ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقناولجزیرے کے قیدی

جزیرے کے قیدی

تحریر:  اگاتھا کرسٹی Agatha Christie 

ترجمہ:فاطمہ نور صدیقی

۔۔۔۔۔۔

یہ ناول’’ Ten Little Niggers‘‘کے نام سے ’’اگاتھا کرسٹی‘‘ کا تحریر کردہ ہے جسے فاطمہ نور صدیقی نے قارئین کے لیے ترجمہ کیا ہے۔ یہ ناول ’’نیگرآئی لینڈ‘‘ پر پیش آنے والے دلچسپ اور پراسرار واقعات پر مبنی ہے۔ جس کو پڑھ کر آپ حیرت میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔

حال ہی میں ریٹائرہونے والا جج ’’وارگریو‘‘ ٹرین میں فرسٹ کلاس ڈبے کے کونے میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس نے اخبار پر آخری نظر ڈالی اور اسے تہہ کر کے اپنے برابر رکھ دیا۔ کھڑکی کے باہر مختلف مناظر تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ ’ابھی اور کتنی دیر ہے؟‘ اس نے اُکتا کر سوچا اور گھڑی سے وقت معلوم کیا۔ ’صرف دو گھنٹے‘۔۔۔ اس نے زیر لب کہا۔
’نیگر آئی لینڈ کے بارے میں اس نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اس جزیرے کے بارے میں اخبار میں کئی دن متواتر خبریں آتی رہیں تھیں۔ بہت سی افواہیں گردش کررہیں تھیں۔ یہ جزیرہ کسی کروڑ پتی شخص کی ملکیت تھا۔ اس نے وہاں پر ایک جدید طرز کا بنگلہ تعمیر کیا جس میں ہر قسم کی آسائشیں موجود تھیں۔ دو سال وہاں رہنے کے بعد وہ شاید اس جگہ سے بور ہوگیا۔ اس نے اس جزیرے کو بیچ دیا۔ اب تو افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ کسی اخبار میں یہ خبر تھی کہ اسے ایک فلمی اداکار نے خرید لیا ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ شاہی خاندان کے کسی فرد کو نیگر آئی لینڈ پسند آگیا۔ لیکن وہ سب غلط ثابت ہوئے‘۔۔۔ جج وارگریو نے سوچا اور اپنی جیب سے خط نکال کر ایک بار پھر پڑھا۔ لکھائی بہت خراب تھی۔ لیکن پھر بھی خط کا مفہوم واضح تھا۔
’’آداب وارگریو!۔۔۔ کافی عرصے سے ملاقا ت نہیں ہوئی۔۔۔ تم نیگر آئی لینڈ ضرور آؤ۔۔۔ بہت پر فضا اور دلکش مقام ہے۔۔۔ یقیناًتمہاری روح اس پرمسرت مقام پر آ کر خوش ہوگی۔۔۔ اپنے شہر کے اسٹیشن سے ۴۰:۱۲ کی ٹرین پر آنا پھر تم سے ملاقات ہوگی۔‘‘
فقط 
لیڈی الزبتھ
جج وارگریو نے اپنی یاد داشت پر زور ڈالا کہ اس کو لیڈی الزبتھ آخری دفعہ کب ملی تھی۔ شاید سات سال پہلے۔۔۔ نہیں نہیںآٹھ سال پہلے۔ اچھی خاتون تھیں۔۔۔ لیکن جج کو اس کا چہرہ صحیح طرح یاد نہیں آرہا تھا۔ آخر تھوڑی سی کوشش کے بعد اس نے تھک کر آنکھیں موند لیں۔
*۔۔۔*
ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں موجود ’’ویرا کلیتھرون‘‘ کو بے تحاشہ گرمی محسوس ہورہی تھی۔ ’یا خدا‘۔۔۔ اس نے گھبرا کر سوچا۔ آج تو سورج آگ بر سا رہا ہے۔ سمندر پر جانے کا خیال اس وقت فرحت افزا تھا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ ان شدید گرمیوں میں اس کو ایک جزیرے پر نوکری مل گئی۔ ایک دو ہفتہ پہلے ہی اسے ایک خط موصول ہوا تھا۔
’’میں نے تمہارا نام اور پتہ ایجنسی سے حاصل کیا میرے علم میں یہ بات بھی آئی ہے وہ تمہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔۔۔ میری سیکرٹری بیمار ہوگئی ہے اگر تم اس کی جگہ دو ماہ کام کرنے پر راضی ہو تو برائے مہربانی ۸ اگست سے اپنی ڈیوٹی سنبھال لو۔۔۔ تمہیں ۴۰:۱۲ کی ٹرین کا ٹکٹ بھیج رہی ہوں، لفافے میں تمہارے سفر خرچ کے لیے رقم بھی موجود ہے۔۔۔ میں تم سے اسٹیشن پر ملوں گی۔‘‘ شکریہ۔
فقط 
یونا نینسی اوین۔
خط کے لفافے پر نیگر آئی لینڈ کا پتہ درج تھا۔ ویرانے فوراً جانے کی تیاری شروع کردی۔
’اُف اب اور کتنی دیر ہے؟‘ ویرا پھر گرمی سے بے چین ہو گئی۔ وہ جلد سے جلد سمندر کی کھلی فضا میں پہنچنا چاہتی تھی۔ گہرا نیلا سمندر۔۔۔ دور تک پھیلا ہوا۔۔۔ ایک دم سے ویرا گرمی کے باوجود کانپ اٹھی۔ ایک منظر اس کے ذہن کے پردے پر تیزی سے اُبھر رہا تھا۔ ایک بچے کا سر۔۔۔ پانی میں ڈبکیاں کھاتا وہ چھو ٹا سا سر۔۔۔ وہ اس کے پیچھے تیر رہی تھی لیکن اسے پتہ تھا دیر ہوگئی ہے۔ ویرا نے اپنا سر جھٹکا۔۔۔ نہیں اسے اس طرح سوچنا نہیں چاہیے۔
*۔۔۔*
’’فلیپ لمبورڈ‘‘ ٹرین کی سخت سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تھک گیا تھا۔ اگر وہ چھوٹے قد کا آدمی اسے نہ ملتا تو شاید وہ آج اسی ٹرین میں نہ بیٹھا ہوتا۔ اس آدمی کا نام ’’ایڈی مورس‘‘ تھا۔ 
’’کیپٹن جلدی فیصلہ کرو۔ کام کرنا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’رقم تو کافی معقول ہے۔‘‘ کیپٹن نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن تم مجھے اپنے کلائنٹ کے بارے میں تھوڑی اور معلومات نہیں دے سکتے۔ اور آخر کام کس نوعیت کا ہے؟‘‘
مسٹر مورس نے اپنا گنجا سر نفی میں ہلایا: ’’نہیں کیپٹن! میرے کلائنٹ نے مجھے صرف یہ ذمہ داری دی ہے کہ تم سے رابطہ کر وں اور تمہارے اقرار کی صورت میں تمہارے سفر کا خرچہ تمہارے حوالے کردوں۔ اسٹیشن پر میرے کلائنٹ کے نمائندے تم سے ملیں گے اور نیگر آئی لینڈ پہنچادیں گے۔ وہیں پہنچ کر تمہیں مزید ہدایات ملیں گی۔‘‘
’’اچھا! کتنے دن کے لیے جانا ہے۔ کیپٹن نے ہامی بھرتے ہوئے کہا۔ 
’’صرف ایک ہفتہ کے لیے۔‘‘ اورکیپٹن مطمئن ہوگیا۔
*۔۔۔*
’’مس برنٹ‘‘ اس ڈبے میں موجود تھیں جہاں سگریٹ نوشی کی ممانعت تھی۔ اس کی عمر تقریبا ۶۵ سال ہوگی۔ اس کی شکل سے صاف ظاہر تھا کہ وہ انتہائی سختی سے اپنے اصولوں پر کار بند رہنے والی خاتون ہے۔ اس کے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔ مس برنٹ کافی دیر سے اپنے ذہن پر زور دے رہی تھی۔ پچھلے ہی ہفتہ اسے جو خط ملا اس کا متن کچھ یوں تھا۔
’’عزیز! مس برنٹ! امید ہے کہ آپ مجھے بھولی نہیں ہوں گی۔ ہم کچھ سال پہلے ایک گیسٹ ہاوس میں ایک ساتھ ٹہرے تھے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا ہماری کافی دلچسپیاں ایک جیسی تھیں۔ اب آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی میں بھی اب اپنا گیسٹ ہاؤس کھول رہی ہوں۔ جو کہ ایک جزیرے نیگر آئی لینڈ پر واقع ہے، مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ یہاں آکر گرمیوں کی چھٹیاں گزاریں۔ میرے مہمان کے طور پر۔۔۔ کیا ۸ اگست کو آپ ۴۰:۱۲ کی ٹرین سے آسکتی ہیں۔‘‘ فقط۔۔۔
ی۔ن ۔الف
خط کے آخر میں موجود دستخط مس برنٹ کی بہت مشکل سے سمجھ میں آئے۔ ’چلوخیر میری چھٹیاں اچھی گزریں گی۔‘ مس برنٹ نے سوچا۔
*۔۔۔*
’’جنرل میکر تھول‘‘ نے ٹرین کی کھڑکی سے جھانکا۔ اسٹیشن اب زیادہ دور نہیں تھا۔ اسے ابھی بھی صحیح طرح یاد نہیں آرہا تھا کہ مسٹر اوین نام کا اس کا کون سا دوست ہے جس نے اسے نیگر آئی لینڈ پر ایک ہفتہ گزارنے کی دعوت دی تھی۔ مسڑ اوین نے اس بات کا ذکر اپنے خط میں کیا تھا کہ اس کے علاوہ اور بھی کچھ پرانے دوست وہاں آرہے ہیں۔ جنرل کو ویسے بھی نیگر آئی لینڈ دیکھنے کا شوق تھا۔ اس نے اس جزیرے کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا۔ جنرل کو اب جلدی سے وہاں پہنچنا تھا۔ اس سے اب صبر نہیں ہورہا تھا۔
*۔۔۔*
’’ڈاکٹر آرم اسٹورنگ‘‘ کافی دیر سے گاڑی چلارہا تھا۔ ہائی وے پر اِکا دُکا گاڑیا ں موجود تھیں۔ ڈاکٹر کافی تھک گیا تھا۔ لیکن تھوڑے عرصے کے لیے لندن کو چھوڑ کر کسی پر فضا جزیرے پر جانے کے خیال سے خوش تھا۔ چاہے وہ پیشہ وارانہ دورہ ہی کیوں نہ ہو۔ نیگر آئی لینڈ کے نئے مالک مسٹر اوین کی بیگم کی طبیعت خراب تھی۔ ان کا اپنا فیملی ڈاکٹر آج کل کسی دوسرے ملک گیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کی شہرت سن کر مسٹر اوین نے اس سے رجوع کیا (یہ ڈاکٹر کا اپنا خیال تھا) اور اسے ایک ہفتہ کے لیے وہاں بلایا تھا۔ ڈاکٹر وہاں جانے کے خیال سے بہت خوش تھا۔
*۔۔۔*
’’مسٹر بلور‘‘ ٹرین میں فرسٹ کلاس ڈبے کے کونے میں بیٹھا تھا اور اپنی چھوٹی سی ڈائری میں کچھ لکھ رہا تھا۔
’’یہ تو بہت سارے لوگ ہیں۔‘‘ وہ اچانک بڑبڑایا۔
’’مس برنٹ۔۔۔ ویرا کلیتھرون۔۔۔ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ۔۔۔ انوتھی مارسٹن۔۔۔ جج وارگریو۔۔۔ فلیپ لمبورڈ۔۔۔ جنرل میکر تھول۔۔۔ ایک نوکر اور اس کی بیوی۔ مسٹر اور مسز راجر۔۔۔ اس نے اپنی نوٹ بک بند کی اور اپنا سامان سمیٹنے لگا۔ اسٹیشن قریب تھا۔ اس ڈبے میں مسٹر بلور کے علاوہ ایک اور کافی بڑی عمر کا آدمی بھی موجود تھا۔ ٹرین آہستہ آہستہ اسٹیشن پر آکر رک گئی۔ مسٹر بلور نے آگے بڑھ کر بوڑھے آدمی کا سامان اٹھانے میں مدد کی۔
’’سمندر کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ شخص منہ ہی منہ میں بولا۔
’’ہاں! ہاں!‘‘ مسٹر بلور نے غائب دماغ انداز میں جواب دیا۔ 
’’شاید طوفان آنے والا ہے۔‘‘ بوڑھا پھر بولا۔
’’نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ موسم کا فی صاف ہے۔‘‘ مسٹر بلورنے نفی کی۔
’’میں کہہ رہا ہوں طوفان آنے والا ہے۔‘‘ بوڑھا غصے میں آگیا۔ ’’فیصلے کا دن آرہا ہے۔‘‘ اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی ۔ ’’جلد ہم سب کا فیصلہ ہو جائے گا۔‘‘
مسٹر بلور نے بغیر کچھ سوچے سر ہلادیا۔۔۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ بوڑھا آدمی صحیح کہہ رہا ہے۔
*۔۔۔*
یہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ باہر نکل کر جانے والے راستے کے قریب ۵ لوگ غیر یقینی کے عالم میں کھڑے تھے۔ ان کو کھڑے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ دو ٹیکسیاں ان کے سامنے آکر رک گئیں۔ آگے والی میں سے ایک درمیانی عمر کا ڈرائیور نکل کر ان کی طرف بڑھا۔
’’دوپہر بخیر! آپ لوگوں کو نیگر آئی لینڈ جانا ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ پانچوں نے بیک وقت جواب دیا۔ ڈرائیور نے پانچوں پر نظر ڈالی پھر جج وار گریو کو مخاطب کیا :
’’سر! یہاں دو ٹیکسیاں موجود ہیں۔ جو آپ لوگوں کو نیگر آئی لینڈ لے جانے پر مقرر ہیں لیکن ابھی ایک اور صاحب کو آنا ہے۔ ان کی ٹرین بس دس منٹ میں پہنچ جائے گی۔ اگر آپ میں سے کوئی ایک یہاں رک جائے تو زیادہ آسانی ہوگی۔ ویرا کو فوراً اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا۔
’’مسز اوین کی سیکریٹر ی کے طور پر میرا خیال ہے میں یہاں رک کر انتظار کرتی ہوں۔ آپ لوگ ٹیکسی میں روانہ ہوجائیں۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ مس ایملی برنٹ نے سرد مہری سے جواب دیا اور آگے والی ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔ جج وار گریواور مسٹر بلور نے بھی اس کی پیش قدمی کی۔ سامان ٹیکسی میں رکھا جاچکا تھا۔ ان کے بیٹھتے ہی ٹیکسی روانہ ہوگئی اور کیپٹن لمبورڈ، ویرا کے ساتھ اسٹیشن پر رہ گیا۔ 
’’آپ اس جگہ پر پہلے آ چکی ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کیپٹن لمبورڈ نے ویرا سے دریافت کیا۔
’’نہیں نہیں! میں یہاں پہلی دفعہ آئی ہوں۔‘‘ ویرا نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’ابھی تو میں اپنی باس مسز اوین سے ملی بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’اچھا!‘‘ کیپٹن لمبورڈ نے کھینچ کر کہا۔ ’’ویسے اخلاقی طورپر مسز اوین کو خود اسٹیشن پر آنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ارے نہیں وہ یقیناًمصروف خاتون ہوں گی۔ میرے خیال میں رات کے کھانے تک ان سے ملاقات ہوہی جائے گی۔‘‘
اتنے میں ٹرین شور مچاتی اسٹیشن میں داخل ہوگئی اور پلیٹ فارم کے پاس آکر رک گئی۔ صرف تھوڑے ہی لوگ اسٹیشن پر اترے۔۔۔ انہیں میں ایک لمبا اور مضبوط فوجی اسٹائل کا آدمی بھی تھا۔ اس کے پیچھے ایک بھاری بھر کم سوٹ کیس بمشکل اٹھائے ایک قلی کھڑا تھا۔ ویرا اور کیپٹن لمبورڈ کے ساتھ کھڑا ٹیکسی ڈرائیور آگے بڑھا۔ 
’’آپ جنرل میکر تھور ہیں۔‘‘
’’ہاں!‘‘ مختصر سا جواب ملا جسے سن کر ویرا آگے بڑھی۔
’’جنرل میکر تھور! میں مسز اوین کی سیکر یٹری ہوں۔ یہ کیپٹن لمبورڈ ہیں نیگر آئی لینڈ پہنچانے کے لیے ٹیکسی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔‘‘ تھوڑی ہی دیر میں وہ تینوں قصبے کی بھول بھلیوں میں سے گزر کر تیزی سے ساحل کی طرف رواں دواں تھے۔
*۔۔۔*
جیسے جیسے ساحل قریب آرہا تھا۔ دور جنوب میں کالے پتھروں سے گھرا جزیرہ آہستہ آہستہ واضح ہورہا تھا۔ ویرا کو نیگر آئی لینڈ کی پہلی جھلک دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی۔ اس کے ذہن میں تو نیگر آئی لینڈ ساحل سے قریب ایک خوب صورت جزیرہ تھا۔ جس پر ایک خوب صورت ساگھر بنا ہو لیکن اسے تو نیگر آئی لینڈ دور سے صرف کالے بد صورت پتھروں کا جزیرہ دیکھائی دے رہا تھا۔ پر اسرا ر اور ناخوش گوار۔۔۔ ٹیکسی بالکل اسی جگہ جاکر رکی جہاں مس برنٹ جج وار گریو اور مسٹر بلور کھڑے تھے۔
’’میر ے خیال میں ہمیں جزیرے تک جانے کے لیے کوئی کشتی استعمال کرنی ہوگی۔‘‘ ان کے اترتے ہی مسٹر بلور ان سے مخاطب ہوا۔ اس بات کے جواب میں ایک طویل القامت اور مضبوط ملاح انہیں اپنی طرف آتا دیکھائی دیا۔
