ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقناولسائنس داں کا اغوا

سائنس داں کا اغوا

مصنف: ایس۔ایف اسٹیوینس

مترجم: ظفر محمود

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سائنس داں کے اغوا کی دل چسپ جاسوسی کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’بیٹھ جاؤ رابرٹ!‘‘ خصوصی برانچ کے اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے سامنے کھڑے ہوئے بھاری جسم والے آدمی سے کہا۔ خصوصی برانچ دراصل پولیس کا وہ گروپ تھا جو قومی سطح کے خفیہ معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ رابرٹ اس گروپ کا سراغ رساں تھا اور اس وقت اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں اس لیے موجود تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر سخت پریشان تھا۔ اُسے خبر ملی تھی کہ اٹامک ریسرچ اسٹیشن کا ایک اہم اور نوجوان سائنس داں پُراسرار طور پر غائب ہوگیا ہے۔ کسی کو کچھ پتا نہ تھا کہ اسے کن لوگوں نے اغوا کیا ہے اور کیوں؟ اسسٹنٹ کمشنر کے منھ سے یہ ساری کہانی سُن کر رابرٹ کو کوئی حیرت نہیں ہوئی، کیوں کہ اس قسم کی وارداتیں اکثر ہوتی رہتی تھیں۔ بہرحال معاملہ چوں کہ ایٹمی ادارے کا تھا اس لیے کچھ زیادہ ہی اہم تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر بڑے ٹھنڈے مزاج اور نرم لہجے والا انسان تھا۔ وہ عام طور پر اپنے ماتحتوں سے بہت دھیمے لہجے میں گفتگو کرتا تھا۔ مگر اس وقت معاملہ کچھ اتنا نازک تھا کہ وہ سب پر برس رہا تھا۔ غصے اور جھنجھلاہٹ میں وہ اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا۔ پھر اُس نے رابرٹ کی طرف متوجہ ہوکر دوبارہ کہنا شروع کیا:

’’ایٹمی سائنس داں مانچسٹر یونی ورسٹی جارہا تھا جہاں اُسے طلبہ کو ایک لیکچر دینا تھا۔‘‘

’’جناب میں اس سائنس دان کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ رابرٹ نے ڈرتے ڈرتے اپنے افسر سے پوچھ ہی لیا، حال آں کہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر کبھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ جب وہ بول رہا ہو تو بیچ میں دخل دیا جائے، کوئی سوال پوچھا جائے۔ مگر وہ پوچھنے پر مجبور تھا، کیوں کہ وہ جلد از جلد اس سائنس دان کے بارے میں ساری معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اُسے بتایا کہ اس سائنس دان کا نام پروفیسر نکل ہے۔ پھر اس نے تفصیل سے بتانا شروع کیا،’’ ہاں، تو ،میں کہہ رہا تھا کہ پروفیسر نکل کو مانچسٹر یونی ورسٹی میں ایک لیکچر دینا تھا۔ ویل ٹاؤن کے لوگوں نے اس کے سفر کے سارے انتظامات کیے تھے۔ لندن ائیر پورٹ پر ہم نے اپنے آدمیوں کو اور مانچسٹر کی پولیس چوکس کر دیا تھا۔ پروفیسر کو ایک پولیس کار میں ائیر پورٹ لے جایا گیا تھا۔ ہماری خصوصی برانچ کے آدمیوں نے لندن ائیر پورٹ پر پروفیسر کو نہیں دیکھا کیوں کہ پروفیسر وہاں پہنچا ہی نہیں۔ مسافروں کی فہرست میں البتہ پروفیسر کا نام موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہاز پر سوار ہوا ہے، مگر وہ مانچسٹر نہیں پہنچ سکا۔‘‘ 

یہ کہہ کر اسسٹنٹ کمشنر خاموش ہوگیا۔ رابرٹ نے اس کے بولنے کا انتظار کیا، مگر جب وہ کچھ نہ بولا تو رابرٹ نے کہا:

’’ یہ پرواز سیدھی مانچسٹر جاتی ہے اور جہاز راستے میں کہیں نہیں رُکتا۔ لہٰذا یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ پروفیسر راستے میں کہیں اتر گیا ہو یا اُتار لیا گیا ہو۔ اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی اور شخص نے پروفیسر کے نام سے جہاز میں سفر کیا ہے۔’’اسسٹنٹ کمشنر نے رابرٹ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ کسی سوچ میں گْم تھا۔ رابرٹ نے پھر پوچھا، ’’ جناب یہ سارا واقعہ کب پیش آیا؟‘‘ 

’’ آج صبح۔‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے آہستہ سے کہا،’’ مانچسٹر کی پولیس نے جب یہ دیکھا کہ پروفیسر جہاز کے مسافروں میں شامل نہیں ہے تو انہوں نے اُسی لمحے ویل ٹاؤن فون کیا اور جوں ہی یہ اطلاع مجھے ملی میں نے تمھیں بلا بھیجا۔’’ ابھی اسسٹنٹ کمشنر کچھ اور کہنے والا تھا کہ ٹیلے فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ریسیور اُٹھا لیا۔ رابرٹ فون کے اتنے قریب تھا کہ وہ دوسری طرف سے بولنے کی آواز سُن سکتا تھا۔ 

’’ کیا کمشنر صاحب بول رہے ہیں؟‘‘ کسی نے پوچھا۔ 

’’ نہیں، میں اسسٹنٹ کمشنر بات کر رہا ہوں۔‘‘

’’ میں ہیٹ فیلڈ ہوں۔‘‘ آواز نے ذرا سخت لہجے میں کہا،’’ اب تک تمھیں ویل ٹاؤن کے واقعے کی پوری خبر مل چکی ہوگی سُنو اسسٹنٹ کمشنر! پروفیسر نکل کو فوراً بازیاب ہونا چاہیے۔ تم میری بات سُن رہے ہو نا؟‘‘

آواز نے ناخوشگوار لہجے میں کہا،’’ ورنہ، ورنہ میں تمھیں بتا نہیں سکتا کہ کیا ہوجائے گا۔ پروفیسر کا سراغ فوراً ملنا چاہیے۔‘‘

اسسٹنٹ کمشنر نے جواب دیا،’’ جناب! میں معاملے کی اہمیت کو سمجھ رہا ہوں۔ آپ فکر۔۔۔۔‘‘

’’مجھے ہر معاملے کی رپورٹ ملنی چاہیے۔ مجھے گھر پر یا دارالعوام میں فون کر دینا۔‘‘

’’ بہتر جناب!‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے مستعدی سے کہا۔’’ اس مہم کا انچارج کون ہوگا؟‘‘ ٹیلے فون کرنے والے نے پوچھا۔

’’جناب! اس مہم کے انچارج چیف سپرنٹنڈنٹ رابرٹ ہوں گے۔ میرا خیال ہے آپ اس سے پہلے مل چکے ہیں۔‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے جواب دیا۔

’’ ہاں، ہاں۔ مجھے یاد آگیا۔ مگر وہ بہت سست اور بھاری بھر کم جسم والا ہے۔ اس قسم کے کام میں تو کسی پھرتیلے آدمی کی ضرورت ہے۔ کیا خیال ہے؟‘‘ 

’’ جناب وہ دیکھنے میں موٹا اور سست ضرور نظر آتا ہے، مگر اس کام کے لیے اس سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے رابرٹ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے بیٹھا ٹیلے فون کی گفتگوسُن رہا تھا۔ واقعی رابرٹ بہت بھاری بھر کم تھا۔

’’ ٹھیک ہے، جو بہتر سمجھو کرو، مگر پروفیسر کا فوراً پتا لگاؤ! اللہ حافظ۔‘‘ 

اسسٹنٹ کمشنر فون بند کر کے رابرٹ کی طرف مُڑا۔ اس کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی جیسے زبردستی مسکرا رہا ہو۔ اُس نے رابرٹ سے کہا:

’’وزیر صاحب تھے۔ دیکھا کس قدر چیخ رہے تھے فون پر! میرا خیال ہے تم نے بھی ساری بات چیت سُن لی ہوگی۔‘‘

مگر رابرٹ کے چہرے پر کوئی ناگواری نہیں تھی۔ اُس نے وزیر کی بات کا بالکل بُرا نہیں ماناتھا۔ اُس نے اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ وہ ساری بات سن چکا ہے۔ پھر اس نے کہا:

’’ جناب یہ بات تو مجھے معلوم ہے کہ ویل ٹاؤن کے تمام لوگوں کی زبردست حفاظت کی جاتی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وزیر صاحب اس معاملے میں اتنی زیادہ دل چسپی کیوں لے رہے ہیں۔ اب آپ مجھے پروفیسر نکل کے بارے میں وہ بات بتائیے جو ابھی تک معلوم نہ ہوسکی ہو۔ میرا مطلب ہے کہ کوئی ایسی بات جو آپ مجھے بتانا بھول گئے ہوں۔‘‘

اسسٹنٹ کمشنر نے رابرٹ کی بات سُن کر کہا:

’’ سنو رابرٹ! مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ تم ایٹمی توانائی کے بارے میں کیا جانتے ہو، مگرتم اتنا ضرور جانتے ہو گے کہ یورینیم کتنی اہم دھات ہے۔ ویل ٹاؤن میں ہمارے ذہین سائنس دانوں نے یورینیم حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ان سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ عالمی جنگ کے بعد ایٹمی سائنس میں یہ سب سے بڑی اور اہم کامیابی ہے۔‘‘

رابرٹ نے پوچھا کہ کیا پروفیسر نکل کی دریافت ہے تو اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا:

’’ نہیں، صرف پروفیسر نکل کی نہیں ہے۔ کئی سائنس دان دن رات تجربے میں مصروف ہیں، البتہ پروفیسر نکل وہ آدمی ہیں جو اس کے متعلق ہر بات جانتے ہیں۔‘‘

رابرٹ نے کہا،’’ بے چارہ پروفیسر! کہیں اس کو اغوا کرنے والے اس پر سختی نہ کریں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پروفیسر خود اپنی مرضی سے کہیں چھپ گیا ہو؟‘‘

’’ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ پھر وہ بولا،’’ مگر اس قسم کے قومی اہمیت کے اداروں میں ہمیں کسی بھی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے تھوڑی سی معلومات دی گئی ہیں اور وہ بھی ٹیلے فون پر۔‘‘

رابرٹ کھڑا ہوگیا، مگر جس پھرتی سے وہ کھڑا ہوا تھا اس پر حیرت ہونی چاہیے تھی، کیوں کہ اتنا بھاری جسم والا انسان پھرتی سے چل پھر نہیں سکتا۔ اُس نے اپنے افسر سے کہا:

’’ اجازت دیجیے جناب! اب آپ نے میرے ذمے یہ کام لگا ہی دیا ہے تو مجھے فوراً اس پر کام شروع کر دینا چاہیے۔‘‘

’’ ٹھیک ہے، تمھیں جتنے آدمیوں کی ضرورت ہو لے لینا۔ تمھیں اپنی مرضی کے آدمی چننے کا پورا اختیار ہے۔‘‘

’’ شکریہ جناب! میں یہی چاہتا تھا۔ اب میں انسپکٹر لین کو لندن ائیرپورٹ بھیج رہا ہوں۔ وہ وہاں جاکر مکمل تفصیل حاصل کرے گا۔ انسپکٹر نارتھ مانچسٹر جاکر ہر ممکن معلومات حاصل کر ے گا اور میں ابھی اسی وقت ویل ٹاؤن جارہا ہوں جہاں ایٹمی تحقیق کا ادارہ ہے۔‘‘

’’ ٹھیک ہے رابرٹ، میں لین اور نارتھ کو تمام باتیں بتادوں گا۔ اس طرح تمھارا وقت بچ جائے گا۔‘‘

خصوصی برانچ کے اعلا عہدے داروں اور افسروں کو عام لوگ نہیں جانتے۔ کسی کو پتا نہیں کہ کون کیا ہے۔ رابرٹ سے جو شخص پہلی بار ملتا تھا وہ اُسے ڈاکٹر یا وکیل سمجھتا تھا۔ چند لوگوں کو صرف اندازہ تھا کہ وہ کوئی پولیس افسر ہے۔ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ رابرٹ لندن کی پولیس فورس کا سب سے زیادہ ذہین، باصلاحیت اور اہم سراغ رساں تھا۔ اس کے وجود کو دیکھتے ہوئے کو ئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہ بے ہنگم اور موٹا انسان اتنا پْھرتیلا اور چاق و چوبند ہوگا۔ جس وقت رابرٹ پولیس میں بھرتی ہوا تھا اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ اس نے غلطی کی ہے۔ اس نے اعلا تعلیم حاصل کی تھی اور وہ اچھے سے اچھا کام کر سکتا تھا، مگر اُس نے پولیس فورس میں شامل ہونا پسند کیا۔ اسے کبھی اس پر افسوس نہیں ہوا، کیوں کہ شروع میں وہ صرف ’’ پولیس والا‘‘ تھا۔ 25 سال کی ملازمت میں اس نے مرحلے وار ترقی کی اور اعلا عہدے پر فائز ہوا۔ اس کاکام کرنے کا طریقہ بڑا اچھا تھا۔ وہ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیتا تھا۔ جذبات میں آنے کی غلطی اس نے کبھی نہیں کی، ہمیشہ اپنا ذہن استعمال کیا۔ اس نے بے شمار جرائم کا سراغ لگایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خوب تفتیش کرتا، معلومات اکٹھی کرتا، لوگوں سے پوچھ گچھ کرتا اور پھر کسی صحیح نتیجے پر پہنچ جاتا۔ جب کبھی اس کے سامنے کوئی نیا اور مشکل کیس آتا تو سب سے پہلے وہ اس شخص کا خیالی خاکہ بناتا جس کی اُسے تلاش ہوتی۔ اس کے بعد وہ کئی لوگوں کی ڈیوٹی لگاتا جو اس مطلوبہ شخص کے بارے میں ہر جگہ سے مکمل معلومات جمع کرتے۔ خصوصی برانچ کے رکارڈ روم سے بھی وہ ساری معلومات حاصل کر لیتا۔ اس سارے کام میں کبھی کبھی کوئی معمولی سی بات یا غیر اہم واقعہ بھی سامنے آتا تو رابرٹ اُسے نظر انداز نہیں کرتا تھا، کیوں کہ اکثر اسی معمولی بات سے سارا مسئلہ حل ہوجاتا تھا۔ اس وقت ویل ٹاؤن جاتے ہوئے رابرٹ گہری سوچ میں تھا۔ انگلینڈ کے تمام بڑے اور چھوٹے مجرموں کو وہ خوب جانتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پروفیسر نکل کو کس نے اغوا کیا ہے۔ مگر اس کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ انگلینڈ میں اغوا کی وارداتیں عام نہیں تھیں، یہی بات رابرٹ کو پریشان کر رہی تھی کہ آخر اغوا کس نے کیا ہے اور کیوں کیا ہے۔ 

رابرٹ پولیس کار میں ویل ٹاؤن کے گاؤں کے پاس سے گزر رہا تھا۔ اس جگہ سے تقریباً آدھا میل آگے ’’اٹامک ریسرچ اسٹیشن‘‘کی عمارت تھی۔ جو اب نظر آنے لگی تھی۔ اس عمارت کی چاروں طرف ایک بہت اونچی اور مضبوط دیوار تھی۔ دیوار کے اوپر ایک جالی دار احاطہ سا نظر آرہا تھا۔ یہ عمارت کو بجلی سپلائی کرنے والا ٹرانسفارمر تھا۔ اس پر بڑے بڑے لال رنگ کے بورڈ لگے ہوئے تھے جن پر موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا:

’’خبردار! ان تاروں کو چھونے والا فوراً مر جائے گا۔‘‘

کار میں رابرٹ کے ساتھ انسپکٹر رازلے بھی تھا، مگر ایک گھنٹے کے سفر کے دوران شاید ہی رابرٹ نے رازلے سے کوئی بات کی ہو۔ رابرٹ کی طرح رازلے بھی ایک بھاری بھر کم انسان تھا، مگر وہ رابرٹ کی طرح کم بولنے والا نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملتا تھا اور اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ نظر آتی تھی۔ رازلے اس سے پہلے بھی کئی بار رابرٹ کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں سے دوستانہ انداز میں ملے اور ان کا تعاون حاصل کرے۔ رابرٹ عام طور پر اس قسم کے سوالات کرتا تھا جن سے لوگ مشکوک ہوجاتے تھے اور اس کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے گھبراتے تھے۔ اس کیس میں اسی لیے رازلے کو رابرٹ کا معاون بنایا گیا تھا کہ جہاں لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے کی ضرورت پیش آئے تو وہ فوراً آگے ہوجائے۔ 

لمبی خاموشی سے اکتا کر رازلے نے رابرٹ سے کہا،’’ میرا خیال ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ سائنس دان رہتا ہے۔‘‘

’’ ہاں۔‘‘ رابرٹ نے مختصر جواب دیا۔

’’ اس جگہ سے کسی کو اغوا کرنا آسان نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کی زبردست حفاظت کی جاتی ہے۔‘‘ رازلے نے کہا۔ رابرٹ نے بے زاری سے جواب دیا:

’’ جن لوگوں نے اسے اغوا کیا ہے وہ کوئی منظم گروہ ہے۔‘‘ اس کے جواب سے رازلے سمجھ گیا کہ اب وہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ کار اب ایک سڑک پر مڑ گئی تھی جس کے آخری سرے پر لوہے کا ایک بہت بڑا دروازہ نظر آرہا تھا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر کار رُکی۔ ایک محافظ جس کے ہاتھ میں آٹومیٹک رائفل تھی کار کے قریب آیا تو رابرٹ نے اپنا شناختی کارڈ نکال کر اسے دکھاتے ہوئے کہا:

’’ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کا چیف سپرنٹنڈنٹ رابرٹ ہوں۔‘‘

محافظ نے اسے سلیوٹ کرتے ہوئے کہا:

’’ جناب! انسپکٹر گیٹس اپنے دفتر میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ تشریف لے جائیے یہ آدمی آپ کو راستہ بتادے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اُس نے اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کیا جو فوراً ہی رابرٹ کی کار میں آکر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد محافظ کے اشارے پر فولادی پھاٹک کھل گیا اور کار اندر چلی گئی۔

انسپکٹر گیٹس نے اپنے دفتر میں رابرٹ کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ گیٹس کھچڑی بالوں والا ادھیڑ عمر انسان تھا۔ وہ عام کپڑوں میں تھا۔ اپنی وردی نہیں پہنے ہوئے تھا۔ رابرٹ نے فوراً ہی کام کی بات شروع کر دی:

’’ اب ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ پروفیسر کے غائب ہونے کے بعد تم نے کیا کیا ہے؟‘‘

گیٹس نے جواب دیا،’’ میں نے اس شخص کو جو پروفیسر کو لندن ائیر پورٹ لے کر گیا تھا دوبارہ ائیرپورٹ بھیجا ہے۔ میں نے اس سے کہا ہے کہ کنٹرولر کو اس بات کی رپورٹ دے۔ میں نے سوچا کہ ڈرائیور کو سوالوں کے جواب دینے کے لیے ائیرپورٹ پر ہی ہونا چاہیے۔‘‘

’’ یہ اچھا کیا تم نے!‘‘ رابرٹ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

گیٹس نے پھر کہنا شروع کیا:

’’ پروفیسر نکل کے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگوں سے میں نے بات کی ہے۔ میں نے پروفیسر کے مکان کی تلاشی بھی لی ہے، کیوں کہ تمام اہم سائنس دان یہیں رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ کو یہ بات معلوم ہوگی؟‘‘

’’ ہاں، میں جانتا ہوں۔‘‘ رابرٹ نے دھیمے لہجے میں کہا۔ حال آنکہ اُس نے اپنے طور پر بہت کچھ تفتیش کی تھی لیکن کوئی خاص بات معلوم نہ کر سکا تھا۔ اس کا گیٹس کو افسوس تھا۔ پھر گیٹس نے رابرٹ کو بتایا:

’’ پروفیسر نے اپنی سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ اگر کوئی خاتون ٹیلے فون کریں تو اُن سے معذرت کر لے کہ وہ آج رات کا کھانا اُن کے ساتھ نہیں کھا سکیں گے۔ دراصل پروفیسر نکل کا مانچسٹر جانے کا پروگرام کافی تاخیر سے بنا تھا۔‘‘یہ کہہ کر گیٹس خاموش ہوکر رابرٹ کو دیکھنے لگا، مگر جب رابرٹ کچھ نہ بولا تو اُس نے دوبارہ کہنا شروع کیا:

