ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورق ڈرامہمالی

مالی

محمد الیاس نواز

بھلا مالیوں کے باغ پر پیدائشی حقوق کیسے ہوگئے۔۔۔۔

کردار:
چوہدری منصف: گاؤں کا سربراہ(وڈاچودھری)
چوہدری عبدالمالک: باغ کا مالک
ندیم،سلیم،کلیم: باغ کے مالی
ماسٹرفراست: گاؤں کے اسکول میں استاد
دینو: چودھری منصف کا گھریلو ملازم

پس منظر:

 

چودھری عبدالمالک نے اپنے باغ کے تینوں مالیوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیاہے۔اب یہ تینوں مالی جوکہ آپس میں بھائی ہیں،بحالی کی درخواست لے کرچودھری عبدالمالک کے گہرے دوست اور گاؤں کے بڑے چودھری،چودھری منصف کے پاس آے ہیں۔

 

منظر

چودھری منصف کی بیٹھک ہے۔چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں۔ایک چارپائی پرچودھری منصف اونچے شملے والی خوبصورت پگڑی باندھے پر وقار انداز میں گاؤ تکیے سے ٹیک لگاے بیٹھا ہے۔اس کے سامنے حقہ رکھا ہے۔سامنے والی چارپائی پر ماسٹر فراست سرپر قراقلی لگاے بیٹھے ہیں جبکہ دو چارپائیاں مزید موجود ہیں۔دینو بیٹھک میں داخل ہوتا ہے۔

(پردہ اٹھتا ہے)

دینو:’’چودھری جی ...وہ جی...چودھری عبدالمالک کے باغ کے پرانے مالی تھے ناں جی ...عبدالکریم مرحوم...ان کے تینوں بیٹے آے ہیں جی ...آپ سے ملنے۔‘‘

 

چودھری منصف:’’ہاں،ہاں.. دینو... بھیج دو..‘‘

 

دینو:(واپس مڑتے ہوے)’’اچھا جی !‘‘

 

ندیم،سلیم،کلیم:(اندر داخل ہوتے ہوے خالص دیہاتی انداز میں)’’اسلام لے کم، وڈے چودھری جی...‘‘

 

چودھری منصف:(پرتپاک انداز میں)’’والے کم سلام،آؤ آؤ بھئی....سناؤ پتر کیاحال اے تم لوگوں کا ..ہیں..بھئی ٹھیک تو ہو نا تم لوگ... ہیں.....بیٹھوبیٹھوشاباش...بیٹھو‘‘

 

ندیم:(بیٹھتے ہوئے احترام کے ساتھ)’’ بس جی اللہ کا بہت کرم اے جی....وڈے چودھری جی !...آپ سنائیں جی...آپ ٹھیک ہیں ناں جی ی؟‘‘

 

چودھری منصف:’’لو بھئی مجھے کیا ہونا ہے بھلا....اللہ کا فضل ہی فضل ہے..تم سناؤ بھئی لڑکو!...آج کیسے آنا ہوا...ویسے تو تم لوگ آتے نہیں اور آج تینوں اکٹھے ای آگئے او....ہاہاہا...اکٹھے تو تم کبھی عید ملنے نہیں آے ..ہیں....او خیر تو ہے ناں؟‘‘

 

ندیم:(سرکو کھجاتے ہوئے پریشان لہجے میں)’’بس جی کیا بتائیں آپ کو چودھری جی....آپ کو تو پتاہے جی ...کہ ہم تین نسلوں سے چودھری عبدالمالک کے باغ کے مالی چلے آرہے ہیں جی...اب آپ کو پتا ہو کہ نہ ہو ...چودھری عبدالمالک صاحب نے ہمیں باغ کے مالی کی ذمہ داریوں سے فارغ کر کے نئے مالی رکھ لیے ہیں جی....‘‘

 

چودھری منصف:(تعجب سے)’’اچھااا ...مگر یہ کب ہوا؟...اور تم لوگوں نے بتایا کیوں نہیں؟‘‘

 

