skip to Main Content

مفت مشورہ

ڈاکٹر رﺅف پاریکھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درختوں کے پتے جھڑنا شروع ہوگئے تھے۔ رات کے وقت ہلکی ہلکی ٹھنڈک رہنے لگی تھی۔ سردیوں کی آمد آمد تھی۔ چڑیا نے سوچا کہ گرمیاں تو ہنس کھیل کر گزار لیں۔ اب سردیوں کی کچھ فکر کرنی چاہیے۔ اگر گھونسلا نہ ہوا تو شدید سردی میں ٹھٹھر کر رہ جاﺅں گی۔
آخر ایک روز اس نے گھونسلا بنانا شروع کیا۔ بے چاری چھوٹی سی تو تھی۔ گھونسلا بنانا کیا جانے۔ جو کچھ سن رکھا تھا اس کے مطابق ادھر ادھر سے دو چار تنکے جمع کیے اور ایک درخت کی شاخ پر پتوں کے درمیان انھیں رکھ کو سوچنے لگی کہ اب کیا کروں؟ کس سے پوچھوں کہ ان تنکوں کو کیسے جوڑا جائے۔ اسی سوچ میں تھی کہ اتنے میں ایک ہد ہد اسی درخت پر آبیٹھا۔ سلام دعا کے بعد ہد ہد کہنے لگا۔
”کہو ننھی منی، یہ تنکے کیوں لیے بیٹھی ہو؟“
”سوچ رہی ہوں کہ ایک گھونسلا بنالوں۔ سردیاں آرہی ہیں۔ چند تنکے تو جمع کرلیے ہیں اب انھیں جوڑنے کی فکر ہے۔“ ننھی چڑیا نے جواب دیا۔
اس کی بات سن کر ہد ہد قہقہہ مار کر ہنسا اور بولا: ”ارے بے وقوف بھلا تنکوں سے بھی کہیں گھونسلا بنا ہے۔ گھونسلا تو درخت کو کھود کر بنایا جاتا ہے۔“
چڑیا حیرت سے بولی: ”درخت کو کھود کر! درخت کو کھود کر بھلا کیسے؟“
”لو بھلا یہ کون سا مشکل کام ہے۔“ ہدہد نے کہا اور یہ کہہ کر اس نے اپنی لمبی اور نوک دار چونچ درخت پر بار بار مارنی شروع کی۔ ”کھٹ…. کھٹ…. کھٹ“ اس کی تیز چونچ لگنے سے آواز پیدا ہوئی اور درخت سے لکڑی کا تھوڑا سا برادہ نکل آیا۔ درخت کے تنے پر چھوٹا سا گڑھا پڑگیا۔ ”دیکھا اس طرح کھودتے رہنے سے بڑی سی کھوہ بن جاتی ہے۔“
”میں تو اسی طرح گھونسلا بناتا ہوں۔ ہم سارے ہد ہد یہی کرتے ہیں۔ درختوں کے تنوں کو کھود کر ان میں رہتے ہیں۔ تم بھی یہی کرو۔“ یہ کہہ کر ہد ہد اُڑگیا۔
ہد ہد تو چلاگیا لیکن ننھی چڑیا کو پریشان کرگیا وہ سوچنے لگی کہ اگر ہد ہد کی بات مان لو تو اس جیسی تیز چونچ کہاں سے لاﺅں جس سے درخت کا تنا کھود ڈالوں۔ آخر اس نے سوچا کہ آزمانے میں ہرج کیا ہے اور اپنی چونچ درخت کے تنے پر مارنے لگی لیکن اس کی چھوٹی سی چونچ سے گڑھا تو کیا بنتا الٹی اس کی چونچ زخمی ہوگئی۔
”اب میں کیا کروں؟“ چڑیا نے اداس ہو کر سوچا۔
اچانک اس کی نظر خرگوش پر پڑی جو درخت کے نیچے سے گزر رہا تھا۔
”بھائی خرگوش!“ چڑیا نے اسے آواز دی۔
”کہو ننھی منی کیا حال ہے؟“ خرگوش نے رک کر اسے دیکھا اور بولا۔
”اچھے بھائی مجھے گھونسلا بنانا سکھادو نا۔“ چڑیا نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا۔
”گھونسلا؟ بھلا میں گھونسلا بنانا کیا جانوں۔ ہم خرگوش تو زمین میں بل بنا کر رہتے ہیں۔“ خرگوش نے جواب دیا۔
”بل بنا کر۔ زمین میں؟“ چڑیا نے حیرت سے کہا۔
