skip to Main Content

مالی

محمد سدیم احسن

۔۔۔۔۔۔۔

یہ 2008ءکی بات ہے، جب میں آٹھ سال کا بچہ تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے ایک خوب صورت گاؤں ”شاہ والا“ میں ہمارا بڑا سا ایک گھر تھا۔ اماں ہماری گھریلو خاتون اور ابا ایک پرائیویٹ اسکول میں بطور مالی تعینات تھے۔ اُن کی قلیل تنخواہ ہم پانچ بہن بھائیوں کا بوجھ بمشکل سہارتی۔ ایک مالی کی بھلا تنخواہ ہی کتنی ہوتی ہے، یہی کوئی چھے سات ہزار۔ ہمارے ابا کی بھی کچھ اتنی ہی تنخواہ تھی۔
ہمارے چہروں پر گرچہ شادابی مفقود تھی لیکن ہمارے گھر کی شادابی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ گھر نہیں تھا گویا ایک خوب صورت باغ تھا۔ ہمارے دادا نے یہ ایک کنال کا گھر اس وقت لیا تھا، جب زمینیں سستی تھیں۔ ابا چوں کہ اکلوتی اولاد تھے، اس لیے یہ پورا ایک کنال انہی کے حصے میں آیا۔ اتنے بڑے گھر میں بس دو ہی کمرے تھے اور ایک طرف بنا غسل خانہ۔ اور باقی کا پورا گھر درختوں پودوں اور پھولوں کا گھرتھا۔
مجھے ابا سے ہمیشہ ایک ہی گلہ رہا تھا کہ آخر وہ یہ”سستا“ کام چھوڑ کر کچھ اچھا کیوں نہیں کر لیتے۔ کچھ ایسا کہ جس سے ہمارے گھر میں پیسہ کچھ زیادہ آنے لگے۔
صبح سویرے ابا اٹھتے اور نماز پڑھنے کے بعد اسکول کی راہ لیتے۔ پھر شام تک ابا ہوتے اور اسکول کی دیکھ بھال ہوتی۔ اسکول کی خوب صورتی بھی دیکھنے کے لائق تھی۔ یہ ہمارے گاؤں کا واحد پرائیویٹ اسکول تھا۔ اسکول کی عمارت کچھ خاص نہ تھی لیکن جس طرح سے ابا کی درختوں اور پودوں پر محنت نے اسکول کی خوب صورتی کو اطراف کے قصبات میں مشہور کر رکھا تھا۔
شام کو ابا گھر آتے تو بھی کون سا انھیں آرام ہوتا۔ اب اپنے گھر کے”باغ“ کی باری ہوتی۔ گھر کے چاروں طرف دیواروں سے لپٹی بیلیں ، ہر دو قدم پہ رکھے گملے اور گملوں میں سجے پھول ہر وقت بہار کا منظر پیش کرتے۔ ابا کو گویا درختوں اور پودوں سے عشق تھا۔ وہ صرف پودوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے تھے، وہ اُن کے بارے میں مکمل معلومات بھی رکھتے تھے۔ آم کا ننھا سا پودا مضبوط درخت کیوں نہیں بن رہا ، گلاب کے پودے پر پھول کیوں نہیں آ رہے؟ ابا سب جانتے تھے۔ گاؤں میں کسی کو بھی کوئی درخت لگانا ہوتا وہ ابا ہی سے مشورہ کرتا۔شاید پودوں اور درختوں کو بھی ابا سے محبت تھی کہ حیرت انگیز طور پر ابا کے ہاتھوں سے لگائے گئے درخت جلدی بڑھتے تھے اور پھل ضرور لاتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں جادو تھا ، پودوں سے محبت کا جادو۔ میں نے اکثر دیکھا تھا کہ ابا پودوں سے باتیں کر رہے ہوتے ۔ کبھی ہنس دیتے اور کبھی اداس ہو جاتے۔ اُن کے پتوں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے جیسے وہ اُن کی دعا ؤں کا نتیجہ ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر ہنسی بھی آتی اور کبھی شدید غصہ۔
دراصل میں ایک عام سا بچہ تھا جیسے سب ہوتے ہیں۔ خواہشات سے گھرے ہوئے۔ میری بھی وہی آرزوئیں تھیں جو کسی بھیبچے کی ہوتی ہیں۔ کسی مہنگے اسکول میں داخلہ، ایک سائیکل ، بہت سارے کھلونے اور پیسے، لیکن ابا کے چھے سات ہزار میں یہ ممکن نہ تھا۔
آہستہ آہستہ میں ابا کے پودوں سے چڑنے لگا، لیکن باوجود اس چڑچڑاہٹ کے مجھے پودوں کے پاس وقت گزارنا پڑتا تھا۔ ابا سے محبت تھی تو اِس محبت کی وجہ سے میں پودوں کے آس پاس ہی رہتا۔ ہر وقت ابا کے ساتھ چمٹے رہنے کی وجہ سے میں بھی لاشعوری طور پر پودوں کے متعلق ابا کا تمام علم حاصل کرتا چلا گیا، البتہ میرے پاس پودوں سے متعلق معلومات تو تھیں لیکن ابا کی طرح ان سے محبت نہ تھی۔میں بعض اوقات غصہ ہو جاتا ،اس بات پہ چڑ جاتا کہ آخر میرے ہاتھوں سے لگائے گئے پودوں پر بہار کیوں نہیں آتی۔ ابا ہنس دیتے اور کہتے :
”میرے لعل! پودوں پر بہار تب آئے گی جب تم اُن سے محبت کرنا سیکھو گے۔ “
