skip to Main Content

چند سیکنڈ

محمدعلی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’آخری لیپ میں سب سے پہلے عارف تھوڑا سا پیچھے ہیں عمران اور تیسرے نمبر پر ہیں سعد۔‘‘ کمنٹیٹر نے کمینٹری کرتے ہوئے کہا
لوگوں کے ہجوم سے آوازیں آرہی تھیں۔ ایک طرف سے عارف۔۔۔۔۔۔ عارف کی او ر دوسری طرف سے عمران ۔۔۔۔۔۔عمران 
’’عارف ابھی تک ریس جیت رہا ہے۔ عمران اُس سے چند سکینڈ کے فاصلے پر ہے۔ناظریں و حاضرین ابھی کچھ دیر میں پتہ چل جائے گا کہ عارف اور عمران میں کون جیتے گا۔ عمران اب عارف سے آگے نکل گیا ہے۔چند سکینڈ کے فاصلے پر ہار جیت کا فیصلہ ہوجائے گا۔اچانک یہ کیا ہوا عارف تو عمران کے برابر آگیا اور چند سکینڈ میں عارف، عمران سے آگے نکل کر ریس کو جیت گیا۔‘‘ کمنٹیٹر نے کمینٹری کرتے ہوئے ریس جیتنے والے کا نام لیا۔
عارف۔۔۔۔۔۔عارف ! ہجوم میں سے بلند آواز میں آوازیں آرہی تھیں۔
’’ہر سال کی طرح اس سال بھی اس ریس کا فاتح عارف ہی ٹھہرا۔ ہم اپنی پوری ٹیم کی طرف سے عارف کو مبارک باد دیتے ہیں۔ ‘‘میزبان تقسیم انعامات نے عارف کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا
’’عارف جیسا کھلاڑی دنیا میں کم ہی پیدا ہوتا ہے۔‘‘ مہمان خصوصی نے ٹرافی عارف کو پکڑاتے ہوئے کہا
ہر طرف عارف کی واہ واہ کار ہو رہی تھی۔ عارف جیسے امیر لڑکے کا بس ایک ہی شوق تھا جسے وہ با خوبی سر انجام دیتا تھا۔شکل و صورت سے ایک مصعوم سا لڑکا نظر آتا تھا لیکن صورت حال اس سے برعکس تھی۔وہ اپنے دوستوں سے گپ شپ کر رہا تھا کہ عمران بھی مبارک باد ینے کے لیے پہنچ گیا۔
’’عارف تمہیں بہت مبارک ہو کہ تم ریس جیت گئے۔‘‘عمران نے خوش اخلاقی سے کہا
’’ایک بات بتاؤں عمران تم مجھ سے کبھی بھی جیت نہیں سکتے ۔‘‘عارف نے غرور تکبر سے کہا
’’اچھا یار یہ تو اگلی بار دیکھا جائے گا۔‘‘ عمران نے پر عزم لہجے میں کہا
’’یہ تو ہر بار کہتے ہو۔‘‘ عارف نے طنز کرتے ہوئے کہا
یہ سب گفتگو عمران کو چھوٹا بھائی یاسر بھی سن رہا تھا۔عارف کی باتوں سے اُسے شدید قسم کی کوفت ہورہی تھی۔جب یاسر سے رہا نہ گیا تو عمران بھائی کو وہاں سے لے گیا۔چلتے چلتے یاسر نے عمران بھائی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوالیہ لہجہ میں پوچھا’’ عمران بھائی ! آخر آپ آخری چند سکینڈ میں ریس کیوں ہار جاتے ہو؟‘‘