’’دوپہر بخیر! خواتین وحضرات میرا نام ’فریڈ‘ ہے۔ آپ لوگوں کو نیگرآئی لینڈ میری کشتی میں بیٹھ کر جانا ہوگا۔ جو اس طرف موجود ہے۔‘‘ فریڈ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں بتایا لیکن ان سب کی مشکوک نگاہیں دیکھ کر اس نے ان کی تسلی کرانی ضروری سمجھی۔ ’’آپ سب پر یشان نہ ہوں۔ میرے ذمہ یہ کام مسٹر اور مسز اوین کے ایجنٹ مسٹر مورس نے لگایا ہے۔ آپ ۶ لوگوں کے علاوہ دو اور لوگوں کو بھی یہاں آنا ہے لیکن کیوں کہ وہ لوگ کار کے ذریعے آرہے ہیں اور ان کے آنے کا وقت مقر ر نہیں تو ہم ان کا انتظار نہیں کریں گے۔‘‘ یہ کہہ کر فریڈ اپنی کشتی کی سمت چل پڑا۔
تھوڑی ہی دور ایک چھوٹی سی کشتی ساحل کے پاس ان کی منتظر تھی۔ ’’یہ تو بہت چھوٹی ہے مسٹر فریڈ! شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ آپ کو ملا کر ہم ۷ افراد ہیں۔ آخر ہم اس میں کیسے سمائیں گے؟‘‘ مس برنٹ نے اپنے مخصوص غصیلے لہجے میں کہا۔
’’فکر مت کریں مادام! یہ دیکھنے میں چھوٹی ہے لیکن ہے بہت کام کی۔‘‘ فریڈ نے محبت سے اپنی کشتی پر ہاتھ پھیرا۔ ان سب کے بیٹھنے کے بعد کشتی چلنے کو بالکل تیار تھی۔ اچانک ایک زور دار ہارن کے ساتھ گاڑی ان کی پشت پر ساحل پر چلتی ہوئی ان سے تھوڑی دورآکر رک گئی۔ گاڑی انتہائی بیش قیمت اور نئے ماڈل کی تھی لیکن اس سے بھی زیادہ متاثر کن شخصیت گاڑی میں بیٹھے شخص کی تھی۔ انتہائی خوب صورت نقوش کے چہرے پر سنہری دھوپ پڑنے کی وجہ سے وہ ایک غیر مرئی دیوتا لگ رہاتھا۔
’’لافانی۔۔۔‘‘ کشتی میں بیٹھے مسٹر بلور کے ذہن میں ایک لفظ ابھرا۔ وہاں موجود کسی شخص کو اندازہ نہ تھا کہ خوبصورت چہروں کو بھیانک نقوش میں بدلنے میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں لگتا۔
انوتھی مارٹن نے گاڑی سے اتر کر دروازہ لاک کیا اور کشتی کی طرف بڑھ گیا۔
*۔۔۔*
فریڈ کشتی کو چلاتے ہوئے مسلسل مسٹر اور مسز اوین اور ان کے گھر دی جانے والی پارٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مسڑ اور مسز اوین کو نیگر آئی لینڈ خرید ے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ قصبے کے سبھی لوگ ا ن کو دیکھنے کے لیے بے چین تھے لیکن وہ آج تک کبھی قصبے میں نہیں آئے تھے۔ ساری لین دین انہوں نے اپنے ایجنٹ مسڑ مورس سے کر وائی تھی۔ اب جب قصبے والوں کو پتہ چلا کہ ان کے جزیرے پر ایک دعوت منعقد ہورہی ہے تو ان سب کا متجسس ہونا فطری سی بات تھی۔ ان سب کے خیال میں یہ تھا کہ یقیناًدعوت میں مدعو مہمان بھی امیر کبیر اور بڑی شخصیات ہوں گی۔ 
فریڈ کو یہ سوچ کر ایک دم ہنسی آئی کہ جب وہ قصبے میں رہنے والوں کو ان سات کے بارے میں معلومات دے گا تو انہیں کتنی مایوسی ہوگی۔ مسٹر اور مسز اوین کا دوستوں کے بارے میں ذوق یقیناًمضحکہ خیز تھا۔ فریڈ زیر لب مسکرایا۔ یہ سب تو کہیں سے بھی کسی دعوت میں شریک ہونے کے لائق نہیں لگتے جو کسی امیر آدمی نے منعقد کی ہو۔ خیر ہوسکتا ہے مسڑ اور مسز اوین خود بھی عجیب وغریب ہو ں۔ کسی نے بھی ان کو کب دیکھا ہے۔ 
*۔۔۔*
جزیرے کے قریب پہنچ کر ویرا کے سارے خدشات غائب ہوگے۔ دور سے بھیانک نظر آنے والا جزیرہ قریب سے انتہائی خوب صورت نیگر آئی لینڈ تھا اور اس پر بنا جدید طرزکا بنگلہ اس سے بھی زیادہ خوب صورت۔۔۔
کشتی کنارے کی طرف بڑھ رہی تھی۔کیپٹن لمبورڈ چاروں طرف کا جائزہ انتہائی تیزی سے لے رہا تھا۔ یہ جزیرہ تو انتہائی گہرے سمندر میں ہے۔ طوفان آنے کی صورت میں کشتی یہاں تک لانا مشکل ہوتا ہوگا۔‘‘ اس نے فریڈ سے پوچھا۔
’’جی ہاں! طوفان آتا ہے تو کوئی بھی ملاح یہاں آنے کی جرات بھی نہیں کرتا۔ اگر اتفاق سے آپ کے قیام کے دوران طوفان آگیا تو آپ لوگوں کو قصبہ سے رابطہ قائم کرنے میں بہت مشکل پیش آئے گی۔‘‘ فریڈ نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔
کشتی کنارے پر لگ چکی تھی۔ وہ سب ایک ایک کر کے اترے اور تیزی سے بنگلے کی سمت بڑھے۔ ان سب کا موڈ بنگلے تک پہنچتے پہنچتے خوشگوار ہوگیا تھا،بے یقینی کی کیفیت ختم ہوگئی تھی۔ بنگلے کے دروازے پر ایک نوکر ان کا منتظر تھا۔ 
’’معزز خواتین وحضرات آپ کو خوش آمدید۔‘‘ ان کے نزدیک پہنچتے ہی اس نے مود ب لہجے میں کہا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
’’مشروبات مرکزی ہال میں موجود ہیں۔‘‘ اس نے ان کی رہنمائی کی۔ مرکزی ہال میں پہنچ کر سب نے اپنی اپنی پسند کے ٹھنڈے مشروبات اٹھالیے۔ ان کی سب بیزاری اُڑن چھو ہوگئی۔ سب ٹھیک ٹھاک تھا۔ اب بس وہ سب اپنے میزبانوں سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔
’’لیکن۔۔۔ معزز خواتین وحضرات۔۔۔ بد قسمتی سے آپ کے میزبان مسٹر اور مسز اوین آج یہاں نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے خط لکھ کر اپنی صورت حال واضح کی ہے کہ کچھ ذاتی وجوہ کی بنا پر ان کا یہاں آنا کل تک کے لیے ملتوی ہوگیا ہے۔ انہوں نے آپ سب سے معذرت کی ہے اور امید کے ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے۔‘‘ نوکر نے ان کو اطلاع دی۔
*۔۔۔*
بنگلے میں ایک شادی شدہ جوڑا مسڑ اور مسز راجر نوکر کے طور پر موجود تھے۔ ویرا مسز راجر کی رہنمائی میں سیڑھیاں چڑھتی اوپر آگئی۔ مسز راجر نے لمبی راہداری کے سب سے آخری کمرے کے دروازے کھول دیے۔
’’واہ! ویرا نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے خوشی سے کہا جو کہ انتہائی خوب صورت بیڈ روم تھا۔
’’امید ہے آپ اپنے کمرے سے مطمئن ہوں گی مس؟‘‘ مسز راجر نے پوچھا۔ ’’اگر آپ کو کچھ چاہیے ہو تو بیل بجا دیجئے گا۔‘‘ اس کی آواز ہو یا چہرہ دونوں بالکل سپاٹ تھے۔
ویرا نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے پتا نہیں کیوں مسز راجر انسان کے بجائے کسی پرانی حویلی میں رہتی روح لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر کوئی رنگ نہیں تھا۔ ایسا لگ رہاتھا اس کا سارا خون نچوڑ لیاگیا ہے۔ ویرا کو لگا کہ وہ کسی انجانے خوف میں مبتلا ہے۔
’’یہ تو اپنے سائے سے بھی خوفزدہ لگ رہی ہے۔‘‘ ویرا کو اپنی گردن کے بال کھڑے ہوتے محسوس ہوئے۔ وہ سر جھٹک کر اپنی آواز کو حتی الامکان خوش گوار بنا تے ہوئے بولی۔
’’ہاں سب ٹھیک ہے۔ مسز راجر میں مسز اوین کی نئی سیکر یٹری ہوں۔ انہوں نے ذکر تو کیا ہوگا۔‘‘
’’نہیں مس! میں مسز اوین سے ابھی نہیں ملی۔۔۔ مجھے اور مسڑ راجر کو یہاں آئے زیادہ دن نہیں ہوئے۔‘‘ مسز راجر کے ہونٹ ہلکے سے ہلے۔
’’اچھا۔‘‘ ویرا کو بے انتہا حیرانی ہوئی۔ ’’یہاں اور نوکر ہیں۔‘‘ ویرا نے پوچھا۔
’’نہیں! صرف میں اور مسڑ راجر ہیں۔‘‘
’’اوہو۔ اچھا ٹھیک ہے تم اب جاؤ۔‘‘ مسز راجر کے کمرے سے نکلتے ہی اس نے اِدھر سے اُدھر کمرے میں چکر لگانے شروع کر دیے۔ اسے عجیب سا محسوس ہورہاتھا۔ جیسے کچھ غلط ہو۔ وہ ذہنی طور پر تھوڑی پریشان ہوگئی۔ اس جزیرے پر فی الوقت موجود لوگوں میں سے کوئی بھی مسڑ اوین سے نہیں ملا۔ یہ حیرت انگیز بات تھی۔ اچانک اس کی توجہ آتش دان پر لگے ایک چمکتے دمکتے فریم پر آکر ٹھہرگئی۔
دس نیگرو بچے گھر سے نکلے، کھانے چلے کھانا
ایک کے گلے میں کچھ پھنس گیا، باقی رہ گئے نو
نو چھوٹے نیگرو بچے رات کو دیر تک جاگے
ایک بچہ سوتا رہ گیا باقی رہ گئے آٹھ
آٹھ نیگرو بچے کشتی پر گئے شکار کو 
ایک نے کہا میں وہیں رہوں گا باقی رہ گئے سات 
سات چھوٹے نیگرو بچے کاٹ رہے تھے لکڑیا ں 
ایک نے اپنے آپ کو زخمی کر لیا باقی رہ گئے چھ
چھ چھوٹے نیگرو بچے کھیل رہے تھے ساتھ 
ایک کو شہد کی مکھی نے کاٹا باقی رہ گئے پانچ
پانچ چھوٹے نیگرو بچے کر رہے تھے ڈراما
ایک بچہ بن گیا جج، باقی رہ گئے چار
چار چھوٹے نیگرو بچے سمندر پر گئے کھیلنے 
ایک بچے کو اژدھاکھا گیا باقی رہ گئے تین 
تین چھوٹے نیگروبچے دیکھنے گئے جانور 
ایک کو بھالو نے گلے لگایا باقی رہ گئے دو
دو چھوٹے نیگرو بچے تاپ رہے تھے دھوپ
ایک بچہ اکڑ کر گر گیا باقی رہ گیا ایک
ایک آخری نیگروبچہ رہ گیا پورا اکیلا
اس نے اپنے گلے میں پھندا ڈالا باقی رہ گیا کون۔
یہ ایک بچوں کی نظم تھی۔ ویرا نظم پڑھ کر مسکرائی۔ یہ نظم شاید اس جزیرے کے نام کی مناسبت سے یہاں لگائی گئی تھی۔ نیگر آئی لینڈ اور دس چھوٹے نیگرو بچے۔۔۔ ویرانے دھیرے سے زیر لب کہا اور پھر کمرے میں چکر لگانے لگی۔ 
*۔۔۔*
ڈوبتے سورج کی روشنی میں نیگر آئی لینڈ بالکل جادوئی جزیرہ لگ رہا تھا۔ باقی دنیا سے دور۔۔۔ الگ تھلگ۔۔۔
ڈاکٹر آرم اسٹور نگ کار چلا کر کافی تھک گیا تھا۔ اب وہ کشتی میں آنکھیں بند کیے اپنے سوٹ کیس سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ کشتی جزیرے کے کنارے لگ گئی تو وہ تھکی ہوئی مسکراہٹ لیے اپنا سامان اتارنے لگا۔ کشتی چلانے والے آدمی فریڈ کو رخصت کر کے وہ بنگلہ کی سمت بڑھا۔
برآمد ے میں کرسی پر کوئی بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر کو وہ جانا پہچانا لگا۔ قریب پہنچ کر اس نے اس کو غور سے دیکھا۔۔۔ ارے یہ تو بوڑھا جج وار گریو ہے۔۔۔ جج سے ڈاکٹر کی ملاقات ایک مقدمے کی پیش قدمی کے دوران ہوئی تھی۔
’’ہیلو!‘‘ ڈاکٹر نے آواز لگائی۔
’’ہیلو!‘‘ جج نے روکھے اندازمیں کیا۔ ’’مشروبات ہال میں موجود ہیں۔‘‘
’’شکریہ! لیکن میں پہلے جاکر اپنے میزبان مسٹر اوین سے ملاقات کرلوں۔‘‘
’’یہ ناممکن ہے۔‘‘ جج نے بیزاری سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’یہاں کوئی میزبان نہیں، اندر باہر صرف اور صرف مہمان بھرے ہوئے ہیں۔‘‘ جج بڑبڑایا۔ ڈاکٹر نے اسے ایسے گھورا جیسے اس کا دماغ خراب ہو اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔
*۔۔۔*
رات کا کھانا انتہائی بہترین تھا۔ مسز راجر بلا شبہ زبردست کھانا بنا تی تھی۔ ہر ایک نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اب وہ سب میٹھا کھاتے ہوئے ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ صرف کیپٹن لمبورڈ چپ چاپ بغور ان سب کی گفتگو سن رہا تھا۔
’’ارے یہ کتنی پیاری ہیں۔‘‘ انوتھی نے اچانک کھانے کی میز کے بیچ میں رکھی کانچ کی ننّی منی گڑیاؤں کی طرف اشارہ کیا جو ایک گول دائرے میں سجی ہوئی تھیں۔
’’ایک ۔۔۔دو۔۔۔تین۔۔۔چار ۔۔۔دس!‘‘ ویرا نے انھیں گنا۔
’’یہ تو پوری دس ہیں۔ نیگروبچوں کی شکل کی پوری دس گلاس ڈولز۔ کتنے مزے کی بات ہے۔ اس گھر کو سجاتے ہوئے اس جزیرے کے نام کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ میرے کمرے میں آتش دان کے اوپر نیگرو بچوں پر ایک نظم سجی ہوئی ہے۔‘‘ ویرا خوشی سے اچھل پڑی۔
’’ہاں! میرے کمرے میں بھی موجود ہے وہ نظم۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔ 
’’میر ے بھی۔‘‘
’’میرے بھی۔‘‘ سبھی کے کمروں میں وہ نظم موجود تھی۔
’’اچھا آئیڈیا ہے۔‘‘ مسٹر بلور نے کرسی سے ٹیک لگائی۔
’’راجر! میری کافی مجھے ڈرائینگ روم میں دے دینا۔‘‘ مس برنٹ کر سی کو پیچھے دھکیل کر کھڑی ہوگئیں۔
ایک ایک کر کے وہ سبھی ڈرائینگ روم میں آگئے۔ مسٹر راجر نے ان سب کو گرما گرم کافی پیش کی۔ ڈرائینگ روم میں پر سکون خاموشی طاری تھی۔ وہ سبھی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ کھڑکی سے آتے، لہروں کے شور کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی۔
اچانک۔۔۔ کمرے میں کسی کی زوردار آواز گونجی جس نے ان سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
’’اس کمرے میں موجود مجرموں کو مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘ پاٹ دار آواز پوری قوت سے کمرے میں گونجی۔
’’ایڈورڈ آرم اسٹورنگ تم نے ۱۴ مارچ ۱۹۲۵ کے دن لوسیا میری کلیس کو مارا تھا۔
ایملی برنٹ ۵ نومبر ۱۹۳۱ ؁ کے دن مرنے والی بیکٹرائس ٹیلر کی موت کی ذمہ دارتم تھیں۔
ولیم بلور تم نے ۱۰ اکتوبر ۱۹۲۳ ؁کو جیمز لنڈر کا قتل کیا تھا۔
فیلپ لمبورڈ فروری ۱۹۳۲ ؁کے کسی دن مشرقی افریقہ کے ایک قبیلے کے ۲۱ آدمیوں کی موت کی ذمہ داری تمہاری ہے۔
ویرا کلیتھرون ۱۱ اگست ۱۹۳۵ ؁کے دن تم نے ایک بچے سا ئیرل ہیملٹن کو موت کے منہ میں دھکیلا۔
جون میکر تھور ۱۴ جنوری ۱۹۱۷ ؁ کو تم نے اپنے دوست آرتھر رچمنڈ کو قتل کیا۔
انوتھی مارسٹن ۱۴ نومبر کے دن پچھلے سال تم نے جون اور لوسی کو مب کو بے دردی سے مار ڈالا۔
تھامس اور ایتھل راجر ۶مئی ۱۹۲۹ ؁ کو حینیفر بریڈی کو تم دونوں نے مل کر ختم کیا۔
لورنس وار گریو تم ایڈورڈ سیٹن کے قاتل ہو جس کو تم نے ۱۰ جون ۱۹۳۰ ؁ کے دن موت کے حوالے کردیا۔ 
ان جرائم کا ارتکاب کرنے والے قیدیو! کیا تم میں سے کوئی بھی اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہے گا؟‘‘
*۔۔۔*
کمرے میں گونجتی آواز بند ہوگئی۔ ایک لمحے کے لیے ہر ایک ساکت ہوگیا۔ مسٹر راجر کے ہا تھ سے کافی کی ٹرے دھماکے سے زمین پر گر گئی۔ ساتھ ہی ڈرائینگ روم کے باہر کسی کی زوردار چیخ سنائی دی۔ کیپٹن لمبورڈ کے حواس سب سے پہلے بحال ہوئے۔ وہ تیزی سے کمرے کے دروازے کی طرف دوڑے اور دروازہ کھول دیا۔
دروازے کے باہر مسز راجر ڈھیرکی صورت میں زمین پر گری ہوئیں تھیں۔ انوتھی بھی کیپٹن کی مدد کرنے آگے بڑھا۔ دونوں نے مل کر مسز راجر کو اُٹھا کر صوفے پر ڈالا۔ ڈاکٹر جلدی سے آگے بڑھے اور مسز راجر کی نبض چیک کی۔
’’یہ بس بے ہوش ہے۔ کوئی خطرے کی بات نہیں۔ دومنٹ میں اسے ہوش آجائے گا۔ راجر کافی کا ایک کپ لے کر آؤ جلدی۔‘‘
