skip to Main Content

باب پنجم: بچوں کے ادب کے نمائندہ سرپرست ادارے اور ناشران

باب پنجم
بچوں کے ادب کے نمائندہ
سرپرست ادارے اور ناشران

٭…شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور
٭…فیروز سنز، لاہور
٭…ہمدرد فائونڈیشن پریس، کراچی
٭…دعوۃ اکیڈمی …شعبہ بچوں کا ادب،اسلام آباد
٭…سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
٭…اسلامک پبلی کیشنز، لاہور
٭…نیشنل بک فاؤنڈیشن پاکستان، اسلام آباد
٭…نیشنل بک کونسل آف پاکستان، اسلام آباد
٭… اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز، لاہور

باب پنجم
بچوں کے ادب کے نمائندہ
سرپرست ادارے اور ناشران

ابتدائی عمر ہی سے بچہ ہر چیز کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مشاہدے میں وسعت کے باعث تجسس کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اس وقت بچے بڑوں کی تقلید کے ساتھ اپنے ہم عمروں کے ساتھ مسابقت کرتے ہیں۔ بچے کا یہ دورانیہ خاصا جذباتی ہوتا ہے، اس دوران والدین اور اساتذہ کے ساتھ ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی وژن اور بالخصوص بچوں کی کتب تخلیق کرنے والے قلم کار مثبت انداز میں بچوں کی تربیت میں دل چسپی لے کر اسے قومی فریضے کی طرح ادا کریں توچند ہی برسوں میں ایسی نسل کی تیاری مشکل نہیں جو ملک وقوم کو تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے۔
بیسویں صدی حقیقتاً اُردو زبان میں بچوں کی صدی کہلائی جاسکتی ہے جس کے ابتدا ہی میں بچوں کے لیے منفرد اور دلکش رسائل کا اجرا ہونے لگا۔ وہیں مختلف ادارے خوب صورت کتابوں کی اشاعت کے ذریعے بچوں کی تعلیم وتربیت اور تفریح کا اہتمام کرنے لگے۔ دارالا شاعت پنجاب لاہور کے بانی شمس العلما مولوی ممتاز علی اور ان کی زوجہ محمدی بیگم نے بچوں کے لیے بے شمار کتابیں لکھیں اور چھاپیں ۔یہ دونوں میاں بیوی تعلیم نسواں کے پرجوش حامی تھے۔ خود ان کے بیٹے اور معروف ادیب امتیاز علی تاج نے اس ادارے کو خوب ترقی دی۔ دارلاشاعت پنجاب ہی کے زیر اہتمام ۱۹۰۹ء میں رسالہ پھول کا اجرا ہوا۱۔
دارلاشاعت نے بچوں کے لیے خصوصیت کے ساتھ جو کتابیں مرتب کر کے چھاپیں وہ بچوں کے اُردو ادب کے ابتدائی کاموں میں تھا لیکن ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے عمدہ قسم کی کتابیں شائع کرنے کا اعزاز اس ادارے کے حصے میں آیا۔ جہاں زبان وبیان کا خیال رکھا جاتا اور عمدہ طباعت پر توجہ دی جاتی تھی، اس طرح بعد کے ادوار میں ’’فیروز سنز‘‘ مولوی فیروز الدین نے شروع کیا۔ اُنھوں نے بھی بچوں کے لیے بے شمار کتابیں شائع کیں۲۔
بچوں کے لیے اس سے قبل بھی کتابیں لکھی گئیں۔ نظیر اکبر آبادی، مولوی اسماعیل میرٹھی، محمد حسین آزاد کی درسی کتابیں اور کسی حد تک ڈپٹی نذیر احمد کے ناول بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے تھے۔
بچوں کے بہت سے ادارے ایسے رہے ہیں جو بچوں کے لیے کتابوں کی اشاعت کے ساتھ بچوں سے وابستہ ادیبوں اور ناشران کے درمیان کڑی کا کام کرتے ہیں۔ ۱۹۸۷ء میں دعوۃ اکیڈمی نے ’’شعبہ بچوں کا ادب‘‘ قائم کیا تھا جس کے تحت معیاری اور بامقصد لٹریچر کی تیاری، بچوں کے لیے لکھنے والوں کی تربیت ورہنمائی کے لیے تربیتی کیمپوں اور ورکشاپس کا انعقاد، بچوں کی ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے کہانیوں اور مضامین نویسی کے کل پاکستان انعامی مقابلے، بچوں کے رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے بچوں کے رسائل کے جائزے اور بچوں میں صحت مند مطالعے کی عادات کو فروغ دینے کے لیے لائبریریوں کا قیام شامل ہے۔ اس ادارے نے بلا شبہ اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دیا۳۔
اقوام متحدہ کے ادارے اطفال (یونی سیف) نے ’’شعبہ بچوں کا ادب‘‘ کے ساتھ مل کر ۱۹۹۱ء سے لے کر ۱۹۹۳ء تک بچوں کی کتابوں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ جائزہ محمد اسحاق جلال پوری اور ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھرکی سر کردگی میں لیا گیا۔ یہ جائزہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں مختلف سرویز کے ذریعے بچوں کی پسندیدہ کتب، پسندیدہ مصنف اور ان اداروں کے حوالے سے رائے سامنے آئی جو بچوں کے لیے کتابیں شائع کرتے ہیں۔یہ جائزہ لیتے وقت بچوں کی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف گروہ بندیاں بھی کی گئیں ، جب کہ اس جائزے کے دوران بچوں کی کتابوں کے مقاصد بھی ایک عنوان کے تحت شائع کیے گئے ہیں ، اس کے مطابق بچوں کے لیے ادب کی تخلیق خاصی حد تک شعوری اور ارادی کوشش کا نتیجہ ہے چوں کہ اس کا براہ راست تعلق نو خیز اذہان کی نشوونما اور تشکیل وتعمیر سے ہے اس لیے چند رہنما خطوط کی طرف اشارہ کرنا بے محل نہ ہوگا۔ ادبِ اطفال کے لیے قلم اُٹھانے سے پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ اس تحریر کا مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد کا تعین واضح ہوگا تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ تحریر کا رخ صحیح سمت میں ہوگا۔ مقاصد کی مختصر سی تفصیل درج ذیل ہے:
لسانی مقاصد: ابتدائی عمر یعنی پرائمری کے قاری کے لیے ایسی زبان اور ایسے طرز بیان کی ضرورت ہے جس سے اس کے عملی ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہو‘ وہ معیاری زبان کی تحصیل کر سکے‘ اسے اظہار خیال کا سلیقہ آئے۔ معلومات کے ساتھ ساتھ اس کی لسانی اہلیت اور مہارت میں اضافہ ہو۔ اس مقصد کے تحت ضروری ہے کہ زبان کی صحت کا خاص اہتمام کیا جائے۔ بیان سادہ وسلیس ہو۔ اظہار میں الجھائو نہ ہو۔
اخلاقی مقاصد: ہر تحریر میں تشکیل کردار کے مقصد کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ کہانی وغیرہ کے موثر کر داروں کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنا کر پیش کیا جائے تاکہ قاری بچے ایسے کرداروں کو اپنا آئیڈیل بناسکیں۔ بُرے کردار اگر ضروری ہوں تو اُنھیں ایسے رخ سے پیش کیا جائے کہ بچوںکے دلوں میں ان کے افعال واعمال سے خود بخود نفرت پیدا ہو۔ وعظ کی ضرورت نہ پڑے۔
قومی وملی مقاصد: آج کا بچہ کل کا ذمہ دار شہری ہے لہٰذا اس کی تربیت میں قوم وملت کے ساتھ یک جہتی‘ قومی افتخار کا جذبہ‘قوم کے تحفظ واستحکام کے لیے عملی اقدام اور پاکستان اور اسلام کے حوالے سے ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفادات کے لیے جدوجہد کو تحریروں میں اس طرح سمویا جائے کہ وہ قاری کے ذہن میں راسخ ہوجائیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اہم معاشرتی مسائل مثلاً منشیات کا استعمال‘ماحول کا تحفظ‘ صحت وصفائی کے متعلق معلومات پہنچانا اور ان مسائل کے حل کے لیے بچوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اہم قومی فریضہ ہے۔
ادبی مقاصد: بچوں میں صحت مند ادبی ذوق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اچھی اور معیاری تحریریں بچوں میں تنقیدی شعور اُبھارنے میں معاون ہوتی ہیں۔ بچوں میں ذوقِ سلیم ہو تو وہ خود بخود مضر تحریروں سے پرہیز کرنے لگتے ہیں۔ اعلیٰ ادبی تحریریں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں بھی محرک ثابت ہوتی ہیں۔
تفریح: صحت مند تفریح ادب کا ایک اہم مقصد ہے۔ صاف ستھرے لطائف وظرائف معیاری مزاح نہ صرف لطف اندوزی کا ذریعہ ہے بلکہ قاری کی شخصیت میں نکھار‘ شگفتگی اور کشادہ ظرفی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ البتہ پھکڑپن‘ پست لطائف‘ شدید طنز اور کسی کی ذات،قوم، مذہب پر پھبتی وغیرہ سے جس قدر اجتناب ممکن ہو کرنا ضروری ہے۔
معلوماتی مقاصد: ہر لفظ‘ ہر جملہ‘ ہر عبارت کوئی نہ کوئی پیغام قاری تک پہنچاتی ہے اس طرح سبھی تحریروں کو معلوماتی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس مقصد کے تحت بچوں تک تاریخی‘جغرافیائی‘ تہذیبی‘ سائنسی(وغیرہ) معلومات کی فراہمی ہے۔ ایسی تحریروں کے قلم کاروں پر لازم ہے کہ وہ معلومات کی صحت کاخاص طور پر اہتمام کریں۔ شوق تحریر یا کلام میں رنگینی واستعجاب پیدا کرنے کی خاطر حقائق کو مسخ نہ کیا جائے۔ خاص طور پر دینی ادب میں معلومات کا مستند ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ سائنسی معلومات کی صحت کے لیے متعلقہ ماہرین سے توثیق کرانا بھی بہتر اور مناسب ہے۴۔
ان مقاصد کی روشنی میں کتاب سے مانو سیت بچوں کے لیے ضروری ہے، اس لیے والدین کی طرف سے ایسی کتابوں کو پڑھنے کی ترغیب اور رجحان ملتا ہے جو بچوں کو بااخلاق اور باتمیز بنائے۔ بچے کتابوں سے ا پنی قوت متخیلہ کو جلا بخشتے ہیں اور نت نئی چیزوں سے روشناس ہوتے ہیں۔ بچے کی زندگی سے کتاب کو نکال باہر کیا جائے تو ہمیں مستقبل میں ایک ایسا انسان ملنے کی توقع ہے جو احساس اور اخلاقیات سے عاری ہے۔
اسی طرح کتاب اور کتاب کو چھاپنے یا بنانے والے ہمیشہ سے اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ کتاب کو خوب صورت، دلکش بنانے کے ساتھ اس کی باطنی خوبی یعنی دلچسپ کہانیاں زبان وبیان اور املا کی غلطیوں سے پاک مواد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ کتابیں ناشران شائع کرتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسی کتابوں کو فروغ دیں جو بچوں کی دلچسپی کا محور بنے۔ بر عظیم میں بے شمار ایسے ناشران ہیں جنھوں نے بچوں کے لیے کتابیں شائع کیں۔
اس میں بہت سے ناشران ایسے رہے جنھوں نے صرف زیادہ سے زیادہ مال منفعت حاصل کرنے کے لیے کتابیں شائع کیں جب کہ اس کے مقابلے میں ان ناشران کی بھی کمی نہیں جنھوں نے نہ صرف خوب صورت کتابیں شائع کیں، ان کی زبان وبیان کا خیال رکھا اور قیمت بھی مناسب رکھی کہ کم آمدنی والے لوگ بھی اپنے بچوں کے لیے کتابیں خرید سکیں۔
بچوں کے لیے کتابیں شائع کرنے والے اداروں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ سر دست یہاں ان ناشران کا ذکر ہے۔ جو ۱۹۷۰ء سے ۲۰۰۰ء تک کتابیں شائع کرتے رہے ہیں۔ ہم اگلے سطور میں ان اداروں کا جائزہ لیں گے۔
٭…شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور
٭…فیروز سنز، لاہور
٭…ہمدرد فائونڈیشن پریس، کراچی
٭…دعوۃ اکیڈمی …شعبہ بچوں کا ادب،اسلام آباد
٭…سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
٭…اسلامک پبلی کیشنز، لاہور
٭…نیشنل بک فاؤنڈیشن پاکستان، اسلام آباد
٭…نیشنل بک کونسل آف پاکستان، اسلام آباد
٭… اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز، لاہور

شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور
کتاب چھاپنا اور فروخت کرنا ایک کاروبار ہے لیکن اگر اس کاروبار میں جذبہ الوطنی اور قومی درد بھی شامل ہوجائے تو یہ کاروبار قومی خدمت بھی ہے۔
شیخ غلام علی سنز کے قیام میں بھی یہی قومی جذبہ کار فرما تھا، تقسیم ہند سے قبل ہندو ہر شعبہ زندگی پر چھائے ہوئے تھے۔ کوئی کاروبار ایسا نہ تھا جس پر ہندوئوں کی اجارہ داری نہ ہو۔ ان حالات میں کسی مسلمان کے لیے کوئی بھی کاروبار شروع کرنا نا ممکن نہیں تو دشوار ضرور تھا۵۔
ایسے کٹھن دور میں شیخ غلام علی اینڈ سنز کا ۱۸۸۷ء میں قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہندوئوں کی پبلشنگ پر اجاراہ داری ختم ہوسکے ۔ ابتدا میں ادارے کا مقصد ہندو پبلشروں کے مقابلے میں منظور شدہ نصابی کتب شائع کرنا تھا۔ علاوہ ازیں ریفرنس بک اور اسلامی کتب شائع کرنے کا بھی ایک منصوبہ تھا۔ ادارہ اپنے ابتدائی مقاصد میں خاصی حد تک کامیاب رہا اور اس نے ہندوئوں کے مقابلے میں بہتر اور معیاری کتابیں شائع کر کے اپنے لیے ایک مقام بنایا۔ کم وبیش ڈیڑھ صدی کے اس سفر میں ’’شیخ غلام علی‘‘ نے انیسویں صدی کے اوآخر میں اس ادارے کا آغاز پہاڑوں، اٹلسوںاور امدادی کتب سے کیا تھا۶۔
قیام پاکستان کے وقت ادارے کے مالکان نے تشکیل نو کی اور حالات کے مطابق ادارے کے زیر اہتمام کتب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔
ان میں سب سے زیادہ جس بات کو ترجیح دی گئی وہ تھی نظریہ پاکستان اور اسلامی تاریخ۔ لہٰذا ادارے نے ایسی بے شمار کتابیں شائع کیں جن کی آج بھی اشد ضرورت ہے اور فروخت کے لحاظ سے جن کی آج بھی مانگ ہے۔ اسلامی تاریخ اور نظریہ پاکستان کے علاوہ ادارے نے اقبالیات اور بچوں کے لیے کتابیں شائع کرنے کا ایسا منصوبہ بنایا کہ یہ ادارہ بچوں کی کتابوں کے ناشر کی علامت بن چکا تھا۔
شیخ غلام علی ایک تجربہ کار اور جہاں دیدہ آدمی تھے جنھوں نے اپنی لگن، محنت سے اس ادارے کو تناور درخت بنایا۔ ان کے بیٹے ’شیخ نیاز احمد‘ نے اپنے والد کے تجربے سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے طباعت کے میدان میں کئی نئے اور کامیاب تجربے کیے اور اس درخت کی آبیاری میں کسی قسم کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔اس طویل سفر میں کئی سنگ میل عبور کیے گئے۔جن میں قرآن پاک کی اشاعت، منظور شدہ درسی کتب کی اشاعت، ماہنامہ دلگداز کا اجرا،ماہنامہ کتاب کا آغاز، بچوں کا ماہنامہ پھلواری اور خواتین کے لیے ماہنامہ تہذیب کا اجرا اس ادارے کے نمایاں کارناموں میں سے ایک ہے۔نئی نسل اور حالات حاضرہ کا ترجمان رسالہ پلک بھی اس ادارے کے تحت نکلتا رہا۷۔
بچوں کے لیے جگنو رسالہ کا اجرا اور بچوں کے لیے رنگین اور نئے تقاضوں کے مطابق دلکش کتابوں کی اشاعت بھی شیخ غلام علی اینڈ سنز کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اب تک مختلف موضوعات اور اصناف پر ہزاروں کتابیں اس ادارے کے تحت شائع ہوئی ہیں۔ ملک کے معروف مصنفوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس ادارے کو اُٹھان دی۔
شیخ غلام علی اینڈ سنز نے تفاسیر، احادیث، درس نظامی، وفقہی مسائل، سیرت وسوانح، تاریخ وسیاسیات، تاریخی ناول، معاشرتی ناول، جرم وسزا، ادبیات کلاسک، سفرنامے، لغت، تعلیم وتدریس، سائنسی معلومات عامہ، علم الصحت، موسیقی، طب، فن نفسیات، جنسیات، اُمور خانہ داری، اٹلس اور درسی کتب کا ایک وسیع ذخیرہ شائع کر کے اُردو زبان کے سرمایہ علمی میں اہم کر دار ادا کیا ہے۸۔
شیخ غلام علی اینڈ سنز سے شائع ہونے والی کتابیں جدید ترین طباعتی مراحل کے بعد صوری ومعنوی خوبیوں سے آراستہ کی جاتی ہیں۔ اس لیے اس ادارے کے تحت شائع ہونے والی ضخیم کتابوں سے لے کر بچوں کے لیے لکھی گئی کتابوں کی تزئین کاری پر بھی بھر پور توجہ دی جاتی تھی، اس ادارے کے تحت بچوں کے لیے معیاری اور ذہنی تعمیر کے لیے سود مند کتابیں شائع کیں جنھیں ملک کے معروف مصنّفین نے تحریر کیا جب کہ بہت ساری کتابیں ایسی بھی شائع کی گئیں جس میں نامور ادیبوں کی تحریروں کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان کتابوں کو ’منھ بولتی کہانی سیریز‘ اور ’عجوبہ کہانی سیریز‘ کا نام دیا گیا اور ان کتابوں کو باتصویر اہتمام کے ساتھ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ یہ کتابیں اگر چہ نئے پرنٹ کے ساتھ شائع نہیں ہورہی ہیں لیکن اس کے پرانے ایڈیشن آج بھی مقبول ہیں۔
مائی لارڈ حقہ، پیٹو بلی، مقدس جھوٹ، گنڈک کا بھوت، شکاری اور بھوت، دو آنے، جلیبیاں، جلاوطن، ناگ راجہ، لکڑ ہارے کا بیٹا، ایک آنکھ والا دیو، شہزادہ اور گلاب، کھلونوں کی بستی، ایک ٹانگ کا بادشاہ، سوت کا ریشم، جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا، وزیر کی دانائی، نیک دل بادشاہ، شیر آیا شیر آیا، کمو نکمو، چاربے وقوف اور اپریل فول جیسی ان کتابوں کو ملک کے معروف ادیبوںنے لکھا ہے۹۔
ان ادیبوں میں شوکت تھانوی، قرۃ العین حیدر، سعادت حسن منٹو، اشرف صبوحی، صوفی غلام مصطفی تبسم، عصمت چغتائی، غلام عباس، انتظار حسین، سید عابد علی، احمد ندیم قاسمی، شفیق الرحمان، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، الطاف فاطمہ، رضیہ فصیح احمد کے نام شامل ہیں۱۰۔
بچوں کے لیے لکھنے والے چند مشہور ادیبوں کے وہ ناول جنھوں نے ایک عرصے تک بچوں کو متاثر کیا،اُنھیں چھاپنے کا اعزاز بھی شیخ غلام علی اینڈ سنز کو حاصل ہے۔ ان میںمقبول جہانگیر کی پیپلن کافرار،پیپلن کی واپسی، جبار توقیر کا بھوتوں کا راز اور میں زندہ رہا، یو نس حسر ت کے مشہور ناول دولت پور کا چور، عقل مند شکاری، آسیب کا درخت، عزیز اثری کے ٹیڈی بوائے وہ مشہور ناول ہیں جنھیں شیخ غلام علی اینڈ سنز نے شائع کیا۔
طاہر لاہوری، رشیدہ رضویہ، وحید قیصر، اختر ملیح آبادی، اے حمید، محسن پرویز، ذوالفقار احمد تابش کی بھی کتابیں اسی ادارے نے شائع کیں۱۱۔
اس ادارے کے تحت بچوں کے لیے یکساں سائز کی معیاری اور وافر کتابیں ارزاں قیمت پر چھاپی ہیں۔ مسلمان مشاہیر کے حالات زندگی بھی شائع کیے گئے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے شائع کردہ پچاس پچاس پیسے اور روپے والی پاکٹ سائز کی کتابیں مقبول ہوئیں۱۲۔

