skip to Main Content

پانچ کروڑ کا ہار

ابن آس محمد

۔۔۔۔۔۔۔

عمر،علی، احمدکے کارنامے

۔۔۔۔۔۔۔

احمد صدیقی اپنے آفس میں تھے کہ اُن کا موبائل فون بجنے لگا۔ وہ شہر کے مشہور ،مقبول اور مہنگے وکیل تھے، ہر کوئی اُنھیں ”اَفورڈ “ نہیں کر سکتا تھا۔ خاص طورپر مجرم تو بالکل بھی نہیں۔ وہ خود بھی کبھی کسی مجرم کی طرف داری نہیں کرتے تھے ،کیس شروع ہونے سے پہلے اور شروع ہونے کے دوران کسی ماہر جاسوس کی طرح اچھی طرح تحقیق کرلینا اُن کی ذاتی ”بیماریوں“ میں سے ایک بیماری تھی ،ان کا کہنا تھا: ”مجرم کی وکالت کرنا بہ ذات خود ایک سنگین اوربڑا جرم ہے۔“
اس کے علاوہ بھی اُن کے بہت سے ”اقوال زرّیں“ تھے، جو وہ موقع کی مناسبت سے سنا یا کرتے تھے اور موقع پہ ہی گھڑ لیا کرتے تھے۔ بہ ظاہر خاصے مزاح پسند مگر غصے کے نہایت تیز تھے۔ اُن کے بیٹے، عمر اور علی، اُن سے بھی زیادہ حیران کردینے والے بچے تھے۔جاسوسی ناول پڑھ پڑھ کر پکے جاسوس بن گئے تھے، تفتیش کے معاملوں میں اپنے بابا جانی(احمد صدیقی ) کا ہاتھ بٹاتے تھے، ایمان دار اعلا حکام کے چہیتے تھے اِسی وجہ سے اُنھیں بہت سی رعایتیں حاصل ہوگئی تھیں۔ یہ چھوٹے تھے لیکن ان کے لیے گاڑی چلانے کے خصوصی لائسنس فراہم کیے گئے تھے۔
اِن کے واقف کاروں میں نہ تو کوئی سائنس دان انکل تھے، جو اُنھیں طرح طرح کے پٹاخے اور عجیب عجیب ہتھیار بنا کر دیتے، جس سے مجرم مرعوب ہوتے یا ڈر جاتے اور نہ کوئی شکاری قسم کے انکل اُن کے بابا جانی کے دوست تھے بلکہ یہ دونوں خود ہی سائنس دان قسم کی چیز بھی تھے ،اپنے پٹاخے ،اور آلات وغیرہ خود ہی بنا لیاکرتے تھے۔
عمر ایک اعلا قسم کا منتظم ،نہایت تفتیشی قسم کا دماغ رکھنے والا بچہ تھا ،لڑنے بھڑنے میں ماہر تھا،کیوں کہ بہادر بھی تھا ۔علی بھی کم نہیں تھا ۔نہایت طاقت ور قسم کا بچہ جو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا ۔بڑے سے بڑے مجرم سے پنجا لڑانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ۔لڑائی بھڑائی میں ماہر تو تھا ہی ،حکمت اور دانائی کی باتیں، معلومات ،نہ معلوم کیا کیا خوبیاں تھیں اس میں،اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ دونوں کم عمر بچے تھے اور خاصے معصوم بھی تھے۔
احمد صدیقی پولیس کے چالان ، مدعی یا ملزم کی کسی بات پر یقین نہیں کرتے تھے ،جب یقین ہو جاتا کہ جس کا کیس وہ ہاتھ میں لے رہے ہیں اُن کے نزدیک وہ مجرم نہیں ہے تو ،عدالت میں حاضر ہوتے اور اگر اُن کی تحقیق کے نتیجے میں مدعی مجرم ثابت ہوجاتا تو مزید پھنس جاتا ،ججز بھی اُن کا احترام کرتے تھے ، اس کے علاوہ بھی بہت سی انوکھی باتیں تھیں،جو انکشاف کی طرح سامنے آتی تھیں۔احمد صدیقی اپنے آفس کے ملازمین کے لیے بھی ایک پراسرار کردار تھے ۔
ہم یہ تو بتا چکے ہیں کہ احمد صدیقی کے دو بیٹے تھے ،ایک عمر ،دوسرا علی ….اُن کی بیگم اور اُن کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ عمر اور علی دراصل اُن کی اولاد ہی نہیں ہیں…. اُنھوں نے دو لا وارث اور کم سن بچوں کو سڑک سے اُٹھا یا تھا،اور اُن کی زندگی بدل دی تھی ۔
