ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورق

رسولﷺاللہ کے شہسوار(فارس ِرسول ﷺاللہ )

طالب ہاشمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت ابو قتادہ انصاری ؓ ہمارے رسول ِپاک ﷺ کے ایک پیارے ساتھی (صحابی)تھے۔وہ بڑے بہادر اور نڈر آدمی تھے۔جب کبھی اسلام کے دشمنوں کے خلاف لڑنا پڑا۔ایسی بہادری سے لڑے کہ رسولِ پاک ﷺ خوش ہوگئے۔۶ہجری کا واقعہ ہے کہ رسول ِپاک ﷺ کی بیس اونٹنیاں ایک چشمہ(یا گاﺅں)ذی قرد کے قریب ایک جنگل میں چرا کرتی تھیں۔حضور ﷺ کے ایک خادم حضرت ذر ؓبن ابع غفاری ؓ ان کی نگرانی پر مقرر تھے۔ایک دن اسلام کے چالیس دشمنوں نے چراگاہ پر چھاپا ماراا ور حضرت ذر ؓ کو شہید کر کے اونٹنیوں کو ہانک کر لے چلے۔اتفاق سے رسول ِپاک ﷺ کے دو صحابی حضرت سلمہ ؓ بن اکوع اور حضرت رباح گھوڑے پر سوار وہاں آنکلے۔ان کو اس واقعہ کا علم ہوا تو حضرت سلمہؓ نے حضرت رباح ؓ کو گھوڑے پر سوار کر کے رسول ِ پاک ﷺ کو اطلاع دینے کے لئے مدینہ کی طرف روانہ کیا اور خود ایک قریبی ٹیلے پر چڑھ کر (مدینہ کی طرف منہ کر کے)تین مرتبہ یہ نعرہ لگایا۔

  ”یا صبا حاہ یا صبا حاہ یا صبا حاہ“

  اس کا مطلب ہے۔”اے صبح کی مصیبت “عرب میں یہ نعرہ کسی مصیبت کے وقت مدد مطلب کرنے کے لئے لگایا جاتا تھا۔

  یہ نعرہ لگانے کے بعد حضرت سلمہؓ تو چھاپا ماروں کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔(یہ تعاقب انھوں نے کس طرح کیا ،یہ قصبہ ”غابہ کا مردِمیدان“کے عنوان کے نیچے پڑھئے)

  ادھر مدینہ میں حضرت سلمہؓ کی آواز پہنچی تو رسولِ پاک ﷺ نے اپنے تین بہادر ساتھیوں کو حضرت سلمہؓ کی مدد کے لئے روانہ فرمایا۔یہ تین بہادر تھے۔حضرت اخرم اسدی ؓحضرت ابو قتادہ ؓاور حضرت مقداد ؓبن اسود۔یہ تینوں گھوڑوں پر سوار ہوکر بڑی تیزی سے حضرت سلمہؓ کی مدد کے لئے روانہ ہوئے۔ان کے پہنچنے سے پہلے حضرت سلمہؓ چھاپا ماروں سے اونٹنیاں چھین چکے تھے لیکن ڈاکو پلٹ کر ان کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔حضرت اخرم اسدیؓ سب سے آگے تھے۔انھوں نے آتے ہی ایک ڈاکو عبدارحمن فزاری پر حملہ کیا لیکن اس نے اپنے نیزے سے حضرت اخرم ؓکو شہید کر ڈالا۔اسی وقت حضرت قتادہ ؓ آپہنچنے ۔انھوں نے اپنا نیزہ عبدالرحمن کے جگر کے پار کردیا اور حضرت اخرمؓ کا بدلہ لے لیا پھر حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت مقداد ؓ نے حضرت سلمہؓ کے ساتھ مل کر چھاپا مار ڈاکوﺅں کو اپنے نیزوں کی نوکوں پر رکھ لیا۔اتنے میں رسولِ پاک ﷺ کے بھیجے ہوئے کچھ اور سوار بھی پہنچ گئے۔انہیں دیکھتے ہی بزدل ڈاکوﺅں کے اوسان خطا ہوگئے اور انھوں نے بھاگنے ہی میں اپنی خیریت سمجھی البتہ ان کے دو گھوڑے حضرت سلمہ بن اکوع نے پکڑ لئے۔ڈاکوﺅں سے نپٹ کر یہ سب اصحاب واپس ذی قرد پہنچے تو وہاں رسول پاک ﷺ کوپانچ سو ہتھیار بند جاں نثار وں کے ساتھ موجود پایا۔سارا قصہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا:

