ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقناولمونٹی کرسٹو کا نواب

مونٹی کرسٹو کا نواب

مصیبتوں کا سمندر عبور کرنے والے با ہمت ملاح کی حیرت انگیز کہانی

الیگزنڈر ڈوما کے مشہور فرانسیسی ناول کا اردو خلاصہ

مسعود احمد برکاتی

.................. 

 

جہاز کپتان کے بغیر 

سب سے پہلے ایک چھوٹے سے بچے کی نظر بحری جہاز ’’فیرون‘‘ پر پڑی۔ یہ جہاز کپڑے اور رنگ لے کر مارسیلز (فرانس) سے آ رہا تھا۔ اس کو دیکھنے کے لیے ایک ہجوم سمندر کے کنارے جمع ہو گیا تھا۔ 1815ء میں کوئی جہاز بندرگاہ پہنچتا تھا تو لوگ بڑے اشتیاق سے دیکھتے تھے۔ اس زمانے میں کسی بڑے بحری جہاز کو چلانا ایک مشکل کام ہوتا تھا، لیکن فیرون بندرگاہ کی طرف اتنی دھیمی رفتار سے آ رہا تھا کہ تماشائی سمجھ گئے کہ ضرور کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ جہاز کے مالک مسٹر موریل اپنے جہاز کی واپسی کی خبر سن کر پھولے نہ سما رہے تھے۔ انھوں نے پرانے جہاز لیک لیئر کی جگہ ایک لمبے ملاح کو جہاز کے انجن پر بیٹھے دیکھا تو ان کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ جلد سے جلد حقیقت معلوم کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک کشتی پر بیٹھ کر جہاز کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب وہ جہاز کے قریب پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ جہاز کی کمان ایدمند دانتے کے ہاتھ میں ہے۔ ایدمند نے رسا لٹکوایا اور موریل جہاز پر چڑھ گئے۔ انھوں نے بڑی بے چینی سے ایدمند کے گہری ذہین آنکھوں میں جھانکا، جن میں ہمدردی جھلک رہی تھی۔ ایدمند بولا:

 ’’جناب اچھی خبر نہیں ہے۔ کپتان لیک لیئر کا انتقال ہو گیا ہے اور ہم نے ان کو سپردِ سمندر کر دیا۔ جب ہم نیپلز (اٹلی) سے روانہ ہوئے تو وہ یکایک دماغی بخار کا شکار ہو گئے۔ وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے، اس لیے میں نے کمان سنبھالی اور کارکنوں سے کام لینے لگا۔ آپ کا جہاز اور اس کا سامان بالکل محفوظ ہے۔‘‘

یہ خبر سن کر موریل کے چہرے کے کئی رنگ بدلے۔ ان کا کپتان ختم ہو چکا تھا، لیکن ان کے سامنے جو شخص کھڑا تھا وہ کپتان کا اچھا جانشین معلوم ہوتا تھا۔ ایدمند دانتے مضبوط اور اونچا پورا تھا اور سمندر سے بھی واقف تھا۔ اس کا خوب صورت چہرہ کئی بحری سفروں کی وجہ سے جھلس گیا تھا، لیکن اس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ موریل نے ایدمند کا شکریہ ادا کیا اور اس سے ہاتھ ملا کر کہا، ’’مجھے اپنے ساجھی سے مشورہ کرنا پڑے گا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تمھیں فیرون کا کپتان بنانے سے اس کو اتفاق ہو گا۔‘‘

ایدمند کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ اس نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ آپ مجھے موقع دیں گے۔ جہاز کے کارکن میرے بھائیوں کی طرح ہیں اور مجھے امید ہے کہ میرے تقرر پر کوئی ناراض نہیں ہو گا اور۔۔۔۔۔۔‘‘ ایدمند کہتے کہتے رک گیا۔ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو نیچے سے آیا تھا۔ یہ درشت چہرے والا شخص کوئی 26 برس کا ہو گا۔ اس کا نام دانگلر تھا۔ ایدمند نے اپنے آخری جملے کی اصلاح کرتے ہوئے کہا۔ ’’صرف ایک آدمی ہے جو بھائی کی طرح نہیں ہے۔ معاف کیجیے سر، میں پہلے لنگر ڈالنے  اور جہاز کو کنارے لگانے کی ہدایت دے دوں۔‘‘

دانگلر نے قریب آ کر مالک کو بڑی عزت کےساتھ سلام کیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں رہا ہے اور کہنا شروع کیا:

’’جناب مجھے جہاز کے غلط استعمال کے بارے میں آپ کو بتانا ہے۔ جیسے ہی ہمارے قابل کپتان کا دم آخر ہوا اس شخص دانتے نے اسکی جگہ پر قبضہ کر لیا۔ پھراس نے جزیرہ ایلبا میں رک کر ہمارا وقت بیکار ضائع کیا۔ جہاز کو مرمت کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ شاید یہ لمبے سفر کے بعد سمندر کے کنارے ہوا خوری کرنا چاہتا تھا۔ پھر آپ جانتے ہیں یہ کپتانی کے لیے بہت کم عمر ہے۔‘‘

موریل نے ناپسندیدگی ظاہر کی اور بولے:’’ہاں یہ تو اس نے اچھا نہیں کیا، لیکن جہاں تک جہاز کی کمان سنبھالنے کا تعلق ہے، یہ دانتے کا حق ہے کیونکہ وہ پہلے نمبر پر ہے۔ یہ تجربہ اچھا ہوا۔ اگر میرا ساجھی راضی ہو گیا تو اب دانتے ہی کپتان ہو گا۔‘‘

اس جواب سے دانگلر بہت مایوس ہوا مگر اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ وہ خود کپتان بننا چاہتا تھا،  خاص طور پر اچھی تنخواہ کی وجہ سے۔

جب موریل نے ایدمند سے جزیرہ ایلبا پر رکنے کے متعلق پوچھا تو اس کا جواب اطمینان بخش تھا۔ اس نے بتایا کہ کپتان لیک لئیر کے دماغ پر اثر ہونے سے ذرا ہی پہلے اس نے جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے پروگرام کے مطابق نپولین کے سامنے حاضر ہونا میں نے اپنا فرض سمجھا اور یہ بھی کہ جو کچھ نپولین حکم دے اس پر عمل کروں، آخر وہ ہمارا سابق بادشاہ ہے۔ نپولین کا نام سن کر موریل نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ نپولین سے اس کی حکومت چھین لی گئی تھی اور وہ ایلبا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، لیکن بہت سے فرانسیسی اس کو دوبارہ حکومت دِلانے کے لیے خاموشی سے کام کر رہے تھے۔ موریل ایک تاجر تھے اور سیاست سے دور رہتے تھے، اس لیے انہوں نے ایلبا کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا اور ایدمند کو ہدایت کی کہ وہ کسی اور سے اس کا ذکر نہ کرے۔

ایدمند بولا، ’’کپتان لیک لئیر نے مجھ سے یہی کہا تھا اور اگر آپ مجھ سے خود نہ پوچھتے تو میں آپ سے بھی ایلبا کا ذکر نہ کرتا۔ سر! اب میں آپ سے کچھ دن کی چھُٹی چاہوں گا۔ سامان کے اندراج کا  کام دانگلر کرلے گا۔‘‘

موریل مسکرائے،’’میرے خیال میں تمھیں شادی کرنے کے لئے رخصت چاہیے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک نوجوان خوب صورت لڑکی ’’مرسیدیز‘‘ تمھاری منتظر ہے۔ رخصت منظور کی جاتی ہے ۔‘‘

مرسیدیز کی وفاداری اور خوب صورتی کی تعریف سے اید مند کا چہرہ  ِکھل اٹھا۔ ’’جی سر! ہم فوراً ہی ایک بندھن میں بندھ جانا چاہتے ہیں، لیکن پیرس جا کر ایک امانت پہنچانا ضروری ہے۔‘‘

ایک گھنٹے بعد ایدمند ایک چھوٹے سے فلیٹ کا زینہ چڑھ رہا تھا جس میں وہ اپنے باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ باپ نے اپنے بیٹے کو گلے سے لگایا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ خیر سے گھر لوٹ آیا۔ باپ بیٹے کے سفر کے بارے میں بہت کچھ پوچھنا اور اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس کو معلوم تھا کہ ایدمند کا کوئی انتظار کر رہا ہے۔ اس نے کہا، ’’جاؤ بیٹا، اب مرسیدیز سے مل آؤ۔ اتنی دیر میں میں اچھا سا کھانا تیار کرتا ہوں۔‘‘

ایدمند مرسیدیز کے گھر پہنچا تو وہ اپنے چچا زاد بھائی فرناند سے ایک بحث میں الجھی ہوئی تھی۔ فرناند فوج میں کام کرتا تھا۔ایدمند کے بحری سفر پر جانے کے بعد سے مرسیدیز کو کئی بار اس قسم کی تلخ باتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔فرناند مرسیدیز سے شادی کرنا چاہتا تھا۔جب بھی فرناند شادی کا ذکر کرتا مرسیدیز اس سے صاف کہہ دیتی کہ وہ ایدمند کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات فرناند کو مشتعل کر دیتی کہ وہ اپنی تلوار سونت لیتا اور وحشیانہ انداز سے ہوا میں لہرا کر کہتا، ’’قسم کھاتا ہوں،میں ایدمند کو جان سے مار دوں گا۔‘‘ ہر بار یہ الفاظ سن کر مرسیدیز کہتی کہ اگر ایدمند کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو وہ فرناند سے ایک بہن کی حیثیت سے جو محبت کرتی ہے وہ بھی نفرت میں بدل جائے گی۔اس وقت بھی مرسیدیز نے اپنے وہی قطعی الفاظ دہرائے کہ ’’میں ایدمند کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی!‘‘

اسی لمحے ایدمند داخل ہوا اور مرسیدیز کا یہ اعلان اس کے کان میں پڑا۔ جیسے ہی مرسیدیز کی نگاہ ایدمند پر پڑی وہ خوشی سے اُچھل پڑی اور اس کی طرف دوڑی۔ دونوں خوش ہوئے اور انھوں نے زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا عہد تازہ کیا۔جب ایدمند نے بتایا کہ وہ فیرون جہاز کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے تو مرسیدیز کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔قریب ہی کھڑے ہوئے فرناند کو دونوں نے بھلا دیا تھا۔ وہ دونوں کو حسد سے دیکھ رہا تھا۔فرناند، ایدمند دانتے سے انتہائی نفرت کرتا تھا،مگر بے بس تھا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

گرفتاری

آخر جب فرناند سے دونوں کو خوش ہوتے نہ دیکھا گیا تو وہ گھر سے باہر نکل گیا۔ مرسیدیز اس کے پیچھے آئی۔ اس نے کہا، ’’عزیز بھائی، میری خواہش ہے کہ تم میرے ہونے والے شوہر کو گلے لگاؤ ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمھیں ایک سچا دوست پائے گا، جیسا کہ میں نے تمھیں پایا۔‘‘ فرناند اس عجیب مطالبے پر پیچھے ہٹ گیا۔ اتنے میں ایدمند اس کے قریب مسکراتا ہوا آیا اور جب اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو فرناند مجبور ہو گیا۔ اس نے سرد مہری سے سرسری ہاتھ ملایا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ اس کو خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ وہ اتنا پریشان تھا کہ دانگلر کے پاس سے بغیر دیکھے گزر گیا۔ دانگلر اور ایک اور آدمی ایک سرائے کے باہر میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ پینے پلانے کا شغل جاری تھا۔ دانگلر نے فرناند کو آواز دی اور ساتھ ہی بیرے کو ایک گلاس اور لانے کو کہا۔ فرناند اپنا نام سُن کر یوں دیکھنے لگا جیسے وہ کسی ڈراؤنے خواب سے جاگا ہو۔ اس نے پوچھا:

’’مجھے تم نے پکارا ہے؟‘‘

میز پر دوسرا آدمی ایدمند کا پڑوسی کا دیرُوس تھا۔اب اس نے جواب دیا:

’’ہاں ہم نے بلایا ہے۔ جب ہم نے دیکھا کہ ایک ناکام نوجوان گلیوں میں دیوانوں کی طرح دوڑ رہا ہے تو ہم سمجھ گئے کہ قسمت اس پر مہربان نہیں ہوئی، اس لئے ہم اُس کی تھوڑی سی خاطر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے کا دیرُوس نے تیسرے گلاس میں مشروب انڈیلا مگر وہ سب نیچے گر گیا۔ کا دیرُوس ہوش میں نہیں تھا۔ وہ سات گلاس چڑھا چکا تھا۔فرناند کراہتے ہوئے بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ وہ بڑبڑایا، ’’اس کو سمندر کیوں نہیں نگل گیا۔ دوسرے لوگ جاتے ہیں تو لوٹتے نہیں۔ ایدمند کیوں واپس آگیا اور مرسیدیز پر حق جتانے لگا۔‘‘

کا دیرُوس نے دانگلر کو آنکھ سےاشارہ کیا اور کہنے لگا،’’دیکھو بھئی دانگلر، تمھارا ایک بھائی مصیبت میں ہے۔ تم دونوں کو خوب صورت اور خوش قسمت ایدمند دانتےسے نفرت ہے۔‘‘ دانگلر ہوش میں تھا۔اس کا دماغ پوری طرح اسی سوچ بچار میں لگا ہوا تھا۔ اس نے پریشان حال فرناند کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی ترکیبیں سوچنی شروع کر دیں۔ اس نے بے پروائی سے کہا کہ ’’کہانیوں میں دو رقیب چاقو سے ایک دوسرے کا  کام تمام کر دیتے ہیں،لیکن شاید حقیقی آدمی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی۔‘‘

فرناند نے اس جملے کو اپنی توہین سمجھا اور دانگلر کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا، ’’ایک سپاہی اور ایک انسان کی حیثیت سے ایدمند کے سینے میں چاقو اتار دینے میں مجھے ذرا تامل نہ ہوتا،لیکن افسوس مرسیدیز نے مجھے روک دیا ہے۔ مجھے ایدمند کی موت اور مرسیدیز کی نفرت ایک ساتھ ملے گی۔‘‘

کا دیرُوس نے مزہ لیتے ہوئے جواب دیا، ’’تو پھر ٹھیک ہے۔ تم فیرون جہاز کی دوبارہ روانگی سے پہلے اُن دونوں کی شادی کی تقریب دیکھ لینا اور یہ بھی کہ اس بار فیرون اپنے نئے کپتان ایدمند دانتے کی کمان میں روانہ ہو گا۔‘‘

اب دانگلر کی باری تھی۔ اس نے سر اٹھا کر غصے سے دیکھا اور بولا،’’کادیرُوس،  شکریہ کہ تم نے میرے نقصان کا ذکر نہیں کیا، لیکن جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ افسروں کو معلوم ہوتا تو ایدمند کبھی کپتان نہیں بنایا جاتا، بلکہ وہ بادشاہ لوئی 18 کے خلاف سازش کرنے کی سزا میں قید کر دیا جاتا۔‘‘

دانگلر کو اندازہ ہوا کہ فرناند پوری توجہ سے اس کی بات سُن رہا ہے۔ وہ میز پر آگے کی طرف جھکا اور سرگوشی میں کہنے لگا، ’’ایدمند دانتے نے جہاز کو جزیرہ ایلبا پر روکا تھا اور وہاں بادشاہ کے دُشمن یعنی جلا وطن نپولین سے ملنے گیا تھا۔ واپس آیا تو اس کے پاس ایک خط تھا۔ یقیناً یہ خط پیرس میں نپولین کے دوست کے نام ہو گا۔ پھر جب ہم یہاں پہنچ گئے تو ایدمند نے موریل صاحب سے چھٹی مانگی، شادی کے نام سے،  لیکن دراصل ایک امانت پیرس پہنچانے کے لئے مانگی تھی۔یہ امانت یہی خط ہو گا۔‘‘

فرناند کو بڑی حیرت ہوئی۔اس نے پوچھا کہ’’ اب وہ خط کہاں ہے؟‘‘

 دانگلر نے بتایا کہ’’ وہ خط تین جگہوں میں سے کسی ایک جگہ ہو گا۔ایدمند اپنے ساتھ لے جا رہا ہو گا یا اس نے اپنے باپ کے گھر رکھا ہو گا یا وہ جہاز پر اس کے کیبن میں ہو گا۔فرناند اب تو بالکل پیلا پڑ ہو گیا۔اس نے بڑے عزم سے کہا، ’’میں سرکاری وکیل کے پاس جاؤں گا اور ایدمند دانتے کو شاہ دشمن ثابت کر دوں گا!‘‘

دانگلر نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا۔ اس نے کہا، ’’سرکاری وکیل تم سے تحریری درخواست لے گا۔ پھر وہ لوگ ایدمند کو کچھ عرصے کے لئے جیل بھیج دیں گے۔ جیل سے باہر آتے ہی ایدمند تم سے بدلہ لے گا۔تم سپاہی ہو،اس لئے ایدمند کو جواب دے سکتے ہو،جان سے بھی مار سکتے ہو، لیکن تم نے ایسا کیا تو مرسیدیز تم سے نفرت کرنے لگے گی، بلکہ وہ تو اُسی وقت تم سے دور ہو جائے گی جب تم ایدمند کے خلاف رپورٹ کرو گے۔‘‘

فرناند نے اپنی بے بسی کا اقرار کیا اور بولا، ’’تم صحیح کہتے ہو۔ میں ایدمند کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘

دانگلر نے کہا،’’ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ میں ابھی بتاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اُس نے بیرے سے کاغذ اور قلم منگوایا اور ایک خط لکھنا شروع کیا۔ مگر وہ یہ خط اُلٹے ہاتھ سے لکھ رہا تھا تاکہ اس کی تحریر پہچانی اور پکڑی نہ جاسکے۔ اس نے خط میں ایدمند کے بارے میں وہ سب باتیں لکھ دیں جو اس نے ابھی فرناند اور کا دیرُوس کو بتائی تھیں۔ خط کے آخر میں اس نے کسی کا نام لکھنے کے بجائے صرف ’’ایک دوست‘‘ لکھ دیا۔ فرناند نے دانگلر سے خط لے کر اونچی آواز میں پڑھا۔کادیرُوس نشے میں تھا،مگر اُس نے خط کا مضمون غور سے سُنا اور بولا:

’’ارے،یہ تو بڑا خطرناک قدم اُٹھا رہے ہو۔ ایدمند میرا پڑوسی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہاری اس حرکت سے اس کے باپ کو سخت صدمہ پہنچے گا۔‘‘ کا دیرُوس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے خط چھیننے کی کوشش کی، لیکن دانگلر نے جلدی سے خط فرناند کے ہاتھ سے جھپٹ لیا اور اس کو موڑ توڑ کر گولا سا بنا دیا اور بات ہنسی میں ٹالتے ہوئے کہنے لگا کہ ’’تم صحیح کہتے ہو،ہم تو صرف تفریح کر رہے تھے۔ میں سنجیدگی سے اس قسم کا  کاغذ بھیجنے کا نہیں سوچ سکتا،کیوں کہ ایدمند جہاز میں میرا ساتھی ہے۔‘‘ اُس نے مُڑے ہوئے خط کو میز کے قریب لگے ہوئے پودوں میں پھینک دیا۔ پھر کہنے لگا، ’’کا دیرُوس! آؤ میں تمہیں گھر پہنچا آؤں۔ زیادہ نشے میں آدمی لڑکھڑانے لگتا ہے۔ اللہ حافظ فرناند۔‘‘

دانگلر نے کا دیرُوس کو سہارا دیا اور وہ سرائے سے جانے لگے۔ کا دیرُوس نشے کی وجہ سے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ دانگلر نے چلتے چلتے مُڑ کر دیکھا۔ فرناند اُٹھ کر پودوں میں خط تلاش کر رہا تھا۔ دانگلر مسکرایا۔ وہ خوش تھا کہ اس کی چالاکی کام کر گئی اور اس کا اندازہ صحیح نکلا کہ فرناند خط اُٹھا کر بھیج دے گا۔

دوسرے دن دوپہر کو اسی سرائے میں لوگوں کا ہجوم داخل ہو رہا تھا۔یہ لوگ خوب بنے ٹھنے تھے۔انھوں نے عمدہ لباس پہن رکھے تھے۔آگے آگے ایدمند دانتے تھا۔ اس کا خوب صورت چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔مرسیدیز اس کے سیدھے ہاتھ پر تھی۔ اس نے لمبا سفید گاؤن پہن رکھا تھا۔ اس سادہ مگر نفیس لباس میں وہ مارسیلز کی ایک 17 سالہ لڑکی کے بجائے یونانی دیوی لگ رہی تھی۔ اس کے سر پر پھولوں کا گجرا لگا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ایدمند کے لباس میں صرف ایک پھول ٹنکا ہوا تھا۔ اسی قسم کا ایک پھول اس کے باپ مسٹر دانتے کے خوب صورت سیاہ کوٹ کے خوش نما کالر پر سجا ہوا تھا۔انھوں نے کوٹ کو برش سے اچھی طرح صاف کیا تھا اور اس کے فولادی بٹنوں پر پالش کر کے خوب چمکایا تھا۔ ان کے سفید بالوں پر ایک تِکونا ہیٹ بانکے انداز سے جما ہوا تھا۔ وہ ہجوم میں مرسیدیز کے بالکل پیچھے چل رہے تھے۔ مسٹر دانتے کے بعد مسٹر موریل تھے۔ جہاز کے مالک ہونے کی  ِبنا پر ا ِن کی شرکت محفل کا وقار بڑھا رہی تھی۔ ان کے برابر فرناند تھا جو بالکل پیلا پڑ گیا تھا۔ لوگ اس کو بیمار سمجھ رہے تھے۔ اس کے بعد کا دیرُوس اور دانگلر تھے اور جہاز کے کئی ملاح۔  ان کی بیویاں بھی ساتھ تھیں۔ یہ جلوس ایدمند اور مرسیدیز کی منگنی کی خوشی میں ظہرانے کے لئے جا رہا تھا۔