اُن کی ایک بیٹی بھی تھی ،جگنو…. جو اُن کے ساتھ نہیں رہتی تھی بلکہ بورڈنگ اسکول میں زیر تعلیم تھی اور چھٹیوں میں ہی گھر آتی تھی ۔ جگنو ایک خطرناک قسم کی جاسوس اور باکمال سیکرٹ ایجنٹ تھی ،جب کبھی میدان عمل میں آتی تو اس وقت ایسا لگتاجیسے اُس کے بابا اور دونوں بھائی اصل میں اُس کے لیے کام کرتے ہیں۔
جب تیسری مرتبہ مسلسل فون کی بھنبھناہٹ گونجی تو فون کرنے والے کی بے تابی کا اندازہ لگاتے ہوئے اُنھوں نے سیل فون اُٹھا کر دیکھا۔
وہ انسپکٹر قلندر کی کال تھی۔ اُنھوں نے کال ریسیو کی ۔
’ ہیلو ….ابھی تک زندہ ہو ….؟“
دوسری طرف انسپکٹر قلندر کی روہانسی آواز سنائی دی ۔
” یار احمد ….اگر تم فوری طور پر بادامی ہاؤس نہ پہنچے تو میں زندہ نہیں رہوں گا ….بے موت مارا جاؤں گا ۔“
”بادامی ہاؤس ….“وہ بُری طرح چونک گئے۔
بادامی ہاؤس۔ ایک بڑے سیاست دان کی،تند خو اور خطرناک قسم کی دوسری بیوی کا گھر تھا ،جس سے اُن کے سیاست دان میاںبھی گھبراتے تھے ۔بیگم بادامی کے نام سے مشہور وہ خاتون کچھ زیادہ ہی غصیلی تھیں۔
ایک مرحوم کرنل کی بیٹی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ خاصی دولت مند تھیں،مغرور تھیں۔
” وہاں کیا کر رہے ہو تم؟“ احمد صدیقی نے ذرا گھبرانے کی کوشش کی۔ ” تم توقلندر ہو یاراور قلندر یا تو کسی مزار پر ہوتاہے یا مزار ہی اُس کا ہوتا ہے ۔“
” بیگم بادامی کا ہار چوری ہو گیا ہے ۔“ انسپکٹر قلندر کی پھنسی پھنسی آواز سنائی دی ۔
” تم نے چوری کیا ہے ؟“
”نہیں یار !پتا نہیں کس نے چوری کیا ہے اور اب میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کروں ؟“
” تفتیش کرو ،تم پولیس والے ہو ۔پولیس والوں کا کام تفتیش کرنا ہوتا ہے ۔“
”وہ تومیں کرلوں گا،کر بھی رہا ہوں، مگر بیگم بادامی کا کہنا ہے کہ مجرم کو ان کے حوالے کیے بغیر میں گھر نہیں جاسکتا ۔میری جان چھڑاؤ یار اِن سے ۔اُنھوں نے مجھے اپنے گھر میں بند کردیا ہے ۔کہتی ہیں،جب تک ہارکا چور اور ہار نہیں ملے گا ،تب تک ان کا گھر ہی میری حدود ہیں ۔میں اس حدود سے باہر نہیں جا سکتا ۔“
احمد صدیقی مسکرا کر رہ گئے ،شوخ لہجے میں بولے ۔
” بھیا قلندر! بات یہ ہے کہ میں ایک وکیل ہوں ۔ میرا کام چوری ہوجانے کے بعد نہیں، ملزم کے پکڑے جانے کے بعد شروع ہو تا ہے کہ وہ ملزم ہے بھی یا نہیں، بس یہ ثابت کرنا ہوتا ہے مجھے ۔ایک معمولی سے ہار کے لیے اتنے مہنگے وکیل کو کیوں زحمت دے رہے ہو؟“
”یار !یہ معمولی ہار نہیں ہے ۔پانچ کروڑ روپے کا ہار ہے۔“
”پانچ کروڑ کا ہار ۔“ احمد صدیقی چونک گئے ۔
” ہاں ،پانچ کروڑ کا ہار ۔“ قلندر نے مری مری آواز میں کہا۔ ”تم آجاؤبس اور اس عورت سے بچاؤمجھے ورنہ یہ میرا خون پی جائے گی۔“