’’اس خاتون کا نام دورانت ہے اور وہ فرانسیسی ہے۔ سیکریٹری کا خیال ہے کہ وہ پیرس سے آکر لندن کے ایک ہوٹل میں ٹھہرتی ہے، مگر اس سے زیادہ وہ اس خاتون کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ یہ بات قابل غور ہے۔ یہ خاتون پروفیسر کی دوست ہے اور پروفیسر کے دوسرے جاننے والوں کا اس سے تعارف بھی نہیں ہے، یہاں ایٹمی ریسرچ اسٹیشن پر کام کرنے والے پروفیسر کے ساتھی بھی اس خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘

رابرٹ نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا:

’’ سیکریٹری سے تو میں بعد میں بات کرلوں گا، پہلے مجھے اس شخص سے ملواؤ جو پروفیسر کو بہت قریب سے جانتا ہو اور اس کا سب سے گہرا دوست ہو۔‘‘

’’پروفیسر کا سب سے قریبی ساتھی اور گہرا دوست ڈاکٹر والٹر ہے۔‘‘ گیٹس نے کہا اور پھر مسکراتے ہوئے بولا،’’ وہ برابر والے کمرے میں موجود ہے۔ میں نے اُسے پہلے ہی بُلا لیا تھا۔‘‘

یہ سن کر رابرٹ کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی۔ اُس نے کہا:

’’ میں پہلے والٹر سے ملوں گا، اس کے بعد سیکریٹری سے بھی بات ہوگی،‘‘

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر والٹر، رابرٹ کے سامنے تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ پھر رابرٹ نے فوراً ہی پہلا سوال کر ڈالا:

’’ ڈاکٹر صاحب مجھے پوری دیانت داری کے ساتھ بتائیے کہ پروفیسر نکل کس قسم کا آدمی ہے۔‘‘

’’ نکل بڑا عجیب آدمی ہے۔ نکل اس طرح کا سائنس دان نہیں ہے جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ گنجا، موٹے موٹے شیشوں والی عینک لگائے، بوڑھا، روکھا اور خاموش۔ وہ بالکل اس طرح کا سائنس دان نہیں ہے۔ اُس کی عمر صرف 36 سال ہے اور اعلا سائنس دان ہونے کے لیے یہ عمر بہت کم ہے۔ لیکن وہ بہت پائے کا سائنس دان ہے۔ بڑا باصلاحیت، ذہین اور ہوشیار۔ اپنے کام کے علاوہ وہ دوسرے کاموں، میرا مطلب ہے زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی دلچسپی لیتا ہے۔ اسی لیے میں نے یہ کہا ہے کہ وہ اس قسم کا سائنس دان نہیں ہے جیسا لوگ سمجھتے ہیں۔ اسے یہاں اس عمارت کے قریب رہنا پسند نہیں ہے۔ وہ آزادانہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ ایسی زندگی جو اس کی اپنی ہو، جس میں کسی کا دخل نہ ہو۔‘‘

’’ کیا اْس کی شادی ہوگئی ہے؟‘‘ رابرٹ نے پوچھا۔

’’ نہیں۔‘‘ والٹر نے جواب دیا۔

’’ کیا مستقبل قریب میں اس کا شادی کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘

’’نہیں، یہ بات بھی نہیں۔‘‘

’’اس کی کسی لڑکی سے دوستی ہے؟‘‘ رابرٹ نے سوال کیا تو والٹر نے بتایا کہ اس کی دوست تو بہت سی لڑکیاں ہیں۔ رابرٹ نے اگلا سوال کیا:

’’اپنے کام کے علاوہ اس کی دلچسپیاں اور مشغلے کیا ہیں؟‘‘

’’موسیقی، تھیٹر اور فلم۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو یہاں میسر نہیں۔‘‘

’’میرا خیال ہے اسی لیے وہ یہاں رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔‘‘

’’جی ہاں، جب کبھی وہ اخبارات میں نئے ڈرامے کا اشتہارات دیکھتا تو فوراً کہتا کہ اگر ایسی چیزوں سے لطف اندوز نہ ہوا جاسکے تو زندگی کا کیا مزہ!‘‘

’’لندن میں وہ کب جاتا تھا؟ کیا اکثر جاتا تھا؟"‘‘ رابرٹ نے پوچھا۔

’’عام طور سے ایک مہینے میں دوبار۔ سوائے چھٹی کے اس نے کبھی کوئی رات اپنے اسٹیشن سے دور نہیں گزاری۔‘‘

یہ تینوں والٹر، گیٹس اور رابرٹ اس طرح باتیں کررہے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ چہرے سے بالکل بھی فکرمند نظر نہیں آرہے تھے، حال آنکہ وہ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ پروفیسر کے اغوا کے نتائج کتنے خطرناک ہوں گے۔ پھر رابرٹ نے کہا:

’’والٹر! تم نکل کو کب سے جانتے ہو؟۔‘‘

’’یونیورسٹی میں ہم دونوں ساتھ پڑھتے تھے۔ اس کے بعد سے آج تک ہم کام بھی اکھٹے ہی کررہے ہیں۔‘‘

’’اس کے دوستوں کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟‘‘

نوجوان سائنس دان نے جواب دیا،’’میں اس کا سب سے قریبی دوست ہوں، مگر اس کے جاننے والے اور دوست بے شمار ہیں۔‘‘

’’تم اس فرانسیسی لڑکی کے بارے میں کچھ جانتے ہو جس سے پروفیسر نکل اکثر ملتا ہے؟‘‘

’’اس کے بارے میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ اس لڑکی سے پچھلے سال فرانس میں ایک چھٹی پر ملا تھا اور حال ہی میں وہ اس سے لندن میں ملا تھا؟‘‘

’’وہ کہاں ٹھہری ہوئی ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں۔‘‘

اس کے بعد کمرے میں کافی دیر خاموشی رہی۔ پھر چیف سپرٹنڈنٹ نے کہا:

’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں تم نے ایسے کامیاب تجربے کیے ہیں جو یورینیم حاصل کرنے کے طریقے کو بالکل بدل دیں گے۔مجھے یہ بھی پتا چلا ہے کہ اس تجربے کی ساری تفصیل صرف پروفیسر نکل کو معلوم ہے۔ مجھے یہ بتاؤ کہ اگر پروفیسر کا کوئی سراغ نہ مل سکا تو اس کی گمشدگی اس تجربے پر کیا اثر ڈالے گی۔‘‘

والٹر نے جواب دیا:

’’یہی سوال میں اپنے آپ سے اس وقت سے کررہا ہوں جب سے پروفیسر غائب ہوا ہے۔ ہماری دریافت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے ایٹمی پلانٹ لگانے کی لاگت بہت کم ہوجائے گی۔ دوسرے ملک بھی اس سلسلے میں تجربات کررہے ہیں اور وہ بھی جلد یا بدیر یہی دریافت کرلیں گے، اب اگر نکل کو ڈھونڈ نہ نکالا گیا تو ہمارے کاموں میں تین مہینوں کی دیر ہوجائے گی اور اس دوڑ میں ہم دوسرے ملکوں سے تین مہینے پیچھے رہ جائیں گے جبکہ اس وقت صرف ہم ہی اس میدان میں آگے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی کو اس کی سن گن مل گئی ہے!‘‘

یہ کہہ کر والٹر خاموش ہوکر رابرٹ کے اگلے سوال کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد رابرٹ نے اس سے کہا:

’’فرض کرو نکل کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ اگر اغوا کرنے والوں نے اس پر تشدد کیا تو کیا ہوگا؟ کیا تمہاری دریافت سے متعلق ساری اہم معلومات پروفیسر کو زبانی یاد ہوں گی؟ وہ اپنے نوٹس کے بغیر اس اہم دریافت کے تمام اہم راز کسی کو بتا سکتا ہے؟‘‘

کافی دیر تک والٹر خاموش کچھ سوچتا رہا۔ اس کے ماتھے پر لکیروں کا جال سا بچھ گیا تھا۔ پھر وہ بولا:

’’آپ کے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب یہ ہے کہ اس دریافت کی تمام باتیں پروفیسر زبانی یاد نہیں رکھ سکتا۔ مگر یہ ہوسکتا ہے کہ اس کو اغوا کرنے والا ایسا سائنس دان ہو جو اس دریافت کے بارے میں کچھ جانتا ہو۔ اگر نکل پر تشدد کیا گیا کہ وہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک بتادے تو وہ انہیں اتنا ضرور بتادے گا جس سے اُن کی صحیح سمت میں رہ نمائی ہوجائے اور وہ کامیاب ہوجائیں۔‘‘

’’اوہ میرے اللہ!‘‘ رابرٹ نے کہا۔ پھر وہ ایک دم بولا:

’’مگر میرا خیال یہ ہے کہ اگر کسی نے اس دریافت سے متعلق معلومات حاصل کر بھی لیں تب بھی اُسے اُس پر تجربہ کرنے اور کامیابی حاصل کرنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔‘‘

’’ہاں، کئی مہینے تو لگ ہی جائیں گے۔ میرا تو یہی خیال ہے۔‘‘ والٹر نے کہا۔ 

والٹر کا آخری جواب حوصلہ افزا تھا۔ وہ اب بہت مطمئن اور پرسکون لگ رہا تھا۔ پھر رابرٹ نے والٹر کی طرف گھوم کر کہا:

’’اور اس عرصے تک وہ پروفیسر نکل کو زندہ رکھنے پر مجبور ہوں گے تاکہ تجربے کے دوران جب بھی ضرورت ہو اس سے ضروری معلومات حاصل کی جاسکیں۔‘‘

والٹر نے اقرار میں سر ہلایا۔ پھر رابرٹ نے پوچھا کہ اگر پروفیسر پر تشدد کیا گیا تو وہ کیا کرے گا تو والٹر نے جواب دیا:

’’جہاں تک ہوسکے گا وہ اپنی معلومات کو راز میں رکھنے کی کوشش کرے گا۔ وہ ایک بہادر آدمی ہے اور میرا خیال ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہوگا۔‘‘

’’ تمہارا مطلب ہے وہ اپنی خوش مزاجی سے انہیں بے وقوف بنا رہا ہوگا اور اس طرح زیادہ سے زیادہ وقت گزار رہا ہوگا تاکہ اس کو تلاش کرنے کے لیے کچھ کیا جاسکے؟‘‘

’’ ہاں، اور اب۔۔۔۔‘‘ ابھی والٹر کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ انسپکٹر گیٹس نے ریسیور اُٹھایا۔ دوسری طرف انسپکٹر لین تھا۔ جو لندن ائیرپورٹ سے بات کررہا تھا۔ گیٹس نے ریسیور رابرٹ کی طرف بڑھا دیا۔ رابرٹ نے ماؤتھ پیس میں کہا:

’’ ہیلو لین! کیا بات ہے؟‘‘

اس کے بعد رابرٹ خاموشی سے لین کی بات سُن رہا تھا۔ والٹر اور گیٹس یہ دیکھ کر پریشان ہورہے تھے کہ رابرٹ صرف سُن رہا تھا، کوئی جوا ب نہیں دے رہا تھا، یہاں تک کہ ہاں، ہوں بھی نہیں کر رہا تھا۔ آخر رابرٹ نے کہا:

’’ شاباش لین یہ بات ہوئی ہے نا! تمھیں جتنے آدمی چاہئیں لے لو اور ہر اس شخص سے ملو، جو اُس وقت ائیرپورٹ پر موجود تھا، ہر شخص سے، کوئی رہ نہ جائے اور کل صبح ٹھیک نو بجے میرے دفتر میں پہنچ جانا۔ میں ایک ضروری میٹنگ کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر رابرٹ نے فون بند کردیا۔ گیٹس نے بے قراری سے پوچھا:

’’ کوئی خاص خبرسُپرنٹنڈنٹ؟‘‘

’’ بہت بُری خبر ہے۔‘‘ رابرٹ نے کہا،’’ پتا چلا ہے کہ ائیرپورٹ پر ایک آدمی نے اپنے آپ کو سیکورٹی افسر ظاہر کیا تھا اور وہ پروفیسر نکل کو ایک خالی دفتر میں لے گیا۔ ظاہر ہے اس جعلی سیکورٹی افسر نے پروفیسر کو کوئی من گھڑت کہانی سُنائی ہوگی۔‘‘

’’ اور پھر؟‘‘ والٹر نے پوچھا۔

’’ کسی طرح وہ پروفیسر کو وہاں سے لے گئے۔‘‘ رابرٹ نے جواب دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر پروفیسر ملک میں ہی موجود ہے تو اُمید ہے کہ اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد رابرٹ نے پروفیسر کی سیکریٹری کو بلوایا۔ اس دوران ڈاکٹر والٹر بھی وہیں موجود رہا، کیوں کہ رابرٹ والٹر کی موجودگی میں اس لڑکی سے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا۔ پروفیسر کی سیکریٹری لگ بھگ 28 سال کی ایک خوب صورت اور اسمارٹ عورت تھی۔ اس کی آواز بہت ملائم تھی اور لب و لہجے سے وہ کسی اچھے خاندان کی معلوم ہوتی تھی۔ رابرٹ کو اندازہ تھا کہ ویل ٹاؤن کے عہدے داروں نے یقیناًاس لڑکی کے بارے میں پہلے پوری چھان بین کی ہوگی، اس کے بعد ہی اسے ملازمت دی ہوگی۔ دیکھنے میں وہ اس قسم کی لڑکی نظر نہیں آتی تھی جو ویل ٹاؤن جیسے مقام پر رہ سکے، کیوں کہ ویل ٹاؤن میں زندگی ایک نظم و ضبط کی پابند تھی۔ ادھراُدھر جانے کی اور ہر کسی سے ملنے جلنے کی آزادی نہ تھی۔ اُس نے سپرنٹنڈنٹ رابرٹ کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیا، مگر اس سے بھی رابرٹ کو کوئی مفید بات معلوم نہ ہوسکی۔ پروفیسر ذاتی خط و کتابت خود کرتا تھا۔ سیکریٹری کا ان خطوط سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کی سیکریٹری کا زیادہ تر کام پروفیسر کے غیر سائنسی دفتری امور سے متعلق تھا۔ سیکریٹری نے بتایا کہ پروفیسر کو فرانسیسی خاتون مس دورانت کے ساتھ ڈنر پر جانا تھا۔ اس بات کا سیکریٹری کو علم اس طرح ہوا کہ پروفیسر نے کہا تھا کہ اگر فرانسیسی خاتون کا فون آئے تو اسے پیغام دے دیا جائے۔ مگر مس دورانت کا فون نہیں آیا۔ جب رابرٹ نے سیکریٹری سے پروفیسر کے ذاتی خطوط کے بارے میں پوچھا تو اُس نے کہا:

’’ اپنے ذاتی خط پروفیسر خود لکھتے تھے۔ عام طور سے وہ رات کے کھانے کے بعد یہ خط لکھتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے کمرے میں ایک چھوٹا سا ٹائپ رائٹر رکھ لیا ہے۔‘‘ رابرٹ نے سیکریٹری کا شکریہ ادا کیا اور اسے جانے کی اجازت دے دی، مگر اسے ہدایت کردی کہ وہ اپنے کمرے میں ہی رہے، کسی وقت بھی پوچھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، پھر اس نے گیٹس اور والٹر سے کہا،’’ میں ایک نظر پروفیسر کے گھر کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ لوگ چاہیں تو میرے ساتھ آجائیں۔‘‘

پولیس کار میں یہ تینوں ایٹمی ریسرچ اسٹیشن کے رہائشی علاقے میں پہنچے۔ یہ علاقہ دفتری عمارتوں سے تقریباً کوئی آدھا میل دور تھا۔ پروفیسر کا گھر بڑا خوب صورت، آرام دہ اور آراستہ و پیراستہ تھا۔ یہ دیکھ کر سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا:

’’ کیا پروفیسر کوئی اور کام بھی کرتا ہے؟ اس کی آمدنی کا کیا کوئی اور بھی ذریعہ ہے؟‘‘

والٹر نے جواب دیا،’’ اس کے والد نے اس کے لیے کافی دولت چھوڑی ہے۔‘‘

پروفیسر کے مطالعے کے کمرے میں فرش سے چھت تک کتابوں کی الماریاں لگی ہوئی تھیں۔ وہیں ایک الماری میں اسٹیل کا ایک چھوٹا سا، چمک دار اور مضبوط بکس رکھا ہوا تھا۔ گیٹس نے اس بکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’ سپرنٹنڈنٹ! اس بکس کو میں نہیں کھول سکا۔ ویسے پروفیسر کے تمام دفتری کاغذات جن میں یورینیم والے تجربات کے نوٹس بھی شامل ہیں ریسرچ اسٹیشن کی عمارت میں ’اسٹرونگ روم‘ میں ہیں۔ میں نے پرنسپل سے کہا تھا کہ وہ چیک کریں کہ تمام کاغذات صحیح طور پر موجود ہیں یا نہیں۔ کہیں کوئی گڑ بڑ تو نہیں۔ پرنسپل نے مجھے بتایا کہ تمام کاغذات موجود ہیں اور ترتیب وار لگے ہوئے ہیں۔‘‘ رابرٹ نے فولادی بکس کو اٹھایا اور کہا:

’’ ہمیں سب سے پہلے اس کو کھولنا ہے۔ ذرا انسپکٹر رازلے کو بُلوائیے۔ وہ میرے ساتھ ہی آیا تھا۔ آپ کے اسٹیشن پر ہوگا۔‘‘

تھوڑی دیر بعد رازلے رابرٹ کے سامنے موجود تھا۔ فولادی بکس رازلے کے سامنے رکھا تھا وہ اسکاٹ لینڈ یارڈ میں بند تالے اور بند چیزیں کھولنے میں سب سے بڑا ماہر تھا۔ رابرٹ نے رازلے سے کہا تھا کہ وہ بکس کو کھولے۔ چند منٹوں میں بکس کھل گیا۔ بکس کے اندر کچھ کاغذات تھے جن پر شاید کچھ معلومات درج تھیں۔ یہ بھی صرف اندازہ تھا، کیوں کہ ان میں وہ زبان استعمال کی گئی تھی جو اُن چاروں میں سے کوئی نہیں پڑھ سکا۔ ان کاغذات پر سائنسی علامات اور نشانات سے بنے ہوئے تھے جو کسی کے پلے نہیں پڑ سکے۔ رابرٹ نے والٹر سے پوچھا کہ پروفیسر انگریزی کے علاوہ اور کون سی زبان جانتا ہے تو والٹر نے بتایا کہ فرانسیسی یا جرمن، ان دونوں میں سے کوئی ایک زبان جانتا ہے۔

رابرٹ نے کہا کہ میں ان کاغذات کو اپنی حفاظت میں رکھوں گا۔ یہ کہہ کر کاغذات اس نے اپنی جیب میں رکھ لیے۔ انسپکٹر گیٹس اس سے پہلے مکان کی مکمل تلاشی لے چکا تھا۔ اس میں اُسے کچھ نہیں ملا تھا۔ پھر بھی رابرٹ نے چند منٹ ہرکمرے میں لگائے۔ وہ گہری نظر سے ہر چیز کا جائزہ لے رہا تھا۔ گھر کی ہر چیز کو دیکھ کر اس میں رہنے والے کے اچھے ذوق کا اندازہ ہوتا تھا۔ مکان کو بڑی سلیقہ مندی سے سجایا گیا تھا۔ ایک الماری میں مختلف موضوعات کی کتابیں تھیں۔ رابرٹ نے ان کتابوں کو ایک ایک کر کے دیکھا۔ اس کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اُن میں کچھ سیاسی کتابیں تھیں اور کچھ تاریخ کے مشہور غداروں کی زندگیوں کے بارے میں تھیں۔ والٹر نے رابرٹ کو خاص طور سے ان کتابوں کو اُلٹ پلٹ کرتے دیکھا تو کہا:

’’ نکل کو اس بات کا بڑا شوق تھا کہ وہ غداروں، باغیوں اور مخالفانہ روش پر چلنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے ان اسباب کا پتا لگائے جن کی وجہ سے وہ لوگ غدار یا باغی بنے تھے۔‘‘

’’ مگر میرا خیال ہے کہ ہم نکل کو باغی تو قرار نہیں دے رہے۔‘‘ رابرٹ نے کہا۔

’’ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ وہ بہت عمدہ انسان ہے۔‘‘ والٹر نے کہا۔

