skip to Main Content

قلمی دوستی

ڈاکٹر رؤف پاریکھ
۔۔۔۔۔۔۔

دوستو! آئیے آج آپ کو دو قلمی دوستوں کی خط و کتابت پڑھواتے ہیں۔ پہلا خط پڑھیے:
پیارے قلمی دوست اللہ رکھا!
السلام علیکم
تمہارا نام اور تعارف بچوں کے ایک رسالے میں قلمی دوستی کے کالم میں پڑھا اور جی چاہا کہ تم سے قلمی دوستی کروں۔سب سے پہلے تو میں تمہارے نام کے بارے میں کچھ کہوں گا۔تمہارا نام یعنی اللہ رکھا پڑھ کر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک صاحب کا نام خدابخش تھا۔ان کے دوست غلام رسول تھے۔یہ غلام رسول صاحب جب بھی اپنے دوست خدابخش کو فون کرتے تو بڑے فخر سے کہتے،”ہیلو! میں رسول بول رہا ہوں۔اس پر خدا بخش صاحب رعب سے کہتے،”میں خدا بول رہا ہوں۔“توبہ! استغفراللہ! یہ تو خیر لطیفہ تھا۔لیکن تمہارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوتا؟
اپنے تعارف کے ساتھ مشاغل میں تم نے بڑی دلچسپ چیزیں لکھی ہیں۔مثلا: کرکٹ کھیلنا،تیراکی کرنا ،کتابیں پڑھنا اور قلمی دوست بنانا وغیرہ۔ کتنی خوشی کی بات ہے کہ میرے بھی مشاغل وہی ہیں جو تمہارے ہیں۔اس لیے میں تمھیں خط لکھ رہا ہوں۔البتہ ان مشاغل کے سلسلے میں مجھے دو تین باتیں کھٹکتی ہیں۔مثلا کرکٹ کھیلنے کا شوق تو مجھے بہت ہے لیکن سارا سارا دن دھوپ میں فیلڈنگ کرنے کے بعد جب میری بیٹنگ کی باری آتی ہے تو باﺅلروں کا رویہ اچانک بہت غیر دوستانہ ہو جاتا ہے۔ان کا رویہ دوستانہ رکھنے کے لئے مجھے مجبور اً اپنے وکٹ کی قربانی دینی پڑتی ہے اور میں ان کا دل خوش کرنے کے لیے پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو جاتا ہوں۔اس بات کو لوگ سمجھتے نہیں اور مجھے اناڑی اور پھسڈی کہتے ہیں۔کرکٹ کے بارے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ جب تک آپ کی بیٹنگ رہتی ہے کھیل اچھا لگتا ہے، لیکن فیلڈنگ آتے ہی یہ قطعی غیر دلچسپ ہو جاتا۔مجھے اس پر اکثر حیرانی ہوتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ کرکٹ ایجاد کرنے والے نے ایسا کھیل کیوں ایجاد کیا جو صرف تھوڑی دیر کے لئے دلچسپ رہتا ہے۔پتا نہیں تم بھی اس طرح محسوس کرتے ہو یا نہیں؟
رہی تیراکی تو میں تیراکی کا ماہر ہوں۔گھنٹوں کنارے کنارے جہاں ایک دو فٹ گہرا پانی ہوتا ہے تیراکی کرتا رہتا ہوں۔زیادہ گہرے پانی میں تیرنا مجھے نہیں آتا لیکن پھر بھی تیرنے کا بہت شوق ہے، لیکن افسوس کہ لوگ مجھے گہرے پانی میں تیرنے ہی نہیں دیتے۔میں دراصل گہرے پانی میں صرف پانی کے نیچے ہی تیرتا ہوں جسے انگریزی میں انڈرواٹر کہتے ہیں۔اسے ہم اپنی زبان میں زیرآب کہہ سکتے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ لوگ مجھے گہرے پانی میں ایک آدھ منٹ سے زیادہ نہیں تیرنے دیتے اور کھینچ کر باہر نکال دیتے ہیں۔شاید ان کو یہ خوف ہو کہ میں ڈوب جاؤں گا۔مہربانی کرکے مجھے یہ ضرور لکھنا کہ ایسے موقع پر تم کیا کرتے ہو۔میں نے اس مسئلے کا حل نکالا ہے کہ تیرا کی پانی کے بغیر کی جائے۔اب میں ایسی جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں بغیر پانی کے تیراکی ہوتی ہو۔
