skip to Main Content

کمی کہاں ہے؟

صاعقہ علی نوری
۔۔۔۔۔

شفق کی چادر اوڑھے سورج مغرب کی طرف خراماں خراماں چلا جا رہا تھا۔ عصر کی اذان ہر طرف گونج رہی تھی جب میں نے قدم گھر سے باہر نکالے۔ چھوٹی سی گلی ختم ہوتے ہی دو سفید پِلے (کتے کے چھوٹے چھوٹے بچے) نظر آئے۔
”شش!……“ قریب آتے پِلوں کو دور رکھنے کے لیے میں نے ”شش“کی آواز نکالی۔میری چھوٹی بہن زینب انھیں دیکھتے ہی میری دائیں جانب آ گئی تھی۔
”لڑکیاں کتنا ڈرتی ہیں۔“ میں نے مسکراتے ہوئے سوچا۔
پھر زینب کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھنے لگی۔ عین اسی لمحے کوئی ہمارے پیچھے سے تیز تیز چلتا ہوا آگے بڑھا۔ وہ کوئی عام بچہ ہوتا تو شاید میں اس کی طرف کبھی متوجہ نہ ہوتی۔ مجھے سر جھکا کر چلنے کی عادت ہے۔جس پر کئی بار میرا مذاق بھی اڑایا گیا تاکہ میں کسی حادثے کا شکار نہ ہو جاؤں، مگر عادت کب بدلتی ہے۔ ابھی بھی میری نظر اس کے پاؤں کی طرف ہی تھی جس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ابھی تک میں اس کے خاکی کپڑے، پاؤں میں پشاوری چپل اور چلتے ہوئے اس کے پاؤں کی لرزش ہی دیکھ سکی تھی۔
”صرف دس روپے ہیں۔“ اس بارہ تیرہ سالہ بچے کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ ہمارے آگے اس کے علاوہ بھی سفید کپڑے پہنے ایک بچہ چل رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کھلونا بھی تھا۔
”دینا ہے تو بات کرو۔“ خاکی کپڑے پہنے ہوئے بچے نے کھلونے والے بچے سے کہا۔
”کتنے پیسے ہیں؟“ دوسرے بچے نے سوال کیا۔
”بیس، پندرہ، دس جتنے میں دو گے، ابھی کہو۔“ پہلے بچے نے ماہر تاجر کی طرح سودے بازی کرتے ہوئے کہا۔
”توبہ! کتنا چالاک ہے۔“ میں نے سوچا۔ یہ بھاؤ تاؤ وہ دوسری بات تھی جس نے مجھے بری طرح متاثر کیا۔ حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس نے رفتار مزید بڑھائی۔اب وہ باقاعدہ طور پر دوڑ رہا تھا۔ دوڑتے ہوئے بھی اس کا ایک پاؤں ٹیڑھا پڑ رہا تھا۔اس نے اپنے بازو لٹکائے ہوئے تھے۔ دونوں ہاتھ دونوں طرف کی جیبوں میں اڑس رکھے تھے۔ ہاتھوں کے دباؤ سے اس کی قمیص جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔اس کے ڈھیلے ڈھالے خاکی لباس میں یہ چیز واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بہت کمزور لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات جاننا تو پہلے ہی مشکل تھا کہ وہ ہم سب سے کئی قدم آگے چل رہا تھا۔ اب دوڑنے کی وجہ سے اس کی آواز بھی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی۔
”سورج غروب ہو رہا ہے۔“ زینب نے آسمان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں! جلدی چلو۔“ میں نے کہا اور زینب کا ہاتھ پکڑ کر تیز تیز چلنے لگی۔ ہمارے علاقے کی گلیاں بہت چھوٹی چھوٹی سی ہیں۔ یہ گلی بھی ختم ہوئی تو سامنے کے منظر نے واقعی میرے ہوش اڑا دیے۔
”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!“ خاکی کپڑوں والے لڑکے نے سامنے سے آتے شخص کو مسکراتے ہوئے اونچی آواز سے سلام کیا۔
”و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ اس شخص نے بھی مسکرا کر مکمل سلام کا جواب دیا۔
میں جس کو کمی والا اور چالاک سمجھ رہی تھی اس نے کتنے احسن طریقے سے حدیث مبارکہ پر عمل دکھایا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 12 تو میں نے بھی سن رکھی تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ:
”ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے، ان کو لیث نے، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے، وہ ابوالخیر سے، وہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہ ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔“
یہی سب تو وہ خاکی کپڑوں میں ملبوس بظاہر لنگڑا کر چلنے والا بچہ کر رہا تھا۔ ان لوگوں سے حال احوال دریافت کرنے کے بعد وہ آگے بڑھ گیا۔ میرا تجسس ہنوز باقی تھا۔ اگلی گلی ختم ہوئی تو سامنے سڑک آ گئی۔ اب وہ ایک بزرگ شخص سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔
اس کے چھوٹے سے عمل نے میری نظر میں اس کی قدر و قیمت بہت بڑھا دی تھی۔ اور میں سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی کہ کمی کہاں ہے؟ اس بچے میں یا میری سوچ میں؟ بے شک ظاہری کمی کردار کی مضبوطی اور اخلاقی خوبصورتی کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top