skip to Main Content

بلبل کا گھونسلہ

جاوید بسام

۔۔۔۔۔۔۔

اس شام وہاں سخت آندھی آئی اس سے کئی درخت اور مکانوں کی چھتیں گر گئیں تھیں

۔۔۔۔۔۔۔

شہروں سے دور سرسبز کاشت کے میدانوں میں فصل بونے کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ ایک کسان زمین کا جائزہ لینے اپنے کھیت پر پہنچا۔ کچھ دنوں بعد اس نے وہاں کام شرو ع کرنا تھا اس نے دیکھا کہ گرمی سے زمین کئی جگہ سے تڑخ گئی تھی۔ فالتو گھاس پھوس بھی اُگ آیا تھا اور کھیت کی منڈیر بھی کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی وہ نظریں دوڑاتا دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھاکہ اس کی نظر کھیت میں لگے پتلے (Scare Crow)پر پڑی یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ بلبل کے ایک جوڑے نے اس پر اپنا گھونسلہ بنا رکھاہے۔ ایسا منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھاتھا کھیتوں میں پتلے عام طورپر پرندوں کو ڈرانے کے لیے لگائے جاتے ہیں اور پرندے ان سے ڈرتے بھی ہیں لیکن یہاں معاملہ الٹ ہو گیاتھا ۔
کسان کی حیرت جب کچھ کم ہوئی تو اسے خیال آیا کہ جس طرح انسانوں میں کچھ لوگ زیادہ عقل مند ہوتے ہیں اسی طرح شاید یہ پرندے بھی دوسرے پرندوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی وہ ایک ملنسار اور نیک آدمی تھا۔ اﷲ کی مخلوق سے محبت کرتا تھا اور اسے فطرت سے بھی لگاﺅ تھا اس نے دیکھا کہ پرندوں نے گھونسلے میں انڈے دے رکھے ہیں۔ مادہ انڈوں پر بیٹھی تھی اور نر گھونسلے میں آجارہا تھا۔ وہ بھی کسان کو دیکھ کر چوکنا ہو گئے تھے۔ کسان سوچ میں پڑ گیا کہ گھونسلے کا کیا کرے۔ اس علاقے میں پرندے بہت ہوتے تھے اگرگھونسلہ وہاں اسی طرح موجود رہتا تو دوسرے پرندے ڈرنا چھوڑ دیتے اور اس کی فصل کو نقصان پہنچاتے ۔وہ گھونسلے کو ہٹانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔وہ کوئی ایسی ترکیب سو چ رہا تھا کہ مسئلہ حل ہو جائے آخر وہ خاموشی سے گھر لوٹ گیا۔
دوسرے دن جب وہ کھیت پر پہنچا تو اس کے ہاتھ میں لکڑی کا بنا ہوا ایک خوبصورت برڈ ہاﺅس تھا اس کی چھت محرابی تھی اور ا ندر جانے کے لئے گول سوراخ تھا۔ اس نے وہ برڈ ہاﺅس کھیت کے ساتھ ایک درخت کے تنے پر ٹھونک دیا پھر وہ پتلے کے قریب آیا۔ دونوں پرندے گھبرا کر اڑ گئے اس نے احتیاط سے گھونسلہ اتارا اس میں دو انڈے اٹھا لیے تھے پرندے بے چینی سے اس کے قریب چلے آئے اور سر پرمنڈلانے لگے۔ انہوں نے اسے کئی ٹھونگیں بھی ماریں لیکن کسان نے گھونسلہ لے جاکر برڈ ہاﺅس میں رکھ دیا۔ پرندے بوکھلائے ہوئے اس کے ساتھ اڑ رہے تھے۔ گھونسلہ رکھ کر وہ دور ہٹ گیا اس کی نظریں درخت پر ہی لگی تھیں۔ جلد ہی بلبلوں نے اپنا نیا آشیانہ قبول کر لیا اور وہ اس میں آنے جانے لگے۔ کسان نے سکون کا سانس لیا او رواپس چل دیا ۔