پھر رابرٹ نے گیٹس سے پوچھا کہ اس کا کیا خیال ہے۔ گیٹس نے جواب دیا:

’’ پروفیسر کی پوری زندگی ہمارے سامنے ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس کی پرسنل فائل بھی موجود ہے۔ آپ چاہیں تو اس فائل کامطالعہ کر لیں۔‘‘

’’ہاں، ٹھیک ہے۔ اسے میں بعد میں دیکھوں گا۔‘‘ رابرٹ پروفیسر کا گھر دیکھ چکا تھا۔ اس نے ہر جگہ کا بغور جائزہ لیا تھا، کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی، مگر اسے کوئی کام کی بات نہیں معلوم ہوسکی تھی، ایسی بات جس سے پروفیسر کی پراسرار گمشدگی پر کچھ روشنی پڑسکتی۔ پروفیسر کی گھریلو خادمہ سے بھی کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوسکی۔ رات کا کھانا رابرٹ اور رازلے نے گیٹس کے ساتھ ایٹمی ریسرچ اسٹیشن کے ڈائننگ ہال میں کھایا اور پھر دونوں افسر واپس لندن کے لیے روانہ ہوگئے۔ 

پہلے دن کی مہم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معمولی کامیابیوں سے رابرٹ مطمئن بھی تھا اور خوش بھی۔ کم از کم اُسے یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ پروفیسر کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ اُسے پروفیسر کی عادات کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوگئی تھی۔ راستے میں اس کا ذہن اس گتھی کو سلجھانے میں مصروف رہا کہ پروفیسر کو کون اغوا کرسکتا ہے۔ کیا وہ کسی دوسرے ملک کے جاسوس ہیں جو پروفیسر سے یورینیم حاصل کرنے کا نیا طریقہ معلوم کرنا چاہتے ہیں یا جرائم پیشہ لوگوں کا کوئی منظم گروہ ہے جو پروفیسر کے بدلے میں دولت حاصل کرنا چاہتا ہے؟ وہ سوچتا رہا اور الجھتا رہا۔ انسپکٹر رازلے بار بار رابرٹ کی طرف دیکھتا اور چاہتا تھا کہ کچھ پوچھے، مگر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ خواہ مخواہ جھاڑ نہ پڑ جائے۔ آخر اس خاموشی کو خود رابرٹ نے ہی توڑا۔ 

’’ تمہیں کچھ اندازہ ہوا کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا؟‘‘

’’ کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔ اسٹیشن کے لوگوں میں نکل بہت مقبول ہے۔ وہاں کام کرنے والے تمام نوجوان سائنس دان اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘‘

’’ کیا ان سب کو پروفیسر کی گم شدگی کے بارے میں معلوم ہوچکا ہے؟‘‘

’’ جتنے اہم لوگ ہیں ان سب کو تو معلوم ہے، مگر باقی کو۔۔۔۔۔۔کیوں؟ کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا؟‘‘ رازلے نے پوچھا۔

’’ میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک کو پروفیسر کی گم شدگی کا علم ہوجائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ ہر طرف دھوم مچ جائے گی اور پروفیسر کو اغوا کر کے لے جانے والوں کے لیے اسے ملک سے نکال کر لے جانا مشکل ہوجائے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ کل صبح تک سارے ملک کو بلکہ سارے یورپ کو اس کا پتا چل جائے اور پروفیسر کی تصویریں چاروں طرف پھیلادی جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سارے یورپ اور سارے ملک میں ہر شخص پروفیسر کو تلاش کر رہا ہوگا۔‘‘ رازلے نے رابرٹ کو بتایا کہ اُس نے پروفیسرکے دو تین ماتحتوں کے ساتھ چائے پی تھی جنہوں نے اسے بتایا کہ اگر مجرموں نے پروفیسر سے کچھ اگلوانے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ہوگی۔

رابرٹ نے کہا:

’’یہ بے تکی بات ہے۔ تم ذرا سوچو۔ اگر کسی شخص کو مسلسل جگائے رکھا جائے اور اس سے ایک ہی سوال پوچھا جائے تو وہ کب تک جواب نہ دے گا۔ میں مانتا ہوں کہ پروفیسر ایک ذہین اور بہادر نوجوان ہے۔ وہ کچھ دن تک خاموش رہ لے گا، مگر آخر کب تک؟ آخر کار ایک نہ ایک دن وہ بولنے پر مجبور ہوجائے گا۔‘‘

’’ پھر آپ کے خیال میں کیا بات صحیح ہے؟‘‘ رازلے نے پوچھا تو رابرٹ نے کہا:

’’ ایک چیز تو بہ ہرحال ہمارے حق میں ہے۔ اغوا کرنے والوں کے لیے پروفیسر کو اس ملک سے نکال لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ لیکن ان کی اس سے بھی بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر پروفیسر نے انہیں اپنے فارمولے کے بارے میں کچھ بتا بھی دیا تو اس معلومات کو چیک کرنے میں انہیں مہینوں لگ جائیں گے۔ نکل ہم سے زیادہ ان باتوں کو سمجھتا ہے۔‘‘

رازلے نے پوچھا کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ نکل غلط جواب دے کر وقت گزارتا رہے۔ 

’’ ہاں، یہی وہ امید ہے جس کے سہارے میں بھی کام کر رہا ہوں۔‘‘رابرٹ نے جواب دیا۔

کار اس وقت لندن کے مضافات میں تھی۔ دونوں آدمی اپنے اپنے خیالوں میں گم تھے۔ آخر وہ اسکاٹ لینڈ یارڈ پہنچ گئے۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے۔ زیادہ تر دفتر بند تھے۔ سب سے پہلے رابرٹ نے خفیہ پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر کو فون پر سارے دن کی دوڑ دھوپ کے بارے میں بتایا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر فرانسیسی خاتون مل جائے تو کئی رازوں پر سے پردہ اُٹھ جائے گا۔ اس نے اس خاتون کو فوراً تلاش کرنے کا حکم دیا۔ کئی سراغ رسانوں کو اُ ن کے گھروں سے اسی وقت طلب کر لیا گیا اور انہیں فرانسیسی خاتون کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے افسران کو جگادیا اور ان سے کہا گیا کہ فوراً اپنے ریکارڈز کو چیک کر کے بتائیں کہ فرانسیسی خاتون دورانت کب انگلینڈ آئی ہے۔ پیرس پولیس سے بھی رابطہ قائم کیا گیا اور دورانت کے پاسپورٹ کے بارے میں معلومات طلب کی گئی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ میں اخباری نمائندوں کی ایک پریس کانفرنس فوری طور پر بلائی گئی اور اُن کو ساری کہانی سنادی گئی۔ صبح کے اخبارات پروفیسر نکل کی پراسرار گم شدگی سے بھرے پڑے تھے۔ پروفیسر کے مختلف انداز کے فوٹو اخبارات میں چھاپے گئے تھے جن کے نیچے یہ عبارتیں درج تھیں:

گم شدہ سائنس دان

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے؟

پروفیسر کا اغوا

اسکاٹ لینڈ یارڈ کا ہر شخص اب پروفیسر نکل کو تلاش کر رہا تھا۔ صْبح کو سپرنٹنڈنٹ رابرٹ کے کمرے میں عجیب منظر نظر آیا۔ شاید اتنے سینئر افسر پہلے کبھی کسی میٹنگ میں نہیں آئے تھے جتنے اس وقت رابرٹ کی میٹنگ میں موجود تھے۔ سب سے پہلے رابرٹ نے اب تک کی حاصل شدہ ساری معلومات بتائی اور نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے کچھ باتوں کی وضاحت کی۔ اس نے بتایا کہ پروفیسرنکل کی کار ائیر پورٹ کے داخلی دروازے پر موجود تھی۔ کار کے ڈرائیور کا کہنا ہے کہ جو شخص پروفیسر سے ملا تھا وہ سادہ لباس میں پولیس کا آدمی لگ رہا تھا۔ اس آدمی نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ کار کو اس پرائیوٹ سڑک پر لے جائے جو ائیرپورٹ کی عمارت سے الگ ہے۔ اس نے ڈرائیور کو یہ بھی بتایا کہ مانچسٹر کی پرواز بیس منٹ لیٹ ہوگئی ہے اور پروفیسر کے لیے اس کی حفاظت کے پیش نظر ایک خصوصی ویٹنگ روم کا انتظام کیا گیا ہے۔ پھر رابرٹ نے چارٹ پر نشان لگاتے ہوئے کہا:

’’پروفیسر ایک دروازے میں داخل ہوگیا جس پر سرخ تیر بنا ہوا تھا۔ بس یہ آخری موقع تھا جب پروفیسر کو دیکھا گیا۔ یہ دروازہ ایسے دفتروں میں جانے کا راستہ تھا جو اس وقت بند پڑے تھے، یعنی دفتر کے طور پر استعمال نہیں ہورہے تھے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رُکا اور بولا: ’’ کوئی سوال؟‘‘

کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ رابرٹ نے آگے کہنا شروع کیا:

’’ ابھی تک ہم یہ معلوم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کہ پروفیسر کو اس جگہ سے کس طرح لے جایا گیا۔ یہ ہم اگلے دو گھنٹوں میں معلوم کر لیں گے۔ اغوا کرنے والوں کو اندازہ ہوگا کہ کتنی دیر میں پروفیسر کے اغوا ہونے کا راز کْھل جائے گا اور کس وقت سے تلاش کا کام شروع ہوجائے گا۔‘‘

رابرٹ کے خاموش ہوتے ہی اسسٹنٹ کمشنر نے پوچھا:

’’ کیا وہ ائیرپورٹ کا مصروف ترین حصہ ہے؟‘‘

’’ نہیں۔‘‘ رابرٹ نے ائیرپورٹ کی عمارت کے ایک نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’ یہ وہ دفتر ہیں جو ان کمروں کے بالکل سامنے ہیں جہاں پروفیسر کو لے جایا گیا۔ یہ بھی ان دنوں استعمال نہیں ہورہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کی چھت کی مرمت کا کام سارا دن ہوتا رہا۔ یہاں کئی آدمی کام کر رہے تھے۔ ان سب سے پوچھ گچھ کر لی گئی، کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوسکی۔‘‘

’’ تو پھر تمہارے خیال میں کیا ہوا ہوگا؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے پوچھا۔

’’ جناب! صرف ایک ہی طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے لوگوں کو متوجہ کیے بغیر پروفیسر کو باہر لے جایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پروفیسر کو خود چل کر باہر آنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ ائیرپورٹ بہت بڑا ہے اور اکثر اہم مسافروں کو جہاز پر پہنچانے کے لیے بس یا کار استعمال کی جاتی ہے۔‘‘

’’ اور تمہارا خیال یہ ہے کہ پروفیسر کو زبردستی ایک کار میں بٹھا کر جہاز تک لے جایا گیا اور پھر وہ اسے جہاز کی طرف لے جانے کے بجائے کہیں اور لے گئے۔ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی پروفیسر کو نہ دیکھے اور اس کی کار جہاز کی طرف جانے کے بجائے کسی اور طرف چلی جائے؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا۔

رابرٹ نے جواب دیا، بالکل ممکن ہے جناب!’’ پھر اس نے ائیرپورٹ کے ایک اور نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔‘‘ اس جگہ جہاں یہ ائیرپورٹ ابھی زیر تعمیر ہے، کچھ خالی میدان اور تنگ راستے ہیں۔ ان راستوں سے کسی کی نظر میں آئے بغیر کوئی بھی کار لے جائی جاسکتی ہے۔‘‘ سپرنٹنڈنٹ نے اپنی بات دوبارہ شروع کرنے سے پہلے تھوڑا انتظار کیا کہ شاید کوئی شخص کوئی سوال کرے، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھا۔ تب رابرٹ مڑا اور اس نے ایک بہت بڑے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’ازراہِ کرم اس نقشے کو دیکھئے۔ یہ انگلینڈ کا نقشہ ہے۔ اس میں ملک کے اس جنوبی حصے میں پروفیسر کی تلاش کی جارہی ہے۔ ہر پولیس مین ایسے آدمی کو چیک کر رہا ہے جسے اس کی مرضی کے خلاف زبردستی لے جایا جارہا ہو۔ اس کے علاوہ صبح کے اخبارات پڑھنے کے بعدہر آدمی ایسے شخص کی تلاش میں ہوگا۔ تمام ریلوے اسٹیشنوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور گودیوں کو خبردار کر دیا گیا ہے۔ ریڈیو کاریں چوبیس گھنٹے گشت کر رہی ہیں۔‘‘

’’ اور کوسٹ گارڈ؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے پوچھا۔

’’ سب کو اطلاع دی جاچکی ہے۔ بری فوج، بحریہ اور فضائیہ سبھی پروفیسر کی تلاش میں ہیں۔ تمام کام بڑے منظم طریقے سے ہورہا ہے۔‘‘

’’ اور کچھ جناب؟‘‘ انسپکٹر لین نے جس کی ڈیوٹی لندن ائیرپورٹ پر لگائی گئی تھی، سوال کیا۔

’’ ساحل کی مکمل نگرانی کی جارہی ہے۔ دو ریڈار اسٹیشن اس کام میں مصروف ہیں، تمام ہوائی جہازوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مرکزی کنٹرول روم سے پرواز کے سلسلے میں احکامات حاصل کریں۔ بیرون ملک سے آنے والی پروازوں کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ پہلے برطانوی سگنل اسٹیشن کو اطلاع دیں اس کے بعد ریڈار کنٹرولر کو آگاہ کردیا جاتا ہے کہ کون کون سے ہوائی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور انہیں کس وقت گزرنا ہے۔ جب بھی اسکرین پر کوئی جہاز نمودار ہوتا ہے ریڈار کنٹرولر اس سے رابطہ قائم کرتا ہے اور جب ہوائی جہاز کی شناخت ہوجاتی ہے تو کنٹرولر یہ اطلاع مرکزی کنٹرول روم کو دے دیتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اجنبی جہاز فضا میں نظر آئے گا خصوصی لڑاکا ہوائی جہاز جو تیار کھڑے ہیں فضاؤں میں اجنبی جہاز کو جالیں گے۔ یہ ہے سارا انتظام، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمیں دیر نہ ہوگئی ہو۔‘‘

’’ مگر تم اس طرح کیوں سوچتے ہو؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے پوچھا۔

’’ جناب! وہ فرانسیسی خاتون جس کے ساتھ پروفیسر کو رات کا کھانا کھانا تھا۔‘‘

’’ہاں، ہاں۔‘‘

’’آدھی رات سے پہلے میرے آدمیوں نے اُس کا پتہ چلا لیا ہے۔ وہ ریجنسی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہے۔ کل صبح آٹھ بجے وہ اپنے کمرے سے گئی تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی ہے۔ اس کا سارا سامان اور کپڑے وغیرہ ابھی تک ہوٹل کے کمرے میں موجود ہیں۔ اس کے کپڑے بڑیق یمتی اور عمدہ ہیں۔‘‘

’’ وہ ہوٹل میں کس حیثیت سے ٹھہری ہے؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر نے پوچھا۔’’ اس نے ہوٹل میں کیا لکھوایا ہے کہ کہاں سے آئی ہے اور اس کا پاسپورٹ وغیرہ؟‘‘

رابرٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کے غصیلے لہجے میں پوچھے گئے سوالوں کا انتہائی نرمی سے جواب دیا:

’’وہ اس مہینے کی پانچ تاریخ کو تیسرے پہر پیرس سے یہاں پہنچی تھی۔ اس کا نام اس دن کی ائیر فرانس کی پرواز میں مسافروں کی فہرست میں موجود ہے۔ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے مگر۔۔۔۔۔‘‘

’’ میرا خیال ہے کہ آپ نے بالکل صحیح فیصلہ فرمادیا ہے کہ وہ قانونی طریقے سے یہاں آئی ہے اور اس کا پاسپورٹ؟‘‘ اسسٹنٹ کمشنر کو ایک دم غصہ آگیا۔

’’ کل رات پیرس سے فون پر رابطہ قائم کیا گیا تھا اور اب مجھے جلد وہاں سے رپورٹ مل جائے گی۔‘‘

’’ اس کے سامان میں کوئی ایسی چیز ملی ہے جس سے اندازہ ہوسکے کہ وہ کسی پراسرار سرگرمی میں شامل ہے؟‘‘

’’ جی ہاں جناب! ایک چیز۔ یہ ایک خط کا پھٹا ہوا حصہ ہے جس سے خط لکھنے والے کے بارے میں صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ پیرس کا ہے۔ خط پر چند لفظ باقی ہیں جو انگریزی میں لکھے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ کوئی دھمکی آمیز عبارت ہے۔‘‘

’’ انگلیوں کے نشانات موجود ہیں؟‘‘

’’ جی ہاں، مگر ان کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔‘‘

اسی وقت ایک باوردی محافظ کمرے میں داخل ہوا اور اُس نے رابرٹ کو ایک ٹیلے گرام دیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ رابرٹ نے کہا:

’’یہ پیرس سے آیا ہے۔ مس دورانت کے پاسپورٹ پر جو نمبر ہے وہ ایک فرانسیسی تاجر ڈوپونٹ کے پاسپورٹ کا ہے۔ مسٹر ڈوپونٹ نے گزشتہ جنوری میں اپنے پاسپورٹ کی گم شدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔‘‘

اسسٹنٹ کمشنر نے یہ تفصیل سن کر کہا:

’’ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مشتبہ عورت ہے۔ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔‘‘

میٹنگ ختم ہونے کے بعد رابرٹ نے سوچا کہ ریجنسی ہوٹل میں جاکر مس دورانت کا کمرا چیک کرے۔ ریجنسی ہوٹل میں عام طور پر غیر ملکی مسافر ٹھہرتے ہیں۔ انگریز اس مہنگے ہوٹل میں ٹھہرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ یورپ کا سب سے جدید، بڑا اور قیمتی سامان سے آراستہ ہوٹل ہے۔

رابرٹ اور رازلے ہوٹل پہنچے تو رابرٹ نے استقبالیہ کلرک سے اپنا تعارف کروایا۔ چند لمحوں بعد اسسٹنٹ منیجر ان کے سامنے تھا۔ وہ فوراً ہی ان کو اپنے ساتھ اپنے نجی دفتر میں لے گیا۔ اسسٹنٹ منیجر کو دیکھ کر رابرٹ حیران رہ گیا۔ اُس نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا خوش لباس انسان نہیں دیکھا تھا۔ اس کی چیک سفید قمیص اور نفیس سوٹ ایسا لگتا تھا جیسے ابھی سل کر درزی کے ہاں سے آیا ہے۔ اس کا دفتر بھی بڑے خوب صورت انداز سے سجایا گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی بہت مہنگے اور اعلا ڈیزائنر نے اس کمرے کو آراستہ کیا ہے۔

اسسٹنٹ منیجر نے بڑی خوش اخلاقی سے کہا:

’’ سپرنٹنڈنٹ صاحب! پولیس کی مدد کر کے ہمیں خوشی ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی آمد سے ایسا کوئی مسئلہ نہیں کھڑا ہوگا جس سے ہوٹل کی ساکھ خراب ہو۔‘‘

رابرٹ جانتا تھا کہ اس شان دار اور مہنگے ہوٹل کی بڑی اچھی ساکھ ہے۔ اور یہاں یاتو فلمی اداکار ٹھہرتے ہیں یا پھر بہت اہم ترین شخصیات کو یہ شرف حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس ہوٹل کے پر آسائش کمروں میں ٹھہر سکیں۔ ظاہر ہے ایسے بڑے بڑے لوگ اگر پولیس کو مطلوب ہونے لگیں تو اس سے ہوٹل کی ساکھ خراب ہوسکتی تھی۔ اسی بات سے اسسٹنٹ منیجر خوف زدہ تھا۔ رابرٹ نے کچھ سوچ کر کہا:

’’ میں پروفیسر کی پراسرار گم شدگی کے سلسلے میں لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے بھی یقیناًاس واقعے کی خبر پڑھی ہوگی۔ مجھے آپ کے ہوٹل میں ٹھہرنے والی ایک فرانسیسی خاتون، مس دورانت کے بارے میں کچھ معلوم کرنا ہے، میں اس خاتون کے کمرے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ضرور ضرور سپرنٹنڈنٹ! اس سے پہلے آپ کے دو آدمی یہاں آئے تھے۔ انہوں نے ہوٹل کے کچھ ملازمین سے سوالات بھی کیے تھے اور کمرے میں موجود خاتون کے سامان کی تلاشی بھی لی تھی۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے لیکن اب میں خود اس کمرے کو دیکھوں گا۔ میں کمرے میں صفائی کرنے والی ملازمہ سے بھی بات کروں گا اور اس ملازم سے بھی ملوں گا جو فرش صاف کرتا ہے۔ مگر پہلے میں مس دورانت کے کمرے کو دیکھوں گا۔‘‘