”ہاں، ہاں،، ہم اپنے پنجوں سے مٹی کھودتے ہیں اور جب کافی گہرا گڑھا بن جاتا ہے تو اس میں رہنے لگتے ہیں۔ تم بل کیوں نہیں بنالیتیں؟ اچھا اب میں چلوں مجھے دیر ہورہی ہے۔ ابھی مجھے رات کے کھانے کے لیے سبزیاں جمع کرنی ہیں۔ اللہ حافظ۔“
اس طرح خرگوش بھی چلاگیا اور ننھی چڑیا کو ایک نئی الجھن میں ڈال گیا۔ ”اب میں کیا کروں، بل کیسے بناﺅں؟“ وہ سوچنے لگی۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ کوشش کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ یہ سوچ کر اس نے درخت سے اتر کر اپنے چھوٹے چھوٹے کمزور پنجوں سے زمین کھودنی شروع کی لیکن ان نازک پنجوں میں اتنی طاقت کہاں سے آتی کہ زمین کھود سکے۔ چونچ کی طرح اس کے پنجے بھی زخمی ہوگئے۔
یہ دیکھ کر چڑیا رونے لگی۔ ایک تو چونچ اور پنجے دونوں زخمی ہوگئے تھے۔ دوسرے اسے رہ رہ کر یہ خیال بھی آتا تھا کہ اگر گھونسلا نہ بن سکا تو میں سردیوں میں ٹھٹھر کر مرجاﺅں گی۔ اتنے میں وہاں سے بھالو کا گزر ہوا۔ اسے روتا دیکھ کر بھالو ٹھہر گیا اور کہنے لگا: ”کیا بات ہے ننھی منی؟ کیوں رو رہی ہو؟“
چڑیا نے اسے ساری بات بتائی۔ ریچھ اس کی بات سن کر مسکرایا اور بولا: ”دیکھو ننھی منی میں تمھیں ایک ایسی ترکیب بتاتا ہوں کہ تمھیں نہ بھونسلا بنانا بڑے گا اور نہ ہی بل۔“
”اچھا؟ ضرور بتائیے۔“ چڑیا خوش ہو کر بولی۔
”تم ایسا کرو کہ میری طرح غار میں رہا کرو۔ نہ کھودنے کی مصیبت نہ بنانے کا غم، بس جاﺅ اور رہنا شروع کردی۔ جنگل میں جو پہاڑ ہے اس میں بہت سارے غار ہیں چھوٹے بھی اور بڑے بھی۔ تم ان میں سے کسی ایک میں کیوں نہیں چلی جاتیں؟ چلو اٹھو شاباش اور رونا بند کرو۔“ یہ کہہ کر بھالو صاحب تو اپنی راہ چل دیے لیکن ننھی چڑیا کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کرگئے۔
بے چاری چڑیا پہاڑ پر پہنچی۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک چھوٹا سا غار بھی تلاش کرلیا لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس میں بہت ساری چمگادڑیں رہتی تھیں۔ چڑیا نے سوچا کہ میں ایک کونے میں رہ لوں گی لیکن جب وہ غار کے ایک کونے میں جا کر بیٹھی تو اسے احساس ہوا کہ غار کی زمین پتھریلی ہے اور اس میں پتھروں کی چھوٹی چھوٹی باریک تیز نوکیں نکلی ہوئی ہیں جو بیٹھنے پر چبھتی ہیں۔ تب اس نے سوچا کہ غار میں بھی تنکے جمع کرکے ایک چھوٹا سا گھونسلا جیسا تو بنانا ہی پڑے گا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ تنکے لاﺅں یا نہیں کہ چمگادڑوں نے اس پر حملہ کردیا۔ بے چاری بڑی مشکل سے وہاں سے جان بچا کر بھاگی۔
