تاریخی خطبہ دیا جو خطبہ حجتہ الوداع کہلاتا ہے۔ حضرت محمدﷺ نے اپنے خطبے میں دین کی تعلیمات کا نچوڑ اس طرح بیان فرمایا کہ وہ رہتی دنیا تک نوع انسان کے لیے مشعل راہ ہے۔

حضرت محمدﷺ نے بہت بڑے اجتماع سے فرمایا:

”لوگو!۔۔۔۔۔ میری بات غور سے سنو!

کیونکہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں پھر تم سے نہ مل سکوں۔

اے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت

سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قبیلے اس لئے ہیں

کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک

تم میں عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔اس لیے

کسی عربی کو کسی عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں،اسی طرح

کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر فضیلت نہیں۔

اے لوگو!۔۔۔۔۔۔۔

آج اس مہینے کی تم جس طرح حرمت کرتے ہو اسی طرح ایک

دوسرے کا نا حق خون نہ کرنا اور کسی کا مال لینا تم پر حرام ہے۔

خوب یاد رکھو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہ

تمہارے سب کاموں کا پورا جائزہ لے گا۔

اے لوگو!۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح تمہارے حقوق عورتوں پر ہیں اُسی طرح تم پر تمہاری

عورتوں کے حقوق ہیں۔ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا۔

غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنا۔ جیسا تم کھاتے ہو ویسا ان کو کھلانا۔

جیسے تم کپڑے پہنتے ہو ویسے ہی کپڑے ان کو پہنانا۔ اگر ان

سے کوئی خطا ہو جائے اور تم معاف نہ کر سکو تو ان کو اپنے سے

جدا کر دینا کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ ان کے ساتھ

سخت برتاؤ نہ کرنا۔

لوگو!۔۔۔۔۔۔۔

میری بات غور سے سنو، خوب سمجھو اور آگاہ ہو جاؤ۔ جتنے

کلمہ گو ہیں سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سب مسلمان

اخوت کے سلسلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ تمہارے بھائی کی چیز

تم کو اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ خوشی سے نہ دے

خبردار!

جہاہلیت کے زمانے کی تمام رسمیں میرے قدموں کے نیچے

کچل دی گئی ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں۔

خبردار!

نا انصافی کو پاس نہ آنے دینا۔میں نے تم میں ایک ایسی

چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے

اور اس پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ وہ چیز اللہ تعالیٰ

کی کتاب (قرآن) ہے۔میرے بعد کوئی نبی نہیں اور

تمہارے بعد کوئی نئی اُمت نہیں۔

خبردار! ۔۔۔۔۔

اپنے رب کی عبادت کرتے رہو، صلٰوۃ قائم کرو۔ ماہ رمضان

کے روزے رکھو۔ اپنے اموال کی خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ ادا

کرتے رہو۔ اپنے رب کے گھر کا طواف کرو۔ مذہب میں غُلو

اور مبالغے سے بچو۔ کیونکہ تم سے پہلی قومیں اس عمل سے

برباد ہوچکی ہیں۔

خبردار! ۔۔۔۔۔

میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا

تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔

اے لوگو! ۔۔۔۔۔۔۔۔

تم سے میرے متعلق سوال کیا جائے گا۔ تو بتاؤ تم کیا کہو گے؟“

لوگوں نے عرض کیا:

”ہم گواہی دیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہمیں

پہنچا دیا ہے اور اپنا فرض پورا کردیا ہے۔“

آپ ﷺ نے انگُشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا پھر لوگوں کی طرف جھکا کر فرمایا:

”یا اللہ تو گواہ ہے۔“

پھر فرمایا:

”خبردار! ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو حاضر ہیں وہ یہ کلام ان لوگوں تک پہنچا دیں

جو یہاں نہیں ہیں خواہ وہ اس وقت موجود ہیں یا آئندہ پیدا ہونگے

کیونکہ بہت سے وہ لوگ جن کو میرا کلام پہنچے گا تو وہ سننے والوں

سے زیادہ اسکی حفاظت کریں گے۔“

خطبہ کے بعد حضرت محمدﷺ نے حج کے بقیہ ارکان ادا فرمائے اور مدینہ تشریف لے گئے۔ ہجرت کے گیارہویں سال حضرت محمدﷺ علیل ہو گئے اور ربیع الاول کے مہینے میں حضرت محمدﷺ نے پردہ فرمایا۔ وصال کے وقت حضرت محمدﷺ کی عمر مبارک ۶۳ سال تھی۔ حضرت محمدﷺ اس وقت حضرت بی بی عائشہ ؓ کے حجرے میں تھے اور اس ہی حجرے میں حضرت محمدﷺ کا جسم اطہر محفوظ ہے اور محو استراحت ہے۔

 

صلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہ محمد وسلم

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top