’’یاسر،عارف کے پاس مہنگی قسم کی سائیکل ہے جس پر زیادہ محنت کی ضرورت نہیں پڑتی ۔اس سے وہ جیت جاتا ہے۔‘‘عمران نے یاسر سے پریشان زدہ چہرہ دیکھتے ہوئے وجہ بتائی
’’عمران بھائی ،ہم کیوں نہ وہ والی سائیکل لے لیں؟‘‘ یاسر نے مصعومیت سے پوچھا
’’یاسر تم تو جانتے ہو کہ ہم لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہو۔ہم وہ سائیکل کیسے لے سکتے ہیں۔‘‘ عمران نے یاسر کو پیار کرتے ہوئے مجبوری بتائی۔
’’عمران بھائی، ابوجان پیسے جمع کررہے ہیں نا‘‘ یاسر نے حوصلہ دلاتے ہوئے کہا
’’یاسر میرے بھائی دنیا اُمید پر قائم ہے۔‘‘عمران نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا
یاسر اور عمران کو باتوں باتوں میں ارگرد کی کوئی خبر نہیں رہی تھی۔وہ اپنے دُھن میں گھر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ان کے ساتھ ساتھ ایک آدمی اور چلنے لگا۔جو قدوقامت سے لمبا چوڑا آدمی نظر آرہا تھا۔منہ پر سنت رسولﷺ تھی اور چہرے پر مسکراہٹ کے پھول برس رہے تھے۔اُ س آدمی کے ہاتھ میں ایک رسید تھی جسے دیکھ کر وہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔اس رسید کو پاکر جسے کو سارا جہان مل گیا ہو۔اب اُس نے عمران اور یاسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ بہت خوب،مجھے خوشی ہوئی کہ تم نا اُمید نہیں ہوئے ہو۔‘‘
’’ابو ،آپ کب سے ہماری ساتھ شریک ہوگئے۔ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘ یاسر نے حیرت سے پوچھا
’’بھئی تم دونوں باتو ں میں اتنے مصروف تھے کہ ارگرد کا کوئی خیال نہیں تھا۔‘‘ ابو نے جواب دیا
یاسر اور عمران نے محسوس کر لیا کہ ابو بات کرتے ہوئے بہت خوش نظر آرہے ہیں۔
’’ابو ،کیا با ت ہے آپ بہت خوش نظر آرہے ہیں۔‘‘ عمران نے مسکراتے ہوئے کہا
’’تمھاری مہنگی والی سائیکل کا انتظام ہوگیا ہے۔‘‘ ابو نے ٹھہر ٹھہر کر جواباً کہا
’’سچ ابو ۔اب انشاء اﷲ میں ضرور جیت جاؤں گا۔‘‘ عمران نے پرُ عزم لہجہ میں ک