اس شام وہاں سخت آندھی آئی کئی درخت گر گئے اورمکانوں کی چھتیں اڑ گئی ،اگلے دن کسان جب اپنے کھیت پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پتلا بھی زمین پر پڑا ہے۔ آندھی نے اسے بھی گرادیا تھا۔ لیکن وہ درخت مضبوطی سے اپنی جگہ پر جماتھا جس پر برڈ ہاﺅس لگایاگیا تھااور جب اس نے بلبل کوسوراخ سے گردن نکالے باہر جھانکتے دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا اور خوشی سے مسکرانے لگا۔
چند دنوں بعد اس نے کھیت میں کام شروع کر دیا۔پہلے ا س نے ہل چلا کر زمین نرم کی اور اس میں بیج ڈالے اور پھر پانی دینا شروع کیا لیکن اس سے پہلے وہ ایک نیا پتلا بنانا نہیں بھولا تھا وہ اپنی زمین پر سخت محنت کررہا تھا۔ دوپہر کو جب وہ درخت کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھاتا تو ان بلبلوں کوبھی روٹی توڑ کر ڈال دیتا وہ اس کے قریب چلے آتے آہستہ آہستہ وہ اس سے مانوس ہو گئے اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کے کھیت کوبھی نقصان نہیں پہنچاتے وہ اس کی دی ہوئی روٹی کھاتے یا ادھر اُدھر اپنی خوراک تلاش کرتے تھے ۔
دن گزرتے رہے پرندوں سے اس کی دوستی بڑھتی گئی جب وہ کھیت میں کام کر رہاہوتا تو وہ اس کے سر پرمنڈلاتے رہتے کبھی اس کے کندھوں پر آ بیٹھتے ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے احسان مند ہیں۔ کسان انہیں دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھتا، زمین کا سینہ چیر کر جب وہ تھک جاتا تو ان کی سریلی چہچہاہٹ اس کی ساری تھکن اتار دیتی تھی۔ کچھ دنوں بعد فصل اُگ آئی، سارا کھیت سرسوں کے سبز پودوں او رپیلے پھولوں سے سج گیا اب ا س کا کام اوربڑھ گیا تھا اسے خوب فصل کی آبیاری کرنی تھی اور پھر اس کے بعد کٹائی شروع کی جاتی۔
ایک دن جب وہ اپنے کھیت پر پہنچا تو دونوں پرندے کھیت پر منڈلا رہے تھے۔ اس نے اپنا کام شروع کیاتو وہ اس کے قریب چلے آئے وہ نیچی پرواز کرتے ہوئے اس کے سر پر چکر لگارہے تھے۔ وہ خوش دلی سے بولا: ”دوستو! میں بہت مصروف ہوں کھیلنے کا وقت بالکل نہیں ہے۔“ لیکن پرندے منڈلاتے رہے کچھ دیر بعد اس نے محسوس کیا کہ وہ پہلے اس کے سر پر اڑتے ہیں پھر کچھ دور جاکر گھنے پودوں پر نیچی پرواز کرتے ہیں۔ وہ بار بار ایسا کر رہے تھے ۔کسان کام کرتا اسی طرف بڑھ رہا تھا ۔پرندے بہت بے چین تھے ۔جب انہوں نے ایک بار پھر اس طرح پرواز کی توکسان نے کام روک دیا ۔”کیا یہ میری توجہ پودوں کی طرف دلا رہے ہیں۔ وہ بڑبڑایا اور درانتی ہاتھ میں لیے اس طرف بڑھا، پودے ہٹانے پراسے وہاں ایک زہریلا سانپ چُھپا نظرآیا اس نے فوراً اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا اوراﷲ کا شکر ادا کیا کسان کے دوستوں نے بر وقت اسے ہوشیار کر کے احسان کا بدلہ چکا دیا تھا۔
آج وہ محنتی کسا ن اسی طرح اپنے کھیت میں کام کرتا ہے اگر آپ کا کبھی وہاں سے گزر ہوا اور آپ دیکھیں کہ وہ کھیت میں ہل چلا رہا ہے اور بلبلوں کے کئی جوڑے اس کے سر منڈلا رہے ہیں تو ہر گز حیران نہ ہوں، کیونکہ اور پرندے وہ بچے ہیں جنہیں کسان نے محفوظ پناہ گاہ بنا کردی تھی۔

٭….٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top