اسسٹنٹ منیجر ان دونوں کو لے کر فرانسیسی خاتون کے کمرے میں لے گیا۔ یہ بڑا خوب صورت اور شان دار کمرا تھا۔ اس میں آسائش کا کافی سامان تھا۔ کمرے کو دیکھنے کے بعد کوئی نئی بات معلوم نہ ہوسکی۔ ہوٹل کے ملازمین نے اب بھی وہی کہا جو وہ پہلے کہہ چکے تھے۔ اُن کے بیانات کے مطابق مس دورانت کی عمر 28 برس کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک مال دار عورت معلوم ہوتی ہے اور کھلے ہاتھوں خرچ کرتی ہے۔ وہ ٹھاٹ باٹ سے رہنے کی عادی نظر آتی ہے۔ سب کا کہنا تھا کہ وہ عورت بہت ہی حسین اور خوب صورت ہے۔ استقبالیہ کلرک کا تو یہ کہنا تھا کہ اس سے پہلے اتنی حسین عورت کبھی اس ہوٹل میں نہیں ٹھہری۔ اس کا سامان اور لباس وغیرہ بہت قیمتی اور عمدہ تھا۔ رابرٹ نے خاص طور سے یہ بات نوٹ کی کہ اس کے کسی سوٹ پر درزی کا یا دکان کا لیبل نہیں تھا۔ اس کے لباس سے اس کی کوئی شناخت نہ ہوسکی۔

منیجر کے کمرے میں پہنچ کر رابرٹ نے خاتون کا سارا سامان اسکاٹ لینڈ یارڈ لے جانے کے احکامات دیے۔ اس کے بعد اس نے اسسٹنٹ کمشنر کو فون کر کے ساری بات بتائی اور کہا کہ وہ مس دورانت کے بارے میں تفتیش کرنے اور پھٹے ہوئے خط کا راز معلوم کرنے کے لیے فوراً پیرس جارہا ہے۔

پیکاڈلی سے لندن ائیرپورٹ تک کاسفر دن میں کافی وقت لیتا ہے، مگر اس سہ پہر کو پولیس کار نے جس کی چھت پر ایمرجنسی لائٹ تیزی سے جل بجھ رہی تھی صرف 27 منٹ میں یہ راستہ طے کیا۔ برٹش ائیرویز کے ایک طیارے کی روانگی میں تاخیر کر دی گئی اور رن وے کے کونے پر رُکا ہوا سراغ رساں رابرٹ کا منتظر تھا کہ جیسے ہی وہ اس پر سوار ہو وہ پرواز کر جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ائیرپورٹ کے اعلا عہدیداروں کو فون کر دیا تھا۔ چنانچہ رابرٹ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اس کی کار سیدھی رن وے کے پاس جا رُکی۔ جہاز کے پائلٹ کو ساری صورتحال بتادی گئی تھی۔ جیسے ہی جہاز فضا میں پہنچ کر سیدھا ہوا پائلٹ نے رابرٹ کو کاک پٹ میں آنے کی دعوت دی۔ رابرٹ پائلٹ کے پاس پہنچا۔ دونوں نے گرم جوشی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے۔ رابرٹ کو کچھ ائیر فون دے دیے گئے جن کی مدد سے وہ طیارے پر آنے والے ریڈیو پیغام سُن سکتا تھا۔ پائلٹ نے رابرٹ کو بتایا کہ جیسے ہی ان کا جہاز ریڈار اسٹیشن کے کنٹرول ایریا میں آئے گا، ریڈار اسٹیشن ان سے رابطہ کرے گا اور اُن سے کہے گا کہ وہ اپنی شناخت کرائے۔ ابھی پائلٹ نے اپنی بات ختم کی ہی تھی کہ ائیرفون میں رابرٹ نے ایک آواز سُنی:

’’ ریڈار کنٹرول کالنگ۔ جی۔ اے۔ آئی۔ ای۔ ایچ۔۔۔۔۔۔‘‘ جہاز کے ریڈیو آپریٹر نے جواب میں یہی الفاظ دہرائے۔ آواز نے حکم دیا:

’’ پندرہ سو فٹ نیچے جاؤ!‘‘ یہ پیغام کئی بار دہرایا گیا۔ آخر کار حکم پر عمل کیا گیا اس کے بعد کئی ہدایات اور دی گئیں اور پھر آواز آئی۔ 

’’ شکریہ! جی۔ اے۔ آئی۔ ای۔ ایچ۔ ٹھیک ہے۔ اب آپ اپنی پرواز جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘

پائلٹ نے جہاز کو اس کے راستے پر ڈال دیا اور پھر رابرٹ سے کہا:

’’ دیکھا آپ نے آفیسر! ریڈار کی اسکرین پر ہمارا جہاز صرف ایک نقطے سے پہچانا جارہا تھا۔ ہم جیسے جیسے اس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے یہ نقطہ حرکت کر رہا تھا۔‘‘

رابرٹ نے پائلٹ سے پوچھا:

’’ مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اغوا کرنے والے کسی پرائیوٹ جہاز میں سفر کر رہے ہوں اور وہ اس سمندر سے فرانس کی طرف جائیں تو کیا ہوگا۔‘‘

’’ ریڈار کنٹرول سمجھ جائے گا کہ یہ وہ جہاز نہیں ہے جسے آنا تھا اور اسی لیے یہ اپنے راستے سے ہٹ کر پرواز کر رہا ہے۔ فوراً ہی لڑاکا جہاز اس کے پیچھے بھیج دیے جائیں گے۔ دوسرے ریڈار آپریٹروں کو بھی فوراً ہدایت دے دی جائے گی کہ وہ اس پر نظر رکھیں اور اس کا صحیح محل وقوع معلوم کریں۔‘‘

’’ آپ کا خیال ہے پائلٹ! کوئی جہاز اس جال سے بچ کر نکل سکتا ہے۔‘‘ رابرٹ نے سوال کیا۔

’’ نہیں، میرے خیال میں کسی جہاز کا بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ پائلٹ نے جواب دیا۔

اس وقت تک جہاز آدھا راستہ طے کرچکا تھا۔ رابرٹ نے پائلٹ کے تعاون پر اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔

جب رابرٹ پیرس کے ائیرپورٹ پر اُترا تو معلوم ہوا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے یہاں فون کر کے اس کے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ اسے فوراً ایک پولیس کار میں شہر کے اندرونی حصے میں لے جایا گیا۔ پولیس ہیڈ کوارٹر میں اس کی ملاقات فرانسیسی پولیس کی اسپیشل برانچ کے انسپکٹر کلیئر سے ہوئی۔ انسپکٹر کلیئر رابرٹ کا پرانا ساتھی تھا اور دونوں افسر کئی کیسوں پر اکٹھے کام کر چکے تھے۔ فرانسیسی افسر نے خاموشی سے رابرٹ کی زبانی کیس کی ساری تفصیل سُنی۔ اس نے رابرٹ کی اس بات سے اتفاق کیا کہ جب انگلینڈ میں کوئی سراغ نہ مل سکا تو پیرس ہی وہ جگہ ہوسکتی ہے جہاں انہیں کچھ کامیابی حاصل ہو۔ کم از کم انہیں فرانسیسی خاتون کے سامان میں سے ملنے والے پھٹے ہوئے خط پر پتا تو مل گیا تھا۔ یہاں سے وہ اپنی تفتیش شروع کر سکتے تھے۔ چنانچہ دونوں نے فوراً ہی اس پتے پر جانے کا فیصلہ کیا۔

جانے سے پہلے رابرٹ نے دو آدمیوں سے کہا کہ وہ مس دورانت کے سوٹ کیس لے جائیں اور یہ معلوم کریں کہ کسی ہوٹل کے ملازمین ان سوٹ کیسوں کو پہچانتے ہیں۔ اس کے بعد رابرٹ اور کلیئر اُس فلیٹ کی تلاش میں روانہ ہوگئے جس کا پتا پھٹے ہوئے خط پر لکھا ہوا تھا۔ فرانسیسی سراغ رساں نے داخلی دروازے سے پہلے کار رُکوالی۔ پھر انہوں نے اس عمارت کی مالکہ کو تلاش کیا۔ وہ شکل و صورت سے بد مزاج لگ رہی تھی۔ 

جیسے ہی مسٹر کلیئر نے اُس سے اپنا تعارف کروایا وہ بھڑک اُٹھی۔ مگر جب اُسے یہ پتا چلا کہ سپرنٹنڈنٹ رابرٹ کا تعلق اسکاٹ لینڈ یارڈ سے ہے تو اس کا چہرہ چمک اُٹھا۔ اُسے پھٹا ہوا خط دکھایا گیا اور اسے تحریر پہچاننے کے لیے کہا گیا تو اُس نے کہا:

’’ ہاں، میں اس تحریر کو پہچانتی ہوں۔ یہ مسٹر نیلسن کی تحریر ہے۔‘‘

’’ آپ نے آخری بار مسٹر نیلسن کو کب دیکھا ہے؟‘‘ انسپکٹر نے پوچھا۔عورت نے جواب دیا کہ تین چار دن سے وہ مسٹر نیلسن سے نہیں مل سکی ہے۔ وہ اپنے فلیٹ پر ہے ہی نہیں۔ پھر وہی انہیں لفٹ تک لے گئی اور اُس نے دو کمروں والے ایک فلیٹ کا دروازہ کھولا اور پیچھے ہٹ کر سراغ رساں کو اندر چلنے کو کہا۔

کمرے کی بڑی بری حالت تھی، کسی نے بہت جلد بازی سے اس فلیٹ کی تلاشی لی تھی۔ درازیں کھلی پڑی تھیں اور اُن کا سامان باہر فرش پر بکھرا ہوا تھا۔ ابھی دونوں سراغ رساں کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھے کہ انہوں نے غسل خانے کے دروازے پر کسی چیز کے کْھرچنے کی آواز سنی۔ دونوں چونک پڑے۔ رابرٹ نے غسل خانے کا دروازہ کھولا۔ اندر ایک آدمی فرش پر بندھا پڑا تھا۔ اُس کے مْنھ میں رومال ٹھنسا ہوا تھا۔ وہ زندہ تھا مگر مردہ سے بدتر حالت میں۔ عمارت کی مالکہ اس آدمی کو دیکھتے ہی چیخ اُٹھی:

’’اوہ مسٹر نیلسن! کیا یہ زندہ ہیں؟‘‘

رابرٹ نے جلدی جلدی مسٹر نیلسن کی رسیاں کھولیں۔’’ نہ جانے کن لوگوں نے اس غریب کی یہ حالت کی ہے۔ اسے اتنی بے دردی سے باندھا گیا ہے کہ اگر ہم وقت پر نہ پہنچ جاتے تو یہ مر جاتا۔ تھوڑا سا پانی لائیے۔‘‘ رابرٹ نے کہا۔ 

انسپکٹر کلیئر، نیلسن کو اس حالت میں دیکھ کر زیادہ پریشان نظر نہیں آرہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد انسپکٹر نے نیلسن سے کہا،’’ میں تم سے کچھ سوال کروں گا۔ تمہارے کاغذات کہاں ہیں؟‘‘

نیلسن نے بہت مدہم آواز میں جواب دیا،’’ میری جیب میں ہیں۔‘‘ وہ ابھی تک اپنے گلے کو سہلا رہا تھا۔ اس کی آواز بڑی مشکل سے نکل رہی تھی۔ انسپکٹر کلیئر نے اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوا نکالا اوراس میں موجود کاغذات کو چیک کیا۔ اس کے چہرے پر ناگواری آگئی اور وہ غصے سے بولا:

’’ نہیں میرے دوست، یہ کاغذات نامکمل ہیں۔ ان سے تمہارے بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا۔ مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو اور تمھیں کس نے اس حال کو پہنچایا ہے؟‘‘

نیلسن نے بے بسی سے اپنا سر ہلایا، مگر زبان سے کوئی جواب نہیں دیا۔ انسپکٹر کو نیلسن کی خاموشی پر اور زیادہ غصہ آگیا:

’’ اچھا، تو تم ایسے نہیں بولو گے۔ ٹھیک ہے مسٹر نیلسن میں تمھیں نامکمل کاغذات ہونے کی وجہ سے گرفتار کر رہا ہوں اور یہ کاغذات بھی اصل نہیں ہیں بلکہ ان کی نقل ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ قطعی طور پر غیر قانونی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پروفیسر نکل کے اغوا سے تمھارا بھی کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے۔‘‘

’’ نہیں نہیں، میرا اس اغوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنو میری بات پر یقین کرو انسپکٹر۔ میں تمھیں سب کچھ بتادوں گا، وہ سب کچھ جو میں جانتا ہوں۔‘‘

’’ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے دوست۔‘‘ کلیئر نے کہا،’’ کیا تم اس پھٹے ہوئے کاغذ کو پہنچانتے ہو؟‘‘ اس نے پھٹا ہوا کاغذ نیلسن کو دکھایا۔ نیلسن نے بتایا کہ یہ مس دورانت کی تحریر ہے۔ اُس نے وہ پتا بھی بتایا جہاں نیلسن نے وہ خط بھیجا تھا اس کے بعد پولیس والے کو اس پتے پر معلومات کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ 

اس ساری بات چیت کے دوران رابرٹ بالکل خاموش رہا، مگر اب اس نے یہ تجویز پیش کی کہ نیلسن کو فوری طور پر تھانے لے جایا جائے۔ کلیئر تیار ہوگیا۔ جب نیلسن کی حالت کچھ سنبھلی تو اسے نیچے کھڑی پولیس کی کار میں پہنچا دیا گیا۔ ایک کپ کافی کا اور سگریٹ پینے کے بعد نیلسن کی حالت بہتر ہوگئی اور اس نے انسپکٹر کلیئر کے تمام سوالوں کے جوابات اعتماد کے ساتھ دیے۔

اس نے بتایا کہ وہ ایک انگریز صحافی ہے اور پیرس میں کام کرتا ہے۔ وہ مس دورانت کو تقریباً ایک سال سے جانتا ہے۔ نیلسن مس دورانت سے سب سے پہلے ایک پارٹی میں ملا تھا۔

کلیئر نے پوچھا،’’مس دورانت کہاں رہتی ہے؟‘‘

’’وہ عام طور سے ہوٹلوں میں ٹھہرتی ہے۔‘‘

’’ تم نے اس کو یہ خط کیوں لکھا تھا؟‘‘ کلیئر کا اگلا سوال تھا۔

’’ میں چاہتا تھا کہ وہ ہر ایرے غیرے سے ملتی نہ پھرے۔‘‘

’’ کیوں؟‘‘

’’ کیوں کہ وہ جرائم پیشہ ہیں۔‘‘

’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ جرائم پیشہ ہیں؟‘‘

’’ایک دن میں نے اس کے کمرے میں ایک خط دیکھا تھا اور اتفاق سے اس کو پڑھ بھی لیا تھا۔ میں نے خط کیوں پڑھا؟ اس لیے کہ مجھے شک تھا کہ وہ کسی مرد کا ہے اور یہ بات مجھے پسند نہیں تھی۔‘‘

’’کیا تم دورانت کو پسند کرتے ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’اس خط میں کیا لکھا تھا؟‘‘

’’اس خط میں لکھا تھا کہ اُسے ایک جعلی پاسپورٹ بھیجا جارہا ہے۔ پاسپورٹ پر دورانت کا نام لکھا ہوا تھا جب کہ اس کا اصل نام جوائے ولسن ہے۔ میں نے اس کی بڑی خوشامد کی کہ وہ اس چکر میں نہ پڑے، مگر وہ نہ مانی۔ میں نے دوبارہ ضد کی تو وہ طیش میں آگئی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے کچھ نہیں بتائے گی۔اْس نے آئندہ مجھ سے ملنے سے انکار بھی کردیا۔‘‘

’’ کیا وہ انگریز ہے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

نیلسن نے یہ بھی بتایا کہ اس کے رویے سے اسے اس قدر دُکھ ہواکہ وہ پریشان ہوگیا۔ وہ خوف زدہ تھا کہ کہیں اس کے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آجائے۔ چنانچہ نیلسن نے اس کو یہ خط لکھا کہ اگر وہ باز نہ آئی تو وہ پولیس کو اطلاع دے دے گا۔

’’اس کے بعد کیا ہوا؟ اس نے کوئی جواب دیا؟‘‘

نیلسن نے دکھ کے ساتھ سر ہلاتے ہوئے کہا،’’ نہیں، اس کے بعد میں نے اس کو نہیں دیکھا۔ آخری بار تین ہفتے پہلے اس کے ہوٹل میں میری اس سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔‘‘

انسپکٹر کلیئر نے نیلسن سے پوچھا کہ اس پر حملہ کن لوگوں نے کیاتھا، تو نیلسن نے بتایا:

’’تین آدمی زبردستی میرے فلیٹ میں گھس آئے۔ انہوں نے مجھے خوب مارا اور دھمکی دی کہ اگر میں نے جوائے ولسن کے ذاتی معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے۔‘‘

ابھی انسپکٹر اگلا سوال پوچھنے ہی والا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پھر ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ کلیئر نے اس سے پوچھا،’’ ہاں، ڈوبوئیس! کیا خبر لائے ہو؟‘‘ ڈوبوئیس کو انسپکٹر کلیئر نے اس پتے پر بھیجا تھا جو نیلسن نے اسے دیا تھا۔ ڈوبوئیس نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس سے ایک ایسا ویٹر ٹکرا گیا جو مس دورانت کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ ڈوبوئیس نے کہا۔

’’یہ ویٹر پہلے لندن کے ایک ریستوران میں کام کرتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ چھ سات سال پہلے غیر ملکی کرنسی کی فروخت کا ناجائز کاروبار خوب زور پر تھا۔ جو آدمی یہ کاروبار کرتا تھا۔ مس دورانت کی اس سے دوستی تھی۔ وہ اکثر اس ویٹر کے ریستوران میں اُس کے ساتھ آتی تھی۔ لیکن پھر وہ آدمی گرفتار ہوگیا۔ وہ غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے والے گروہ کا سر غنہ تھا۔ اخباروں میں اس کا بڑا چرچاہوا۔‘‘ رابرٹ کے لیے یہ بڑی کام کی خبر تھی۔ وہ خوشی سے اچھل پڑا۔ وہ بولا:

’’تو پھر ہمیں اس شخص کا رکارڈ ضرور مل جائے گا۔ اس میں اس کی دوست مس دورانت کا ذکر بھی یقیناہوگا۔‘‘

’’ہاں میرے دوست۔‘‘ کلیئر نے جواب دیا،’’ تم بالکل ٹھیک سوچ رہے ہو۔‘‘

رابرٹ پیرس سے واپس لندن آگیا تھا۔ اس وقت وہ اپنے دفتر میں تھا۔ اس کی زندگی کا سب سے دل چسپ اور اہم کیس تھا۔ لندن واپس آتے ہی اس کے عملے کے آدمی غیر ملکی کرنسی کے ناجائز کاروبار میں پکڑے جانے والے اس آدمی کارکارڈ تلاش کرنے میں لگ گئے تھے جس کی مس دورانت سے دوستی تھی۔ ریکارڈ سے پتا چلا کہ اس شخص کا نام ولسن تھا۔ وہ کینیڈا کا رہنے والا تھا۔ غیر ملکی کرنسی بھیجنے کے جرم میں اسے پانچ سال کی سزا ہوئی تھی اور قید کی معیاد ختم ہونے پر اسے انگلینڈ سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ پولیس کا خیال تھا کہ گروہ کی سرغنہ کی گرفتاری کے بعد اب یہ دھندا ختم ہوگیا ہوگا۔ مس دورانت کا اصل نام جوائے ولسن تھا۔ وہ ولسن کی بیوی تھی۔ ولسن کو اس سال کے شروع میں رہائی کے بعد فوراً ہی کینیڈا روانہ کردیا گیا تھا اور اب غالباً وہ کسی جعلی پاسپورٹ پر دوبارہ انگلینڈ میں داخل ہوچکا تھا، رابرٹ کا خیال بھی یہی تھا۔