’’یس۔۔۔یس سر۔۔۔‘‘ سفید چہرے اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ راجر باہر بھاگا۔
’’یہ کون تھا؟ یہ۔۔۔ یہ خوفناک آواز میں کون بول رہا تھا؟‘‘ ویرا تقریباً رونے کے قریب تھی۔
’’یہ کون ہمارے ساتھ بیہودہ اور اخلاق سے گرا مذاق کررہا ہے۔‘‘ جنرل چیخا۔ وہ اپنی عمر سے ۱۰ سال بڑا لگ رہا تھا۔ کیپٹن لمبورڈ مسز راجر کو ڈاکٹر کے حوالے کرکے دوبارہ حرکت میں آگیا تھا۔ وہ میزوں کے نیچے اور پردوں کے پیچھے جھانکنے لگا۔ آخر وہ آتش دان کے برابر بنے دروازے کے سامنے آکھڑا ہوا۔ پیچھے موجود سب لوگوں کی نگاہیں اس پر تھیں۔ کیپٹن نے آہستگی سے ہینڈ ل پر ہاتھ رکھا۔ دل میں ایک دو تین کیا اور دھڑام سے دروازہ کھول دیا۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ کوئی شخص کمرے سے نکل کر بھاگا۔۔۔ نہ گولیاں چلنی شروع ہوئیں۔ اندر تاریکی ہی تاریکی تھی۔ کیپٹن دبے پاؤں اندر کی جانب بڑھا اور فوراً لائٹ کا بٹن دبادیا۔
’’آہا! سب یہاں آجاؤ۔ آواز کامعمہ بھی حل ہوگیا۔‘‘ اس نے ڈرائینگ روم کی طرف منہ کر کے آواز لگائی۔ دروازے کے قریب ایک گول میز رکھی تھی۔ جس پر پرانے زمانے کاٹیپ ریکاڈر رکھا تھا۔ کیپٹن نے آ گے بڑھ کر اس کا بٹن دبایا۔ ’’اس کمرے میں موجود مجرموں کو۔۔۔‘‘ وہی آواز فضامیں پھر گونج اٹھی۔
’’بند کرو۔۔۔بندکرو۔۔۔‘‘ ویرا ہذیاتی انداز میں چلائی۔ چپ چاپ کیپٹن نے ٹیپ کا بٹن دبادیا۔
’’ایک احمقانہ مذاق۔‘‘ ڈاکٹر نے ٹیپ بند ہونے پر سکون کا سانس لیا۔
’’تو تمہارے خیال میں یہ ایک مذاق ہے ڈاکٹر؟‘‘ جج وار گریو نے ہلکے سے کہا۔
’’اس کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ ڈاکٹر نے حیرانی سے جج کو دیکھا۔ جج نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’ارے سب چھوڑو! یہ بتاؤ کہ اس ٹیپ ریکارڈ میں کیسٹ کس نے لگائی۔‘‘ انوتھی نے زور سے پوچھا۔
جج وار گریونے سر ہلایا۔ ’’ہاں یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘ اور واپس ڈرایئنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ سب نے اس کی پیش قدمی کی۔ ڈرائینگ روم میں مس برنٹ صوفے پر لیٹی مسز راجر پر جھکی ہوئی تھی اور اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’مادام! مجھے بات کرنے دیں۔‘‘ مسٹر راجر آگے بڑھا اور مسز راجر کے گالوں کو تھپتھپایا۔
’’ایتھل۔۔۔ ایتھل۔۔۔ اٹھو۔۔۔ سب ٹھیک ہے اٹھ جاؤ۔۔۔ یہ لو کافی پیو۔‘‘ مسٹر راجر نے اپنی آواز کو پر سکون کرتے ہوئے اسے پکارا۔ مسز راجر نے تھوڑی سی کوشش کے بعد آنکھیں کھول دیں۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے اپنے گرد جمع لوگوں کو دیکھا۔ 
’’تھامس کیا ہوا تھا؟ وہ آواز ۔۔۔اوہ کیا میں بے ہوش ہوگئی تھی۔‘‘ اس نے مسٹر راجر کا ہاتھ سختی سے پکڑا۔
’’سب کچھ ٹھیک ہے مسز راجر۔ تم یہ پیو۔۔۔بہتر محسوس کروگی۔‘‘ ڈاکٹر نے کافی کا کپ اس کے منہ سے لگایا۔
’’مسٹر راجر۔۔۔ کیسٹ ریکاڈرمیں ٹیپ تم نے لگایاتھا۔‘‘ جج وار گریو نے خشک لہجے میں سوال کیا۔
’’میں قسم کھا کے کہتا ہوں مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ کیسٹ میں کیا ہے؟ میں تو صر ف احکامات کی تعمیل کررہا تھا۔‘‘
’’کس کے احکامات؟‘‘
’’مسٹر اوین کے۔‘‘
’’صحیح طرح واضح کرو مسٹر راجر۔۔۔‘‘ وارگریو کی آواز میں سختی تھی۔ 
’’مجھے مسٹر اوین کی طرف سے یہ ہدایت ملی تھی کہ کھانے کے بعد جب سب ڈرائینگ روم میں جمع ہوں تو یہ کیسٹ ٹیپ ریکاڈر میں لگادوں۔‘‘
’’یہ سارا معاملہ فضول ہے۔۔۔ کون ہے یہ پاگل مسٹر اوین۔‘‘ جنرل بھنّا اٹھا۔
’’ہاں یہی معلوم کرنا نہایت ضروری ہے لیکن پہلے راجر تم مسز راجر کو ان کے کمرے میں لٹا کر آؤ۔ اس کی طبیعت کافی خرا ب معلوم ہوتی ہے۔‘‘
’’جی سر!‘‘ راجر نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر آگے بڑھا۔ ان دونوں کے باہر نکلتے ہی انوتھی اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’میراخیال ہے ہم سب کو ایک ایک کپ اور کافی کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ہاں یقینا۔‘‘ لمبورڈ نے بھی حمایت کی۔
’’میں لے کر آتا ہوں۔‘‘ انوتھی باہر نکل گیا۔ ۵ منٹ میں وہ ٹرے سمیت کمرے میں موجود تھا۔ 
’’کچن میں یہ تیار رکھی تھی۔‘‘ ان سب کی سوالیہ نظروں کے جواب میں اس نے کہا۔ ڈاکٹر کمرے میں واپس آگیا۔ اس کے پیچھے پیچھے راجر بھی ایک دو لمحے میں نمو دار ہوگیا۔
وارگریونے ایک جج کی طرح چارج سنبھالا۔
’’اب بتاؤ راجر۔ مسٹر اوین کون ہیں؟‘‘
’’میں کچھ نہیں بتا سکتا سر۔ سوائے اس کے وہ نیگر آئی لینڈکے مالک ہیں۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ کمرے میں اس کے الفاظ سن کر سب میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔
’’تم نے کبھی انہیں نہیں دیکھا؟‘‘
’’سر مجھے اور میری بیوی کو یہاں آئے ابھی ایک ہفتہ بھی پورا نہیں ہوا۔‘‘ راجر نے تھوڑی دیر توقف کیا۔ پھر جب کسی نے کچھ نہ کہا تو خود ہی گویا ہوا۔
’’مسز راجر اور مجھے یہاں ملازمت کی پیشکش ایک خط کے ذریعے کی گئی تھی۔ حوالہ اس ایجنسی کا تھا۔ جس میں ہم دونوں رجسٹرڈ ہیں۔ ہمیں یہاں ایک مقررہ دن پہنچنا تھا۔ جزیرے پر زیادہ کام نہیں تھا۔ صر ف اس گھر کی جھاڑ پونچھ کرنی تھی۔ مسٹر اوین کی ہدایات کے خط ہمیں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ اس نے ہمیں خط ہی کے ذریعے آپ لوگوں کے آنے کی اطلاع دی تھی۔ تاکہ ہم آپ لوگوں کے رہنے کے لیے کمرے تیار رکھیں۔ پھر کل شام کی ڈاک سے ہی یہ معلوم ہواکہ مسٹر اوین اور ان کی بیگم کسی وجہ سے نہیں آپائیں گے۔ خط میں یہ بھی ہدایت تھی کہ جب سب رات کے کھانے کے بعد ڈرائینگ روم میں جمع ہوں تو مجھے کیسٹ ریکاڈر میں کون سا کیسٹ لگانا ہے۔‘‘
’’کیا تمہارے پاس یہ سارے خط موجود ہیں؟‘‘
’’نہیں جناب سوائے اس خط کے جو کل موصول ہوا ہے میرے پاس اور کوئی خط نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر راجر نے اپنی جیب سے خط نکال کر جج وار گریوکے ہاتھ میں تھمادیا۔ جسے اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا۔ کیپٹن اس کی پشت پر کھڑا تھا۔ اس نے بھی خط پر نظر دوڑائی۔
’’بہت ہی مشکل نام ہے اس بندے کا۔‘‘ کیپٹن نے برا سامنہ بنایا۔ جج وارگریو ایک دم چونکا۔ 
’’شکریہ کیپٹن تم نے ہماری توجہ ایک اہم بات کی طرف دلائی۔‘‘ اس نے ان سب کو دیکھا۔ ’’دوستو! کیوں کہ ہم سب یہا ں کسی دعوت نامہ کی وجہ سے ہی ہیں۔ تو اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی معلومات ایک جگہ جمع کردیں۔‘‘ وہ رکا پھر بولا۔ ’’ہم سب کو یہاں کس طرح مدعو کیا گیا۔‘‘
مس برنٹ نے سب سے پہلے اپنے خط کے بارے میں بتایا کہ کس طرح اسے ایک پرانی دوست کا خط ملا۔ اس نے اپنا خط لاکر جج کو دے بھی دیا۔ ویرا نے اپنے سیکریٹری کے عہدے کے بارے میں بتایا۔ ڈاکٹر نے اپنے پروفیشنل دورے کا ذکر کیا۔ جج وار گریوڈاکٹر کے بعد انوتھی کی طرف متوجہ ہوا۔
’’مجھے تو اپنے پرانے جاننے والے کی طرف سے خط ملا تھا۔ جس نے اس جزیرے پر آنے کی پیشکش کی تھی۔‘‘ انوتھی بولا۔۔۔ میکرتھول نے بھی اسی طرح کے دعوت نامے کا تذکرہ کیا۔ کیپٹن لمبورڈ کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا۔ کیا وہ اپنی اصلیت بتادے یا کوئی کہانی بنا کر سنا دے وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ آخر اس نے فیصلہ کر لیا۔ مجھے بھی کچھ دوستوں نے بلایا تھا۔ اس نے مختصر طور پرکہا۔ جج وار گریو نے اسے غور سے دیکھا پھر مسٹر بلور کو پکارا: ’’جی مسٹر بلور! آپ یہاں کیسے آئے؟‘‘
’’میرے خیال میں اس صورت حال میں مجھے اپنی اصلیت بتادینی چاہیے۔ مجھے مسٹر اوین کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا۔ میں تھوڑے عرصے پہلے تک خفیہ ادارے سے منسلک تھا۔ مجھے یہاں آکر یہاں موجود لوگوں کی نگرانی کرنی تھی۔ اور مسز اوین کے جواہرات کی حفاظت میری ذمہ داری تھی۔‘‘ جج وار گریو اب گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ آخر اس نے سر اٹھایا۔
’’ایک بات واضح ہے یہ سارے دعوت نامے صرف ایک شخص نے بھیجے ہیں۔ مس برنٹ کے خط میں اس نے اپنا نام صرف ی۔۔۔ ن۔۔۔ الف۔۔۔ لکھا ہے۔ مس ویرا کواس نے یو نانیسنی اوین کے نام سے خط لکھا۔ راجر کو یولک نومن اوین کے طور پر ہدایات دیں۔ یہ جو کوئی بھی ہے مسٹر نا معلوم اس نے ہمیں کسی خاص مقصد کے تحت یہاں اکھٹا کیا ہے۔‘‘
’’یہ پاگل پنا ہے۔‘‘ ویرا گھبرا کر بولی۔
’’ہاں یہ پاگل پنا ہے۔ لیکن یہ شخص پاگل نہیں بلکہ انتہائی چالاک اور شاطر دماغ شخص ہے۔‘‘
*۔۔۔*
کمرے میں خاموشی تھی لیکن فضا میں پریشانی محسوس کی جاسکتی تھی۔ جج کی سرد آواز نے سکوت کو توڑا۔
’’اس سے پہلے ہم تفتیش کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوں۔ میںآپ کو اپنے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔‘‘ اگلے کچھ منٹوں میں جج نے ان کے سامنے اپنے خط کے بارے میں وضاحت کی جو انھیں ملا تھا۔ جسے پڑھ کر انہوں نے نیگرآئی لینڈ آنے کا فیصلہ کیا۔
’’ایک بات ہمارے سامنے ہے۔ یہ جو بھی شخص ہے ہم سب کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے۔ اتنی اچھی طرح کہ اس نے ہماری زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کی صحیح صحیح تاریخ تک بتا دی۔‘‘ جج وار گریو کے یہ الفاظ کہنے کی دیر تھی کہ سب نے ایک ساتھ بولنا شروع کردیا۔ 
’’یہ سب من گھڑت ہے۔‘‘ جنرل میکر تھور چلایا۔
’’جھوٹ۔۔۔ ساری باتیں جھوٹی ہیں۔‘‘ راجر نے حلق کو پورازور دے کر کہا۔
’’ہم کبھی ایسا سفاک کام نہیں کرسکتے۔‘‘ ویرا نے دل پر ہاتھ رکھا۔
جج وار گریو نے اپنا ہاتھ بلند کیا۔
’’آپ سب خاموشی اختیار کریں۔ ہم سب کی باری آئے گی۔ تب آپ نے جو کہنا ہو کہہ لیجئے گا۔ ابھی چپ ہوجائیں۔ جج وار گریو اس وقت پوری طرح اپنے جج کے روپ میں موجود تھا۔
’’سب سے پہلے میں اپنے اوپر عائد الزام کی وضاحت کردوں۔ ہمارے نامعلوم دوست یا دشمن کا کہنا ہے کہ ایڈورڈ سیٹن کی موت کا ذمہ دار میں ہوں۔ جیسے کہ آپ سب کو میرا عہدہ معلوم ہے۔ میرا کام ہی اچھے برے میں فرق کرنا ہے۔ ایڈورڈ سیٹن کو میرے پاس ایک بوڑھی عورت کے قتل کے جرم میں گرفتار کر کے لیا گیاتھا۔ مقدمہ جون ۱۹۳۰ء میں میرے زیر سماعت تھا۔ گواہیاں اور شواہد سب اس کے خلاف تھے۔ آخر کار یہ ثابت ہوگیا کہ وہ قاتل تھا۔ حالاں کہ اس کے وکیل نے بہت اچھے طریقے سے اس کا دفاع کیا لیکن آخر عدالت نے اسے سزائے موت دے دی۔ یہ میرا فرض تھا۔ اس سے مجھے کوئی ذاتی مفاد حاصل نہ ہوا۔
’’جج وار گریو! کیا آپ ایڈورڈ سیٹن کو جانتے تھے۔ میرا مطلب ہے جب یہ کیس سامنے آیا تھا اس سے پہلے؟ ڈاکٹر اس سے پہلے اپنی زبان کو روکتا اس کے منہ سے نکلا۔
’’مجھے سیٹن کے بارے میں کیس سے پہلے کچھ علم نہیں تھا۔‘‘ جج کا لہجہ انتہائی سرد تھا۔
’جھوٹ۔۔۔ جج وار گریو جھوٹ بول رہا ہے۔‘ ڈاکٹر نے دل میں سوچا لیکن اس بار اپنی زبان کو قابو میں رکھا۔
ویرا کلیتھرون نے لرزتی ہوئی آواز میں سب کومخاطب کیا۔ ’’میں آپ کو بتانا چاہوں گی۔۔۔ اس بچے کے بارے میں۔۔۔ سائیرل ہمیلٹن۔۔۔ میں اس کی آیا اور نگران تھی۔ اس کو گہرے سمندر میں تیرا کی کرنے پر پابندی تھی۔ ایک دن میری توجہ بھٹک گئی۔ وہ تیرتا ہوا سمندر میں دور تک نکل گیا۔ جب مجھے پتہ چلا تو بہت دیر ہوگئی تھی۔ میں اس کے پیچھے کودی لیکن سائیرل بچ نہ سکا۔۔۔ میں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھر پور کوشش کی لیکن۔۔۔ شاید قدرت کو اس کا زندہ رہنا منظور نہیں تھا۔ میں بے قصور تھی۔ سائیرل کے پورے خاندان اور اس کے ماں باپ نے مجھے کوئی الزام نہیں دیا تھا۔ سب کو مجھ سے ہمدردی تھی۔‘‘ اپنی بات ختم کر کے ویرا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
جنرل نے ویرا پر ایک ہمدرد بھری نظرڈالی۔ ’’ہم سب آپ کا دکھ سمجھتے ہیں مس ویرا! آپ بے قصور ہیں۔‘‘ وہ تھوڑا ہچکچا یا۔ ’’میں عام طور پر فضول اور بے بنیاد باتوں کی صفائی دینا پسند نہیں کرتا لیکن پھر بھی میں اپنی پوزیشن کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔ آرتھر رچمنڈ میرا بہت اچھا دوست تھا۔ وہ میرے ما تحت کام کرتا تھا۔ وہ بہت بہادر تھا اور میدان جنگ کے بجائے دفتر میں کام کرنا اسے خاص پسند نہیں تھا۔ ہمیں میدان جنگ میں اپنے کچھ افسران بھیجنے کا حکم ملا۔ رچمنڈ نے خود خواہش ظاہر کی کہ اسے بھیجا جائے۔ میں نے اس کی بات مان لی لیکن افسوس۔۔۔ ایک دو مہینوں کے اند ر ہی وہ گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ ویسے بھی جنگ کے زمانے میں سپاہیوں کی موت عام بات تھی۔ اب بتاؤ۔ اس میں میرا کیا قصور تھا؟ کیا میں نے رچمنڈ کو گولی ماری تھی یا چھراگھونپ کر قتل کیا تھا؟‘‘ جنرل دھم سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
کیپٹن لمبورڈ نے اسے دیکھا اور طنزیہ انداز میں مسکرایا ۔