احمد صدیقی کو یاد آیا ،چند برس پہلے سیاسی حلقوں میں ایک ہار کے بڑے چرچے تھے ،جس کی بازگشت اسمبلی تک بھی پہنچی تھی۔ یہ ہار سابق کرپٹ وزیر اعظم نے اپنے ایک وزیر کی بیگم کو اُن کی شادی کی سال گرہ پر تحفے میں دیا تھا، اِس وقت وزیر موصوف کا نام سامنے نہیں آسکا تھا نہ بیگم کا پتا چلا تھا اور نہ کوئی اس ہار کی موجودگی اور تحفہ دیے جانے کا معاملہ ثابت کر سکا تھا۔ یوںاس معاملے کو سیاسی نعرے بازی کہہ کر نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
”میں آرہا ہوں۔“ احمد صدیقی نے جلدی سے کہا۔
٭….٭
انسپکٹر قلندر کی ساری قلندری ہوا ہو گئی تھی۔ چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا، اگرچہ بادامی بیگم کے شوہر حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے ملک سے بھاگے ہوئے تھے ،مگر ان کا رعب اور دبدبہ اب بھی قائم تھا۔
انسپکٹر قلندر ایک بہادر انسپکٹر تھا ،بڑے بڑے مجرموں سے پنجہ آزمائی کرلیتا تھا مگر جہاں مجرم سے دو بدو لڑنے کی بات آجائے یا کوئی تفتیشی معاملہ یا دماغ استعمال کرنے کی بات ہوتی وہ عام سا پولیس والا ہی ثابت ہوتا تھا۔ اس کی کھوپڑی میں اندھیرے، ڈیرے ڈال لیا کرتے تھے۔
انسپکٹر قلندر نے جلدی جلدی ساری صورت حال احمد صدیقی کو بتائی ۔
” بادامی بیگم اس گھر میں اکیلی رہتی ہیں ۔کل رات وہ ایک تقریب میں گئی تھیں اور آج ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے کل ہی لاکر سے ہار نکلوا کر لے آئی تھیں جو اُن کے سیف میں رکھا تھا ۔رات کو سوتے وقت اُنھوں نے سیف میں ہار دیکھا تھا۔ صبح اُٹھیں تو سیف کھلا ہوا تھا۔ ہار غائب تھا اور ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔چور نے کھڑکی کاشیشہ توڑ کر کھڑکی کھولی، اندر داخل ہو کر اطمینان سے ہار چوری کیا اور اسی راستے باہر چلا گیا۔“
”ہوں سیکورٹی کا انتظام نہیں ہے کیا یہاں۔ باہر محافظ تو دکھائی دے رہے ہیں؟“
”سیکورٹی اہل کار گھر کے سامنے والے حصے میں ہوتے ہیں۔ کھڑکی گھر کے پچھلے حصے میں ہے اور لان میں کھلتی ہے ۔کل رات لوڈ شیڈنگ اور بارش کی وجہ سے سیکوریٹی سسٹم کچھ دیر کے لیے بند ہوا تھا اور شاید چور اسی وقت دیوار پھاند کر اندر داخل ہو ا ہوگا۔“
احمد صدیقی ،انسپکٹر قلندر کے ساتھ سیف والے کمرے میں گئے۔ پورے کمرے کا معائنہ کیا۔ سیف کو بھی باریک بینی سے دیکھا، جس کا کواڑ اب بھی کھلا ہوا تھا۔ کوئی ماہر چور تھا جس نے ماسٹر کی سے سیف کا قفل کھولا تھا۔ اب بھی سیف میں بڑے نوٹوں کی کچھ گڈیاں اور تھوڑا بہت زیور دکھائی دے رہا تھا۔
”اس کا مطلب ہے ،چور صرف پانچ کروڑ کا ہار ہی چرا کر لے گیا ہے ۔“
”ہاں ….باقی کسی چیز کو اُس نے چھوا بھی نہیں۔“
” یہ بات بادامی بیگم نے بتائی ہے؟“
”ہاں ….وہ بہت غصے میں ہیں۔“
سیف کے سامنے کیچڑ آلود جوتے کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے ،جو باہر تک چلے گئے تھے ۔
احمد صدیقی نے جھک کر کیچڑ کے نشان کو دیکھا ،وہ چھوٹے سائز کے جوتے تھے ۔اِس کا مطلب تھا ،چور یا تو کم عمر تھا یا اس کے پیر چھوٹے تھے ۔
” اِس کے پرنٹ اُٹھوالیے ہیں ۔“ انسپکٹر قلندر نے جلدی سے کہا ۔” یہ نشان اُس کھڑکی سے یہاں تک آرہے ہیں جس میں سے چور اندر آیا تھا ۔“