ندیم:(پریشانی میں دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑتے ہوئے)’’وہ جی..کل ہی ہوا ہے ...بس چودھری جی....عبدالمالک صاحب تو جی آپ کو بڑا بھائی کہتے ہیں اور آپ کی بات تو وہ ٹالتے ای نہیں......بس اسی لیے آپ کے پاس آئے ہیں جی... کہ آپ مہربانی فرماکر ہماری سفارش کر دیں جی...دیکھیں ناں جی...ہم تین نسلوں سے اس باغ کی خدمت کرتے آرہے ہیں جی....آپ کو تو پتا ہے جی کہ ہمارے دادا جی کے ہاتھوں یہ باغ آباد ہوا،پھر ابّا جی بھی ساری عمر اسی باغ کی دیکھ بھال میں گزار کر دنیا سے چلے گئے اور ہم بھی اسی کی مالی گیری میں جوان ہوئے ہیں جی....تو ہمارا تو اس پر پیدائشی حق ہوا ناں جی....ہمارے ہوتے ہوئے بھلا کوئی کیسے اس باغ میں ہماری ذمہ داریاں سنبھال سکتاہے.....بڑے چودھری جی!...آپ ہی بتائیں جی...... کیا چودھری عبدالمالک صاحب نے ہمارے ساتھ زیادتی نہیں کی جی ی ی؟‘‘

 

ماسٹرفراست:’’بھئی لڑکو!...نئے مالی ہیں کون؟‘‘

 

ندیم:’’ماسٹر جی!..کیا بتائیں جی ی ی ...غیر مسلموں کا خاندان ہے ....جو ہماری جگہ مالی ہوا ہے جی.....‘‘

 

(دینو اندر داخل ہوتا ہے)

 

دینو:’’وہ جی...چودھری عبدالمالک صاحب آئے ہیں جی...آپ سے ملنے۔‘‘

 

چودھری منصف:ہاں،ہاں ..بھیجو بھئی اندر بھیجو...اور مہمانوں کی خاطر کا کوئی بندو بست کربھئی دینوووو....کوئی دودھ شودھ پلا بھئی مہمانوں کووو...‘‘

 

دینو:’’جی چودھری جی....ابھی لایا جی..‘‘

 

(چودھری عبدالمالک سلام کرتا ہوا اندر داخل ہوتا ہے،سب سلام کا جواب دیتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں)

 

چودھری عبدالمالک:(چودھری منصف سے ہاتھ ملاتے ہوئے)’’السلام علیکم..وڈے چودھری جی ..کیا حال اے جی...خیرنال او ؟‘‘

 

چودھری منصف:’’اوآ ؤچودھری عبدالمالک.....اللہ کا کرم اے ...او تم سناؤبھئی....خیریت اے ناںں....بڑے موقع پہ آے ہو ....مجھے تمہیں بلاناہی پڑنا تھا...‘‘

 

چودھری عبدالمالک:(ماسٹر فراست سے ہاتھ ملاتے ہوئے)...ماشاء اللہ ماسٹر جی بھی موجود ہیں....کیسے ہیں ماسٹر جی....گھر میں سب خیر ہے جی؟‘‘

 

ماسٹر فراست:’’اللہ کا بڑا فضل ہے....اللہ سلامت رکھے..تم سناؤ، اچھا ہوا تم سے ملاقات ہوگئی، کافی دن ہو گئے تھے ناں ملے ہوئے...‘‘

 

چودھری عبدالمالک:(ہنستے ہوئے)’’ہاہاہا....بس جی!میں نے ان لڑکوں کو بڑے چودھری جی کی طرف آتے دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ میری شکیت(شکایت) ہونے جا رہی ہے۔...ہاہاہا... بس فیر میں وی(پھر میں بھی) ان کے پیچھے چلا آیا۔‘‘

 

چودھری منصف:(ہاتھ تھوڑا سااوپر اٹھاتے ہوے)’’او نہیں اوے چودھری....ان بے چاروں نے کیا شکیت کرنی ہے.....یہ تو بے چارے درخواست کرنے آئے تھے.... دیکھوناں چودھری..آخر تین پشتوں سے یہ تمہارے مالی ہیں....اور اب تم نے ان کو باغ سے نکال ای دیا ہے؟....یہ مناسب تو نہیں ہے ناں‘‘