فیروز سنز، لاہور
’’مولوی فیروزالدین خان‘‘ اپنے وقت کے جید علما میں سے تھے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے قرآن کا عربی سے فارسی اور اُردو میں ترجمہ کیا۔ ۱۸۹۴ء میں آپ نے ’’فیروز سنزگروپ‘‘ قائم کیا اور پہلے ’’فیروز سنز پبلشنگ ہائوس‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے مقاصد میں یہ بات شامل تھی کہ بر عظیم کے غیر مراعات یا فتہ طبقے کے لیے صحت اور تعلیم کے میدان میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ بعد ازاں ۱۹۵۶ء میں پاکستان کی اولین دو اسازکمپنی’’فیروز سنز لیبارٹریز لمیٹڈ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ کمپنی بھی صحت اور فلاح وبہبود کی خدمت کے ۶ عشرے پورے کر چکی ہے۱۳۔
’مولوی فیروزالدین‘ خود بھی کتابیں تالیف کیا کرتے تھے۔ اُنھوں نے اپنی تصانیف کاآغاز داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کا اُردو تر جمہ کر کے کیا۔ یہ برطانوی راج کا دور تھا۔ برعظیم پاک وہند پر اس وقت برطانوی راج تھا۔ اس وقت ہندوستان میں ڈائیریکٹر ایجوکیشن ولیم بیل (William bell) تھے۔ ان کے کہنے پر ہی مولوی فیروزالدین نے کتابوں کی طباعت واشاعت کا کام شروع کیا۔ فیروزسنز نے اپنے کام کا آغاز لاہور شہر سے کیا تھا۔ مولوی فیروز الدین کی خواہش تھی کہ جنوبی ایشیا کے اس پسماندہ ملک کو تعلیمی اور علم وادب کے لحاظ سے زر خیز کریں۔ اس پبلشنگ ہائوس کا مقصد کاروبار کے ساتھ ساتھ بر عظیم کے عوام میں خواندگی کی شرح میں اضافہ بھی پیش نظر تھا۱۴۔
۱۹۰۴ء کو کمپنی کے دفاتر اور پرنٹنگ پریس سرکلرروڈ سید انوار گیٹ پر منتقل کیا گیا۔ اسی طرح پہلی بک شاپ ۱۹۴۷ء میں لاہور کے مال روڈ پر قائم کی گئی جو کمپنی کا ہیڈ آفس بھی تھا۔ اس وقت فیروز سنز پاکستان کے ۲۶ شہروں میں اپنا نیٹ ورک پھیلائے ہوئے ہے جو کتابوں کی اشاعت، طباعت وفر وخت کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔ فیروز سنز کے کراچی میں اور روالپنڈی میں ایک ایک جب کہ لاہور میں پانچ کتابوں کے آوٹ لیٹس ہیں جب کہ ہیڈ آفس مال روڈ لاہور میں اسی طرح قائم دائم ہے۔ ۲۰۱۲ء میں فیروز سنز کی سب سے پہلی دُکان میں آگ لگ گئی۔ اس آگ کے نتیجے میں فیروز سنز (مال روڈ پر موجوددکان) کا لاکھوں کا نقصان ہوا اور اس دکان کو بحال ہونے میں مہینوں لگے بعد ازاں ۲۰۱۷ء کو اس قدیم برانچ کو خریدا روں میں کمی کے باعث بند کردیا گیا۱۵۔
فیروز سنز نے بچوں، بڑوں سبھی کے لیے کثیر تعداد میں کتابیں شائع کیں۔ جہاں بڑوں کے لیے شائع کی گئی کتابوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے وہیں بچوں کے لیے فیروز سنز نے کہانیوں، ناولوں، مضامین اور نظموں پر مشتمل بہت ساری کتابوں کو تیار اور شائع کیا۔
ابتدا میں فیروز سنز نے صرف بڑوں کے لیے کتابیں شائع کیں۔ ولیم شیکسپیئر اور چارلس ڈکنز کے علاوہ بہت سے دوسرے ناول نگاروں اور ڈراما نویسوں کے کلاسیکل ناولوں اور ڈراموں کو اُردو میں منتقل کیا۔ مولوی فیروز الدین خود بھی عالم اور ادیب تھے اس لیے اُنھوں نے جہاں بڑوں کے لیے کتابیںلکھیں وہیں بچوں کے لیے شیخ سعدی کی گلستان کو اُردو میں منتقل کیا، بچوں کے لیے کتابوں کا سلسلہ دبستان اخلاق کے نام سے چلایا جو بہت مقبول ہوا۱۶۔
مولوی فیروز کے بعد ان کے فرزند ’’اے وحید‘‘ ادارے کے شعبہ تصنیف وتالیف کے روح رواں بنے تو اُنھوں نے طباعت کو مزید بہتر اور اسے سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے کتابوں کو حسن اور نفاست کا لباس پہنایا۱۷۔
مختلف عمر کے بچوں کے لیے مختلف سلسلے چلائے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے رنگین کتابیں بھی پہلی بار فیروز سنز نے ہی شائع کیں۔
اُردو زبان کے پاس داستانوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان تاریخی کلاسیکل داستانوں کو بچوں کے لیے آسان زبان میں لکھوا کردیدہ زیب سیٹ کی صورت میں شائع کیا۔
تعلیم وتربیت فیروز سنز کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے اس ادارے کے ساتھ لوگوں کی ایک جذباتی وابستگی پیدا کردی۔ تعلیم وتربیت گزشتہ کئی عشروں سے بچوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت بھی سکھا رہا ہے۔ تعلیم وتربیتکی مکمل تفصیلات ہم دوسرے باب میں تفصیلاً بیان کر چکے ہیں۔ ۱۹۴۲ء میں شائع ہونے والے اس رسالے نے بچوں کے اَدب کو عروج بخشا۔ اس رسالے سے کئی نامور لکھاری پیدا ہوئے، وہیں بہت سے نامور لکھاریوں نے اس رسالے میں تسلسل کے ساتھ اپنا حصہ ملا کر اسے بچوں کا مقبول رسالہ بنادیا۱۸۔
تعلیم وتربیت کے کئی سلسلے کتابی صورت میں شائع ہوئے جب کہ فیروز سنز نے بہت سے ناول، کہانیوں کو براہ راست بھی کتابی صورت میں شائع کیا۔ فیروز سنز کی شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس نے پڑھنے والوں کو متاثر نہ کیا ہو۔ اس ادارے کی کتابوں کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور ان کتابوں کو حاصل کرنے کی تگ ودو کی جاتی ہے۔ان کتابوں کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں ہر موضوع اور ہر صنف میں کتابیں ملیں گی۔شاید ہی بچوں کا کوئی ایسا موضوع ہو جس کا احاطہ فیروز سنز نے نہ کیا ہو۔ضروری ہے کہ ان کتابوں کی چیدہ چیدہ باتوں کا تذکرہ کیا جائے، کیوں کہ ان کتابوں نے کئی نسلوں کو شادمانی بخشی ہے۔
فیروز سنز کے تحت ماہرین تعلیم نے رنگین اور تصویروں پر مشتمل بچوں کی تعلیمی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے، الف آم، بے بلی، بولتی الف بے، پھول اور کلیاں کتابیں تیار کی گئیں۱۹۔
مختلف سرگرمیوں کے حوالے سے بچوں میں جمالیاتی ذوق پیدا کرنے کے لیے بچوں کو جانی پہچانی تصاویر دی گئیں، یہ کتابیں رنگ بھریے کے عنوان سے چار حصوں میں شائع کی گئیں۔
اسی طرح جدید سلسلہ خوش خطی کے نام سے فن کتابت کے ماہرین سے کتاب مرتب کروائی گئی جس میں نقطوں سے لے کر دائروں اور کششوں تک تمام مدراج صاف اور واضح تھے۔
تین سے سات سال تک کے بچوں کے لیے ایسی دل چسپ اور دیدہ زیب کتابیں فیروز سنز نے تیار کیں جنھیں بچے خود بھی پڑھ سکتے تھے یا پھر اپنے والدین سے سن کر سمجھ سکتے تھے۔ ان کہانیوں کی کتابوں میں آؤ بچو سنو کہانی، الہ دین کا چراغ، اُلو کے گھونسلے سے، حاتم طائی، حاجی بغلول، خواجہ سگ پرست، سات تصویری کہانیاں، گدھے کی حجامت، گل بکاؤلی اور علی بابا چالیس چور شامل ہیں۲۰۔
سات سے دس سال تک کے بچوں کے لیے ایران، عرب، ترکی، انگلستان، جرمنی، روس، بلغاریہ، چین، جاپان اور برعظیم پاک وہند کی مشہور لوک کہانیوں کو جمع کرکے شائع کیا گیا تھا۔ ان کہانیوں میں ابو قاسم کے جوتے، بونے اور موچی، بزدل شکاری، بندر ناچا ناچی چڑیا، پتھر کا قلعہ، جیک اور جادو کے مٹر، سمندر کی شہزادی، عقل مند مرغی، شاداب نگر، کہو نمک نمک اور دیہاتی چوہا اور شہری چوہا شامل ہے۲۱۔
دس سے چودہ سال تک کے بچوں کے لیے مشہور ادیبوں کی مزاحیہ، مہم جوئی اور مختلف کارناموں پہ مبنی کہانیاں آدھا آدمی، انسپکٹر سعید کے کارنامے، پھول اور کانٹے، جاسوسی کہانیاں، چچا خیرو، حافظ جی، شکار کی کہانیاں، حکایات بوستاں اور وہ کون تھا؟ کو شائع کیا گیا۲۲۔
ناولوں میں بھی عمر کا لحاظ رکھا گیا تھا اور آٹھ سے دس سال تک کے بچوں کی ذہنی تفریح کے لیے ہلکے پھلکے اور مختصر ناول شائع کیے گئے، ان کی زبان آسان اور اندازِ بیان دل نشین رکھا گیا، ان ناولوں میں اُڑن طشتری، ایک بچہ ایک چور، بیس بہنوں کا کنبہ، بیس بہنوں کا بھائی، بیس بہنوں نے بلی پالی، بیس بہنوں کی نئی حویلی، پناکو کے کارنامے،جادو کا گھوڑا، جنوں کی پہاڑی، موتیوں کی وادی، ملاح کا بھوت اور ننھے جاسوس شامل ہیں۲۳۔
دس سے چودہ سال کے بچوں کے لیے جاسوسی اور سراغ رسانی، جان جوکھوں کے کارنامے، سائنسی مہمات، معاشرتی ناول، اُردو کلاسیکی ادب، غیر ملکی کلاسیکی ادب، داستان امیر حمزہ، طلسم ہوشربا، الف لیلیٰ کے ناول شائع کیے گئے تھے۔
ان ناولوں سے بچوں میں تجسس، جرأت وبہادری، بلند کرداری، انسانی ہمدردی، حب الوطنی اور سماجی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان ناولوں میں سراغ رسانی کے پراسرار وقعات بھی ہیں، جان جوکھوں کے کارنامے بھی، حیرت انگیز سائنسی مہمات بھی ہیں اور بچوں کے سماجی مسائل کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ ان ناولوں میں پلاٹ کو حقیقت سے قریب تررکھا گیا تھا اور بے سروپا اور مخرب الاخلاق باتوں سے انھیں دور رکھا۔
جاسوسی اور سراغ رسانی کے عنوان سے اُونچی حویلی کا راز، ایک ٹانگ کا آدمی، بھوت بنگلا، پانچ لاکھ،پرندے کا راز، چاندی کے چور،کلیم کے کارنامے، ناگ کا نشان، کامران اور بھارتی جاسوس، شاہین کی واپسی، سرفروش مجاہد، شیر دل ٹیپو، عرب کی بیٹی، کیا وہ چور تھا؟ منحوس قلعہ اور کالا جزیرہ شامل ہیں۲۴۔
سائنسی مہمات میں ارژنگ زمین پر، ارژنگ اور خلائی پہلوان، بھیانک غاراور جاسوس حجام کے نام سے ناول لکھے گئے تھے۔
اسی طرح معاشرتی ناولوں میں سرکٹا گھڑ سوار، عالی پر کیا گزری، چھہ بُرے لڑکے، میرا نام منگو ہے، دولت پور میں، سرکس کا ہاتھی، ننھے شیطان اور نور پور کی بستی شامل ہے۔
غیر ملکی کلاسیکی ادب میں ان دیکھی دنیا(The Lost World)، پراسرار آبدوز (Under the Sea)، چاند پر پہلا آدمی(ٖFirst Man on the Moon)، رابن سن کروسو(Robinson Crusoe)، غیبی انسان(The Invisible Man)، قیدی(Great Expectations)، گرہ کٹ(Oliver Twist)، مریخ کا حملہ(The Way of the World) اور سلیمانی خزانہ(King Solomon’s Mines) کو شامل کیا گیا ہے۲۵۔
داستان امیر حمزہ اُردو کی بہت مشہور اور طویل داستان ہے، اس کی چھیالیس جلدیں ہیں اور ہر جلد دو دوہزار صفحات پر مشتمل ہے، فیروز سنز نے معروف ادیب مقبول جہانگیر سے اس داستان کو بچوں کے لیے آسان زبان میں لکھوا کر اسے دس حصوں میں بادشاہ کا خواب، پراسرار جزیرہ، نوشیرواں کی بیٹی، امیر حمزہ میدانِ جنگ میں، امیر حمزہ کوقاف میں، شداد جادوگر، شہزادہ شہر یار، عیاروں کی حکومت، جادو کا شہر، آخری مہم کے ناموں سے شائع کیا گیا۲۶۔
طلسم ہوشربا، داستان امیر حمزہ ہی کا حصہ ہے۔ یہ داستان بھی بہت طویل ہے اور سات جلدوں اور بارہ ہزار کے صفحات پر مشتمل اس داستان کو اختر رضوی نے بچوں کے لیے دس حصوں میں مکمل کیا تھا۔ اس میں عمرو عیار کا مرکزی کردار دکھایا گیا ہے اور ساری سیریز عمرو کی غداری، عمرو کا بھوت، عمرو کے چیلے،عمرو کی گرفتاری، عمرو کی رہائی، عمرو کا انتقام، عمرو کی پریشانی، عمرو کے کارنامے اور عمرو کے انجام کے نام سے شائع کی گئی تھی۔ رتن ناتھ سرشار کی ہزار داستان کو مختصر کرکے الف لیلیٰ کے عنوان سے چھہ حصوں میں شائع کیا گیاتھا۲۷۔
بچوں کی دل چسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کے لیے ایسے مزاحیہ اور سبق آموز ڈرامے لکھے گئے جنھیں بچے آسانی سے کھیل بھی سکتے ہیں۔ ان ڈراموں میں افریقا والے چچا، پریوں کے محل میں، تیس مار خاں، نومی کے کارنامے، وہ لڑکی کون تھی؟اور حد ہوگئی شامل ہے۔
سائنس وایجادات کی ضمن میں فیروز سنز لمیٹڈ نے بچوں کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر کتابیں شائع کیں، ان کتابوں میں انسان کے کارنامے، زمین کے تحفے، ایجادوں کی کہانیاں، سائنس کی دنیا، سائنس کی حیرت انگیز باتیں، سائنس کے کھیلاور مؤجدوں کی کہانیاں شامل ہیں۲۸۔
کھیل اور مشغلوں کی بھی کتابیں فیروز سنز نے شائع کیں، ان کتابوں میں ہلکی پھلکی آسان ذہنی ورزشیں، معمے، پہیلیاں، دل چسپ لطیفے، کارٹون اور ردی کی چیزوں کو مفید کاموں میں صرف کرنے کے حوالے سے ترکیبیں بتائی گئی تھیں۔ ان میں بوجھو تو جانیں، جادو کے کھیل، جادو کے کمالات، دماغ لڑاؤاور فرصت کے کھیل شامل ہے۲۹۔
چھوٹے بچوں کو اسلامی عقائد سکھانے کے لیے اسلامی کتابیں، ارد گرد کے ماحول سے روشناس کرانے کے لیے معلوماتی کتابیں، اسی طرح مختلف ممالک کی تاریخ اور جغرافیے کے حوالے سے کتابیں، بانیان مذاہب اور بزرگان دین، طنزو مزاح کے حوالے سے ملانصیرالدین کے لطیفوں کی کتابیں فیروز سنز نے شائع کیں۔
شاعروں کے حالات اور ان کی شاعری کے نمونوں پر کئی کتابیں شائع کی گئی تھیں۔ بچوں کی نظموں کے حوالے سے شہلا شبلی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور سعید لخت کی جھنجھنا، جھولنے اور لال بجھکڑ کو بڑے اہتمام سے شائع کیا گیا۳۰۔
فیروز سنز کی ان تمام کتابوں کو معروف اہل قلم نے تحریر کیا۔ ترجمہ کیا اور مرتب کیا۔ ان معروف ادیبوں میں سعید لخت ، مقبول انور دائودی،عزیز اثری، مقبول جہانگیر ، یونس حسرت، اے حمید، سید نظر زیدی، ذوالفقار تابش ،حفیظ الرحمن احسن، جبار توقیر، شوکت ہاشمی،مقصود ایاز، صوفی غلام تبسم، قیوم نظر، خالد بزمی، ابصار عبدالعلی، فریدہ حفیظ، قمر احمد علی خان، بنت سمیرا، اختر رضوی وغیرہ شامل تھے۔
فیروز سنز چوں کہ ایک طباعتی ادارہ ہے اس لیے اس کی سرگرمیاں طباعت کی حد تک رہیں لیکن طباعت واشاعت کے اس میدان میں بچوں کے لیے سب سے زیادہ معیاری اور دل چسپ کہانیاں شائع کرنے کا اعزاز فیروز سنز کو حاصل ہے۔ ایک صدی سے زائد گزرنے کے باوجود فیروز سنز آج بھی پبلشنگ کے میدان میں مستقل مزاجی کے ساتھ موجود ہے۔ اگر چہ فی زمانہ کتابوں کے حوالے سے بڑی مایوس کن صورت حال سامنے آرہی ہے۔ جدید گیجٹس نے بچوں کے مطالعے کو جہاں متاثر کیا، وہیں والدین کی طرف سے تر جیحات کے تعین میں فرق کی وجہ سے کتابوں کی اشاعت پر فرق پڑا ہے۔
حکومت کی جانب سے بچوں کے لیے کتابیں شائع کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے تاکہ نئی نسل کا تعلق کتاب سے نہ ٹوٹے۔ کتاب سے کمزور تعلق معاشرے کو مجموعی طور پر کھو کھلا اور وحشی بنادیتا ہے۔ مختلف نقطہ نظر سے واقفیت کتاب بہم پہنچاتی ہے اور کتاب نہ پڑھ کر ایک ہی رائے قائم کر کے اس پر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جو فرد اور معاشرے کے لیے سم ِقاتل ہے۔