’’آپ لوگوں نے جو بھی میرے بارے میں سنا بالکل سچ ہے۔ ہاں میں مشرقی افریقا میں مرنے والے ۲۱ آدمیوں کی موت کا ذمہ دار ہوں۔‘‘ سب کی حیرت زدہ نگاہیں دیکھ کر کیپٹن کا دل چاہا وہ زور سے ہنس دے۔ ہم ۲۴ لوگ کسی محفوظ پنا ہ گاہ کی تلاش میں تھے۔ لیکن بدقسمتی سے راستہ کھو بیٹھے۔ خوراک نہایت محدود تعداد میں تھی۔ ۲۴ لوگوں کے لیے ناکافی۔۔۔ اگر میں ان سب کے ساتھ رک جاتا تو میں خودکشی کرلیتا۔ اپنے آپ کو بچانا انسان کا پہلا حق ہے۔ میں نے دو اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ ساری خوراک اپنے قبضے میں کی اور باقی سب کواسی ویرانے میں چھوڑ کر الگ نکل گئے۔ کمرے میں موجود کسی کو بھی کانوں پر یقین نہیںآرہا تھا۔ کوئی ایسے مزے سے بھی اپنے جرم کا اقرار کر سکتا ہے۔
’’میں جانتا ہوں یہ کوئی قابل تعریف عمل نہیں ہے لیکن میرے نزدیک اپنے آپ کو بچانا زیادہ اہم ہے۔‘‘ کیپٹن لمبورڈ نے ان سب کی حیرت بھری نگاہوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔ انوتھی مارسٹن کو شاید کیپٹن لمبورڈ کے اس عمل سے کچھ حوصلہ ملا جبھی اس نے فیصلہ کیا۔
’’جون اور لوسی کو مب شاید ہائی اسکول میں پڑھنے والے وہ دو بہن بھائی تھے۔ جن کی میری کار سے ٹکر ہوئی تھی۔ لیکن پوری غلطی میری نہیں تھی۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سزا کے طور پر صرف ایک سال کے لیے میرا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہوا تھا۔ بس۔ اگر ان دونوں بہن بھائیوں کے مرنے میں پورا ہاتھ میرا ہوتا تو کیا آج میں جیل کے اند ر نہ ہوتا۔‘‘ انوتھی چپ ہوگیا۔ کمرے میں موجود سبھی افراد اب کسی اور کے بولنے کے منتظر تھے۔ 
’’میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں سر۔‘‘ راجر نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ جب کسی نے جواب نہ دیا تو وہ خود ہی کہنے لگا۔ ’’اس کیسٹ میں میرا اور مسز راجر کا بھی ذکر ہے اور ہماری پرانی مالکن کا بھی۔۔۔ مس بریڈی۔۔۔ جناب میں قسم کھاتا ہوں یہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ ہماری مالکن مس بریڈی بہت اچھی خاتون تھیں۔ ہم ان کے سب سے قابل اعتماد نوکر تھے۔ مس بریڈی کی آخری سانس تک ہم ان کے ساتھ موجود تھے۔ وہ ہمیشہ بیمار رہتی تھیں۔ اس رات۔۔۔‘‘ راجر ایسے رکا جیسے اس کے گلے میں کچھ پھنس گیا ہو۔ ’’اس رات ان کو دل کا شدید دورہ پڑا، طوفان کی وجہ سے ٹیلے فون لائینیں خراب ہوگئی تھیں۔ مس بریڈی کا گھر قریبی ہسپتا ل سے تقریبا ایک میل دور تھا۔ ہم ڈاکٹر سے کسی طرح رابطہ نہیں کرسکتے تھے۔ آخر مسز راجر کو مس بریڈی کے پاس چھوڑ کر میں پیدل ڈاکٹر کو لینے نکل کھڑا ہوا لیکن مس بریڈی ہمارے واپس آنے سے پہلے ہی وفات پاگئیں تھیں۔‘‘ کیپٹن لمبورڈ نے راجر کے سفید پڑتے چہرے کو غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف واضح تھا اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کیپٹن کو وہ ٹرے یاد آئی جو راجر سے گر گئی تھی۔ جب اس نے کیسٹ میں اپنا نام سنا تھا۔
’’اپنی وصیت میں مس بریڈی نے تم لوگو کے لیے کچھ رقم تو ضرور چھوڑی ہوگی۔‘‘ مسٹر بلور نے پولیس انسپکٹر کی طرح تفتیش کی۔ 
’’ہاں۔۔۔ جی ہاں۔‘‘ راجر اب بری طرح کانپ رہا تھا۔ ’’اسے چھوڑو مسٹر بلور! تم اپنے بارے میں بتاؤ۔‘‘
’’میں کیا بتاؤں اپنے بارے میں؟‘‘ مسٹر بلور نے حیرانی سے کیپٹن کو دیکھا۔
’’تمہارا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔‘‘
’’اوہ۔۔۔وہ۔۔۔‘‘ مسٹر بلور نے لاپرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ’’اس پاگل شخص کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آپ سب کو پتہ ہے میرا تعلق انٹیلی جنس سے تھا تو گناہ گاروں کو پکڑنا میرا کام ہے۔ شہر کے سب سے بڑے اور مشہور بینک میں بڑی مالیت کی چوری ہوئی تھی۔ اس کیس کا انچارج میں تھا۔ تفتیش کے بعد مجرم جون لنڈر کو پکڑ لیا گیا۔ اس نے چوری کے ساتھ ساتھ بینک کے چوکیدار کو بھی خاصا زخمی کر دیا تھا۔ اس پر مقدمہ چلا پھر عمر قید کی سزا۔‘‘
’’ارے ہاں!‘‘ جج وار گریونے چونک کر سر اٹھایا۔ میں نے اس کیس کا ذکر سنا تھا۔ تمہیں حکومت کی طرف سے اعلا کار کر دگی پر تمغہ بھی تو ملا تھا۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ لیکن جو بھی ہے یہ بات صاف ہے کہ جون لنڈر کو انجام تک پہنچانے میں میرا بڑا ہاتھ ہے۔ لیکن یہ سب کرنا میرے فرائض میں شامل تھا۔ کیا ایک مجر م کو میں چھوڑ دیتا۔‘‘ مسٹر بلورنے سامنے بیٹھے سب لوگوں کو دیکھا جو اس کی بات توجہ سے سن رہے تھے لیکن ان کی محویت کو کیپٹن لمبورڈ کے زور دار قہقہہ نے توڑدیا۔ اس نے طنزیہ انداز میں سب کو دیکھا۔
’’سوائے میرے یہاں موجودد سارے لوگ کتنے اصول پسند ہیں نا۔۔۔ آپ سب کو اپنے فرائض سے کتنی محبت ہے نا۔‘‘ وہ صاف طور پر ان سب کا تمسخر اڑا رہا تھا۔ ’’تم بتاؤ ڈاکٹر۔‘‘ کیپٹن نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ ’’تم نے بھی کسی آپریشن کے دوران کوئی چھوٹی سی غلطی کردی تھی۔ جس میں تمہارا کوئی قصور نہ تھا۔‘‘
ڈاکٹر نے برا مانے بغیر اپنا سر نفی میں ہلادیا۔ ’’نہیں بھائی۔ مجھے تو کوئی اپنی مریضہ یاد نہیں۔۔۔ لوسیا کلیس نام کی۔ میرے لیے تو یہ سارا معاملہ معمہ ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے گہری سانس لی اور اپنے چہرے کے تاثرات کو حتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کی مجھے ایسے یاد نہ ہوگا۔۔۔ اس نے سوچا۔۔۔ میرا پورامستقبل داؤ پر لگ گیا تھا۔ سارا قصور رات میں ہونے والی پارٹی کا تھا۔ میں دیر سے گھر واپس آیا تھا۔ شاید دو بجے۔۔۔ نہیں نہیں میں ایک بجے نیند میں تھا۔ دو گھنٹے بعد ہی ہسپتال سے ایمرجنسی کال آگئی تھی۔ تھکن کے باوجود مجھے جانا پڑا۔۔۔ وہ کوئی بوڑھی عورت تھی۔ جس کا آپریشن کرنا تھا۔ میں نیند میں مدہوش تھا۔ میرے ہاتھ بہک گئے اور غلط شریان کٹ گئی۔ وہ تو شکر ہے وہاں موجود نرس نے اپنا منہ بند رکھا۔ ورنہ میں تو بر باد ہو جاتا۔۔۔‘‘ ڈاکٹر نے اس تصور سے ہی جھرجھری لی۔ ’’لیکن خیر جو بھی ہو۔ ہرڈاکٹر سے کبھی نہ کبھی تو غلطی ہو ہی جاتی ہے۔
*۔۔۔*
کمرے میں لہروں کے شور کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔ مس ایملی برنٹ سب کی نگاہوں کی پر واہ کیے بغیر کھڑکی سے باہر تاریکی میں نہ جانے کیا دیکھ رہی تھی۔ آخر جب کوئی نہ بولا تو اس نے سب کو دیکھا۔
’’کیا تم سب اس بات کے منتظر ہو کہ میں اپنی کہانی سناؤں؟‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا ۔
’’تو پھر میں معذرت چاہتی ہوں۔ مجھے کچھ نہیں کہنا۔
’’مس برنٹ۔ کوئی وضاحت نہیں؟‘‘ جج نے اپنا اطمینان کرنا چاہا۔
’’نہیں۔ مجھے صفائی دینے کی عادت نہیں۔ میں جو کام کرتی ہوں اپنے ضمیر کے کہنے پر کرتی ہوں۔ جس پر مجھے کبھی پچھتا وا نہیں ہوا۔‘‘ مس برنٹ نے تفاخر سے کہا۔ جج وار گریو نے نہ چاہتے ہوئے اور اصرار نہیں کیا کیونکہ مس برنٹ کی شخصیت ایسی نہیں تھی۔ جس سے آسانی سے مقابلہ کیا جاسکے۔ ’’ہماری تفتیش یہاں آکر رک گئی ہے۔ اب راجر تم بتاؤ تمہارے اور تمہاری بیوی کے علاوہ جزیرے پر اور کون موجود ہے۔‘‘
’’سر میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس جزیرے پر میرے اور میری بیوی کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں۔‘‘ راجر نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔ جج وار گریو کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔ ’’ہمیں اب تک اپنے انجانے میزبان کے ہم سب کو یہاں جمع کرنے کا مقصد نہیں معلوم۔ ہمارا میزبان کوئی جنونی نہیں بلکہ انتہائی خطرناک شخص ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس جزیرے کو جتنی جلدی ہوسکے چھوڑ دینا چاہیے۔ آج ہی کی رات۔‘‘
’’میں مداخلت کرنے پر شرمندہ ہوں سر! لیکن شاید آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ جزیرے پر ساحل تک جانے کے لیے کوئی کشتی نہیں۔‘‘ راجر جلدی سے بولا۔
’’لیکن تمہارا قصبے سے رابطہ کیسے ہوتا ہے۔‘‘ ویرا تقریبا چلا اٹھی۔ 
’’فریڈ۔۔۔ جس کشتی والے سے آپ دوپہر میں ملے تھے وہ روزانہ صبح صبح ناشتے کو تازہ سامان دینے یہاں آتا ہے۔ پھر میری تجویز ہے کہ کل جب فریڈ آئے تب ہم یہاں سے نکل چلیں۔ سبھی نے حمایت کی سوائے۔۔۔
’’یہ کیا! آپ سب اتنی سی بات سے ڈر گئے اور یہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ ابھی تو یہاں مزا آنا شروع ہوا ہے۔ یہ سارا معاملہ توکسی جاسوسی کہانی کی طرح لگتا ہے۔ میراخیال ہے، ایک دو دن اور یہاں رک کر تفریح کی جائے۔‘‘ انوتھی مارسٹن نے بے تاب ہو کر کہا۔ 
’’مسٹر مارسٹن جس عمر میں، میں ہوں مجھے ایسے کارنامے دیکھنے کا کوئی شوق نہیں۔‘‘ جج وار گریو نے جل کر کہا۔
’’اوکے، پھر آپ لوگ چاہیں یہاں سے راونہ ہوجائیں۔ میں یہیں رکوں گا۔‘‘ اس کی آواز فیصلہ کن تھی۔ اس نے اطمینان سے اپنا کافی کا کپ اٹھا یا اور ایک گھونٹ بھرا۔ منٹ کے ہزارویں سیکنڈ میں اسے پھندا لگا۔ اس کے حلق میں جلن شروع ہوگئی۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی لیکن آواز نہ نکلی۔ اس کا منہ بری طرح نیلا ہوگیا تھا۔ اس نے سانس لینے کی کوشش کی لیکن اسے سانس نہیں آرہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا۔ کوئی اس کا گلا دبا رہا ہے۔ اس نے ہاتھ پیر ادھر ادھر مارے لیکن بے سود۔ کپ اس کے ہاتھ سے کب کا چھوٹ چکا تھا اور انوتھی مارسٹن زمین پر بچھے دبیز قالین پر بے حس پڑا تھا۔
*۔۔۔*
وہ سب بیوقوفو ں کی طرح منہ کھولے زمین پر پڑے مارسٹن کو دیکھ رہے تھے۔ اتنا اچانک اس کے زمین پر گرنے سے وہ لوگ دھک سے رہ گئے۔ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ تیزی سے اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑاہوا اور انوتھی کے پاس جاکر گھٹنوں کے بل جھکا۔ اس نے انوتھی کی نبض ٹٹولی۔ اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور اسے ہلا جلا کر دیکھا۔ آخر سر اٹھاکر اس نے اپنے آس پاس کھڑے بالکل ساکت وجامد لوگوں کو دیکھا۔
’’میرے خدا!‘‘ ڈاکٹر نے سر گوشی کی۔ ’’یہ مر چکا ہے۔‘‘
’’کیا؟ ‘‘
’’مر چکا ہے؟‘‘
’’مر گیا؟‘‘
’’کیسے؟‘‘
انوتھی مارسٹن مرگیا۔۔۔ نہیں شاید انہوں نے غلط سنا ہے۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ صر ف پھندا لگنے سے ایک صحت مند خوب صورت انسان مر جائے۔۔۔ نہیں نہیں، ڈاکٹر کو ضرور غلط فہمی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر آرم اسٹورنگ اب انوتھی کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے نیچے جھک کر اس کے مڑے تڑے اور نیلے ہوتے ہونٹوں کو سونگھا۔ زمین پر گرا کپ اٹھا کر اسے بھی سونگھا اور بچی کچھی کافی میں انگلی ڈبو کر احتیاط سے اپنی زبان کو چھوا۔
’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک صحت مند آدمی صرف پھندا لگنے سے بھی مر سکتا ہے۔‘‘ جرنل میکر تھور نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر نے سر اٹھا کر اسے عجیب سے انداز سے دیکھا۔ ’’صحیح کہہ رہے ہو جرنل! کوئی صحت مند انسان صرف پھندا لگنے سے نہیں مرسکتا۔ انوتھی مارسٹن کی موت بھی قدرتی موت نہیں۔‘‘
’’اس کافی میں کچھ تھا؟‘‘ ویرانے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’ہاں!‘‘ ڈاکٹر کا سر اثبات میں ہلا۔ ’’ایک نہایت تیزی سے اثر کرنے والازہر۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ زمین سے اٹھا اور اس میز کی طرف بڑھا جس پر انوتھی نے کافی کی ٹرے لاکر رکھی تھی۔ اس نے کافی سے بھری کیتلی کا ڈھکن اور منہ سے قریب کر کے اسے سونگھا۔
’’وہ زہر صرف انوتھی کے کپ میں تھا،اس کیتلی میں نہیں۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ انوتھی نے خود اپنے کپ میں زہر ملایا؟‘‘ لمبور ڈ نے پوچھا۔
’’ہاں لگتا تو یہی ہے۔‘‘
’’خود کشی! حیرت ہے۔۔۔ انوتھی خود کشی کرنے والا انسان لگتا تو نہیں تھا۔‘‘ بلور نے آہستگی سے کہا۔ بلور کی بات سمجھنا ان کے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا۔ انوتھی مارسٹن زندگی سے بھر پور ایک ایسا جوان تھا جسے دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ غم کبھی اس کے نزدیک بھی بھٹکے ہوں گے۔
’’ہاں! لیکن کیا کسی اور کے پاس اس صورت حال کی کوئی وضاحت ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے تھکے ہوئے انداز میں پوچھا جواب میں خاموشی چھاگئی۔ ان سب نے خود دیکھا تھا کہ انوتھی نے اپنے ہاتھ سے کافی کپ میں نکالی تھی۔ سب ہی نے کیتلی میں موجود کافی پی تھی۔ لیکن وہ سب زندہ سلامت کھڑے تھے جب کہ انوتھی مارسٹن کا بے جان لاشہ زمین پر گرا ہوا تھا۔
*۔۔۔*
انوتھی مارسٹن کی لاش کو کمرے میں رکھنے کے بعد جرنل میکر تھور اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ کافی دیر سے سونے کی کوشش کررہا تھا لیکن جیسے ہی آنکھیں موند تا اس کے ذہن کے پردے پر آرتھر رچمنڈ کی تصویر ابھر آتی۔
’’افوہ!‘‘ آخر تنگ آکر جرنل بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا سر ہاتھوں میں گرالیا۔ وہ جتنا رچمنڈ کو اپنے ذہن سے نکالنے کی کو شش کرتا اتنا ہی رچمنڈ کا خیال اس پر حاوی ہوتا۔