وقت گزرتا رہا اور میں…. جی ہاں میں بھی مجبورا ًایک مالی بن گیا۔ کیوں کہ میرے پاس نہ تو زیادہ تعلیم تھی اور نہ ہی کوئی اور ہنر، مجبوراً مجھے بھی وہی ناپسندیدہ کام کرنا پڑ گیا جس سے ہمیشہ چڑتا آیا تھا۔
میں مالی تو تھا لیکن ابھی میں نے اِس کام کو بطور پیشہ نہ اپنایا تھا۔ میں ابھی بھی بڑے خواب دیکھنے میں مصروف رہتا۔ بڑے خواب دیکھنا غلط نہ تھا ، اِن خوابوں کی تعبیر پانے کی کوشش نہ کرنا غلط تھا۔
انہی دنوں ہم پانچ بہن بھائیوں کا سہارا ہمارے ابا چل بسے۔ دراصل اسکول میں ہوئی گرمی کی چھٹیوں میں بھی ابا اپنے محبوب پودوں اور درختوں کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدگی سے اسکول جاتے رہے۔ اسی آنے جانے میں انھیں لو لگ گئی تھی۔
مہینوں تو مجھے کسی بات کا ہوش نہ رہا۔ میں حواس کھو بیٹھا تھا۔ میں بچپن سے ہی ابا کے بہت قریب رہا تھا، اب جب میں بڑا ہوا ، جب وقت آیا کہ میری ذات سے انھیں راحت پہنچے تو وہ چل دیے۔ دو ماہ سوگ کی حالت میں رہنے کے بعد جب باورچی خانہ بالکل خالی ہو گیا تو گھر کا بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ماسٹر صاحب نے ابا کے دوست ہونے کی حیثیت سے مجھے اسی اسکول میں مالی رکھ لیا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے، میں جس کام سے کتراتا تھا، قدرت نے مجھے اسی کام سے لا باندھا۔ خیر میں نے اپنا کام سنبھالا اور ہمارے گھر کا ٹھنڈا ہوتا چولہا ایک بار پھر سے جلنے لگا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن میں اندر سے ناخوش تھا۔ کچھ بڑا کرنے کی آگ مجھے اندر سے جلائے رکھتی۔
ابا کے جانے کے بعد ایک کرشمہ مگر یہ ہوا کہ مجھے پودوں سے محبت ہونے لگی۔ اس وجہ سے کہ وہ میرے مرحوم ابا کو بہت محبوب رہے تھے۔ ان کے پتوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے ابا کا لمس محسوس ہوتا۔ ہمارے گھر کا باغ جو اتنے ماہ بے توجہی کا شکار رہا تھا ،ایک بار پھر سے جی اٹھا ۔ ابا کی کہی بات کے مطابق پودوں سے محبت کرنے کی بدولت اُن پر اب بہار آنے لگی تھی لیکن میرے خواب مجھے رنجیدہ رکھتے تھے۔
پاکستان میں کسی کے پاس کھانے کوبے شک روٹی نہ ہو لیکن ہاتھ میں ایک بڑا سا فون ضرور ہو گا۔ سو میرے پاس بھی ایک فون کی عیاشی ضرور تھی۔ایک دن میرا موبائل فون ہاتھ میں تھا کہ ایک کوندا سا ذہن میں لپکا۔ ابا کے ساتھ مسلسل وقت گزارنے کی وجہ سے میرے پاس درختوں اور پودوں کے متعلق مکمل معلومات تو تھیں ہی، اوپر سے گھر میں ایک خوب صورت باغ بھی میسر تھا تو بس میں نے یوٹیوب پر” مالی“ کے نام سے اپنا ایک چینل بنا لیا۔
میں نے مختصر مگر جامع طریقے سے مختلف پودوں کے متعلق معلومات دینا شروع کر دیں۔ لوگوں کو پودے اگانے کے طریقے بتانے شروع کر دیے۔ پہلے چھے ماہ تو مجھے لگا، سب بیکار ہے۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود میرے پاس سو سے زیادہ لوگ ایڈ نہیں ہوئے تھے، لیکن خیر میں نے ہمت نہیں ہاری کہ مجھے بھی اب لوگوں کی مدد کر کے خوشی ہوتی تھی۔
اور پھر دوسرا سال ختم بھی نہ ہوا تھا کہ میرے سبسکرائیبرز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی۔ جس کام کو میں نے سستا جانا تھا، اسی کام نے مجھے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ ملک سے باہر بھی بے حد عزت بخشی۔ مجھے سننے والے ، مجھ سے معلومات لینے والے جب مجھے بتاتے کہ انھوں نے کتنے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ وہ اپنا گھر دکھاتے جو کسی باغیچے کا منظر پیش کر رہے ہوتے اور اس کا کریڈٹ وہ مجھے دیتے تو میں ایسی انمول خوشی محسوس کرتا کہ اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
اور یوں مجھے پودوں سے محبت کی بنا پر سب کچھ مل گیا ۔عزت بھی اور پیسہ بھی۔
لیکن ایک پچھتاوا نہیں جاتا۔ ہر وقت ابا سے شکایت کرنے کا پچھتاوا….شجرکاری کو سستا کام سمجھنے کا پچھتاوا….!

٭٭٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top