skip to Main Content

انمول بات

محمدعلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کی تاریکی ہر سو چھائی ہوئی تھی۔ رات کی تاریکی میں الوؤں کی آواز ایک عجیب سی گونج پیدا کر رہی تھی۔ چاند بھی پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ اسکول جو مال روڈ کے قریب تھا اس کے ہاسٹل کے ایک کمرے کی لائٹ روشن تھی۔ اس کمرے میں پانچ چھ لڑکے دائرہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ آج رات وہ اپنے حق کے لیے کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ گول میز کانفرنس کی صدارت کر رہے تھے رضوان۔
ساتھیو! کل سے ہمارے ٹیسٹ شروع ہو رہے ہیں لیکن ہم نے چھٹیوں میں مکھیاں مارنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ تو اب یہ ٹیسٹ کس طرح پاس کر سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ اپنے مشور ہ اور تجاویز سے ضرور آگاہ کریں۔ رضوان نے صدارت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے پوچھا۔
’’چل حکیم صاحب پہلے اپنے مفید مشورے سے مستفید کرو۔‘‘
وسیم نے منور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
منور ایک دبلا پتلا لڑکا تھا۔ سب کلاس والے اور استاد اسے پیار سے حکیم صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ کیونکہ اس نے تھوڑی بہت حکمت بھی حکیم لقمان سے سیکھی ہوئی تھی۔
’’بوٹی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک جڑی بوٹی اور دوسری کراماتی بوٹی جسے عرف عام میں نقل کہتے ہیں۔‘‘
جڑی بوٹی سے ہم فصلوں کو شاداب کرتے ہیں انھیں پیس کر دوائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ان دوائیوں کے استعمال سے ہمارا جسم بیماریوں کے خلاف مدافعت کرتا ہے۔
کراماتی بوٹی: یہ ایسی بوٹی ہے جسے ہم خود بناتے ہیں۔ اگر ہم پر پرچوں کی مصبیت آ جائے تو ہم خاص خاص سوالوں کو لکھ کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں جس سے ہمارے ذہن سے پرچے کا بوجھ اترجاتاہے۔
اچھا ! وسیم صاحب کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ صدر مجلس نے وسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
’’نقل اسلام میں حرام نہیں۔‘‘ وسیم کے انکشاف سے سب کی
نگاہیں وسیم پر ٹھہر گئیں۔ سارے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’آپ کو یہ کب معلوم ہوا کہ نقل اسلام میں حرام نہیں؟‘‘ رضوان نے طنزاً کہا۔
’’میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔‘‘ وسیم نے سہمے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
’’ایسی کونسی کتاب؟‘‘ منور نے کھا جانے والی نظروں سے پوچھا۔
’’مجھے اس بات کا بخوبی علم تھا۔ تم سب میری بات کی نفی کرو گے۔ اس لیے وہ کتاب میں اپنے ساتھ لایا ہوں۔ تاکہ اپنی سچائی ثابت کر سکوں۔‘‘وسیم نے کتاب دکھاتے ہوئے جواب دیا۔
رضوان نے کتاب پکڑی۔ مطلوبہ صفحہ کا مطالعہ کیا جس میں واضح حروف میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ’’اسلام میں نقل حرام نہیں۔‘‘ یہ پڑھ کر رضوان کے چہرہ پر ایک شیطانی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ منور اور باقی ساتھیوں نے بھی کتاب کو بغور پڑھا۔ سب کے دلوں میں لڈو پھوٹنے لگے۔
ٹھک۔۔۔ٹھک۔۔۔ٹھک۔۔۔
کمرے کا دروزاہ کھلا۔ باہر سے ایک دیوقامت آدمی جس کے پیلے دانت مسکرانے سے صاف دکھائی دے رہے تھے کمرے کے اندر داخل ہوا۔
’’کیوں بھئی! آپ کی گول میز کانفرنس اختتام پذیر ہوئی کہ نہیں۔‘‘ وارڈن نے سوالیہ لہجہ میں پوچھا۔
’’سر ختم ہو گئی‘‘ سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔
’’ اچھا لائٹ آف کرو اور اپنے اپنے کمرے میں جاؤ۔‘‘ وارڈن نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔

*****

’’آج سے تمھارے امتحانات شروع ہو رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ تم سب تیاری کر کے آئے ہو گے۔ اگر کسی لڑکے کے پاس کوئی نقل کا پرچہ ہے تو وہ شرافت سے باہر نکال دے۔ میں اسے کچھ نہیں کہوں گا لیکن اگر میرے چیک کرنے کے بعد کچھ نکلا تو پھر مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘ سر ریاض نے کہا۔
ریاض سر ایک بہت ہی شفیق اور محبت کرنے والے استاد تھے۔ ہمیشہ بچوں کو پیار سے سمجھاتے تھے۔ کبھی ایک دفعہ بھی مولا بخش کا
سہارا نہیں لیا۔ اگر کوئی بچہ نقل کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اس بچے کو پیار سے سمجھاتے۔
’’سر ایک سوال پوچھوں؟‘‘ رضوان نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں بھئی ضرور پوچھو۔‘‘ سر ریاض نے پیارے بھرے لہجے میں جواب دیا۔
’’سر میں کل ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا لیکن ایک جگہ پر مجھے اچانک جھٹکا سا لگا۔۔۔‘‘
’’بھئی کون سا جھٹکا لگ گیا۔ اتنی سی عمر میں ہمیں نہیں بتاؤ گے۔‘‘ سر ریاض نے ہنستے ہوئے بات کاٹی۔
سر کتاب میں واضح لفظوں میں لکھا ہوا تھا کہ اسلام میں نقل حرام نہیں ہے لیکن میں نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ نقل نہیں کرنی چاہیے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟‘‘ رضوان نے سوال داغ دیا۔
’’اسلام میں نقل کرنا حرام نہیں ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ تم بچے نقل کو غلط کاموں میں استعمال کرتے ہو۔ چلو اس سوال کا جواب میں تمھیں اسی کتاب سے دے دیتا ہوں جس سے تم نے پڑھا ہے۔‘‘ سر ریاض نے تحمل مزاجی سے جواب دیا۔
رضوان نے وسیم سے مذکورہ کتاب منگوائی۔
’’اچھا اب وہ والا صفحہ شروع سے لے کر آخر تک پڑھو۔‘‘ سرریاض نے اطمینان سے کہا۔
’’موضوع اسلام میں نقل حرام نہیں ہے۔‘‘
اسلام میں نقل کرنا حرام اس لیے نہیں ہے کہ کیونکہ ہم ہر اچھے کام کو نقل کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک حضور اکرمﷺ کی حیات مبارکہ تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔‘‘
جو شخص حضور اکرمﷺ کی پیروی کرے گا آپﷺ کی سنت نقل کرے گا وہ شخص کامیاب ہو گا۔
ابھی رضوان نے چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ اسے سب کچھ پتا چل گیا۔
’’رضوان تم نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔ آگے پڑھو۔ سر ریاض نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
سر مجھے اس سوال کا جواب ان چند سطروں میں مل گیا ہے اور
مجھے یقین ہے کہ میرے باقی دوستوں کو بھی جواب کا علم ہو گیاہو گا۔‘‘ رضوان نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔
’’رضوان اس جواب سے ہمیں بھی مستفید کرو۔‘‘ سرریاض نے رضوان کا چہرہ پڑھتے ہوئے خوشی سے کہا۔
’’سر ہم نقل اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں لیکن اس سے ہمیں وقتی فائدہ میسر آتا ہے۔ ہمیں اس کام کی نقل کرنی نہیں چاہیے۔ لہٰذا آج سے میں عہد کرتا ہوں کہ میں نقل اس کام کی کروں گا جس سے ہمارا دل و دماغ پرسکون رہے۔‘‘ رضوان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’اچھا یہ تو تھا رضوان کاجواب اب میں تم سب سے پوچھتا ہوں کہ ہم سب کو کس کام کی نقل کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔‘‘ سرریاض نے خوشی کے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’سر ہمیں حضور اکرمﷺ کی سنت کی نقل میں جلدی کرنی چاہیے۔‘‘ سب طالب علموں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ 
’’شاباش! مجھے آپ لوگوں سے اسی جواب کی توقع تھی۔‘‘

*****

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top