ہمدرد فائونڈیشن، کراچی
پاکستان کی علمی، ادبی، رفاعی اور فلاحی سر گرمیوں کو پروان چڑھانے کے لیے یکم جنوری ۱۹۶۴ء کو ’’ہمدرد فائونڈیشن ‘‘کا قیام عمل میں آیا۔ ہمدرد فائونڈیشن کے بانی حکیم محمد سعید تھے اور یہ ادارہ اپنے ابتدائی دنوں سے لے کر اب تک مکمل فعال رہا ہے۔
ابتدا میں ملک کے معروف دانشوروں کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ’’شامِ ہمدرد‘‘ کے اجلاس بلائے جاتے تھے۔ بعد ازاں ’شامِ ہمدرد‘ کو ’’شوریٰ ہمدرد‘‘ کا نام دیا گیا۔ ’شوریٰ ہمدرد‘ آج بھی ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی ،لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں منعقدہوتی ہے۔ حکیم محمد سعید اس ادارے کے بانی تھے اور اُنھوں نے بڑوں کے مقابلے میں بچوں کی تعلیم وتربیت اور تفریح کے لیے زیادہ تندہی کے ساتھ کام کیا۳۱۔
بچوں کی تعلیم وتربیت اور تفریح کے لیے ہمدرد نو نہال کا آغاز کیا جو گزشتہ ستر برسوں سے بلا ناغہ شائع ہورہا ہے۔ کئی نسلوں نے اس رسالے سے استفادہ کیا۔ ملک کے کئی نامور لکھنے والوں نے اپنے لکھنے کا آغاز ہمدرد نو نہال سے کیا ہے۳۲۔
اگست ۱۹۸۵ء میں ہمدرد نو نہال پڑھنے والے بچوں کے لیے ’’بزم ہمدرد نو نہال‘‘ کے نام سے سر گرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔یہ بزم صرف کراچی تک محدود تھی۔ ایک سال بعد ہی ’بزم ہمدرد نونہال‘ کی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھا کر راولپنڈی ، اسلام آباد، لاہور، پشاور کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔ ۱۹۹۵ء میں ’’بزم ہمدرد نو نہال‘‘ کا نام تبدیل کرکے اسے ’’ہمدرد نونہال اسمبلی‘‘ کرلیا گیا۳۳۔
’’ہمدرد نونہال اسمبلی‘‘ کے تحت ہر ماہ باقا عدگی کے ساتھ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں طلبہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ معاشرے کے نمایاں افراد اس اسمبلی میں بطور مہمان شرکت کر کے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمدرد نونہال میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ اسمبلی کی روداد شائع ہوتی ہے۳۴۔
بچوں کی تعلیم کے حوالے سے حکیم محمد سعید نے ’’ہمدرد پبلک اسکول‘‘ کاآغاز کیا جس میں کم وبیش پانچ ہزار بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ اسی طرح ادارہ ہمدرد بچوں کے لیے اسکالر شپ کا بھی اعلان کرتا ہے۔ اب سیکڑوں بچے ان اسکالر شپ سے مستفید ہوچکے ہیں۳۵۔
ہمدرد فائونڈیشن پریس نے بچوں کے لیے ان کے ذوق اور سن کے مطابق کئی منفرد اور دل چسپ کتابیں شائع کی ہیں۔ بچوں کی کئی نسلوں نے ہمدرد نونہال سمیت ان ناولوں اور کہانیوں کو ذوق وشوق کے ساتھ پڑھا ہے اور تقریباً ہر موضوع پر ادارہ ہمدرد فاؤنڈیشن نے کتابیں شائع کی ہیں۔
یہ کتابیں جہاں بے حد دل چسپ ہوتی تھیںوہیں ان میں موجود معلومات یا پھر اخلاقی اسباق بچوں کو ایک تہذیب سے آشناکرتی ہیں۔
ہمدرد فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر اسحاق جلال پوری لکھتے ہیں کہ ہمدرد اس ملک کا مشہور ادارہ ہے جو محض طبی یا تجارتی ادارہ نہیں بلکہ وہ بچوں (نونہالوں) کی تعلیم وتربیت کے لیے طویل مدت سے قابل قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’ہمدرد نو نہال‘‘ کے پرانے قاریوں کی اگلی نسلیں اس جریدے سے استفادہ کر رہی ہیں یہ رسالہ بچوں کے رسائل میں نمایاں اور منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ ’’ہمدرد فائونڈیشن ‘‘ نے ’’ نونہال ادب‘‘ کے نام سے بچوں کے لیے’’نفع نہ نقصان‘‘ کی بنیاد پر معیاری ‘ دیدہ زیب اور مناسب قیمت پر کتابوں کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا تھااور اس منصوبے کے تحت بچوں کے لیے سیکڑوں ٹائٹل شائع کیے گئے۔
فیروز سنز کی طرح ’’نونہال ادب ‘‘ کے تحت شائع ہونے والی کتابیں متنوع موضوعات پر محیط ہیں جن میں دینی تعلیمات ‘ سائنس ‘ تاریخ وسوانح‘ مہم جوئی‘ حفظان صحت اور تفریحی ومعلوماتی موضوعات شامل ہیں، ان میں دو اصناف ایسی بھی ہیں جنھیں اُردو کے ادب ا طفال میں منفرد اضافے کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں ایک حکیم محمد سعید کی ذاتی ڈائری پر مشتمل ’’سچی کہانی‘‘ ہے جو ہر ماہ کتابی سلسلے کی صورت میں شائع ہوئیں تھی۔ زیر نظر جائزے میں ۱۹۹۲ء کے آٹھ مہینوں کی ’’سچی کہانی‘‘ شامل ہے۔
کسی شخص کی ذاتی ڈائری میں خصوصاً بچوں کے لیے دلچسپی کا بہت کم سامان ہوتا ہے لیکن حکیم صاحب کی شخصیت اور ان کی متنوع مصروفیات میں بے شمار ایسے پہلو ہیں جن میں بچوں کے علاوہ بڑی عمر کے لوگوں کے لیے بھی معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ ان کتابوں میں حکیم صاحب نے نہایت آسان زبان اور دل نشین انداز تحریر اختیار کر کے بچوں کے ادیبوں کے لیے قابل تقلید نمونہ فراہم کیا ہے۔ حکیم صاحب کی سچی کہانی معمولات کا روکھا پھیکا روزنامچہ نہیں بلکہ ایک مقصدی اور متحرک زندگی کی رنگین تصویر ہے جس میں واقعات کے حوالے سے بچوں میں بامقصد ‘ منظم اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
جابجا‘ بالواسطہ طریق سے بچوں کو وطن سے محبت ‘ دین سے وابستگی‘ حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی‘علم نافع کے حصول اور عالم کے احترام کی ترغیب دی گئی ہے۔ یوں اس ذاتی ڈائری میں آفاقیت کا عنصر داخل ہوگیا ہے۔
بچوں کے ادب میںدوسرا اہم اضافہ ’’سعید سیاح‘‘ کے سفر نامے ہیں۔محترم حکیم صاحب بہت سی عالمی تنظیموں کے رکن کی حیثیت سے دنیا بھر کے ممالک میں جاتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود بچوں کے لیے اپنی سیاحت کے حالات واقعات کو قلم بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ سعید سیاح کے یہ سفر نامے واقعی منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں ملک ملک کی تاریخ ‘ جغرافیائی حالات‘ تہذیب وثقافت‘ مخصوص روایات کے بیان کے ساتھ صاحب نے اپنے تاثرات تحریر کیے ہیں۔ موقع ومحل کی مناسبت سے لطائف وظرائف کو بھی شامل کر کے اُنھوں نے ان تحریروں کو بھی روح افزا بنا دیا ہے۔
حکیم صاحب کسی بھی سر زمین میں اپنے دین و وطن اور ’’نونہالوں ‘‘ کو فراموش نہیں کرتے ۔ وہ قدم قدم پر سیاق وسباق کی مناسبت سے قاری کو اعلیٰ اخلاق اپنانے ‘ علم حاصل کرنے انسانی اقدار کا احترام کرنے اور انسانوں سے محبت کرنے کا درس دیتے ہیں۔
ان تحریروں میں ملت اسلامیہ کے لیے ہمدردی اور دل سوزی جگہ جگہ جھلکتی ہے۔ ہمدرد فائونڈیشن کا ذخیرہ ادب مقدار ومعیار کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نونہال ادب کی بیشتر کتابیں ۱۹۹۱ء میں یا اس کے بعد اشاعت پذیر ہوئی ہیں۔ ان کتابوں کی تخلیق وتدوین میں ملک کے بہت سے قلم کار شریک ہیں لیکن نونہال ادب کا عظیم اور وقیع سرمایہ حکیم محمد سعید کے رشحات قلم کا مرہون منت ہے۳۶۔
ہمدرد فاؤنڈیشن پریس نے بچوں کے لیے فیروز سنز کی طرح تقریباً ہر موضوع پر کتابیں شائع کی ہیں، ان میں نقوش سیرت اول تا پنجم، احسان کا بدلہ، چوتھا چور، کھجور کا باغ،ریشمی جوڑا، ابو علی کا جوتا، شیکسپئر کی تین ہنستی کہانیاں، شیکسپئر کی تین روتی کہانیاں، ایک پتنگ اور آسمان، اکیسویں صدی کی دہلیز پر، ٹام سائر کے کارنامے، سینگ کی تلاش، سونے کا پیالہ، گلاب ڈھیری کا نیلم، سفید ہاتھی، شہزادی کی تلاش، نئی دنیاؤں کی تلاش، چار کہانیاں، چالاک خرگوش کے کارنامے،علامہ دانش کے کارنامے، بانوں کا جزیرہ، غریب لکڑ ہارے کی کہانی، افریشیا کی کہانیاں، نابیناؤں کا مسیحا، آسیبی باؤلی کا راز، دور کے مسافر، ابابیل کا تحفہ، میں معذور نہیں، سینگ کی تلاش، سوجو کی نیند، شہر پتھر بن گیا، مونٹی کرسٹو کا نواب، پھل بولتے ہیں،امیر خسرو، مرزا غالب، اندلس کی فتح، انسانی جسم کے عجائبات، چاند کا مسافر، تین بے وقوف، ناصر شاہ کا خزانہ، مہرو ماہ وطناور پھول کھلے ہیں رنگ برنگے نمایاں ہیں۳۷۔
ان کتابوں کے مصنّفین بچوں میں معروف ہیں، بچے ان کی کہانیاں، مضامین اور نظموں کو پسند کیا کرتے تھے ۔ یہ ادیب بچوں کے لیے مستقل بنیادوں پر تسلسل کے ساتھ لکھتے تھے، ان میں حکیم محمد سعید، میرزا ادیب، مسعود احمد برکاتی، اے حمید، ڈاکٹر شان الحق حقی، عبدالحمید نظامی، جمیل الدین عالی، معراج، حسن ذکی کاظمی،ڈاکٹر انعام الحق کوثر، ظفر محمود، محمد سعید اختر، رفیع الزمان زبیری، حسن ، منظر، علی اسد، شکیل صدیقی، علی ناصر زیدی، عشرت رحمانی، ثروت صولت، فضل حق قریشی، توراکینہ قاضی، احمد خان خلیل، ستار طاہر، اسلم فرخی اور سید رشیدالدین احمد شامل ہیں۳۸۔

دعوۃ اکیڈمی کا شعبہ بچوں کا ادب، اسلام آباد
اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ ادارہ دعو ۃ اکیڈمی کے تحت ۱۹۸۷ء میں ’شعبہ بچوں کا ادب‘ بنایا گیا، اس ادارے کے پہلے ڈائریکٹر ’ڈاکٹر محمدافتخار کھو کھر‘ تھے۔ شعبہ بچوں کا ادب نے بچوں کے بے قاعدہ ادب کو با قاعدہ کردیا اور سائنسی بنیادوں پر بچوں کے ادب کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بچوں کے رسائل کا مختلف سروے سمیت اس کی جامع رپورٹ ہر سال شائع کی جانے لگی۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کام تھا اور اس کی مثال ترقی یافتہ ممالک میں بھی شاذ ونادر نظر آئے۳۹۔
شعبہ بچوں کا ادب کے حوالے سے معروف ناول نگار، سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں:

سچی بات ہے کہ میں نے لکھنا لکھانا بچوں کے ان رسائل سے ہی سیکھا جو بچپن میں پڑھتے تھے اور یہ بھی سچی بات ہے کہ جو خوشی ان رسائل میں صرف اپنا نام چھپ جانے سے نصیب ہوتی تھی وہ اب پوری کتاب چھپنے پر بھی نہیں ہوتی۔ مجھے خوشی ہے کہ دعوۃ اکیڈمی کا شعبہ بچوں کا ادب نئی نسل کے لیے مختلف چیزوں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے رسائل اور ان میں لکھنے والے بچوں کے لیے تربیتی پروگراموں کا باقاعدہ سے انعقاد کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بچوں کے رسائل کی سر پرستی کے نتیجے میں یہ رسائل ملک وقوم کے لیے مزید کارہائے نمایاں انجام دیں گے۴۰۔

میرزا ادیب شعبے کے کاموں کی تفصیلات بتا رہے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ ادب اطفال کی ترقی میں جو کردار شعبہ بچوں کا ادب نے ادا کیا ہے، وہ تاریخ ساز بھی ہے اور عہد ساز بھی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس ادارے نے بچوں کے لیے کتابیں تو شائع کی ہی ہیں مگر ان کتابوں کی اشاعت ہی اس کا طرہ امتیاز نہیں ہے ۔ کہانیاں دوسرے اداروں نے بھی چھاپی ہیں اور اس ادارے نے بھی لیکن اس ادارے نے کہانیوں کی اشاعت سے آگے بڑھ کر ایسے موضوعات کو بھی اپنایا ہے جو آج تک کسی اور ادارے کی سرگرمیوں کا محور نہیں بنے۔
۱۹۸۷ء سے لے کر اب تک دعوۃ اکیڈمی کے شعبہ بچوں کا ادب نے ہر سال بچوں کے ادب کے حوالے سے کیسے کیسے نہایت اہم اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات کئی جہات پر محیط ہیں۔ شعبے نے ہر سال باقاعدگی سے اہم موضوعات پر سیمینا ر بھی منعقد کئے ہیں۔ پاکستان کی مختلف زبانوں کی کہانیاں لکھنے والوں میں سے منتخب لکھنے والوں کو انعامات بھی دئیے ہیں۔ معاصر تنظیموں سے روابط بھی پیدا کیے ہیں۔ بچوں کے رسائل واخبارات کے ہفتہ وار صفحات اور کتب کے سالانہ جائزہ کو بھی اپنے پروگرام میں اہم جگہ دی ہے اور وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی ہے مگر جس کے لیے عملی قدم شعبہ بچوں کا ادب نے ہی اُٹھایا ہے۔
میری رائے میں اس ادارے نے اپنی مسلسل علمی ، ادبی اور عملی سر گرمیوں سے بچوں کے ادب کی ترقی وفروغ کے حوالے سے مختصر وقت میں وہ نہایت خوشگوار نتائج برآمد کیے ہیں جو ہمارے دوسرے ادارے سالہا سال کی جدوجہد سے بھی بروئے کار نہیں لاسکے۔ شعبے کی سر گرمیوں میں بڑا تنوع اور رنگا رنگی ہے۴۱۔
اہل علم اور اہل قلم حضرات کی یہ رائے بہت معنی رکھتی ہیں اور ادارے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
اس ادارے کو بہت سارے اعزاز حاصل ہیں اور ان اعزازات کو ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر نے بطور ریکارڈ اپنے پاس محفوظ بھی رکھا ہے۔ دعوۃ اکیڈمی ابتدا میں بچوں کی کتابیں شائع کیا کرتا تھا بعد ازاں ڈاکٹر افتخار کی ذاتی کوششوں سے شعبہ بچوں کا ادب کا قیام عمل میں آیا، اس ادارے کے تحت پچیس سال تک مستقل مزاجی کے ساتھ سالانہ قومی وصوبائی تربیتی کیمپوں کا انعقاد کیا گیا وہیں بچوں کے رسائل کے درمیان کسی خاص موضوع پر ہر سال خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جانے لگا۔
بچوں کے لیے لکھی جانے والی کتابوں کے مسوّدوں پر انعامات کے دعوۃ ادبی ایوارڈ کا اجرا کیا گیا جس کے تحت بچوں کے ادب کی پانچ اصناف ،نظم، کہانی، ڈراما، مزاح اور ناول پر دس دس ہزار روپے مالیت کے بالترتیب اسماعیل میرٹھی ایوارڈ، مرزا ادیب ایوارڈ، سید امتیاز علی تاج ایوارڈ اور عزیز اثری ایوارڈ شامل ہے۔ اسکول اور کالج کے طلبہ کے لیے لیڈر شپ کیمپ کے انعقاد بھی اس ادارے کے تحت کیے گئے۔ بچوں کے لیے کتابی سلسلہ گلدستہ کااجرا بھی ان کے دور میں ہوا۴۲۔
بچوں کے لیے کئی کتابیں دعوۃ اکیڈمی نے شائع کیں جن میں اُونچے درختوں کا باغ، تمھارا یہ آنسو، ٹیلی فون کی گھنٹی ، تین دوست ، سلطان کی سائیکل، سنگین وجہ، سالگرہ کا تحفہ، صبر کی چٹان، سات کہانیاں، روشنی کی تلاش، پیاری کہانیاں، پہلا فضائی حملہ ، نقصان کی تلافی، مثالی تاجر، خواب مرتے نہیں، خوش گوار حادثہ، خدا پر بھروسہ، کا یا پلٹ، کالا چور، حرکت میں برکت، بدیانتی کا انجام، آٹوگراف اور آہ کا اثر وغیرہ کتابیں شامل ہیں۴۳۔
کتابوں کی تیاری کے دوران بچوں کی عمر کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا، اس لیے پرائمری سطح پر بچوں کے لیے الگ کتابیں شائع کی جاتی تھیں ، جب کہ مڈل اور میٹرک تک کے بچوں کے لیے علیحدہ علیحدہ کتابوں کا اجرا کیا گیا۔ یہ کتابیں ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۳ء تک کے عرصے میں شائع ہوئیں۔ اس وقت سنسنی خیز مار دھاڑ یا پھر اخلاقی حدود کو پامال کر تی ہوئی کہانیاں اور ناولوں کی ایک کثیر تعداد مختلف ادارے شائع کررہے تھے۔ ان کے مقابلے میں دعوۃ اکیڈمی نے بچوں کے لیے صاف ستھرا ادب پیش کیا جو ناصرف دل چسپ تھا، بچوں کے لیے تفریح کا ذریعہ تھا، وہیں ان میں اعلیٰ اخلاقی قدریں بھی پیدا کررہا تھا۔
ان کتابوں میں بچوں کے بڑے اور اچھے لکھاریوں کی کہانیوں کو ڈاکٹر افتخار کھو کھریا ان کی ٹیم کا کوئی ممبر منتخب کرتا جسے بعد ازاں ادارہ شائع کرتا تھا۔ ان ادیبوں میں اشتیاق احمد، عنایت علی خان، مرزا ادیب، طالب ہاشمی، ڈاکٹر محمدافتخار کھوکھر، مظہر یوسف زئی، سید صفدر علی، رضوانہ معراج، طاہر یونس، اُم کاشان، پروفیسر محمد اکرم طاہر، زبیر طارق اور سید کاشان جعفری شامل تھے۴۴۔
سالانہ گلدستہ میں مختلف رسائل میں شامل سال کی بہترین تحریریں شائع کی جاتی تھیں۔ خاص نمبروں کی بہترین تحریروں کو پھول اور کلیاںکے نام سے شائع کیا جاتا تھا۔ بچوں کے ادیبوں کی ڈائریکٹری بھی اس ادارے کے تحت شائع کی گئی۔ دیگر زبانوں میں بھی کتب کی اشاعت کاسلسلہ شروع کیا گیا۔جس کے تحت انگریزی، سندھی اور پشتو زبان میں الگ الگ کتابیں شائع کی گئیں۴۵۔
شعبہ بچوں کا ادب کے تعاون سے پاکستان بھر سے شائع ہونے والے رسائل کے خاص شمارے شائع کیے جاتے تھے۔ان خاص شماروں کے موضوعات شعبہ بچوں کا ادب طے کرتا تھا۔خاص موضوعات پر بچوں کے ادب کی تخلیق کا یہ سہرا بھی شعبہ بچوں کا ادب کو جاتا ہے۔ بچوں کے رسائل نے شعبہ بچوں کا ادب کے تحت ان موضوعات پر خاص شمارے شائع کیے۔