’’آرتھر رچمنڈ!‘‘ جرنل بڑ بڑایا۔ ’’خدارا میرا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘
رچمنڈجرنل کا جوانی کا دوست تھا۔ دوست !! نہیں نہیں وہ میرا دوست نہیں تھا۔ جرنل نے تلخی سے سوچا۔ جہا ں وہ دونوں ساتھ ہوتے وہاں کوئی بھی رچمنڈ کے سوا کسی کو نہ دیکھتا۔ جرنل کی شخصیت ہمیشہ پس منظر میں چلی جاتی۔ جرنل کا دل بغض سے بھرتا جارہا تھا۔ رچمنڈ جب بھی کسی کو بتاتا کہ جرنل اس کا سب سے گہرا دوست ہے۔ تو جرنل طنز سے مسکرا دیتا۔ پہلی دفعہ جب رچمنڈ سے بر تری ملی تو جرنل کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔ اب رچمنڈ اس کا ما تحت تھااورجرنل اس کا افسر۔ اتنے سالوں کے انتظا ر کے بعد اسے رچمنڈ کو راستے سے ہٹا نے کا موقع مل گیا۔ اس نے بہت پلاننگ سے کام لیا۔ رچمنڈ کو ایسی جگہ بھیجا جہا ں سے کسی کا واپس آنا مشکل ہی تھا۔ جرنل کو آج تک یاد ہے کہ رچمنڈ نے اسے کس حیرانی سے دیکھا تھا جب میکر تھور نے اسے تبادلہ کا آرڈر سنایا لیکن وہ خاموش رہا اور پھر آرتھر رچمنڈ کے سب سے گہرے دوست نے ہی اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
*۔۔۔*
ویرا کلیتھورن اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ اس نے لائٹ بند نہیں کی تھی۔ اسے اندھیرے سے خوف آرہا تھا۔ سمندر کی لہروں کی کھڑکی سے صاف آواز آرہی تھی۔
سمندر۔۔۔ سمندر۔۔۔ سمندر۔۔۔ ایک ڈوبتا ابھرتا چھوٹا سا سر۔ اس گھر میں سائیرل کی آیا کے طور پر کام کرتے ہوئے اسے ۹ مہینے سے زیادہ نہیں ہوا تھا۔ اگر پیسوں کا مسئلہ نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی سائیرل کی ماں جیسی نک چڑھی عورت کے ساتھ کام نہ کر تی جس کا پسندیدہ مشغلہ ہی ڈانٹنا تھا۔
سائیرل جیسے بد تمیز اور شرارتی بچے کو سنبھالنا کوئی آسان کام تو نہ تھا۔ اس دن تو حد ہوگئی۔ اگر اس بد تمیز بچے کو بارش میں لاکھ منع کرنے کے باوجود نہانے کا شوق تھا تو اس میں ویرا کا کیا قصور اور پھر جب وہ بیمار پڑا تو اس کی ماں نے ویرا کوکتنا برا بھلا کہا تھا۔ اب بھلا ویرا جیسی انا پرست لڑکی یہ کیسے برداشت کر سکتی تھی۔ چند دن بعد پھر سائیرل کی ضد شروع ہوگئی۔ وہ سمندر میں دور تک تیرنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ ویرا نے بھی تنگ آکر اجازت دے دی۔ وہ اس کی ضدوں سے تنگ آگئی تھی۔ 
اچھا ہے۔۔۔ ایک دفعہ ڈوبتے ڈوبتے بچے تو خود عقل آجائی گی۔۔۔ وہ یہ سوچتی ہوئی سائیرل کو دور سمندر میں تیرتا دیکھ رہی تھی۔
لیکن پھر سائیرل واقعی ڈوب گیا۔ ویرا جب تک اس کے پاس پہنچی وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
نہیں مجھے یہ سب نہیں سوچنا چاہیے۔ ویرا نے اپناسر جھٹکا۔ جو ہوا۔ سو ہوا۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ ویرا بستر سے اتر کر ٹہلنے لگی۔ اچانک اس کی نظر آتش دان پر لگی فریم ہوئی نظم پر پڑی۔
’’دس نیگرو بچے گھر سے نکلے، کھانے چلے کھانا
ایک کے گلے میں کچھ پھنس گیا باقی رہ گئے نو۔‘‘
ویرا ایک دم کانپ اٹھی۔ واقعی! اس نے سوچا۔ ایسا ہی تو ہمارے ساتھ ہوا ہے آج۔
*۔۔۔*
نیچے کھانے کے کمرے میں راجر حیران وپریشان کھڑا میز پر رکھی چھوٹی چھوٹی کانچ کی گڑیوں کو گھوررہا تھا۔
ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔۔۔۔ نو‘‘ اس نے پھر سے ایک بار انہیں گنا۔ ’’شاید مجھے نیند بہت آرہی ہے۔‘‘ اس نے میز پر جھکتے ہوئے کہا۔ ’’ورنہ شام تک تو مجھے یقین ہے کہ یہ پوری دس تھیں۔‘‘ 
*۔۔۔*
ڈاکٹر آرم اسٹورنگ گہری نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔ راجر اس کے بستر کے برابر کھڑا اسے زور زور سے آوازیں دے رہا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ 
’’ڈاکٹر! میں اپنی بیوی کو کب سے اٹھانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن وہ اٹھ نہیں رہی۔‘‘ راجر نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو قابو میں کیا۔ مجھے وہ ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ آپ پلیز آکر اسے چیک کر لیں۔‘‘
ڈاکٹر نے پھرتی سے اپنا میڈیکل بکس اٹھایا اور راجر کی رہنمائی میں اس کے کمرے میں آیا۔ مسز راجر بستر پر چادر اوڑھے لیٹی تھی۔ ڈاکٹر جلدی سے اس کے قریب آیا اور اپنے میڈیکل بکس سے ادویہ نکالنے لگا۔یہ کام کرتے کرتے اس کی نظر مسز راجر کے چہرے پر پڑی تو وہ رُک گیا۔ مسز راجر کا چہرہ سفید اور بے رنگ تھا۔ زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔ ڈاکٹر نے گھبرا کر اس کی نبض دیکھی۔
’’کیا یہ۔۔۔ کیا یہ۔۔۔‘‘ راجر نے ہکلاتے ہوئے بولنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر آہستہ سے اسکی طرف مڑا: ’’ہاں یہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ وہ پورے کمرے کا تیزی سے جائزہ لے رہا تھا۔ ایک دو منٹ بعد اس نے پھر راجر کو مخاطب کیا۔ ’’کیا یہ بیمار تھی؟‘‘ اس نے پوچھا: ’’یا کسی ڈاکٹر کے زیر علاج؟‘‘
’’نہیں سر !یہ تو بیمار نہیں تھی نہ کسی ڈاکٹر سے علاج کر وا رہی تھی۔‘‘
’’دل کی مریضہ بھی نہیں تھی؟‘‘
’’نہیں سر!‘‘ 
’’اوہ!‘‘ ڈاکٹر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا۔ ’’نیند کی گولیاں لیتی تھی؟‘‘
’’نہیں سر کبھی نہیں۔‘‘ ڈاکٹر اب ڈریسنگ ٹیبل کی درازوں کو کھنگال رہا تھا۔ اس کے بعد وہ بستر کے برابر والی میز کی طرف بڑھا۔ کافی دیر کے بعد بھی اسے اپنی مطلوبہ چیز نہیں ملی۔
’’یہاں تو کوئی ایسی گولیاں یا دوا نہیں جسے زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے اس کی موت ہوجائے۔‘‘ اس نے مسز راجر کی طرف اشارہ کیا۔ ’’رات میں اس نے سب سے آخر ی چیز کیا کھائی یا پی تھی؟‘‘
’’جو دوا آپ نے دی تھی سر۔‘‘ راجر نے ہچکچا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
*۔۔۔*
لمبورڈ اور بلور ساحل پر کھڑے سمندر کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’کشتی اب تک نہیں آئی۔‘‘ بلور نے بے چینی سے کہا۔
’’ہاں! شاید آنے والی ہو۔‘‘ لمبورڈ نے سر ہلایا۔ ’’موسم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ 
’’مطلع صاف ہے سمندر پر سکون ہے۔ ہوا بھی زیادہ تیز نہیں۔ میرے خیال میں تو موسم بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔‘‘ بلور نے چاروں طرف دیکھا۔
’’چلو! اندر چلتے ہیں۔ راجر نے ناشتہ تیار کرلیا ہوگا۔‘‘
لمبورڈ نے بنگلے کی طرف قدم اٹھائے۔
’’کیپٹن! میں ساری رات سو نہیں سکا۔ یہ بات مجھے بار بار پر یشان کر رہی ہے۔ انوتھی مارسٹن کوئی ذہنی مریض تو نہیں لگتا تھا۔ پھر اس نے خودکشی کیوں کی؟‘‘
’’تمہارے پاس کوئی متبادل حل ہے، اس کی موت کا؟‘‘ لمبورڈ نے الٹا سوال کردیا۔
’’نہیں۔ یہی تو سمجھ نہی آرہا ہے۔‘‘ بلور نے کندھے اُچکائے۔۔۔ جیسے ہی وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے مس ایملی برنٹ نے ان سے سوال کیا۔
’’کیا کشتی آرہی ہے؟‘‘
’’نہیں ابھی تک تو کوئی آثا ر نہیں ہیں۔‘‘ بلور نے ناشتہ کے میز پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
راجر ناشتہ کاسامان اٹھائے کمرے میں داخل ہوا تو ویرا اسے دیکھ کر چونک گئی۔
’’کیا ہوا راجر؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس نے راجر کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
’’او۔۔۔ میرے خیال میں یہ بہتر ہے کہ ہم پہلے ناشتہ کرلیں۔ پھر اس موضوع پر بات کریں گے۔‘‘ ڈاکٹر نے ان سب کو مخاطب کیا۔
’’مسز راجر کہاں ہیں؟‘‘ ویرا نے پھر سوال کیا۔
’’میں نے کہا نا۔ پہلے ناشتہ کرلیں۔ پھر کچھ بات کریں گے۔‘‘ ڈاکٹر نے حتمی انداز میں کہا اور اپنے سلائس پر مکھن لگانے لگا۔
’’ایک بری خبر ہے۔‘‘ آدھے گھنٹے بعد جب وہ سب ناشتہ کر چکے تو ڈاکٹرنے سنجیدگی سے انھیں بتایا۔ ’’مسز راجر کا سو تے میں انتقال ہو گیا ہے۔‘‘
’’اف میرے خدا۔‘‘ ویرا کی آواز پھٹ گئی۔
’’کل شام سے اب تک دو اموات۔۔۔ یہاں کیا ہورہا ہے آخر۔۔۔‘‘ بلور حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔
’’عجیب بات ہے۔ خیر موت کی وجہ کیا تھی؟’’ جج وار گریونے دریافت کیا۔
’’بغیر پوسٹ مارٹم کے کوئی وجہ یقینی طور پر بتانا ناممکن ہے۔‘‘
’’اس عورت نے کل رات اوپر جانے کے بعد کیا کھایا تھا؟‘‘ بلور کی تفتیش پھر سے شروع ہوگئی۔
’’راجر نے بتایا ہے کہ کچھ بھی نہیں۔‘‘
راجر نے تو ظاہر ہے یہی کہنا ہے۔‘‘ بلور نے طنز یہ انداز میں کہا۔
’’تمہارے خیال میں مسز راجر کو اس کے شوہر نے مارا ہے؟‘‘ لمبورڈ نے بلور کی طرف دیکھا۔
’’ہاں! اور ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔ یاد ہے کہ کل رات کیا انکشاف ہوا ہے۔ راجر اور اس کی بیوی نے کسی بوڑھی عورت کو مارا ہے، ہوسکتا ہے یہ سچ ہو۔ راجر کو ڈر ہوکہ اس کی بیوی یہ راز نہ کھول دے۔ اس کو خطرہ محسوس ہو ا تو اس نے چائے، کافی یا پانی میں اسے کچھ گھول کر پلادیا اور ہمیشہ کے لیے اس کا منہ بند کردیا۔‘‘
’’کوئی آدمی اتنا نہیں گر سکتا۔‘‘ جرنل میکر تھور نے پہلی دفعہ گفتگو میں حصہ لیا۔
بلور طنز یہ انداز میں مسکرایا اور جرنل کی طرف دیکھا۔ ’’محترم آپ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ جب انسان کی گردن خطرے میں ہو تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔‘‘
خاموشی چھاگئی۔ تھوڑی دیر تک کوئی کچھ نہ بولا۔ پھر جج وار گریو نے راجر کو آواز دے کر کمرے میں آنے کو کہا۔ ’’جی سر؟‘‘ وہ فوراََ آگیا۔
’’کشتی عام طور پر کتنے بجے تک آجاتی ہے؟‘‘
’’ساڑھے سات۔۔۔ آٹھ بجے تک سر۔‘‘ 
’’ابھی کیا ٹائم ہورہا ہے؟‘‘ لمبورڈ نے چونک کر کہا۔
’’کافی دیر ہوگئی ہے۔ دس بج گئے ہیں۔‘‘
’’اوہ!‘‘ لمبورڈ کی بھنویں اوپر کی طرف اٹھی۔ ’’کشتی کو دو گھنٹے پہلے تک آجانا چاہیے تھا۔ اب تک کیوں نہیں آئی؟‘‘ 
’’طے شدہ پلان!‘‘ بلور آہستگی سے بولا۔
’’کیا کشتی نہیں آئی گی؟‘‘ ویرا گھبر ااٹھی۔
’’ہاں! کشتی نہیں آئے گی۔‘‘ جرنل میکر تھور نے عجیب سی بھاری آواز میں کہا: ’’تم سب ابھی تک نہیں سمجھے؟
کشتی کو نہ آنا تھا، نہ آئے گی۔ ہم اس جزیرے پر قید ہیں۔ اس پورے چکر کا مقصد ہی یہی ہے۔ اس جزیرے سے کوئی واپس نہ جاسکے گا اور سب یہیں ختم ہوجائیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر جرنل تیزی سے اٹھا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔ وہ سب کھڑکی سے اسے ساحل کی طرف جاتا دیکھ رہے تھے۔ جرنل ایسے چل رہا تھا جیسے نیند میں ہو۔
’’لو! ان کے دماغ نے تو کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔‘‘ بلور نے جھنجھلا کر کہا۔ ’’اس طرح تو ہم سب ایک ایک کر کے پاگل ہوجائیں گے۔‘‘
*۔۔۔*
ڈاکٹر آرم اسٹورنگ باہر ٹیرس میں ٹہل رہا تھا۔
’’پلیز سر! کیا آپ تھوڑ ی دیر کے لیے میری بات سن سکتے ہیں؟‘‘ اس کے پیچھے سے گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔
’’کیا ہو گیا راجر؟‘‘ ڈاکٹر اسے دیکھ کر بری طرح چونک گیا۔ راجر کے ہاتھ اس بری طرح کانپ رہے تھے کہ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا اسے رعشہ ہوگیا ہے۔ چہرے کا رنگ خطرناک حد تک برا ہورہا تھا۔
’’سر! تھوڑی دیر کے لیے اندر آئیے گا۔‘‘ ڈاکٹر حیران وپریشان اس کے پیچھے پیچھے چلتا کھانے کے کمرے میں داخل ہوا۔ راجر کی کنپٹی کی رگ زور زور سے ہل رہی تھی۔ اس نے تھوک نگل کر کہا: ’’سر یہاں کچھ ایسی چیزیں ہورہی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔‘‘
’’چیزیں! کیسی چیزیں؟‘‘
’’سر آپ کہہ سکتے ہیں، میں پاگل ہو گیا ہوں لیکن میری سمجھ سے یہ باہر ہے۔‘‘ وہ پھر رک گیا۔
’’وہ چھوٹی چھوٹی کانچ کی گڑیا ئیں جو میز کے بیچ میں رکھی تھیں یا دہیں آپ کو۔۔۔ سر کل شام تک وہ کل دس تھیں۔‘‘
’’ہاں! ہم سب نے گنیں تھیں۔ وہ دس تھیں۔‘‘ ڈاکٹر نے سر اثبات میں ہلادیا۔
’’جی۔۔۔ جی سر۔۔۔ کل رات آپ سب کے اوپر جانے کے بعد میں نے صفائی کی تو دیکھا وہ نو ہیں۔ میں سمجھا کہ آپ میں سے کسی نے ایک غلطی سے اٹھا کر کہیں اور کھ دی ہے لیکن آج صبح۔۔۔‘‘ راجر نے تھوک نگلا: ’’آج صبح بر تن سمیٹتے ہوئے میں نے دیکھا تو وہ صرف آٹھ رہ گئی ہیں۔۔۔ صرف آٹھ!!‘‘
*۔۔۔*
مس ایملی برنٹ اور ویرا کلیتھرون ساحل پر ٹہلتے ہوئے ٹھنڈی اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں۔ سمندر پر سکون تھا۔ دور دور تک کسی بھی چھوٹی یا بڑی کشتی کا نام ونشان نہ تھا۔ جزیرے کے ساحل سے دوسری طرف واقع قصبہ بھی نظر نہیں آتا تھا۔
’’جو آدمی کل ہمیں یہاں چھوڑ کر گیا تھا، لگتا تو ذمہ دار تھا۔ لیکن آج وہ ابھی تک نہیں آیا۔‘‘ مس برنٹ سمندر کی طرف دیکھتے ہوئیں بولیں۔ ایک دو لمحوں تک ویرا خاموش رہی وہ صبح سے اپنی بے چینی کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’خدا کرے وہ جلد سے جلد آجائے۔ میں فوراً اس جزیرے سے دور جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’ہم سب ہی یہ چاہتے ہیں۔‘‘ مس برنٹ نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
’’مس برنٹ۔۔۔ آپ کا خیال ہے کہ واقعی راجر اور اس کی بیوی نے اپنی بوڑھی مالکن کو قتل کیا ہے؟‘‘