اُس روز سرائے عام لوگوں کے لئے بند کر دی گئی تھی اور تمام میزوں کو برابر برا بر جما کر ایک بڑی میز بنا دی گئی تھی۔ مرسیدیز میز کے درمیان میں بیٹھی تھی۔ اس کے ایک طرف ایدمند کے باپ مسٹر دانتے اور دوسری طرف فرناند (چچا زا د بھائی)تھا۔ مرسیدیز کے بالکل سامنے ایدمند تھا۔ اس کے دونوں طرف موریل اور دانگلر تھے۔ باقی لوگ اپنی اپنی مرضی کے مطابق بیٹھے تھے۔چیخم پُکار اور دھکا پیل ہو رہی تھی۔ سب سے پہلے مسٹر موریل نے جامِ صحت تجویز کیا، پھر مسٹر دانتے نے۔ بس پھر سرائے کے مالک اور اس کے کارکنوں نے کھانا لگانا شروع کیا۔کئی قسم کے کھانے بڑے سلیقے سے رکھے گئے تھے۔

ایدمند اور مرسیدیز کھانے پر توجہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو دیکھنے میں مصروف تھے۔ ایدمند اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا اور مسکرائے جا رہا تھا۔  کا دیرُوس سمیت تمام مہمان خوش دِلی سے کھانے میں مصروف تھے۔صرف ایک انسان پریشان تھا، اور وہ تھا فرناند۔وہ سرائے کے بیرونی دروازے کی طرف گھبرا گھبرا کر دیکھ رہا تھا۔

تھوڑی دیر میں ایدمند کھڑا ہو گیا۔اس نے اپنی جیب سے گھڑی نکال کر دیکھی اور اعلان کیا:

’’دوستو! میں آپ کو ذرا حیرت میں ڈال رہا ہوں۔ مسٹر موریل کی مدد سے مجھے اور مرسیدیز کو اُن کاغذات کی تکمیل کا موقع مل گیا جو شادی سے پہلے ضروری ہوتے ہیں، اس لئے یہ منگنی کی دعوت نہیں بلکہ شادی کا کھانا ہے۔‘‘ ایدمند نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا،’’ہم دونوں اب سے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ مئیر صاحب ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

اس اعلان سے ایک قسم کی سنسنی پھیل گئی۔کچھ لوگوں نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ اب ایک آخری جامِ صحت تجویز کیا گیا اور تمام لوگ ایک جلوس کی شکل میں ٹاؤن ہال جانے کے لئے دروازے پر جمع ہو گئے۔

ایدمند کے جہاز کے ساتھیوں میں سے ایک نے بھڑاک سے دروازہ کھولا۔ دو سپاہی باہر کھڑے تھے۔ انھوں نے ملاح کو واپس اپنے کمرے میں ڈھکیلا اور دوسروں کو وہاں سے چلے جانے کو کہا۔اب ایک مجسٹریٹ داخل ہوا۔ اس نے سرکاری کالی عبا پہن رکھی تھی۔ اس نے پوچھا، ’’ایدمند دانتے کہاں ہے؟‘‘

ایدمند نے مرسیدیز کا ہاتھ چھوڑ دیا اور آگے بڑھ کر کہا، ’’جناب، میں یہاں ہوں۔‘‘

مجسٹریٹ نے ایک سرکاری افسر کے سے دھیمے لہجے میں کہا،’’میں آپ کو قانون کے مطابق گرفتار کر رہا ہوں۔ میرے پیچھے آئیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مُڑا اور آگے چلنے لگا۔ فوراً ہی دونوں سپاہی آگے بڑھے۔ ایک ایدمند کے پیچھے اور ایک آگے ہو گیا اور ایدمند کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ مجسٹریٹ کے حکم پر عمل کرے، مگر ایدمند کو بہت سخت دھچکا لگا تھا۔وہ چیخا:

’’مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے؟کیوں جناب؟ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘

مجسٹریٹ ایک لمحے کے لئے پلٹا اور بولا:

’’مجھے ایدمند دانتے کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے۔اور میں ایدمند دانتے کو گرفتار کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ آپ کو سرکاری وکیل سے معلوم ہو گی۔ بس میرے ساتھ آئیے۔‘‘

مسٹر موریل بھی سخت پریشان ہوئے،لیکن انھیں معلوم تھا کہ قانون کے مطابق کام اسی طرح انجام پاتے ہیں، اس لئے انھوں  نے ایدمند سے آہستہ سے کہا،’’جو ہدایات اس شخص کو ملی ہیں ،یہ اسی کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ جب تم سرکاری وکیل سے ملو گے تو بات صاف ہو جائے گی۔‘‘

ایدمند کو ان لفظوں سے سکون ملا۔ اس نے مجسٹریٹ سے خوش گوار لہجے میں کہا:

’’ جناب میں آپ کا تابع دار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم جلدی چلیں تاکہ میں جلد واپس آسکوں۔ مجھے ضروری کام کے لئے آدھے گھنٹے میں یہاں واپس پہنچنا ہے۔‘‘

اب وہاں موجود لوگ مطمئن ہو کر مسکرانے لگے۔ بعض ملاحوں نے ایدمند سے ہاتھ ملائے اور عورتوں نے اپنے رومال ہلا ہلا کر اسے رخصت کیا، لیکن مرسیدیز نڈھال ہو گئی۔ ایدمند نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا اور دونوں سپاہیوں کے درمیان گردن اونچی کیے ہوئے روانہ ہو گیا۔

سرکاری وکیل

بیٹے کے جانے کے بعد ایدمند کے والد مسٹر دانتے صدمے سے بے ہوش ہو گئے۔ ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ ایدمند کی سفر سے واپسی اور پھر شادی کی توقع سے وہ بہت خوش تھے،لیکن وہ تھک بھی گئے تھے۔ اب یکایک اپنے پیارے بیٹے کو سپاہیوں کے ساتھ اس طرح جاتے دیکھا تو ان سے برداشت نہیں ہوا۔ ایک کرسی منگا کر اُن کو بٹھایا گیا۔ مرسیدیز نے ان کے ہاتھ پیر دبانے شروع کیے اور کہنے لگی:

’’ابا جان، اپنے آپ کو سنبھالیے۔ ایدمند بہت جلد واپس آ جائیں گے۔آپ نے دیکھا کہ وہ کس طرح مسکرائے تھے۔ یہ کوئی احمقانہ قسم کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ جو شخص اس حماقت کا ذمہ دار ہے میرے خیال میں وہ اس وقت ایدمند سے معافی مانگ رہا ہو گا۔‘‘

مسٹر دانتے نے مرسیدیز کی آنکھوں میں جھانکا تو اُن کو وہی خوف نظر آیا جو خود ان کے دل میں تھا۔ وہ بولے:

’’ نہیں بیٹی، میرا خیال ہے کہ ایدمند کے ساتھ کوئی بڑی گڑ بڑ ہونے والی ہے۔‘‘

یہ الفاظ مرسیدیز کو خود اپنے دل کی آواز معلوم ہونے لگے۔ اس نے جلدی سے اپنا منہ پھیر کر دونوں ہاتھوں میں چھپالیا اور سسکیاں لینے لگی۔

بوڑھے دانتے کی گھبراہٹ اور نوجوان لڑکی مرسیدیز کی پریشانی دیکھ کر کادیرُوس کو غصہ آیا۔ اس نے ایک دن پہلے سرائے میں ہونے والے واقعے کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ وہ نشے میں تھا، اس لئے ذہن کام نہیں کر رہا تھا۔پھر بھی وہ سمجھ گیا کہ دانگلر وغیرہ نے جو منصوبہ بنایا تھا ،وہ عمل میں آ رہا ہے۔ اس نے دانگلر کے کان میں کہا، ’’یہ اسی چال کا حصہ ہے جو تم چلنے والے تھے، تم اور فرناند۔ یہ بڑی شرم ناک بات ہے۔‘‘

دانگلر نے بے پروائی سے کا دیرُوس کو دیکھ کر کہا، ’’مجھے اس گرفتاری کے متعلق کچھ نہیں معلوم۔ تم نے زیادہ پی لی ہے۔ خاموش رہو۔‘‘

مسٹر موریل ایک با اثر آدمی تھے۔ ان کو اندازہ تھا کہ وہ ایدمند کی مصیبت کی وجہ معلوم کر لیں گے۔ وہ سپاہیوں اور قیدی کے پیچھے گئے۔ جب وہ وہاں سے سرائے واپس آئے تو ان کے چہرے پر فکر کے آثار نمایاں تھے۔ وہ سیدھے مسٹر دانتے اور مرسیدیز کے پاس گئے اور سنجیدگی سے کہنے لگے:

’’ ایدمند کے خلاف ایک بہت بڑا الزام لگایا گیا ہے۔ کسی نے اس کو نپولین کا خفیہ ایجنٹ قرار دے کر بادشاہ کا غدار  ٹھہرایا ہے۔

ٹھیک اسی وقت یہی الفاظ نائب سرکاری وکیل کے دفتر میں ایدمند کے سامنے دہرائے جا رہے تھے۔ سرکاری وکیل بیمار تھا۔ اس نے اپنے نائب  ول فورت کو اس معاملے کو نمٹانے کے لئے بھیجا تھا۔ اس وقت سرکاری دفتر میں  صرف ول فورت اور ایدمند تھے۔ سپاہی باہر کھڑے پہرا دے رہے تھے۔ ایدمند نے اپنے اوپر غداری کا جھوٹا الزام سُن کر بڑی حیرت سے نائب سرکاری وکیل سے کہا:

’’نہیں جناب، میں خفیہ ایجنٹ نہیں ہوں۔ میں سیاسی آدمی نہیں ہوں۔ میں صرف ایک ملاح ہوں۔ میں صرف اپنے جہاز، اپنے باپ اور اپنی ہونے والی بیوی سے سرو کار رکھتا ہوں۔‘‘

ول فورت، ایدمند سے صرف دس برس بڑا تھا۔ ایدمند نے جس سادگی سے اپنا بیان دیا تھا اُس سے ول فورت پر بڑا اچھا اثر پڑا۔ اس نے ایدمند کے چہرے مُہرے سے اس کی ذہانت کا بھی اندازہ لگا لیا، لیکن وہ یہ بھی سمجھ گیا کہ ایدمند کی معلومات صرف سمندر اور سمندری سفر تک محدود ہیں۔ ول فورت کی دل چسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دونوں کے ساتھ ہی ایک خوش گوار واقعہ ہونے والا تھا۔ وہ دونوں ہی اپنی اپنی شادیوں کی خوشی منانے میں مصروف تھے اور دونوں کو ہی تقریبات کے بیچ میں اس معاملے کی وجہ سے یہاں آنا پڑا تھا۔ ول فورت کا ذہن ایک لمحے کے لئے اس خوب صورت امیر نوجوان خاتون کی جانب چلا گیا جس سے اس کی شادی ہونے والی تھی، لیکن جلد ہی اس نے اپنے خیالات کا رخ سرکاری کاموں کی طرف موڑ لیا اور پوچھنے لگا:

’’ایدمند صاحب، مجھے بتائیے کہ آپ نے اپنا جہاز فیرون ایلبا پر کیوں روکا تھا اور وہاں سے خط کیوں حاصل کیا تھا؟‘‘

ایدمند نے اپنا سارا واقعہ اس عمدگی سے سُنایا کہ ول فورت کو پورا پورا یقین آگیا۔  اس نے خط دیکھنے کو مانگا مگر ایدمند کو تامل تھا۔ وہ کہنے لگا کہ ’’جناب، میں نے قسم کھائی ہے کہ خط صرف اسی شخص کو دوں گا جس کے نام یہ ہے۔ وہ شخص پیرس میں ہے۔‘‘ ایدمند کی سچائی نے ول فورت کے دل میں اس کی قدر اور بڑھا دی۔ یہ بات بالکل عیاں ہو گئی کہ نوجوان ملاح ایدمند ایک با عزت آدمی ہے اور اس کا یہ کہنا کہ وہ بالکل بے گناہ ہے، صحیح ہے۔ ول فورت مسکرایا اور کہنے لگا، ’’میں اس وقت قانونی کارروائی کر رہا ہوں اور قانون تم سے کہتا ہے کہ تم یہ خط سرکار کے حوالے کر دو۔ اگر تم خط ہمیں دو گے تو تم اپنا وعدہ نہیں توڑو گے، کیوں کہ میرے سپاہی تم سے خط زبردستی چھین سکتے ہیں۔ اپنی خواہش کے خلاف خط میرے حوالے کر دو۔"

یہ بات سن کر ایدمند بھی مسکرایا، ’’جناب، میں یہ خط خوشی سے دیتا ہوں۔ اگرچہ آپ قانونی حیثیت رکھتے ہیں پھر بھی آپ انسان کی عزت کرتے ہیں۔‘‘ ایدمند نے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے ایک سفید بند لفافہ نکال کر ول فورت کی طرف بڑھا دیا۔

ول فورت خط لے کر لیمپ کی طرف مڑا تاکہ لفافے پر لکھا ہوا نام پڑھ سکے۔ جب ول فورت نے اس پر لکھا ہوا نام پڑھا تو اس کا چہرہ فق ہو گیا، لیکن اس کا رُخ لیمپ کی طرف تھا، اس لیے ایدمند یہ نہ دیکھ سکا۔ ول فورت کو ڈر ہوا کہ وہ کہیں بے ہوش ہو کر گر نہ پڑے، اس لیے اُس نے میز کا سہارا لے کر اپنے آپ کو سنبھالا۔ پھر ہمت کر کے دوبارہ لفافے پر نام اور پتا پڑھا:

’’موسیو نوارتے، پیرس‘‘

یہ اس کے باپ کا نام تھا۔

شروع میں تو ول فورت کو یہ خیال آتا تھا کہ اس کے باپ کے کرتوت کبھی نہ کبھی کھُلیں گے اور وہ مصیبت میں گرفتار ہو جائے گا، لیکن بعد میں جب وہ مال دار ہو گیا اور اس کو نائب سرکاری وکیل کا عہدہ مل گیا تو پریشان کرنے والا یہ خیال کم ہوتا گیا اور اب تو رینی سے منگنی ہونے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگا تھا۔ وہ اپنے باپ کے بجائے اپنی ماں کا نام اپنے نام کے ساتھ لگانے لگا تھا، تاکہ بدنام باغی باپ نوارتے سے کوئی اس کا رشتہ نہ ملا سکے، جو نپولین کا وفادار تھا۔ سیاسی طور پر نوارتے کئی سال سے خاموش اور چھپا ہوا تھا، لیکن اب اس خط سے معلوم ہوا کہ وہ باہر آنے والا ہے اور نپولین کو تخت پر بحال کرنے کے ایک منصوبے میں پیش پیش ہو گا۔بادشاہ کے ایک وفادار کی حیثیت سے  ول فورت یہ خط اپنے باپ تک پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا،لیکن اسی کے ساتھ وہ خود اپنے باپ کو گرفتار کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ول فورت کو اپنے باپ سے محبت تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح اس کا تعلق لوگوں کو معلوم ہو جائے گا۔ ول فورت نے بہت جلد ایک فیصلہ کر لیا اور ایدمند کی طرف مُڑ کر پرسکون آواز میں پوچھا:

’’ تمھارے علاوہ اور کس نے یہ خط دیکھا ہے؟‘‘

ایدمند کو اس سوال پر حیرت ہوئی۔ اس نے کہا:

’’ کسی نے نہیں جناب! میں نے عرض کیا نا کہ میں نے خود بھی خط نہیں پڑھا ہے، کیوں کہ یہ بند ہے اور جب سے یہ میرے پاس ہے کسی نے یہ لفافہ بھی نہیں دیکھا۔‘‘

 ول فورت دل میں بہت خوش ہوا۔اس نے یہ بھی شکر  ادا کیا کہ اس کا افسر سرکاری وکیل بیمار ہے، اس لئے وہ دفتر نہیں آیا۔ اگر سرکاری وکیل کو یہ خط پڑھنے کو مل جاتا تو ول فورت تباہ ہو گیا ہوتا۔ اب ول فورت مطمئن تھا۔ اس نے ایدمند کی طرف مسکرا کر دیکھا اور نرمی سے بولا:

’’مجھے تمھاری بات کا یقین ہے،لیکن اس خط کا ہونا خطرناک ہے۔ یہی وہ واحد ثبوت ہے جو تم پر لگائے گئے الزام کو ثابت کرتا ہے۔ تمھارے خلاف ہمیں جو خط ملا ہے  وہ یہ ہے۔‘‘ اس نے دانگلر کا الٹے ہاتھ سے لکھا ہوا خط ایدمند کے ہاتھ میں تھما دیا۔ یہ خط مسل دسل گیا تھا، لیکن فرناند نے بھیجنے سے پہلے اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی۔ خط بھیجنے والے نے دستخط کرنے کے بجائے صرف ’’ایک دوست ‘‘ لکھا تھا، لیکن اور کوئی نشانی نہیں تھی کہ لکھنے والے کو ایدمند پہچان سکتا۔ ایدمند نے خط پڑھا اور تعجب سے سر جھٹک کر بولا:

’’ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ خط کون لکھ سکتا ہے۔‘‘

ول فورت نے وہ الزامی خط تو فائل میں رکھا اور جو خط اس کے باپ کے نام تھا اس کو آتش دان میں ڈال دیا اور جب تک خط پورا نہ جل گیا وہ اسے غور سے دیکھتا رہا۔ ایدمند نے مطمئن ہو کر کہا ’’بہت شکریہ۔ کیا میں اب جا سکتا ہوں؟‘‘

’’ ہاں ہاں، لیکن مجھے تھوڑی دیر روکنا پڑے گا، مگر تمھیں یہ وعدہ کرنا پڑے گا کہ تم کسی قیمت پر بھی کسی کو بھی اس خط کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گے۔‘‘

ایدمند نے وعدہ کیا کہ ’’میں قسم کھاتا ہوں کہ کسی سے نہیں کہوں گا۔ آپ سرکاری افسر سے زیادہ میرے ہمدرد ہیں۔ اگر کوئی پوچھے گا بھی تو کہہ دوں گا کہ کوئی خط نہیں تھا۔‘‘

ول فورت نے ایک افسر کو بُلایا اور آہستہ سے اُس کے کان میں کچھ کہا۔ اس افسر نے ایدمند کو ساتھ لیا۔ ایدمند ول فورت کو سلام کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ ول فورت خوش تھا کہ وہ ایک بڑی مصیبت میں پھنستے پھنستے بچ گیا۔ وہ سیدھا اپنی شادی کی تقریب میں پہنچا، جہاں سے اُسے یکایک آنا پڑا تھا۔ اب ایدمند اس کے ذہن سے بالکل نکل گیا۔

ایدمند بھی خوش تھا، کیوں کہ ول فورت کی باتوں سے اسے یقین آگیا تھا کہ بس وہ ذرا سی دیر میں آزاد ہوا چاہتا ہے اور بہت جلد مرسیدیز کے پاس ہو گا۔

ایدمند جیل میں

ایدمند کو پولیس افسر اور دو سپاہی ہانک کر اندھیری غلام گردشوں سے گزارتے ہوئے ایک کوٹھری کے آہنی دروازے تک لائے۔ افسر نے چابی نکالی اور دروازہ کھولا۔ جیل کی سیلی اور سڑی ہوئی بُو کا بھپکا ایدمند کی ناک میں آیا۔ سپاہیوں نے اس کو اندر دھکیلا اور کوٹھری میں بند کر دیا۔ ایدمند کو ول فورت کے الفاظ یاد آئے اور اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ وہ پُر امید تھا کہ بہت جلد آزاد کر دیا جائے گا۔ وہ ذرا سی آہٹ پر بھی دروازے کی طرف دوڑتا کہ شاید کوئی دروازہ کھولنے آیا ہو، مگر ناکام واپس آتا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ اب وہ برہم ہونے لگا۔ اُس کے دماغ میں اُلٹے سیدھے خیالات آنے لگے: ’’کیا محافظ بھول گئے یا میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے؟‘‘

آخر رات دس بجے دروازہ کھلا۔ ایدمند کو کوٹھری سے نکال کر سپاہیوں کی نگرانی میں ایک گاڑی کی طرف لے جایا گیا۔ سپاہی تلواریں تانے ہوئے تھے۔ گاڑی بند تھی۔ ایدمند حیران پریشان تھا مگر چُپ رہا۔ سپاہی اس کے برابر بیٹھے۔ گاڑی جلد ہی سمندر کے کنارے پہنچ گئی۔ ایدمند کو گاڑی سے اُترنے کی ہدایت کی گئی۔ لیمپ کی روشنی میں اس کو بہت سے سپاہی نظر آئے جو تلواریں لیے ہوئے تھے۔ کچھ کے پاس بندوقیں بھی تھیں۔ سپاہیوں کے خوف ناک چہروں نے اید مند کو پریشان کر دیا، مگر اس نے پھر بھی کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ ایک کشتی کی طرف بڑھے، جو وہاں ان کے انتظار میں تھی۔ ایدمند کو افسر نے کشتی میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ سپاہی بھی کشتی میں آ گئے۔ کشتی چل پڑی۔ وہ روشنی کے مینار ( لائٹ ہاؤس) سے گزرتے ہوئے کھُلے سمندر کی طرف جا رہے تھے۔ اب ایدمند سے ضبط نہ ہوسکا۔ اس نے سوال کر ہی ڈالا:

’’ آخر تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟‘‘

افسر نے جواب دیا:

’’ تم ایک تجربے کار ملاح ہو۔ تمھیں سمجھ لینا چاہیے۔‘‘

حیرت زدہ ایدمند بولا:

’’ قسم ہے، میں نہیں سمجھ سکا۔‘‘

محافظوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کانا پھوسی ہوئی اور پھر افسر نے بتایا کہ’’ دیف حویلی جو دراصل ایک قلعہ ہے۔‘‘

ایدمند چیخا، ’’ لیکن دیف حویلی تو سیاسی قید خانہ ہے اور میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔‘‘

افسر سکون سے بولا،’’ مجھے اس سے مطلب نہیں، میں تو جو حکم مجھے ملتا ہے اُس پر عمل کرتا ہوں۔‘‘

ایدمند مایوس ہو گیا۔ اس نے پانی میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی مگر سپاہیوں نے اس کو دبوچ لیا اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ افسر غرایا، ’’اگر اب کے تم نے کوشش کی تو میں تمھارا بھیجا نکال دوں گا۔‘‘