*****

’’یاسر۔۔۔۔۔۔یاسر بیٹا! عمران کہاں ہے۔‘‘ابو نے پریشانی سے پوچھا
’’ابو۔۔۔۔۔ عمران بھائی آپریشن تھیڑ میں ہیں۔‘‘ یاسر نے روتے ہوئے جواب دیا
آپریشن تھیڑ کا دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر نکلا۔
’’اب وہ خطرے سے باہر ہے۔ بس اُ س کے سر اور ٹانگوں پر گہری چوٹیں آئیں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے عمران کی صورت حال بتائی
’’ڈاکٹر صاحب ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘ ابو نے پریشانی کے جذبات کو چھپتے ہوئے پوچھا
’’دو تین ماہ میں ٹھیک ہوجائے گا۔ فیچر کی وجہ سے ایک ماہ تک چل نہیں سکتا۔‘‘ ڈاکٹر نے جوا ب دیا اور چلا گیا۔
’’ یاسر بیٹا،جب میں نئی سائیکل لے کر گھر پہنچا تو گھر پر کوئی نہیں تھا۔ تمھارے دوست سے معلوم ہوا کہ عمران کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ میں بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا۔یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ ابوجان نے اپنا احوال بتایا 
’’عمران بھائی سائیکل پر جارہے تھے۔ کسی نے پیچھے سے گاڑی ماری ۔عمران بھائی قلابازیاں کھاتے ہوئے دور جا گرے۔ چند لوگوں نے عمران بھائی کو اُٹھایا اور ہسپتال لے آئے۔ عمران بھائی کی جیب کی تلاشی لینے کے بعد ہمارے گھر کا فون نمبرنکلا۔ ہسپتال والوں نے فوراً فون کر کے اطلاع دی۔میں فوراً ہسپتال پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ بھی آگئے۔‘‘ یاسر نے تفصیل سے سارا واقعہ بیان کیا ۔ 
ابو رونے لگے۔ ان کی آس اور امیدوں پر پتہ نہیں کون پانی پھیر گیا تھا۔ اب ان کی حسرت ہی رہ جائے گی کہ کبھی میرا بیٹا بھی ریس جیت سکے گا۔ابو کو اس طرح روتے ہوئے یاسر بھی بے قابو ہوگیا۔ابو نے اپنے آنسو کو صاف کرتے ہوئے یاسر کو چپ کرایا اور کہا ’’یاسر بیٹا،اﷲ جو کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے۔‘‘چند گھنٹوں کے بعد عمران کو ہوش آگیا۔ ڈاکٹر صاحب نے باہر آکر کر کہا’’اب آپ عمران سے ملاقات کرسکتے ہیں۔‘‘ یاسر اور ابو کمرے کے اندر چلے گئے۔ عمران نے جب ابو اور یاسر کو دیکھا تو رونے شروع ہوگیا۔
’’عمران بیٹا،کیا ہوگیا جو ہم اس دفعہ ریس میں حاصل نہیں لے سکے۔ہم اگلے دفعہ کوشش کریں گے۔رونا بند کرو۔اس سے تمھاری طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘ ابو نے تسلی دیتے ہوئے کہا
’’ابو۔۔۔۔ا۔۔۔۔ب۔۔۔۔ل۔۔۔و‘‘ عمران کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔
’’ عمران بھائی،رونا آپ کی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس لیے چپ ہوجائیں۔‘‘ یاسر نے پیار کرتے ہوئے کہا
’’ابو اور یاسر مجھے معاف کردیں ۔میں آپ کی خواہش اس سال پوری نہیں کرسکوں گا۔‘‘ عمران نے آنسو کو پونچھتے ہوئے کہا
’’عمران بھائی،آپ اس لیے پریشان ہیں کہ ریس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔‘‘ یاسر نے مسکراتے ہوئے کہا
’’ہاں میرے بھائی!!!‘‘ عمران نے جواباً کہا
’’ٹھیک ہے۔اس ریس میں میں حصہ لوؤں گا۔اور انشاء اﷲ جیت کر آؤں گا۔‘‘ یاسر نے پرُعزم لہجہ میں کہا
’’ مجھے تم سے یہی امید تھی۔‘‘ ابو نے داد دیتے ہوئے کہا
ایک ماہ کے بعد عمران کو ہسپتال سے برخواست کردیا گیا۔ عمران گھر آگیا، یاسر کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ریس کی تیاری کرتے ہوئے دیکھتا رہتا تھا۔ عمران نے حسرت بھری آنکھوں سے اپنی ٹانگوں کو دیکھا کرتا اور دل ہی دل میں رونے لگتا تھا۔عمران کو پوری امید تھیں کہ یاسر ریس ضرور جیت سکے گا۔آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک ماہ کا عرصہ ایسے گزرا جیسے وقت کو پرَ لگا گئے ہوں۔
’’عمران بھائی۔۔۔۔۔عمران بھائی ریس کے لیے میری تیاری مکمل ہوگئی ‘‘ یاسر نے اپنا سانس بحال کرتے ہوئے کہا
’’شاباش یاسر میرے بھائی۔‘‘عمران نے یاسر کے کندھے پر داد دیتے ہوئے کہا
’’عمران بھائی ریس میں جاؤں گا اور جیت کے واپس آؤں گا۔‘‘
یاسر نے پختہ عزم سے کہا
’’ یہ کیا باتیں ہورہی ہیں دونوں بھائیوں کے درمیان۔‘‘ ابوجان نے پیچھے سے پوچھا
’’کچھ نہیں بس ریس کی باتیں ہورہی تھیں۔‘‘ عمران نے ہنستے ہوئے کہا
’’یاسر ، ریس تو کل ہے نا‘‘ ابو نے سوالیہ لہجہ میں پوچھا
’’جی ابو جان‘‘ یاسر نے ہاں میں سر ہلا دیا