 

چودھری عبدالمالک:’’وڈے چودھری جی!....میں نے ان کو باغ سے نکالا نہیں ہے جی...صرف ان کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا ہے جی....ویسے وڈے چودھری جی اِک بات تو بتائیں جی....مالی کا کام بھلاکیا ہوتا ہے....اور ایک مالک اپنے باغ کے مالی سے کیا چاہتاہوتااے جی...؟

 

چودھری منصف:’’لو بھلا یہ کیا سوال ہوا......بھئی مالک یہی چاہتاہوتا ہے ...کہ ہر طرح سے باغ کو سنوارا جائے...نئی اور خوبصورت کیاریاں بنائی جائیں....راستے ٹھیک رکھے جائیں....باغ میں پھولوں والے پودے لگائے جائیں....جن کی خوشبو سے نہ صرف باغ مہکتا رہے بلکہ حسین بھی نظر آئے.....پھلوں والے درخت لگاے جائیں...ہر کا م سلیقے اور ترتیب سے کیا جائے.....جھاڑیوں اور خودرو پودوں کو کاٹا جاے....ہر نقصان پہنچانے والی چیز سے باغ کی حفاظت کی جائے..بس یہی کام ہے چودھری مالیوں کا اور یہی کچھ مالک چاہتا ہوتاہے...‘‘

 

چودھری عبدالمالک:’’بالکل ٹھیک کہا جی آپ نے....مگر وڈے چودھری جی....اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہوتاتو مجھے بھلا کیادشمنی تھی اپنے پرانے مالیوں سے جی....کہ میں ان کو فارغ کر کے نئے مالی رکھنے کا تجربہ کرتا جی ی ی..‘‘

 

ماسٹر فراست:(تعجب سے)’’کیا مطلب؟..... چودھری عبدالمالک!‘‘

 

چودھری عبدالمالک:(افسوس ناک لہجے میں)’’ماسٹر جی....تے....وڈے چودھری جی...اب ذرا میرے جنگل کا چکر لگا کرتو دیکھیں جی...جو پہلے باغ تھا..... اب اس کا کیا حال ہے...سارا گندگی کا ڈھیر بنا پڑا ہے جی...باغ میں بنے سارے خوبصورت راستے اور پگڈنڈیاں ٹوٹ نہیں گئیں ...بلکہ تباہ ہو گئیں ہیں جی ی ی.... باغ کا آدھا حصہ پانی کاٹویا(جوہڑ) بنا ہواہے.... اور آدھاحصہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے.....پھولوں والے پودوں کا تو نام نشان نہیں ...ہاں!جنگلی بوٹیاں آپ کو چاہئے ہوں تو میرا جنگل حاضر ہے جی ...پھولوں والی بیلوں کی جگہ امر بیل پھل دار درختوں پر ایسی چڑھی کہ سارے درختوں کو کھا گئی.....اب ذرا حفاظت کا سن لیں جی.....دنیا جہاں کے لوفر لفنگوں کی بیٹھک اگر کہیں ہے تو میرے باغ میں ہے....وہ نہ صرف ماحول خراب کرتے ہیں بلکہ باغ کا نقصان بھی کرتے ہیں اوریہ تینوں اس میں برابر کے شریک ہیں جی...رہی سہی کسر جانور نکال جاتے ہیں جی..اسی لئے میں نے کہا کہ میرے جنگل کا چکر لگائیں....ایسی ہوتی اے مالی گیری...اب فیصلہ آپ کریں جی.....‘‘

 

چودھری منصف:(سمجھانے والے انداز میں)’’مگر چودھری مالک !....یہ ساری بد انتظامی اپنی جگہ......مگریہ تین پشتوں سے یہاں مالی ہیں اس لئے انکا کہنا ہے کہ باغ پر ان کا پیدائشی حق ہے....‘‘

 