’’ہاں! مجھے پکا یقین ہے۔ کل رات جب راجر اور اس کی بیوی نے اپنا نام ٹیپ میں سنا تھا تو یاد ہے ان کا کیا ردعمل تھا۔ راجر کے ہاتھ سے ٹرے گرگئی تھی اور مسز راجر بے ہوش ہوگئی تھی۔ یہ رد عمل تو کسی مجرم کا ہی ہوسکتا ہے نا۔‘‘ مس برنٹ پر یقین لہجے میں بولی۔
’’اور باقی سب۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ باقی لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ ویرا نے مدھم لہجے میں پوچھا۔
’’ہوں!‘‘ مس برنٹ نے بھنویں اُچکائیں۔ ’’کیپٹن لمبورڈ نے تو اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ لیکن کچھ الزامات توبہت دور کی کڑی لگتے ہیں۔ جیسے میرے نزدیک جج وار گریو اور انسپکٹر بلور پر عائد الزام کوئی حقیقی نہیں۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا قانون پر عمل کرتے ہوئے کیا۔‘‘
’’مس برنٹ! آپ اپنے بارے میں کچھ نہیں کہیں گی؟‘‘ ویرا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’دیکھو بھئی! میں ہر کام سوچ سمجھ کر کر تی ہوں۔ میرے ضمیر میں کوئی خلش نہیں۔ بیکڑائس ٹیلر میرے گھر میں ملازمہ تھی۔ اس کے ماں باپ شریف لوگ تھے یہی دیکھ کر میں نے اسے کام پر رکھ لیا۔ اپنے اچھے عادات واطوار کی وجہ سے اس نے مجھے قائل کر لیا کہ وہ ایک اچھی لڑکی ہے لیکن یہ سب دھو کہ اور کھلی منافقت تھی۔ اس کے آنے کے ایک دو مہینے بعد میرے گھر سے چیزیں غائب ہونا شروع ہوگئیں۔ آخر میں نے چور کا سراغ لگا ہی لیا۔ وہ بیکڑائس تھی۔ مجھے بری طرح دھچکا لگا۔ وہ بہت چیخی چلائی اور معصوم بننے کی کوشش کی لیکن میں اسے اپنے گھر میں ایک منٹ اور برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے اسے نکال باہر کیا۔‘‘ ویرا ہلکا سا منہ کھولے مس برنٹ کی بات سن رہی تھی۔
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’پھر کیا ہونا تھا۔ اس بے وقوف لڑکی نے بجائے اپنی شخصیت کو صحیح کرنے کے، ندی میں کود کر اپنی جان لے لی۔‘‘ مس برنٹ نے بے پرواہی سے کہا۔
’’کیا!‘‘ ویرا اچھل پڑی۔ ’’لیکن کیا آپ کو کبھی پچھتا وا نہیں ہوا۔ آپ کی سختی کی وجہ سے ایک لڑکی کی جان چلی گئی۔‘‘
’’مجھے؟‘‘ مس برنٹ نے غصیلی آواز میں گردن اکڑا کرکہا۔ ’’میں کیو ں پچھتاؤں گی۔ اس احمق لڑکی نے اگر غلط کام کیے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میرا ضمیر میرے اس عمل سے بالکل مطمئن ہے۔‘‘
*۔۔۔*
ڈاکٹر آرم اسٹورنگ، راجر کو تسلی دے کر پھر ٹیرس میں آگیا۔ جہاں ایک طرف جج وار گریو کرسی پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا اور دوسری طرف لمبورڈ اور بلور کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ڈاکٹر کچھ سوچ کر لمبورڈ کی طرف بڑھا۔
’’لمبورڈ! تم تھوڑ ی دیر کے لیے میری بات سن سکتے ہو؟‘‘
لمبورڈ چونک گیا۔ ’’ضرور‘‘ اور وہ دونوں ٹیرس سے نکل کر ساحل کی طرف بڑھ گئے۔
’’مجھے تمہارا مشورہ چاہیے۔ مسز راجر کی موت کا جو حل بلور نے پیش کیا ہے تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ ڈاکٹر نے اپنے برابر چلتے ہوئے لمبورڈ سے پوچھا۔
’’جیسا بلور کہہ رہا ہے ایسا ممکن تو ہے۔‘‘ لمبورڈ نے سر اثبات میں ہلایا۔ ’’ویسے ڈاکٹر تمہاری پیشہ ورانہ رائے میں راجر اور اس کی بیوی نے اپنی مالکن کو کیسے مارا ہوگا؟ زہر دے کر؟‘‘
’’نہیں اگر ان دونوں نے اپنی بوڑھی مالکن کو مارا ہے تو قتل کرنے کا ایک اور آسان طریقہ تھا۔ ان کے پاس مس بریڈی، ایک اس طرح کے دل کے مرض میں مبتلا تھیں جس میں دورہ پڑ تا ہے تو ایک مخصوص دوا دینا لازمی ہوتا ہے اور اگر وہ دوا نہ دی جائے تو مریض کی جان چلی جاتی ہے۔ میں نے راجر سے مس بریڈی کی بیماری کی تفصیل آج صبح ہی معلوم کی ہے۔ اس کو مارنے کے لیے صرف یہ کرنا ہوگا کہ اسے دوا نہ دی جائے اور کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔‘‘
’’اور اگر کسی کو پتہ بھی چل جائے تو وہ یہ جرم ثابت نہیں کر سکتا ہے نا؟‘‘ لمبورڈ نے سوچتے ہوئے کہا۔ اگلے ہی لمحہ وہ چونکا: ’’ارے! نیگر آئی لینڈ، راجر، جج وار گریو، بلور، ارے۔۔۔ ارے۔۔۔ یہ بات تو صاف ظاہر ہے۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہو۔ کیا بات صاف ظاہر ہے؟‘‘ ڈاکٹر لمبورڈ کے قریب جھکا۔
’’میرا مطلب ہے۔۔۔ دیکھو ڈاکٹر! کچھ ایسے جرم بھی ہوتے ہیں جن کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے یہ راجر کا کیس یا جج وارگریو کا کیس جس نے قتل سختی سے قانون کی حد میں رہ کر کیا یا بلور جس کے مقتول کو کوئی بھی معصوم نہیں سمجھ سکتا۔ ایسے جرائم جنھیں عدالت صحیح ثابت نہیں کر سکتی ہے۔۔۔ نا ہی ان پر سزا دے سکتی ہے اور نیگر آئی لینڈ میں ایسے ہی مجرم جمع ہیں۔‘‘ لمبورڈ تیز تیز بول رہا تھا۔
’ہسپتال میں قتل۔۔۔ آپریشن ٹیبل پر قتل۔۔۔ اسے بھی کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔۔۔‘ ڈاکٹر کے ذہن میں خیال ابھرا۔
’’چلو یہ بات تو پتا چل گئی کہ یہاں کون لوگ جمع ہیں۔ اب ہمیں یہاں جمع کر کے کیا کیا جائے گا؟ تمہار ا کیا خیال ہے ڈاکٹر؟‘‘ لمبورڈ اسی طرح تیز تیز بول رہا تھا۔
’’ابھی اسے چھوڑو۔‘‘ ڈاکٹر نے فوراً موضوع تبدیل کردیا۔ ’’مسز راجر کی موت پر واپس آؤ۔ تمہارا اپناکیا خیال ہے۔ اس نے خودکشی کی ہے یا راجر نے اسے مارا ہے؟‘‘
’’میرا جواب خودکشی کے حق میں ہوتا اگر کچھ ہی گھنٹوں پہلے انوتھی مارسٹن کی موت نا ہوئی ہوتی۔۔۔‘‘ لمبورڈ آہستگی سے بولا: ’’بارہ گھنٹوں میں دو دو خودکشیاں۔۔۔ یہ بات ہضم کرنا تھوڑا مشکل ہے۔‘‘ وہ رکا ۔ ’’اور ویسے بھی انوتھی مارسٹن جس طرح کا خطرناک زہر پی کر مرا ہے، میرا نہیں خیال کہ عام طور پر لوگ اسے اپنے کوٹ کی جیب میں لے کر گھومتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلا یا: ’’صحیح کہہ رہے ہو۔ کوئی بھی عقل وشعور والا شخص وہ زہر اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ لیکن خودکشی کے علاوہ انوتھی کی موت کا کوئی اور حل کیا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’وہی جو تم سوچ رہے ہو۔‘‘ لمبورڈ نے ہلکا سامسکرا کر ڈاکٹر کو دیکھا۔ ’’انوتھی مارسٹن کو قتل کیا گیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے سکون کا سانس لیا۔ ’’شکر خدا کا کہ صرف میں ہی یہ نہیں سوچ رہا۔ میں مارسٹن کی خودکشی پر مشکل سے یقین کر ہی لیتا آگر آج صبح مسز راجر کی موت نہ ہوئی ہوتی یا میں اس بات پر یقین کر لیتا کہ مسز راجر نے ڈر کر خودکشی کر لی ہے اگر کل رات مارسٹن نہ مرا ہوتا۔‘‘ یہ کہہ کر ڈاکٹر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوا پھر لمبورڈ کو کھانے کی میز پر رکھی کانچ کی گڑیوں کے غائب ہونے کا بتایا۔ لمبورڈ یہ سن کر چونکا پھر ایک دم سے گنگنایا۔
’’دس نیگرو بچے گھر سے نکلے، کھانے چلے کھانا۔
ایک کے گلے میں کچھ پھنس گیا باقی رہ گئے نو
نو نیگرو بچے رات کو دیر تک جاگے 
ایک بچہ سوتا رہ گیا باقی رہ گئے آٹھ۔‘‘
لمبورڈ اورڈاکٹر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
’’یہ سب اتنا زیادہ فٹ ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔‘‘ لمبورڈ نے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’مارسٹن پھندا لگنے سے مرگیا۔ مسز راجر آج صبح سوتی رہ گیءں۔ اس سے یہ بات ثا بت ہوگئی ہے کہ یہاں اس جزیرے پر ہم دس لوگوں کے علاوہ کوئی گیارہواں پاگل بھی گھوم رہا ہے۔
’’لیکن راجر نے قسم کھا کر کہا ہے کہ یہاں کوئی اور نہیں۔‘‘
’’راجر کو غلط فہمی ہوئی ہوگی اور پھر یہ بھی تو دیکھو آج کشتی بھی نہیں آئی۔ نیگر آئی لینڈ کے اس پاگل اور خطر ناک مسٹر اوین نے یہ انتظام کرالیا ہے کہ جزیرے کا قصبہ سے بالکل رابطہ ختم ہوجائے تاکہ وہ اطمینان سے ہم سب کو مار سکے۔‘‘ لمبورڈ کی آواز اونچی ہوگئی۔
’’اُف میرے خدا۔‘‘ ڈاکٹر کا چہرہ سفید پڑگیا۔
’’لیکن ہم بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے۔ چلو آؤ۔ بلور کو لے کر اس جزیرے کی تلاشی لیتے ہیں اور اس مسٹر یو۔ این۔ اوین کو ڈھونڈ کر اس کی ساری چالاکی نکالتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر لمبورڈ تیز تیز قدم اٹھاتا بنگلے کی طرف بڑھ گیا۔
*۔۔۔*
بلور کو جیسے ہی ساری صورت حال بتائی وہ بھی تیار ہوگیا۔ جزیرے کی تلاشی لینے کو۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد ہی جزیرے کا دورہ شروع کردیا۔ جزیرے پر درخت زیادہ نہ تھے اور ہر طرف ہی پتھروں یا ریت کے چھوٹے موٹے ٹیلے موجود تھے۔ وہ تینوں ہر جگہ کی بغور تلاشی لیتے ہوئے اس طرف آپہنچے، جہاں جرنل میکر تھور خاموش بیٹھا سمندر میں دور کہیں دیکھ رہا تھا۔ اس نے ان لوگو ں کے آنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بلور نے گلا کھنکھارا اور جرنل کو متوجہ کرنے کے لیے بولا۔
’’ہیلو جرنل! یہ جگہ تو بڑی خوب صورت ہے۔‘‘
جرنل نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ اس کی تیوریوں پر بل پڑگئے۔
’’بہت کم وقت باقی ہے۔۔۔ بہت کم وقت۔۔۔ برائے مہربانی مجھے اس وقت بالکل پریشان نہ کیا جائے۔‘‘
’’سوری سر!‘‘ بلور ایک لمحے کے لیے گڑ بڑا گیا۔ ’’ہم لوگ بس اس جگہ کی تلاشی لے رہے ہیں۔‘‘ 
جرنل کی تیوریوں کے بل اور گہرے ہوگئے۔ وہ بولا: ’’تم نہیں سمجھتے۔۔۔ تم نہیں سمجھتے۔۔۔‘‘
پورے جزیرے کا کونا کونا چھان مارنے کے باوجود انہیں کہیں کوئی نہیں ملا۔ ساحل کے بالکل کنارے ابھری ایک اونچی پہاڑی کو بھی لمبورڈ نے چڑھ کر دیکھ لیا تھا۔
’’یہاں کچھ بھی نہیں۔‘‘ پہاڑی سے اتر کر لمبورڈ نے اپنی سانس بحا ل کر تے ہوئے کہا: ’’اب بنگلے کی تلاشی لے لیتے ہیں۔‘‘
نیگر آئی لینڈ پر بنا یہ بنگلہ جدید طرز کا تھا۔ اس میں کوئی خفیہ کمرے یا راہداریاں نہیں تھیں۔ اس لیے اس کی تلاشی لینے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔
’’یہ سیڑھیاں کہا ں جاتی ہیں؟ وہ لوگ نیچے سے اوپر آنے والی سیڑھیوں کے پاس کھڑے تھے جس کی دوسری طرف ایک نسبتاً چھوٹی سیڑھی تھی۔
’’اس سے نوکروں کے کمرے میں جاتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’اچھا! ہم نے پورا جزیرہ چھان مارا۔۔۔ یہ گھر دیکھ۔۔۔‘‘ لمبورڈ بولتے بولتے ایک دم خاموش ہوگیا اور دھیان سے سننے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ بلور نے آہستہ آواز میں پوچھا۔ لمبورڈ نے جواباً ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ اُوپر کی طرف کوئی بہت آرام سے چل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی قدموں کی آواز آرہی تھی۔
’’وہ اوپر کے کمرے میں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے بلور کا بازو زور سے پکڑلیا۔ ’’اس کمرے میں جہاں مسز راجر کی لاش ہے۔ بہترین چھپنے کی جگہ! کوئی بھی اس کمرے میں نہیں جائے گا۔‘‘ بلور نے بھی سر گوشی میں جواب دیا۔
’’چلو آؤ! بالکل خاموشی سے۔‘‘ لمبورڈ دبے پاؤں سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہی کمرے کا دروازہ بالکل سامنے تھا۔ وہاں واقعی کوئی موجود تھا۔ قدموں کی آواز واضح تھی۔
’’ایک۔ دو۔ تین‘‘ بلور نے سر گوشی کی اور دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے ہی وہ دونوں بھی کمرے میں گھس گئے لیکن سامنے موجود شخص کو دیکھ کر جس تیزی سے وہ لوگ آئے تھے اسی تیزی سے رک گئے۔
راجر کمرے میں بنی الماری کے سامنے کھڑا کپڑے ہاتھوں میں لیے حیرانی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
لمبورڈ نے سب سے پہلے اپنے حوا س بحال کیے: ’’سوری۔۔۔ را۔۔۔ راجر ہمیں کسی کے چلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔ اوپر‘‘
’’سر! آپ لو گوں کی پریشانی کے لیے معافی چاہتا ہوں لیکن میں اپنی چیزیں لے کر سب سے نیچے والے کمرے میں شفٹ ہورہا ہوں کیوں کہ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بستر پر رکھی ہوئی مسز راجر کی لاش کو دیکھا۔
’’ہاں۔۔۔ ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔!‘‘ ڈاکٹر نے ہمدردانہ انداز میں کہا۔
’’شکریہ سر!‘‘ یہ کہتے ہوئے راجر نے اپنے کپڑے اٹھائے اور نیچے چلاگیا۔
’’حد ہوتی ہے۔‘‘ بلور نے راجر کے نکلتے ہی جھنجھلا کر کہا: ’’کہیں کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
وہ تینوں مسز راجر کے بے جان لاشے کے پاس کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ایک بات کا ان سب کو پورا یقین ہوگیا تھا۔ نیگر آئی لینڈ پر ۸ زندہ اور ۲ مرے ہوئے لوگوں کے علاوہ کوئی بھی موجود نہ تھا۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔
*۔۔۔*
’’تو ہم غلط نکلے۔۔۔ اگر دو لوگ اتفاق سے یہاں آکر مر بھی گئے تو ہم ان کی موت کے نجانے کیا کیا نتائج نکال لیتے ہیں۔‘‘ لمبورڈ بری طرح جھنجھلا گیا تھا۔
’’دیکھو کیپٹن! میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ انوتھی مارسٹن خودکشی نہیں کر سکتا۔ اس بات کا مجھے یقین ہے کہ یہ سب اتفاق نہیں۔‘‘ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’کیا حادثاتی طور پر ایسا نہیں ہوسکتا؟‘‘
