ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقمضامینمزاحیہ مضامینچچاچھکن نے سب کے لئے کیلے خریدے

چچاچھکن نے سب کے لئے کیلے خریدے

امتیاز علی تاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک بات میں شروع ہی میں عرض کر دوں۔اس واقعے کے بیان کرنے سے حاشا وکلا میری غرض یہ نہیں کہ اس سے چچا چھکن کی فطرت کے جس پہلو پر روشنی پڑتی ہے،اس سے متعلق آپ کو ئی مستقل رائے قائم کر لیں سچ تو یہ ہے کہ چچا چھکن کا اس نوع کا واقعہ مجھے صرف یہی ایک معلوم ہے ۔نہ اس سے پہلے نہ کوئی ایسا واقعہ میری نظر سے گزرااور نہ بعد میں بلکہ ایمان کی پوچھیے تو اس کے بر عکس واقعات بہت کثرت سے میرے دیکھنے میں آچکے ہیں۔بارہا مرتبہ میں دیکھ چکا ہوں کہ شام کے وقت چچا چھکن بازار سے کچوریاں یا گنڈیراں یا چلغوزے اور مونگ پھلیا ں ایک بڑے سے رومال میں باندھ کرگھر بھر کے لیے لے آئے ہیں۔اور پھر کیا بڑا اور کیا چھوٹا ،ہر ایک میں برابر تقسیم کر کے کھاتے کھلاتے رہے ہیں ۔پر اُس روز اللہ جانے کیا بات ہوئی کہ۔۔۔۔مگر اس کی تفصیل تو مجھے بیان کرنی ہے۔

اس روز سہ پہر کے وقت اتفاق سے چچا چھکن اور بندو کے سوا کوئی گھر پر موجود نہ تھا۔میر منشی کی بیوی کو پر سوت کا بخار آرہا تھا،چچی دوپہر کے کھانے سے فراغت پا کر ان کے ہاں عیادت کے لئے چلی گئی تھیں۔بنو کو گھر چھوڑے جا رہی تھیں کہ چچا نے فرمایا۔’’عیادت کو جا رہی ہو تو شام سے پہلے بھلا کیا لو ٹنا ہو گا،بچی پیچھے گھبرائے گی،ساتھ لے جاتیں،وہاں بچوں میں کھیل کر بہلی رہے گی ‘‘۔چچی بڑبڑاتی ہوئی بنو کو ساتھ لے گئیں۔امامی چچی کو میر منشی صاحب کے گھر پہنچانے جا رہا تھامگر بنو ساتھ کر دی گئی تو بچی کے خیال سے اسے بھی وہیں ٹھہرانا پڑا۔

للو کے مدرسے کا ڈی ۔اے۔وی سکول سے کرکٹ کا میچ تھا، وہ صبح سے ادھر گیا ہوا تھا۔مودے کی رائے میں للو اپنی ٹیم کا بہترین کھلاڑی ہے۔اپنی اس رائے کی بدولت اسے کرکٹ کے اکژ میچوں کا تماشائی بننے کا موقع مل جاتا ہے چنانچہ حسب معمول آج بھی وہ للو کی اردل میں تھا۔

دو بجے سے سینما کی میٹنی شو تھی ، وِدو چچا سے اجازت لے کر تماشا دیکھنے جا رہا تھا ،چھٹن کو جو پتا لگا کہ ودو تماشے میں جا رہا ہے تو عین وقت پر وہ مچل گیا اور ساتھ لے جانے کی ضد کرنے لگا ۔چچا نے اس کی تر بیت کے پہلوؤں پر چچی کا حوالہ دے دے کر ایک مختصر مگر پُر مغز تبصرہ کرتے ہوئے اُسے بھی اجازت دے دی ۔اصل واقعہ یہ ہے کہ چچی کہیں ملاقات کو گئی ہوں تو باقی لوگوں کو باہر جانے کے لیے چچا سے اجازت لے لینا دُشوار نہیں ہوتا۔ایسے نادر موقعوں میں چچا مکمل تنہائی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔دوسری مصروفیات نے جن امور کی طرف چچی کو عرصے سے توجہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہوتی ایسے وقت چچا ڈھونڈ ڈھونڈ کو ان کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔اس سے چچی کو یہ احساس دلانا مقصود ہوتا ہے کہ گھر کی مشین میں اُ ن کی ہستی ایک بے کار پُرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی اور چچا ہی کی ذاتِ والا صفات کا ظہور ہے کہ چشمِ بینا کو گھر میں سلیقے اور سُگھڑاپے کے کوئی آثار نظر آتے ہیں۔