  ”ہمارے سواروں میں بہترین سوار ابو قتادہ ہیں۔“

  اسی دن ان کا لقب ”فارس رسو ل اللہ“(یعنی رسول اللہ ﷺ کے شہسوار )مشہور ہوگیا۔گھوڑے کی سواری کے ماہر کو شہسوار کہا جاتاہے۔ 

  ۸ہجری میں مکہ کی فتح کے بعد حنین کی لڑائی پیش آئی۔اس لڑائی کے شروع ہوتے ہی گھات میں بیٹھے ہوئے دشمن نے مسلمانوں پر اتنے تیر برسائے کہ رسول پاکﷺ اور تھوڑے سے اصحاب کے سوا سب مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔

  حضرت ابو قتادہؓ حضور ﷺ کے ساتھ میدان میں جم کر لڑنے والے مجاہدوں میں تھے۔ایک موقع پر ان کی نظر دشمن کے ایک جنگجو پر پڑی جو ایک مسلمان پر پیچھے سے حملہ کرنے کے لئے پر تول رہا تھا۔حضرت ابو قتادہ ؓنے تیزی سے آگے بڑھ کر اس پر اپنی تلوار کا ایسا بھر پور وار کیا کہ اس کا ہاتھ کٹ کر دورجا پڑا۔وہ ان کو لپٹ گیا دوسرے ہاتھ سے ان کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور حضرت قتادہؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔

  رسول ِ پاکﷺ نے ایک دفعہ حضرت ابو قتادہؓ کو ۵۱ مجاہدوں کا امیر بنا کر ایک مقام خضرہ کی طرف بھیجا ۔وہاں مسلمانوں کا ایک دشمن قبیلہ آباد تھا۔اس نے مقابلہ کیا لیکن حضرت ابو قتادہ نے اسے بری طرح شکست دی اور ان کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بنا لیا۔پھر ان قیدیوں کے ساتھ ۰۰۲۱اونٹ اور دو ہزار بکریاں لے کر مدینہ واپس آئے۔

  حضرت ابو قتادہ ؓبدر کی لڑائی میں کسی وجہ شریک نہ ہو سکے تھے۔اس کے بعد رسول پاک ﷺ کے زمانے میں ہونے والی ہر لڑائی میں شریک ہوئے۔ 

  حضرت ابو قتادہؓ بہادر ہونے کے ساتھ بڑے رحم دل اور نرم مزاج بھی تھے۔ایک دفعہ ایک انصاری صحابی فوت ہوگئے اور ان کی میت نماز جنازہ کے لئے رسول پاک ﷺ کے پاس لائی گئی۔آپﷺ نے پوچھا ،اس پرقرض تو نہیںہے؟لوگوں نے کہا،دو دینار قرض ہے۔(دینار سونے کا قیمتی سکہ ہوتا تھا)حضور ﷺ نے پوچھا ،اس نے کچھ (مال)چھوڑا بھی ہے یا نہیں۔لوگوں نے عرض کیا،کچھ نہیں۔

  رسول ِ پاک ﷺ کسی قرض دار کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔اس لئے آپ نے فرمایا،تم لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھ لو۔اس موقع پر حضرت ابو قتادہؓ بھی موجود تھے۔انھوں نے عرض کیا:

  ”یارسول اللہ ! اگر اس مرنے والے شخص کی طرف سے میںقرض ادا کردوں تو پھر آپ نماز جنازہ پڑھائیں گے۔“

  آپﷺ نے فرمایا:”ہاں“

  حضرت ابو قتادہؓ نے اسی وقت فوت ہونے والے صحابی کا قرض ادا کردیا اور رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔اب آپﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھادی۔