*****

ناظرین و حاضرین سائیکلوں کی ریس کا مقابلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوگیا ہے۔ اس ریس میں مختلف شہروں سے سائیکل سوار نے شرکت کی۔اس ریس میں ارگرد ہجوم سے نظر آرہا ہے کہ یہ ریس بہت دل چسپ ہونے والی ہے۔ میرے ذہن میں ایک سوال گردش کررہا ہے کہ اب بھی یہ ریس عارف ہی جیتے گا یا پھر اُس کو کوئی شکت دے سکے گا۔‘‘ کمنٹیٹر نے 
کمینٹری کرتے ہوئے کہا
’’تمھارا بھائی تو مجھ سے جیت نہ سکا تو تم پھر کس کھیت کی مولی ہو۔‘‘ عارف نے طنزیہ لہجہ میں کہا
’’عارف غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ہار جیت کا فیصلہ تو یہ مقابلہ کرے گا۔‘‘ یاسر نے اطمینان سے کہا
’’ٹھاہ!!!!!‘‘ پستول کی آواز سے مقابلہ شروع ہوگیا۔
سائیکلوں کے ارگرد لوگوں کا پرکشش ہجوم تھا ۔ یاسر مسلسل ہمت کر کے سعد کے برابر آگیا۔ سعد نے اپنی سائیکل یاسر کی سائیکل سے ٹھکرائی ۔ اس سے یاسر توازن برقرار نہیں رکھ سگا اور گرگیا۔ یاسر نے ہمت کی اور چلا کر کامران کے برابر آگیا۔ اس سے پہلے کامران کوئی شرارت کرنے کی کوشش کرتا۔ یاسر ، سعد اور کامران کے درمیان میں آگیا۔ اس سے کامران کی سائیکل توازن میں نہ رہ سکی اور وہ گر گیا۔یاسر اب عارف کے برابر آگیا تھا۔اچانک کوئی چیز یاسرکے آنکھوں میں چلی گئی۔اس سے وہ سائیکل ٹھیک طریقے سے چل نہ سکا اور سب سے پیچھے رہ گیا۔
’’ناظرین و حاضرین آخری لیپ شروع ہونے لگا ہے۔ آپ کو ریس کی صورت حال سے آگاہ کرتا چلوؤں کہ پہلے نمبر عارف دوسرے پر سعد،تیسرے پر سلیمان، چوتھے نمبر پر نعمان ، پانچواں نمبر کامران اور چھٹے نمبر پر یاسر ہے۔‘‘کمنٹیٹر نے ریس کی صورت حال بتائی
لوگوں کی ہجوم سے صرف ایک ہی آواز آرہی تھی۔عارف۔۔۔۔۔عارف
یاسر آہستہ آہستہ نعمان اور سلیمان کو پیچھے چھوڑتا ہوا سعد کے برابر آگیا۔ یاسر یکے بعد دیگر دو اکھٹے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عارف کے بالکل ساتھ آگیا۔ریس کی اختتامی لائن سامنے نظر آرہی تھی۔ یاسر اب عارف سے تھوڑا سا آگے نکل آیا تھا۔عارف بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا وہ پھر یاسر کے برابر آگیا۔یاسر نے ہمت نہیں ہاری اور بھرپور طریقے سے سائیکل چلاتے ہوئے اختتامی لائن تک پہنچ گیا اور چند ہی سکینڈ میں عارف سے آگے نکل گیا اور ریس جیت گیا۔
’’ناظرین و حاضرین یہ حیرت کی بات ہے۔پہلے محسوس ہور ہا تھا کہ اس مرتبہ بھی جیت عارف کی ہوگی ۔تب یاسر دھواں کی طرح آیا او ر ریس جیت گیا۔ہم سب کی طرف سے یاسر کو بہت مبارک باد قبول ہو۔ جنہوں نے پانچ سالوں سے جیتنے والے کھلاڑی کو آج ہرا دیا۔‘‘کمنٹیٹرنے پرُجوش لہجہ میں کہا
تقریب وتقسیم انعامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ میزبان نے دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والے کھلاڑیوں کو بلایا۔مہمان خصوصی نے شیلڈ دی۔ یاسر کو اسٹیج پر بلایا اور ٹرافی دی گئی۔
’’جی یاسر! آپ نے پہلی بار ریس میں حصہ لیا اور جیت گئے۔‘‘
میزبان نے خوشی سے پوچھا
’’یہ ریس ہی میرے لیے سب کچھ تھی۔ اس ریس سے میرے ابو اور بھائی کی بہت سی امیدیں وابستہ تھی۔‘‘ یاسر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
’’ریس میں جیت اور ہار کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟‘‘ 
میزبان نے مائیک پکڑتے ہوئے کہا
’’میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر کوئی جیت جائے تو اُسے غرور نہیں کرنا چاہیے۔اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ غرور وتکبر اﷲتعالیٰ کو بالکل پسند نہیں ہے۔ اگر ریس میں ہار جاؤ، اپنے آپ پر پختہ یقین رکھو کہ تم اگلی دفعہ جیت جاؤ گے۔‘‘ یاسر نے آخری کلمات کہے اور اسٹیج سے نیچے اُتر آیا۔
’’یاسر۔۔۔۔۔ تم نے آخر چند سکینڈ میں ریس جیت لی۔‘‘ عمران نے ہنستے ہوئے کہا

*****

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top