آج آپ کے شُغل آفریں دماغ نے چچی کی غیر حاضری میں گھر کے تمام ایسے برتن جو پیتل کے تھے صحن میں جمع کر لیے تھے ،بندو کو بازار بھیج کر دو پیسے کی املی منگائی تھی ،صحن میں مُونڈھا ڈال کر بیٹھ گئے تھے ،حُقے کی نے منہ سے لگی تھی ،ذاتی نگرانی میں پیتل کے برتنوں کی صفائی کا اہتمام ہو رہا تھا۔

’’ارے احمق!اب دُوسرا برتن کیا ہوگا۔جو برتن صاف کرنے ہیں ،اُ ن ہی میں سے کسی ایک میں املی بھگو ڈال ،اور کیا۔۔۔یوں۔۔۔بس یہی پیتل کا لوٹا کام دے جائے گا ۔صاف تو اسے کرنا ہی ہے ۔ایک دوسرا برتن لاکر اُسے خراب کرنے سے حاصل ؟ایسی باتیں تم لوگوں کو خود کیوں نہیں سُوجھ جایا کرتیں ؟‘‘

بُندو نے تعمیلِ ارشاد میں کچھ کہے بغیر املی لوٹے میں ڈال بھگو دی ۔چچا نے فخر سے اطمینان کا اظہار کیا ۔’’کیسی بتائی ترکیب؟ضرورت بھی پوری ہو گئی اور اپنا۔۔۔یعنی کام بھی ایک حد تک ہو گیا۔لے اب باورچی خانے جا کر برتن مانجھنے کو تھوڑی سی راکھ لے آ ۔کس برتن میں لائے گا بھلا؟‘‘

بُندو نے بڑی ذہانت سے تمام برتنوں پر نظر ڈالی اور ان میں سے ایک سینی اُٹھا کر چچا کی طرف دیکھنے لگا ۔چچا بھی اس غرض کے لیے شاید سینی ہی تجویز کرنا چاہتے تھے ۔ہدایت دینے کا افتخار نہ مل سکا تو پوچھنے لگے،’’کیوں بھلا؟‘‘

بُندو بولا،’’چولھے سے اٹھا کر اس میں آسانی سے راکھ رکھ لوں گا۔‘‘

’’احمق کہیں کا ۔علاوہ ازیں راکھ کُھلے برتن میں ہوگی تو اُٹھا اُٹھا کر برتن مانجھنے میں آسانی نہ ہوگی؟‘‘

بُندو ابھی باورچی خانے سے راکھ لانے نہ پایا تھا کہ دروازے پر ایک پھل والے نے صدا لگائی ۔کلکتیا کیلے بیچنے لایا تھا ۔اس کی صدا سُن کر کچھ دیر کو چچا خاموش بیٹھے حقہ پیتے رہے ،کش البتہ جلد ی جلدی لگا رہے تھے ۔معلوم ہوتا تھا،دماغ میں کسی قسم کی کشمکش جاری ہے ۔جب آواز سے معلوم ہوا کہ پھل والا واپس جا رہا ہے تو جیسے بے بس ہوگئے ،بندو کو آواز دی ۔’’ذرا جا کر دیکھیو تو کیلے کس حساب دیتا ہے۔‘‘

بُندو نے واپس آکر بتایا ۔’’چھ آنے درجن۔‘‘

’’چھ آنے کے درجن ۔تو کیا مطلب ہوا؟کہ جو بیس پیسے کے بارہ ۔بارہ دونی چوبیس ۔یعنی دو دو پیسے کا ایک ۔اُوں ہوں،مہنگے ہیں ،جا کر کہہ تین تین پیسے کے دو دیتا ہے تو دے جائے۔‘‘

دو منٹ بعد بندو نے آکر کہا کہ ’’وہ مان گیا۔کتنے کیلے لینے ہیں؟‘‘

پھل والا اس آسانی سے رضامند ہو تو چچا کی نیت میں فتور آیا۔

’’یعنی تین تین پیسے کے دو؟کیا خیال ہے ،مہنگے نہیں اس بھاؤ پر؟‘‘

بُندو بولا۔’’اب تو اس سے بھاؤ کا فیصلہ ہو گیا ۔‘‘

’’تو کسی عدالت کا فیصلہ ہے کہ اتنے ہی بھاؤ پر کیلے لیے جائیں ۔ہم تو تین آنے درجن لیں گے ،دیتا ہے دے ،نہیں دیتا تو نہ دے ۔وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش۔‘‘