 اُس نے اپنی بندوق کی نال ایدمند کی پیشانی پر ٹکا دی۔ تھوڑی دیر میں کشتی کو زور دار دھچکا لگا۔ وہ کنارے کو چھو رہی تھی۔ اندھیرے میں ایدمند کو دیف حویلی کا ڈراؤنا اور نفرت انگیز خاکہ نظر آنے لگا۔ اس کا دماغ  چکرا رہا تھا۔ سپاہی اس کو تقریباً کھینچتے ہوئے پتھریلی سیڑھیوں پر لے گئے۔ وہ ایک بڑے لکڑی کے دروازے پر پہنچ کر رُک گئے۔ ایدمند کو جیلر کے حوالے کر دیا۔اس کے پاس جو نقدی تھی وہ اور گھڑی اس سے لے لی گئی۔

 

دھوکا ہوا

بد حواس ایدمند کو چند ٹھنڈی اور نیم تاریک غلام گردشوں سے گزار کر ایک کوٹھری میں دھکیل کر بند کر دیا گیا۔ سیلی اور بھاری ہوا نے اس کا استقبال کیا۔ داروغہ جیل نے کہا، ’’ یہ تمھارے رہنے کی جگہ ہے۔ وہاں کھانا پانی رکھا ہے۔‘‘ وہ دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ اب ایدمند اس ٹھنڈی اور اندھیری کوٹھری میں اکیلا تھا۔وہ چیخا، ’’ میرے اللہ، میرا کیا قصور ہے؟‘‘ لیکن پتھر کی دیواریں کیا جواب دیتیں۔ پتھروں کے نہ دل ہوتا ہے اور نہ زبان۔

صبح ہوئی تو داروغہ آیا۔ ایدمند ایک کونے میں دبکا پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں رونے سے سُرخ اور سُوجی ہوئی تھیں۔ کھانا پانی یونہی رکھا تھا۔ایدمند نے داروغہ کی منت کی کہ وہ اس کے باپ اور مرسیدیز کو اس کا پیغام پہنچا دے، لیکن داروغہ نے رُکھائی سے جواب دیا کہ میں تمھارے چہیتوں کے لیے اپنی گردن کیوں پھنسواؤں اور تم مجھے اس کا کیا صلہ دو گے؟ چند سو فرانک؟ یہاں ایک پاگل پادری ہے جو کہتا ہے کہ اس کو جو آزاد کرائے گا اس کو لاکھوں فرانک دوں گا۔ یہ کہہ کر داروغہ دروازہ بند کر کے چلا گیا۔

پنجرے میں بند ایک پرندے کی طرح ایدمند تمام دن کوٹھری میں اِدھر اُدھر چکر کھاتا رہا۔ وِل فورت کے الفاظ اس کے کانوں میں بار بار گونجتے رہے۔ اس پر غصہ اور مایوسی طاری رہی۔ وہ دیوانہ وار چلتا اور اُچکتا رہا۔ کئی دن تک یہی حالت رہی۔ داروغہ صبح آتا اور کھانے کو جوں کا توں پاتا۔ آخر داروغہ کو فکر ہوئی۔ اس کو  فی قیدی چھ پنس ملتے تھے۔ وہ اپنا ایک قیدی بھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے ایدمند سے کہا کہ اس طرح تو تم پاگل ہو جاؤ گے۔ ایدمند نے جواب دیا کہ میں گورنر سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں بے قصور ہوں۔ جب داروغہ نے کہا کہ یہ ناممکن ہے تو ایدمند پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس نے کرسی اُٹھا کر داروغہ کو مارنی چاہی۔ داروغہ چوکنا تھا، بچ گیا۔ اس نے باہر نکل کر دروازہ بند کر دیا۔ چند منٹ بعد ہی وہ ہتھیار بند محافظوں کے ساتھ واپس آیا جو اس کو کھینچتے ہوئے ایک زینے سے نیچے لے گئے۔ داروغہ چیخا، ’’ یہ تہ خانے کے لائق ہے۔‘‘ ایک دروازہ کھول کر ایدمند کو اس میں دھکیل دیا گیا۔ بھاری دروازہ پھر بند ہو گیا۔ تہ خانہ،کوٹھری سے بھی بد تر تھا۔ اس میں گھُپ اندھیرا تھا، صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی سے روشنی کی لکیر اندر آ رہی تھی۔ اس کھڑکی میں مضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ ایدمند کی آنکھیں کچھ دیر میں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں۔ اسے دیوار کے پاس ایک پلنگ نظر آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجبور ہو کر اس نے کھانا کھایا اور پانی پیا۔

دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے۔ ایدمند کو وقت گزرنے کا کوئی احساس اور اندازہ نہیں رہا۔ داروغہ روز کھانا پانی لے کر آتا اور اتفاق سے ہی کوئی بات کرتا۔ ایدمند کوئی بات کرتا تو وہ ایک آدھ لفظ میں جواب دے کر چلتا بنتا۔ ایدمند خود ہی زور زور سے اپنے آپ سے باتیں کرتا، تاکہ کوئی آواز تو اس کے کانوں میں پڑے۔ آخر وہ مایوسی کی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس نے خود کشی کرنے کی ٹھان لی اور فاقہ کر کے مرنے کا ارادہ کر لیا۔ روزانہ داروغہ کے جانے کے بعد وہ اپنا کھانا پانی کھڑکی سے باہر پھینک دیتا۔ چند دن میں وہ بہت کمزور ہو گیا۔ ایک دن داروغہ کے جانے کے بعد اس نے اپنے بستر کے قریب دیوار کے دوسری طرف کچھ ایسی آواز سُنی جیسے کوئی کھُرچ رہا ہو۔ کم زوری کے باوجود وہ بستر سے اُٹھا اور دیوار سے کان لگا کر غور سے سننے لگا۔

کھُرچنے کی آواز آتی رہی۔ اُس نے سوچا کہ یہ راج مزدور کے کام کرنے کی آواز تو نہیں ہے۔ یہ تو میری طرح کا کوئی قیدی ہی معلوم ہوتا ہے جو آزاد  ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔  وہ صحیح بات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ دیوار میں ایک پتھر کچھ ڈھیلا تھا۔ اس نے وہ پتھر کسی طرح کھینچ نکالا اور دیوار کو اسی جگہ سے تین بار کھٹ کھٹایا۔ کھرچنے کی آواز رُک گئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر شروع ہو گئی۔

ایدمند کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ واقعی یہ قیدی تھا جو ایدمند کی کوٹھری میں راستہ بنا رہا تھا۔ ایدمند کو جب یہ معلوم ہوا تو اس میں عمل کی قوت پیدا ہوئی۔ خود کشی کا خیال چھوڑ کر اُس نے وہ سوپ پیا جو داروغہ لایا تھا۔ وہ انسان کی صورت دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ اس نے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں کہ کوئی تیز آلہ مل جائے اور وہ قیدی ساتھی کی مدد کر سکے۔ اس کو ایک جگ نظر آیا تو اس نے جگ کو زور سے زمین پر پٹخا۔اس کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ ایدمند نے سب سے تیز ٹکڑا اُٹھا لیا اور پلنگ کو ایک طرف کھسکا کر دیوار کو اپنی طرف سے کھُرچنا شروع کر دیا۔ لیکن کچھ دیر بعد ہی اس کو رُکنا پڑا۔ کسی سخت چیز کے درمیان میں آ جانے سے اس کا آلہ ناکارہ ہو گیا۔ رات کا وقت تھا، اس لیے بھی اس کو صحیح اندازہ نہ ہوسکا کہ کتنا  کام ہوا ہے۔ صبح ہونے کو آئی تو ایدمند نے اپنا پلنگ ٹھیک کیا۔ پلاسٹر کو پھیلا کر ہموار کر دیا اور خود لیٹ کر داروغہ کا انتظار کرنے لگا۔ داروغہ آیا تو اس نے ٹوٹا ہوا جگ دیکھا۔ وہ بڑبڑایا مگر اس کے بدلے دوسرا جگ لا دیا۔ ایدمند کو افسوس ہوا کہ اس نے بلا وجہ غصے اور مایوسی میں اتنے قیمتی دن ضائع کر دئیے۔ دوسری طرف سے دیوار کا کھُرچنا جاری رہا۔ ایدمند سوچنے لگا کہ کوئی بہتر آلہ ملے۔ اس نے دروازے کے قریب ہی فرش پر رکابی رکھ دی تاکہ داروغہ کی نظر اس پر نہ پڑے۔ شام کے کھانے کے وقت داروغہ کوٹھری میں آیا۔ وہ رکابی کو نہیں دیکھ سکا اور اس پرپاؤں رکھ دیا۔ رکابی ٹوٹ گئی۔ اس کے پاس ایک ’’ساس پان‘‘ تھی جس میں لوہے کا دستہ لگا ہوا تھا، وہ ناراض ہوا:

’’ کیا تم سمجھتے ہو کہ حکومت کا پیسہ تمھارے لیے رکابیاں اور جگ خریدنے کے لیے ہی رہ گیا ہے!‘‘ ایدمند بولا: ’’ساس پان یہیں چھوڑ دو۔ صبح لے جانا۔‘‘ اصل میں ایدمند کی نظر ساس پان کے دستے پر تھی۔ یہ تجویز داروغہ کو پسند آئی۔ وہ سیڑھیوں پر چڑھنے اُترنے سے گھبراتا بھی تھا۔

جیسے ہی داروغہ کوٹھری سے باہر نکلا، ایدمند نے کام شروع کر دیا۔ اُس نے ساس پان کا دستہ الگ کر لیا۔ اس نے اس سے پلاسٹر کی پپڑی ہٹانے کے لیے چھینی کا کام لیا۔ اس نے کھانا بھی کھا لیا۔ وہ پوری رات دیوار میں سوراخ کرنے میں مصروف رہا، لیکن صبح ہونے سے پہلے اس نے تمام آثار اور نشان چھپا دئیے۔

داروغہ صبح نئی رکابی نہیں لایا اور ساس پان ہی کوٹھری میں رہنے دیا۔ اس طرح ایدمند کو لوہے کا دستہ مستقل مل گیا۔ کئی دن کی مستقل محنت کے بعد دونوں قیدی ایک دوسرے کو نظر آنے لگے۔ بات کرنے کے لیے ایک ساتھی مل جانے پر ایدمند خوشی سے پاگل ہونے لگا۔

لیکن یہ گویا صرف جھلک تھی۔ ابھی مشکل باقی تھی۔ شگاف بڑا نہیں ہوا تھا۔ مسلسل کوشش کے بعد کافی وقت لگا۔ ایک پتھر کے بعد دوسرے پتھر کو ڈھیلا کرتے کرتے آخر وہ دن آ پہنچا جب ایدمند اور دوسری طرف سے کھرچنے والا آدمی ایک ایسے پتھر پر کام کرنے لگے جس کے نکالے جانے کے بعد دونوں آمنے سامنے ہونے والے تھے۔ ایدمند ایک جنونی کی طرح رات دن لگا رہا۔ آخر طویل محنت پھل لائی۔ مستقل مزاجی نے کام یابی کا راستہ ہموار کیا۔ اس نے اس پتھر کو بھی کھسکا لیا۔ اب اُس نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر دوسری طرف دیکھا۔ دوسرے نے بھی یہی کیا، اب وہ ایک دوسرے کے سامنے تھے۔دونوں نے اپنے ہاتھ بڑھا کر کانپتے ہوئے ایک دوسرے کو چھُوا۔ ایدمند نے دوسرے آدمی کو پکڑ کر آگے کھینچا اور خود پیچھے ہٹتا گیا۔ اس طرح ایدمند اس آدمی کو آگے لے آیا اور سہارا دے کر اس کو اپنے تہ خانے میں کھڑا کر دیا۔

’’ آپ کی تعریف؟‘‘ ایدمند نے سوال کیا تو اس کی آواز کانپ رہی تھی اور اس کو اپنا سوال دُہرانا پڑا۔

’’ میں فادر ایبے فاریا ہوں۔ جیل والے مجھے ’’پاگل پادری‘‘ کہتے ہیں۔‘‘

پاگل پادری کا قد چھوٹا تھا۔ پریشانیوں سے اس کے بال سفید ہو گئے تھے، لیکن اس کی لمبی داڑھی ابھی بھی کالی تھی۔اس کی عمر بھی اچھی تھی۔ کوئی 65 سال ہو گی۔اس کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی، لیکن جیل والوں کے خیال کے مطابق یہ دیوانگی کی علامت تھی۔ ایدمند نے جلدی جلدی اپنی داستان غم سُنا ڈالی۔ اب پادری فاریا کی باری تھی۔

فاریا سولہ سال سے قلعے ( دیف حویلی) میں بند تھا۔ یعنی ایدمند سے چار سال پہلے سے۔ وہ اٹلی کا رہنے والا پڑھا لکھا قابل آدمی تھا۔ چرچ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کو سیاسی دشمنی کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُس کا جرم یہ تھا کہ وہ اٹلی کو متحد کرنے کا حامی تھا۔ وہ ایک بڑے پادری کارڈینل اسپادا کا سیکریٹری رہا تھا۔ اسپادا اس کو اپنے بیٹے کی طرح چاہتا تھا اور اس کو تحفظ دیتا تھا۔ اسپادا کے انتقال کے بعد مخالفوں نے اس کو پکڑوا دیا۔

فاریا کے حالات معلوم ہوئے تو ایدمند کو بڑی ڈھارس بندھی۔ اب اس کو ایک دوست مل گیا تھا۔ فاریا کو اس نے دوست کہہ دیا، لیکن فاریا اس سے بہت بڑا تھا اور اس سے زیادہ تعلیم یافتہ بھی تھا۔ ایدمند کبھی ایسے دوست کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ فاریا بھی خوش تھا۔ایدمند جوان تھا اور اس کا قدر دان، اس لیے فاریا میں ذرا جان آ گئی۔

اگلے کئی ہفتوں تک وہ دونوں بڑی بے فکری سے اپنے بنائے ہوئے راستے سے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہے۔ فاریا کی کوٹھری، ایدمند کےتہ خانے سے بڑی اور بہتر تھی۔ جیل کے افسر فاریا کو احمق سمجھتے تھے ، خطرناک نہیں سمجھتے تھے۔

ایدمند روز بہ روز فاریا کے کارناموں اور کمالات سے زیادہ متاثر ہوتا جاتا تھا۔ فاریا نے رسی سے ایک سیڑھی بنائی تھی۔ رسی بنانے کے لیے اُس نے کمبل سے ڈورے نکالے تھے۔ مچھلی کی ایک نوکیلی ہڈی سے ہی قلم بنائے تھے۔ راکھ سے روشنائی کا کام لیا تھا۔ ان چیزوں سے فاریا نے اپنے تمام رومالوں اور قمیصوں پر حکومت اٹلی کے متعلق اپنے خیالات لکھے تھے۔ بعض وقت اس نے روشنائی کی جگہ اپنا خون بھی استعمال کیا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر اُس نے ایک شمع دان کے شیشے سے انتہائی تیز چاقو بنایا تھا۔ یہ سب قیمتی چیزیں دیکھ کر ایدمند کو اپنی کم عقلی پر رونا آنے لگا۔ فاریا کے کپڑوں پر لکھی ہوئی معلومات سے وہ اب تک بے خبر اور ناواقف تھا۔ اور پھر یہ کہ اس نے اپنا وقت اب تک بے کاری میں ضائع کیا تھا۔ ایدمند کی یہ حالت فاریا کے لیے خوشی کا باعث تھی کیوں کہ وہ پڑھانے سکھانے کا شوقین تھا۔ اس نے ایدمند کی تعلیم کے لیے فوراً ایک پروگرام بنا ڈالا۔ فاریا چار زبانیں جانتا تھا اور ان زبانوں میں اس نے خوب کتابیں پڑھی تھیں۔ وہ اپنا سارا علم ایدمند کو دینا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ریاضی، طبیعیات اور تاریخ کے بارے میں اپنی ساری معلومات ایدمند کو بتا دے۔

اگلے ڈیڑھ سال میں فاریا سکھاتا رہا اور ایدمند تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ ایدمند اس بات سے خوش تھا کہ اس کے اندر علم کی محبت موجود ہے۔ اُس نے بڑی محنت سے تعلیم حاصل کی۔ اس میں ایک تبدیلی اور پیدا ہوئی۔ اس نے ارادے کے بغیر ہی فاریا کے بولنے اور اٹھنے کے مہذب طریقے اپنانے شروع کر دئیے۔ جلد ہی ایک کھُردرا ملاح ختم ہو گیا اور اس کی جگہ ایک نوجوان مہذب اور شریف انسان ابھر آیا۔

معلومات کے ساتھ ساتھ ایدمند میں عقل بھی آ گئی تھی۔ چنانچہ اُس نے فرار ہونے کے لیے ایک ترکیب سوچی کہ فاریا کی کوٹھری سے اس کے سامنے برآمدے تک وہ ایک سُرنگ کھودیں اور رات کو وہاں بیٹھے ہوئے دونوں محافظ جب اونگھتے ہوں تو سُرنگ سے نکل کر محافظوں کو قابو میں کر لیں اور ان کی وردیاں پہن کر اور ان کی چابیاں استعمال کر کے حویلی سے فرار ہو جائیں۔ پھر وہ سمندر میں کود کر تیرتے ہوئے کہیں نکل جائیں۔ دونوں دوستوں نے اس بات پر ہاتھ ملایا۔

 

مونٹی کرسٹو کا خزانہ

ہفتے گزر گئے، پھر مہینے گزر گئے۔ ایک دن ایدمند اور فاریا سُرنگ کھودتے کھودتے تھک کر ذرا سستا رہے تھے کہ ایدمند بولا، ‘‘ فادر میں اپنے دشمنوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ آپ نے مجھے جو تاریخ پڑھائی ہے اُس سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں کا ذہن بُرائی اور شر کے لیے کس طرح کام کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھ پر دو آدمیوں دانگلر اور فرناند نے الزام لگایا ہے۔ دانگلر نے مجھے ایلبا سے خط لاتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ فیرون جہاز کا کپتان بننا چاہتا تھا، لیکن اس عہدے کے لیے میرا انتخاب ہو گیا۔ فرناند کو مجھ سے یوں نفرت ہو گئی کہ مرسیدیز نے اس کے بجائے مجھ سے شادی کرنا چاہی۔ اگر مجھے اپنے پُرانے پڑوسی کا دیرُوس سے بات کرنے کا موقع مل گیا ہوتا تو میں ان شبہات کی تصدیق کر سکتا تھا۔ میں نے اس کو اپنی واپسی پر دانگلر اور فرناند کے ساتھ سرائے میں بیٹھے باتیں کرتے دیکھا تھا۔ وہ میرے بارے میں ہی باتیں کر رہے ہوں گے، کیوں کہ میں جیسے ہی سرائے کے پاس سے گزرا انھوں نے باتیں کرنی بند کر دیں اور یہ ظاہر کیا کہ انھوں نے مجھے نہیں دیکھا ہے۔‘‘

فاریا نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’بہت صحیح خیال ہے جب تم نے اپنے مفصل حالات بتائے تو مجھے بھی دانگلر اور فرناند پر شک ہونے لگا تھا، لیکن میں چاہتا تھا کہ تم خود اس معمے کو حل کرو۔‘‘

ایدمند نے اپنی بات جاری رکھی،’’ معمے کا ایک حصہ اب بھی میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ول فورت نے مجھے یہاں کیوں قید کرایا، جب کہ وہ کہتا تھا کہ مجھے تمھاری بات پر یقین ہے  اور تم بے قصور ہو؟‘‘

فاریا نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا،’’ ہاں واقعی! پھر اس نے جو ایلبا والا خط جلا دیا، یہ بات بھی عجیب ہے۔ نائب سرکاری وکیل نے ایک اجنبی ملاح کی حمایت میں ایک سرکاری ثبوت کو کیوں ضائع کر دیا۔ جب کہ ملاح سے پہلے وہ کبھی ملا بھی نہیں تھا۔‘‘

ایدمند نے خیال ظاہر کیا کہ وہ کسی وجہ سے مجھ سے ڈر رہا ہو گا، لیکن میرا یہ خیال بھی بچکانہ ہے۔ میں اتنے بڑے آدمی کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہوں۔فاریا ایک لمحے سوچ کر بولا،’’ تم صرف ایک راز جانتے ہو، اور وہ ہے اس باغی کا نام جس کو وہ خط لکھا گیا تھا۔‘‘

’’ جی فادر، لیکن وہ ایک اجنبی کا نام ہے یعنی نوارتے۔‘‘

یہ سنتے ہی فادر فاریا نے دونوں ہاتھ سر پر اُٹھا لیے۔ وہ چلایا:

’’ معلوم ہو گیا! اچھا یہ سبب ہے ۔ میں اس باغی نوارتے کو جانتا ہوں۔ وہ ول فورت کا باپ ہے۔ ول فورت بڈھے کی وجہ سے اتنا شرمندہ ہے کہ وہ باپ کے بجائے اپنی ماں کا خاندانی نام اپنے نام کے ساتھ لگاتا ہے۔‘‘

یہ سن کر تو ایدمند غصے سے سرخ ہو گیا۔ وہ فاریا کی طرف جھُکا اور بڑبڑانے لگا:

’’ مجھے انتقام لینا ہے۔ مجھے ان تینوں کو ختم کرنا ہے جنھوں نے میری جوانی برباد کی اور مجھے  چودہ سال کی قید بھُگتنی پڑ رہی ہے۔ اب ہمیں سُرنگ کھودنے کے کام میں دُگنا وقت لگانا چاہیے۔‘‘

اس کے بعد واقعی سُرنگ کی کھدائی تیزی سے ہونے لگی۔ جب وہ سُرنگ کے آخری پتھر تک پہنچے ، جس کو ہٹانے کے بعد وہ برآمدے تک جا سکتے تھے تو اُنھوں نے صرف تھوڑا سا پلاسٹر کھرچا۔ باقی کے لیے انھوں نے سوچا کہ فرار کی رات کو ہٹائیں گے۔ اُس وقت تک آخری پتھر کو اپنی جگہ رہنا چاہیے۔ جب وہ سُرنگ مکمل کر کے خوش ہو رہے تھے تو فاریا لڑکھڑا کر گر گیا۔ ایدمند نیم بے ہوش پادری کو بڑی مشکل سے کھینچ کر واپس اس کی کوٹھری میں لے گیا اور چارپائی پر لٹا دیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ فاریا کا سانس رک گیا ہے۔ جیل کے افسروں کی آہٹ سُنی تو ایدمند جلدی سے پیچھے ہٹ کر سُرنگ میں چھُپ گیا اور سرنگ کا پتھر اپنی جگہ جمانے سے پہلے اُس نے زور سے کہا، ’’ میری مدد کرو، میں بیمار ہوں۔‘‘