’’انوتھی مارسٹن کا تو معلوم نہیں لیکن مسز راجر کے کیس میں حادثہ کے امکانات ہیں۔‘‘ بلور ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کیسے؟‘‘
’’دیکھو ڈاکٹر!‘‘ بلور کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوگیا۔ ’’تم نے مسز راجر کو نیند کی کوئی دوا دی تھی نا۔‘‘
’’ہاں دی تھی۔ تو؟‘‘ ڈاکٹر نے حیرانی سے جواب دیا۔
’’تو۔۔۔‘‘ بلور تھوڑا ہچکچایا۔ ’’تو ہوسکتا ہے تم نے وہ دوا زیادہ مقدار میں دے دی ہو۔‘‘
’’میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔‘‘ ڈاکٹر غصے کے مارے کانپ گیا۔ ’’یا تمہارے خیال میں، میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا۔‘‘
لمبورڈ جلدی سے آگے بڑھا۔ ’’تم دونوں ایسے حالات میں ایک دوسرے کے اوپر الزام لگانے سے گریز کرو۔۔۔‘‘
’’میں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ ڈاکٹر سے غلطی ہوسکتی ہے۔‘‘ لمبورڈ کی بات کاٹ کر بلور تیز لہجے میں بولا۔
’’ڈاکٹر ایسی غلطیاں برداشت نہیں کرسکتے مسٹر بلور!‘‘ ڈاکٹر نے چبا چبا کر کہا۔
’’خیر اگر تم سے غلطی ہوئی بھی ہے تو تم نے ایسا پہلی بار نہیں کیا ہوگا۔ اس کیسٹ کے مطابق ایسی ہی حرکت تم پہلے بھی کرچکے ہو۔‘‘ بلور نے بلند آواز میں جواب دیا جسے سن کر آرم اسٹورنگ کا چہرہ سفید پڑگیا۔
’’خدا کے واسطے بلور۔‘‘ لمبورڈ نے غصے سے مداخلت کی۔ ’’فضول باتیں کرنا بند کرو۔ اس وقت ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں تو ایسے غصہ دلانے والی باتیں نہ کرو۔‘‘
بلور اس تیزی سے لمبورڈ کی طرف بڑھا کہ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
’’ہاں! ہاں کیپٹن تم صحیح کہہ رہے ہو لیکن تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے، مجھے تمہارے اوپر بھی بالکل اعتبار نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے جھپٹ کر لمبورڈ کے کوٹ کی اندر ونی جیب سے ایک پسٹل برآمد کرلی۔
’’یہ۔۔۔ یہ کیا ہے؟‘‘ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ بھی چونک کر آگے بڑھا۔
لمبورڈ ایک دم زور سے ہنس پڑا: ’’تمہیں پتہ ہے بلور۔۔۔ جتنے بیوقوف تم لگتے ہو اتنے اصل میں ہو نہیں۔‘‘
’’اس کی وضاحت کرو؟‘‘ بلور نے غرا کر پسٹل لہرائی۔ 
’’شاید اب اصل بات بتانے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ لمبورڈ دوبارہ سنجیدہ ہوگیا۔ ’’تو سنو! کچھ دنوں پہلے ایک ایجنٹ مورس نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اس کو کام کے لیے مسٹر اوین نے کہا تھا۔ مسٹر اوین نے مجھے یہ پیغام بھجوانا تھا کہ اس جزیرے پر کوئی گڑبڑ ہونے والی ہے۔ مجھے یہاں آکر اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہیں اور ہر چیز کے لیے ہوشیار رہنا ہوگا۔ مجھے پسٹل لانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔ یہاں آکر مجھے مزید ہدایت ملنی تھیں۔ اس سب کے بدلے میں مجھے کافی معقول رقم دی گئی تھی۔‘‘
’’تو تم نے یہ سب ہمیں کل رات ہی کیوں نہیں بتایا تھا۔‘‘ بلور نے ناسمجھنے والے انداز میں کہا۔
’’بلور عقل سے کام لو۔ مجھے یہاں کی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ کل رات جو کچھ ہوا۔ اس کے بارے میں مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ معاملہ نہیں ہے۔‘‘
’’تو تم اب یہ سب کیوں بتارہے ہو؟‘‘ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ نے اسے غور سے دیکھا۔ 
’’کیونکہ اب حالات بدل گئے ہیں۔‘‘ لمبورڈ کا چہرہ سیاہ پڑگیا۔ ’’ایک شکاری نے اس جزیرے کی شکل میں اپنا حال بچھایا ہے اور ہم سب اس کے شکار ہیں۔ بے خبری میں اس کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ انوتھی مارسٹن اور مسز راجر کی موت۔۔۔ کھانے کی میز پر سے ان مورتیوں کا غائب ہونا۔ ان سب میں اسی شاطر شکاری مسٹر اوین کا ہاتھ ہے لیکن آخر وہ ہے کہاں؟‘‘
*۔۔۔*
سمندری ہوا بہت زور زور سے چل رہی تھی۔ سب ایک ایک کرکے کھانے کے کمرے میں جمع ہورہے تھے۔ راجر میز پر کھانا لگا چکا تھا۔
’’طوفان آنے والا ہے شاید۔‘‘ ڈاکٹر نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔
’’جرنل میکر تھور ساحل کے کنارے بیٹھے ہیں۔ انھیں کھانے کا پتہ نہیں چلا ہوگا۔‘‘ ویرا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’میں بلا کر آتا ہوں انھیں۔‘‘ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا۔ باقی پانچوں میز کے گرد بیٹھے کھانا نکالنے لگے۔ راجر ایک طرف مودب انداز میں کھڑا ہوگیا۔
اچانک وہ چونک کر دروازے کی طرف مڑا۔ باقی پانچوں بھی ساکت ہوگئے۔ کوئی بھاگ کر بنگلے کی طرف آرہا تھا۔ کھڑکی سے بھاگتے قدموں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ دو لمحوں کے بعد ہی ڈاکٹر ہانپتا ہوا دروازے پر نمودار ہوا۔ اسے دیکھتے ہی وہ لوگ باجماعت کھڑے ہوگئے۔
’’جرنل میکر تھور۔۔۔ جرنل میکر تھور۔۔۔‘‘ اس نے بولنے کی کوشش کی۔
’’مرگیا؟‘‘ ویرا کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’ہاں۔۔۔ اُف میرے خدا! ہاں میکر تھور سمندر کے کنارے مردہ پڑا ہے۔‘‘ اس نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے بات مکمل کی۔ سناٹا چھاگیا۔ سات لوگ کوشش کے باوجود کچھ کہنے سے قاصر تھے۔
*۔۔۔*
جیسے ہی جرنل میکر تھور کی لاش کو اٹھائے بلور اور ڈاکٹر آرم اسٹورنگ نے مرکزی دروازے کی دہلیز پار کی، طوفان نے زور پکڑلیا۔ بارش زوروشور کے ساتھ برسنے لگی۔ وہ سب خاموشی سے ان دونوں کو اوپر جرنل کے کمرے کی طرف جانے کے لیے سیڑھیاں دیکھ رہے تھے۔ ویرا بھی ایک طرف خاموش کھڑی تھی۔ اچانک وہ مڑی اور کھانے کے کمرے میں داخل ہوگئی۔ سب کچھ ویسے ہی رکھا تھا جیسا وہ لوگ چھوڑ کر گئے تھے۔ ویرا کسی چیز پر بھی توجہ دیئے بغیر کھانے کی میز کی طرف بڑھی۔ اسی لمحے راجر اندر داخل ہوا لیکن ویرا کو دیکھ کر چونک گیا۔
’’سوری مس۔۔۔ میں صرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ۔۔۔‘‘ 
ویرا اس کی بات کو کاٹ کر عجیب سی آواز میں بولی: ’’ہاں راجر! تم خود دیکھ لو۔۔۔ یہاں اب صرف سات گڑیاں موجود ہیں۔‘‘
*۔۔۔*
ڈاکٹر نے آخری بار جرنل میکر تھور کا چیک اپ کیا۔ اس کے بعد اس کے منہ پر چادر ڈال کر کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر آگیا۔ نیچے سب ڈرائنگ روم میں جمع تھے۔
’’تو ڈاکٹر؟‘‘ اس کے اندر داخل ہوتے ہی جج وار گریو نے اس کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھا۔
’’ہارٹ اٹیک کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جرنل کے سر کے پیچھے کی طرف کوئی بھاری چیز ماری گئی تھی۔ جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔‘‘ ڈاکٹر کا چہرہ سفید ہورہا تھا۔ 
’’تمہیں یقین ہے؟‘‘
’’جی۔۔۔‘‘
جج وار گریو نے کچھ سوچتے ہوئے گردن ہلائی۔ کمرے میں خاموشی چھاگئی جسے کچھ ہی لمحوں بعد جج نے خود ہی توڑی۔
’’تو پھر خواتین وحضرات۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس پوری صورتحال کو اچھی طرح سمجھا جائے۔‘‘ وہ اونچی اور صاف آواز میں سب سے مخاطب ہوا۔
’’میں آج صبح سے ٹیرس میں بیٹھا ہوا تھا اور کافی دیر تک تم تینوں کی نقل وحرکت پر غور کرتا رہا۔‘‘ اس نے لمبورڈ، بلور اور ڈاکٹر کی سمت دیکھا۔ ’’تھوڑے غور وفکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ تم لوگ جزیرے پر اس انجانے قاتل کو تلاش کر رہے ہو؟‘‘
’’آپ نے صحیح اندازہ لگایا سر۔‘‘ لمبورڈ نے جواب دیا۔
’’تو کیا تم لوگوں نے اس کا حل نکالا کہ مسٹر اوین ہمارے انجانے قاتل نے ہمیں کیوں اس جگہ جمع کیا ہے۔‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘ لمبورڈ آہستہ سے بولا۔ ’’میں نے اور ڈاکٹر آرم اسٹورنگ نے اس بات پر غور تو کیا تھا۔ ہمارے خیال میں اس جزیرے پر ان دس لوگوں کو جمع کیا گیا ہے جنھوں نے اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی جرم کیا ہے جسے کوئی عدالت ثابت نہیں کرسکتی۔‘‘
’’یہ بالکل غلط بات ہے!‘‘ ویرا اچھل پڑی لیکن جج نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روکا۔
’’کیپٹن لمبورڈ! کچھ ایسا ہی خیال میرا بھی ہے اور اب جرنل میکر تھور کی موت کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ انوتھی مارسٹن اور مسز راجر کی موت نہ حادثاتی تھی نہ خودکشی۔ اب تک مرنے والے تین افراد کو قتل کیا گیا ہے۔‘‘
’’لیکن آخر کس نے؟ جزیرے پر ہم سب کے علاوہ کوئی انسان موجود نہیں۔‘‘ ڈاکٹر کی آواز ہلکی سی لرز رہی تھی۔
’’تو کیا اس کا ایک ہی مطلب نہیں نکلتا ڈاکٹر۔۔۔ ہمارا قاتل عرف مسٹر اوین /مسزاوین ہم میں سے کوئی ایک ہے!‘‘ جج نے ڈرامائی انداز میں گردن گھما کر سب کی طرف دیکھا۔
’’اوہ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔ کہہ دیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔‘‘ ویرا تقریباََرونے والی تھی۔
’’محترمہ۔ حقیقت سے منہ موڑنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہم میں سے مسٹر اوین ہے کون؟‘‘
’’دس میں سے تین تو اب مشکوک ہونے کے قابل نہیں رہے۔‘‘ بلور دھیمے لہجے میں بولا۔
’’بالکل! لیکن کیا باقی سات میں سے کوئی ایساہے جسے کسی خاص بات کے لیے مشکوک ٹہرایا جائے؟‘‘
’’ہاں! ہاں! لمبورڈ کے پاس ایک پسٹل موجود ہے۔ اس نے کل رات ہم سب سے جھوٹ بولا تھا۔‘‘ بلور فوراً بولا۔
لمبورڈ نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور حقارت سے بلور کو دیکھ کر مسکرایا: ’’میرا خیال ہے کہ میں اصل قصہ دوبارہ سنا دیتا ہوں۔‘‘
’’لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کیپٹن لمبورڈ کہ تم اس بار سچ بول رہے ہو۔‘‘ لمبورڈ کی بات ختم ہوتے ہی بلور دوبارہ بول اٹھا۔
’’بد قسمتی سے مسٹر بلور۔ ہم سب میں سے کسی کے پاس اس کا ثبوت نہیں ہے کہ ہم سچ رہے ہیں۔‘‘ جج وار گریو نے خشک لہجے میں کہا۔ ’’تو ہم سب میں کوئی ایسا موجود نہیں۔ ہے نا؟‘‘ جواباً خاموشی چھاگئی۔
’’جب ہم کسی پر بھی کسی خاص وجہ سے شک نہیں کر سکتے تو کیا کوئی ایسا ہے جسے ہم بالکل ہی معصوم قرار دے دیں؟
’’میں ایک مشہور پیشہ ور ڈاکٹر ہوں اور یہ احمقانہ بات ہے کہ مجھ پر قتل کا الزام لگایا جائے۔‘‘ ڈاکٹر جلدی سے بولا۔
’’میں بھی ایک مشہور جج ہوں ڈاکٹر لیکن اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ آج سے پہلے بہت سے جج اور ڈاکٹرز ذہنی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگر ہم دونوں میں سے کسی کا ذہنی علاج ہونا ضروری ہے تو یہ کوئی خاص بات نہیں۔‘‘ جج نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔
’’میرے خیال میں خواتین کو اس معاملے سے دور رکھا جائے کیونکہ کوئی خاتون ایسے کام نہیں کرسکتی۔‘‘ لمبورڈ نے جج کو مخاطب کیا۔
’’کیوں؟‘‘ جج نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا۔ ’’تم نے اخبار میں کبھی نہ کبھی تو کسی قاتلہ کے بارے میں کوئی خبر پڑھی ہی ہوگی۔‘‘ اب وہ آرم اسٹورنگ کی طرف مڑا۔ ’’ڈاکٹر کیا جرنل میکر تھور کے سر پروہ بھاری ہتھیار کوئی خاتون مار سکتی ہے؟‘‘
’’یس سر! آرام سے۔‘‘
’’اور کیپٹن باقی دو اموات زہر کی وجہ سے ہوئی ہیں۔‘‘
وہ واپس لمبورڈ کی طرف مڑ گیا: ’’اور کسی کو زہر دینے میں زیادہ طاقت کا استعمال نہیں کر نا پڑتا ہے نا؟‘‘
’’میرے خیال میں آپ پاگل ہوگئے ہیں۔‘‘ ویرا غصے سے بولی۔
’’محترمہ! میں کسی پر الزام نہیں لگارہا۔ صرف ممکنات کی بات کر رہا ہوں۔‘‘جج نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔
’’اچھا چلیں ٹھیک ہے۔ لیکن راجر۔۔۔؟‘‘ لمبورڈ نے جج کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’راجر کیا؟‘‘ جج نے بغیر آنکھ جھپکے اسے دیکھا۔
’’میرا مطلب ہے راجر کسی بھی طرح مسٹر اوین کے کردار میں فٹ نہیں آتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کے پاس اتنی عقل نہیں کہ وہ اتنی منصوبہ بندی کرے اور دوسری یہ کہ اس کی اپنی بیوی مقتولین میں شامل ہے۔‘‘
’’میں نے بہت سے ایسے کیسوں کو نمٹا یا ہے کیپٹن! جس میں کسی شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کیا ہو۔‘‘
’’اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ مان لیا۔۔۔ ہم سب ہی بہترین مسٹر اوین بن سکتے ہیں۔ کوئی بھی معصوم نہیں۔‘‘ لمبورڈ نے ہتھیار ڈالے۔
’’تو یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ کوئی شخص شک سے مبرا نہیں ہے۔ ہمیں اب اپنے قاتل کا سرا ڈھونڈنا ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ ہم ان تین اموات کا مشاہدہ کریں جو اب پیش آچکی ہیں۔‘‘
’’یہ ہوئی نا بات سر! اب آپ نے صحیح لائحہ عمل اختیا ر کیا ہے۔‘‘ بلور کی رگ تفتیش پھڑک اٹھی۔
’’سب سے پہلے انوتھی مارسٹن مرا۔ اسے زہر دیا گیا تھا۔‘‘
اس وقت اس کے آس پاس سب ہی لوگ موجود تھے سوائے راجر کے۔ کوئی بھی آسانی سے یہ کام کرسکتا ہے۔‘‘
وہ سانس لینے کے لیے رکا۔ ’’اس کے بعد آگئیں مسز راجر۔۔۔ یہاں دو لوگ سب سے زیادہ مسنر راجر کے قریب گئے ہیں۔۔۔ ایک اس کا شوہر اور ایک ڈاکٹر۔۔۔‘‘
ڈاکٹر غصے کے مارے کھڑا ہوگیا۔ ’’بہت ہوگیا۔ اب یہ بات نا قابل برداشت ہے۔ مسٹر بلور تم اب تک دو دفعہ کہہ چکے ہو یہ۔ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو۔‘‘