چودھری عبدالمالک:(ہنستے ہوے)’’ہاہاہا.....وڈے چودھری جی....آپ بھی کمال کرتے ہیں جی ی ی...بھلا مالیوں کے باغ پر پیدائشی حقوق کیسے ہو گئے جی....دادا حضور نے یہ باغ نہ تو ان کے لئے لگوایا تھا اور نہ ہی ان کے دادا محترم کو بیچا تھا تو پھر پیدائشی حقوق کیسے ہو گئے جی؟.......میرے دادا جی نے ان کے دادا محترم کو ان کی صلاحیت اور دیانت کی وجہ سے ملازم رکھا تھا جی....ان کے والد صاحب بھی قابل اور محنتی انسان تھے ....اسی لئے وہ بھی برقرار رہے....مگر یہ لڑکے ناقابل،کام چور اور خائن نکلے....پھر بھی انہوں نے جب تک زیادہ بگاڑ نہیں کیا میں نے ان کو برداشت کیا ....مگر اب تو انہوں نے باغ برباد ہی کر دیا تو اس کے سوا کیا چارہ تھا چودھری جی....اور رہی بات حقوق کی .....تو ملازم کا حق تو اس کی خدمت اور کام کے ساتھ ہوتا ہے....جب تک وہ کام کرتا رہتا ہے ...خدمت اور انتظام کا حق اسی کا ہوتا ہے....اور جب وہ کام دیانت اور محنت سے کرناچھوڑ دیتا ہے تو وہ خدمت کا حق کھو دیتا جی .. تین نسلوں سے نہیں ہزار نسلوں سے بھی مالی گیری کرنے سے باغ مالی کی ملکیت نہیں ہو جاتا...اور انہوں نے تواتنا بھی خیال نہیں کیا کہ جس باغ کو ان کے بڑوں نے لگایاتھا انہوں نے اس کو برباد کر دیا.....تو پھران کا پیدائشی حق کہاں سے ہو گیاجی ی ی؟‘‘

 

ماسٹر فراست:’’وہ تو بات ٹھیک ہے تمہاری چودھری عبدالمالک....مگر ایک دم سے تو کسی کو نہیں نکالا جاتا ناں ....پہلے تنبیہ کی جاتی ہے...نصیحت کی جاتی ہے ...بتایا جاتا ہے کہ تم اپنی ذمہ داریاں ٹھیک نہیں ادا کر رہے....چھوٹی موٹی سزا دی جاتی ہے.....سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے‘‘

 

چودھری عبدالمالک:’’ماسٹر جی !...چھوڑیں جی .....یہ کام میں کئی سالوں سے کرتا آیا ہوں جی....ہر طرح سے کوشش کی...وڈے چودھری جی کو پتا ہے اس بات کاماسٹر جی ی ی..‘‘

 

ماسٹرفراست:(حیرانی سے)’’تو پھر تم نے انہیں پہلے کیوں نہیں نکالا؟‘‘

 

چودھری عبدالمالک:’’ماسٹر جی ...جب تک کوئی اچھا مالی نہیں ملتا...میں ان کو کیسے فارغ کر سکتا تھا...بغیر دیکھے بھالے اگرکسی کو لے آتا تو پھر ان کو فارغ کرنے کا کیا فائدہ ہوتا؟...بس جیسے ہی بہتر مالی ملے اور مجھے لگا کہ یہ باغ کو دوبارہ سنوار سکتے ہیں....مالی کی ذمہ داریاں اُن کو دے دیں‘‘

 

چودھری منصف:(ہلکی سی ناراضی کے ساتھ)’’چودھری عبدالمالک!....تمہاری ہر بات ٹھیک ہے مگر تم نے یہ کیا کیا؟؟.... کہ مسلمانوں کو فارغ کرکے باغ کا انتظام غیر مسلموں کو دے دیا...استغفراللہ .....‘‘

 