اگلے چند روز  تک ایدمند کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ سُرنگ کو استعمال کرے۔ وہ فاریا کے لیے پریشان تھا کہ وہ زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ایدمند نے اپنے تہ خانے کے دروازے پر کان لگائے رکھے۔ آخر اُس نے افسروں کو باتیں کرتے سُنا۔ ایک نے کہا، ’’ یہ پاگل ہے مگر مجھے پسند ہے۔‘‘  دوسرا بولا،’’ ہاں، اس کو فالج زدہ دیکھ کر بڑا دکھ ہو رہا ہے۔‘‘

ایدمند کا دل یہ سُن کر ڈوبنے لگا، لیکن پھر ذرا اطمینان ہوا کہ بہرحال فاریا ابھی زندہ ہے۔

ایک مہینہ بیت گیا تو ایدمند نے اپنی دیوار کے پیچھے وہی پُرانی کھُرچنے کی آواز سُنی۔ اس نے جلدی سے پتھر ہٹایا اور پادری کو اپنے تہہ خانے میں بلا لیا۔ وہ دونوں گلے مل کر روئے ایدمند یہ دیکھ کر اور بھی رویا کہ پادری کے سیدھے بازو اور ٹانگ پر فالج گر چکا ہے۔ مگر فاریا نے اس کو تسلی دی۔ بڈھا اتنی مشکل سے ایدمند کے پاس صرف اس لیے آیا تھا کہ اس پر زور دے کہ وہ اکیلا ہی آج کی رات فرار ہو جائے۔ ایدمند کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اُس نے کہا، ’’میرے واحد دوست! میں قسم کھاتا ہوں کہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے اس عرصے میں ایک منصوبہ بنایا ہے۔ ہم اپنے کمبلوں اور مچھلی کی ہڈیوں سے ایک چھوٹی سے کشتی بنا لیں گے۔ پروگرام کے مطابق بھاگ نکلیں گے اور میں آپ کو پانی میں گزار کر کشتی میں بٹھا دوں گا۔‘‘

فاریا کی آنکھوں میں آنسو اُمنڈ آئے،’’ تم میرے پیارے بیٹے ہو، لیکن میں تم پر بوجھ بن جاؤں گا۔ تم اکیلے ہی چلے جاؤ۔‘‘

ایدمند اپنی بات پر جما رہا۔اُس نے فاریا کو سہارا دے کر اس کی کوٹھری میں پہنچایا اور کہا کہ رات گئے آ کر کشتی کا کام شروع کروں گا۔

جب ایدمند دوبارہ پہنچا تو فاریا ایک کپڑے پر بنے ہوئے خاکے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ایدمند کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے اعلان کیا:

’’ مارسیلز کے ملاح ایمند دانتے! میں نے تمھیں اپنا بیٹا بنایا ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ تم میرے وارث ہو۔ میرے مرنے کے بعد وہ تمام مال و دولت جو مجھے کارڈینل اسپادا سے ورثے میں ملی ہے، تمھاری ہو جائے گی۔ میں تمھاری محبت اور وفاداری کے صلے میں یہ اعلان کر رہا ہوں۔‘‘

اس کے بعد فاریا نے کپڑے پر بنے ہوئے خاکے کی تشریح کی، جو ایک خزانے کا نقشہ تھا۔ اس میں کئی غار تھے، لیکن ایک غار نمایاں تھا۔ اور اس غار میں بہت سے پتھر تھے، لیکن ایک پتھر الگ دکھائی دے رہا تھا۔جب اس پتھر کو ہٹایا جائے گا تو ایک راستہ نظر آئے گا۔ چار فیٹ آگے چل کر ایک کمرے کا دروازہ ملے گا۔ اس کمرے میں اسپادا کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔

جب فاریا کو یقین ہو گیا کہ ایدمند نقشے کو خوب سمجھ گیا ہے تو اس نے نقشہ جلا دیا۔  ایدمند نے فاریا کی باتیں سر جھکا کر سنیں، مگر وہ دل میں ڈر بھی رہا تھا۔ یہ باتیں یقیناً پاگلوں کی سی ہیں۔

جب فاریا نے اس کو بتایا کہ جواہرات، سونے کی اینٹیں اور چاندی کی چیزیں کتنی قیمتی ہیں تو اس کو یقین ہو گیا کہ جیل کے افسر فاریا کو پاگل پادری کہنے میں غلط نہ تھے۔

اُس نے دہرایا:

’’ سات کروڑ فرانک! یہ نہیں ہوسکتا۔فادر، آپ کو آرام کرنا چاہیے۔‘‘

فاریا کو اندازہ ہو گیا کہ ایدمند کیا سوچ رہا ہے۔

اس نے گھبرا کر ہاتھ ہلایا اور کہا:

’’ میرے بیٹے میں پاگل نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں دیف حویلی سے نہیں نکل سکوں گا۔ اس لیے مجھے بات پوری کرنے دو۔ یہ غار مونٹی کرسٹو کے جزیرے میں واقع ہے۔تمھیں معلوم ہے؟‘‘

’’ جی ہاں، ہمارا جہاز فیرون اکثر اس جزیرے پر سے گزرا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا اور غیر آباد جزیرہ ہے۔‘‘

فاریا نے سر ہلا کر تائید کی اور ایدمند سے کہا کہ وہ چارپائی پر پہنچا دے۔ جیسے ہی وہ لیٹا اس کا زرد چہرہ درد سے اکڑنے لگا۔

آخری سانس لیتے ہوئے فاریا نے کہا:

’’ پیارے بیٹے، اللہ حافظ! مونٹی کرسٹو کا نام نہ بھولنا۔‘‘

ایدمند غم کے مارے بُت بنا چُپ چاپ فاریا کے بستر کے پاس کھڑا رہا۔ وہ صبح تک اسی طرح کھڑا رہا۔ صبح ہوتے ہی اس نے جیل والوں کی آواز سُنی تو وہ اپنے خفیہ راستے سے واپس آگیا۔ جیلر کہہ رہا تھا،’’ فاریا کی لاش کو کفنا دیا جائے اور کفن کو اچھی طرح سی دیا جائے اور آج شام ہی دفنا دیا جائے۔‘‘

جیسے ہی ایدمند اپنے تہ خانے میں واپس آیا اس کا غم تازہ ہو گیا۔ اب وہ اکیلا تھا، ایک بار پھر تن تنہا۔ آج زندگی میں دوسری بار ایدمند دانتے کا دل مرنے کو چاہنے لگا۔

اس مصیبت کی زندگی سے تو موت اچھی! جیل کے افسروں کے آ جانے کی وجہ سے ایدمند کو فاریا کی کوٹھری فوراً چھوڑ دینی پڑی تھی، اس لیے وہ اپنے مہربان دوست کو آخری بار دل بھر کر نہیں دیکھ سکا تھا۔ اب جیل والے جا چکے تھے۔ اس لیے ایدمند نے ایک بار پھر فاریا کا منہ دیکھنے کا ارادہ کیا۔ اُس نے سوچا، پرواہ نہیں اگر میں پکڑا بھی جاؤں۔ میری زندگی ختم ہو چکی ہے۔ یہ سوچ کر وہ فاریا کی کوٹھری میں پہنچ گیا۔ اس نے بوڑھے کو موٹے اونی کفن میں مکمل طور پر بند دیکھا۔ تو وہ چلایا:

’’ اگر میں بھی مر سکتا تو اے میرے مشفق، میں بھی اس تہ خانے سے اسی طرح نجات حاصل کر لیتا جس طرح تم حاصل کرنے والے ہو۔‘‘

ایدمند کے منہ سے الفاظ نکلے ہی تھے کہ اُس کے ذہن میں اچانک ایک بہت خطرناک خیال آیا۔ وہ سوچنے لگا، نہیں مجھے نہیں مرنا چاہیے۔ پہلے مجھے اپنے دشمنوں اور نقصان پہنچانے والوں کو سزا دینی ہے، لیکن۔۔۔۔۔ لیکن یہاں سے تو صرف مُردے ہی باہر نکل سکتے ہیں۔۔۔۔۔ اچھا تو پھر میں کیوں مُردہ نہ بن جاؤں۔ ہاں میں فاریا کی لاش بن جاتا ہوں۔

دیف کا قبرستان

ایدمند نے احتیاط سے کفن کے ٹانکے کاٹے اور فاریا کی پیشانی کو چوما۔ پھر اس نے پورے کفن کو نیچے تک چاک کیا۔ کفن سے باہر نکال کر اس نے لاش کو اُٹھایا، کچھ اُٹھایا اور کچھ گھسیٹا اور سُرنگ کے راستے لاش اپنے تہ خانے میں پہنچا دی۔ اُس نے لاش کو اپنی چارپائی پر سیدھا لٹا دیا اور کمبل سے اچھی طرح ڈھک دیا۔ اب بڈھے کا سر بھی چھُپ گیا تھا اور سفید بال نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ خود اکثر اسی طرح اوڑھ لپیٹ کر لیٹا کرتا تھا اور جیلر کھانا لاتا تو اس کی طرف رُخ نہیں کرتا تھا۔ جیلر بھی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ مطمئن تھا کہ اس کا قیدی موجود ہے۔

لاش کو اُٹھانے اور کھینچنے سے ایدمند تھک گیا۔ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ وہ فاریا کی کوٹھری میں واپس آیا۔ کھانے کا وقت قریب آ رہاتھا۔ جیلر آنے والا تھا۔ ایدمند نے جلدی جلدی فاریا کا چاقو ، سوئی اور ڈورا پتھر ہٹا کر چھُپی ہوئی جگہ سے نکال کر ہاتھ میں دبایا اور اُچک کر کفن کے اندر لیٹ گیا۔ دونوں طرف سے کفن کو کھینچ کر برابر کیا اور پیروں کی طرف سے سیتا ہوا اوپر تک لے آیا۔ اُس نے گھبرا گھبرا کر یہ کام تیزی سے پورا کیا، کیوں کہ وہ جیلر کی آواز سُن رہا تھا، جو کھانا دیتا ہوا آ رہا تھا، سلائی پوری کر کے ایدمند نے دونوں ہاتھ اپنے پہلوؤں میں کر لیے۔ اُسی وقت جیل کے آدمی پہنچے۔ وہ لاش کے احترام میں خاموشی سے گزر رہے تھے۔ ایدمند کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اس کے دل کی دھڑکن سُن رہے ہیں، لیکن وہ چلے گئے۔

ایدمند نے چاقو پر اپنا ہاتھ مضبوط کر رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کو دفن کرنے والے چٹانی زمین میں گہری قبر کھودنے کی تکلیف نہیں اٹھائیں گے اور جو ریت وہ اوپر سے ڈالیں گے اُس میں سے ہوا گزر سکے گی۔ اور وہ اُن کے روانہ ہونے تک سانس لے سکے گا۔ اس کے بعد تو وہ چاقو سے کفن چاک کر کے قبر سے باہر آ جائے گا۔ لیکن اگر قبرستان کے راستے ہی میں اُن کو اندازہ ہو گیا کہ وہ ایک زندہ لاش کو اٹھائے ہوئے ہیں تو وہ کفن کا تھیلا چاک کر کے باہر آ جائے گا اور ان پر حملہ کر دے گا۔ رات کے کھانے کا وقت گزر گیا۔ ایدمند کے دل کی دھڑکن کچھ کم ہوئی۔ اب تک کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں بجی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیلر جب ایدمند کی کوٹھری میں گیا تو اس نے یہ فرض کر لیا ہو گا کہ ایدمند سو رہا ہے۔ ایدمند چُپ چاپ فاریا کے کفن میں لیٹا رہا۔

کوئی آدھی رات گزر گئی کہ ایدمند نے دروازہ کھُلنے کی آواز سُنی۔ کئی آدمی لالٹینیں لیے اندر آئے۔ ایدمند نے سانس روک لیا۔ ایک آدمی نے اس کو سرہانے کی طرف سے پکڑا۔ دوسرے نے پیر پکڑ کر اُٹھایا اور برابر رکھے ہوئے اسٹریچر پر رکھ دیا۔ ان میں سے ایک آدمی بڑبڑایا،’’ ایک بڈھے کا اتنا وزن! غنیمت ہے کہ ہمیں بہت دور نہیں جانا ہے۔‘‘

دوسرا بولا، ’’کہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ ہڈیاں بھاری ہو جاتی ہیں۔‘‘ اس طرح ایدمند کو اندازہ ہوا کہ اسٹریچر اٹھایا جا رہا ہے اور اب وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایدمند کو سمندری ہوا کی مہک آنے لگی۔ برسوں تہ خانے میں بند رہنے کے بعد یہ بڑی فرحت بخش اور خوش گوار فضا تھی۔ لاش کو زمین پر رکھ دیا گیا۔ 36 پونڈ وزنی ایک توپ کا گولا ایدمند کے پیروں میں باندھا گیا۔ رسی جب پیروں میں گڑنے لگی تو ایدمند تکلیف سے بے چین ہو گیا۔ جب اس کو لاش کو ٹھکانے لگانے کے طریقے کا اندازہ ہوا تو اس کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے اور ایک سرد لہر اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں گزر گئی، کیوں کہ اب اُس کی سمجھ میں اچھی طرح آگیا کہ اس کو دفن کرنے کے بجائے سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔

قُلیوں میں سے ایک نے خیال ظاہر کیا کہ موسم خراب ہے۔ ایسے میں غوطہ کھانا خوش گوار نہیں ہو گا۔ دوسرے قُلی نے کہا کہ ہاں بے چارے فادر کو نزلہ ہو جائے گا۔ پھر دونوں بے تحاشا ہنسے۔ اب انھوں نے ’’لاش‘‘ اُٹھائی اور چند قدم آگے بڑھے۔ پھر رُک گئے۔

ایک بولا:

’’ ہمیں ذرا اوپر چلنا چاہیے۔ پچھلی بار لاش چٹان ہی پر اٹک کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی۔‘‘

دوسرے نے تائید کی:

’’ اور ہمیں ڈانٹ پڑی تھی۔‘‘

وہ ذرا اور اوپر چڑھ کر رُک گئے۔ لاش کو نیچے رکھا، پھر ایک نے سر کی طرف سے اور دوسرے نے پیروں کی طرف سے لاش کو اٹھا کر جھُلایا اور دونوں ایک آواز ہو کر چیخے:

’’ ایک، دو، تین۔۔۔۔۔‘‘

اب ایدمند سمندر میں تھا۔ سمندر حویلی دیف کا قبرستان تھا۔

آخر رہائی مل گئی

ایدمند پانی میں گرا تو چوٹ لگی اور وہ تیزی سے نیچے ڈوبنے لگا، اس کے پیروں سے اتنا وزن جو بندھا ہوا تھا۔ اس کا د م گھٹنے لگا، لیکن وہ ایک تجربے کار ملاح تھا اور غوطہ خوری بھی جانتا تھا۔ اُس نے جلد ہی اپنے ہوش و حواس درست کیے اور چاقو سے کفن چاک کر ڈالا۔ اس طرح اس کے ہاتھ آزاد ہو گئے، لیکن بوجھ اس کو اب بھی نیچے لیے جا رہا تھا۔ وہ بڑی کوشش اور کش مکش کے بعد جھُکا اور اپنے پیروں میں بندھی ہوئی رسی کو کاٹ ڈالا۔ توپ کا گولا گہرے پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے ساتھ کفن بھی دفن ہو گیا۔ ایدمند تیزی سے پانی کی سطح پر آیا تاکہ ہوا میں سانس لے سکے، لیکن جلد ہی پھر غوطہ مارا۔ وہ اسی طرح کرتا رہا۔ اوپر آتا اور پھر چند لمحے بعد ہی ڈبکی لگاتا، تاکہ کہیں جیل کے آدمی کنارے پر کھڑے ہوں اور اس کو دیکھ نہ لیں۔ اس کو لالٹین کے ساتھ دو سائے سے نظر آ رہے تھے۔ اگر چہ اندھیرے میں ایدمند کا نظر آنا مشکل تھا، لیکن ایدمند احتیاط کر رہا تھا۔ اور پریشانی میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔  آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ طوفان کے آثار تھے۔ ایدمند اس علاقے سے خوب واقف تھا اور اکثر ان آبی راستوں سے گزرا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔ اس کو یاد آیا کہ اس جزیرے سے ملا ہوا ایک اور جزیرہ ہے۔ وہ جزیرہ چٹانی اور ویران ہے۔ ایدمند نے اس جزیرے کا رُخ کیا اور تیزی سے اس کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ آنے والے طوفان سے پناہ چاہتا تھا۔ اس کو ٹھنڈ لگ جانے کا بھی ڈر تھا، لیکن اس خیال نے کہ وہ جیل سے باہر ہے اس کو طاقت بخش دی تھی۔ جیسے ہی وہ اُتھلے پانی تک پہنچا اور اس کے پیر چٹانی زمین پر ٹکے طوفان شروع ہو گیا۔ موسلا دھار بارش نے اس کو آ لیا، لیکن اس نے جیسے تیسے اپنے آپ کو کھینچا اور کنارہ پکڑ لیا۔ کم زور اور تھکا ہوا ایدمند ایک اونچی چٹان کی آڑ میں ہو گیا تاکہ بجلی سے بچ سکے جو جھما جھم خوفناک انداز سے لہرا رہی تھی۔ وہ خشکی پر پہنچتے ہی سو گیا۔ ایک گھنٹے بعد ہی گرج کی ایک زور دار آواز سے اُس کی آنکھ کھُل گئی۔ اس کے کپڑے گیلے تھے۔ وہ بھوکا اور پیاسا تھا۔ اُس نے اپنا منہ کھول کر بارش کا تھوڑا سا پانی پیا، اور پھر سو گیا۔

جب ایدمند دوبارہ جاگا تو طوفان گزر چکا تھا۔ اب دن نکل چکا تھا۔ ایدمند کو پھر ڈر لگنے لگا۔ جیل والوں نے دیکھ لیا ہو گا کہ اس کا کھانا یوں ہی رکھا ہے اور فاریا کی لاش وہیں پڑی ہے۔ اس وقت تحقیق و تلاش جاری ہو گی۔ دن کی روشنی میں دیف حویلی کالی اور نفرت انگیز نظر آ رہی تھی۔ ایدمند نے اس کی طرف دیکھا تو جیل کا اندرونی منظر اس کے تصور میں آنے لگا۔ جیل والے جزیرے میں اسے ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ مایوس ہو کر شاید وہ مارسیلز کا رُخ کریں۔

ایدمند پر مایوسی طاری ہونے لگی۔ اس کا چاقو کھو گیا تھا۔ اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور وہ بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا۔ اگر وہ مارسیلز بھی پہنچ گیا ہوتا تو وہ کیا علانیہ پھرنے کی ہمت کر سکتا تھا۔

ایدمند ایک چٹان سے دوسری چٹان کی آڑ میں جھُکا جھُکا ،گھُٹنوں کے بل چل رہا تھا تاکہ وہ کسی کو نظر نہ آسکے۔ اگر کوئی دوربین سے دیکھنے کی کوشش کر رہا ہو گا اور اُس کو ا ِس غیر آباد جزیرے میں ایک حرکت کرتی ہوئی چیز نظر آ گئی تو وہ اسے ایدمند ہی سمجھے گا۔ اسی چلت پھرت میں اس کو ٹوٹے ہوئے جہاز کے ٹکڑے ملے۔ ایک لٹھے پر جہاز کا نام لکھا ہوا تھا۔ ایک ملاح کی سُرخ اُونی ٹوپی اور بس۔

یکایک ایدمند پریشان ہو گیا۔ اس کی نظر دیف حویلی کے پاس سے اُڑتے ہوئے دھوئیں پر پڑی۔ چند لمحے بعد ہی بندوق چلنے کی آواز بھی آئی۔ یہ اُس کو چونکانے کے لیے کافی تھی، لیکن اُسی وقت اُس نے دیکھا کہ ایک بادبانی جہاز جزیرے سے روانہ ہونے والا ہے۔ یہ جہاز ایسا تھا جیسا اسمگلر استعمال کرتے ہیں۔ ایدمند کو فوراً فیصلہ کرنا تھا۔ اسمگلر انعام کے لالچ میں اس کو پکڑوا بھی سکتے تھے، لیکن ایدمند کو فرار کے لیے کوئی ذریعہ تو اختیار کرنا ہی تھا۔ شاید یہ اسمگلر اس کو ساتھ لے جائیں۔ اُس نے جلدی سے سُرخ ٹوپی سر پر رکھی اور وہ لٹھا اُٹھایا جس پر جہاز  کا نام لکھا ہوا تھا۔ نوکیلی چٹانوں کے زخموں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ بھاگا اور سمندر میں کود پڑا۔ لٹھے کو پکڑتے ہوئے وہ جہاز کی طرف تیرنے لگا۔

 

آخر مونٹی کرسٹو پہنچ گیا

ایدمند نے اس طرح تیرنا شروع کیا کہ وہ آگے بڑھ کر جہاز کا راستہ روک سکے۔ قریب پہنچ کر وہ پانی سے اوپر اُٹھا اور چیخنے لگا۔ اس کی پُکار سُن لی گئی اور جہاز کا رُخ اس کی طرف ہو گیا، لیکن اُچھلنے اور جہاز کو پُکارنے میں اس کی پوری طاقت خرچ ہو چکی تھی۔ جس وقت جہاز سے ایک کشتی اس کے لیے لٹکائی گئی اُسی وقت ایدمند کا ہاتھ اُس لٹھے پر سے ہٹ گیا جس کی مدد سے وہ اب تک تیر رہا تھا اور وہ ڈوبنے لگا۔ وہ پانی کی سطح پر آنے کی کوشش کرتے ہوئے چلایا:

’’ مدد! مدد!‘‘

کشتی والوں نے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ ایدمند ڈوبنے ہی والا تھا کہ کشتی اس تک پہنچ گئی۔ ایک کشتی والے ’’جیکوپو‘‘ نے اطالوی زبان میں زور سے کہا:

’’ ہمت کرو!‘‘

ایدمند اتنا کم زور ہو چکا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ اٹھا کر جیکو پو کے ہاتھ میں نہ دے سکا، اس لیے اس نے ایدمند کے سر کے بال پکڑ کر اس کے سر کو پانی سے اوپر اٹھایا اور اس وقت تک اُٹھائے رکھا جب تک کشتی کے دوسرے لوگوں نے اُسے کشتی میں گھسیٹ نہ لیا۔ اب ایدمند بے ہوش تھا۔ ایدمند کشتی سے جہاز پر پہنچا دیا گیا۔ کچھ دیر کی کوشش کے بعد اس کو ہوش آیا۔ اس نے اپنے بچانے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ وہ واقعی اسمگلر تھے۔ کپتان کو شبہ ہو گیا تھا۔ وہ کبھی دیف حویلی کی طرف اور کبھی ایدمند کی طرف دیکھ رہا تھا۔   حویلی سے نکلتا ہوا دھواں اور بندوق کی آواز اس کو سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔

ایدمند نے فوراً ایک کہانی گھڑی اور سُنانی شروع کر دی، ’’میں مالٹا کا ہوں اور پچھلی رات کو طوفان میں گھر کر میرا جہاز ڈوب گیا۔ میرا کپتان اور سب ساتھی بھی ڈوب گئے۔ اتفاق سے لکڑی کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ میں آگیا اور میں اس سے چمٹ گیا۔ وہ دیکھیے، وہ ٹکڑا اب بھی تیرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔‘‘

جیکوپو بیچ میں بول اُٹھا، ’’میں تو تمھارے سر کے بڑھے ہوئے بالوں اور لمبی داڑھی سے ڈر گیا تھا اور تمھیں کشتی میں نہ کھینچنے کا ارادہ کر رہا تھا۔‘‘

ایدمند دل ہی دل میں فاریا کو دعائیں دینے لگا کہ اُس نے ایدمند کو علم اور عقل دی۔ فاریا کی تعلیم سے ایدمند اس قابل ہو گیا تھا کہ فوراً مناسب جواب دے سکے۔ اس نے بات بنائی کہ ایک بار خطرے کے موقع پر میں نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں زندہ بچ گیا تو دس سال تک بال اور داڑھی  نہیں بناؤں گا اور میں بچ گیا۔ دس سال آج پورے ہو رہے ہیں اور تمھارے احسان سے میں اس جہاز پر آگیا ہوں۔ اب میں اپنے بال تراش سکتا ہوں۔

کپتان کو اب بھی تامل تھا۔ اس نے کہا کہ میں تمھارا کیا کروں؟

’’ میں ایک ملاح ہوں اور ان آبی راستوں میں برسوں پھرا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے کام آسکوں۔‘‘

کپتان کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے ایدمند سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی صحیح راستہ نکال سکتا ہے اور کیا وہ اچھی بندرگاہوں سے واقف ہے۔ تھوڑی سی گفت گو کے بعد انھوں نے معاملہ طے کر لیا اور جہاز کی کمان  ایدمند کے سپرد کر دی گئی۔

ایدمند نے پہیہ سنبھال لیا اور عملے کو ہدایات دینی شروع کر دیں۔ جہاز کی رفتار تیز ہو گئی اور جہاز رئین جزیرے کے پاس سے گزرا، لیکن اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس کا جہاز کے کپتان کو اندیشہ تھا۔

اس لیے کپتان بہت خوش ہوا۔ کہنے لگا:

’’ بہت خوب، بہت خوب!‘‘

جیکوپو اور دوسرے لوگ بھی بہت خوش ہوئے۔ ایدمند نے جس مہارت سے جہاز چلایا اس سے انھیں بہت لطف آیا۔ جب ان پر ایدمند کی قابلیت اچھی طرح ثابت ہو گئی تو اس کی اجرت مقرر کر دی گئی اور کہا گیا کہ وہ اٹلی کے مغربی ساحل کے شہر لیگھورن تک جہاز کو پہنچا دے۔ جیکوپو نے ایدمند کو اپنے کپڑے دے دیے۔ ایدمند سے جیکوپو کی پکی دوستی ہو گئی تھی۔ اس نے ایدمند کو ڈوبنے سے بچایا تھا۔

لیگھورن پہنچنے تک ایدمند کا وقت اچھا گزرا، وہ اب تک ایک آزاد ملاح تھا۔ اس پر کپتان کا اعتماد بڑھتا جا رہا تھا، کیوں کہ ہر شخص دیکھ رہا تھا کہ ایدمند جہاز چلانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیگھورن پہنچ کر بھی کپتان  ایدمند کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوا۔ اس نے ایدمند کی خوشامد کی اور ایدمند رُکنے پر تیار ہو گیا۔ ایدمند کے اچھے اخلاق اور اچھے کام سے سبھی خوش تھے۔ کپتان سوچنے لگا کہ اگر اس کے کوئی لڑکی ہوتی تو وہ اس کی شادی ایدمند سے کر دیتا۔

انھوں نے لیگھورن سے تمباکو اور روئی لی، جس کا کوئی ٹیکس انھوں نے نہیں دیا۔ چپکے سے جہاز پر لدوائی۔ (اسی کو اسمگلنگ کہتے ہیں)۔ اس سامان کے ساتھ وہ جزیرہ کورسیکا روانہ ہو گئے۔ وہاں انھوں نے یہ سامان ایک دوسرے جہاز پر لادا، جو اس کو لے کر فرانس جانے والا تھا۔ اس مہم کی کامیابی پر ہر ایک ساتھی کو سو سو فرانک دیے گئے۔ سب خوش ہوئے۔

باتوں باتوں میں جیکوپوسے ایدمند کو معلوم ہوا کہ یہ سنہ 1829ء ہے۔ اس سے اس کو اندازہ ہوا کہ اس کی زندگی کے 14 قیمتی سال دیف حویلی کے تہ خانے کے نذر ہو گئے غصے اور ملال کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔

سمندر میں تین مہینے اور گزر گئے۔ اس مدت میں ایدمند نے اسمگلنگ کا سامان لے کر کئی سفر کیے اور کامیابی حاصل کی۔ ایدمند مونٹی کرسٹو جزیرے میں اندر تک جانے کا مناسب طریقہ اور موقع سوچتا رہتا تھا۔ وہ لوگ اس عرصے میں اپنے ناجائز کاروبار کے سلسلے میں کئی بار اس جزیرے سے گزر چکے تھے، لیکن ایدمند چاہتا تھا کہ وہ جزیرے پہ تنہا جائے اور کوئی اس کے پیچھے نہ آ جائے۔

اچھی غذا، صاف سمندری ہوا اور محنت سے کام کرنے کی وجہ سے ایدمند کی صحت اچھی اور طاقت بحال ہو گئی تھی، لیکن قید سے اس کے رنگ و روپ میں فرق آگیا تھا۔ جیکو پو سے ایدمند کی دوستی بڑھتی رہی۔ وہ جیکوپو کو جہاز چلانا سکھارہا تھا۔ جیکوپو اس سے بہت خوش تھا کہ اس طرح وہ ایک بوجھ ڈھونے والا نہیں رہے گا اور ترقی کر سکے گا۔ وہ کبھی کبھی سوچتا تھا کہ ایدمند صرف ایک ملاح نہیں ہوسکتا۔  وہ تعلیم یافتہ اور اعلا اخلاق والا آدمی ہے۔ جب وہ ایدمند سے یہ بات کہتا تو وہ بس ہنس کر ٹال دیتا، کوئی جواب نہیں دیتا۔

ایک رات وہ لیگھورن کے ساحل پر تھے۔ ایدمند کو کپتان ایک میٹنگ کیلئے ایک ہوٹل میں لے گیا۔ ہوٹل میں اسمگلروں کا ایک دوسرا گروہ بھی موجود تھا۔ اصل میں ترکی قالینوں کو جہاز میں بھر کر اس طرح چپکے سے جانا تھا کہ ٹیکس نہ دینا پڑے اور آگے جا کے یہ مال ایک دوسرے جہاز میں لاد دیا جائے جو اس کو فرانس لے جائے۔ ایک ایسے سنسان، ویران جزیرے میں مال اتارنے اور چڑھانے کا کام ہو کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ اسمگلروں کے دوسرے گروہ کا کپتان میز پر جھکا اور کانا پھوسی کے انداز میں کہا کہ ہم مونٹی کرسٹو پر کیوں نہ یہ کام کریں۔ یہ جزیرہ درمیان میں ہے۔ ہم دونوں کے لئے فاصلہ برابر رہے گا۔ اس پر دونوں گروہ متفق ہو گئے۔

مونٹی کرسٹو کا نام سن کر ایدمند کا حلق خشک ہو گیا۔ دونوں کپتانوں نے ایک دوسرے کو مشروب پیش کیا۔ انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ پیتے وقت ایدمند کے ہاتھ خوشی اور حیرت سے کانپ رہے تھے۔

ایدمند کا جہاز مونٹی کرسٹو وقت سے پہلے پہنچ گیا، لیکن اس کے جہازی ساتھیوں کو ساحل پر اترنے اور جزیرے پہ جانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جزیرہ ویران اور چٹانی تھا اور وہاں غار ہی غار تھے۔ ایدمند نے اعلان کیا کہ وہ جزیرے پہ جا کے بکری کا شکار کرے گا تاکہ مزے دار کھانا ملے۔ جیکو پو نے ساتھ جانے کی خواہش کی، لیکن ایدمند نے کہا کہ وہ یہیں رہے اور آگ جلانے کا انتظام کرے تاکہ گوشت بھونا جاسکے۔

ایدمند ایک رائفل لے کر جزیرے کے اندرونی علاقے میں تیز تیز چلتا ہوا گیا اور غاروں کی جانب دوڑا۔ وہ صحیح رخ پر جا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں فاریا کا بتایا ہوا نقشہ جما ہوا تھا۔ جب وہ صحیح غار کے منہ میں پہنچ گیا تو وہ بیٹھ گیا اور آدھے گھنٹے تک کچھ نہیں کیا۔ وہ یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ کوئی اور اس کے پیچھے نہیں آ رہا ہے شاید کوئی ساتھی ستانے کے لئے نہیں بلکہ یونہی ادھر آ جائے جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ اکیلا ہے تو وہ غار کی طرف گیا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ایک زمینی دروازہ بڑی چالاکی سے چھپایا گیا تھا۔ اس نے دروازے کو پہچان لیا اور اس کو کھول کر غار میں داخل ہو گیا۔ غار میں گھپ اندھیرا تھا، مگر وہ اندازے سے آگے بڑھتا گیا۔ دیف حویلی کے تہ خانے میں 14سال رہنے سے اسکی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہو گئیں تھیں۔ فاریا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایدمند غار کے ایک کونے کی طرف آگیا۔ دیوار کے انداز میں چنا ہوا ایک کمزور سا دروازہ اس کے سامنے آیا۔ اس نے رائفل کے بٹ سے دروازہ توڑ ڈالا اور اندر گھس گیا۔ یہاں غار کے اگلے حصے کے مقابلے میں ذرا روشنی تھی، کیونکہ چھت میں ایک دراڑ تھی اور اس میں سے تھوڑی سی روشنی جھلک رہی تھی۔ سیدھے ہاتھ کی طرف کونے میں ایک چوکور پتھر تھا جیسا کہ فاریا نے بتایا تھا۔ خوشی اور بے یقینی کے ملے جلے جذبے کیساتھ ایدمند اس پتھر کی جانب بڑھا۔ اس نے کوشش کر کےاس پتھر کو ایک طرف کھسکایا۔ عمدہ لکڑی کے کئے بڑے بڑے صندوق اس کے سامنے تھے۔ ان کے اوپر اسپاڈا خاندان کا نشان بنا ہوا تھا۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس نے ایک صندوق کا تالا توڑا اور اسکا ڈھکنا اٹھایا۔

ایدمند کی آنکھیں چندھیا گئیں اور وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کے سامنے اسپاڈا کا شاہی خزانہ پڑا تھا۔ سونے کی اینٹیں، چمک دار ہیرے جواہرات اور سونے کے سکے کئی صندوقوں میں خوبصورتی اور ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ اس کو یاد آیا کہ فاریا نے بتایا تھا کہ خزانہ سات کروڑ فرانک کے برابر قیمتی ہے۔

ایدمند پر خوشی کی گھبراہٹ طاری تھی۔ اس نے غار میں ذرا دیر ٹھہرنا اچھا نہیں سمجھا۔ اس نے ایک صندوق میں ہاتھ مارا اور چمکتے ہوئے ہیروں کا ایک مٹھا بھر کر رومال میں رکھا اور پوٹلی بنا کر اس کو اپنی قمیض کے اندر چھپایا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا غار سے باہر آیا۔ اس پر ایک نشہ سا طاری تھا۔ اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا: ’’میرے سچے دوست اور دوسرے باپ! تم کتنے مہربان تھے۔‘‘

اس نے غار کے باہر بھی وہ سارے نشانات مٹا دیے جن سے کسی کو شبہ ہوسکتا تھا۔ اس کے بعد اس نے جزیرے سے دو بکریاں شکار کیں اور اپنے ساتھیوں کیلئے جہاز پر لے گیا۔ وہ سب اس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ گوشت بھونا گیا اور مزے لے لے کر کھایا گیا۔

اب دوسرا جہاز بھی مونٹی کرسٹو پہنچ چکا تھا۔ ترکی قالینوں کو اس میں منتقل کر دیا گیا۔ پھر سب کو ایک ایک سو فرانک معاوضہ دیا گیا۔ ایدمند نے دوسروں کی طرح یہ رقم لے لی، لیکن وہ دل میں ہنسا۔ اس کے رومال میں بندھے ہوئے ہیروں میں سب سے چھوٹا دانا بھی جہاز کے تمام کارکنوں کی تنخواہ سے دس گنا زیادہ قیمتی تھا۔

اب ایدمند جہاز کو لے کر لیگھورن واپس پہنچا۔ وہاں ایدمند نے کپتان کو بتایا کہ وہ اب ان کے ساتھ کام نہیں کر سکے گا۔ کپتان اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے دگنی اجرت دینے کو کہا، لیکن ایدمند نے شکریہ ادا کر کے نہایت اخلاق اور نرمی کے ساتھ انکار کر دیا۔ ایدمند کی جدائی کا سن کر جیکوپو  تو بہت ہی رنجیدہ ہوا۔ یہ دیکھ کر ایدمند اس کو ایک طرف الگ لے گیا۔ اس نے آہستہ سے کہا:

’’میرے محسن! میں آپ سے تعاون کرنا چاہتا ہوں اور آپ کا تعاون چاہتا ہوں۔ مجھے آپ جیسے دوست اور قابل اعتماد آدمی کی ضرورت ہے۔ ایسے آدمی کی جو میرا راز اپنے تک رکھ سکے۔ کیا آپ میرے ساتھ چلیں گے؟‘‘

جیکو پو یہ الفاظ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ اس نے کہا:

’’مجھے اس سے زیادہ کیا چاہیے۔ میرا خیال صحیح تھا کہ آپ ملاح نہیں ہیں۔‘‘

ایدمند نے جواب دیا:

’’میں نے اسمگلنگ کے اس جہاز کو تفریحاً چلایا ، مگر اس میں شبہ نہیں کہ میں دوسری باتوں کے علاوہ میں ایک ملاح بھی ہوں۔ جائیے اپنا سامان لیجیے اور شہر پہنچ کر میرا انتظار کیجیے۔‘‘

ایدمند نے جہاز کے سب آدمیوں کو تحفے دیے اور رخصت ہو کر  لیگھورن کے بازار میں ایک جوہری کے ہاں پہنچا اور اس کو چار چھوٹے قیمتی ہیرے دکھائے کہ یہ خریدتے ہو؟ جوہری قیمتی جواہرات دیکھنے کا عادی تھا اور اس کا چہرہ ہمیشہ جذبات سے عاری اور سپاٹ رہتا تھا، لیکن ایدمند کے ہیرے دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ وہ نہایت اعلا درجے کے تھے۔ اس نے ایدمند سے کوئی سوال نہیں کیا۔ نہ یہ پوچھا کہ ایک غریب ملاح کے پاس یہ کہاں سے آ گئے۔ اس نے فوراً ایدمند کو چالیس ہزار فرانک دے دیے اور کہا کہ جب بھی ایسے ہیرے اس کے پاس ہوں، وہ سیدھا یہاں آ جائے۔

جیکوپو شہر میں ایدمند کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد سے ہر لمحے جیکوپو کی حیرت بڑھتی گئی۔ سب سے پہلے تو ایدمند نے اس سے کہا کہ تمہیں سب سے پہلے جو فقیر نظر آئے، اس کو اپنی سب چیزیں دے دو۔

اس کے بعد وہ جیکو پو کو لے کر لیگھورن کے سب سے بڑے درزی کی دکان پر گیا۔ یہاں پہنچ کر ایدمند نے سب سے پہلے تو حکم دیا کہ دکان کے دروازے بند کر دیے جائیں اور تمام کاریگر پوری توجہ سے اس کی بات سنیں۔ دکان کا مالک پہلے تو تامل کرنے لگا، مگر جب ایدمند نے ایک ہزار فرانک اس کی میز پر رکھ دیے تو اس نے فوراً دروازے بند کروا دیے۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر ایدمند اور جیکو پو کا ناپ لے لیا گیا تاکہ ان کے لیے کئی قسم کے بہترین لباس تیار کیے جائیں اور لباس میں بہترین کپڑا لگایا جائے۔ یہ لباس اتنے عمدہ ہوں کہ ایک رئیس کو زیب دیں اور اس کے ذاتی ملازم کے بھی شایان شان ہوں۔ ایدمند نے دکان دار کو ہدایت کی کہ  یہ لباس کل صبح تک شہر کے سب سے بڑے نفیس اور بڑے ہوٹل "رائل ہوٹل" میں پہنچا دیے جائیں۔ دکان کے مالک نے کہا کہ اتنی جلدی لباس کی کٹائی، سلائی مشکل ہے۔ ایدمند نے کچھ اور رقم دے کر اس کو راضی کر لیا۔ اب درزی نے کہا کہ’’ میرے کاریگر پلک جھپکائے بغیر رات بھر کام کریں گے اور صبح ہی تمام لباس آپ کی خدمت میں پیش کر دیے جائیں گے۔‘‘

رائل ہوٹل میں کسی معمولی آدمی کا ٹھہرنا مشکل تھا۔ ایدمند اور جیکوپو کا پرانا لباس اس قابل نہیں تھا کہ اس ہوٹل میں ان کو جگہ مل سکے، لیکن یہاں بھی ایدمند کی دولت کام آئی۔ ان کو ان کمروں میں ٹھہرایا گیا جو صرف شاہی خاندان کیلئے مخصوص تھے۔ جیکوپو کا ہوٹل کے نرم و نفیس قالینوں پر چلنا مشکل ہو رہا تھا۔

فاریا نے ایدمند کو بہت کچھ پڑھا سکھادیاتھا۔ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ رئیسوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس نے ہوٹل والوں کو خاص کھانے تیار کر کے کمروں میں بھیجنے کا حکم دیا اور کھانے کے لیے پنیر ، پھل اور بہترین مشروب بھی بھیجنے کی ہدایت دی۔

صبح ان کے کپڑے پہنچنے شروع ہو گئے۔ اب ایدمند نے جیکوپو کو پہلا اہم حکم دیا کہ وہ مارسیلز پہنچے اور خاموشی سے تین آدمیوں کے متعلق معلومات کر کے آئے: موسیو دانتے (ایدمند کا باپ)، مرسیدیز اور کادیروس۔ جیکوپو دوپہر کو مارسیلز روانہ ہو گیا۔ اس کا بٹوا رقم سے ابلا پڑا تھا۔

خود ایدمند جینیوا روانہ ہوا۔ وہاں کے جہاز ساز عمدہ اور تیز چلنے والی کشتیاں بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔ جب اس کی سواری ساحل کے پاس سے گزر رہی تھی تو اس نے ایک بادبانی کشتی دیکھی، جس کو چلا کے امتحان کیا جا رہا تھا۔ اس کی نظروں کو یہ کشتی بھلی لگی۔اس نے اپنی سواری رکوائی اور کشتی کے مالک کے بارے میں معلومات کی۔ مالک ایک انگریز تھا اور قریب موجود تھا۔ وہ اداس اداس سا دکھائی دے رہا تھا۔ اصل میں اس نے اس کشتی کو بنانے میں بڑی محنت کی تھی اور بڑے ارمان سے اس میں کئی خاص چیزیں لگوائیں تھیں، لیکن اب اس کا ہاتھ تنگ ہو گیا تھا۔ اس نے سٹے میں بڑی رقمیں ہار دی تھیں۔ اب وہ بقایا رقم ادا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ ایدمند نے اس کو پوری قیمت کے علاوہ بیس ہزار فرانک زیادہ دینے کی پیش کش کی۔

کشتی کا انگریز مالک خوش ہو گیا۔ اس نے رقم لے کر فوراً رسید لکھ دی ایدمند کو کشتی اس لیے بھی پسند آئی کہ وہ اس کو اکیلا ہی کھے سکتا تھا۔ اس نے اس میں کچھ تبدیلی کروائی اور ایک ایسا کیبن بنوا کر لگوایا جو کسی کو نظر نہ آئے اور اس میں بہت سا سامان آسکے۔

پھر مونٹی کرسٹو

کشتی کو تھوڑا سا چلا کر دیکھنے کے بعد ایدمند نے مونٹی کرسٹو کے جزیرے کی طرف رخ کیا لیکن راستے میں ایک قریبی جزیرے پر رک گیا۔ وہاں ایک دن قیام کیا۔ وہ یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ کہیں کوئی اس کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے۔ پھر وہ کشتی کو مونٹی کرسٹو کے جزیرے لے گیا۔ وہاں اس نے لنگر کو ایک غار میں چھپا دیا۔ اسپاڈا خزانے کو غار سے نکال نکال کر کشتی کے کیبن میں رکھنے میں ایدمند کو دو روز لگ گئے، لیکن وہ واپس لیگھورن پہنچا تو جیکو پو بھی مارسیلز سے لوٹ کر آیا ہی تھا۔