رابرٹ یہ ساری رپورٹ پڑھنے میں مصروف تھا کہ انسپکٹر راز لے اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کو رابرٹ نے کچھ معلومات حاصل کرنے کو بھیجا تھا۔ اس وقت راز لے کے چہرے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اسے کامیابی ہوئی ہے۔ اس نے رابرٹ سے کہا:

’’جناب! میں بی ڈویڑن کے انسپکٹر مارشل سے مل کر آیا ہوں، جو اسمگلنگ کے کیس پر کام کررہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مجرم سالس بری میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ مگر کوشش کے باوجود وہ مجرموں کو پکڑنے یا ان کا پتا لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ مارشل کا یہ بھی کہنا کہ وہ یہ معلوم کرنے میں ناکام رہا ہے کہ مجرم اسمگلنگ کس طرح کررہے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ کوئی ہوائی جہاز استعمال کرتے ہیں جسے انہوں نے چھپا رکھا ہے۔‘‘

چند لمحوں تک رابرٹ خاموشی سے راز لے کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا:

’’ہاں اس جگہ کوئی چھوٹا سا جہاز پوشیدہ رکھنا مشکل کام تو نہیں ہے، مگر مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ اس گروہ نے پروفیسر نکل کو کیوں اغوا کیا ہے۔‘‘

پھر رابرٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کو فون کرکے ساری صورت حال بتائی اور اگلے اقدامات کے بارے میں اپنے افسر کو بتایا۔ اس کو ہر مناسب قدم اٹھانے کی اجازت مل گئی۔

صرف ایک گھنٹے بعد سالس بری کے پورے علاقے میں سیکڑوں پولیس والے گھر گھر پروفیسر نکل کو تلاش کررہے تھے۔ موٹر سائیکلوں پر سوار پولیس کے جوان سڑکوں پر ہر گاڑی کو چیک کررہے تھے اور لوگوں سے پروفیسر کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ بڑی گاڑیوں کی تو خوب اچھی طرح تلاشی لی جارہی تھی۔ پولیس نے فضائی تلاش کا کام بھی شروع کردیا تھا، جنوبی انگلینڈ میں تقریباً تمام فضائی ٹریفک کو روک دیا گیا تھا۔ فوجی ہوائی جہازوں کو بھی اس علاقے میں آنے سے منع کردیا گیا تھا۔ صرف پروفیسر کو تلاش کرنے والے چھ ہیلی کاپٹر فضا میں نظر آرہے تھے۔ جو بہت نیچی پرواز کرکے پروفیسرکی تلاش میں سرگرداں تھے۔

رابرٹ اس ساری کارروائی سے بہت مطمئن تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر پروفیسر ابھی تک ملک میں موجود ہے تو اس کے اغوا کرنے والوں کیلئے اسے اب وہاں سے لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگیا ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اتنی پولیس فورس کے ساتھ تلاش کا کام تین چار دن سے زیادہ جاری رکھنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ یہ بات اسے بار بار پریشان کررہی تھی، مگر پھر بھی اسے یقین تھا کہ اتنی زبردست تلاش سے پروفیسر کو اغوا کرنے والے گھبراجائیں گے اور اپنی پناہ سے باہر آجائیں گے۔ قریبی یورپی ملکوں کی پولیس سے بھی مدد طلب کرلی گئی تھی۔ وہ بھی چوکس تھے کہ کوئی ہوائی جہاز بغیر اجازت کے ان کی سرزمین پر اترنے نہ پائے۔

دوپہر کو رابرٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا ہیڈ کوارٹر سالس بری منتقل کردے گا۔ وہاں رہ کر وہ کام کی نگرانی بہتر طریقے سے کرسکتا تھا۔ چنانچہ وہ فوراً سالس بری روانہ ہوگیا۔ سفر کے دوران کار میں بیٹھا رابرٹ اس کیس کی گتھی کو سلجھانے میں مصروف تھا۔ پولیس کار تیز رفتاری کے ساتھ سالس بری کی طرف اڑی چلی جارہی تھی۔ یکایک وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آگیا۔ کار ایک جھٹکے کیساتھ رک گئی تھی۔ ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا۔ پولیس کار کے ڈرائیور کو ہدایت دی گئی تھی کہ جتنا ممکن ہو کار تیزی سے چلائے، مگر اس ویران جگہ پر کار اس لئے رکی تھی کیوں کہ آگے رستہ بند تھا۔ اسی وقت ایک باوردی پولیس والا کار کے قریب آیا۔ وہ بہت جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی نگاہ رابرٹ پر پڑی وہ ایک دم اٹین شن ہوگیا۔ پھر اس نے رابرٹ کو بتایا:

’’جناب! معاف کیجیے گا ہم ہر کار، لاری، بس اور منی بس کو روک کر اس میں سوار ڈرائیور اور مسافروں کی پوری شناخت کرکے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ ابھی تک کوئی مشکوک آدمی نظر نہیں آیا ہے۔‘‘ اس نے رابرٹ کو یہ بھی بتایا کہ سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنے سے ایک مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، مگر ابھی تک اس پر کسی نے احتجاج نہیں کیا ہے، بل کہ ہر ایک پروفیسر نکل کے لیے فکر مند دکھائی دیتا ہے اور اس کی خاطر ہر زحمت اٹھانے کو تیار ہے۔ ساری بات سن کر رابرٹ نے ڈرائیور کو اشارہ کیا اور پولیس کار آگے روانہ ہوگئی۔

سالس بری کا پولیس اسٹیشن اس وقت جنگ کے زمانے کا فوجی ہیڈ کواٹر لگ رہا تھا۔ ایک بڑے ڈرائنگ روم کو میپ روم بنادیا گیا تھا جہاں ہر طرف نقشے ہی نقشے لٹکے ہوئے تھے۔ باوردی پولیس افسر نقشوں کی مدد سے تلاش کی مہم کے بارے میں اطلاعات حاصل کررہے تھے۔ تلاشی کے کام کے لیے پورے علاقے میں پچاس سرچ سینٹر قائم کیے گئے تھے۔ جو مرکزی ہیڈکواٹر کو ریڈیو کے ذریعے سے مسلسل پیغامات بھیج رہے تھے۔ کار پارکنگ میں ایک بڑی گاڑی کھڑی ہوئی تھی جس میں ریڈیو کے آلات نصب ہوئے تھے۔ اس گاڑی سے پولیس والوں کو ہدایت دی جارہی تھی۔ 

وہیں ایک اسکول تھا جو اس وقت ائیر فورس سینٹر بن گیا تھا۔ اسکول کی چھت پر دو بڑے ریڈار سیٹ نصب کردیے گئے تھے جو مسلسل فضائی تلاش میں مصروف تھے۔ سڑک کو عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ اس وقت سڑک پر مختلف رنگوں کے ہیلمٹ پہنے ہوئے موٹر سائیکل سوار گشت کررہے تھے اور لمحے لمحے کی خبر لارہے تھے۔ پولیس کے جوان گہرے نیلے رنگ کے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے۔

رابرٹ کو کرنل لوئس کے دفتر میں پہنچا دیا گیا جو کاؤنٹی کا چیف کانسٹبل تھا اور اس وقت آفیسر انچارج تھا۔ یہ بہادر کرنل جو جنگ کے زمانے میں انٹیلی جینس افسر تھا اس پوری کارروائی سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ وہ اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا تھا۔ وہاں نہ کوئی ٹیلی فون رکھا تھا اور نہ کوئی نقشہ دیوار پر لٹکا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کرنل نے اپنا جال بچھادیا ہے اور اب مچھلی کے پھنسنے کے انتظار میں ہے۔ پہلی ہی نظر میں رابرٹ کو کرنل لوئس بہت اچھا لگا۔ رابرٹ سے تعارف ہونے کے بعد کرنل نے وقت ضائع کیے بغیر بات شروع کردی:

’’یہ دیکھئے۔‘‘ وہ اس وقت رابرٹ کو دوسرے کمرے میں لے آیا تھا اور ایک نقشے کے آگے کھڑے ہوکر بات کررہا تھا۔’’یہ وہ مقامات ہیں جن کی مکمل تلاشی لی جاچکی ہے۔‘‘اس نے رابرٹ کو بتایا کہ سالس بری کی ہر عمارت کی اوپر سے نیچے تک مکمل تلاشی لی گئی ہے۔اس میں اسپتالوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا ہے۔ اس کے بعد تھوڑی دیر تک دونوں دوسرے کمرے میں رہے جہاں ریڈیو پیغامات مسلسل آرہے تھے۔ اب تک کی کارروائی سے دونوں مطمئن ہوکر دفتر میں آگئے۔ یہاں پولیس کا ایک خاص آدمی ان کے انتظار میں تھا۔ اس نے کرنل سے مخاطب ہوکر کہا:

’’جناب ! ایک عورت آئی ہے۔ وہ سپرنٹنڈنٹ سے ملنا چاہتی ہے۔‘‘ یہ سن کر رابرٹ چونک گیا۔ صرف اسکاٹ لینڈ یارڈ میں اس کے دفتر والوں کو پتا تھا کہ وہ اس وقت سالس بری میں ہے۔ وہ حیران تھا کہ اس سے کوئی عورت یہاں کیوں ملنا چاہتی ہے۔

’’اس کا کیا نام ہے؟‘‘ رابرٹ نے پولیس والے سے پوچھا۔

’’وہ اپنا نام مسز ولسن بتاتی ہے، مسز جوائے ولسن!‘‘ پولیس والے نے جواب دیا۔

’’اسے اندر بلالاؤ۔‘‘ رابرٹ نے حکم دیا۔

کمرے میں داخل ہونے والی جوان عورت واقعی بے حد حسین تھی۔ ریجنسی ہوٹل کے لوگوں نے صحیح کہا تھا۔ وہ بہت عمدہ اور قیمتی کپڑے پہنے ہوئے تھی۔ وہ خاموش کھڑے رابرٹ کو دیکھ رہی تھی۔ چند لمحوں تک سپرٹینڈنٹ رابرٹ اس لڑکی کا جائزہ لیتا رہا۔ اس نے لڑکی کو بیٹھنے کو بھی نہیں کہا۔ آخر اس نے سرد اور ناخشگوار لہجے میں کہا:

’’تم جوائے ولسن ہو جس کو لوگ مس دورانت بھی کہتے ہیں؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ لڑکی کا جواب مختصر تھا۔ مگر اس کی آواز بہت شیریں تھی۔ پھر وہ خاموش ہوکر اگلے سوال کا انتظار کرنے لگی۔ رابرٹ کو اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ نظر آئی۔ اس نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا:

’’تم رچرڈ ولسن کی بیوی ہو جوجیل بھی جاچکا ہے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

"بہت خوب، میں تمہیں پروفیسر نکل کے اغوا میں ملوث ہونے کے جرم میں گرفتار کرتا ہوں۔ تمہارے جرم تو بہت سارے ہیں، مگر اس وقت گرفتاری کے لیے یہ جرم کافی ہے۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ سوچ سمجھ کر زبان کھولنا۔ تمہاری زبان سے نکلی ہوئی ہر بات لکھ لی جائے گی اور عدالت میں تمہارے خلاف استعمال کی جائے گی۔‘‘

لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا، بل کہ خاموشی سے اسی طرح کھڑی مسکراتی رہی اور رابرٹ کو گھورتی رہی۔ یہ دیکھ کر رابرٹ کو غصہ آگیا۔

’’تم کچھ کہنا چاہتی ہو؟‘‘ رابرٹ نے تیزی سے پوچھا۔

’’احمقانہ باتیں مت کرو سپرنٹنڈنٹ۔ تمھیں معلوم ہے میں یہاں کیوں آئی ہوں؟‘‘

اس جواب نے رابرٹ کو حیران کردیا۔ اس نے پرسکون لہجے میں کہا:

’’ٹھیک ہے، اگر تم کوئی بیان دینا چاہتی ہو تو ضرور دو۔ میں سن رہا ہوں۔‘‘

’’پروفیسر نکل ہمارے قبضے میں ہیں سپرٹنڈنٹ صاحب! مگر کان کھول کر سن لو، اگر تم چھ مہینے تک بھی اسی طرح اسے تلاش کرتے رہے تب بھی اسے نہیں ڈھونڈ سکو گے؟‘‘

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ جو کچھ کہنا ہے جلدی کہو۔‘‘ رابرٹ اب پریشان ہوگیا تھا۔

’’بگ بوائے نے مجھے یہاں بھیجا ہے تاکہ میں تم سے بات کرکے کوئی سمجھوتا کرسکوں۔‘‘

’’بگ بوائے؟ وہ کون ہے؟‘‘

’’یہ ابھی تمہیں نہیں بتایا جاسکتا۔‘‘

’’اچھا ، اور کچھ؟‘‘

’’بگ بوائے نے تجویز پیش کی ہے کہ ہمارے درمیان معاملہ طے ہونے تک میں تمہارے پاس یر غمال بن کر رہوں۔‘‘

’’معاملہ؟ کیا معاملہ طے کرناہے؟‘‘

’’تم میرے بدلے میں پروفیسر کو حاصل کرو گے۔‘‘

’’کیا تمہیں بس یہی کہنا تھا؟‘‘ رابرٹ نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یا تو یہ لڑکی پاگل ہے یا پھر اسے کوئی لطیفہ سنارہی ہے۔

’’نہیں! ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی۔ پروفیسر نکل کے بدلے میں تم مجھے بگ بوائے کے حوالے کرو گے، مگر ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کے ساتھ۔‘‘

یہ سن کر رابرٹ کوطیش آگیا، مگر پھر اُس نے سر کو جھٹک دیا اور مسز ولسن سے کہا:

’’ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ ہم تمھیں ڈھائی لاکھ پاؤنڈ دے کر یہاں سے جانے دیں۔‘‘

’’ہاں!‘‘

"اوراگر میں اس کے لئے تیار نہ ہوں تو؟‘‘

’’اس صورت میں ہم پروفیسر کو ایک غیر ملکی طاقت کے ہاتھ فروخت کردیں گے جو ہمیں یہ رقم دینے کو تیار ہے۔‘‘

’’اور تمہارا کیا ہوگا؟ تم تو ظاہر ہے ہمارے قبضے میں ہی رہوگی۔ اس سودے میں تمہیں کیا ملے گا؟‘‘

’’جیل سے رہا ہونے کے بعد مجھے میرا حصہ مل جائے گا۔‘‘

’’دس سال! بہت لمبا عرصہ ہے یہ۔ میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ تمھیں دس سال سے کم سزا ہر گز نہیں ہوگی۔‘‘ رابرٹ کی آواز میں دھمکی نمایاں تھی۔ لڑکی نے بڑی بے فکری سے قہقہہ لگایا۔ واقعی وہ اس وقت رابرٹ کی حالت سے خوب لطف اندوز ہورہی تھی۔

’’ مگر میرا خیال ہے کہ میرے جیل جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ تمہیں میری یا میرے حصے کی رقم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم پروفیسر کی فکر کرو سپرنٹنڈنٹ، پروفیسر کی!‘‘

’’تمہارا خیال ہے کہ کوئی تاوان دئیے بغیر ہم پروفیسر کو حاصل نہیں کرسکتے؟‘‘

’’ بہت مشکل ہے، تم کامیاب نہیں ہوسکتے۔ میرا خیال ہے کہ تم اس بات کا خطرہ مول نہیں لو گے کہ ہم موقع ملتے ہی پروفیسر کو اس ملک سے نکال لے جائیں۔‘‘

’’ تو پھر تم نے یقیناًکوئی منصوبہ بنایا ہوگا۔ جس کے تحت ہمیں پروفیسر بہ حفاظت مل جائے گا اور تمہیں رقم؟‘‘

’’ ہاں، ہمارا منصوبہ بہت عمدہ ہے۔‘‘

’’وہ کیا منصوبہ ہے۔ ہمیں یہ کیسے یقین ہو کہ پروفیسر خیریت سے ہے؟‘‘

’’ہاں، اپنی خیریت کی اطلاع تمھیں خود پروفیسر دے گا۔ سنو رابرٹ!کل شام چھ بجے تم اپنی کار میں بیٹھ کر اس سڑک پر روانہ ہوگے جو ڈیویز کو جاتی ہے۔ وہیں کہیں سڑک سے گزرتے ہوئے تمہیں منصوبے کی باقی تفصیل سنا دی جائے گی۔ اس کے بعد تمہیں یقین ہوجائے گا کہ نکل خیریت سے ہے۔‘‘

’’اور کچھ؟‘‘ رابرٹ نے پوچھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ صورت حال اس کے قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے۔

’’ہاں، پہلی بات تو یہ ہے کہ کل شام ساڑھے پانچ بجے اس علاقے سے ساری پولیس فورس ہٹ جانی چاہیے، مگر صرف دو گھنٹے کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ تم ایک پولیس کار میں روانہ ہوگے جس میں ریڈیو لگا ہونا چاہیے، لیکن اس پولیس کار میں تمہارے ساتھ صرف میں ہوں گی۔‘‘

’’ہوں۔‘‘ رابرٹ نے آہستہ سے کہا۔ وہ اب لڑکی سے مرعوب ہوتا جارہا تھا۔ اس میں اس قدر اعتماد تھا کہ رابرٹ کو یقین ہوچلا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہی ہے وہ ہر صورت میں کرنا ہوگا۔ وہ اس قدر مشکل اور خطرناک حالات میں بھی بڑی بے فکر، لاپروا اور خوش نظر آرہی تھی۔ 

’’ ٹھیک ہے، میں اپنے افسر سے بات کرلوں۔ تمہیں انتظار کرنا ہوگا۔‘‘

’’ تم فکر نہ کرو سپرنٹنڈنٹ، میں رات یہیں گزار لوں گی۔‘‘

رابرٹ نے گھنٹی بجائی۔ ایک پولیس والا اندر داخل ہوا۔ رابرٹ نے اس کو حکم دیا کہ وہ لڑکی کو حوالات میں لے جائے اور اس کی اچھی دیکھ بھال کرے۔ جوائے ولسن خاموشی سے پولیس والے کے ساتھ چلی گئی۔ چیف کانسٹیبل کرنل لوئس بڑی دیر سے خاموش تھا۔ جوائے ولسن کے جانے کے بعد اُس نے حیرت اور غصے سے کہا:

’’ کمال ہے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ حد ہوگئی غنڈہ گردی کی!‘‘ پھر اُس نے سپرنٹنڈنٹ رابرٹ کی طرف مڑ کر کہا،’’ تمھارا کیا خیال ہے، کیا یہ لوگ کامیاب ہوجائیں گے؟‘‘ 

’’ میرا اندازہ تو یہی ہے کہ یہ لوگ کامیاب ہوجائیں گے۔‘‘

’’ مگر۔۔۔۔ مگر رابرٹ۔۔۔۔۔۔‘‘ غصے کی وجہ سے لوئس کے منہ سے الفاظ بھی پوری طرح ادا نہیں ہورہے تھے۔ رابرٹ نے لوئس کا کندھا تھپ تھپا کر اسے تسلی دی اور کہا:

’’میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں کرنل، مگر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ اس کے سوا ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس کے لیے کروڑوں پاؤنڈ اور سیکڑوں جوائے ولسن بھی کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس کے علاوہ ذرا یہ بھی تو سوچو کہ پروفیسر نکل کی تلاش کتنی مہنگی ثابت ہورہی ہے مقامی لوگوں کے کام میں کتنا خلل پڑ رہا ہے۔ نہیں کرنل، میرا مشورہ یہی ہے کہ ہمیں ولسن کی بات ضرور سننی چاہیے۔ اور ولسن ہی دراصل’ بگ بوائے‘ ہے۔‘‘

’’مگر سپرنٹنڈنٹ!‘‘ لوئس نے جھنجھلا کر کہا،’’ تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر یہ لوگ ہم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تو لوگ ہمارا کس قدر مذاق اُڑائیں گے۔ ہماری پولیس فورس بدنام ہوجائے گی۔‘‘ 

’’میں تمہاری بات مانتا ہوں کرنل۔ بہرحال ایک بات یقینی ہے کہ جو کچھ بھی ہونے والا ہے اس میں میری تعریف سے زیادہ میری بدنامی ہوگی۔‘‘

رابرٹ کی بات سن کر لوئس نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا،’’ خیر اس بات کو چھوڑو۔ بھوک لگی ہے۔ میں کھانا منگواتا ہوں۔‘‘ 