  حضرت ابو قتادہ ؓ آسودہ حال تھے اور ضرورت مند مسلمانوں کو قرض بھی دے دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غریب مسلمان نے ان سے قرض لیا اور وعدہ کیا کہ اتنی مدت تک قرض واپس کر دے گا۔جب یہ مدت گزر گئی تو حضرت قتادہؓ اس سے قرض واپس لینے ا س کے گھر گئے کیونکہ وہ خود قرض واپس کرنے نہ آیا۔وہ شخص کہیں چھپ گیا اور حضرت قتادہؓ کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑا ۔اس کے بعد بھی انھوں نے اس کے گھر کے دو تین چکر لگائے لیکن وہ ہر بار کہیں ادھر ادھر ہو جاتا ۔ایک دن اسکے گھر گئے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹاکر آواز دی۔وہ گھر پر موجود تھا لیکن خاموش رہا۔اتنے میں اس کا کم سن لڑکا باہر نکلا ۔

 انھوں نے اس سے پوچھا ،بیٹا تمہارے ابا کہاں ہیں؟

 اس نے کہا،گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔

 حضرت ابو قتادہ ؓ نے پکار کر کہا:

   ”مجھے معلوم ہے کہ تم گھر میں ہو اب چھپنا بیکار ہے ،باہر نکل آﺅ۔“

  جب وہ شخص باہر آیا تو حضرت ابو قتادہؓ نے اس سے چھپنے کی وجہ پوچھی۔

 اس نے کہا :”بات یہ ہے کہ میں سخت تنگ دست ہوں۔اپنی حالت بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔اب آپ سے کیا چھپاﺅں کہ دو وقت کی روٹی بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے ۔کئی دفعہ مجھے اور میرے گھر والوں کو فاقے کرنے پڑتے ہیں۔اپنی مصیبت کودوسروں سے چھپا تا ہوں اسی لئے آپ کے سامنے نہیں آتا تھا۔اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو آپ کا قرض کب کا ادا کر چکا ہو تا۔

 حضرت ابو قتادہؓ نے پوچھا :کیا واقعی تمہارا حال ایسا ہی ہے؟

 اس نے کہا :”خدا کی قسم میں آپ سے سچ کہہ رہا ہوں۔“

یہ سن کر حضرت ابو قتادہؓ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے او ر انھوں نے فرمایا:”خدا کی قسم !میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گا،میں نے اپنا قرض تمہیں معاف کر دیا۔“