تمہاری طرح کتابیں پڑھنے کا مجھے بھی بے حد شوق ہے۔لیکن میری پسندیدہ کتاب آج تک لکھی ہی نہیں گئی۔ اس لیے اب میں اس سوچ میں ہوں کہ اپنی پسند کی کتاب کسی روز خود ہی لکھ ڈالوں۔جب تک میں یہ کتاب لکھ نہیں لیتا میں دوسری کتابیں جو مجھے غیر دلچسپ لگتی ہیں بھلا کیسے پڑھ سکتا ہوں۔
قلمی دوست بنانا میرا بھی مشغلہ ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے قلمی دوستی کا جنون کی حد تک شوق ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں میرے قلمی دوست ہوں۔اب تم پوچھو گے کہ میرے کتنے قلمی دوست ہیں؟اگر تم نے اس خط کا جواب دیا تو میرا ایک قلمی دوست بن جائے گا۔دراصل میں نے یہ مشغلہ آج ہی شروع کیا ہے۔امید ہے جواب ضرور دو گے۔
فقط تمہارا دوست
قاضی محمد فاضل عظیم الدین خان پانی پتی

اب ذرا اس خط کا جواب پڑھیے:
میرے نئے قلمی دوست محمد فاضل
وعلیکم السلام
تمہارا خط پڑھ کر میں بہت لطف اندوز ہوا۔تمہارا نام پڑھ کر مجھے بھی ایک لطیفہ یاد آگیا۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک صاحب جن کا نام بہت طویل تھا رات کے وقت کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کی غرض سے پہنچے۔ہوٹل والے نے دروازہ کھولنے سے پہلے ان کا نام پوچھا تو یہ بولے،” مولوی قاری مفتی محمد اسماعیل عفی عنہ¾۔“اس پر ہوٹل والے نے جواب دیا،”معاف کرنا بھائی، اتنے آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔“تمہارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا؟ویسے اردو میں ایک محاورہ ہے،”پڑھے نہ لکھے نام محمد فاضل۔“لیکن مجھے یقین ہے کہ تم پر یہ محاورہ صادق نہیں آتا۔
کرکٹ کے بارے میں میرے اور تمہارے خیالات ملتے جلتے ہیں۔ کرکٹ میں میرا زیادہ سے زیادہ اسکور ایک رن ہے۔اس ایک رن کے بنانے میں بھی میری کوششوں کا کوئی دخل نہ تھا۔ہوایوں کہ گیند بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس سے ہوتی ہوئی اللہ جانے کہاں گئی تھی۔ اس پر لوگوں نے اتنا شورمچایا کہ میں ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔جب ہوش آیا تو امپائر نے مجھے پکڑا ہوا تھا اور اسکور بورڈ پر میرے نام کے آگے ایک رن لکھا تھا۔اس واقعے کے بعد بھی میں کرکٹ کھیلتا رہا لیکن ایسا خوش گوار حادثہ پھر کبھی پیش نہیں آیا۔
تیراکی کے بارے میں تمہارے خیالات پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا ہوں۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب میں بڑا ہو کر سائنس داں بنوں گا تو تیراکی کا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرنے کی کوشش ضرور کروں گا جس میں پانی استعمال نہ ہوتا ہو۔تمہیں چاہیے کہ اب تم میرے بڑے ہونے اور میرے سائنس داں بننے کا انتظار کرو۔ویسے میں ذاتی طور پر غسل خانے میں تیراکی کرنا پسند کرتا ہوں اور اس کام کے لیے ایک بالٹی پانی کافی ہوتا ہے۔
تمہاری پسندیدہ کتاب بھی میں لکھنے کی کوشش کروں گا۔اس کے لئے بھی تمہیں میرے بڑے ہونے کا انتظار کرنا ہوگا لیکن مجھے خطرہ ہے کہ میرے ڈاکٹر رؤف پاریکھ
دوستو! آئیے آج آپ کو دو قلمی دوستوں کی خط و کتابت پڑھواتے ہیں۔ پہلا خط پڑھیے:
پیارے قلمی دوست اللہ رکھا!