لوئس کے جانے کے بعد رابرٹ نے ٹیلے فون اٹھایا اور اپنے افسر اعلا اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ قائم کیا۔ اس نے سالس بری پہنچنے اور اب تک پیش آنے والے سارے واقعات تفصیل کے ساتھ اپنے افسر کو بتائے اسسٹنٹ کمشنرکافی گرم ہورہا تھا، مگر رابرٹ نے سمجھا بجھا کر اسے ٹھنڈا کیا اور آخرکار مجرموں کے پیش کردہ منصوبے کے پہلے حصے کی منظوری لے لی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے فون پر چلاتے ہوئے کہا،’’ مگر یہ سن لو رابرٹ! میں ان کو ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے جناب! اس کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے۔ پہلے ہمیں یہ اندازہ تو ہوجائے کہ مجرم کتنے طاقتور اور چالاک ہیں۔‘‘

رات کو رابرٹ اور کرنل لوئس نے فیصلہ کیا کہ نکل کی تلاش کی مہم زیادہ تیز کردی جائے، کیوں کہ ان کے پاس وقت کم تھا اور پھر وعدے کے مطابق رابرٹ کو پولیس کو بھی تو ہٹانا تھا۔ رابرٹ کو اب بھی یقین تھا کہ پروفیسر کو اغوا کرکے سالس بری میں ہی کہیں رکھا گیا ہے۔ وہ خوش تھا کہ اس نے نکل کی تلاش میں پولیس کا گھیرا تنگ کیا تو امید کے مطابق مجرم گھبرا کر باہر نکل آئے تھے۔ جوائے ولسن کا رابرٹ کے پاس آنا اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ مجرم بھاگنا چاہ رہے ہیں، مگر راستہ نہیں مل رہا ہے۔ رابرٹ سوچ رہا تھا کہ وہ مجرموں کے گرد گھیرا اسی طرح اور تنگ کرے گا جس سے گھبرا کر وہ غلطی کر بیٹھیں گے اور پھر رابرٹ کے بچھائے ہوئے جال میں آن پھنسیں گے۔ 

اس رات رابرٹ کئی گھنٹوں تک اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا اپنے منصوبے کے بارے میں غورکرتا رہا وہ اپنے منصوبے پر اس طرح عمل کرنا چاہتا تھا کہ اغوا کرنے والوں کو ایسا محسوس ہو کہ جیسے وہ ان کی مرضی پر چل رہا ہے، مگر حقیقتاًوہ ان کے جال میں خود ان ہی کو پھنسادے۔ مگر اس کے منصوبے کی کامیابی کا دارومدار فضائیہ اور دوسرے لوگوں سے ملنے والی بروقت مدد پر تھا۔ پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے آنے والی صبح تک انتظار کرنا چاہیے۔ 

ایک بڑی گاڑی اس وقت سالس بری کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر کھڑی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر رابرٹ بیٹھا ہوا تھا۔ وہ جوائے ولسن کا انتظار کر رہا تھا جسے باہر لانے کا حکم وہ پہلے ہی دے چکا تھا۔ اس سے پہلے پروفیسر کی تلاش کا کام بہت سرگرمی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بہت سی عمارتوں کی دو دو تین تین بار تلاشی لی گئی تھی۔ پولیس کی مدد فوجی جوانوں نے بھی کی تھی اور پروفیسر نکل کی تلاش کا علاقہ وسیع کردیا گیا تھا۔ مگر پروفیسر کا کوئی نشان نہ مل سکا۔ مگر اب تلاش کا کام اغوا کرنے والوں سے کیے گئے وعدے کے مطابق روک دیا گیا تھا۔ 

اس ناکامی کے باوجود رابرٹ نا اُمید نہیں ہوا تھا اس کے چہرے پر کسی پریشانی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ بڑی لاپروائی کے ساتھ کار میں بیٹھا تھا۔ وہ پروفیسر کا سراغ لگا چکا تھا۔ اب بس یہ کرنا تھا کہ پروفیسر کو اغوا کرنے والوں کی راہ میں خوب روڑے اٹکائے جائیں، انہیں زیادہ سے زیادہ پریشان کیا جائے تاکہ وہ اسے ملک سے باہر لے جانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ 

اسی وقت دو پولیس والوں کے ساتھ جوائے ولسن باہر آتی دکھائی دی۔ جیسے ہی وہ کار میں بیٹھی رابرٹ نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔ سفر کے دوران رابرٹ اور جوائے دونوں ہی خاموش رہے۔ گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ ایک دو بار جوائے نے رابرٹ کی طرف دیکھا، مگر اس نے جوائے کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ آخر وہ خود بولی:

’’بہت ناراض لگ رہے ہو سپرنٹنڈنٹ!‘‘

’’خوشی سے اچھلنے کودنے لگوں۔ تمہارا کیا خیال ہے جرائم پیشہ لوگوں کا ایک گروہ مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کرے اور مجھے غصہ نہ آئے ؟‘‘

’’اوہ رابرٹ! ذرا دیکھو تو کتنا پیارا منظر ہے۔ یہ سہانی شام اور۔۔۔۔‘‘

’’ہاں سہانی شام تو ہے، مگر جیل میں گزرتی تو کتنا مزہ آتا؟ سنو لڑکی! میرے لئے تم ایک خطرناک مجرم ہو اور بس میں تمھیں سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

جوائے اس کی بات سن کر مسکرادی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر رابرٹ کو چھیڑا:

’’فرض کرو رابرٹ، اسکاٹ لینڈ سے تمھیں یہ حکم ملتا ہے کہ ہم جو کچھ کہیں وہ کرو اور پھر ایک حکومت کے لیے ڈھائی لاکھ پونڈ بھی کوئی بڑی رقم ہے؟ آخر پروفیسر کو بھی تو چھڑانا ہے نا!‘‘

’’مگر ہم تمھیں یہ رقم دیں گے ہی نہیں۔‘‘ رابرٹ کو غصہ آگیا۔

’’یہ تو تمھیں دینی پڑے گی۔‘‘جوائے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

کار آبادی سے نکل کر اب غیر آباد علاقے میں آگئی تھی۔ سامنے سڑک ڈھلوان تھی۔ رابرٹ بڑی مہارت کے ساتھ کار کو چلا رہا تھا۔ اس کے بعد چڑھائی آگئی ۔چڑھائی ختم ہونے کے بعد جوائے نے کہا:

’’بس یہیں درختوں کے قریب کار روک لو۔ تم یہاں کھڑے ہوکر دور تک پھیلے ہوئے اس حسین منظر کا نظارہ کر لو اور میں یہ یقین کرلوں کہ کہیں ہمارا پیچھا تو نہیں کیا جارہا۔‘‘

رابرٹ نے خاموشی سے کار روک دی۔ جوائے ولسن کسی لومڑی کی طرح آس پاس کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس نے پلٹ کر سڑک کی طرف بھی دیکھا جس سے وہ آئے تھے، مگر دور دور تک کسی کا نام و نشان نہ تھا۔’’ ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کار کے پاس آکر کہا۔’’ میرا خیال ہے کہ اب ہمیں کوئی نغمہ سننا چاہیے۔‘‘ یہ کہہ کر جوائے نے کار کے ریڈیو کا بٹن دبادیا۔ کچھ دیر شوں شاں کی آوازیں آتی رہیں اور جوائے ریڈیو کی سوئی گھماتی رہی۔ پھر ریڈیو سے ایک مقبول نغمے کی صدا آنے لگی۔ 

’’ٹھیک ہے!‘‘ اس نے کہا اور اس کے بعد مائکروفون اٹھا کر اس نے بھی ایک گیت گانا شروع کردیا۔ یہ جوائے اوراس کے گروہ کے درمیان بات چیت کے لیے ایک قسم کا کوڈ تھا۔ چند لمحوں کے بعد ایک آدمی کی آواز آئی:

’’مسٹر رابرٹ میری آواز سن رہے ہو؟ اب غور سے سنو۔ میں ڈھائی لاکھ پاؤنڈ نوٹوں کی شکل میں نہیں چاہتا۔ اس سے میرا سراغ لگ سکتا ہے۔ یہ رقم مجھے ہیروں کی شکل میں اداکی جائیگی۔‘‘

ایمسٹرڈم میں ایک جوہری ہے ویلیٹز۔ ہم نے اس سے ہیروں کا ایک پارسل بنوالیا ہے۔ یہ پارسل ہمیں چاہیے۔ جوائے کو اصلی ہیروں کی پہچان ہے وہ اصلی اور نقلی میں تمیز کرسکتی ہے۔ تم ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کرنا اور ہاں ہمیں جوائے بھی صحیح سلامت ملنی چاہیے۔ اور جب ہمیں ہماری دونوں چیزیں یعنی جوائے اور ہیروں کا پارسل مل جائے گا تو ہم پروفیسر کو تمہارے حوالے کر دیں گے۔‘‘

’’ مگر کس طرح؟‘‘ رابرٹ نے سوال کیا۔

’’ کل آدھی رات اسی کار میں تم سالس بری سے آنے والی سڑک پر آٹھویں سنگ میل پر آجانا۔ تمہارے ساتھ جوائے کے علاوہ اور کوئی نہ ہو۔ وہی مجھ سے ریڈیو پر رابطہ قائم کرے گی۔ شام چھ بجے کے بعد اس علاقے میں کہیں بھی پولیس کار نہیں نظر آنی چاہئے اور نہ کوئی شخص تمہارے پیچھے پیچھے آئے۔ سمجھ گئے۔ اچھا اب تمہارے ایک دوست تم سے بات کریں گے۔‘‘

تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ اس کے بعد ریڈیو پر ایک آواز سنائی دی:

’’ہیلو سپرنٹنڈنٹ! میں پروفیسر نکل ہوں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں اور میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جارہا ہے۔‘‘

رابرٹ نے سنجیدہ اور بھاری آواز میں کہا:

’’پروفیسر تمھاری آواز سن کر خوشی ہوئی۔ شکر ہے کہ تم بالکل ٹھیک ہو۔ کوئی پیغام دینا چاہتے ہو؟‘‘

’’ہاں! میرے دوست والٹر کو بتادینا کہ وہ شرط ہار گیا ہے۔‘‘

پروفیسر نے یہ سارے الفاظ جلدی جلدی اداکیے۔ اس کے بعد ریڈیو میں سے شوں شاں کی آوازیں آنے لگیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔ جوائے ولسن نے کہا،’’چلو مجھے حوالات پہنچادو۔‘‘

سالس بری کے پولیس ہیڈ کوارٹر میں اس رات ایک ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ حکومت کے اعلا عہدے دار بھی اس میں شریک تھی۔ فضائیہ، بحریہ اور فوج کے بڑے افسروں کو بھی اس میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ میٹنگ میں دو وزیر بھی آئے تھے۔ رابرٹ نے اب تک کی تفصیل اس میٹنگ میں پیش کی۔ اس نے بات اس انداز سے کی تھی کہ ہر پہلو سامنے آگیا تھا۔ کسی کو پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ آج کی میٹنگ سے لوگوں کو اندازہ ہوا تھا کہ یہ موٹے اور بھاری جسم والا شخص کتنا چست اور ذہین ہے۔ جب رابرٹ نے پروفیسر نکل کے اس عجیب و غریب پیغام کے بارے میں بتایا جس میں نکل نے والٹرکو کہلوایا تھا کہ والٹر شرط ہار گیا ہے تو لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منھ تکنے لگے۔ ڈاکٹر والٹر بھی میٹنگ میں موجود تھا۔ اس سے اس پیغام کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا:

’’پروفیسر نکل کو ایسی کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا جن میں ملک کے وفادار سائنس دانوں سے زبردستی ان کے فارمولوں کے راز اگلوانے کا ذکر ہوتا تھا۔ اکثر میری نکل سے بحث ہوتی تھی کہ اگر کسی سائنس دان پر تشدد کیا جائے گا تو وہ اپنے فارمولے کے بارے میں سب کچھ بتادے گا۔ نکل میرے اس دعوے کی مخالفت کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ برسوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا ہوا فارمولا کوئی سائنس دان دوسرے کو نہیں دے گا، چاہے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ اس نے ایک بار مجھ سے پانچ پاؤنڈ کی شرط لگائی تھی کہ اگر کبھی وہ اغوا ہوا تو اغوا کرنے والے اس پر تشدد نہیں کریں گے کیوں کہ وہ اپنا دماغ استعمال کرے گا۔ وہ بہت ذہین ہے۔ اس نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بالکل خیریت سے ہے اور اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے۔ اور نہ یہ بات مجرموں نے اس سے کہلوائی ہے۔‘‘

ڈاکٹر والٹر کی بات سن کر سب نے سکون کا سانس لیا۔ ان کے سرسے ایک بڑا بوجھ اتر گیا تھا۔ پھر رابرٹ نے اس افسر کو طلب کیا جس کی ڈیوٹی آج اس کام پر لگائی تھی کہ اگر مجرم ریڈیو پر بات کریں تو ان کی جگہ کا پتا لگایا جائے۔ افسر نے اپنی ناکامی کی اطلاع دی، کیوں کہ ولسن نے بہت مختصر بات کی تھی۔ انہیں اپنے آلات استعمال کرنے کا بھی موقع نہ مل سکا تھا اور بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد میٹنگ میں شریک ایک وزیر نے بولنا شروع کیا۔ وزیر کو اغوا کرنے والوں کے مطالبے منظور کرنے سے اختلاف تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک زبردست حملہ کر کے مجرموں کو گرفتار کر لیا جائے، مگر کس طرح؟ اس کا جواب وزیر صاحب نہ دے سکے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ آخرمیں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا:

’’رابرٹ! تم اس وقت مہم کے انچارج ہو۔ مجھے تم پر بڑا بھروسہ ہے۔ ہم لوگوں کو یہ بتاؤ کہ آخر تم کیا کرنا چاہتے ہو۔‘‘

رابرٹ اس سوال کے لیے پہلے ہی سے تیار تھا۔ اس نے فوراً کہنا شروع کیا:

’’پہلی بات تو میں یہ چاہتا ہوں کہ ہم ولسن کے مطالبے کو ماننے یا نہ ماننے پر فی الحال نہ الجھیں، بلکہ ایمسٹرڈم سے ہیرے منگوانے کا انتظام فوراً کیا جائے اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہیرے انہیں دے دئیے جائیں یعنی ان کے دئیے بغیر کوئی چارہ نہ رہے تو پھر بغیر دیر کیے ان کا مطالبہ پورا کر سکیں گے۔‘‘

رابرٹ کی بات کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ اب ظاہر ہے مسلح افواج یا پولیس کا تو یہ کام نہیں تھا کہ وہ ہیروں کا بندوبست کرے۔ وزیر صاحب نے ایک اعلا سرکاری عہدے دار کو ہدایت کی کہ وہ ایمسٹر ڈم سے ہیرے منگوانے کا انتظام کرے، مگر یہ حکم دینے کے بعد ان کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کس طرح ہوسکے گا۔ تھوڑی دیر بعد کمشنر نے کہا:

’’ٹھیک ہے رابرٹ، تمھاری یہ بات تو مان لی گئی۔ اب آگے بتاؤ۔‘‘

رابرٹ نے جواب دیا:

’’جناب عالی! میں نے حالات کا خوب اچھی طرح جائزہ لیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس لڑکی کو رقم کے ساتھ مجرم کے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی اور صورت ہمارے سامنے نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سب حضرات کو میری اس بات سے اتفاق نہیں ہوگا اور میں بھی خوشی سے یہ سب کچھ نہیں کررہا ہوں، مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس چارہ بھی تو نہیں ہے۔ اگر ہم نے ولسن کا مطالبہ نہ مانا تو وہ پروفیسر کو ہر صورت میں ملک سے باہر نکال لے جائے گا۔ ہوسکتا ہے وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے، مگر پروفیسر کی جان کو تو خطرہ ہے ناں! میرا خیال ہے آپ سب حضرات نہ صرف پروفیسر کو واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسے صحیح سلامت بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

رابرٹ کی بات سن کر کوئی بھی شخص مطمئن نظر نہیں آرہا تھا، مگر ان کے پاس کوئی دوسری تجویز بھی تو نہیں تھی۔ سب کے چہروں پر فکر اور پریشانی کے آثار رابرٹ نے بھانپ لیے تھے۔ اس نے کہا:

’’ویسے میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مجرم ہیرے لے کر یہاں سے کسی صورت میں نہیں بھاگ سکیں گے۔ میں نے سارے انتظامات کرلیے ہیں۔‘‘

میٹنگ میں موجود تمام لوگوں نے بے دلی کے ساتھ رابرٹ کو اپنی تیار کی ہوئی اسکیم پر عمل کرنے کی اجازت دے دی۔ وزیر صاحب نے کافی چاہا کہ رابرٹ اپنے منصوبے کے بارے میں انہیں بتادے، مگر رابرٹ کا جواب تھا:

’’یہ مکمل طور پر راز میں رہے گا ابھی میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔‘‘

اسسٹنٹ کمشنر نے بھی رابرٹ کی بات سے اتفاق کیا اور میٹنگ ختم ہوگئی۔ اب رابرٹ نے اپنے منصوبے کو آخری شکل دینی شروع کی اس کی نظر میں پروفیسر کو حاصل کرنا اور ہیرے جوائے ولسن سمیت مجرم کے حوالے کرنا کوئی کارنامہ نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ مجرم ملک سے فرار نہ ہونے پائیں اور نہ صرف انہیں گرفتار کیا جائے بلکہ ہیرے بھی واپس لے لیے جائیں۔ سب سے پہلے اس نے فضائی فوج کے ایک اعلا افسر سے ملاقات کی اور پھر اپنا منصوبہ بتا کر فضائی امداد طلب کی۔ فضائی افسر نے بتایا کہ بہترین پائلٹ اپنے جہازوں میں پرواز کے لیے بالکل تیار رہیں گے۔ وہ مسلسل ریڈیو کے ذریعہ سے رابرٹ سے رابطہ قائم رکھیں گے اور جیسے ہی انہیں حکم ملا وہ پرواز کر جائیں گے۔ اس کے بعد رابرٹ نے ڈاکٹر والٹر سے اور ایک رڈار کے ماہر سے بات کی۔ جب یہ بات چیت مکمل ہوگئی تو دوسائنس دانوں نے ایک مشکل منصوبے پر کام شروع کردیا۔ ان کی کامیابی کا اصل دارومدار انہی پر تھا۔ اب رابرٹ تھک کر چور ہوچکا تھا۔ رات کے تین بجے وہ سونے کے لیے لیٹا۔

اگلے دن صبح رابرٹ نے اپنا زیادہ تر وقت فضائیہ کے افسروں اور رڈار کے ماہرین سے ملاقات میں گزارا۔ اس نے منصوبے کے ایک ایک حصے کا اچھی طرح سے جائزہ لیا اور ان ماہرین کے ساتھ اپنے پلان کے ہر حصے کو دیکھنے خود گیا۔ اس منصوبے میں شامل افراد کو پوری کہانی کا پتا نہ تھا انہیں صرف یہ معلوم تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس کے لیے بھی سخت ہدایات تھیں کہ کسی کو نہ بتائیں۔

اب رابرٹ کی نگاہیں ’موسم‘ پر تھیں۔ اگر موسم زیادہ ٹھنڈا ہوجاتا تو ظاہر ہے کہر وغیرہ چھانے کا ڈر تھا۔ اور یہی چیز رابرٹ کے منصوبے کو ناکام کرسکتی تھی۔ مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ موسم آہستہ آہستہ بہتر ہی ہوتا رہا اور رابرٹ مطمئن ہوگیا۔ 

پروفیسر کی تلاش کا کام آج بھی جاری تھا مگر کوئی بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ رابرٹ کا خیال تھا کہ مجرموں نے کسی خاص جگہ پناہ لے رکھی ہے۔ ہوسکتا ہے وہ ان کا اسمگلنگ کرنے کا اڈہ ہو۔ رابرٹ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ مجرم بہ ظاہر کسی ایسے کاروبار میں مصروف ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا اور اسی آڑ میں وہ غیر قانونی کام بھی کررہے ہوں گے۔ ظاہر ہے اس جگہ پولیس پارٹی یقیناًگئی ہوگی، مگر کوئی غلط کام ہوتا نہ دیکھ کر واپس آگئی ہوگی۔ اسی قسم کی کسی جگہ پروفیسر کورکھا ہوا ہوگا۔ 

اس شام کو جب ہر طرف سے ناکامی کی رپورٹیں مل گئیں تو ایک میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں بڑا ہنگامہ ہوا۔ ہر شخص تھکا تھکا اور چڑ چڑا لگ رہا تھا اور ایک دوسرے کوکاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی بے بسی کا سخت احساس تھا۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ پروفیسر کو اغوا کرنے والوں کو ہیرے دئیے جائیں۔ کسی کو یہ یقین نہ تھا کہ رابرٹ بعد میں مجرموں کو ہیروں سمیت گرفتار کرلے گا۔