” خوب ….خاصا دلیر چور ہے ۔“
” چلو ،کھڑکی کا معائنہ کرتے ہیں ۔“
وہ نیچے آئے تو بادامی بیگم غصے میں بھناتی ہوئی اُن کی طرف بڑھیں ۔
” انسپکٹر اگر ایک گھنٹے میںچور نہیں پکڑا گیا تو تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں اور کیا کر سکتی ہوں ۔“
اُس نے احمد صدیقی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا ۔” بادامی بیگم کیسے مزاج ہیں؟“ وہ بھنا کر اُن کی طرف گھومیں ۔ ”ٹھیک ہوں ،آپ کون؟“
” فدوی کو احمد صدیقی کہتے ہیں۔ ویسے تو وکیل ہوں، انسپکٹر قلندر کی وکالت کے لیے یہاں آیا ہوں ،آپ اِنھیں دھمکی نہیں دے سکتیں ۔“
”میں تو تمھیں بھی دھمکی دے سکتی ہوں ۔“ بادامی بیگم نے بِھنّا کر کہا: ”تم ہو کیا چیز ویسے۔“
”ناچیز ہوں بادامی بیگم اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے ہار کے چور کو پکڑنے میں انسپکٹر قلندر کی کچھ مدد کردوں؟“
”مگر تم تو وکیل ہوتم کیاکروگے؟“
”میں وکیل کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوں ۔وکالت میرا پیشہ اور جاسوسی میرا شوق ہے۔“
میںکچھ نہیں جانتی، مجھے اپنا ہار چاہیے اور چور چاہیے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ تم جیسے نکھٹوﺅں کے بس کا کام نہیں میں کسی اعلا افسر کو بلا رہی ہوں۔ ویسے تم ….تم مدد کرو گے؟ تم کوئی انویسٹی گیشن آفیسر ہو کیا؟ کوئی تجربہ ہے تمھیں اس کام کا؟“
”مجھے ابن صفی اور اشتیاق احمد کے جاسوسی ناول پڑھنے کا تجربہ ہے اور اس تجربے کی روشنی میں کچھ ہی دیر میں آپ کے ہار کی چوری کا معما حل کرسکتا ہوں۔“
بادامی بیگم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
” ٹھیک ہے۔ میں دیکھتی ہوں کتنے پانی میں ہیں آپ۔ کیجیے تفتیش۔“
احمد صدیقی نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور اُس کھڑکی کا معائنہ کرنے لگے جس کا شیشہ توڑ کر، ممکنہ طور پر چور اندر آیا تھا۔ اندرکا مشاہدہ کرنے کے بعد وہ باہر نکلے، پچھلے حصے میں جا کر لان کی طرف بھی کھڑکی کے اطراف میں نظر ڈالی ۔شیشے کے ٹکڑے کھڑکی کے نیچے پڑے تھے اور کیچڑ آلود جوتوں کے نشان بھی موجود تھے۔
انھوں نے انسپکٹر قلندر کی طرف دیکھا ،وہ سمجھ گیا، جلدی سے بولا:”صاف ظاہر ہے ،چور نے کھڑکی کا شیشہ توڑا ،ہاتھ اندر ڈال کر کھڑکی کی چٹخنی کھولی اور اندر چلا گیا ۔رات کو یہاں بارش ہوئی تھی ،چور کے جوتوں کی کیچڑ یہاں بھی جا بجا دکھائی دے رہی ہے اور اندر بھی ۔“ احمد صدیقی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
” انسپکٹر قلندر کیس تو حل ہو گیا ۔اس میں مشکل کیا ہے؟“
” مجرم! وہ کہاں ہے !!“
”مجرم اگر بے وقوف ہو تو ،چھوٹی موٹی نہیں ،بلکہ سنگین غلطی کرتا ہے۔“ احمد صدیقی نے اپنے قول زرّیں کا تڑکا لگایا ۔
” کیا مطلب ۔“ انسپکٹر سکندر نے کہا ۔
” مطلب یہ کہ چور اِسی گھر کا کوئی فرد ہے ۔“
” کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔بادامی بیگم کو غصہ آگیا ۔