السلام علیکم
تمہارا نام اور تعارف بچوں کے ایک رسالے میں قلمی دوستی کے کالم میں پڑھا اور جی چاہا کہ تم سے قلمی دوستی کروں۔سب سے پہلے تو میں تمہارے نام کے بارے میں کچھ کہوں گا۔تمہارا نام یعنی اللہ رکھا پڑھ کر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک صاحب کا نام خدابخش تھا۔ان کے دوست غلام رسول۔یہ غلام رسول صاحب جب ب جب بھی کبھی بھی اپنے دوست خدابخش کو فون کرتے تو بڑے فخر سے کہتے،”ہیلو! میں رسول بول رہا ہوں۔اس پر خدا بخش اب رعب سے کہتے۔میں خدا بول رہا ہوں۔توبہ! استغفراللہ! یہ تو خیر لطیفہ تھا۔لیکن تمہارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوتا؟
اپنے تعارف کے ساتھ مشاغل میں تم نے بڑی دلچسپ چیزیں لکھی ہیں۔مثلا: کرکٹ کھیلنا،تیراکی کرنا ،کتابیں پڑھنا نا اور قلمی دوست بنانا وغیرہ۔کتنی خوشی کی بات ہے کہ میرے بھی مشاغل وہی ہیں جو تمہارے ہیں۔اس لیے میں تمھیں خط لکھ رہا ہوں۔البتہ ان مشاغل کے سلسلے میں مجھے دو تین باتیں کھٹکتی ہیں۔مثلا کرکٹ کھیلنے کا شوق تو مجھے بہت ہے لیکن سارا سارا دن دھوپ میں فیلڈنگ کرنے کے بعد جب میری بیٹنگ کی باری آتی ہے تو بولو کا کا رویہ اچانک بہت غیر دوستانہ ہو جاتا ہے۔ان کا رویہ دوستانہ رکھنے کے لئے مجھے مجبور اپنے وکٹ کی قربانی دینی پڑتی ہے اور میں ان کا دل خوش کرنے کے لیے پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو جاتا ہوں۔اس بات کو لوگ سمجھتے نہیں اور مجھے اناڑی اور پھسڈی کہتے ہیں۔کرکٹ کے بارے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ جب تک آپ کی بیٹنگ رہتی ہے کھیل اچھا لگتا ہے لیکن فیلڈنگ آتے ہیں یہ قطعی غیر دلچسپ ہو جاتا۔مجھے اس پر اکثر حیرانی ہوتی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ کرکٹ ایجاد کرنے والے نے ایسا کھیل کیوں ایجاد کیا جو صرف تھوڑی دیر کے لئے دلچسپ رہتا ہے۔پتا نہیں تم بھی اس طرح محسوس کرتے ہو یا نہیں؟
رہی تیراکی تو میں تیراکی کا ماہر ہو۔گھنٹوں کنارے کنارے جہاں ایک دو فٹ گہرا پانی ہوتا ہے تیراکی کرتا رہتا ہوں۔زیادہ گہرے پانی میں تیرنا مجھے نہیں آتا لیکن پھر بھی تیرنے کا بہت شوق ہے لیکن افسوس کہ لوگ مجھے گہرے پانی میں تیرنے ہی نہیں دیتے۔میں دراصل گہرے پانی میں صرف پانی کے نیچے ہی تیرتا ہوں جس سے انگریزی میں انڈرواٹر کہتے ہیں۔اسے ہم اپنی زبان میں زیرآب کہہ سکتے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ لوگ مجھے گہرے پانی میں ایک آدھ منٹ سے زیادہ نہیں دھرنے دیتے اور کھینچ کر باہر نکال دیتے ہیں۔شاید ان کو یہ خوف ہو کہ میں ڈوب جاؤں گا۔مہربانی کرکے مجھے یہ ضرور لکھنا کی ایسے موقع پر تم کیا کرتے ہو۔میں نے اس مسئلہ کا حل نکالا ہے کہ تیرا کی پانی کے بغیر کی جائے۔اب میں ایسی جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں بغیر پانی کے تیراکی ہوتی ہو۔
تمہاری طرح کتابیں پڑھنے کا مجھے بھی بے حد شوق ہے۔لیکن میری پسندیدہ کتاب آج تک لکھی ہی نہیں گئی اس لیے اب میں اس سوچ میں ہوں کہ اپنی پسند کی کتاب کسی روز خود ہی لکھ ڈالوں۔جب تک میں یہ کتاب لکھ نہیں لیتا میں دوسری کتاب میں جو مجھے غیر دلچسپ لگتی ہیں بھلا کیسے پڑھ سکتا ہوں۔