حضرت ابو قتادہؓ نے ۰۵ ہجری اور۰۶ ہجری کے درمیا ن کسی وقت وفات پائی۔

 
حضرت ابو قتادہ انصاری ؓ ہمارے رسول ِپاک ﷺ کے ایک پیارے ساتھی (صحابی)تھے۔وہ بڑے بہادر اور نڈر آدمی تھے۔جب کبھی اسلام کے دشمنوں کے خلاف لڑنا پڑا۔ایسی بہادری سے لڑے کہ رسولِ پاک ﷺ خوش ہوگئے۔۶ہجری کا واقعہ ہے کہ رسول ِپاک ﷺ کی بیس اونٹنیاں ایک چشمہ(یا گاﺅں)ذی قرد کے قریب ایک جنگل میں چرا کرتی تھیں۔حضور ﷺ کے ایک خادم حضرت ذر ؓبن ابع غفاری ؓ ان کی نگرانی پر مقرر تھے۔ایک دن اسلام کے چالیس دشمنوں نے چراگاہ پر چھاپا ماراا ور حضرت ذر ؓ کو شہید کر کے اونٹنیوں کو ہانک کر لے چلے۔اتفاق سے رسول ِپاک ﷺ کے دو صحابی حضرت سلمہ ؓ بن اکوع اور حضرت رباح گھوڑے پر سوار وہاں آنکلے۔ان کو اس واقعہ کا علم ہوا تو حضرت سلمہؓ نے حضرت رباح ؓ کو گھوڑے پر سوار کر کے رسول ِ پاک ﷺ کو اطلاع دینے کے لئے مدینہ کی طرف روانہ کیا اور خود ایک قریبی ٹیلے پر چڑھ کر (مدینہ کی طرف منہ کر کے)تین مرتبہ یہ نعرہ لگایا۔
  ”یا صبا حاہ یا صبا حاہ یا صبا حاہ“
  اس کا مطلب ہے۔”اے صبح کی مصیبت “عرب میں یہ نعرہ کسی مصیبت کے وقت مدد مطلب کرنے کے لئے لگایا جاتا تھا۔
  یہ نعرہ لگانے کے بعد حضرت سلمہؓ تو چھاپا ماروں کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔(یہ تعاقب انھوں نے کس طرح کیا ،یہ قصبہ ”غابہ کا مردِمیدان“کے عنوان کے نیچے پڑھئے)
  ادھر مدینہ میں حضرت سلمہؓ کی آواز پہنچی تو رسولِ پاک ﷺ نے اپنے تین بہادر ساتھیوں کو حضرت سلمہؓ کی مدد کے لئے روانہ فرمایا۔یہ تین بہادر تھے۔حضرت اخرم اسدی ؓحضرت ابو قتادہ ؓاور حضرت مقداد ؓبن اسود۔یہ تینوں گھوڑوں پر سوار ہوکر بڑی تیزی سے حضرت سلمہؓ کی مدد کے لئے روانہ ہوئے۔ان کے پہنچنے سے پہلے حضرت سلمہؓ چھاپا ماروں سے اونٹنیاں چھین چکے تھے لیکن ڈاکو پلٹ کر ان کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔حضرت اخرم اسدیؓ سب سے آگے تھے۔انھوں نے آتے ہی ایک ڈاکو عبدارحمن فزاری پر حملہ کیا لیکن اس نے اپنے نیزے سے حضرت اخرم ؓکو شہید کر ڈالا۔اسی وقت حضرت قتادہ ؓ آپہنچنے ۔انھوں نے اپنا نیزہ عبدالرحمن کے جگر کے پار کردیا اور حضرت اخرمؓ کا بدلہ لے لیا پھر حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت مقداد ؓ نے حضرت سلمہؓ کے ساتھ مل کر چھاپا مار ڈاکوﺅں کو اپنے نیزوں کی نوکوں پر رکھ لیا۔اتنے میں رسولِ پاک ﷺ کے بھیجے ہوئے کچھ اور سوار بھی پہنچ گئے۔انہیں دیکھتے ہی بزدل ڈاکوﺅں کے اوسان خطا ہوگئے اور انھوں نے بھاگنے ہی میں اپنی خیریت سمجھی البتہ ان کے دو گھوڑے حضرت سلمہ بن اکوع نے پکڑ لئے۔ڈاکوﺅں سے نپٹ کر یہ سب اصحاب واپس ذی قرد پہنچے تو وہاں رسول پاک ﷺ کوپانچ سو ہتھیار بند جاں نثار وں کے ساتھ موجود پایا۔سارا قصہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا:
  ”ہمارے سواروں میں بہترین سوار ابو قتادہ ہیں۔“
  اسی دن ان کا لقب ”فارس رسو ل اللہ“(یعنی رسول اللہ ﷺ کے شہسوار )مشہور ہوگیا۔گھوڑے کی سواری کے ماہر کو شہسوار کہا جاتاہے۔ 
  ۸ہجری میں مکہ کی فتح کے بعد حنین کی لڑائی پیش آئی۔اس لڑائی کے شروع ہوتے ہی گھات میں بیٹھے ہوئے دشمن نے مسلمانوں پر اتنے تیر برسائے کہ رسول پاکﷺ اور تھوڑے سے اصحاب کے سوا سب مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔
  حضرت ابو قتادہؓ حضور ﷺ کے ساتھ میدان میں جم کر لڑنے والے مجاہدوں میں تھے۔ایک موقع پر ان کی نظر دشمن کے ایک جنگجو پر پڑی جو ایک مسلمان پر پیچھے سے حملہ کرنے کے لئے پر تول رہا تھا۔حضرت ابو قتادہ ؓنے تیزی سے آگے بڑھ کر اس پر اپنی تلوار کا ایسا بھر پور وار کیا کہ اس کا ہاتھ کٹ کر دورجا پڑا۔وہ ان کو لپٹ گیا دوسرے ہاتھ سے ان کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور حضرت قتادہؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔
  رسول ِ پاکﷺ نے ایک دفعہ حضرت ابو قتادہؓ کو ۵۱ مجاہدوں کا امیر بنا کر ایک مقام خضرہ کی طرف بھیجا ۔وہاں مسلمانوں کا ایک دشمن قبیلہ آباد تھا۔اس نے مقابلہ کیا لیکن حضرت ابو قتادہ نے اسے بری طرح شکست دی اور ان کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بنا لیا۔پھر ان قیدیوں کے ساتھ ۰۰۲۱اونٹ اور دو ہزار بکریاں لے کر مدینہ واپس آئے۔
  حضرت ابو قتادہ ؓبدر کی لڑائی میں کسی وجہ شریک نہ ہو سکے تھے۔اس کے بعد رسول پاک ﷺ کے زمانے میں ہونے والی ہر لڑائی میں شریک ہوئے۔ 
  حضرت ابو قتادہؓ بہادر ہونے کے ساتھ بڑے رحم دل اور نرم مزاج بھی تھے۔ایک دفعہ ایک انصاری صحابی فوت ہوگئے اور ان کی میت نماز جنازہ کے لئے رسول پاک ﷺ کے پاس لائی گئی۔آپﷺ نے پوچھا ،اس پرقرض تو نہیںہے؟لوگوں نے کہا،دو دینار قرض ہے۔(دینار سونے کا قیمتی سکہ ہوتا تھا)حضور ﷺ نے پوچھا ،اس نے کچھ (مال)چھوڑا بھی ہے یا نہیں۔لوگوں نے عرض کیا،کچھ نہیں۔
  رسول ِ پاک ﷺ کسی قرض دار کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔اس لئے آپ نے فرمایا،تم لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھ لو۔اس موقع پر حضرت ابو قتادہؓ بھی موجود تھے۔انھوں نے عرض کیا:
  ”یارسول اللہ ! اگر اس مرنے والے شخص کی طرف سے میںقرض ادا کردوں تو پھر آپ نماز جنازہ پڑھائیں گے۔“
  آپﷺ نے فرمایا:”ہاں“
  حضرت ابو قتادہؓ نے اسی وقت فوت ہونے والے صحابی کا قرض ادا کردیا اور رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔اب آپﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھادی۔
  حضرت ابو قتادہ ؓ آسودہ حال تھے اور ضرورت مند مسلمانوں کو قرض بھی دے دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غریب مسلمان نے ان سے قرض لیا اور وعدہ کیا کہ اتنی مدت تک قرض واپس کر دے گا۔جب یہ مدت گزر گئی تو حضرت قتادہؓ اس سے قرض واپس لینے ا س کے گھر گئے کیونکہ وہ خود قرض واپس کرنے نہ آیا۔وہ شخص کہیں چھپ گیا اور حضرت قتادہؓ کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑا ۔اس کے بعد بھی انھوں نے اس کے گھر کے دو تین چکر لگائے لیکن وہ ہر بار کہیں ادھر ادھر ہو جاتا ۔ایک دن اسکے گھر گئے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹاکر آواز دی۔وہ گھر پر موجود تھا لیکن خاموش رہا۔اتنے میں اس کا کم سن لڑکا باہر نکلا ۔
 انھوں نے اس سے پوچھا ،بیٹا تمہارے ابا کہاں ہیں؟
 اس نے کہا،گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔
 حضرت ابو قتادہ ؓ نے پکار کر کہا:
   ”مجھے معلوم ہے کہ تم گھر میں ہو اب چھپنا بیکار ہے ،باہر نکل آﺅ۔“
  جب وہ شخص باہر آیا تو حضرت ابو قتادہؓ نے اس سے چھپنے کی وجہ پوچھی۔
 اس نے کہا :”بات یہ ہے کہ میں سخت تنگ دست ہوں۔اپنی حالت بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔اب آپ سے کیا چھپاﺅں کہ دو وقت کی روٹی بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے ۔کئی دفعہ مجھے اور میرے گھر والوں کو فاقے کرنے پڑتے ہیں۔اپنی مصیبت کودوسروں سے چھپا تا ہوں اسی لئے آپ کے سامنے نہیں آتا تھا۔اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو آپ کا قرض کب کا ادا کر چکا ہو تا۔
 حضرت ابو قتادہؓ نے پوچھا :کیا واقعی تمہارا حال ایسا ہی ہے؟
 اس نے کہا :”خدا کی قسم میں آپ سے سچ کہہ رہا ہوں۔“
یہ سن کر حضرت ابو قتادہؓ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے او ر انھوں نے فرمایا:”خدا کی قسم !میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گا،میں نے اپنا قرض تمہیں معاف کر دیا۔“
حضرت ابو قتادہؓ نے ۰۵ ہجری اور۰۶ ہجری کے درمیا ن کسی وقت وفات پائی۔