” میں رات کو گھر میں اکیلی تھی ،کوئی اور فرد میرے ساتھ رہتا نہیں ہے ۔“
” ملازم؟“
”دو ملازم ہیں ۔دونوں باپ بیٹے ہیں اور میرے شوہر کے گاؤں کے مزارعے ہیں، بھروسے والے ہیں۔“
”ملازموں کے کام کی نوعیت ….مطلب ….باپ کیا کرتا ہے ….اور بیٹا کیا کرتا ہے ۔؟“
”باپ کچن میں کام کرتا ہے اور ساتھ ساتھ لان کی دیکھ بھال بھی جب کہ بیٹا صفائی ستھرائی کے کاموں کے علاوہ باہر کے کام بھی کرتا ہے ،باقی گارڈز ہیں دو جو دروازے کی طرف ہوتے ہیں ۔“
”کہاں ہیں وہ ….باپ بیٹا، اُنھیں بلائیں ….؟“
”اپنے گاؤں گئے ہوئے ہیں ،پچھلے تین دن سے۔ “
” کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ گاؤں میں ہی ہیں ؟“
” بالکل یقین ہے ….کل شام میری بات ہوئی تھی ان سے ،اس کی بیوی اور بیٹی سے بھی بات ہوئی ۔“
” اوہ ۔“ احمد صدیقی نے انسپکٹر قلندر کی طرف دیکھا۔
” ویسے تو اس ہار کی حیثیت غیر قانونی ہی رہی ہو گی لیکن پھر بھی آپ نے اثر رسوخ کے ذریعے انشورنس تو کرا ہی لی ہوگی ؟“احمد صدیقی نے سرسری انداز میں پوچھا ۔
” ” جی ہاں ….آف کورس…. اتنی مہنگی چیزوں کی انشورنس تو کرانی ہی پڑتی ہے ۔“ بادامی بیگم نے ہار کی حیثیت والی با ت پر کوئی رد عمل دینے سے احتراز کیا اور نظر انداز کر گئیں۔
احمد صدیقی نے انسپکٹر قلندر کی طرف دیکھا ۔
” قلندر ….ضابطے کی کارروائی مکمل کرو۔جوتوں کے جو نشان ملے ہیں ،ان سے تمھیں چور کو پکڑنے میں مدد ملے گی۔“
بادامی بیگم طنزیہ انداز میں بولیں ۔” بہت خوب ،تو یہی ہے آپ کی انوسیٹی گیشن ….؟آپ تو کہہ رہے تھے کہ چٹکی بجاتے ہی چور کو پکڑ لیں گے ….“
” ہاں ….پپ….پکڑ لیں گے ….“ انسپکٹر قلندر نے ہکلا کر کہا۔
”خاک پکڑ لیں گے ….“ بادامی بیگم کو غصہ آگیا ۔
” جوتوں کے نشان لے لو ….“ وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوئیں ۔”اب آپ لوگ پورے شہر میں ہر آدمی کے جوتوں کو چیک کریں گے اور دیکھیں گے کہ کہ یہ نشان کس کے جوتے کے ہیں اور جوں ہی کسی کے جوتوں سے نشان میچ کر جائیں گے آپ اسے پکڑ لیں گے کیوں یہ کیس آپ کے اچھے بھی حل نہیں کرسکتے؟“
”بادامی بیگم آپ نے کہا کہ یہ کیس میرے اچھے بھی حل نہیں کر سکتے ،اچھوں کی بات چھوڑیئے ،یہ کیس تو میرے بچے بھی حل کر سکتے ہیں ۔“
” آپ کے بچے؟“
”ہاں کہیں تو بلاؤں اِنھیں…. دعوے سے کہتا ہوں، بیس منٹ میں وہ آپ کا ہار اور ہار کا چورآپ کے سامنے پیش کردیں گے ….“
” اچھا ….تو یہ بھی صحیح…. بلائیے اپنے تیس مار خان بچوں کو اگروہ بیس منٹ میں چور نہ پکڑ سکے تو؟“
”تو ….پانچ کروڑ روپے کا ہار میں آپ کو خود خرید کر دوں گا ….“
انسپکٹر قلندر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ بادامی بیگم بھی عجیب نظروں سے اُنھیں دیکھنے لگیں۔ اُنھیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا ۔
٭….٭
عمر اور علی اسکول سے گھرجارہے تھے جب اُن کے بابا جانی،احمد صدیقی کا فون آیا۔
” ہیلوبابا جانی ….السلام و علیکم ۔“ علی نے فون کال وصول کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اسپیکر آن کر دیا۔