۱۔ جہاد کشمیر نمبر (جولائی ۱۹۹۲ئ)
۲۔ حقوق اطفال نمبر (اپریل ۱۹۹۳ئ)
۳۔ خاص نمبر برائے خاص بچے (اپریل ۱۹۹۴ئ)
۴۔ محنت کش بچے (اپریل ۱۹۹۵ئ)
۵۔ فروغ تعلیم نمبر (۱۹۹۶ئ)
۶۔ اطفال پاکستان نمبر(اپریل ۱۹۹۷ئ)
۷۔ ماں نمبر (اپریل ۱۹۹۸ء )
۸۔ حقوق اطفال نمبر (نومبر ۱۹۹۹ئ)
۹۔ آزادی کشمیر نمبر (نومبر ۲۰۰۰)
۱۰۔ بچوں کے مسائل نمبر (جولائی ۲۰۰۱ئ)
۱۱۔ علامہ اقبال نمبر (جولائی ۲۰۰۲ئ)
۱۲۔ آزادی نمبر (اگست ۲۰۰۴ئ)
۱۳۔ قائد اعظم نمبر (دسمبر ۲۰۰۵ئ)
۱۴۔ عالم اسلام نمبر (۲۰۰۶ئ)
۱۵۔ تعمیر پاکستان نمبر (دسمبر ۲۰۰۷ئ)
۱۶۔ صحت وصفائی نمبر (دسمبر۲۰۰۸ئ)
۱۷۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر (دسمبر ۲۰۱۰ئ)۴۶

ان خاص نمبرز کی اشاعت سے جہاں بچوں کے رسائل میں مسابقت شروع ہوئی وہیں اس سے بچوں کے ادب کو فائدہ پہنچا، اگر چہ ان خاص نمبرز کے موضوعات خاص نمبر کے لیے کماحقہ نہیں تھے اور اس میں مزید اچھے عنوانات کو شامل کیا جاسکتا تھا۔
’شعبہ بچوں کا ادب‘ نے نیا پرچہ جاری کرنے کے بجاے ملک بھر سے شائع ہونے والے پرچوں کا جائزہ لیا۔ ان جائزوں کی وجہ سے رسائل نے اپنی کار کردگی بہتر بنانی شروع کردی اور جہاں جہاں رسائل کو کمزوری نظر آئی۔ اُنھوں نے اس شعبے کو بہتر بنایا۔ مثال کے طور پر کسی رسالے میں سائنسی کہانی شامل نہیں کی گئی۔اگلے سال اس جائزے کی وجہ سے ہمیں سائنسی کہانی رسالے کے کسی شمارے میں نظر آنے لگتی ہے۔ یہ جائزے ہر سال شائع ہوتے تھے۔
اسی طرح ’شعبہ بچوں کا ادب‘ کے تحت بچوں کے رسائل کا سالانہ، بچوں کی کتب کاتین سالہ، بچوں کے اُردو اور انگریزی ہفتہ وار صفحات کا جائزہ اور ٹی وی پر چلنے والے ٹی وی پروگراموں کا ناقدانہ جائزہ لیا گیا۔
شعبہ بچوں کا ادب کے تربیتی کیمپوں، سیمینا رز اور ورکشاپس میں متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی اور مہمانان گرامی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ان معزز افراد کی فہرست میں حکیم محمد سعید، ملک معراج خالد، ڈاکٹر افضل، پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹر محمود عارف، خالد رحمن سمیت کئی اہم نام شامل ہیں۔ اسی طرح کیمپوں میں آنے والے شرکا کو مختلف مربین نے لیکچر دیے۔لکھنے لکھانے کے گُر سکھائے،ادارتی امور کی انجام دہی کا طریقہ کار بنایا۴۷۔
ان مربین کی تعداد ویسے تو سیکڑوں میں ہے۔ سردست یہاں چند نمایاں اساتذہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔ان اساتذہ میں ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر محمود الرحمان، منشایاد، احمد حاطب صدیقی، شفق ہاشمی، اظہر نیاز، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر تحسین فراقی، سید قاسم محمود، اے حمید ، میرزا ادیب، طالب ہاشمی، سعید لخت، عزیز اثری، اشتیاق احمد، طارق اسماعیل ساگر، الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی، ڈاکٹر طاہر مسعود، مسعود احمد برکاتی، سلیم مغل،خیال آفاقی، عنایت علی خان، متین الرحمن مرتضی، عقیل عباس جعفری، نذیر لغاری کے نام نمایاں ہیں۴۸۔
دعوۃ اکیڈمی کے شعبہ بچوں کا ادب کا کام ہمہ گیر ہے۔ اپنی پچیس سالہ تاریخ میں اس ادارے نے بچوں کے ادب کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے فرو گذاشت سے کام نہیں لیا۔
شعبہ بچوں کا ادب کے قیام سے قبل بھی بچوں کا ادب تخلیق ہوتارہا۔ یہ ادب بکھرا ہوا موجود تھا۔ پاکستان بھر سے کتنے رسائل نکل رہے ہیں ۔ان میں کیا کچھ شائع ہورہا ہے یہ صرف اسے معلوم تھا جسے تمام رسائل اور کتابیں میسر تھیں اور انفرادی سطح پر اس کام کا ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔
شعبہ بچوں کا ادب نے ان تمام چیزوں کو منظم کرکے ان کی رپورٹ بنائی اور اسے عام افادے کے لیے شائع کر دیا۔ اس ادارے کے تحت ہونے والے تمام کاموں کی تفصیلات کو ڈاکٹر افتخار کھوکھر نے اپنی کتاب روشنی کا سفر میں بھی شامل کیا ہے، اس ایک ہی کتاب میں پاکستا ن میں بچوں کے ادب کی پچیس سالہ تاریخ سامنے آجاتی ہے۔
ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کام میں مزید وسعت آتی اور اس کام کا پھیلائو بڑھتا۔ یہ کام سکڑتا چلاگیا۔ اس کی اہم وجوہ میں سے دو وجوہ یہ ہیں ۔
۱۔ ڈاکٹر افتخار کھو کھر کی ریٹائرمنٹ اور ۲۔ یونیورسٹی کے طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی ۔
اس وجہ سے بچوں کے ادب میں اچانک ایک بڑا خلا آگیا۔ بچوں کے رسائل میں کیا چھپ رہا ہے؟ کتابیں کس قسم کی شائع ہورہی ہیں؟ اس حوالے سے مکمل تفصیلات کا شدید فقدان پیدا ہوگیا ہے اور اس کی کوئی سبیل نظر بھی نہیں آتی۔
شعبہ بچوں کا ادب کا سب سے نمایاں کام نوجوان اہل قلم حضرات کے لیے ایک ایک ہفتے پر مشتمل ورکشاپس کا انعقاد ہے۔ ان ورکشاپس میں سیکڑوں قلم کاروں نے شرکت کی۔ پاکستان میں موجود بچوں کے لیے لکھنے والے کم وبیش ۷۰ فیصد قلم کار ان دعوۃ اکیڈمی کی ان ورکشاپس سے مستفید ہوئے ہوں گے۔ ان ورکشاپس میں پاکستان کے تمام صوبوں سمیت، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا سے بھی قلمکاران کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔
شعبہ بچوں کا ادب کے پاس بہت بڑی ٹیم نہیں تھی، مختصر سے افراد کار کی مدد سے یہ سارے کام سر انجام دیے گئے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد افتخار کھوکھر کی سر کردگی میں محمد شاہد رفیع،عبد العزیز خالد، زبیر طارق، طارق انیس، عبد الرشید عاصم، رئیس احمد مغل، عبدالفریہ بروہی، سید وحید احمد، سید مزمل حسین، عامر حسن، محمد سلیمان اور عتیق الرحمن نے شعبہ بچوں کے ادب کو سینچا۔ ۱۹۸۷ء سے آغاز ہونے والے اس سفر نے پچیس برسوں تک جو شمع روشن کرکے بچوں کے ادب پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں، اس کا اثر برسوں تک محسوس کیا جائے گا۴۹۔

سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
سنگ میل پبلی کیشنز کو آج ہم ایک توانا روپ میں دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ ۱۹۲۶ء سے قائم اس ادارے نے طباعت واشاعت کے سلسلے کو ایک قرینہ اور وقار بخشا۔نیاز احمد اس ادارے کے بانی اور روح رواں تھے اور ۱۹۴۷ء سے طباعت کے اس شعبے سے وابستہ تھے۵۰۔
سنگ میل نے اپنے قیام کے دن سے اپنے اغراض ومقاصد طے کر لیے تھے اور ان مقاصد کے تحت یہ طے کیا گیا کہ تاریخ، اسلامیات اور ادب (شاعری ونثر) پر مشتمل کتابوں کی اشاعت کی جائے گی بعد ازاں اس میں دیگر موضوعات کو جگہ دی گئی جس کی وجہ سے دسمبر ۱۹۸۱ء تک ساڑھے سات سو کتابیں سنگ میل نے شائع کیں۔ سنگ میل نے اپنے اس سفر کو تیز تر کرتے ہوئے جاری رکھا اور اب تک ان کتابوں میں سیکڑوں مزید کتابوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔ مختلف موضوعات پر کتابیں سنگ میل نے شائع کی ہیں۔ سنگ میل نے تاریخ ،سوانح، پاکستانیات، قائد اعظم ، اقبالیات، اسلامیات، تنقید، شاعری، ناول، ڈراما، آپ بیتی اور لغت کے علاوہ بچوں کے لیے سیکڑوں خوب صورت ، دلکش کتابوں کی اشاعت کی ہے۵۱۔
سنگ میل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کی بہت سی کتابوں نے ادبی ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں ان کتابوں میں :
غالب اور انقلاب ستاون( ڈاکٹر سید معین الرحمن)،آپ بیتی رشید احمد صدیقی( ڈاکٹر سید معین الرحمن)، غزل دریا(محشر بدایوانی) ، خالی ہاتھ (ابصار عبدالعلی)،بہادر علی، بچوں کا ناول (قمر علی عباسی)، ارمغان حجاز، پنجابی ترجمہ(عبد الغفور اظہر)، اصناف ادب (ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی) سارا جہاں ہمارا(ابصار عبد العلی)، شرارتی خرگوش (قمر علی عباسی)،چپ چپیتی شام (راشد حسن رانا)، چراغ طاق جہاں (مرشد تاج سعید)شامل ہیں۔ سنگ میل نے انگریزی زبان میں بھی معیاری کتب شائع کی ہیں ان کتب میں اسلامیات، اسلام اور اسلامی قوانین کے ساتھ تاریخ کے موضوع پر اور حوالہ جاتی کتب کے علاوہ ناول بھی شامل ہیں۵۲۔
سنگ میل پبلی کیشنز نے ابھی ابتدا میں مشکلات دیکھیں ،خصوصاً کاغذ کی گرانی نے اُنھیں پریشان کیے رکھا اپنے ایک انٹر ویو میں وہ کہتے ہیں:
’’کتابوں کی قیمتوں میںروز افزوں اضافے کی بنیاد پر کاغذ کی گرانی اور کمیابی ہے اور پھر کاغذ ہی نہیں طباعت کی اشیا میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام اضافوں کا اثر کتاب کی قیمت پر پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود ہماری کتابیں دیگر ممالک کی نسبت سستی ہیں۵۳۔‘‘

۱۹۸۱ء میں جو مسائل سنگ میل کو پیش تھے کم وبیش یہ سارے مسائل آج بھی درپیش ہیں۔ کاغذ کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے ناشران کے کام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت کی جانب سے عدم تعاون اور مطالعے کے رجحان میں کمی،پی ڈی ایف کے ذریعے کتاب کی دستیابی نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
٭ ضروری ہے کہ حکومت کاغذ کی قیمتوں کو کم کر کے کنٹرول کر ے۔
٭ ملک میں کاغذ کی صنعت کو ترقی دی جائے اور کاغذ کی پیداوار کو بڑھایا جائے۔
٭ اس سب کے علاوہ طباعتی مٹیریل کی درآمد پر کسٹمر ڈیوٹی میں تخفیف کی جائے۔
سنگ میل پبلی کیشنز مصنف کی کاوش کا معاوضہ طے شدہ معاہدے کے مطابق اور بروقت ادا کر دیتا ہے اور رائلٹی بھی بر وقت دے دی جاتی ہے اس لیے ادارے کا کسی مصنف سے تنازعہ نہیں ہوا۔ مصنف اور ناشر کے درمیان پر اعتماد فضا قائم ہے اور مصنف اور ناشر اطمینان کے ساتھ تخلیق اور ترویج کتب کے اہم فریضے کو بہ حسن خوبی سر انجام دیتے ہیں۵۴۔
سنگ میل نے ایک کام یہ بھی کیا ہے کہ نایاب کتابوں کے ری پرنٹ بھی شائع کیے۔ ری پرنٹس دانش وروں اور محقّقین کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں کیوں کہ ان کی کتابوں تک رسائی نہیں ہوتی اور پھر ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ وہ لائبریریوں میں اپنی مطلوبہ کتابوں کے لیے پریشان ہوتے پھریں۔ ادارے نے ایسی بہت سی کتابیں شائع کیں جو لوگوں کی دسترس میں نہیں تھیں۔ ان میں ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو ڈیڑھ سوسال دو سو سال پہلے شائع ہوئی تھیں۔
سنگ میل پبلی کیشنز نے بچوں کے لیے کہانیاں، ناول اور ڈرامے بھی شائع کیے ہیں۔ یہ کتابیں ملک کے معروف قلم کاروں نے تحریر کیں۔ ان ادیبوں میں قمر علی عباسی، میرزا ادیب، ابصار عبد العلی، رضا علی عابدی، امجد اسلام امجد، انتظار حسین، حفیظ سرور ،کشور ناہید، امتیاز علی تاج ،ڈپٹی نذیر احمد اورحسین سحر کے نام نمایاں ہیں۵۵۔
سنگ میل کی شائع کردہ کتابوں میں زندگی کے چند سنہری اصول، آنکھ مچولی، چچا چھکن،ہونہار بیٹی، نانوں کی عینک، گھاس کی گڑیا، مینا نے گڑیا کو کیسے ہنسایا، دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں، آزادی کی خوشی ، مغلوں کی سلطنت ، گیت ہمارے ، موگلی جنگلی لڑکا، کِم کی کہانی ، چیتے کے نشان، چمپا،قاضی جی کا اچار، پہلی کرن،سونے کی کلھاڑی، ننھا تیر انداز ، سارا جہاں ہمارا، کلیہ ودمنہ، کمال کے آدمی اور گنگنا تا قاعدہاور سورج کے دیس سے شامل ہیں۵۶۔
سنگ میل نے بچوں کے لیے کتابیں شائع کی ہوں یا بڑوں کے لیے ان میں ایک معیار قائم رکھا ہے۔ اسی وجہ سے سنگ میل کی کتابوں میں ہمیں نامور ادیب نظر آتے ہیں۔ بانو قدسیہ کا راجہ گدھ ، اشفاق احمد کا زاویہ،قدرت شہاب کا شہاب نامہ،رضاعلی عابدی کی جرنیلی سڑک سمیت تقریباً تمام کتابیں ، عبداللہ حسین کی اداس نسلیں، مستنصر حسین تارڑ کی تقریباً تمام کتابیں بشمول غار حرا میں ایک رات اور جپسی شامل ہیں۔ شفیق الرحمن کی حماقتیں، سعادت حسن کی منٹو نامہ اور ڈاکٹر صفدر محمود کی مشہور زمانہ کتاب پاکستان کیوں ٹوٹا بھی سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کیں۵۷۔