جیکوپو نے اچھی خبر نہیں سنائی۔ ایدمند کے باپ کو مرے ہوئے کئی سال ہو چکے تھے۔ ایدمند کا خود بھی یہی اندازہ تھا، لیکن اب یہ خبر سن کر اس کا دل ڈوبنے لگا۔ جیکوپو نے مرسیدیز کے متعلق بتایا کہ وہ مارسیلز سے غائب ہے اور اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ ہاں کادیروس اب بھی وہی رہتا ہے اور ایک چھوٹی سرائے کا مالک ہے، جو ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ جیکوپو کا خیال تھا کہ سرائے سے کوئی خاص آمدنی نہیں ہو رہی ہو گی، کیوں کہ راستہ بدل گیا ہے اور اب بہت کم مسافر ادھر سے گزرتے ہیں۔ اس نے ایدمند کو سرائے کا پتہ بتایا اور ایدمند فوراً مارسیلز روانہ ہو گیا۔

جیکوپو کا اندازہ صحیح تھا۔ کادیروس نے ایک بڑی سڑک کے کنارے اپنی سرائے تعمیر کی تھی۔ ابتداء میں کاروبار بہت اچھا تھا اور کادیروس خوب کما رہا تھا۔ اُس نے شادی بھی کر لی تھی۔ زندگی عیش میں گزر رہی تھی، لیکن یہ مزے عارضی ثابت ہوئے۔ پریشانی نے جلد ہی سر اٹھا لیا۔ایک نہر کی تعمیر نے راستہ بدل دیا۔ وہ سرائے جو مسافروں سے روزانہ بھری رہتی تھی، اب سنسان سڑک پر ویرانی کا منظر پیش کرنے لگی۔ اتفاق سے ہی کوئی مسافر اُدھر آ نکلتا، کیوں کہ لوگ زیادہ تر نہر کے راستے سفر کرنے لگے تھے۔ کادیروس سرائے کے دروازے پر کھڑا منتظر رہتا کہ کم سے کم ایک مسافر ہی آتا دکھائی دے۔ اس کی بیوی بھی بیمار اور کم زور ہو رہی تھی۔ ایک روز کادیروس اوپر کی منزل میں اپنی بیمار اور بدمزاج بیوی کی دیکھ بھال کرنے گیا ہوا تھا، کسی نے زور سے دروازہ کھٹ کھٹایا۔ وہ دوڑا دوڑا نیچے آیا۔ ایک اطالوی پادری اپنے عمدہ گھوڑے کی لگام پکڑے دروازے پر کھڑا تھا۔ کادیروس خوش ہو کر بولا:

’’ تشریف لائیے حضور! تشریف لائیے!‘‘

پادری اندر داخل ہوا اور ایک میز پر بیٹھ گیا۔ کادیروس نے اپنے گاہک کو ایک نہایت عمدہ شربت پیش کیا۔ پادری نے پوچھا:

’’ کیا تم گاسپرد کادیروس ہو؟‘‘

’’ جی ہاں میرا نام یہی ہے۔‘‘

’’ کیا تم ایدمند دانتے نامی ملاح کو جانتے ہو؟‘‘

’’ جی ہاں، میں اس کا پڑوسی تھا۔اُس کو کیا ہوا؟ وہ اب کہاں ہے؟‘‘ کادیروس گھبرا گھبرا کرسوالات کرنے لگا۔

پادری، کادیروس کو بڑے  غور سے دیکھ رہا تھا۔ جواب میں پادری نے کہا،’’ مرتے وقت میں اس کے سرہانے تھا۔‘‘

یہ سُن کر کادیروس پیلا پڑ گیا۔ اُس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔ پادری نے دیکھا کہ کادیروس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا،’’ اُس کی موت کا سبب کیا تھا؟‘‘

پادری نے اس پر نظریں جمائے جمائے ہی جواب دیا کہ جوان آدمی کی موت کا قید میں جو سبب ہوسکتا ہے۔ ایدمند کا دل ٹوٹ گیا تھا۔ غم اس کو لے ڈوبا، لیکن وہ اپنے پیدا کرنے والے کی قسم کھا کر کہتا تھا کہ اُسے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک نہیں معلوم ہوسکا کہ اُس کا جرم کیا تھا۔ بہرحال اُس نے مجھے ہیرے کی ایک انگوٹھی  دی اور یہ خواہش  ظاہر کی کہ اس کو بیچ  کر جو قیمت ملے اس کو پانچ قریبی دوستوں میں برابر تقسیم کر دوں۔ ایک اس کا باپ، دوسرا کادیروس، تیسری مرسیدیز، چوتھا دانگلر، پانچواں فرناند۔ پادری اب بھی کادیروس کی حرکت کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اپنا نام سُن کر کادیروس کانپنے لگا، گویا ایدمند کے سرد مُردہ ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا ہو۔ اُس نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے کہا:

’’ یہ ہیرا بہت قیمتی ہو گا!‘‘

’’ ہاں، یہی کوئی پچاس ہزار فرانک کا ہو گا۔‘‘ پادری نے اپنی عبا میں سے ایک مخملی ڈبیا نکالی اور اس میں سے انگوٹھی نکال کر روشنی میں دکھائی۔ جھلملاتے ہوئے ہیرے کے تیز عکس نے کادیروس کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دی۔ وہ اس کو بڑے شوق سے دیکھ رہا تھا۔

پادری نے آہستہ سے کہا،’’ لیکن میں نے مارسیلز میں سُنا ہے کہ ایدمند کا باپ ختم ہو چکا ہے۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کن حالات میں مرا؟‘‘کادیروس نے سر جھُکا کر دھیمی آواز میں کہا، ’’ میں سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ فاقوں نے اس کی جان لی۔‘‘

پادری نے بڑی مشکل سے اپنے دکھ کو چھپاتے ہوئے کہا، ’’فاقوں سے؟ جب کہ گلی کے کُتوں کو بھی کوئی رحم دل انسان کچھ کھلا دیتا ہے۔ اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ بوڑھا  دانتے چاروں طرف عیسائیوں کے ہوتے ہوئے فاقے کر کر کے مر گیا۔‘‘

کادیروس نے غمگین آواز میں جواب دیا:’’ جو واقعہ تھا وہ میں نے آپ کو بتا دیا۔ مرسیدیز اور ایدمند کے سابق آقا موسیو موریل اکثر بوڑھے دانتے کے پاس جایا کرتے تھے۔ مگر بڈھا ضدی تھا۔ اُس نے ان لوگوں سے کوئی امداد قبول نہیں کی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کے انتقال کے بعد موسیو موریل نے بہت اچھی طرح اس کے کفن دفن کا انتظام کیا اور اس پر جو بھی قرض تھا وہ ادا کر دیا۔‘‘

پادری نے جانے کے لیے اٹھتے ہوئے کہا:’’ میں مرسیدیز کا پتہ چلانے میں کامیاب نہیں ہوسکا، اس لیے مہربانی کر کے مجھے دانگلر اور فرناند کے پتے دے دو، تاکہ میں تم تینوں میں انگوٹھی کی رقم تقسیم کر سکوں۔‘‘

کادیروس سوچ میں پڑ گیا۔ ایک طرف ہیرے کی انگوٹھی ہتھیانے کی خواہش تھی، دوسری طرف دانگلر اور فرناند کے غصے اور انتقام کا ڈر تھا۔ اب وہ دونوں با اثر تھے۔ آخر لالچ غالب آگیا۔ اس نے اپنے ذہن میں واقعہ تازہ کیا اور کہنے لگا، ’’میرے خیال میں دانگلر اور فرناند اس کے حق دار نہیں ہیں۔ انھوں نے بے چارے ایدمند کو دھوکا دیا۔‘‘ اس کے چہرے پر لالچ اور خوف دونوں جھلک رہے تھے۔ پادری نے بے پروا بن کر پوچھا:

’’ اچھا، کیا یہ بات ہے؟‘‘

کادیروس نے کہا:’’ میں آپ کو پوری بات بتا سکتا ہوں، شرط یہ ہے کہ آپ میرا نام کسی سے نہ لیں۔‘‘

پادری نے یقین دلایا،’’ میں وعدہ کرتا ہوں۔ میں مذہبی آدمی ہوں۔ ایدمند کی آخری خواہش پوری کرنے کے بعد میں اپنی عبادت گاہ میں واپس چلا جاؤں گا اور تمھاری باتیں میرے سینے میں دفن ہو جائیں گی۔‘‘

اس سے کادیروس کو اطمینان ہو گیا اور اس نے بتایا کہ کس طرح ایدمند کی منگنی سے ایک دن پہلے دانگلر نے وہ الزامی خط لکھا تھا اور اسے فرناند نے ڈاک میں ڈالا تھا۔ یہ سُن کر پادری کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا، لیکن کادیروس اپنی ہی اُدھیڑ بُن میں تھا، اس لیے کچھ نہ سمجھ سکا۔ پادری نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا:’’ تمھیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟‘‘

’’جب یہ خط لکھا جا رہا تھا تو میں وہیں تھا، لیکن میں بہت پئے ہوئے تھا۔ مجھے بہت دیر میں احساس ہوا کہ میں بھی ان کے ساتھ بدی میں شامل ہو رہا ہوں۔ میں دل میں پشیمان تھا۔میں نے کئی بار توبہ کی اور اپنے اللہ سے معافی مانگی۔‘‘

پادری نے پوری بات سُن کر کہا،’’ مجھے تمھاری بات کا یقین ہے۔ تمھاری پشیمانی سچی ہے اور صرف تم ہی انگوٹھی کے حق دار ہو۔‘‘ یہ کہہ کر پادری نے ہیرے کی انگوٹھی کادیروس کے حوالے کی، جس کو اپنی اس خوش قسمتی پر خود یقین نہیں آ رہا تھا۔ اب پادری سرائے سے باہر نکل آیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ گھوڑا دُلکی چال سے آگے بڑھنے لگا۔

پادری اصل میں خود ایدمند دانتے تھا۔ مارسیلز واپس ہوتے ہوئے راستے میں اُس نے اپنی بربادی کا انتقام لینے کا ارادہ ایک بار پھر تازہ کیا۔

ایک نیا نواب

کچھ عرصے سے پیرس کے اونچے طبقے میں ایک نئے معزز نواب کا چرچا تھا، جو بہت مال دار ہونے کے ساتھ ساتھ پُر کشش بھی تھا۔ اس زمانے میں خطاب ورثے میں ہی نہیں ملتے تھے بلکہ خریدے بھی جا سکتےتھے۔ اس لیے کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس سے پہلے اس نواب کے خاندان کو کوئی نہیں جانتا تھا، دولت اور خوش اخلاقی سے مونٹی کرسٹو کے نواب نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ کادیروس سے خط لکھنے والوں کے نام سُن کر ایدمند نے نواب مونٹی کرسٹو کا روپ دھار لیا تھا اور وہ پیرس میں رہنے لگا تھا۔ اس نے جیکوپو کو کئی جگہ معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا اور اپنی انتقامی جنگ شروع کر دی۔

ایدمند کا پہلا نشانہ دانگلر اور ول فورت تھے۔ اب یہ دونوں پیرس کے سب سے بڑے بنک کے مالک بن گئے تھے۔ دانگلر ہمیشہ سے تیز تھا۔اس نے بنک کے زمانے میں فوج کو سامان فراہم کرنے کے نگراں  کی حیثیت سے خوب کمایا۔ اس نے پہلے تو ایک تاجر کی طرح بہت سا اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان خریدا۔ پھر خود ہی فوج کے افسر کی حیثیت سے اس کو فوج کے لیے مہنگے داموں میں خرید لیا۔ اس ناجائز کمائی کے بعد اس کا نام پیرس کے چند مال داروں میں شامل ہو گیا، لیکن اس کا دل اب بھی بھرا نہیں تھا۔ دولت بڑھانے کی ہوس باقی تھی۔ اس نے اب اپنے کو ’’لارڈ دانگلر ‘‘کہلوانا شروع کر دیا تھا۔

ول فورت بھی اس کا ساتھی بن گیا تھا۔ اس کو بھی دولت کی ہوس تھی۔ حکومت سے اس کے تعلق کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے تجارت کا موقع اور خفیہ معلومات ملیں، لیکن مال و دولت کے علاوہ اسے کچھ پریشانیاں بھی تھیں۔ اس کی پہلی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ اس کی دوسری بیوی بہت ڈرپوک تھی۔ کئی سال تک ان کا کوئی بچہ نہیں ہوا، لیکن اب ایک لڑکا تھا، جس پر ماں باپ دونوں فدا تھے۔

ایک صبح ول فورت خاص طور پر دانگلر کے بُلانے پر بنک پہنچا۔ اس روز مشہور افسانوی دولت مند نواب مونٹی کرسٹو بنک آنے والا تھا دانگلر چاہتا تھا کہ ول فورت بھی اس کا استقبال کرے۔ ٹھیک مقررہ وقت پر نواب بنک پہنچا اور دانگلر کے سجے سجائے کمرے میں لایا گیا۔

دانگلر نے نواب کو پہلی بار دیکھا  تو بہت مرعوب ہوا۔ نواب کی شخصیت بڑی شان دار تھی۔ اس کے کپڑے بھڑک دار نہیں تھے، مگر ان میں نفاست تھی۔ اس کے مقابلے میں دانگلر کو اپنا لباس حقیر لگ رہا تھا، لیکن اس کو کسی طرح بھی نواب سے نیچا ہونا گوارا نہیں تھا۔ اس نے نواب کا استقبال عام طریقے سے کرنا چاہا:

’’ تشریف لائیے جناب، بلکہ مجھے جناب نہیں نواب صاحب کہنا چاہیے۔ یہ میرے ساتھی ہیں موسیو ول فورت۔ اس کرسی پر تشریف رکھیے۔ یہ کرسی ایک زمانے میں شہنشاہ چین کی تھی۔ اب یہ ایک معمولی لارڈ کے استعمال میں ہے۔‘‘ دانگلر کھسیانی ہنسی کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔

نواب مونٹی کرسٹو (ایدمند) نے اخلاقاً دونوں کے سامنے ذرا سی گردن جھکائی اور دانگلر کو ایک رقعہ دیا۔ یہ رقعہ روم (اٹلی) کے سب سے مشہور بنک ’’ تھامسن اینڈ فرنچ‘‘ کی طرف سے تھا۔ یہ رقعہ ایدمند نے حال ہی میں حاصل کیا تھا، لیکن روم کے بنک کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کو راز رکھے۔ دانگلر نے رقعہ بڑے تعجب کے ساتھ پڑھا اور بولا:

’’ اس میں لکھا ہے کہ جب آپ پیرس میں ہوں تو ہمارا بنک آپ کو غیر محدود رقم ادا کرے۔‘‘ ایدمند نے کہا:

’’جی ہاں، میں عام طور پر اسی انداز سے کام کرتا ہوں۔‘‘

دانگلر بولا:

’’ لیکن غیر محدود رقم تو کیسے ہوسکتی ہے! میرے خیال میں ہمیں ایک ایسی رقم پر متفق ہو جانا چاہیے جس سے زیادہ رقم یقین ہے کہ آپ نہیں نکالیں گے۔ یہی مناسب کاروباری طریقہ ہے۔‘‘

ایدمند کھڑا ہو گیا اور بولا،’’ معاف کیجیے، مجھے غلط بتایا گیا۔ مجھ سے کہا گیا تھا کہ پیرس میں آپ کا بنک سب سے بڑا ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ میری ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔‘‘

دانگلر اور ول فورت نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ دانگلر نے کہا،’’ نواب صاحب، ذرا سُنیے، بلاشبہ ہم کسی متفقہ نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ہم مل کر ایک ایسی معقول رقم طے کر سکتے ہیں جس کے نکالنے کی زیادہ سے زیادہ آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہو، مثلاً دس لاکھ فرانک۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی اس سے بہتر خدمت اس سے پہلے کبھی نہیں کی گئی ہو گی۔‘‘

ایدمند ہنسنے لگا،’’ میرے عزیز لارڈ، میرا مذاق نہ اڑائیں۔ دس لاکھ تو کچھ نہیں ہوتے۔ اتنی حقیر رقم تو میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہوں کہ شاید کوئی چھوٹی موٹی ضرورت پیش آ جائے۔‘‘ اس نے اپنا بیگ کھولا۔ اس میں واقعی اس سے زیادہ رقم نظر آ رہی تھی۔ دانگلر کا منہ حیرت سے کھُلا  کا کھُلا رہ گیا۔ ول فورت بھی اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا کہ اچھی طرح دیکھ سکے۔ دونوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔

آخر دانگلر کو کہنا پڑا:

’’ آپ کو جتنی رقم کی ضرورت ہو آپ لے سکتے ہیں۔ نواب صاحب، آپ جتنی رقم چاہیں حاضر کی جائے گی۔‘‘

نواب مسکرایا۔ اس سے زیادہ وہ اپنی چال کی کامیابی پر دل میں ہنسا۔ وہ بڑے اطمینان سے بولا:

’’ شکریہ لارڈ دانگلر! جی ہاں، مجھے اکثر زیادہ رقم کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں کسی موقع پر تجارت میں سرمایہ لگانے کے کام میں بھی آپ کے بنک کی خدمات حاصل کرنا چاہوں گا۔ شاید میں کسی تجارتی جہاز کا پورا سامان خریدنا چاہوں گا، مثلاً مشرقی ملکوں سے آئی ہوئی کشمیری شالیں ہمارے ملکوں میں بہت پسند کی جاتی ہیں ، ہوسکتا ہے کہ کوئی جہاز یہ شالیں لائے تو میں پورا جہاز خرید لوں۔ اچھا منافع بخش سودا ہو گا۔ پھر جب مال بیچنا ہو گا تب بھی آپ کے بنک کے ذریعے سے رقم کا لین دین ہو گا۔ غرض میں اپنے تجربے کی بنا پر بتاؤں گا کہ کب کیا لینا ہے اور کب کیا بیچنا ہے۔‘‘

دانگلر اور ول فورت کے منہ سے تقریباً ساتھ ساتھ نکلا کہ ہمارا بنک آپ کی ہر خدمت کے لیے حاضر ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ نواب کی ہدایت پر عمل کرنے کے علاوہ اس کی معلومات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم خود بھی کاروبار میں اپنا پیسہ لگائیں گے۔

اس کے بعد نواب مونٹی کرسٹو اور بنک کے درمیان مسلسل لین دین رہا۔ نواب کے نئے مکان، سواری، گھوڑوں، اس کے ملازموں، دعوتوں، آرٹ کے نمونوں اور نادر چیزوں کی خریداری کے لیے بنک کے ذریعے سے بھاری رقموں کی ادائی ہوتی رہی۔ اس کے علاوہ نواب دُنیا کے دوسرے بہت سے ملکوں سے تجارت کے لیے پورے پورے جہازوں کے سامان کی خریداری کا آرڈر دیتا رہا۔ دانگلر ان آرڈروں پر عمل کرتا رہا اور خود وہ اور ول فورت اپنا سرمایہ بھی ایسی چیزوں کی خریداری پر لگاتے رہے۔ وہ سامان خریدتے رہے اور پھر بیچ دیتے۔ ابتداء میں کئی سودوں میں ان کو اتنا منافع ہوا کہ بعد میں وہ پچھتائے اور اپنے آپ کو کوسنے لگے کہ اس سے بھی زیادہ رقم کیوں نہ لگائی۔ جلد ہی انھوں نے اپنی ساری دولت اسی طرح سامانوں کی خریداری میں جھونک دی۔ اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بنک میں دوسروں کاجو سرمایہ جمع تھا وہ بھی صرف کرنے لگے، کیوں کہ اُن کو نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں تھا اور وہ بھاری منافعوں کے لالچ میں یہ کاروبار کر رہے تھے۔

جب نواب کو اندازہ ہو گیا کہ دانگلر اور ول فورت اپنی دولت کو خوب پھیلا چکے ہیں تو وہ ایک دن خود بنک آیا اور ایک اور سودے میں پیسہ لگانے کا آرڈر دیا۔ یہ سودا ہیروں کی ایک کان کے حصے خریدنے کا تھا۔ اس میں نواب نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ رقم لگانے کی ہدایت کی۔ دانگلر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے کہا،’’ محترم نواب صاحب، شاید یہ بہت فائدہ بخش سودا ہو گا، جبھی تو آپ بہ نفس نفیس بنک تشریف لائے ہیں۔‘‘

نواب نے اقرار میں سر ہلایا،’’ ہاں یہ خریداری میری پچھلی تمام خریداریوں سے بڑھ جائے گی۔ مجھے توقع ہے کہ اس سودے سے میں بڑی دولت حاصل کروں گا۔‘‘

اس بات کا دانگلر پر اتنا اثر ہوا کہ نواب کے جاتے ہی دانگلر نے اپنے چاروں مکانوں سمیت تمام جائداد اور چیزوں کو گروی رکھنے کے کاغذات تیار کیے۔ اپنی بیوی کا ورثہ، اپنی بیٹی کا جہیز اور ان دونوں کے تمام زیور سب اس سودے میں لگا دئیے۔ ول فورت اپنی بیوی سے ڈرتا تھا، مگر اُس نے سوچا کہ اس سودےمیں کامیابی کے بعد میں اب سے دس گنی زیادہ دولت کا مالک بن جاؤں گا۔ یہ سوچ کر ول فورت نے بھی جو کچھ اُس کے پاس تھا سب ہیروں کی کان کے حصے خریدنے میں لگا دیا۔ ان دونوں نے اگلے چند ہفتے اس خیال میں گزارے کہ اب وہ مونٹی کرسٹو کے بعد پیرس کے سب سے مال دار آدمی ہو جائیں گے۔

لیکن اگلے دو مہینے میں جو رپورٹیں اور خبریں آنی شروع ہوئیں وہ اچھی نہیں تھیں۔ ان کے مطابق کہیں تو طوفان سے جہاز تباہ ہوگیا تھا، کہیں جہاز کا سارا مال اسمگلروں نے لوٹ لیا۔ کبھی وہ لوگ جن پر نقد رقم لے جانے کے لیے بھروسا کیا گیا تھا غائب ہو گئے۔ دانگلر اور ول فورت ان اطلاعات سے کچھ پریشان تو ہوئے، لیکن پھر بھی وہ اس یقین سے خوش تھے کہ کیا ہوا، بہت جلد ہمیں ہیروں کی کان سے بہت بڑی دولت ملنے والی ہے۔ اُس سے ان نقصانات کی تلافی ہو جائے گی، لیکن کچھ دن بعد یہ بُری خبر آئی کہ ہیروں کی کان دھوکا تھی۔