بُندو پس و پیش کے عالم میں کھڑا ہوا تھا ،’’ابے تو جا کر کہہ تو سہی ،مان جائے گا۔‘‘

بُندو جانے سے کترا رہا تھا ۔’’آپ خود کہہ دیجیے۔‘‘

چچا نے جواب میں آنکھیں پھاڑ کر بُندو کو گھورا ،وہ غریب ڈر گیا ،مگر اب بھی وہیں کھڑا رہا ۔چچا کو اس کا پس و پیش شاید کسی قدر جائز معلوم ہوا ،اسے دلیل کا راستہ سمجھانے لگے ۔’’تو جا کر یوں کہہ،میاں نے تو تین آنے درجن کہے تھے ،میں نے آکر غلط بھاؤ کہہ دیا ،تین آنے درجن دینے ہوں تو دے جائے۔‘‘

بُندو دِ ل کڑا کر کے باہر چلا گیا ۔چچا جانتے تھے ،بھاؤ ٹھہرا کر اس سے پھر جانے پر کیلے والا غل مچائے گا ،باہر نکلنا قرین مصلحت نہ معلوم ہوتا تھا ، دبے پاؤں اند ر گئے ،اور کمرے کی جو کھڑی ڈیوڑھی میں کھلتی تھی اُس کا پٹ ذرا سا کھول کر باہر جھانکنے لگے ۔پھل والا گرم ہو رہا تھا۔’’آپ ہی نے تو ایک بھاؤ ٹھہرایا اور اب آپ ہی زبان سے پھر گئے ،بہانہ نوکر کی بھول کا ،جیسے ہم سمجھ نہیں سکتے ،یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا۔‘‘

بُندو غریب چُپکا کھڑا تھا، پھل والا بکتا جھکتا خوانچہ اٹھا چلنے لگا ،بُندو بھی اندر جانے کو مُڑ گیا ۔دروازے تک پہنچنے نہ پایا تھا کہ پھل والا رک گیا ۔خوانچہ اُتار کر بولا ۔’’کتنے لینے ہیں؟‘‘

بُندو اندر آیا تو چچا مونڈھے پر بیٹھے جیسے کسی خیال کی محویت میں حقہ پی رہے تھے،چونک کر بولے ۔’’مان گیا؟ہم نہ کہتے تھے مان جائے گا ۔ہم تو ان لوگوں کی رگ رگ سے واقف ہیں ۔توکَے کیلے لینے مناسب ہوں گے؟‘‘چچا نے اُنگلیوں کے پوروں پر گن گن کر حساب لگایا ۔’’ہم، آپ، چھٹن کی اماں ،للو ،ودو،بنو اور چھٹن گویا چھ چھ دونی کیا ہوا ؟خدا تیرا بھلا کرے بارہ ،یعنی ایک درجن فی آدمی دو کیلے بہت ہوں گے ؟پھل سے پیٹ تو بھرا نہیں جاتا ،منہ کا ذائقہ بدلا جاتا ہے ۔پر دیکھو دو تین گچھے اندر لے کر آنا ہم آپ ان میں سے اچھے اچھے کیلے چھانٹ لیں گے۔‘‘

پھل والے نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کیلوں کے گچھے اندر بھیج دئیے ۔چچانے کیلوں کو دبا دبا کر دیکھا ،ان کی چتیوں کا مطالعہ کیا اور درجن بھر کیلے علیٰحدہ کر لیے۔ کیلے والا باقی کیلے لے کر بڑ بڑاتا ہوا رخصت ہو گیا ۔چچا نے بُندو کی طرف توجہ کی ۔’’لے انھیں کھانے کی ڈولی میں حفاظت سے رکھ دے ،رات کے کھانے پر لاکر رکھنا ،اور جلدی سے آکر برتن مانجھنے کے لیے راکھ لا،بڑا وقت اس قصے میں ضائع ہو گیا۔‘‘