سپرنٹنڈنٹ نے زیادہ گفتگو نہیں کی اور لوگوں کے سوال و جواب سے بچنے کے لیے صرف اس بات پر زور دیتا رہا کہ اس کے منصوبے کو جہاں تک ہوسکے راز میں رکھا جائے۔ رات 9 بجے میٹنگ ختم ہوئی اور رابرٹ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا آیا وہ اس وقت تک کمرے میں بیٹھا رہا جب تک روانگی کا وقت نہ ہوگیا۔ اب اسے جوائے ولسن کو ہیروں سمیت ساتھ لے کر جانا تھا اور پروفیسر نکل کو واپس لانا تھا۔ 

رابرٹ ہیروں کا پارسل اور جوائے ولسن کو لے کر جب آٹھویں سنگ میل کے پاس پہنچا تو آدھی رات ہوچکی تھی۔ کارکے ریڈیو پر وہی نغمے دوبارہ بجائے گئے۔ جب شناخت ہوگئی تو چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ریڈیو پر ولسن کی آواز ابھری:

’’رابرٹ! اپنی کار کو موڑو اور ساؤتھ ایمپٹن جانے والی سڑک پر چلو۔ ریڈیو کو دھیان سے سنتے رہنا جیسے ہی ریڈیو سے بجنے والی موسیقی رک جائے تم وہیں گاڑی روک دینا۔ بس، روانہ ہوجاؤ۔‘‘

رابرٹ نے خاموشی سے گاڑی موڑی اور ساؤتھ ایمپٹن کو جانے والی سڑک پر روانہ ہوگیا۔ جوائے ولسن خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ نغمہ بجتا رہا۔ کبھی آواز ہلکی ہوجاتی اور کبھی تیز۔ رابرٹ کا خیال تھا کہ مجرم ایک سے زیادہ ریڈیو استعمال کر رہے ہیں اور یہ سیٹ ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت بھی کر رہے ہیں۔ یہ صرف اس لیے کیا جارہا ہے کہ صحیح سمت کا پتا نہ لگ سکے۔ مگر رابرٹ کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی، کیوں کہ اس کے منصوبے کا سمت کی نشان دہی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ آخر اس نے جوائے ولسن سے کہا:

’’ہمیں کب تک چلتے رہنا ہوگا؟ اب ساؤتھ ایمپٹن آنے والا ہے۔‘‘ جوائے ولسن اس وقت کچھ پریشان سی لگ رہی تھی اور بڑی تیزی سے ریڈیو کے مختلف ناب گھمارہی تھی۔

اور پھر بغیر کسی وارننگ کے ایک زور کا دھماکہ ہوا اور اسٹیئرنگ وھیل رابرٹ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ کار بڑی تیزی سے نشیب کی طرف بڑھی اور اس سے پہلے کہ وہ اس میں سے لڑھک جاتی، رابرٹ نے اس پر قابو پالیا۔ جیسے ہی کار کا انجن بند ہوا، ریڈیو سے آواز آنی شروع ہوگئی:

’’معاف کرنا رابرٹ! تمہارے راستے میں ایک چھوٹا سا بم آگیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری گاڑی کا اگلا پہیہ ناکارہ ہوگیا ہے۔ خیر، کوئی بات نہیں، ہم اس کے لیے مجبور تھے۔‘‘ پھر ایک لمحے کے وقفے کے بعد آواز دوبارہ آئی:

’’تم تو ٹھیک ہو نا جوائے؟‘‘

’’میں ٹھیک ہوں کوئی فکر کی بات نہیں۔‘‘ جوائے نے جواب دیا۔ آواز نے پوچھا:

’’ کیا تم نے ہیرے حاصل کرلیے ہیں؟‘‘

’’ہاں، سپرنٹنڈنٹ صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔‘‘

پھر آواز نے رابرٹ سے کہا،’’ سپرنٹنڈنٹ! کیا تم وعدہ کرتے ہو کہ ہمیں پروفیسر کے بدلے میں ہیروں کے ساتھ جوائے کو صحیح سلامت دے دو گے؟‘‘

’’تو کیا تمھارے خیال میں میں یہاں مذاق کرنے آیا ہوں؟‘‘ رابرٹ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’تم کسی گڑ بڑ کی کوشش نہیں کرو گے!‘‘

رابرٹ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا،’’میری کار کا پہیا تو تم نے ناکارہ کردیا۔ پھر میں اکیلا بھی ہوں اور تم بہت سے، میں بھلا کیا کرسکتا ہوں!‘‘

’’ہاں، بالکل۔ تمہاری جگہ میں بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ اب سنو! جوائے کے ساتھ پچاس گز آگے تمھیں پیدل جانا ہوگا، بائیں طرف سڑک پر، وہاں فارم ہاؤس ہے اور ہاں جوائے، ہیرے نہ بھولنا۔‘‘

’’رابرٹ نے جوائے کی طرف مڑ کر کہا،’’ چلو، جلدی سے یہ کام بھی کر ڈالو۔‘‘ یہ کہہ کر رابرٹ تیزی کے ساتھ اوپر کی طرف چل پڑا، مگر شیشہ ٹوٹنے کی آواز سن کر رک گیا۔ جوائے ولسن اپنے سینڈل کی ایڑی سے ریڈیو کو توڑ رہی تھی۔

’’یہ کیا کررہی ہو؟‘‘ رابرٹ کو غصہ آگیا۔ 

’’یہ کام اس لیے ضروری ہے کہ تم ریڈیو کو استعمال نہ کرسکو۔ ہمیں ہر چیز کا خیال رکھنا ہے۔‘‘ جوائے نے رابرٹ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ اس کام سے فارغ ہوکر وہ سیدھی فارم ہاؤس کی طرف چل دی۔ اس علاقے میں صرف وہی فارم ہاؤس تھا، باقی سارا علاقہ ویران تھا۔ واقعی اغوا کرنے والوں نے بڑی اچھی جگہ چنی تھی۔ وہاں بے شمار لمبے لمبے اور گھنے درخت تھے۔ سڑک سیدھی فارم ہاؤس کے اندر جارہی تھی۔ اس سڑک کے بالکل بیچوں بیچ سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک لمبا تڑنگا اور خوب صورت آدمی کھڑا ہوا تھا۔ رابرٹ کو دیکھتے ہی اس نے ہاتھ ہلایا اور پھر اس کی طرف بڑھا۔

’’میرا نام پروفیسر نکل ہے۔ تم یقیناًسپرنٹنڈنٹ رابرٹ ہو! مجھے تمھیں یہ بتانا ہے کہ دو مسلح آدمی ہماری نگرانی کر رہے ہیں اور اگر ہم نے لڑکی کو روکنے یا ہیرے واپس لے جانے کی کوشش کی تو وہ ہمیں گولی مار دیں گے۔‘‘

رابرٹ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا:

’’پروفیسر! تمھیں دیکھ کر اس وقت مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے وہ لوگ بے حد محتاط ہیں اور گڑبڑ کرنے کی کوشش پر ہمیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘

’’ بالکل۔‘‘ پروفیسر کوشش کر رہا تھا کہ وہ رابرٹ کی طرح پرسکون نظر آئے، مگر اس کے اندر کی بے چینی اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہورہی تھی۔ پھر اس نے کہا،’’آدھے گھنٹے پہلے چھ اغوا کرنے والوں کے ساتھی یہاں دو کاروں میں آئے تھے۔ انہوں نے فارم کے لوگوں کو بندوقیں دکھا کر ڈرایا دھمکایا۔ میرا خیال ہے کہ فارم کے مالک کی بیوی اور اس کے بچے ابھی تک کمرے میں قید ہیں۔ اغوا کرنے والوں کے تین ساتھی یہاں سے پہلے ہی جاچکے ہیں۔‘‘

اچانک رابرٹ کو جوائے کا خیال آگیا۔ اس نے پروفیسر نکل سے پوچھا، ’’ میرے ساتھ جولڑکی آئی تھی وہ کہاں ہے؟‘‘

’’ وہ تو بھاگ کر اس کار کی طرف گئی ہے۔ وہ سامنے۔‘‘

رابرٹ مسکراتے ہوئے بولا:

’’ٹھیک ہے۔ پروفیسر نکل! تم بالکل فکر نہ کرو۔ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے گی۔ اب یہاں سے چلو۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اپنی پولیس کار کے پاس آیا، اور پروفیسر نکل سے بولا:

’’پروفیسر! اسپیئر وھیل کو نکالنے میں میری مدد کرو۔‘‘

’’ مگر اس سے کیا ہوگا رابرٹ! گاڑی کااگلا حصہ تو بالکل تباہ ہوچکا ہے۔‘‘

’’پروفیسر! یہ اسپیئر وھیل کوئی عام پہیہ نہیں ہے۔ یہ ریڈیو سیٹ ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔‘‘ اسی وقت ایک ہوائی جہاز کی آواز سنائی دی۔ دونوں نے چونک کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ایک جہاز سیدھا ان کے سروں پر سے گزر کر جنوب مشرق کی طرف پرواز کر گیا۔ 

’’اوہ! یہ وہی لوگ ہیں! انہوں نے بالکل وقت ضائع نہیں کیا ہے۔‘‘ پروفیسر نے چیخ کرکہا۔

رابرٹ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے جلدی جلدی ریڈیو سیٹ آن کیا اور پھر ہیڈ کوارٹر سے رابطہ قائم کیاابھی مفرور مجرموں کے جہاز کی آواز کی باز گشت ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ رابطہ قائم ہوگیا۔ رابرٹ کی نگاہیں اپنے سامنے پڑے نقشے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے بڑی ٹھہری ہوئی اور صاف آواز میں کہنا شروع کیا:

’’تمام فضائی، بحری اور زمینی تلاش پر مامور لوگوں کے لیے یہ پیغام ہے:

ایک انجن والا چھوٹا ہوائی جہاز نقشے کے حوالہ نمبر 020310 سے رات کے بارہ بج کر چوالیس منٹ پر روانہ ہوچکا ہے۔ جہاز جنوب مشرق کی سمت ایک ہزار فیٹ کی بلندی پر پرواز کررہا ہے۔ اس کی رفتار تقریباً ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ نگرانی کرنے والے تمام جہاز اس کا پیچھا کر کے اسے نیچے اترنے پر مجبور کردیں۔‘‘

پیغام کو دہرانے کے بعد رابرٹ نے پھر کہنا شروع کیا:

’’تمام بحری اور زمینی ڈیوٹی پر مامور لوگ مفرور مجرموں کے جہاز کے سمت کی تازہ ترین رپورٹ مقامی مرکزوں کو دیتے رہیں۔ تمام مرکز مجھے لیروک کے ائیر فیلڈ پر رپورٹ دیں۔ جو کار بھی مجھ سے قریب ترین ہو وہ فوراً مجھے لینے آجائے۔‘‘

رابرٹ کی ہدایات اور ریڈیائی پیغامات سُن سُن کر پروفیسر بہت پریشان ہوگیا تھا اس نے رابرٹ سے پوچھا کہ ابھی تو اس قدر اندھیرا ہے تمہارے جہازوں کو یہ بات کس طرح معلوم ہوگی کہ مجرموں کا جہاز کون سا ہے۔ رابرٹ نے مسکراتے ہوئے کہا:

’’ یہی وہ جگہ ہے جہاں میرا چھوٹا سا بکس کام آئے گا۔‘‘

پانچ منٹ کے اندر اندر رابرٹ کے پاس ایک پولیس کار پہنچ چکی تھی۔ رابرٹ اور پروفیسر نکل اس میں سوار ہوئے اور اب ان کی کار ہوائی اڈے کی طرف اڑی چلی جارہی تھی۔ ہوائی اڈے کے داخلی دروازے میں سے جیسے ہی کار اندر داخل ہوئی رابرٹ نے ڈرائیور کو گاڑی سیدھی کنڑول ٹاور کی طرف لے جانے کی ہدایت دی۔

کنٹرول ٹاور میں ایک کمرے میں مسلح افواج کے اعلاعہدیداران اور پولیس کے اہم افسر رابرٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ کمرا مضبوط اور موٹے شیشے کابنا ہوا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسسٹنٹ کمشنر نے رابرٹ کا استقبال کیا:

’’شاباش رابرٹ!‘‘ پھر اس نے پروفیسر نکل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،’’اور تم غالباً پروفیسر نکل ہو۔ بڑی خوشی ہوئی تم سے مل کر۔‘‘

’’مجھے بھی آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ہے آفیسر!‘‘ نکل نے جواب دیا۔ 

پھر اسسٹنٹ کمشنر نے رابرٹ سے کہا:

’’تمہارے پیغام کے ملنے کے صرف دو منٹ بعد دو لڑاکا ہوائی جہاز اس کے تعاقب میں جاچکے ہیں۔ ان دونوں جہازوں میں خصوصی ریڈار سیٹ لگے ہوئے ہیں۔ جلد ہی ان کا پیغام ہمیں ملے گا۔ تم نے ایک چھوٹے سے بکس کا ذکر کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کے بارے میں ہمیں کنٹرول ٹاور میں بتاؤ گے۔‘‘ رابرٹ مسکرایا اور بولا:

’’ہیرے میں نے جس بکس میں رکھے تھے اس پر ایک خاص قسم کا نیان کیمیکل لگا ہواہے۔ اس کی تفصیل میں ابھی نہیں بتاؤں گا۔ اس خاص کیمیکل کا کام یہ ہے کہ یہ ریڈار اسکرین پر روشنی کے جھماکے کرتا رہے گا۔ اور ہمارے جہازوں کو رہنمائی ملتی رہے گی کہ وہ کدھر جارہے ہیں۔‘‘

’’اوہ! کمال کردیا سپرنٹنڈنٹ!‘‘ یہ پروفیسر نکل تھا۔ 

’’واقعی، بہت ہوشیار ہو تم رابرٹ!‘‘ وزیر نے کہا۔ 

ابھی وہ کچھ اور کہتے کہ لاؤڈ اسپیکر پر ایک آواز آئی:

’’ای۔ اے۔ ایچ کالنگ رابرٹ، ای اے ایچ کالنگ رابرٹ!‘‘ 

ایک آدمی نے آگے بڑھ کر مائیکروفون رابرٹ کو دے دیا۔ 

’’رابرٹ بول رہا ہوں۔‘‘

’’ مجرموں کے جہاز کی پوزیشن 0091004 رفتار ایک سو ساٹھ میل فی گھنٹہ۔ مزید ہدایت دیجیے۔‘‘

رابرٹ نے مائیکروفون میں کہا:

’’پیغام وصول ہوا۔ مجرموں کے جہاز کو گھیر کر واپس لاؤ اور لیروک کے ہوائی اڈے پر اُتار لو۔ اس کو گھیر لو اور بالکل قریب پرواز کرو۔ ہر دو منٹ بعد رپورٹ دو۔ اگر مجرم تمھارے کہنے پر عمل نہ کریں تو بار بار پیغام کو دہراؤ اور پھر بھی نہ مانیں تو انہیں فضا میں تباہ کردو۔‘‘

پیغام دینے کے بعد رابرٹ نے اپنے افسر سے کہا:

’’مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں کریش لینڈ نہ کرلیں۔ ان کا جہاز زیادہ تیز رفتار نہیں ہے، اس لیے وہ ایسا کرسکتے ہیں جب کہ ہمارے لڑاکا جہاز اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکیں گے اور وہ ہمارے جہازوں سے اپنی جان چھڑالیں گے۔‘‘

وزیر نے کہا،’’اب تم جو بھی کرو سپرنٹنڈنٹ، انہیں ہر صورت میں روکو۔ انہیں ملک سے باہر نہیں جانا چاہیے۔‘‘ مگر رابرٹ اس سے پہلے ہی مائیکروفون میں بول رہا تھا:

’’رابرٹ کالنگ۔۔۔۔۔۔ یہ ہدایات تمام کاروں اور لانچوں کے لیے ہیں۔ ان کا جہاز دیکھ لیا گیا ہے۔ ایک بج کر آٹھ منٹ پر ان کی پوزیشن 0091004 رفتار ایک سو ساٹھ میل فی گھنٹہ۔ اس علاقے میں موجود تمام فوجی اور سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جہاز پر نظر رکھیں وہ کہیں بھی اترنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ جو کار بھی اس جہاز کو دیکھے فوراً رپورٹ دے اور تمام کاریں اور لانچیں اپنے ریڈیو سیٹ خاموش رکھیں۔‘‘ پیغام دینے کے بعد رابرٹ نے وزیر سے کہا:

’’جو کچھ ہم کرسکتے ہیں اور ہمیں کرنا چاہیے وہ ہم نے کرلیا ہے۔ اب صرف آنے والی رپورٹوں کا انتظار کرنا ہوگا۔‘‘

انہیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ تھوڑی ہی دیر بعد لاؤڈ اسپیکر پر ایک آواز سنائی دی۔ یہ ایک لڑاکا جہاز کا پیغام تھا۔ 

’’ہم نے مجرموں کو گھیرکر لیروک کے ائیرپورٹ پر چلنے کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنا جہاز موڑ لیا ہے۔ وہ بہت سست رفتاری سے آرہے ہیں۔‘‘

رابرٹ نے پائلٹ کا شکریہ اداکیا اور اسے ہدایت دی کہ اس کی پچھلی ہدایات پر عمل کرے۔ پھر اس نے مڑ کر اپنے اسسٹنٹ کمشنر سے کہا، ’’ انہوں نے اپنی رفتار سست اسی لیے کی ہے کہ موقع ملتے ہی کہیں اتر جائیں۔‘‘

پھر اس نے اگلا حکم دیا:

’’تمام کاروں سے رابطہ کر کے انہیں نئی پوزیشن بتادی جائے اور یہ بھی کہا جائے کہ وہ کہیں بھی اُترنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان کو ہر قیمت پر پکڑ لیا جائے۔ تمام افسروں کو بتا دیا جائے کہ مجرم مسلح ہیں۔‘‘ رابرٹ کے منھ سے الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ سڑکوں پر موجود پولیس کی بیس گاڑیوں تک یہ پیغام پہنچ گیا۔ یہ سب گاڑیاں مجرموں کے جہاز کے تعاقب میں تھیں اور مختلف سمتوں سے اسے گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پھر رابرٹ نے کرنل لوئس سے کہا:

’’مجھے ایک ایسا آدمی چاہیے جو اس جگہ سے اچھی طرح واقف ہو جہاں مجرموں کا جہاز پرواز کر رہا ہے۔‘‘

’’میں اس علاقے کے چپے چپے سے واقف ہوں۔‘‘ لوئس نے جواب دیا۔ اس کے بعد رابرٹ اور کرنل لوئس نے نقشوں کی مدد سے مجرموں کے جہاز کے محل وقوع کا اندازہ کیا ابھی وہ دونوں بات کر ہی رہے تھے کہ لڑاکا جہاز کے پائلٹ کا پیغام آگیا۔ 

’’پوزیشن 0040610 جہاز آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جارہا ہے۔ میرا خیال ہے وہ اتر رہے ہیں۔‘‘

رابرٹ واپس کنٹرول روم کی طرف بھاگا۔ اس نے بغیر کسی تاخیر کے مائیکروفون میں کہا:

’’پیغام مل گیا۔ سرخ اور سفید سگنل راکٹ فائر کردو۔ یہ سگنل بار بار فائر کیے جائیں۔‘‘

پائلٹ نے کہا:

’’ٹھیک ہے سپرنٹنڈنٹ! ہم تمہارے لیے اس سارے علاقے کو روشن کردیں گے۔‘‘

رابرٹ نے تمام کاروں سے رابطہ کرکے انہیں اس علاقے میں جانے کی ہدایت کی جہاں مجرموں کا جہاز اتر رہا ہے۔ رابرٹ نے انہیں بتایا کہ روشنی کے سگنل بھی دیے جارہے ہیں۔ رابرٹ نے تمام گشتی کاروں کو حکم دیا کہ کسی اجنبی کو نہ جانے دیا جائے، خاص طور سے ایک خوب صورت لڑکی پر نگاہ رکھی جائے جس نے نیلے اور سفید چیک کا لباس پہن رکھا ہے۔ مگر خبردار دھیان سے! مجرم مسلح ہیں۔ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

ابھی رابرٹ نے پیغام ختم ہی کیا تھا کہ جہاز کے پائلٹ کا پیغام آگیا:

’’ای۔آئی۔ایچ۔کالنگ رابرٹ۔ مجرموں کا جہاز اس علاقے پر اتر گیا ہے جس کا نمبر 040610 ہے۔ لوگوں کی اور کاروں کی ایک بھیڑ ہر طرف سے ان کی جانب بڑھ رہی ہے۔ میں بھی مسلسل ان کے اوپر چکر لگارہا ہوں اور روشنی کے سگنل برابر فائر کررہا ہوں۔‘‘

رابرٹ نے کنٹرول آفیسر کی طرف گھوم کر کہا:

’’جہازوں کو حکم دیا جائے کہ روشنی کے سگنل مسلسل فائر کرتے رہیں۔ پھر تمام کاروں کو نئی پوزیشن کے بارے میں بتادو۔‘‘

پھر رابرٹ نے پروفیسر نکل کو مخاطب کرکے بڑے پرجوش لہجے میں کہا:

’’پروفیسر! میرے ساتھ آؤ۔ تمھیں مجرموں کی شناخت کرنی ہے۔‘‘

اس کے بعد رابرٹ اور نکل اس جگہ کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں مجرموں کا جہاز اترا تھا۔ خالی سڑک پر ان کی کار بڑی تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ وہ اپنی منزل سے قریب آرہے تھے۔ مگر نہ تو انہیں مجرم نظر آرہے تھے اور نہ ان کا پیچھا کرنے والے پولیس والے۔

اسی وقت کار ایک زور دار جھٹکے سے رک گئی۔ سامنے سڑک پر پولیس کے سپاہیوں کا ایک گروہ کھڑا ہوا تھا۔ ان کے ہاتھ میں سرخ لالٹین تھی جو ہلا کر رابرٹ کو رکنے کا اشارہ کررہے تھے۔ کار رکنے کے بعد ایک سپاہی قریب آیا۔ جیسے ہی اس نے رابرٹ کو پہچانا اس کی ایڑیاں بج اٹھیں۔ رابرٹ نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا:

’’کہو کیا خبر ہے؟‘‘

سپاہی نے بتایا کہ جس جگہ مجرموں کا جہاز اترا ہے اس جگہ کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ اس وقت تقریباً پانچ میل کے علاقے کو پولیس نے گھیر رکھا ہے اور آہستہ آہستہ اپنا گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک موٹی رسی سے مکمل گھیرا بنا رکھا ہے۔ رابرٹ نے ایک نقشہ نکال کر کار کے بونٹ پر پھیلا دیا اور سپاہی سے پوچھا:

’’آخری مرتبہ انہیں کہاں دیکھا گیا ہے؟‘‘

سپا ہی نے نقشے میں ایک جگہ انگلی رکھتے ہوئے کہا، ’’جناب! اس گاؤں کے جنوب میں، مگر گاؤں میں اس لیے داخل نہیں ہوئے کہ گاؤں میں پولیس کی نفری موجود ہے۔‘‘

’’تمہارا کیا خیال ہے وہ کس طرح نکلیں گے؟‘‘ رابرٹ نے سپاہی سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:

’’اگر وہ گاؤں میں سے ہوکر آئیں تو وہ جلدی آسکتے ہیں ورنہ انہیں بہت بڑا چکر کاٹنا پڑے گا۔ شمال کی طرف سے وہ اس لیے نہیں جاسکتے کہ وہ علاقہ دلدلی ہے۔ اس کی مخالف سمت میں آتے ہیں تو یہ سڑک سیدھی ہے اور دو تین میل تک اس میں کوئی موڑ بھی نہیں ہے۔ ظاہر ہے اس سڑک پر تو چوہے کا بچہ بھی چھپ کر نہیں جاسکتا۔‘‘

رابرٹ کی نگاہیں نقشے پر جمی ہوئی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا:

’’اس گاؤں کے علاوہ اس علاقے میں کئی عمارتیں ہیں۔ یہ بتاؤ کہ گاؤں کے جنوب مشرقی حصے میں یہ عمارتیں کیا ہیں۔‘‘

’’ایک ہوٹل ہے جو پرائیوٹ پارک میں بنا ہوا ہے۔‘‘

’’ہاں، ٹھیک ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس ہوٹل کی تلاشی لینی چاہیے۔‘‘

پھر رابرٹ نے سپاہی سے پوچھا:

’’تمہارے ساتھ کتنے آدمی ہیں؟‘‘

’’مجھ سمیت پانچ ہیں جناب!‘‘

’’ٹھیک ہے، تین ہم ہیں۔ کافی رہیں گے۔‘‘

دو پولیس کاریں تیزی سے گاؤں کے راستے اس پارک کی طرف روانہ ہوئیں اور صرف پانچ منٹ میں وہ وہاں تھے۔ ہوٹل سے تقریباً دو سوگز پہلے رابرٹ نے کار روکی اور اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیں:

’’میرے ڈارئیور کو ساتھ لو اور اپنے تمام آدمیوں کے ساتھ آگے جاکر اس طرح پوزیشن سنبھالو کہ ہوٹل کی عمارت کی ہر طرف سے نگرانی ہوسکے۔ جو بھی نظر آئے اسے رکنے کا حکم دو، اگر حکم نہ مانے تو گولی مار دو۔ کاروں سے اترنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلو کہ کوئی انہیں لے کر بھاگ نہ جائے۔‘‘

اس کے بعد رابرٹ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے انسپکٹر سے کہا، ’’ تم میرے ساتھ آؤ۔‘‘

ہوٹل کے داخلی دروازے میں انہیں ایک اونگھتا ہوا ملازم ملا۔ جب سپرنٹنڈنٹ نے اسے جھنجھوڑ کر اپنا تعارف کرایا تو اس کی نیند غائب ہوگئی۔ رابرٹ نے اس سے پوچھا:

’’آج کی رات کوئی مسافر آیا ہے؟‘‘

’’جی ہاں جناب! ایک آدمی آیا ہے۔ اس کی کار یہاں سے چند میل کے فاصلے پر خراب ہوگئی ہے۔ میں نے اس کو اس کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ جاتے ہی بستر پر ڈھیر ہوگیا تھا۔‘‘ پھر ایک دم اسے کوئی بات یاد آگئی۔ اْس نے چٹکی بجا کر رابرٹ سے کہا:

’’جناب، ایک بات بڑی عجیب و غریب ہوئی تھی۔ اس آدمی نے کہا تھا کہ اسے پورے ایک پرائیوٹ سویٹ کی ضرورت ہے۔ اب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ سویٹ میں کئی کمرے ہوتے ہیں جب کہ وہ اکیلا تھا۔ اور پھر اس نے یہ شرط بھی رکھ دی تھی کہ یہ سویٹ نچلی منزل پر ہونا چاہیے۔ جس میں کھڑکیاں اس طرح ہوں کہ ہر طرف سے پارک پر نظر رکھی جاسکے۔ جناب، یہ واقعی بڑی حیرت کی بات ہے۔ اکیلا مسافر اور اس کے یہ نخرے!‘‘

’’وہ کب یہاں آیا تھا؟‘‘

’’تقریباً دس منٹ پہلے جناب!‘‘

پھر تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد رابرٹ نے ہوٹل کے ملازم سے کہا:

’’تم ایسا کرو کہ اس مسافر کے کمرے میں ٹیلے فون کرواور کہو کہ تم اس کے کمرے کے ہیٹر کو چیک کرنے آرہے ہو۔ بس ٹیلے فون پر اتنی بات کرنے کے بعد فون بند کردینا۔ اس بات کا خیال رہے کہ تم صرف اپنی بات کرو گے اور اس کو کوئی سوال کرنے کا موقع نہیں دو گے۔ سمجھ گئے؟‘‘

ملازم نے ہاں میں سر ہلایا۔ پھر اس نے فون اٹھایا اور مسافر کے کمرے کا نمبر ملانے لگا۔ اس دوران پروفیسر نکل خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا۔ رابرٹ نے اس سے کہا،’’پروفیسر! تم یہیں ٹھہر کر میرا انتظار کرنا۔‘‘

’’ نہیں سپرنٹنڈنٹ! میں شروع سے ہی ساری کہانی دیکھ رہا ہوں۔ اب اس کا خاتمہ بھی مجھے دیکھ لینے دو۔‘‘

’’ ٹھیک ہے۔ مگر چوں کہ تمہاری حفاظت کی ذمے داری بھی مجھ پر ہی ہے اس لیے باہر رک کر انتظار کرنا۔ اگر تم دیکھو کہ میں کسی مصیبت میں پھنس گیا ہوں تو بے شک اندر چلے آنا۔‘‘

پروفیسر نے وعدہ کیا کہ وہ رابرٹ کے حکم پر عمل کرے گا۔ پھر وہ دونوں کو ریڈور کی طرف چل دئیے۔ موٹے اور نفیس قالین پر ان کے چلنے کی آواز تک نہیں ہورہی تھی۔ رابرٹ کے کان ملازم کی گفتگو پر تھے جیسے ہی اس نے اپنی بات پوری کر کے فون بند کیا رابرٹ نے بجلی کی طرح دروازہ کھول دیا۔ 

اندر کمرے میں تین افراد حیران پریشان رابرٹ کو تک رہے تھے۔ ولسن کی تصویر رابرٹ نے پہلے ہی دیکھ لی تھی، وہ اسے پہچان گیا۔ مگر دوسرا آدمی اس کے لیے اجنبی تھا۔ سونے کے کمرے کے دروازے میں سے جوائے ولسن کا خوف زدہ چہرہ بھی نظر آرہا تھا۔

پھر جیسے ہی ولسن نے صورت حال کو سمجھا اس نے مڑ کر کھڑکی کی طرف دوڑ لگادی۔ رابرٹ نے چیخ کر کہا، ’’رک جاؤ ولسن! باہر ہر طرف سے تم کو گھیرا جاچکا ہے۔ نکلتے ہی مار دئیے جاؤ گے۔‘‘ کامیابی کو اتنے قریب دیکھ کر رابرٹ کا رواں رواں بیدار ہوگیا تھا۔ اس نے اپنی جیکٹ کی جیب سے سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پستول نکالا اور انہیں حکم دیا:

’’اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دو!‘‘

دوسرا آدمی جو بہت سہما ہوا تھا اچانک بولا:

’’میں تو صرف پائلٹ ہوں۔‘‘ مگر رابرٹ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ جوائے ولسن بہت تھکی تھکی نظر آرہی تھی۔ اس نے کہا:

’’ٹھیک ہے رابرٹ! تم نے ہمارا پتا چلا لیا ہے۔ مگر بے وقوف انسان! تم نے ہمیں تو پکڑ لیا ہے، مگر ہیرے تمہیں کبھی نہیں مل سکیں گے۔‘‘

’’خاموش رہو جوائے!‘‘ ولسن نے اپنی بیوی سے کہا، مگر جوائے نے اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی اور بولتی رہی۔ ’’اگر تم برسوں بھی جھک مارتے رہے تب بھی ہیرے تمھیں نہیں مل سکیں گے، سیکڑوں برس بعد بھی تمھیں کچھ نہیں ملے گا۔‘‘ یہ کہہ کر جوائے ولسن سسکیاں بھرنے لگی۔ جس آدمی نے اپنے آپ کو پائلٹ کہا تھا کچھ بولنے کی کوشش کی، مگر رابرٹ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کردیا اور کہا:

’’تمہارا بیان میں بعد میں لوں گا، ابھی خاموش رہو۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد تم سب کو بیان دینے کا موقع دیا جائے گا۔‘‘ پھر رابرٹ نے کھڑکی کے پاس جاکر اپنی مخصوص سیٹی بجائی۔ چند لمحوں بعد ہی کمرا سپاہیوں سے بھر چکا تھا۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا:

’’ان سب کو لے جاؤ، مگر دھیان سے۔ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘

ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر ولسن اور اس کے ساتھی کو ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ ولسن نے اپنی بیوی جوائے کی طرف منھ کر کے کہا:

’’جوائے! ہوشیار رہنا اور بالکل کچھ نہ کہنا۔‘‘

اسی وقت سپاہی نے اس کے منھ پر اپنا چوڑا چکلا ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کردیا اور پھر اس کو دھکے دیتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا۔ 

صبح ہورہی تھی، مگر رابرٹ ابھی تک چی چیسٹر کے پولیس اسٹیشن میں موجود تھا۔ پروفیسر کو اس نے آرام کرنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ مگر خود ابھی تک بے آرام تھا۔ اس کے سامنے ایک اہم سوال تھا اور وہ سوال یہ تھا کہ ہیرے کہاں ہیں؟

ولسن کو اس کی بیوی جوائے کو اور پائلٹ کو کافی مجبور کیا گیا تھا کہ وہ کسی طرح ہیروں کا پتابتا دیں ۔ان پر ہر قسم کے ہتھکنڈے آزمائے گئے، مگر وہ تو پتھر بن چکے تھے۔ ولسن اور جوائے نے تو صاف صاف منع کردیا تھا کہ وہ نہیں بتائیں گے کہ انہوں نے ہیرے کہاں چھپائے ہیں۔ البتہ دوسرے آدمی ریڈر نے جو اپنے آپ کو پائلٹ کہہ رہا تھا، کہا کہ وہ ہیروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ جس جہاز میں وہ فرار ہورہے تھے اس کی مکمل تلاشی لی گئی۔ کریش لینڈنگ کی وجہ سے جہاز کو کافی نقصان پہنچاتھا، مگر ہیرے نہ اس میں ملے اور نہ کہیں آس پاس۔ جہاز کے ارد گرد کی زمین کا چپا چپا چھان مارا گیا، مگر ہیرے نہ ملے۔ 

رابرٹ کو اب یہ یقین ہوچلا تھا کہ ہیرے اس جہاز میں تھے ہی نہیں، انہیں کہیں اور ہی چھپایا گیا ہے، رابرٹ بہت مایوس نظر آرہا تھا۔ اس کی ساری محنت پر پانی پھرگیا تھا، جب تک ہیرے نہ ملتے اس کی کامیابی ادھوری تھی۔ حالاں کہ اس نے نہ صرف پروفیسر کو چھڑالیا تھا، بلکہ اغوا کرنے والوں کو بھی گرفتار کرلیا تھا مگر وہ یہ جانتا تھا کہ اگر وہ ہیروں کو برآمد نہ کرسکا تو لوگ اس پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ اور اس کی کامیابی کو کامیابی مانیں گے ہی نہیں۔ پچھلی رات سے وہ بے حد مصروف تھا اور ایک لمحے کو بھی نہیں سویا تھا۔ اس کے باوجود وہ چاق و چوبند نظر آرہا تھا۔ اس کا ذہن تیزی سے اس گتھی کو سلجھانے میں مصروف تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ وہ اگر ولسن کی جگہ ہوتا تو ہیروں کو کہاں اور کیسے چھپاتا۔ یہ رابرٹ کا تفتیش کا مخصوص طریقہ تھا کہ وہ خود کو مجرم تصور کرکے کیس کا جائزہ لیتا تھا، ولسن اور جوائے بے حد ذہین اور چالاک تھے۔ یہ ممکن تھا کہ انہوں نے ہیروں کو کسی جگہ چھپادیا ہو اور یہ سوچا ہوکہ جب ہنگامہ ختم ہوجائے گا تو آرام سے نکال کر لے جائیں گے۔ مگر انہوں نے اس کے لیے بہت ہی خاص جگہ چنی ہوگی جس کی طرف کسی کا دھیان نہ جاسکے۔ پھر رابرٹ نے سوچا کہ ولسن کے پاس جہاز کی روانگی سے پہلے صرف چند ہی لمحے تھے۔ انہی لمحات میں ہیرے کہیں اس نے چھپائے ہوں گے اور یقیناًایسی جگہ چھپائے ہوں گے جہاں برسوں میں بھی کسی کا دھیان نہ جاسکے۔ اب رابرٹ کی نظریں اس فارم میں تھیں جہاں اس نے پروفیسر کو چھڑالیا تھا۔

صبح ہوچکی تھی۔ رابرٹ نے پہلے تو اطمینان سے غسل کیا۔ اس کے بعد ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ اس کے بعد وہ فارم ہاؤس پہنچا۔ اس کے ساتھ ایک ٹرک تھا، جس پر رڈار اسکرین لگا ہوا تھا۔ اس کی مدد سے وہ فارم ہاؤس کے پاس موجود ایک خالی اور گہرے کنویں تک پہنچ گیا۔ اندر کنویں کی تہ میں ایک فٹ تک نرم اور گیلی مٹی کھودنے کے بعد اس کو اسٹیل کا بنا ہوا وہ بکس مل گیا۔ جس پر اس نے خاص کیمیائی مادہ لگایا تھا۔ مگر اس وقت رابرٹ کا چہرہ اتر گیا جب اس نے دیکھا کہ بکس خالی تھا۔

رابرٹ نے پولیس کے بہت سارے سپاہیوں کو بلایا تھا اور انہیں حکم دیا کہ پورے فارم ہاؤس کے آس پاس کی بھی اچھی طرح تلاشی لی جائے۔ کوئی جگہ نہ چھوڑی جائے اس کے بعد فارم کے آس پاس کی بھی اچھی طرح تلاشی لی جائے۔ یہ ہدایات دینے کے بعد رابرٹ کو بہت زیادہ امید نہیں تھی کہ اسے کامیابی ملے گی۔ پروفیسر نکل اس کہانی کا اختتام دیکھنے کے لیے اب بھی رابرٹ کے ساتھ تھا۔ رابرٹ نے پروفیسر سے کہا:

’’میرا خیال ہے کہ ہیرے اس فارم ہاؤس میں یا اس کے آس پاس کہیں نہیں ہیں۔ ولسن بہت چالاک ہے۔ ہم نے ہر موقع پر اس کی ہشیاری دیکھی ہے۔ وہ کبھی ایسی جگہ ہیرے نہیں چھپاسکتا جس کی طرف کسی کا دھیان جائے۔‘‘

’’تو پھر آپ کے خیال میں اس نے ہیرے کہاں چھپائے ہیں سپرنٹنڈنٹ!‘‘ نکل نے پوچھا۔

’’اسی جگہ کا تو ہمیں پتا لگانا ہے۔‘‘ رابرٹ نے جواب دیا۔

گھنٹوں کی تلاشی کے بعد بھی کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ رابرٹ ابھی تک اس جگہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جہاں ولسن جیسا ہوشیار آدمی ہیرے چھپاسکتا ہے۔ صبح سے شام ہوگئی اور پھر رابرٹ نے سب لوگوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ پھر اس سارے رستے کی مکمل تلاشی لی گئی جس سے مجرم جہاز سے نکل کر ہوٹل تک پہنچے تھے، مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

رابرٹ بہت ہی ناخوش نظر آرہا تھا۔ رات کا کھانا اس نے پروفیسر نکل اور انسپکٹررازلے کے ساتھ ایک مقامی ہوٹل میں کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد ویٹر نے ان کی میز پر پنیر لاکر رکھ دیا۔ جس کے سفید ٹکڑے ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی سڑک کے کنارے لگے ہوئے سنگ میل۔ 

رابرٹ خاموش بیٹھا پنیر کے ٹکڑے کو گھور رہاتھا۔ اچانک اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ اس نے انسپکٹر رازلے سے کہا:

’’رازلے، کار منگواؤ، جلدی کرو۔‘‘

کار میں بیٹھنے کے بعد راستے میں رابرٹ نے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ابھی خاموش رہیں اور کچھ نہ پوچھیں۔ فارم ہاؤس سے چند گز پہلے اس نے کار رکوائی اور باہر آگیا۔ پھر وہ سڑک کے کنارے لگے ہوئے سنگ میل کی طرف بڑھا۔ رازلے، نکل اور ڈرائیور بھی اس کے ساتھ تھے۔ اس کے بعد رابرٹ نے نیچے بیٹھ کر سنگ میل کے پیچھے کے حصے کو ہاتھوں سے کھرچنا شروع کردیا۔ مٹی بھربھری تھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ حال ہی میں بھری گئی ہے۔ چند لمحوں بعد ہی اس نے پتھر کا ایک چوکور ٹکڑا وہاں سے ہٹایا اور اندر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ اس کے سب ساتھی بھی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اندر جھانک رہے تھے۔ اندر کاغذ میں لپٹی ہوئی کوئی چیز پڑی تھی۔ جب کاغذ کے اس پیکٹ کو کھولا تو یہ دیکھ کر سب مسکرادئیے کہ اس میں ہیرے جگمگا رہے تھے۔