قلمی دوست بنانا میرا بھی مشغلہ ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے قلمی دوستی کا جنون کی حد تک شوق ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں میرے قلمی دوست ہوں۔اب تم پوچھو گے کہ میرے کتنے قلمی دوست ہیں؟اگر تم نے اس خط کا جواب دیا تو میرا ایک قلمی دوست بن جائے گا۔دراصل میں نے یہ مشغلہ آج ہی شروع کیا ہے۔امید ہے جواب ضرور دو گے۔
فقط تمہارا دوست
قاضی محمد فاضل عظیم الدین خان پانی پتی
اب ذرا اس خط کا جواب پڑھیے:
میرے نئے قلمی دوست محمد فاضل
وعلیکم سلام
تمہارا خط پڑھ کر میں بہت لطف اندوز ہوا۔تمہارا نام پڑھ کر مجھے بھی ایک لطیفہ یاد آگیا۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک صاحب جن کا نام بہت طویل تھا رات کے وقت کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کی غرض سے پہنچے۔ہوٹل والے نے دروازہ کھولنے سے پہلے ان کا نام پوچھا تو یہ بولے: مولوی قاری مفتی محمد اسماعیل عفی عنہ۔اس پر ہوٹل والے نے جواب دیا،معاف کرنا بھائی اتنے آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔تمہارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا؟ویسے اردو میں ایک محاورہ ہے،پڑھے نہ لکھے نام محمد فاضل۔لیکن مجھے یقین ہے کہ تم پر یہ محاورہ صادق نہیں آتا۔
کرکٹ کے بارے میں میرے اور تمہارے خیالات ملتے جلتے ہیں۔ کرکٹ میں میرا زیادہ سے زیادہ اسکور ایک رن ہے۔اس ایک رن کے بنانے میں بھی میری کوششوں کا کوئی دخل نہ تھا۔وایو کے گیند بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس سے ہوتی ہوئی اللہ جانے کہاں گئی تھی۔اس پر لوگوں نے اتنا شورمچایا کہ میں ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔جب ہوش آیا تو امپائر نے مجھے پکڑا ہوا تھا اور اسکور بورڈ پر میرے نام کے آگے ایک رن لکھا تھا۔اس واقعے کے بعد بھی میں کرکٹ کھیلتا رہا لیکن ایسا خوشگوار ہاتھ صاف پھر کبھی پیش نہیں آیا۔
تیراکی کے بارے میں تمہارے خیالات پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا ہوں۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب میں بڑا ہو کر سائنسدان بنوں گا تو تیراکی کہ کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرنے کی کوشش ضرور کروں گا جس میں پانی استعمال نہ ہوتا ہو۔تمہیں چاہیے کہ اب تم میرے دے بڑے ہونے اور میرے سائنسداں بننے کا انتظار کرو۔ویسے میں ذاتی طور پر غسل خانے میں تیراکی کرنا پسند کرتا ہوں اور اس کام کے لیے ایک بالٹی پانی کافی ہوتا ہے۔
تمہاری پسندیدہ کتاب بھی میں لکھنے کی کوشش کروں گا۔اس کے لئے بھی تمہیں میرے بڑے ہونے کا انتظار کرنا ہوگا لیکن مجھے خطرہ ہے کہ میرے بڑے ہونے تک تم خود اچھے خاصے بڑے ہو چکے ہو گے اور میری محنت رائیگاں جائے گی۔اگر تم وعدہ کرو کہ میرے بڑے ہونے تک چھوٹے ہی رہو گے تو میں تمہارے لئے کچھ کروں۔مجھے تمہاری بہت فکر ہے۔والسلام
فکرمند
اللہ رکھا

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top