بُندو کیلے اندر رکھ آیا اور باورچی خانے سے راکھ لاکر برتن مانجھنے لگا۔’’یُوں ........ذرا زور سے ہاتھ ،تاکہ برتن پر رگڑ پڑے،اس طرح۔پیتل کے برتن صاف کرنے کیلیے ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ املی کے استعمال سے قبل انھیں ایک بار خوب اچھی طرح مانجھ کر صاف کر لیا جائے ،ایسے سب برتنوں کی صفائی کیلئے املی نہایت لا جواب نسخہ ہے ۔گرہ میں باندھ رکھ ۔کسی روز کام آئے گا۔اور ایک پیتل ہی کا کیا ذکر ،دھات کی جملہ اشیاء املی سے دمک اٹھتی ہیں ۔ابھی ابھی تو آپ دیکھیوکہ ان کالے کالے برتنوں کی صورت کیا نکل آتی ہے ۔ہاں او روہ میں نے کہا ،کیلے احتیاط سے رکھ دیے ہیں نا ڈولی میں ؟ہوں اچھے بھاؤ مل گئے ،ایک ایک کے لیے دو دو ٹھیک رہیں گے ؟........یوں بس سمجھ گیا ۔اب رگڑ اس پر املی ،اس طرح ۔دیکھا میل کس طرح کٹتا ہے۔ کیسی چمک آتی جا رہی ہے ۔یہ املی فی الواقع ،بڑی بے نظیر شے ہے مگر میں نے کہا ،بُندو میرا بھائی ذرا اُٹھیو تو ،ان کیلوں میں سے جو دو ہمارے حصے کے ہیں ہمیں لا دیجیو ،ہم ابھی کھائے لیتے ہیں ۔باقی لوگ جب آئیں گے ،اپنا حصہ کھاتے رہیں گے۔‘‘

بُندو نے اُٹھ کر دو کیلے چچاکو لا دیے ،چچا نے مونڈ ھے پر اُکڑوں بیٹھے بیٹھے پینترا بدلا اور کیلوں کو تھوڑا تھوڑا چھیلنا اور تکلف سے نوش فرمانا شرو ع کیا ۔’’تو کیے جا اپنا کام ،ذرا جھپاک سے ۔ہاں دیکھنا اب ذرا دیر میں ان برتنوں کی شکل کیا نکل آتی ہے........

اچھے ہیں کیلے........بس یوں ہی ذرا زور سے ہاتھ .........اس طرح ۔۔۔چھٹن کی اماں دیکھیں گی تو سمجھیں گی آج ہی نئے برتن خرید کیے ہیں اور پھر لطف یہ کہ خرچ کچھ بھی نہیں ،ہّرالگے نہ پھٹکری اور رنگت چوکھی آئے ۔آخر کتنے کی آگئی املی ؟نہ نہ خود ہی کہو ،کتنے کی آئی املی ؟دو پیسے کی نا ؟تو آپ خرید کر لایا تھا ،اور پھر جو کچھ کیا تو نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے ۔یہ تو ہوا نہیں کہ تجھ سے آنکھ بچا کہ ہم نے بیچ میں کچھ ملا دیا ہو ۔بس یہ جتنی بھی کرامات ہے سب املی کی ہے ۔محض املی کی اور وہ میں نے کہا ۔اب کَے کیلے باقی رہ گئے ہیں ؟دس ؟ہوں خوب شے ہے نا املی؟ایک ٹکے کے خرچ میں چیزوں کی کایا پلٹ ہو جاتی ہے ۔مگر بندو ۔ان دس کیلوں کا حساب اب بیٹھے گا کس طرح؟یعنی ہم شریک نہ ہوں جب تو ہر ایک کو دو دو کیلے مل رہیں ۔لیکن ہماری شرکت کے بغیر شاید دوسروں کا جی کھانے کو نہ چاہے ،کیوں؟چھٹن کی اماں تو ہمارے بغیر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھناچاہیں گی ۔تو نے خود دیکھا ہوگا،کئی بار ایسا ہو چکا ہے اور بچوں میں بھی دوسرے ہزار عیب ہوں ،پر اتنی خوبی ضرور ہے کہ ندیدے اور خود غرض نہیں ہیں۔سب نے مل کر شریک ہونے کے لیے ہم سے اصرار شروع کر دیا تو بڑی دقت ہوگی ،برابر برابر تقسیم کرنے کو کیلے کاٹنے پڑیں گے اور کلکتیا کیلے کی بساط کیا ہوتی ہے ؟کاٹنے میں سب کی مٹی پلید ہوگی۔کے کیلے بتائے تھے تو نے؟دس؟دس کیلے اور چھ آدمی ۔ٹیڑھی بات ہے مگر ہم کہتے ہیں مثلاً فی آدمی ایک ایک کا حساب رکھ دیا جائے تو؟ دو دو نہ سہی ،ایک ہی ہو ۔مگر کھائیں تو سب ہنسی خوشی مل جل کر ٹھیک ہے نا؟ گویا چھ رکھ چھوڑنے ضروری ہیں۔تو اس صورت میں کے کیلے ضرورت سے زیادہ ہوئے؟چار نا؟تو میرے خیال میں وہ چاروں زائد کیلے لے آتا،باقی کے چھ تواپنے ٹھیک حساب کے مطابق تقسیم ہو جائیں گے‘‘