” وعلیکم السلام ….کہاں ہو تم دونوں ….؟“
” سڑک پر ہیں ….عمر مجھے سڑک پر لے آیا ہے ۔“
”اوہ ….مطلب گاڑی میں ہو اور گھر جا رہے ہو ۔“ انھوں نے ٹریفک کی آوازیں سن لی تھیں ۔
” جی بابا جانی ….“
” گھر مت جاؤ….بادامی بیگم کا گھر دیکھا ہے ؟“
” وہ جو مفرور سیاست دان کی بیوی ہیں ….؟“
” ہاں ….وہی ….“
” نہیں ….گھر نہیں دیکھا ….“
احمد صدیقی نے پتابتاتے ہوئے کہا ۔” سیدھے یہاں آجاؤ،آج تمھارا امتحان ہے ۔“
” کیسا امتحان بابا جانی۔“ علی نے چونک کر پوچھا۔
” یہاں آجاؤ ….تو بتا دیتا ہوں ۔“ اُنھوں نے رابطہ منقطع کردیا۔ علی نے عمر کی طرف دیکھا۔
”امی جان کو فون کر کے بتا دو کہ ہم گھر نہیں آرہے ،بابا جانی کے پاس جا رہے ہیں ۔“ عمر نے ہدایت دی ۔عمر بڑا تھا،اس لیے حکمیہ انداز بھی اختیار کر لیتا تھا۔
علی نے امی جان ( بیگم احمد صدیقی ) کا نمبر ملادیا اور عمر نے گاڑی اگلے یو ٹرن سے موڑ لی ،بادامی بیگم کا پتا اس نے ذہن نشین کر ہی لیا تھا ۔
٭….٭
مطلوبہ کوٹھی زیادہ فاصلے پر نہیں تھی ۔کچھ ہی دیر میں اُن کی گاڑی بادامی بیگم کی کوٹھی کے باہر پہنچ گئی ،وہاں پہلے سے ہی پولیس کی تین چار موبائلیں کھڑی تھیں ،کچھ سپاہی اِدھر اُدھر منڈلاتے دکھائی دیے، جن میں ایک دو چوکس بھی تھے ۔ اُن کے بابا جانی کی گاڑی بھی باہر ہی موجود تھی ۔
سپاہیوں کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ دو لڑکے آئیں گے جن کے نام عمر اور علی ہیں، اُنھیں فوراً اندر پہنچایا جائے، اُنھیں فوراً اندر پہنچا دیا گیا ۔
بادامی بیگم انہیں دیکھتے ہی حیرت سے کھڑی ہو گئیں ۔
” یہ ….یہ بچے مجرم کو پکڑیں گے ؟“اُن کے لہجے میں حیرت تھی ۔
انسپکٹر قلندر،اور احمد صدیقی بھی وہیں موجود تھے ۔
” جی ۔“ احمد صدیقی نے کہا ۔” یہ میرے بیٹے ہیں عمر اور علی…. اِن کا کوئی توڑ نہیں ہے۔یہ جب میدان میں آتے ہیں تو میدان خالی ہو جاتا ہے یہ بیس منٹ میں بتا دیں گے کہ آپ کا ہار کس نے چرایا ہے۔“
” نا ممکن۔“ بادامی بیگم نے بے یقینی سے انکار میں گردن ہلائی ۔
” سانچ کو آنچ کیا ….اور ہاتھ کنگن کو فارسی کیا ۔“
” فارسی نہیں آرسی ….“ عمر نے فوراً تصحیح کی۔
” آرسی بھی تو فارسی ہے ….“ علی نے فورا ًکہا۔
”جی نہیں، آرسی ہندی ہے، غلط معلومات مت دیا کرو…. اطہر علی ہاشمی غلطی پکڑ لیں گے۔“
”یہ اطہر ہاشمی کون ہیں؟“ بادامی بیگم نے چونک کر پوچھا۔
”ایک خطر ناک آدمی ہیں، جو غلطیاں پکڑتے ہیں۔“ احمد صدیقی نے جواب دیا۔
”خیر ۔“ بادامی بیگم بولیں۔ ”تمھارا کہنا ہے کہ یہ بچے بیس منٹ میں ہار کے چور کو پکڑ لیں گے؟“
” جی ہاں ….“ احمد صدیقی نے جواب دیا۔
” اور اگر نہ پکڑ سکے تو ….“
” تو میں آپ کو پانچ کروڑ روپے ادا کروں گا ….“
بادامی بیگم نے طنزیہ انداز میں ان کی طرف دیکھا اور بولیں۔” پانچ کروڑ بہت بڑی رقم ہو تی ہے ،کبھی دیکھی ہے تم نے؟ “
احمد صدیقی مسکراے اور جیب سے چیک بک نکال کر پانچ کروڑ کا چیک بنا کر ان کی طرف بڑھا دیا ۔