آخر اسی درخت پر آبیٹھی۔ اندھیرا بڑھتا جارہا تھا اور رات قریب تھی۔ اپنی بے بسی دیکھ کر چڑیا کا دل بھر آیا اور وہ زور زور سے رونے لگی۔ اس کی ننھی منی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ اتفاق سے اس وقت درخت کے نیچے سے حکیم ہمدرد گزر رہے تھے۔ چڑیا کی آنکھوں سے نکلا ہوا ایک آنسو ان کے چہرے پر گرا۔ حکیم ہمدرد نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اوپر دیکھ کر بولے: ”ارے ننھی منی، تم کیوں رو رہی ہو؟“ یہ کہہ کر انھوں نے جو ہاتھ آگے بڑھایا تو ننھی چڑیا ان کی انگلی پر آبیٹھی۔ حکیم ہمدرد جنگل میں ہی ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے تھے۔ وہ بہت ہمدرد اور محنت کرنے والے انسان تھے۔ اکثر جنگل کے جانوروں کی مدد کرتے اور ان کا علاج کرتے۔ اسی لیے جنگل کے سب جانور ان سے مانوس تھے اور ان سے محبت کرتے تھے۔
حکیم ہمدرد کو دیکھ کر چڑیا اسی لیے فوراً ان کی انگلی پر جا بیٹھی اور ساری بات انھیں کہہ سنائی۔ حکیم صاحب نے اپنا بیگ زمین پر رکھ دیا اور چڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ پھر انھوں نے اپنے بیگ سے دوا نکال کر چڑیا کے زخموں پر لگائی اور اسے اپنی ہتھیلی پر بٹھا کر بولے: ”ننھی منی، میری باتیں غور سے سننا اور ہمیشہ یاد رکھنا۔ پہلی بات تو یہ کہ تمھیں اس دنیا میں مشورے دینے والے بہت ملیں گے جو بالکل مفت مشورہ دیں گے لیکن ان میں سے ہر ایک کی بات مان لینے سے نقصان ہی ہوگا۔ جو شخص ہر ایک کا مشورہ مان لیتا ہے وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ مشورہ دینے والے اپنے حالات کے مطابق تمھیں مشورہ دیں گے، جیسا کہ ہد ہد، خرگوش اور بھالو نے تمھیں دیا لیکن ان کے مشورے صحیح ہونے کے باوجود تمھارے لیے کسی کام کے نہیں تھے۔ ایک چڑیا ہد ہد کے گھر میں یا بل میں یا غار میں نہیں رہ سکتی۔ اسے گھونسلے میں ہی رہنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان دار کو جیسے ہاتھ پاﺅں اور جسم دیا ہے ویسے ہی اس کے حالات بھی بنائے ہیں۔ ہد ہد کو تیز نوک دار چونچ دی تو اسے درخت کھود کر گھر بنانا بھی سکھایا اور یہ کام کسی دوسری کے بس کا نہیں۔“
چڑیا نے زور زور سے سر ہلا کر ہاں کہا اور بولی: ”تو پھر اب میں کیا کروں؟“
حکیم ہمدرد نے کہا: ”تم چوں چوں چڑیا کے پاس جاﺅ۔ وہ تمھیں گھونسلا بنانا بھی سکھائے گی اور آج کی رات تمھیں اپنے گھونسلے میں سونے بھی دے گی، بلکہ کھانا بھی کھلائے گی۔ بہت اچھی ہے بے چاری۔“
چڑیا نے جواب دیا: ”بہت اچھا میں ایسا ہی کروں گی اور بہت جلد گھونسلا بنانا سیکھ لوں گی۔ حکیم صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے میری مدد بھی کی اور مجھے کام کی بات بھی سکھائی کہ ہر ایک کا مشورہ نہیں ماننا چاہیے۔ اچھا اب مجھے اجازت ہے؟“ حکیم ہمدرد نے جواب دیا: ”اللہ حافظ۔“
”اللہ حافظ۔“ یہ کہہ کر چڑیا پُھرررر سے اُڑگئی اور حکیم ہمدرد بھی روانہ ہوگئے۔ چوں چوں چڑیا نے ننھی منی چڑیا کو نہ صرف اپنے گھونسلے میں رکھا، اسے کھانا کھلایا بلکہ اسے گھونسلا بنانا بھی سکھادیا۔ آج ننھی منی چڑیا اپنے گھونسلے میں رہتی ہے اور اپنے بچوں کو یہ کہانی سناتی ہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top