دانگلر یہ سُن کر پیلا پڑ گیا۔ وہ فوراً نواب مونٹی کرسٹو کے پاس دوڑا۔ نواب ناشتا کر رہا تھا۔ اُس نے دانگلر کے لیے بھی پھل اور کافی لانے کو کہا۔ دانگلر تڑپ کر بولا، ’’نواب صاحب، آپ سکون سے بیٹھے کھا پی رہے ہیں، جب کہ ہم تباہ ہو چکے ہیں۔ ہیروں کی کان میں کوئی سچائی نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔‘‘

نواب مسکرا کر بولا، ’’کچھ عرصے بعد لوگوں نے ہیروں کی کان پر شبہ ظاہر کیا تھا، اس لیے میں نے روم میں تھامسن اینڈ فرنچ بنک کے ذریعے سے اپنے حصے فروخت کر دیے۔ میں نقصان سے بچ گیا۔۔۔۔۔ یہ پھل زیادہ نفیس ہے،ذرا چکھئے۔‘‘

دانگلر کرسی میں دھنس گیا،’’آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔ میں تو تباہ ہو گیا، تباہ و برباد۔‘‘

نواب نے بناوٹی حیرت کا اظہار کیا،’’اچھا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ بھی میری دی ہوئی معلومات سے فائدہ اٹھاتے اور سرمایہ لگاتے ہیں۔ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔۔۔۔۔ جیکوپو! میں کافی اور لوں گا۔‘‘

دانگلر واپس اپنے گھر دوڑا۔ گھر میں کسی سے بات کیے بغیر اس نے ایک سوٹ کیس میں کپڑے اور اپنی بیوی کے زیور رکھے۔ اس کے بعد وہ اپنے بنک پہنچا اور وہاں جتنی بھی نقد رقم تھی وہ لے لی،حال آں کہ نہ رقم اس کی تھی نہ زیور۔ وہ پہلے ہی سب کچھ ہیروں کے کان میں لگانے کے لیے استعمال کر چکا تھا۔ لیکن وہ بنک کی رقم لے کر پیرس سے فرار ہو گیا۔

ول فورت کا انجام

جب ول فورت بنک پہنچا تو بنک کے ملازموں کو پریشان پایا۔ بنک کی تجوریاں خالی ہونے کی بناء پر وہ بنک کے دروازے بند کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ دانگلر کے دفتر میں اس کو ہیروں کی کان کے بارے میں رپورٹ ملی۔ یہ ایسا دھکا تھا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ وہ ایک کرسی پر گرپڑا۔ پانچ گھنٹے تک کوئی ول فورت کو اٹھا نہ سکا۔ اس کے بعد اتفاق سے اس کا ملازم آیا۔ اصل میں اس کی بیوی کو سن گن مل گئی تھی کہ بنک میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔ چوں کہ دل فورت گھر واپس نہیں پہنچا تھا، اس لیے اس کی بیوی نے خیر خبر لانے کے لیے ملازم کو بھیجا تھا۔ اپنی بیوی اور بچے ایڈورڈ کا خیال کر کے دل فورت نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ اس نے سوچا کہ وہ اب بھی حکومت میں اثر رکھتا ہے اور دل میں ارادہ کیا کہ وہ اپنا نائب سرکاری وکیل کا پرانا عہدہ دوبارہ حاصل کرے گا۔اس طرح وہ اپنے گھر کا خرچ چلا سکے گا۔ زیادہ اونچے انداز سے تو اب زندگی چلانا مشکل ہو گا، البتہ کچھ عرصے بعد وہ اپنی قسمت پھر بنا لے گا۔ ان خیالات سے اس کو کچھ تسلی ہوئی اور وہ ملازم کا سہارا لے کر گھر روانہ ہو گیا۔وہ سیدھا بیوی کی خواب گاہ میں پہنچا۔ وہ بیماری سے سنبھل رہی تھی اور بستر پر لیٹی تھی، لیکن شوہر کو گھسٹتے ہوئے آتا دیکھ کر کانپتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔

ول فورت نے نرمی سے اُسے سب کچھ بتا دیا اور کہا کہ اب ہمیں نئے سرے سے زندگی بنانی ہو گی۔ اُس نے بیوی اور ننھے ایڈورڈ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا۔ اُس نے کہا کہ وہ رات دن محنت کر کے دوبارہ اپنا مقام بنائے گا۔ بیوی نے بہ ظاہر اس خبر کو سکون سے سُنا۔ ول فورت خود اس قدر پریشان تھا کہ وہ بیوی کی آنکھوں میں مایوسی اور خوف کے سائے نہ دیکھ سکا۔ وہ تھوڑی دیر میں سوچ میں غرق رہی۔ پھر اُس نے ول فورت سے کہا کہ ایڈورڈ کو اس کے کمرے میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ اس سے دل بہلا سکے۔

ایڈورڈ کو اس کی ماں کے پاس پہنچا کر ول فورت اپنے کمرے میں آگیا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ کوئی آدھ گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ ملازم نے اس کو جگایا اور روتے ہوئے ایک پرچہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ول فورت نے غنودگی کے عالم میں پرچہ پڑھا، جس میں بیوی نے اس کو آخری سلام لکھا تھا اور معافی چاہی تھی:

’’ میں ایڈورڈ کو ایسی جگہ لے جا رہی ہوں جہاں وہ ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ اب اس کے اور میرے لیے تمھارے گھر میں امان نہیں ہے۔‘‘

ول فورت دوڑتا ہوا بیوی کے کمرے میں گیا تو بیوی کو مُردہ حالت میں پایا بچہ بھی سینے سے لگا ہوا ختم ہو چکا تھا۔بیوی نے خود بھی زہر کھا لیا تھا اور بچے کو بھی کھلا دیا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر ول فورت کا دماغ گھوم گیا۔ اُس نے بے تحاشا چلانا اور ادھر اُدھر دوڑنا بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ اپنے ہوش و حواس اتنے کھو چکا تھا کہ اُس نے نواب مونٹی کرسٹوکو بھی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب نواب اس کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا تو وہ چیخا:

’’ تم نے مجھے برباد کر دیا۔تم شیطان کے ساتھی ہو۔‘‘

نواب بڑے وقار سے بولا:

’’نہیں، میں شیطان کا ساتھی نہیں ہوں بلکہ تمھارے پچھلے اعمال کا بھوت ہوں َ مجھے غور سے دیکھو اور یاد کرو کہ تم نے ایک نوجوان، بے گناہ ملاح کو اپنی مسکراہٹ اور میٹھے بول سے دھوکا دیا تھا۔‘‘

ول فورت نے پلٹ کر اس کو گھورا اور اس کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا:

’’ یہ نہیں ہوسکتا،نہیں، تم وہ نہیں۔۔۔۔۔۔ ‘‘وہ آگے کچھ نہ کہہ سکا۔نواب دھاڑا:

’’ ہاں میں ایدمند دانتے ہی ہوں اور تم اسی انجام کے مستحق تھے۔‘‘

ول فورت رونے بلبلانے لگا:

’’ میں مانتا ہوں۔ میں اسی کا مستحق ہوں، لیکن یہ اس کے مستحق نہیں تھے۔‘‘ وہ اپنی بیوی اور بچے کی لاش کے پاس گھٹنوں کے بل گر پڑا۔

اب ایدمند کی باری تھی۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے گردن جھُکائی اور رُندھی ہوئی آواز میں بولا:

’’ تم صحیح کہتے ہو۔ مجھے ان سے کوئی نفرت نہیں تھی۔ صرف تم سے نفرت تھی ول فورت!‘‘

ول فورت کی آنکھوں میں ایک مجنونانہ چمک آئی۔ اُس نے گردن اُٹھا کر ایدمند کو دیکھا اور بولا:

’’ ول فورت نہیں بلکہ نوارتے۔۔۔۔۔ نوارتے۔۔۔۔۔۔ نوارتے!‘‘وہ اپنے باپ کا نام بار بار لیتا رہا۔

ایک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ اُس نے ول فورت کو بڑے دُکھ سے دیکھا جو کبھی اُچھلتا تھا اور کبھی ناچتا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا،’’ اس کا دماغ بالکل خراب ہو چکا ہے۔ اس کو باندھ دینا چاہیے ورنہ یہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا لے گا۔‘‘

ایدمند اس کی چیخیں سُنتا ہوا اپنی سواری میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوا۔ گھر پہنچا تو جیکوپو نے یہ خوش خبری سُنائی کہ دانگلر کا پتہ چلا لیا گیا ہے۔ اس نے کہا:

’’ حضور، آپ کے حکم کے مطابق میں نے اپنے چند پُرانے اسمگلر دوستوں کو تیار کر لیا ہے کہ وہ دانگلر کی بہت اچھی ’’دعوت‘‘ کا انتظام کریں۔‘‘

دانگلر نے خاصی اچھی رقم بنک سے اُڑا لی تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ اب خاموشی سے کسی پُرسکون جگہ جا کر آرام سے رہے گا۔ چنانچہ اُس نے روم ( اٹلی) کا رُخ کیا اور وہاں ایک ہوٹل میں فرضی نام سے جا اُترا۔ اس نے وہاں بہت عمدہ کھانا کھایا اور آرام سے گہری نیند سو گیا۔ اُس نے سوچا کہ اگلے دن وہ روم کے تاریخی مقامات کی سیر کرے گا اور اس کے بعد وہ اپنی نئی زندگی شروع کرے گا۔

لارڈ دانگلر دوسرے دن صبح اُٹھا تو بڑا خوش گوار موسم تھا۔ خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی جو سرد ملکوں میں بڑی نعمت ہوتی ہے، اس لیے یہ دن سیر و تفریح کے لیے بہترین دن تھا۔ اس نے سواری کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ اُس نے رقم احتیاط سے اپنے اوور کوٹ کی جیب میں رکھی اور کمرے سے نکل کر نیچے آگیا۔ سواری میں بیٹھا اور دوپہر تک روم کے اطراف خوب گھوما پھرا۔ پھر ہوٹل واپس آ کر دوپہر کا کھانا مزے سے کھایا اور پھر سو گیا۔ شام ہوتے اُٹھا، نہایا دھویا اور نیچے آگیا۔ وہاں اس کو ایک آدمی نے سلام کیا اور کہا،’’ عزت مآب! میں ایک گائیڈ ہوں۔۔۔۔۔ میں نے عزت مآب کو صبح سویرے سیر کو تشریف لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔میری خواہش ہے کہ حضور کو روم سے باہر پُرانی عمارات کے کھنڈروں کی سیرکراؤں۔‘‘

دانگلر اس خوشامدانہ انداز سے بہت پھولا۔کہنے لگا،’’ ہاں میں دیکھناپسند کروں گا۔ کیا سواری کا تمھارے پاس انتظام ہے؟‘‘

’’ جی ہاں، سواری حاضر ہے۔عزت مآب ! تشریف رکھیں۔‘‘

لارڈ صاحب سواری میں بیٹھ گئے اور گاڑی تیزی سے روانہ ہو گئی۔ بہت جلد وہ شہر کے باہر پہنچ گئے۔ اندھیرا ہونے لگا۔ دانگلر سوچ رہا تھا کہ معلوم نہیں کھنڈرات تک پہنچنے میں کتنی دیر لگے گی۔ اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ایک گھڑ سوار گاڑی کے ساتھ چلتا ہوا نظر آیا۔ وہ بڑبڑایا:

’’ میاں دانگلر! تم گرفتار کر لیے گئے ہو۔ شاید فرانس کی پولیس نے تار سے یہاں اطلاع دے دی۔ ‘‘

’’کیا وہ مجھے فرانس واپس بھیج دیں گے؟‘‘

وہ سواری سے کود نکلنے کا راستہ سوچنے لگا، لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر باہر دیکھا تو اُسے اندازہ ہوا کہ کھنڈرات قریب آ رہے ہیں۔’’ او میرے اللہ! اگر وہ مجھے۔۔۔۔۔‘‘

اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس کو یاد آیا کہ اٹلی کے ڈاکو اور اُچکے لوگوں کو اغوا کر لیتے ہیں اور پھر تاوان مانگتے ہیں۔ اُسی وقت گھڑ سوار نے کچھ کہا اور گاڑی رک گئی۔ اسی کیساتھ الٹی جانب کا دروازہ کھلا اور ایک درشت آواز میں اس کو حکم ملا:

’’نیچے اترو!‘‘

ڈر کے مارے دانگلر نے حکم پر فوراً عمل کیا۔ اس کے بعد اس کو کھنڈرات میں کئی زیر زمین راستوں سے گزارتے ہوئے لے جایا گیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ وہ ڈاکوؤں کے سردار کے سامنے پہنچایا گیا، جو ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا:

’’ یہ وہ آدمی ہے؟‘‘

’’ جی جناب!‘‘

’’ یہ بہت تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو اس کے بستر پر پہنچا دو۔‘‘

ڈرے سہمے دانگلر کو لے جا کر ایک چھوٹے غار میں بند کر دیا گیا۔ رات بھر بے چینی سے گزری۔ صبح اُٹھا تو اس نے گھڑی دیکھی۔ چھ بجے تھے۔ اُس نے ایک دراڑ میں سے جھانکا۔ ایک محافظ اس کی نگرانی کر رہا تھا۔ دوپہر کو محافظ تبدیل ہوا۔ نیا محافظ اپنے ساتھ کھانا لایا تھا، کھانا شروع کیا تو دانگلر نے دیکھا۔ موٹی موٹی روٹیاں اور پیاز۔ دانگلر نے اپنے آپ سے کہا، ’’اونھ، کتنا بُرا کھانا ہے۔‘‘ لیکن تھوڑی دیر اور گزری تو اس کے پیٹ میں بھوک سے درد ہونے لگا۔ اُس نے محافظ کو زور سے پکارا:

’’ کھانا لاؤ، میرے کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘

محافظ نے کان نہ دھرا اور چپ چپ کر کے مزے سے کھاتا رہا۔ 4 بجے دوسرا محافظ آیا۔ وہ اپنے ساتھ بہت عمدہ گوشت، مٹر، انگوروں کی ایک ٹوکری اور سوپ لایا تھا۔ اس کی مہک کوٹھری کے اندر تک آئی۔ دانگلر کے منھ میں پانی آنے لگا۔ اُس نے دروازے پر ہاتھ مار کر محافظ کو پکارا۔ وہ اُٹھا اور دروازہ کھول کر اندر آگیا۔ دانگلر نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ پیدا کر کے پوچھا،’’ معاف کرنا، مجھے کچھ کھانے کو کب ملے گا؟‘‘ جواب ملا کہ عزت مآب، کیا کھانا پسند فرمائیں گے۔حکم دیجیے۔‘‘

’’ اس کا مطلب ہے کہ یہاں باورچی خانہ اور باورچی موجود ہیں۔‘‘

’’ جی حضور، بہت اچھے قسم کے۔‘‘

’’ تو پھر میرے لیے ایک بھُنا ہوا مرغ لے آؤ!‘‘

’’ عزت مآب، اس کی قیمت دس  ہزار فرانک ہو گی، اور آپ کو پہلے قیمت ادا کرنی ہو گی۔ ‘‘

’’ چلو، چلو، مذاق نہ کرو میاں، تم جانتے ہو کہ میں یہاں اتنی نقدی تو لایا نہیں ہوں۔‘‘

’’ حضور چیک سے بھی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ ہم چیک بھی قبول کر لیتے ہیں۔‘‘

دانگلر حیران و پریشان ہو کر محافظ کو بُرا بھلا کہنے لگا،’’ میں بھوکا مرنا پسند کروں گا، مگر اتنی مہنگی غذا نہیں لوں گا۔‘‘ وہ دو دن دو رات تک برداشت کرتا رہا، پھر اُس نے بھوک پیاس کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور اس نے دس ہزار فرانک ادا کر دیے۔ فوراً کھانا حاضر کر دیا گیا۔

رقم بچانے کے لیے اس نے ایک دن بیچ کھانا شروع کیا۔ پھر بھی مشکل سے ایک مہینہ گزر سکا اور اس کے پاس صرف ایک ہزار فرانک رہ گئے۔ اس کے لیے خالی ہاتھ ہو جانے کا تصور بھی تکلیف دہ تھا۔ اس نے کچھ وقت فاقے سے گزارا، لیکن وہ جلد ہی کم زور اور نڈھال ہو گیا۔ اس کے لیے کھڑا ہونا بھی مشکل ہو گیا۔ آخر وہ گھسٹتا ہوا دروازے تک گیا۔ بڑی مشکل سے محافظ کو آواز دی۔ دروازہ کھُلا اور ایک اجنبی داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر نقاب پڑی ہوئی تھی۔ اس نے دانگلر سے پوچھا:

’’ کیا تم تکلیف میں ہو ؟‘‘

’’ ہاں، میں بھوک سے مر رہا ہوں!‘‘

’’ میں ایک  بوڑھے آدمی کو جانتا ہوں جو تمھاری وجہ سے فاقے کر کر کے مر گیا۔۔۔۔۔ کیا تمھیں احساس ہے؟ تم پشیمان ہو؟‘‘

دانگلر مردہ آواز میں بولا:

’’ میں نہیں سمجھا کہ تمھارا مطلب کیا ہے، لیکن میں پشیمان اور شرمندہ ہوں، نادم ہوں۔‘‘

’’ تو میں معاف کرتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اجنبی نے نقاب اُٹھا دی۔دانگلر چیخ اُٹھا:

’’ نواب مونٹی کرسٹو!‘‘

’’ نہیں دانگلر، میں ایدمند دانتے ہوں۔‘‘

دانگلر کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ کانپنے لگا اور گر پڑا۔ ایدمند نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا اور محافظ کو حُکم دیا کہ اس کو کھانا کھلا دو اور اس کو ایک ہزار فرانک کے ساتھ جانے دو۔ میں دوبارہ اس کو دیکھنا نہیں چاہتا۔

اس کے بعد پیرس والوں نے لارڈ دانگلر کا نام نہیں سُنا۔

انتقام پورا ہو گیا

پیرس کے خوش حال نوجوانوں کو تیغ زنی اور تلوار بازی کا شوق تھا۔ اس زمانے میں وہ ایک ماہر تلوار چلانے والے سے تلوار چلانا سیکھ رہے تھے اور ان میں سے ہر نوجوان اپنے استاد سے شاباشی لینا چاہتا تھا۔ یہ استاد کوئی پیشہ ور آدمی نہیں تھا بلکہ بہت بڑا آدمی تھا اور تفریح کے طور پر تلوار چلانے کی مشق کرتا اور نوجوانوں کو سکھاتا تھا۔ ایک دن استاد نے اپنے مقابل سے خود اس کی تلوار چھین کر تین بڑے خوب صورت وار کیے۔ اس کا ایک نوجوان شاگرد جس کا نام البرٹ مور سرف تھا، یہ دیکھ کر حیران ہوا۔ بے اختیار دوڑا اور استاد کو مبارک باد دی۔ البرٹ کا جوش دیکھ کر استاد بہت خوش ہوا اور اب اپنا پورا تعارف کرایا۔ وہ مونٹی کرسٹو کا نواب تھا۔ ان دونوں میں عمر کا بڑا فرق تھا، لیکن ان کے تعلقات بڑھتے گئے اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔ البرٹ گھر میں اپنے دوست اور ہیرو کا اکثر ذکر کرتا۔ اس کا باپ جنرل فرناند مور سرف اپنے بیٹے کے منھ سے اپنے بجائے ایک دوسرے آدمی کی تعریف سُن کر خوش نہیں ہوتا، مگر البرٹ کی ماں مرسیدیز خوش تھی کہ ایک خوب صورت اور تعلیم یافتہ انسان نے اس کے بیٹے کو دوستی کا موقع دیا۔

البرٹ نے ایک روز نواب کو اپنے ماں باپ سے ملوانے کے لیے چائے پر گھر بُلایا۔ جنرل فرناند، نواب سے مل کر بہت متاثر ہوا اور اس نے اقرار کیا کہ واقعی پیرس والے غلط نہیں کہتے، نواب میں بڑی کشش ہے اور وہ پُر مذاق آدمی ہے۔ لیکن البرٹ کی ماں پر دوسرا ہی اثر ہوا۔ جب اس شان دار مرد کا اس سے سامنا ہوا تو وہ پیلی پڑ گئی اور بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔

ایک دن صبح کے اخبارات میں پیرس والوں نے یہ خبر پڑھی کہ ایک فرانسیسی فوجی افسر جو یانینا کے حکمراں علی پاشا کی فوج میں کمانڈر ہو گیا تھا۔ اس نے دُشمن سے مل کر اپنے مالک کو دھوکا دیا اور اس کو ختم کر کے دشمن سے بڑی رقم لے کر واپس پیرس پہنچا اور اب نواب مور سرف کہلاتا ہے، اسمبلی کا ممبر بھی بن گیا ہے۔ اس کا اصلی نام فرناند موندیگو ہے۔

اخبار میں جنرل مور سرف کی دھوکا دہی کے بارے میں خبر آنے کے بعد فرانس کی پارلیمنٹ میں بھی کھلبلی مچ گئی، کیوں کہ مور سرف پارلیمنٹ کا ممبر تھا۔ اُن دنوں پارلیمنٹ کا اجلاس بھی ہو رہا تھا۔ جب مور سرف اجلاس میں پہنچا تو تمام ممبروں نے اس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ اس معاملے پر کب غور کیا جائے تاکہ اس کا جواب سننے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچا جا سکے۔ اس نے جواب دیا کہ جتنی جلد یہ کام نمٹا دیا جائے اچھا ہے۔ آج ہی شام کو رکھا جاسکتا ہے۔