چودھری عبدالمالک:’’وڈے چودھری جی!...باغ کے مالک کو اس سے کیا غرض کہ مالیوں کا دین مذہب کیا ہے جی...میں نے کون سا ان سے مذہبی کام لینا ہے جی....باغ کا مالک تو ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کون سامالی باغ کے بگاڑ کو کم کرکے زیادہ سنوار سکتا ہے....اور ماسٹر جی آپ ہی ذرا بتائیں ناں جی....خیانت کار مسلمان کااپنا کتنا ایمان باقی رہ جاتا ہے...اس پر بھی ذرا غور فرمائیں ناں جی۔‘‘

 

چودھری منصف:(ماسٹر فراست سے مخاطب ہوتے ہوئے)’’لوجی ماسٹر جی! ...ساری گَل بات آپ کے سامنے آگئی ہے جی....آپ پڑھے لکھے انسان ہیں ...کیا فرماتے ایں آپ؟‘‘

 

ماسٹر فراست:(چشمہ ٹھیک کرتے ہوے،بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ)’’چودھری جی!..یہ زمین اللہ کا باغ ہے جی....اور یہ حکمران اس کے مالی ....جو جتنے حصے پر حکم ران ہے، سمجھو اتنے حصے کا مالی ہے...اس باغ یعنی زمین کا مالک بھی’’بناؤ کو پسند کرتاہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتا‘‘۔باغ کا مالک ہونے کی حیثیت سے خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کے باغ کے مالی(حکم ران)اس کی دی ہوئی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کاٹھیک استعمال کرتے ہوئے پوری محنت اور دیانت کے ساتھ اس کے باغ(زمین)کو سنواریں، اسی لئے جن مالیوں میں بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے،وہ مالک انہیں کو مالی مقرر کرتا ہے۔پھر وہ ان کی نگرانی کرتا ہے۔جب تک زیادہ بناتے ہیں اور کم بگاڑتے ہیں تو وہ انہی کو مالی رکھتا ہے اور جب ان کا بگاڑ زیادہ ہو جاتا ہے اور بناؤ کم ہو جاتا ہے تو وہ ان کی جگہ ایسے مالی لے آتا ہے جو ان سے زیادہ محنتی اور قابل ہوتے ہیں اور بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔اوریاد رکھنا چودھری جی.... وہ باغ کا مالک مالیوں کا کام دیکھتا ہے ان کا دین یا مذہب نہیں دیکھتا......ان کا کام اچھا ہو تو اپنے باغ کا انتظام اور اختیار ان کو دے دیتا ہے۔پھروہ پہلے والے مالیوں کو نئے آنے والے مالیوں کے ماتحت’’خدمت گار‘‘کے طور پر کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔اگر وہ خدمت گار کے طور پر بھی نا اہل ثابت ہوں تو پھر انہیں باغ سے ہی نکال دیتا ہے جی....آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جی....آپ تو ویسے ہی تاریخ پڑھنے کے شوقین ہیں.....اور باغ کے مالک نے یہ باغ جب سے لگایا ہے اسی وقت سے اس کا یہ اصول اسی طرح اٹل ہے جیسے کائنات کے دوسرے اصول....جیسے جوانی کے بعد بڑھاپے اور پھر موت کا اصول اٹل ہے اور آج تک بدلا نہیں اور نہ بدلے گا....اسی طرح یہ اصول بھی اٹل ہے ......اب فیصلہ آپ کیجئے....

 

(چودھری منصف پر جوش انداز میں اٹھ کھڑاہوتا ہے،باقی سب بھی کھڑے ہو جاتے ہیں)

 

چودھری منصف:’’بس فیصلہ ہو گیا چودھری عبدالمالک!‘‘....(پھرندیم،کلیم،سلیم سے مخاطب ہوکر)....’’جاؤ پتر...نئے آنے والے مالیوں کے ماتحت خدمت گار بن کر کام کرو اور اپنے آپ کو منواؤ....ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ باغ سے ہی نکال دیے جاؤ....جلدی جاؤ!.. تم اپنے باغ کی طرف اور اللہ نے ہمیں جس باغ کا مالی بنایا ہم اس باغ کی طرف...‘‘

 (پردہ گرتا ہے)