بندو اٹھ کر چار کیلے لے آیا ،چچا نے اطمینان سے انھیں باری باری نوش فرمانا شروع کر دیا۔

’’ہاں تو تو قائل بھی ہوااملی کی کرامت کا؟بے شمار فوائد کی شے ہے۔مگر کیا کیجئے،اس زمانے میں دیس کی چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔یہی املی اگر ولایت سے ڈبوں میں بند ہو کر آتی تو جناب لوگ اس پر ٹوٹ کر گرتے،ہر گھر میں اس کا ایک ڈبہ موجود رہتامگر چونکہ پنساری کی دکان سے دستیاب ہو جاتی ہے،کوئی خاطر میں نہیں لاتا۔اور پھرایک برتنوں کی صفائی کا کیا ذکر،اس کے اور بھی توبہتیرے فوائد ہیں۔یعنی دورانِ سر کی شکایت کے لیے اس سے بہتر شے سننے میں نہیں آئی۔اور پھر یہ بھی نہیں کے کڑوی کسیلی ہو،یہ بد مزہ بدبودارہو۔شربت بنائیے،کھٹا میٹھا ،ایسا لذیز ہوتا ہے کہ کیا کہیے.........کیلے بھی نہایت لذیز ہیں۔زیادہ نہ لے لیئے تو نے...........املی کا شربت تو شاید تو نے بھی پیا ہو،کیا خوش ذائقہ ہوتا ہے،گرمیوں میں تو نعمت ہے۔اور پھر لطف یہ کے مفید بھی بے حد،ہم خرما وہم ثواب ۔امتلا کو یہ روکتا ہے ،امتلا نہیں جانتا؟ارے احمق متلی کی شکایت۔اس کے علاہ صفرا کیلئے بھی مفید ہے۔صفرا بھی ایک چیز ہوتی ہے،پھر کبھی سمجھائیں گے۔تو وہ کیلے تو اب چھ ہی باقی رہ گئے ہیں ناں؟کچھ نہیں،بس ٹھیک ہے،سب کے حصے میں ایک ایک آ جائے گا ، ہمیں ہمارے حصے کا مل جائے گا ،دوسروں کو اپنے حصے کا،کانٹ چھانٹ کا جھگڑا تو ختم ہوا،اپنے اپنے حصے کا کیلا لیں اور جو جی چاہے کریں،جی چاہے تو آج کھائیں ،آج جی نہ چاہے کل کھا لیں،اور کیا۔ہونا بھی یوں ہی چاہئے،رغبت کے بغیر کوئی چیز کھائی جاے توجزوبدن نہیں بننے پاتی یعنی اکارت چلی جاتی ہے ۔کوئی چیز آدمی کھائے اسی وقت جب اس کے کھانے کو جی چاہے۔چھٹن کی اماں کی ہمیشہ سے یہی کیفیت ہے،جی چاہے تو چیز کھاتی ہیں نہ چاہے تو کبھی ہاتھ نہیں لگاتیں۔ہمارا اپنا یہی حال ہے،یہ متفرق چیزیں کھانے کو کبھی کبھار ہی جی چاہتا ہے ۔ہونا بھی ایسا ہی چاہئے اب یہی کیلے ہیں بیسیوں مرتبہ دکانوں پر رکھے دیکھے،کبھی رغبت نہ ہوئی ،آج جی چاہا تو کھانے بیٹھ گئے ۔اب پھر نہ جانے کب جی چاہے ہماری تو کچھ ایسی ہی طبیعت ہے ،نہ جانے شام کو جب تک سب آئیں رغبت رہے یا نہ رہے ،یقین سے کیا کہا جا سکتا ہے ،دل ہی تو ہے ممکن ہے اس وقت کیلے کے نام سے طبیعت نفور ہو۔تو ایسی صورت میں ہم جانیں ،ہم تو بقیہ چھ کیلوں میں سے اپنے حصے کا ایک کیلا ابھی کھا لیتے ،کیوں ؟اور کیا ،اپنی اپنی طبیعت ہے اپنی اپنی بھوک ،جب جس کا جی چاہے کھائے ،اس میں تکلف کیا ،ایسے معاملوں میں بے تکلفی ہی اچھی۔

اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سرا سر 

آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے

’’تو ذرا اُٹھیو میرا بھائی ،بس میرے ہی حصے کا کیلا لانا، باقی کے سب وہیں احتیاط سے رکھے رہیں۔‘‘

حسب الارشاد بندو نے کیلا چچا کو لا دیا چچا چھیل کر نوش فرمانے لگے۔

’’دیکھا کیا صورت نکل آتی برتنوں کی ۔سُبحان اللہ یہ املی کا نسخہ مؤ ثر ہی ایسا ہے ۔اب انھیں دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پرانے برتن ہیں؟جو دیکھے گا ،یہی سمجھے گا ،ابھی ابھی بازار سے منگوا کر رکھے ہیں دوسروں کا ذکر ،ہماری غیر حاضری میں یوں صا ف کیے گئے ہوتے تو واپس آکر ہم خودنہ پہچان سکتے ۔چھٹن کی اماں بھی دیکھیں گی تو ایک بار تو ضرور چونک پڑیں گی ۔تجھ سے پوچھیں تو کہہ دیجیو میاں ساری دوپہر بیٹھ کر صاف کراتے رہے ہیں ۔پر ایک بات ،املی کا ذکر نہ آنے پائے ،ہاں ۔ایسی بات بتا دو تو کام کی وقعت کھو جاتی ہے ،سمجھ گیا نا ؟بس اب یہ املی کی بات آگے نہ نکلنے پائے ۔جو پوچھے یہی کہیو،میاں نے ایک نسخہ بناکر اس سے صاف کرائے ہیں ۔بچوں سے بھی ذکر نہ کیجو،ورنہ نکل جائے گی بات۔کب تک آئیں گے بچے ؟للو کا میچ تو شاید شام سے پہلے ختم نہ ہو۔اس کے کھانے چائے کا انتظام ٹیم والوں ہی نے کر دیا ہوگا ورنہ خالی پیٹ کرکٹ کس سے کھیلا جاتا ہے۔کوئی انتظام نہ ہوتا تو مُودے کو بھیج کر کھانا منگوا سکتا تھا۔خوب تر لقمے اڑائے ہوں گے آج۔ میوے مٹھائی سے ٹھسا ٹھس پیٹ بھر لیا ہوگا۔چلو کیا مضائقہ ہے،یہی عمر کھانے پینے کی ہے۔اور پھر گھر کے دوسرے لوگ نعمتیں کھائیں تو وہ غریب کیوں پیچھے رہے؟وِدو اور چھٹن تو ٹکٹ کے دام کے ساتھ کھانے پینے کے لئے بھی پیسے لے کر گئے ہیں۔اور کیا؟وہیں کسی دکان پر میوہ مٹھائی اڑا رہے ہوں گے۔خدا خیر کرے،ثقیل چیزیں کھاکھا کر بد ہضمی نہ کر لائیں،ساتھ کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے۔تردد ہوتا ہے۔بنو کا تو یہ ہے کہ ماں ساتھ ہے۔وہ خیال رکھے گی کہ کہیں زیادہ نہ کھا جائے۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیلے ہم نے آج بڑے بے موقع لئے۔اس وقت تو خیال ہی نہ آیاآج تو یہ سب بڑی بڑی نعمتیں اڑا رہے ہوں گے کیلوں کو کیوں خاطر میں لانے لگے۔اور تونے بھی یاد نہ دلایا ورنہ کیوں لیتے اتنے بہت سے کیلے،بیکار ضائع جائیں گے۔ان پر رات گزر گئی تو کاک بھی باقی نہ رہے گا،سوکھ کر سیاہ پڑ جائیں گے۔مگر خود کردہ را علاجے نیست۔اب خرید جو لئے ،کیا کیا جائے،کسی نہ کسی طرح تو نیگ لگانا ہی پڑے گا،پھینکے تو جا نہیں سکتے۔پھر لے آتایہیں،مجبوری کو میں ہی اُنہیں ختم کر ڈالوں۔‘‘