شام کو تحقیقات شروع ہوئی۔ مور سرف نے کئی کاغذات پیش کیے، جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ علی پاشا اپنی زندگی کے آخری وقت تک اس پر بھروسا کرتا تھا۔ اس نے ممبروں کو علی پاشا کی وہ انگوٹھی بھی دکھائی جو محل میں کسی وقت بھی داخل ہونے کا اجازت نامہ سمجھی جاتی تھی۔ اس نے کہا کہ اخبار کی خبر جھوٹی ہے اور بد نیتی سے پھیلائی گئی ہے۔ معزز ممبران! چوں کہ میرے خلاف کوئی ثبوت اور گواہی پیش نہیں کی گئی ہے، اس لیے یہ باتیں میرے بے قصور ہونے کا کافی ثبوت ہیں۔

ممبروں کو ان باتوں پر یقین آنے لگا، لیکن پارلیمنٹ کے صدر نے کہا کہ مجھے ابھی ابھی ایک پرچہ ملا ہے۔ میں وہ آپ کو پڑھ کر سُناتا ہوں:

’’ جب یانینا کے حاکم علی پاشا کا انتقال ہوا ہے تو میں وہاں موجود تھی، اس لیے میں اجلاس میں آ کر کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘

ممبروں نے کہا کہ ہاں گواہ کو ضرور بلایا جائے۔چنانچہ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی گئی۔ مور سرف پریشان ہوا اور سنبھل کر بیٹھ گیا کہ آخر یہ کون ہوسکتی ہے۔ایک عورت برقع پہنے ہوئے داخل ہوئی۔ اُس نے بیٹھ کر نقاب اُلٹ دیا۔ وہ ایک نوجوان خوب صورت خاتون تھی۔ صدر نے پوچھا:

’’ مادام! آپ کون ہیں اور کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘

خاتون نے شاہانہ انداز سے کہا:

’’ میں حیدی ہوں، علی پاشا کی بیٹی۔‘‘

اس اعلان سے سناٹا چھا گیا، مگر صدر نے ا سے پوچھا کہ کیا اپنا دعوا ثابت کر سکتی ہیں؟

حیدی نے کہا: ’’جی ہاں، یہ رہا میری پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور ایک یہ کاغذ بھی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجھے اور میری ماں کو غلام کے طور پر بیچا گیا تھا۔ ‘‘اس نے دونوں کاغذات صدر کو پیش کر دیے، جو عربی میں تھے۔ ایک عربی داں کو بلا کر یہ کاغذات پڑھوائے گئے۔ حیدی کا کہنا صحیح نکلا۔ اب صدر نے مور سرف سے پوچھا:

’’ کیا آپ اس خاتون کو پہچانتے ہیں؟‘‘

مور سرف نے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا: ’’ جی نہیں، میں نہیں پہچانتا۔ یہ سب میرے دشمنوں کا بنایا ہوا منصوبہ ہے۔‘‘ حیدی بھڑک اُٹھی اور کھڑی ہو گئی:

’’ بد بخت انسان! تم مجھے نہیں پہچانتے، لیکن میں تمھیں پہچانتی ہوں، تم فرناند موندیگو ہو۔ وہ فرانسیسی افسر، جس نے میرے باپ کو دھوکا دیا اور قتل کیا۔ تم ہی وہ ہو جس نے یانینا کا قلعہ میرے باپ کے دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ تم ہی نے مجھے اور میری ماں کو غلاموں کے ایک تاجر کو فروخت کیا۔ قاتل غدار! تمھاری پیشانی پر ابھی تک اپنے آقا کا خون لگا ہوا ہے۔ حضرات، ذرا دیکھئے۔‘‘

خاتون کا ہر لفظ مور سرف کے دل پر خنجر کی طرح لگا۔ سب مور سرف کی طرف دیکھنے لگے۔ مور سرف نے اپنی پیشانی پر اس طرح ہاتھ پھیرا جیسے کہ واقعی علی پاشا کا خون ابھی تک لگا ہوا ہو۔

صدر نے پوچھا،’’ مور سرف صاحب! کیا آپ کو اس خاتون کے الزامات کے جواب میں کچھ کہنا ہے؟‘‘

’’ نہیں!‘‘ مور سرف کے حلق سے بڑی مشکل سے آواز نکلی۔

صدر نے کہا کہ تو پھر اس خاتون کی باتیں صحیح ہیں۔ مور سرف سے کچھ نہ بولا گیا۔اُس نے اپنا کوٹ پھاڑ ڈالا، اُس کا دم گھُٹ رہا تھا۔ ایک خوفناک چیخ مار کر وہ ہال سے باہر بھاگا، اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گھر چلا گیا۔ صدر نے کہا:

’’ حضرات! کیا آپ کے نزدیک مور سرف غداری، دھوکا دہی اور قتل کا مجرم ہے؟‘‘

’’بالکل،بالکل۔‘‘ تمام ممبروں نے زور سے کہا،’’ مُجرم ہے، مُجرم ہے!‘‘

حیدی نے فیصلے کے اعلان کے بعد اپنی نقاب چہرے پر ڈالی اور اپنے ملازم کے ساتھ اجلاس سے باہر نکل گئی۔ وہ نواب مونٹی کرسٹو کے گھر جا رہی تھی۔

یہ خبر دراصل نواب مونٹی کرسٹو نے اخبارات میں چھپوائی تھی۔ اس نے جیکوپو کو قسطنطیہ (ترکی) بھیج کر یہ ساری معلومات حاصل کی تھیں۔ جیکوپو اپنے ساتھ معلومات کے علاوہ علی پاشا کی بیٹی حیدی کو بھی لے آیا تھا۔ حیدی کو فرناند نے غلاموں کے ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ جیکو پو نے اپنے آقا مونٹی کرسٹو کے لیے حیدی کو خرید لیا، جو ایک نیلام میں فروخت ہو رہی تھی۔

البرٹ مور سرف نے یہ خبر پڑھی تو اپنے باپ کی بے عزتی پر اس کو بہت صدمہ ہوا۔ ایک اخبار کے ایٖڈیٹر سے اس کے تعلقات تھے۔ البرٹ کو معلوم ہوا کہ یہ خبر نواب مونٹی کرسٹو کی کوشش سے اخبارات میں آئی ہے۔ البرٹ غصے میں بھرا ہوا فوراً نواب کی تلاش میں دوڑا۔ نواب اُس وقت ایک ڈراما دیکھ رہا تھا۔ البرٹ سیدھا وہاں پہنچا اور غصے میں نواب سے لڑنے لگا۔ اس نے نواب سے کہا کہ اگر وہ سچا ہے تو ’’ڈوئل‘‘ کے لیے تیار ہو جائے۔ نواب نے بڑی بے پروائی سے کہا کہ میں خوشی سے تیار ہوں، مگر اس وقت سامنے سے ہٹ جاؤ، کیوں کہ ڈرامے میں میرا پسندیدہ منظر آنے والا ہے۔ (ڈوئل صرف دو آدمی آپس میں لڑتے تھے، پہلے سے وقت اور مقام طے کر کے۔ یہ لڑائی فرانس اور اٹلی وغیرہ میں لڑی جاتی تھی، دونوں لڑنے والے تلوار یا بندوق سے لڑتے تھے اور دونوں میں سے کوئی ایک ختم ہو جاتا تھا۔)

جب ایدمند ڈراما دیکھ کر گھر واپس پہنچا تو اس کے ملازم نے بتایا کہ ایک خاتون آپ سے ملنا چاہتی ہیں اور وہ آپ کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ سے ملے بنا واپس نہیں جائیں گی۔ ایدمند جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو اس نے البرٹ کی ماں، بیگم مرسیدیز مورسرف کو بیٹھے ہوئے پایا اس کا حسین چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ ایدمند رسم کے مطابق اس کے سامنے جھکا، لیکن وہ ایدمند کے پیر پڑ گئی اور عاجزی سے کہنے لگی:

’’ایدمند، میرے بیٹے کو مت مارو۔‘‘

ایدمند نے حیرت سے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور بولا:

’’بیگم مورسرف! آپ نے مجھے کس نام سے پکارا؟‘‘

بیگم اور قریب آ گئی اور کہنے لگی:

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میں سمجھتی نہیں۔ میں غلطی نہیں کر سکتی۔ جب تم نے پہلی بار میرے البرٹ کے ساتھ قدم رکھا تھا اسی وقت میں پہچان گئی تھی کہ تم ایدمند ہو۔ میری روح تمھیں پہچانتی ہے۔ میرا دل تم سے مانوس ہے۔‘‘

ایدمند زہریلی ہنسی ہنسا:

’’ہاں مرسیدیز، وہی دل جو پہلے میرا تھا، پھر فرناند کو دے دیا گیا تھا۔‘‘

’’لیکن میں کیا کرتی۔ میں اکیلی تھی اور امید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی تھی۔ تمھارے جانے کے بعد میں نے برسوں تمھارا انتظار کیا۔ مسٹر موریل کے ساتھ مل کر میں نے تمھاری رہائی کے لیے بہت کوشش کی۔ تمھارے والد کے انتقال کے بعد فرناند آخری آدمی رہ گیا تھا جو میرا شناسا تھا۔‘‘

ایدمند نے برہمی سے پوچھا:

’’ اور تمھیں معلوم ہے کہ میں کیوں غائب ہوا تھا؟‘‘

مرسیدیز نے کہا:

’’ تم گرفتار کر لیے گئے تھے اور جیل  بھیج دیے گئے تھے۔‘‘

ایدمند نے کہا،’’ ہاں‘‘! اور پھر اُس نے چودہ سال کی پوری داستان سُنا ڈالی جو اُس نے دیف حویلی میں گزارے تھے۔ جب وہ بول رہا تھا تو مرسیدیز کے چہرے پر رنج و ملال کے آثار بڑھ رہے تھے۔ جب ایدمند کہہ چکا تو مرسیدیز سر جھُکا کر بیٹھ گئی، جیسے کسی نے اُسے ڈنڈوں سے مارا ہو۔ خاصی دیر کے بعد آخر اُس نے اپنے آپ پر قابو پاکر کہا:

’’ میں مانتی ہوں۔ بے شک تم نے بڑی تکلیف اُٹھائی، لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ تم یہ راز افشاں کرتے کہ فرناند نے علی پاشا کو دھوکا دیا،صرف اس لیے کہ فرناند نے مجھ سے شادی کر لی؟‘‘

ایدمند کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ وہ بولا:

’’ نہیں مرسیدیز، میں نے اس کو اس لیے ننگا کیا کہ اس نے مجھے بھی دھوکا دیا تھا۔ وہ میری گرفتاری اور قید کا سبب بنا۔‘‘

جب مرسیدیز نے پورا قصہ سُنا کہ کس طرح فرناند جھوٹا خط بھیج کر ایدمند کی تباہی کا ذریعہ بنا تھا تو وہ تھر تھر کانپنے لگی۔ آخر وہ بولی:

’’ میں تمھارے انتقامی جذبے کوسمجھ سکتی ہوں، لیکن تم میرے بیٹے کے ساتھ ڈوئل لڑ رہے ہو۔ باپ سے تو تم نے انتقام لے لیا، لیکن باپ کے گناہ کی سزا بیٹا کیوں بھُگتے۔ تمھارے انتقام کی مار دونوں پر پڑ رہی ہے۔‘‘

ایدمند نے افسردہ لہجے میں جواب دیا:

میں البرٹ کو  ہر گز اس میں شریک نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس کے نوجوان گرم خون نے یہ صورت پیدا کی۔ اسی نے جوش میں یہ کیا، لیکن میں وہی کروں گا جو تم چاہتی ہو۔ میں تمھارے بیٹے کی جان بچا لوں گا، لیکن ایسا کرنے کے لیے مجھے اپنی زندگی کی قربانی دینی پڑے گی۔ میں جان سے جاؤں گا۔‘‘

’’ جان سے جاؤ گے! ایدمند تم کیا کہہ رہے ہو!‘‘

ایدمند نے ٹھنڈی سانس بھری:

’’ میں ڈوئل میں حصہ لوں گا، لیکن ہوائی فائر کروں گا۔ تمھارا بیٹا، جس کو میں نے خود صحیح نشانہ لگانے کی تربیت دی ہے، وہ میرے دل میں گولی مارے گا۔ مجھے ذرا بھی شُبہ نہیں ہے کہ اس کا نشانہ چوکے گا۔ مرسیدیز افسوس میری زندگی دوبارہ ختم ہونے والی ہے۔پہلی بار اُس وقت جب تمھارے شوہر نے مجھے قید کرایا تھا اور دوسری بار اب تمھارے بیٹے کی گولی میرا کام تمام کر دے گی۔‘‘

مرسیدیز کی آواز ْ آنسوؤں اور سسکیوں کے درمیان مشکل سے سُنی جا سکتی تھی:

’’ ایدمند! اللہ تمھیں خوش رکھے۔ مجھے یقین تھا کہ میں جس نوجوان ایدمند کے دل سے واقف ہوں، وہ کبھی اتنا نہیں بدل سکتا کہ ایک معصوم لڑکے کی زندگی قربان کرنے پر راضی ہو جائے۔میرے عزیز شکریہ اور اللہ حافظ۔‘‘

مرسیدیز کے چلے جانے کے بعد ایدمند بہت دیر تک ساکت بیٹھا رہا اور سوچتا رہا۔ وہ گزرے ہوئے واقعات اور اپنے انتقامی منصوبے ذہن میں دُہرا رہا تھا۔ ان منصوبوں کو اب چھوڑنا پڑے گا، کیوں کہ اس نے سب کچھ سوچا سمجھا تھا، مگر ایک بات نہیں سوچی تھی اور وہ تھی مرسیدیز سے اپنی محبت۔ وہ آئندہ کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ مستقبل جو اس دن کے بعد ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی دن نہیں آئے گا۔

موت کے منہ میں

ایدمند اُس ویران جنگل میں وقت پر پہنچ گیا، جہاں ڈوئل ہونی تھی۔ وہاں البرٹ کے ساتھی اور گواہ موجود تھے، مگر وہ پریشان تھے۔ البرٹ انھیں گھر پر نہیں ملا تھا۔ ان کو ڈر تھا کہ البرٹ کہیں اپنے باپ کا مقدمہ سننے نہ چلا گیا ہو۔ وہ سب جانتے تھے کہ علی پاشا کی بیٹی کی گواہی کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ ایک ہی ہونا ہے۔ اپنے باپ کے خلاف یہ فیصلہ سُن کر البرٹ شاید اس قابل نہیں رہے کہ صحیح نشانے پر گولی چلا سکے، مگر جب انھوں نے البرٹ کی سواری آتے دیکھی تو اُنھیں اطمینان ہوا۔ البرٹ سواری میں سے اُتر کر تیزی سے اُن کی طرف آیا اور اُس نے دوستوں سے کہا:

’’ مجھے نواب مونٹی کرسٹو سے بات کرنی ہے۔ آپ سب لوگ بھی پاس رہ کر میری بات سنیے۔‘‘

جب یہ لوگ ایدمند کے پاس پہنچے تو وہ اطمینان سے کھڑا ہوا تھا۔ البرٹ نے جھُک کر سلام کیا اور بولا:

’’جناب والا! آپ سے میرا جھگڑا یہ نہیں ہے کہ میرا باپ مجرم ہے یا نہیں اور اس نے علی پاشا کے ساتھ کیا کیا اور کیا نہ کیا۔ اصل میں مجھے غصہ یہ تھا کہ آپ نے یہ معاملہ اخبار میں چھپوایا اور اس کو بد نام کیا۔ بہرحال اب تو میرا باپ قتل ،غداری،اور دھوکا دینے کا مجرم ثابت ہو گیا ہے۔‘‘

یہ بات کہتے وقت البرٹ کی زبان ذرا بھی لڑ کھڑا نہیں رہی تھی۔ وہ بڑی صفائی سے یہ افسوس ناک الفاظ ادا کر رہا تھا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی:

’’ جناب والا! میں نے ابھی اس سے بھی بڑھ کر اس جنرل کے ایک اور گھناؤنے جُرم کا قصہ سُنا ہے۔ میں اب اس کو اپنا باپ نہیں کہنا چاہتا۔ یہ قصہ ایک نوجوان بے گناہ ملاح کی تباہی کا ہے، جس کی مصیبتوں کے واقعات سُن کر کوئی شخص اپنے آنسو نہیں روک سکتا، لیکن افسوس اس کی تلافی کرنا میرے بس میں نہیں ہے نواب صاحب، میں صرف آپ سے نہایت عاجزی کے ساتھ معافی مانگ سکتا ہوں اور اب اس کے بعد ڈوئل کا تو کوئی سوال ہی نہیں رہا۔‘‘

یہ کہہ کر البرٹ نے اپنا ہاتھ مصافحے کے لیے بڑھایا۔ ایدمند نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ایدمند ساری بات سمجھ گیا تھا کہ جب اُس نے مرسیدیز کے سامنے اپنی جان کی قربانی کا ارادہ ظاہر کیا تو اس بہادر عورت نے اپنے بیٹے کے سامنے ایک انتہائی خاندانی راز ظاہر کر دیا اور اس طرح ایدمند کی زندگی کو خطرے سے محفوظ کر دیا۔مرسیدیز نے خود اپنے بیٹے کی محبت سے محروم ہو جانے کا خطرہ مول لے کر یہ بات کی۔ اس کے بعد البرٹ ایدمند کا ہاتھ پکڑ کر الگ لے گیا اور بولا:

’’ میری ماں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ایک زمانے میں آپ اور وہ زندگی کے ساتھی بننے والے تھے۔ کاش ایسا ہو جاتا اور آپ ایک دوسرے سے جُدا نہ ہوتے۔ اگر ایسا ہو جاتا تو میرا باپ ایک ایسا شخص ہوتا کہ میں اس پر فخر کرتا۔‘‘

جب ایدمند اپنے گھر لوٹ رہا تھا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دروازے پر ہی اس کی جیکوپو سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ جیکو پو پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جنرل مور سرف آئے ہوئے ہیں۔ ان کو ڈوئل کے متعلق خبر پہنچ چکی ہے، بلکہ آدھا پیرس واقف ہو چکا ہے کہ البرٹ نے آپ سے معافی مانگی ہے۔

ایدمند کے انتقامی جذبے کی تسکین مکمل ہونے کے قریب تھی، لیکن وہ پُر سکون رہا۔ وہ اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔ نہ اُس نے قدم تیزی سے اُٹھائے اور نہ وہ آہستہ ہوا۔ جب وہ فرناند کے سامنے پہنچا تو اس نے نرمی سے سلام کیا اور اس کو ٹھنڈا پیش کیا، لیکن فرناند سخت طیش کی حالت میں تھا۔ خون دوڑنے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ ایدمند کی طرف لپکا:

’’ میں نے تمھارا کیا بگاڑا تھا کہ تم نے میری زندگی برباد کر دی؟ کیا یہ تمھارا کھیل ہے کہ دوسروں کی غلطیوں کی ٹوہ میں رہو اور پھر ان کو سزا بھگتنے پر مجبور کرو۔ پھر مرے پر سو دُرے، میرے بیٹے کو میرے خلاف کر دیا اور اُس نے تم جیسے دشمن سے معافی مانگی۔ تمھارے پاس کون سی طاقت ہے اور پھر میں ہی کیوں تمھارا نشانہ بنا؟‘‘

ایدمند بیٹھ گیا اور نہایت سکون سے بولا:

’’ نہیں فرناند تم اکیلے نہیں ہو۔ میں نے دو اور آدمیوں کو بھی برباد کیا ہے۔اُن کے نام ہیں دانگلر اور ول فورت۔ یہ دونوں تمھارے ساتھی اور شریک ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘

یکایک فرناند نے ایدمند کی آواز پہچان لی اور اس کو ان دونوں آدمیوں سے اپنا تعلق یادآگیا۔ وہ پیچھے ہٹا اور چیخ کر بولا:

’’ نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔ ایدمند دانتے مر چکا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ گر پڑا۔

ایدمند کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔ اُس نے پلٹ کر فرش پر ادھ موئے فرناند کی طرف دیکھا اور بولا:

’’ نہیں، ایدمند مرا نہیں، وہ تمھارے سامنے موجود ہے۔ نواب مونٹی کرسٹو نے تمہاری زندگی بالکل اسی طرح ختم کی، جس طرح تم نے ایدمند دانتے کی زندگی برباد کی تھی۔‘‘

یہ کہہ کر ایدمند جا چکا تھا۔ کچھ دیر بعد فرناند باہر نکلا تو وہ اکیلا تھا۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا سواری میں بیٹھا اور گھر روانہ ہو گیا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے دیکھا کہ مرسیدیز اور البرٹ زینے سے اُتر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں دو چھوٹے چھوٹے سوٹ کیس ہیں۔ انھوں نے ایک کرائے کی گاڑی روکی اور البرٹ نے سہارا دے کر اپنی ماں کو اُس میں سوار کرایا۔ خود گاڑی میں بیٹھتے وقت وہ اپنی ماں سے مخاطب ہوا:

’’ امی! پلٹ کر نہ دیکھئے۔ اب یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔ بہت جلد آپ مارسیلز  میں ہوں گی۔ اُسی گھر میں جس میں آپ نے نو عمری کے دن ہنسی خوشی گزارے ہیں اور میں اپنی قسمت آپ بنانے روانہ ہو جاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کچھ دن کے لیے میری جدائی خوشی سے برداشت کر لیں گی۔‘‘

گاڑی نے گلی کے نکڑ پر پہنچ کر جیسے ہی موڑ کاٹا بندوق چلنے کی آواز سُنائی دی جو مور سرف ہاؤس کی طرف سے آئی تھی۔  جنرل فرناند مور سرف نے خودکشی کر لی تھی۔ ایدمند دانتے کے سب دشمنوں  سے نواب مونٹی کرسٹو کا انتقام پورا ہو گیا تھا۔

دوسرے دن شام کو ایک کشتی ساحل چھوڑ رہی تھی۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی عنبریں کرنیں کشتی کو روشن کر رہی تھیں۔ ان کرنوں کے مقابل کشتی میں ایک دراز قد انسان کا سایہ پڑ رہا تھا۔ اس کے برابر ایک حسین خاتون بھی کھڑی تھی۔ ایدمند دانتے اور حیدی ایک شان دار کشتی میں اپنے جزیرے مونٹی کرسٹو کی طرف روانہ ہو رہے تھے، جہاں ایک عالی شان محل ان کا منتظر تھا۔