اسلامک پبلی کیشنز ، لاہور
اسلامک پبلی کیشنز ۱۹۵۹ء میں ایک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر کراچی میں قائم ہوئی۔ ۱۹۶۱ء میں کمپنی کا ہیڈ آفس لاہور منتقل کر دیا گیا اور پھر شاہ عالم مارکیٹ لاہور میں وسیع پیمانے پر اشاعت کا کام شروع کیا گیا۔ ’میاں طفیل محمد‘ اور ’چودھری غلام محمد‘ اس کے بانیان میں شامل تھے جب کہ ’اشفاق مرزا‘ تیس سال تک کمپنی کے انچارج رہے اور بڑی سرمایہ کاری کرکے کمپنی کے کام کو وسعت دی۔ ۱۹۹۰ء میں ’پروفیسر محمد امین جاوید‘ اس ادارے کے ڈائریکٹر بنے۔ بعد ازاں ’عبدالحفیظ احمد‘ نے ادارے کی زمامِ کار سنبھالی۔ مئی۲۰۱۵ء میںعبد الحفیظ احمد کے انتقال کے بعد ’طارق محمود زبیر‘ کو مئی ۲۰۱۵ء میں منیجنگ ڈائریکٹرمقر ر کیا گیا۵۸۔
اسلامک پبلی کیشنز وہ منفرد اشاعتی ادارہ ہے جسے سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکی تخلیقات شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ادارے کی کوشش ہے کہ احیائے اسلام کے لیے اس نایاب ادب کو جدید تقاضوں کے مطابق سامعین تک پہنچانے کی کوشش جاری رکھے اور اشاعت کے جدید طرزکو اپنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑے، اس کے علاوہ ادارہ ہذا کو مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر لعل چاؤلہ، پروفیسر عبدالحمید صدیقی، پروفیسر خورشید احمد سمیت دیگر کئی علمی دانشور ان کی کتابیں شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہے۵۹۔
ادارے کے اغراض ومقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ دین اسلام کو تمام عالم میں کتابی صورت میں روشناس کرانا، دنیا کے دیگر مذاہب کے وہ پیروکار جو اسلام اور اسلامی قوانین کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی خواہش کرتے ہیں۔ ان کی اس ضرورت کو پورا کرنا، تحقیقی‘ سوانحی ‘تاریخی‘ تاریخ اسلام کی تدوین اور قرآن پاک کی اشاعت ادارے کے منصوبوں میں پیش نظر ہے۶۰۔
اسلامک پبلی کیشنز نے اب تک اُردو اور انگریزی زبان میں ۷۰۰ کتابیں شائع کی ہیں۔ جن میں ۲۰۰ کتابیں انگریزی کی شامل ہیں۔ادارے کے تحت قرآنی تفسیر، کتب حدیث، فقہ وتاریخ، اخلاقیات معاشرت، تعلیم وتربیت اور خواتین کے لیے کتابیں شائع کی گئی ہیں جب کہ بچوں کے لیے ان کے ذہنی استعدکار کے مطابق ۱۱۵ دل چسپ کتابیں شائع کی گئیں۶۱۔
بچوں کی ان کتابوں میں زیادہ تر کتابیں اخلاقی اور اسلامی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ کتابیںبغیرتصاویر کی شائع کی گئی ہیں، اگر چہ اس وجہ سے وہ دلکشی اور جاذبیت نظر نہیں آتی جو ہمیں فیروز سنز اور شیخ غلام علی اینڈ سنز کی کتابوں میں ملتی ہیں مگر اپنے دلچسپ موادکی وجہ سے بچوں نے ان کتابوں کو رغبت سے پڑھا ہے۔ مائل خیر آبادی بچوں کے معروف ادیب ہیں اور ان کی کہانیاں بچوں کو بہت بھاتی ہیں۔ وہ بچوں کا دل موہ لینے کا گُر جانتے ہیں ، اس لیے ان کے اسلوب میں ایک بے ساختگی اور بے تکلفی ہے ،اس سادگی اور بے تکلفی کے سبب بچوں کو تحریر میں وعظ ونصیحت بھی گراں نہیں گزرتی۔ پاکستان میں مائل خیرآبادی کی سب سے زیادہ کتابیں شائع کرنے کا اعزاز بھی اسلامک پبلی کیشنز کو حاصل ہے۔
مائل خیرآبادی کی کتابوں میں آج کا حاتم(ناول)، ابن بطوطہ کا بیٹا، اچھے افسانے، اچھی نظمیں، امرود بادشاہ، بنت اسلام، بہت خوب بھولے بھیا، بے وقوف کی تلاش، پھول کی پتی، تین مددگار، جانباز ساتھی، دانا حکیم، دلہن بھابی، سیرت اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، طفلستان، طویلے کی بلا، شہزادہ توحید، مرحلے (آپ بیتیاں)، مرد ناداں، گڈو کی گڑیا، گڑیا کا وعظ، گڑیا کی نظمیں اور مہمان ریچھ ان کی نمایاں کتابیں ہیں۶۲۔
جب کہ دیگر ادیبوں میں افضل حسین ایم اے، محمد عبدالحئی، ابن احمد قرنی، راجہ محمد یعقوب، نزہت اکرام، پروفیسر عنایت علی خان، ڈاکٹر محمود الرحمن، حمیدہ بیگم بی اے، عبد الشکور اور سید اختر یوسفی شامل ہیں۶۳۔
ان ادیبوں کی کتابوں میں لاسلکی کی کہانی، کیا مسافر تھے، قہر کی آندھی، ماں کی عظمت، مرغ کا سالن، موتیوں کا ہار، میں رانی تورانی، دس سیر لکڑیاں، سیرت اما م المومنین حضرت صفیہ بنت حئی، سنیچر والے اور عید کا تحفہ شامل ہیں۶۴۔
اسلامک پبلی کیشنز نے اگر چہ بچوں کے لیے بہت ساری کتابیں شائع کی ہیں لیکن ان کتابوں کی تزئین وآرائش کے حوالے سے کمی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے، اس کمی کے باعث بہت اچھی تحریریں بھی نمایاں نہیں ہوپاتیں۔ ایک طویل عرصے سے کتابیں شائع کرنے والے ادارے نے اپنی بساط کے مطابق بچوں کے لیے جو کتابیں شائع کی ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اچھی تزئین کاری کے ساتھ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ کتابیں شائع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں جو دیگر سرگرمیوں میں اُلجھ کر مطالعے سے دور ہوتی جارہی ہیں وہ ان اچھی کتابوں کے ذریعے دوبارہ اَدب سے جڑسکیں۔
ہمیں عموماً یہ شکایت تو رہتی ہے کہ بچے کتب بینی سے دور ہیں اور اپنے وقت کا اسراف کرتے ہوئے دیگر الیکڑانک چیزوں میں اُلجھے رہتے ہیں اس کی اہم وجہ تو ہمارا بچوں کی کتابوں کے ساتھ رویہ ہے۔ اچھے مواد کے باوجود کتاب کی پیشکش اس بُرے طریقے سے کی جاتی ہے کہ جس کی وجہ سے اچھی سے اچھی کہانی اپنا اثر کھودیتی ہے یا کم کر دیتی ہے۔

نیشنل بک فائونڈیشن پاکستان، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے ۱۹۷۲ء میں نیشنل بک فائونڈیشن کا ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے اغراض ومقاصد یہ طے کیے گئے کہ غیر ملکی نصابی کتب کے مقابلے میں پاکستان میں معیاری کتب لکھوا کر مصنّفین کی حوصلہ افزائی کرنا، مقامی اور غیر ملکی کتب کے اُردو اور پاکستان کی دوسری زبانوں میں تراجم کروانا، تخلیقی کتب اور ملکی وغیر ملکی شائع شدہ کتب کی مقامی طور پر اشاعت سمیت ایسے پروگرامات اور اقدامات کی ابتدا کرنا جن سے کتاب کی ترقی وترویج اور خواندگی میں اضافہ ہو۶۵۔
اسی طرح اس ادارے کے ذمے یہ کام بھی تھا کہ بچوں اور نئے خواندگان بچوں میں پڑھنے کے رجحان کو فروغ دینا، بچوں کے لیے مناسب مسودات اور نصاب سے ہٹ کر عمدہ نوعیت کا مواد شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے کوشش کرنا۔ بچوں اور بڑوں کے لیے دوست ممالک اور اچھی ساکھ رکھنے والے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تعاون سے اچھی اور بامقصد کتب کی ترویج واشاعت بھی نیشنل بک فائونڈیشن کی ترجیحات میں شامل ہیں۶۶۔
اس ادارے نے کئی محاذوں پر کتب بینی کے فروغ کے لیے اقدامات کیے۔ ریڈرز کلب کے ذریعے ایک اسکیم متعارف کروائی گئی جس کے تحت ۵۰ فیصد رعایت کے ساتھ کتابیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جرمنی کی این جی او GTZ کے مالی تعاون سے نیشنل بک فائونڈیشن نے ایک طویل عرصے تک بچوں کے لیے بامفید، دل چسپ ادب کی تخلیق کے لیے قومی سطح پر لاکھوں روپے کے انعامی مقابلوں کا انعقاد کیا۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے تحت ہر سال قائد اعظم ، علامہ اقبال اور تحریک پاکستان کے موضوعات پر شائع شدہ کتب کا مقابلہ ہوتا ہے، جس میں تحریک پاکستان کے حوالے سے بچوں کے لیے لکھی گئی بہترین کتابوں کو انعامات واعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن مختلف کتب میلوں کا بھی اہتمام کرتی ہے، اس ادارے کے تحت جہاں بڑوں کے لیے بہت ساری کتابیں شائع ہوئیں، وہیں کم قیمت اور اچھی طباعت کے ساتھ بچوں کے ادیبوں کی بھی کتابیں شائع کی گئی ہیں۶۷۔
نیشنل بک فائونڈیشن نے قومی وعلمی موضوعات پر مبنی تاریخ ، علم وادب ، فلسفہ،نفسیات ، سائنس، جغرافیہ، اخلاقیات، اسلامی علوم، تحقیق وتنقید ،جنرل نالج اور بچوں کے ادب پر مشتمل اعلیٰ معیار کی کتابوں کی اشاعت کی ہے۔ ۲۰۰۹ء میں عالمی معیار کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر پبلی کیشنز کے نام سے ایک سیکشن بنایاگیا جس میں کردار سازی، قومی یگانگت کے فروغ، مثالی معاشرے کا تشکیل اور پاکستان کے سافٹ امیج کو اُبھارنے کے لیے جدید دور کے مطابق جدید موضوعات پر کتابیں شائع کیں۶۸۔
نیشنل بک فائونڈیشن ۱۹۹۵ء سے نیشنل کر یکولم کے مطابق اسکولوں اور کالجز کے لیے نصابی کتب بھی تیار کر رہا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں اپنی نوعیت کا منفرد نیشنل بک میوزیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اس ادارے کے نمایاں کاموں میں بصارت سے محروم افراد کے لیے بریل پریس کے ذریعے قرآن پاک، تیس پارے اور مختلف علمی کتابیں تیار کی گئیں وہیں بیرون ممالک میں پاکستانی مشنز، ایمبسیوں، پاکستانی چیئرز اور ان جامعات کو جہاں اُردو پڑھائی جاتی ہے، ہر سال لاکھوں روپے مالیت کی کتابیں بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۶۹۔
نیشنل بک فائونڈیشن نے بچوں کے لیے درج ذیل نمایاں کتابیں شائع کیں:
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،قرآن کہانی، ملانصیرالدین کے پرانے قصے نئے روپ میں، نگر نگر کی کہانیاں، بہت دنوں کی بات ہے، سورج کی تلاش، دوسری دفعہ کا ذکر ہے ، جن دادا، گلیور کی سیاحتیں، کارنامے نواب تیس مار خان کے، بچوں کے لیے باغ وبہار۷۰۔
اگر نیشنل بک فائونڈیشن کی بچوں کے لیے شائع کردہ کتابوں میں مزید بہتری آسکتی ہے۔ کہیں کہانیوں کے معیار میں کمی اور کہیں تزئین کاری کے مسائل کی وجہ سے بیشتر کتابیں سستی ہونے کے باوجود اثر پذیر نہیں ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے لیے بچوں کے معروف قلم کاروں نے اپنا حصہ ڈالا اور بچوں کے ادب میں اچھا اضافہ کیا۔
ادارے نے ان مصنّفین کی کتابیں شائع کیں:
غلام مصطفی تبسم، چراغ حسن حسرت، ابن انشا، محمود شام، غلام حسین میمن، رشید بٹ، کشور ناہید، ریاض عادل ،ستار طاہر، رئیس فاطمہ، پرویز عفت گل ا عزاز، محمد نوید مرزا، محمد شعیب خان، ڈاکٹر قاری محمد طاہر، پروفیسر حسین سحر۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن پاکستان، حکومت پاکستان کا ادارہ ہے اور اس کے تحت بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہمہ جہت کام ہوسکتا ہے۔ بچوں کے ادب میں دعوۃ اکیڈمی کے شعبہ بچوں کا ادب کی غیر فعالیت کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے نیشنل بک فاؤنڈیشن پُر کرسکتا ہے۔