” آپ میرے بینک میں فون کر کے تصدیق کرلیں کہ یہ چیک کیش ہو سکے گا یا نہیں ۔“
بادامی بیگم کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں ۔
” کیا چیز ہیں آپ؟“ اس کا لہجہ اچانک مؤدب ہو گیا۔ تم سے آپ پر آگئیں۔
” ناچیز کو وکیل احمد صدیقی کہتے ہیں ۔“
” اوہ ….اوہ ….تو ….تت….تو آپ وہ مشہور وکیل ہیں جو ….“ بادامی بیگم اپنی بات پوری نہ کر سکیں۔
” جی وہی وکیل جس نے آپ کے شوہر کا پانچ کروڑ روپے کے ہار کا کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔“
بادامی بیگم چپ ہوگئیں۔
” ہم اپنا کام شروع کردیں؟“ احمد صدیقی نے پوچھا۔
”جی لیکن بیس منٹ سے ایک بھی منٹ زیادہ ہو ا تو میں یہ چیک رکھ لوں گی، واپس نہیں کروں گی ۔“
”ٹھیک ہے اور اگر بیس منٹ میں کیس حل کردیا تو؟“
” میں بچوں کو انعام دوں گی ….پورا ایک کروڑ ۔“
وہ یہ کہہ کر صوفے پر بیٹھ گئیں ۔
احمد صدیقی اور انسپکٹر قلندر نے جلدی جلدی عمر اور علی کو ساری تفصیل بتائی اور کہا ۔
” تمھارا وقت شروع ہوتا ہے اب ….“
عمر اور علی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا ….اور پھر سیدھے اس کمرے کی طرف گئے جہاں سے ہار چوری ہوا تھا ۔
اچھی طرح پورے کمرے کا معائنہ کیا ،پھر باہر آئے، اُس کھڑکی کا معائنہ کیا جس سے چور اندر داخل ہوا تھا۔ باہر لان کی طرف جا کر بھی کھڑکی کے اطراف میں باریک بینی سے دیکھا۔ کانچ کے ٹکڑوں کو اُٹھا کر قریب سے دیکھااور مسکراے پھر وہ لاؤنج میں آگئے جہاں سب اُن کے منتظر تھے۔
” آپ کا کہنا ہے کہ رات کو جب آپ واپس آئیں تو اس وقت ہار تجوری میں ہی تھا ؟“ عمر نے پوچھا ۔
”ہاں میں نے واپسی پر انگوٹھیاں تجوری میں رکھیں تو اس وقت ہار وہیں دیکھا تھا ۔“
” اور آپ کے علاوہ رات کو اس گھر کے اندر کوئی اور نہیں تھا؟“علی نے پوچھا ۔
”نہیں یہ میں بتا چکی ہوں کہ میں کوٹھی میں اکیلی تھی، دروازے کھڑکیاں اندر سے بند تھے ۔میں صبح جاگی تو اِس کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ کھڑکی بھی کھلی ہوئی تھی۔“
”پھر آپ نے کیا کیا؟“
”میں گھبرا گئی اور جا کر سیف چیک کیا تو اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور ہار غائب تھا۔“
”اور کیا کیاغائب تھا سیف میں سے؟“
”کچھ نہیں صرف ہار چور ی کیاگیا تھا۔“
عمر اور علی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔بادامی بیگم نے گھڑی کی طرف نظریں دوڑائیں اور بولیں ۔
” پندرہ منٹ ہونے والے ہیں ….“
انسپکٹر قلندرنے گھبرا کر عمر علی اور احمد صدیقی کی طرف دیکھا ،اس کا اپنا چہرہ دھو اں دھواں ہو رہا تھا جیسے شرط ہارنے کی صورت میں پانچ کروڑ اس کی جیب سے جائیں گے ۔
عمر نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے بادامی بیگم کی طرف دیکھا ۔
” بادامی بیگم صاحبہ ….اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ چور کو معلوم تھا کہ آج کی رات ،وہ قیمتی ہار اس سیف میں ہے اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کے علاوہ گھر میں رات کو کوئی نہیں ہوگا۔“
”اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ گھر کی پچھلی دیوار کود کر وہ آسانی سے اندر آسکتا ہے ۔کھڑکی کا شیشہ توڑ کر کھڑکی کوکھول سکتا ہے اور اندر جا کر ہار چوری کر سکتا ہے ۔“ علی نے سوچتے ہوئے کہا ۔
” ہاں شاید ….جب ہی تو اس نے واردات کی ۔“
” ایک ضمنی سوال ہے ،جس کا اس کیس سے ویسے تو کوئی تعلق نہیں جنرل نالج کے لیے پوچھ رہا ہوں ،اس ہار کی انشورنس ہوچکی تھی ،کتنے کی انشورنس ہوئی ہے؟“ عمر نے کہا۔
”پانچ کروڑ ۔“ بادامی بیگم نے بے ساختہ جواب دیا ۔
”انسپکٹر قلندر بادامی بیگم کو گرفتار کرلیں، یہ ہار اِنھوں نے خود ہی چرا یا ہے ….اس گھر کی تلاشی لیں ….کیچڑ زدہ چھوٹے سائز کے جوتے اسی گھر سے مل جائیں گے ….جو اِن کے پیروں میں فٹ آئیں گے ….“
بادامی بیگم اچھل کر کھڑی ہوگئیں۔
”تمھارا دماغ ٹھیک ہے؟“
”جی ہاں!بالکل ٹھیک ہے۔“ عمر نے جواب دیا۔ ”آپ گھڑی کی طرف دیکھیں بادامی بیگم صاحبہ ،ابھی بیس منٹ پورے نہیں ہوئے۔“
” کیا بکواس کرتے ہو؟“ بادامی بیگم بِھنّا کر بولیں۔
احمد صدیقی کے چہرے پر ایک انوکھی سی مسکراہٹ تھی ۔
” میں بکواس نہیں کرتا بادامی بیگم صاحبہ ،میں فرماتا ہوں۔ “ عمر نے شوخ لہجے میں کہا۔
”کیا ثبوت ہے کہ یہ ہار میں نے چرایا ہے۔“
”کیوں کہ جس کھڑکی سے چور اندر آیا بادامی بیگم صاحبہ، اُس کھڑکی کا شیشہ باہر سے نہیں، اندر سے توڑا گیا ہے۔ اسی لیے ٹوٹا ہوا شیشہ باہر لان کی طرف گرا ہے۔“ علی نے کہا۔
” اور یہ تو آپ تسلیم کر ہی چکی ہیں کہ گھر کے اندر صرف آپ ہی تھیں ،کوئی اور نہیں تھا ۔“
بادامی بیگم ساکت کھڑی رہ گئیں ۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کو گھورنے لگیں ۔احمد صدیقی آگے بڑھے ۔
” مجھے معلوم ہے کہ آپ کے شوہر خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کو پیسوں کی سخت ضرورت ہوگی ،اسی لیے ملازم بھی کم ہو گئے ہیں گھر میں،یہ سارا ڈراما محض انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا تھا…. انسپکٹر قلندر…. ہار کا چور حاضر ہے…. لائیے میرا چیک واپس کردیں ۔“
بادامی بیگم کے ہاتھ سے ان کا چیک چھوٹ کے گرگیا ۔
احمد صدیقی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”اُستاد کہتے ہیں ،ہر مجرم غلطی کرتا ہے اور سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ جرم کرتا ہے ۔“
”یہ کس استاد نے کہا ہے ۔“ انسپکٹر قلندر نے پوچھا ۔
” احمد صدیقی، شہر کے جانے مانے وکیل ہیں، گرفتار کرلو بیگم بادامی کو ،اب پانچ کروڑ کے ہار کا کیس بھی دوبارہ کھلے گا ۔ہار اِسی گھر میں کہیں ہے ۔وہ ہم ڈھونڈ ہی لیں گے ۔“
عمر اور علی کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔ ویسے اُنھیں معلوم تھا کہ انھیں انعام کی ایک کروڑ کی رقم نہیں ملے گی ۔ اگر بادامی بیگم کے پاس پیسے ہوتے تو وہ چوری کیوں کرتیں ،وہ بھی اپنے ہی گھر میں ۔
٭….٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top