نیشنل بک کونسل آف پاکستان، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے ۱۹۶۰ء میں نیشنل بک سینٹر آف پاکستان کا ادارہ قائم کیا۔ بعد ازاں ۱۹۷۵ء میں اس ادارے کے دستور اور ذمہ داریوں میں نظر ثانی کر کے اسے ’’نیشنل بک کونسل آف پاکستان‘‘ کے نام سے ازسر نو منظم کیا گیا۷۱۔
کسی بھی ملک کی تعلیمی اور ثقافتی ترقی کا دارومدار براہ راست تمام سطح کے قارئین کو ان کی زبانوں میں موزوں مطالعاتی مواد کی فراہمی پر ہوتا ہے، یہ بات خاص طور پرایشیائی ممالک پر صادق آتی ہے جہاں نہ صرف خواندگی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے بلکہ قومی زبانوں کو ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور انھیں سرکاری زبانوں کا درجہ دیا جارہا ہے۔
کسی بھی ملک میں مطالعاتی مواد کی فراہمی کا دارومدار کتاب سے آگاہی پر ہوتا ہے جسے ایک مؤثر ایجنسی کی وساطت سے فروغ دینا چاہیے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے وفاقی وزرات تعلیم کے تحت ’’نیشنل بک کونسل آف پاکستان‘‘ قائم کی۔ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ‘ تعلیم کے پھیلائو اور خواندگی کی تحریکوں کے اجرا کے نتیجے میں ملک میں ہر قسم کی کتابوں کی ضرورت اور اشتہا کئی گنابڑھ چکی ہے جب کہ بالخصوص تکنیکی اور سائنسی تعلیم کے شعبوں کی کتابوں کی رسد اور طلب میں بڑا خلا ہے چناں چہ ملک میں کتابوں اور مطالعاتی مواد میں اضافے کے لیے نئی تعلیمی پالیسی میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔
کتابوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے حکومت پاکستان ’نیشنل بک کونسل آف پاکستان‘ کو ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کے لیے اس کی تنظیم نو کے ساتھ ساتھ اس کے وظائف وفرائض پر بھی نظر ثانی کر رہی ہے۔ نیشنل بک کونسل کے فرائض درج ذیل ہیں:
۱: قومی کتابی ترقی کی پالیسی مرتب کرنا اور اس پر عمل کرناــــ‘ حکومت اور پرائیویٹ شعبوں کے متعلقہ اداروں
بشمول مصنفین‘ پبلشرز، پرنٹرز کی پیشہ ورانہ تنظیموں کے تعاون سے منصوبہ بندی کرنا۔
۲: گاہے گاہے عوام کے مختلف طبقوں کی مطالعاتی ترجیحات معلوم کرنا۔
۳: بک انڈسٹری کے مختلف شعبوں کے بنیادی مسائل کا مطالعہ کرنا اور جائزہ لینا‘نتائج کو شائع کرنا اور حکومت
کی مختلف ایجنسیوں ‘متعلقہ شعبوں اور سر پرستی کرنے والے دیگر اداروں کے تعاون سے ان مسائل کو
(INNOVATIONS) سے حل کرنا۔
۴: بک پروڈکشن‘ بک پروموشن اور کتابوں کی تقسیم کے لیے‘ تحریر، تدوین اور ترجمے کی جدید تکنیکوں اور
مہارتوں کو تربیتی کورسز ‘ورکشاپیں‘مینو ئلز اور دیگر رہنما ذرائع سے متعارف کرانا۔
۵: ملک میں مختلف زبانوں میں چھپنے والی کتابوں کے جملہ کوائف اکھٹے کرنا اور انھیں کتابیات اور رہنما لسٹوں
اور رپورٹوں وغیرہ کی صورت میں شائع کرنا۔
۶: مصنّفین‘ پبلشرز‘ بک سیلرز‘ کتب خانوں‘ مصوروں‘ جلد سازوں وغیرہ کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور
ڈائر یکٹریوں اور ریسرچ ہسٹری کی صورت میں شائع کرنا۔
۷: قومی اور عالمی سطح پر کتابی نمائشوں ‘کتاب میلوں اور مقامی گشتی نمائشوں کا اہتمام کرنا۔
۸: مختلف ذرائع سے نئی اور اہم مطبوعات کی تشہیر وتقریب کرنا۔
۹: ملک میں معیاری کتابوں کے مصنّفین‘ پیش کاروں (پروڈیوسر) اور مصوروںکی حوصلہ افزائی کی خاطر بک
پرڈکشن ایوارڈز کا اہتمام کرنا۔
۱۰: بک ٹریڈ سے متعلق کتابوں اور جرائد کی ایک معیاری لائبریری کے ذریعے ‘بک انڈسٹری کے مختلف شعبوں
کو کتاب معلومات سر وس ( بک انفارمیشن سروس) فراہم کرنا۔
۱۱: کو پبلی کیشن پروگرام کے تحت خصوصاً بچوں اور نوخواندہ لوگوں کے لیے بہتر مطالعاتی مواد کی فراہمی کے لیے
اقدام کرنا۔
۱۲: وزارت تعلیم اور یونیسکو نیشنل محققین کے ایما پر یونیسکو اور کتابی دنیا سے وابستہ دوسری متعلقہ ایجنسیوں سے
بین الاقوامی اور ریجنل پروجیکٹس میں اشتراک واہتمام کرنا۔
۱۳: بک انڈسٹری کے جملہ شعبوں کو آپس میں ہم آہنگ اور متحد کرنے کے لیے ایک باہمی ضابطہ اخلاق
مرتب کرنے پر آمادہ کرنا۔
۱۴: خواندگی اور تعلیمی ضرورت اور رفتار کے مطابق اچھی‘ ارزاں اور وافر کتابوں کی فراہمی کے لیے انسانی اور
مادی ذرائع کو بروئے کار لانا۷۲۔

’نیشنل بک کونسل آف پاکستان ‘نے اپنے قیام کے ساتھ ہی تندہی کے ساتھ ملک بھر میں علمی وادبی سر گرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھر پور کردار ادا کیا۔ خصوصاً بچوں کے ادب کے مختلف پہلوئوں پر بڑے ادیبوں کو مختلف سیمینا رز میں مدعو کرنا، ان سے مقالے لکھوانا اور مختلف تجزیوں اور تجاویز کو ماہنامہ کتاب میں شائع کرنا، مختلف شہروں میں بچوں کی کتابوں کی نمائشوں کا انعقاد، ادارے کا بچوں کی تعلیم وتربیت پر سنجیدگی کا مظہر تھا۔
یونیسکو نے ۱۹۷۹ء کو عالمی سطح پر بچوں کا سال قرار دیا۔ ’نیشنل بک کونسل پاکستان ‘ نے اس سال کو اہتمام کے ساتھ مختلف سر گرمیوں کے ساتھ منایا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، مظفر آباد، کوئٹہ، حیدر آباد میں بچوں کے لیے کتب میلوں کا انعقاد کیا گیا۔ جنوری ۱۹۷۹ء کو بچوں کا ادب نمبر شائع کیا جس میں بڑے اہم موضوعات پر بچوں کے معروف ادیبوں نے اظہار خیال کیا۷۳۔
اس ادارے کے تحت ایک منفرد پروگرام ، ’’آمنا سامنا‘‘ منعقد کیا گیا جس میں عام بچے، اسکولوں کے اساتذہ، والدین اور طلبہ وطالبات نے ناشرین کتب ، بک سیلرز اور تزئین کاروں سے کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے اپنی شکایات سے آگاہ کیا۔
اسی طرح اس خاص سال ’بچہ اور کتاب‘ کے موضوع پر فوٹو گرافی مقابلے کا انعقاد بھی کیا گیا۔ اسی طرح بچوں کے لیے لکھنے والے مصنّفین کو سائنس اور سوشل سائنس کے موضوع پر مشتمل بہترین مسودات کو انعامات دئیے گئے۔
۱۹۷۴ء سے ۱۹۷۹ء کے دوران شائع ہونے والی بچوں کی کتابوں کی تزئین کاری کے حوالے سے انعامی مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ بچوں کی بچوں کے ادیبوں سے ملاقات کا سلسلہ پاکستان کے مختلف شہروں میں کیا گیا۔ بچوں کے مطالعے کے حوالے سے ملک گیر سروے کر وایا گیا کہ وہ کیسی کتابیں پسند کرتے ہیںاور ان کے پسندیدہ مصنّفین کون سے ہیں، اسی طرح ناشرین کتب سے رابطہ کر کے بچوں کی کتابوں کی بایو گرافی تیار کی گئی۔ حکومت پاکستان نے اس عالمی سال کے موقع پر تین یادگاری ٹکٹ جاری کیے۷۴۔
اس ادارے کے تحت بچوں کے لیے لکھنے والے مصنّفین اور ناشرین کے لیے قومی وصوبائی سطح پر سیمینارزاور ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا۔ یہ سلسلہ صرف بچوں کی حد تک محدود نہیں تھا، بڑوں کے لیے لکھنے والے ادیبوں اور ناشرین کے ساتھ پر اعتماد فضا بنانے کے لیے مختلف پروگرامات کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مصنّفین کو اچھی تخلیقات پیش کرنے پر نقد انعامات کا سلسلہ جاری کیا گیا۷۵۔
ماہنامہ کتاب اس ادارے کا اہم اثاثہ تھا جس میں مہینے بھر میں ہونے والی سر گرمیوں کی روداد ملتی ہے، اسی طرح قارئین، ناشرین اور مصنّفین کے تعلقات کو بہتر کرنے کے حوالے سے اس ماہنامے نے اہم کر دار ادا کیا۔بچوں کے ادیبوں کی ڈائریکٹری کی اشاعت بھی اس ادارے کا ایک غیر معمولی کام ہے، جس میں بچوں کے ادیبوں کا مختصر تعارف اور ان کے سر انجام دیے گئے کاموں کی تفصیلات بھی درج ہیں۷۶۔
بچوں کے ادب کے حوالے سے مختلف نامور ادیبوں کے مقالے اور خیالات ماہنامہ کتاب کی زینت بنتے تھے۔ گہما گہمی کے ساتھ بچوں اور بڑوں کے ادب میں ہلچل مچانے والے اس ادارے کو یکم جولائی ۱۹۹۴ء کو نیشنل بک فائونڈیشن میں ضم کردیا گیا۷۷۔

اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہا بیز، لاہور
اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہا بیز کاآغاز اگر چہ مارچ ۲۰۰۶ء کو عمل میں آیا لیکن اس سوسائٹی کے تحت جو چھہ رسائل شائع ہورہے ہیں ،ان کی تاریخ ۴۴ سال قدیم ہے۔ کراچی سے ماہنامہ ساتھی، لاہور جنوبی سے پیغام ڈائجسٹ، پنجاب شمالی سے پیغام اقبال ، آزاد کشمیر سے روشنی،حیدرآبادسے ساتھی سندھی اور صوبہ خیبر پختونخواہ سے ماہنامہ شاہینپوری آب وتاب کے ساتھ شائع ہورہے ہیں۔ ان میں ہر رسالے کی اپنی ایک تاریخ ہے،یہ گزشتہ کئی برسوں سے شائع ہورہے ہیں، ابتدا میں ان رسائل میں مواد اور وسائل کے حوالے سے مسائل تھے، بعد ازاں ان رسائل نے دھیرے دھیرے خود میں بہتری لائی اور اس وقت یہ سارے رسائل پاکستان کے نمایاں رسائل میں شمار ہوتے ہیں، خصوصاً کراچی سے نکلنے والے ماہنامہ ساتھی پاکستان سے شائع ہونے والے بچوں کے سرفہرست رسائل میں شمار ہوتا ہے۷۸۔
ان چھہ رسالوں میں باہمی آہنگی اور ربط پیدا کرنے کے لیے سوسائٹی کاقیام عمل میں آیا۔ اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہا بیز کے تحت نہ صرف رسائل شائع ہوتے ہیں بلکہ پاکستان بھر میں بچوں کے لیے مختلف سر گرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بچوں کے لیے ہونے والی ان سرگرمیوں کو مختلف انجمنوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔
پنجاب میں بزم پیغام، سندھ اور بلوچستان میں بزم ساتھی، خیبر پختونخواہ میں بزم شاہین کے نام سے بننے والی ان انجمنوں سے ہزاروں بچے وابستہ ہیں۔ اسکول کا کوئی بھی طالب علم اس بزم کا حصہ ایک ممبر شب فارم بھر کر بن سکتا ہے۔ بزم کی مختلف سر گرمیوں میں مستقل مزاجی کے ساتھ حصہ لینے اور ایک مقرر کردہ نصاب پڑھنے والے بچے کو بعد ازاں شاہین بنا دیا جاتا ہے۔ ان شاہین بچوں کے لیے تعطیلات میں کسی صحت افزا مقام پر تین سے پانچ دنوں کا شاہین کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۷۹۔
سالانہ شاہین کیمپوں کے علاوہ چھوٹے بڑے شہروں میں بچوں کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے ہونہار کیمپوں اور ٹیلنٹ ایوارڈ شو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بزم کی یہ سر گرمیاں صوبائی سطح سے لے کر گلی محلے کی یونٹ سطح پر باقاعدگی کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بزموں کے تحت ان سر گرمیوں کا بھی انعقاد ہوتا ہے جن میں درس قرآن، روابط پارٹی،اجتماعی طعام ، بزم ماہانہ میٹنگ، شاہین محفل،آم پارٹی، عید ملن پارٹی، کرکٹ ٹورنامنٹ، بیٹ منٹن مقابلے، فروٹ پارٹی، ٹی پارٹی، سائیکل ریس، بوری ریس، چمچ ریس، فٹبال میچ، بسم اللہ گیم وغیرہ شامل ہیں۸۰۔
اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز کے تحت ملک بھر سے شائع ہونے والے رسائل کے مدیران، نائب مدیران، مارکیٹنگ اور سر کولیشن سے وابستہ افراد کے لیے سال میںایک ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے جس میںادارتی اُمور سمیت مارکیٹنگ اور سرکولیشن سے وابستہ ماہرین کو بلا یا جاتا ہے جو نوجوانوں پر مشتمل ان افراد کی رہنمائی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔اسی طرح ساری بزموںکے ضلعی ، علاقائی، صوبائی سطح کے ذمہ داران کے لیے بھی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا ہے۔
ان بزموں سے وابستہ اور معاشرے کے دیگر بچوں کے لیے کتابیں بھی شائع کی جاتی ہیں، ان کتابوں میں دینی، تعلیمات، سائنس، تاریخ وسوانح، مہم جوئی، سفرنامے، اخلاقی، تفریحی اور معلوماتی موضوعات پر کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ یہ کتابیں ’’ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور‘‘ اور ’’ادارہ مطبوعات طلبہ کراچی‘‘ کے تحت شائع ہوتی ہیں جو ان بزموں ہی کا حصہ ہیں۔
’ادارہ مطبوعات طلبہ کراچی‘ نے اشتیاق احمد، احمد حاطب صدیقی، منیر احمدراشد، حماد ظہیر، حبیب احمد حنفی(شان مسلم)، فوزیہ خلیل، سیما صدیقی، اعظم طارق کوہستانی، راحیل یوسف، میر شاہد حسین، فیصل مراد، فاطمہ نور صدیقی کی درج ذیل کتابوں کو شائع کر کے قارئین کی تعلیم وتفریح کا انتظام کیا۸۱۔
انوکھی شرارت، کمانڈو فور، چاند کا نشان،موت کا راستہ،اندھا جرم، پھول کا راز، گوریلا فائٹرز، کامیابی کے پیچھے، جن جنجال میں، راوی بہہ رہا ہے، پہچان، یہ بات سمجھ میں آئی نہیں اور جزیرے کے قیدی، وادی ژوگان کے اُس پار۸۲۔
اسی طرح ’ادارہ مطبوعات طلبہ لاہور‘ نے بھی بچوں میں اخلاقی صفات پیدا کرنے کے لیے کئی کتابوں کی اشاعت کی۔
جن میں ڈاکٹر افتخار کھوکھر کی اقبال کی کہانی ، اجالا، لہورنگ پکنک، نور پور، یاسر ریاض کی جرأتوں کی داستان، عبدالرشید عاصم کی انمول، اختر عباس کی آداب زندگی، ڈریگن کی واپسی، اعظم طارق کوہستانی کی جیتے گابھئی جیتے گا شامل ہیں۸۳۔
اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز کے تحت شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ ساتھی نے بچوں کے ادب میں اپنے خاص نمبروں کی وجہ سے انفرادیت قائم کی ہے۔ یہ خاص نمبرز اتنے متنوع موضوعات پر مشتمل ہے کہ اسے تحقیق کا موضوع بنایا جاسکتا ہے۔ ماہنامہ ساتھی ہر سال دو خاص شمارے شائع کرتا ہے۔ ایک سالنامے کے نام سے جب کہ دوسرا خاص نمبر کسی خاص موضوع پر ہوتا ہے، مثلاً ماں نمبر، ابو نمبر وغیرہ۔ ماہنامہ ساتھی نے اب تک سالناموں کے سوا ؍۴۶ خاص نمبر شائع کیے ہیں، جن میںامتحان نمبر،رمضان المبارک نمبر، آزادی نمبر، کمپیوٹر اسپیشل نمبر، پندرہ سالہ نمبر، آزادی کشمیر نمبر، سائنس اسپیشل، حقوق اطفال نمبر، جیوے پاکستان نمبر، خاص بچے خاص شمارہ،بیس سالہ نمبر، ماں نمبر، ورلڈ کپ اسپیشل، صحت و صفائی نمبر، بچے اور امن نمبر، پچیس سالہ نمبر، حیرت ناک نمبر، جنگل نمبر، قائدِ اعظم نمبر، عالمِ اسلام نمبر، تیس سالہ نمبر، کارنامہ نمبر، بور نمبر، شرارت نمبر، سائنس نمبر، تعمیر پاکستان نمبر، سیر سپاٹے نمبر، بچپن نمبر، پینتس سالہ نمبر، مریخ نمبر، آئیڈیا نمبر، ابو نمبر، باہمت بچے نمبر، بھول نمبر، چالیس سالہ نمبر، شکایت نمبر، اسکول نمبر، کھیل نمبر، گھبراہٹ نمبرشامل ہیں۸۴۔
بچوں کے ادب کا یہ وہ سرمایہ ہے جس پر بلاشبہ فخر کیا جاسکتا ہے اور ہنوز بچوں کے ادب میں اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز فعال کردار ادا کررہا ہے۔

حوالہ وحواشی:

۱۔ فوق ، محمد الدین، ۲۰۱۸ئ، اخبار نویسوں کے حالات، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، ص۶۶
۲۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۱۹۹۷ئ، بچوں کے رسائل کا تجزیاتی مطالعہ، مشمولہ: پاکستان میں بچوں کے رسائل کے پچاس
سال، دعوۃ اکیڈمی، شعبہ بچوں کا ادب، اسلام آباد، ص۱۵
۳۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، روشنی کا سفر، شعبہ بچوں کا ادب، دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد، ص۹۱
۴۔ جلال پوری، محمد اسحاق، پروفیسر، بچوں کی کتب کا جائزہ، ۱۹۹۴ئ، شعبہ بچوں کا ادب، دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد، ص۱۴
۵۔ نواز، اقبال، نومبر۱۹۸۱ئ، شیخ غلام علی اینڈ سنز، مشمولہ: ماہنامہ’ کتاب‘، نیشنل بک کونسل آف پاکستان،لاہور،ص: ۱۸
۶۔ اصغر ، طاہر، جنوری ۱۹۸۵ ئ،شیخ غلام علی اینڈ سنز، مشمولہ:ماہنامہ’ کتاب‘، نیشنل بک کونسل آف پاکستان،لاہور،ص: ۱۵
۷۔ ایضاً، ص: ۱۶
۸۔ محمود، سید قاسم، اگست ۱۹۸۶ئ، بچوں کے لیے مزید صحت مند اور سائنٹفک تحریروں کی ضرورت، مشمولہ: ماہنامہ، کتاب، نیشنل بک کونسل
آف پاکستان، لاہور، ص۵
۹۔ عباس، غلام، ایک ٹانگ کا بادشاہ، شیخ غلام علی اینڈ سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ پبلشرز، لاہور، ص۲
۱۰۔ قاسمی،احمد ندیم، جلیبیاں، شیخ غلام علی اینڈ سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ پبلشرز، لاہور، ص۲
۱۱۔ مطبوعات ،۲۰۲۳ء ۲۰۲۲ئ، شیخ غلام علی اینڈ سنز (پرائیوٹ لمیٹڈ) پبلشرز، لاہور
۱۲۔ محمود، قاسم، سید، اگست ۱۹۸۶ئ، بچوں کے لیے مزید صحت مند اور سائنٹفک تحریروں کی ضرورت،
مشمولہ: ماہنامہ ’کتاب‘، نیشنل بک کونسل آف پاکستان، لاہور ، ص:۴
۱۳۔ ویب گاہ دیکھیے: https://ferozsons-labs.com/about-us/?lang=ur
۱۴۔ محمود، قاسم، سید، ص:۴
۱۵۔ https://www.dawn.com/news/724066
۱۶۔ محمود، قاسم، سید، ص:۵
۱۷۔ ایضاً، ص:۴
۱۸۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۱۹۹۷ئ، بچوں کے رسائل کا تجزیاتی مطالعہ، مشمولہ: پاکستان میں بچوں کے رسائل کے پچاس
سال، دعوۃ اکیڈمی، شعبہ بچوں کا ادب، اسلام آباد، ص۱۵
۱۹۔ مطبوعات، بچوں کی کتابیں، ۱۹۷۰ئ، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۳
۲۰۔ احمد زاہد، ۲۰۱۹ئ، حاجی بغلول، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۲ا
۲۱۔ فاروقی، قریشہ فاطمہ، ۲۰۱۹ئ، ابو قاسم کے جوتے، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۱۲
۲۲۔ لخت، سعید، ۲۰۰۵ئ، حافظ جی،فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۲۲
۲۳۔ اقبال، ابو ضیا، ۱۹۹۲ئ، ایک بچہ ایک چور، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۱۲
۲۴۔ سعید، احمد، ۱۹۹۰ئ، اونچی حویلی کا راز، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۴
۲۵۔ سلیم الرحمن، محمد، ۱۹۹۰ئ، سلیمانی خزانہ، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۵
۲۶۔ جہانگیز، مقبول، ۱۹۹۰ئ، نوشیرواں کی بیٹی، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۱
۲۷۔ رضوی، اختر، ۱۹۹۲ئ، عمرو کا بھوت، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۲
۲۸۔ ایجادوں کی کہانیاں، ۱۹۹۰ئ، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۴
۲۹۔ مطبوعات، بچوں کی کتابیں،۱۹۷۰ئ، فیروز سنز(پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاہور، ص۱۲
۳۰۔ ایضاً، ص۱۶
۳۱۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۲۸
۳۲۔ نگہت، یاسمین، ۱۹۹۸ئ، بچوں کے ادب کی ترقی وترویج میں ہمدرد نونہال کا کردار، شعبہ اردو،
جامعہ کراچی، کراچی، ۱۳۹
۳۳۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۲۹
۳۴۔ ہمدرد نونہال، ماہنامہ، مئی۱۹۹۰ئ، مشمولہ:بزم ہمدرد نونہال(تصویر حسین حمیدی)، کراچی، ص۸۱
۳۵۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۲۹
۳۶۔ جلال پوری، محمد اسحاق، پروفیسر، بچوں کی کتب کا جائزہ، ۱۹۹۴ئ، شعبہ بچوں کا ادب، دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد، ص۱۳
۳۷۔ ہمدرد نونہال،ماہنامہ، دسمبر ۲۰۰۷ئ، ’قیمتی کتابیں‘، ہمدرد فاؤنڈیشن پریس، کراچی، ص ۹۹
۳۸۔ ، دسمبر ۲۰۰۷ئ، اس شمارے میں کیا کیا ہے؟، ہمدرد فاؤنڈیشن پریس، کراچی، ص۳
۳۹۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، روشنی کا سفر، شعبہ بچوں کا ادب، دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد، ص۲۸
۴۰۔ ایضاً، ص۲۸
۴۱۔ ایضاً، ص۶۷
۴۲۔ صبا، مہرین، ۲۰۲۰ئ، ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر اور بچوں کے ادب کا تجزیہ، جامعہ پنجاب، لاہور، ص ۳
۴۳۔ https://www.rekhta.org/publishers/dawah-academy-islamabad/ebooks?lang=ur
۴۴۔ طاہر ، محمد اکرم ، پروفیسر ،جون ۱۹۹۱ء ،مثالی تاجر، دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد ،ص: ۲
۴۵۔ صبا، مہرین، ص ۳
۴۶۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۲۰۷
۴۷۔ ایضاً، ص۸۳
۴۸۔ ایضاً، ص۸۶
۴۹۔ ایضاً، ص۲۸۸
۵۰۔ کامل، اکرم، دسمبر ۱۸۹۱ئ، سنگ میل پبلی کیشنز کے نیاز احمد سے ملاقات، مشمولہ: ماہنامہ ، ’کتاب‘،
لاہور، ص۲۷
۵۱۔ دیکھیے ویب گاہ : https://sangemeel.shop/collections/childrens-books
۵۲۔ کامل، اکرم، دسمبر ۱۸۹۱ئ، ص۲۸
۵۳۔ ایضاً، ص۲۹
۵۴۔ ایضاً، ص۲۸
۵۵۔ https://www.rekhta.org/publishers/sang-e-meel-publications-lahore/ebooks?lang=ur
۵۶۔ https://sangemeel.shop/collections/childrens-books
۵۷۔ دیکھیے ویب گاہ : https://sangemeel.shop/
۵۸۔ https://islamicpublications.pk/about-us/
۵۹۔ ایضاً
۶۰۔ احسن، محمد، فروری ۱۹۸۵ئ، اسلامک پبلی کیشنز، مشمولہ: ماہنامہ، کتاب،نیشنل بک کونسل آف پاکستان، لاہور، ص۲۰
۶۱۔ دیکھیے ویب گاہ :https://islamicpublications.pk/about-us/)
۶۲۔ مطبوعات، اسلامک پبلی کیشنز،لاہور ۲۰۲۰ئ،ص ۱۲
۶۳۔ https://www.rekhta.org/publishers/islamic-publications-lahore/ebooks
۶۴۔ مطبوعات، اسلامک پبلی کیشنز،لاہور ۲۰۲۰ئ،ص ۱۴
۶۵۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۳۲
۶۶۔ http://www.nbf.org.pk/about
۶۷۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۳۳
۶۸۔ ملک، محمداشتیاق ،۲۰۲۰ئ، نیشنل بک فاؤنڈیشن پاکستان مطبوعات، نیشنل بک فاؤنڈیشن پاکستان، اسلام آباد، ص۴
۶۹۔ ایضاً، ص۵
۷۰۔ ایضاً، ص۶۱
۷۱۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۳۵
۷۲۔ کتاب، ماہنامہ، دسمبر ۱۹۸۵ئ، ’نیشنل بک کونسل آف پاکستان‘، اظہار سنز پرنٹرز، لاہور، ص ۵۰
۷۳۔ ، جنوری ۱۹۷۹ئ، ’بچوں کا ادب نمبر‘، اظہار سنز پرنٹرز، لاہور، ص ۲
۷۴۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۳۶
۷۵۔ ، ۲۰۱۳ئ، ص۳۶
۷۶۔ کامل، اکرم، اگست ۱۹۸۵ئ، بچوں کے مصنّفین کی ڈائریکٹری، مشمولہ: ماہنامہ، ’کتاب‘، نیشنل بک کونسل آف پاکستان،
لاہور، ص ۱۹
۷۷۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۳۶
۷۸۔ شجاع الحق، جنوری ۲۰۲۲ئ، اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز کا بچوں کے ادب میں کردار، غیر مطبوعہ انٹرویو، مملوکہ: اعظم طارق کوہستانی، ص ۳
۷۹۔ کھوکھر، محمد افتخار، ۲۰۱۳ئ، ص۵۴
۸۰۔ حسینی، فصیح اللہ، جنوری ۲۰۲۲ئ، اسلامک سوسائٹی آف چلڈرن ہابیز کا بچوں کے ادب میں کردار،
غیرمطبوعہ ، انٹرویو، مملوکہ:اعظم طارق کوہستانی، ص ۳
۸۱۔ کوہستانی، اعظم طارق، فروری ۲۰۱۷ئ، پھول کا راز، ادارہ مطبوعات طلبہ، کراچی، ص ۲
۸۲۔ صدیقی، سیما، فروری ۲۰۱۷ئ، جن جنجال میں، ادارہ مطبوعات طلبہ، کراچی، ص ۲
۸۳۔ عباس، اختر، جنوری ۲۰۲۰ئ، آداب زندگی، ادارہ مطبوعات طلبہ، لاہور، ۳
۸۴۔ دیکھیے ویب گاہ: https://en.wikipedia.org/wiki/Monthly_Sathee

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top