’’ڈاکٹر! ڈاکٹر!‘‘ جج نے ڈاکٹر کی بات کاٹی۔ ’’تمہارا غصہ میں آنا قدرتی ہے لیکن حقیقت کو تسلیم کرو۔ تم یا راجر آرام سے مسز راجر کو دوا کی زیادہ مقدار کھلا سکتے تھے لیکن خیراسے چھوڑو ہم دوسرے امکانات پر غور کرتے ہیں۔‘‘
’’میں مسز راجر کے قریب کہیں بھی موجود نہیں تھی۔‘‘ ویرا زور سے بولی۔
’’جہاں تک مجھے یاد ہے مسز راجر دروازے کے باہر بے ہوش ہوگئیں تھیں تو انوتھی مارسٹن اور لمبورڈ نے انھیں صوفے پر بٹھایا۔ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ نے اسے چیک کیا اور ساتھ ساتھ راجر کو کافی لانے کو کہا۔ اس کے بعد ہم سب برابر والے کمرے میں چلے گئے تھے۔ سوائے مس برنٹ کے، جو بے ہوش مسز راجر کے ساتھ اکیلی اس کمرے میں موجود رہیں۔ جب ہم واپس اس کمرے میں آئے تو وہ اس کے اوپر جھکی اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘‘
’’کیا ایسا کرنا قانون کے خلاف ہے جج صاحب۔‘‘ مس برنٹ نے غصہ سے کہا۔
’’میں تو صرف اس واقعے کی تفصیل بیان کررہا ہوں۔‘‘جج نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’اس کے بعد راجر کافی لے کر آگیا۔ جو ڈاکٹر نے اسے پلائی۔ پھر ڈاکٹر اور راجر کی مدد سے وہ اوپر اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی۔‘‘
’’ہاں بالکل یہی ہوا تھا تو ثابت ہوگیا کہ میں، مس ویرا اور کیپٹن لمبورڈ کا اس واقعے میں کہیں عمل دخل نہیں۔‘‘ بلور نے پٹ سے کہا۔
’’کیا واقعی؟‘‘ جج نے سرد نظروں سے اسے گھورا: ’’مسٹر بلور! اوپر اپنے کمرے میں مسز راجر کافی دیر تک اکیلی رہیں کیونکہ اس کا شوہر نیچے کام نمٹا رہا تھا اور اتنی دیر میں کوئی آسانی سے اس کمرے میں داخل ہو کر مسز راجر کا کام تما م کر سکتا ہے۔‘‘ بلور اب چپ رہا کچھ لمحوں بعد جج نے اپنا سلسلہ کلام جوڑا۔ ’’تو یہ ہوگئی مسز راجر۔ اب آئیے جرنل میکر تھور کی طرف۔ جو آج دوپہر میں ہی قتل ہوئے ہیں۔ وہ سمندر کے کنارے کھلی جگہ میں بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی بھی جاسکتا ہے تو آپ لوگوں کو بتا نا ہوگا کہ آپ اس وقت کہاں تھے؟‘‘
‘‘میں بلور اور لمبورڈ ایک ساتھ تھے آج صبح سے۔‘‘ ڈاکٹر بولا۔
’’پہلے میں اور مس ویرا ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں بنگلے کے پیچھے والے حصے میں بیٹھی دھوپ تاپ رہی تھی۔‘‘ مس برنٹ نے بتایا۔
’’میں آج پورے جزیرے کو گھوم پھر کر دیکھتی رہی۔‘‘ ویرا نے وضاحت کی۔
’’اور میں صبح سے سامنے والے ٹیرس میں موجود تھا۔ اس سارے وقت میں راجر گھر کے اندر کے کام نمٹارہا تھا۔‘‘ 
تھوڑے وقفے کے بعد جج بولا: ’’تو ہم اب ان تینوں اموات کی جتنی تفتیش کر سکتے تھے کرلی۔ نتیجہ اب بھی وہی ہے کہ اس کمرے میں موجود سات میں سے قاتل کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اب اگر ان سب باتوں کو ایک طرف کریں تو اس وقت سب سے اہم کام قصبے سے کسی طرح رابطہ کرنا ہے۔ ساتھ اپنی جان کو محفوظ رکھنا ہے۔ اب تک قاتل کا کام اس لیے آسان تھا کہ ہم سب اس کے منصوبے سے بے خبر تھے لیکن اب ہم سب کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ وہ کسی اورکو اپنا شکار بنانے والا ہے۔ ان حالات میں احتیا ط سب سے ضروری ہے۔ بلاوجہ میں کسی بھی قسم کا کوئی رسک لینے کا نتیجہ صرف موت ہوگا۔ آج کے لیے اتنا کافی ہے۔ اس سے پہلے رات گہری ہوجائے ہمیں کھا نا کھالینا چاہیے۔‘‘
*۔۔۔*
وہ سب بے دلی اور خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔ ہر ایک کے چہرے سے بے چینی صاف ظاہر تھی۔ راجر کمرے میں داخل ہوا۔
’’مداخلت کے لیے معافی چاہتا ہوں جناب! لیکن کیا کسی کو معلوم ہے کہ جو پردہ باتھ روم میں لٹکا ہوا تھا وہ کہاں ہے؟‘‘ سب نے چونک کر اسے دیکھا ۔
’’باتھ روم کا پردہ؟ کیا مطلب راجر؟‘‘
’’سر نیچے والے باتھ روم کی کھڑکی پر لٹکا ہوا پردہ غائب ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا آج صبح تک موجود تھا۔‘‘ لمبورڈ نے پوچھا۔
’’جی سر!‘‘
’’کس قسم کا پردہ تھا؟‘‘
‘‘گہرے سرخ رنگ کا سلک سے بنا ہوا۔‘‘ وہ سب ایک دوسرے کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔
’’نہیں راجر۔ ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن تم زیادہ پریشان نہ ہو۔ سلک کے سرخ پردے سے کسی کو قتل تو نہیں کیا جاسکتا نا۔‘‘ بلور نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’جی سر۔ شکریہ!‘‘ یہ کہہ کر راجر باہر نکل گیا لیکن کمر ے میں بے اعتباری کی فضا مزید گہری ہوگئی۔
*۔۔۔*
جب راجر مطمئن ہوگیا کہ سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیے جاچکے ہیں اور کوئی بھی باہر موجود نہیں ہے تو وہ اطمینان سے سر ہلاتا نیچے کھانے کے کمرے کی طرف بڑھا۔ اس نے صبح ناشتے کے لیے برتن ابھی سے میز پر لگادیے تھے۔ باقی کمرہ بھی صاف ستھرا کردیا تھا۔ اب وہ میز کی طرف بڑھا اور اس کے وسط میں رکھی گلاس ڈولز کو ایک بار پھر گنا۔ وہ پوری سات تھیں۔ اس نے کئی بار پھر گنا آخر جب یقین ہوگیا کہ وہ سات ہیں تو آگے بڑھ کر کمرے میں موجود ہر کھڑکی اور دروازے کو سختی سے کنڈی لگا کر بند کردیا۔
’’آج کی رات کوئی چالاکی نہیں دکھا سکے گا۔ میں نے اب پکا انتظام کیا ہے۔‘‘ وہ اب کھانے کے کمرے کے مرکزی دروازے سے باہر آگیا۔ چابی نکال کر اسے باہر سے اچھی طرح تالا لگایا اور کمرے کو آخری بار دیکھتا ہوا سونے کے لیے چلاگیا۔
*۔۔۔*
کیپٹن لمبورڈ صبح جلدی اٹھنے کا عادی تھا۔ آج وہ کافی دیر سے جاگا۔ اپنے بستر پر بیٹھا ناشتے کے گھنٹے کی آواز سننے کا منتظر تھا۔ رات کے طوفان کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ بارش بند ہوچکی تھی لیکن ہوا بہت زور زور سے چل رہی تھی۔ آخر کار جب بہت دیر ہوگئی تو اس نے اپنے کمرے سے نکل کر بلور کے دروازے پر دستک دی۔ کچھ منٹ بعد بلور نے احتیاط سے دروازہ کھولا اور باہر جھانکا۔
’’تم ابھی تک سورہے ہو؟‘‘ کیپٹن نے اس کی نیند بھری آنکھوں اور بکھرے بالوں کو دیکھا۔
’’کیا ہوگیا؟‘‘ بلور نے جواباً پوچھا۔
’’وقت دیکھا ہے کیا ہورہا ہے؟‘‘
بلور نے مڑ کر بستر کے برابر میں موجود میز پر رکھی گھڑی کو دیکھا: ’’ارے !! دس بج کر پچیس منٹ۔۔۔ میں اتنی دیر تک کیسے سوگیا؟ راجر کہاں ہے؟ اس نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔‘‘
’’یہی میں بھی پوچھ رہا ہوں کہ اب تک راجر کہاں ہے؟‘‘ لمبورڈ نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’مطلب؟‘‘ بلور نے الجھ کر پوچھا۔
’’ساڑھے دس بجنے والے ہیں ناشتہ عموماً راجر آٹھ بجے لگادیتا ہے لیکن اب تک نہ ناشتہ کا گھنٹا بجا نہ وہ ہمیں اٹھانے آیا۔ آخر وہ ہے کہاں؟‘‘
’’اُف خدایا!‘‘ بلور چکرا گیا۔ ’’اچھا میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں تم باقی سب سے پوچھو۔‘‘
لمبورڈ نے سر ہلایا اور آگے بڑھ کر ڈاکٹر کا دروازہ بجایا جس پر وہ فوراً باہر نکل آیا۔ لمبورڈ کو دیکھتے ہی اس نے راجر کا دریافت کیا۔ جواباًلمبورڈ نے پوری بات دوہرا دی لیکن ڈاکٹر کو راجر کا کچھ معلوم نہ تھا۔ ویرا بھی راجر کے بارے میں کچھ بتا نہیں پائی۔ جج وار گریو کو سوتے سے اٹھا نا پڑا۔ البتہ مس برنٹ کا کمرہ خالی پڑا تھا۔ راجر کو ڈھونڈنے کے لیے وہ سب ایک ساتھ نیچے آگئے۔ راجر کے کمرے میں اس کے کپڑے پھیلے ہوئے تھے، جب کہ الماری میں وردی موجود نہیں تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ صبح سویرے جاگ گیا تھا۔
’’راجر کے ساتھ ساتھ مس برنٹ کہاں غائب ہوگئیں۔‘‘ بلور پریشانی سے بولا۔ اسی لمحے بنگلے کے مرکزی دروازے سے مس برنٹ اندر داخل ہوئیں۔
’’سمندر بہت چڑھا ہوا ہے۔ میرا نہیں خیال آج کوئی کشتی اس طرف آ پائے گی۔‘‘
’’مس برنٹ! آپ ان حالات میں جزیرے پر اکیلی گھوم رہی ہیں۔ یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے آپ کو پتا ہے؟‘‘ بلور تقریباً چلا اٹھا۔
’’فکر نہ کرو بلور! میں اپنی حفاظت کرنا جانتی ہوں۔‘‘ مس برنٹ نے تیکھے لہجے میں جواب دیا۔
’’مس برنٹ۔ آپ نے کہیں راجر کو دیکھا ہے؟‘‘ لمبورڈ نے گویا بیچ بچاؤ کرایا۔
’’راجر نہیں تو۔۔۔ کیوں؟‘‘
اس دوران جج کھانے کے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔
’’ناشتے کے برتن بھی لگے ہوئے ہیں۔‘‘
’’وہ یہ کام رات میں ہی کردیتا ہے۔‘‘ ویرا یہ بتاتے ہوئے کھانے کے کمرے میں داخل ہوئی لیکن اچانک ہی اس نے ہلکی سی چیخ ماری۔
’’وہ گڑیاں۔۔۔ وہ گڑیاں!!‘‘ اسے جملہ مکمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سبھی کو نظر آرہا تھا کہ میز پر رکھی ننّی ننّی مورتیوں میں سے ایک کم ہے۔
*۔۔۔*
راجر کو ڈھونڈنے کے لیے انہیں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں پڑی۔ باہر کی طرف لکڑیاں رکھنے کے لیے ایک شیڈ بنا ہوا تھا۔ راجر وہیں لکڑیاں کاٹنے گیا تھا۔ شاید۔۔۔ چھوٹا سا کلہاڑا اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔ جب کہ ایک بڑا اور بھاری کلہاڑا اس سے تھوڑی دور زمین پر پڑا تھا جس کے پھل پر ایک بڑا لال رنگ کا دھبہ پڑا تھا جو کہ شاید راجر کے سر سے نکلنے والاخون تھا تیز ہوا نے اسے خشک کردیا تھا۔ بلور، لمبورڈ، ڈاکٹر اور جج لاش اور کلہاڑے کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے۔
’’معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے، راجر یہاں جھکا لکڑیا ں کاٹ رہا ہوگا۔ قاتل نے پیچھے سے آکر کلہاڑے کا ایک زور دار وار کر کے اس کی کھوپڑی دو ٹکڑے کردی۔‘‘ ڈاکٹر راجر کے سر کے پچھلے حصہ کا معائنہ کررہا تھا۔
’’کیا اس کے لیے بہت طاقت صرف کرنی پڑی ہوگی۔‘‘ ڈاکٹر نے ادھر ادھر دیکھ کر اطمینان کیا۔ ویرا اور مس برنٹ باورچی خانے میں ناشتہ بنانے جاچکی تھیں۔ ’’اگر کوئی خاتون یہ کام کرنا چاہے تو آرام سے کر سکتی ہے۔‘‘ بلور جو کلہاڑے کے دستے پر انگلیوں کے نشانات ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا، گہری سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کوئی فنگر پرنٹ موجود نہیں ہے۔ دستے کو کسی کپڑے سے صاف کر دیا گیا ہے۔‘‘ اسی لمحے ان سب کو کسی کے زور زور سے قہقہے لگانے کی آواز آئی۔ وہ لوگ جھٹکے سے مڑے۔ ویرا کلیتھرون مرکزی دروازے کی سیڑھیوں پر کھڑی زور زور سے ہنس رہی تھی۔
’’کیا اس جزیرے پر شہد کی مکھیاں ہیں؟ ہم شہد کہاں سے لیں گے۔‘‘ وہ بمشکل ہنسی روک کر چلّائی۔ اس کی آنکھیں وحشت زدہ ہورہی تھیں۔ وہ چاروں حیرت کے مارے کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ کیا ویرا اس طرح کھڑے کھڑے پاگل ہوسکتی ہے۔
’’ایسے کیا گھور رہے ہو تم لوگ۔‘‘ ویرا کی آواز بالکل پھٹ گئی تھی۔ ’’تمہیں لگ رہا ہے میں پاگل ہوگئیں ہوں! ہیں؟ مجھے شہدکے چھتے کا پتا بتاؤ۔۔۔ شہد کی مکھیاں! افوہ، کیا ہوگیا ہے۔۔۔ ایسے کیوں کھڑے ہو؟ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے۔‘‘ وہ پوری طاقت سے چلارہی تھی۔’’ وہ بچوں کی نظم۔۔۔ جو سب کمروں میں لگی ہوئی ہے۔ کیا تم لوگوں نے وہ احمقانہ نظم نہیں پڑھی؟ نہیں پڑھی۔۔۔میں سنا دیتی ہوں۔
چھوٹے نیگرو بچے کھیل رہے تھے ساتھ
ایک کو شہد کی مکھی نے کاٹا باقی رہ گئے پانچ
تو اب جو بھی مرے گا اسے شہد کی مکھی کاٹے گی۔۔۔ بتاؤ بتاؤ شہد کا چھتا کہاں ہے۔ بتاؤ مجھے۔‘‘ وہ جار حانہ انداز میں ان کی طرف بڑھی۔ اس کی آنکھوں سے تیزی سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ڈاکٹر بغیر وقت ضائع کیے حرکت میں آیا اور ایک زور دار تھپڑ ویرا کے منہ پر دے مارا۔ ویرا بالکل ساکت ہوگئی۔ پھر زور زور سے ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ ’’شکریہ ڈاکٹر ۔۔۔ ٹینشن۔۔۔ پریشانی۔۔۔ خیر جو بھی ہے اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔‘‘ وہ اندر جانے کے لیے مڑگئی۔
’’شکر! یہاں ایک ڈاکٹر موجود ہے۔‘‘ بلور ابھی بھی بے یقینی سے اس جگہ کو گھور رہا تھا جہاں ویرا کھڑی تھی۔
’’فکر مت کرو! مس ویرا کا ذہن ان ایک کے بعد ایک قتل کو دیکھ کر متاثر ہوگیا تھا اور راجر کی اچانک مو ت سے اس کا اعصابی نظام مزید کمزور ہوگیا۔ تھپڑمارنا ضروری تھا تاکہ اسے واپس مضبوط کیا جائے۔‘‘ ڈاکٹر نے اطمینا ن سے جواب دیا۔
*۔۔۔*
’’تمہیں پتا ہے میں کیا سوچ رہا ہوں؟‘‘ بلور نے سر گوشی میں لمبورڈ کو مخاطب کیا۔
’’خود ہی بتادو۔‘‘
’’یہاں دو خواتین موجود ہیں۔ مس ویرا اور مس برنٹ جن حالات کا ہم سامنا کر رہے ہیں، وہ صنف نازک کے لیے کافی مشکل ہیں۔ ہے نا۔۔۔ جیسے مس ویرا، ان کی حالت دیکھی تھی ابھی۔۔۔ کس بری طرح اسے شاک لگا تھا۔۔۔ ظاہر ہے کوئی بھی لڑکی اتنے قتل دیکھنے کے بعد صحیح الد ماغ نہیں رہ سکتی۔۔۔ لیکن دوسری طرف مس برنٹ ہیں۔ چار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے اطمینان وسکو ن میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ تمہیں یاد ہے کہ آج صبح وہ جزیرے پر اکیلی گھوم رہیں تھیں۔ کیا وہ راجر کو۔۔۔؟‘‘
لمبورڈ نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’لمبورڈ کو لکڑیا ں کاٹتے ہوئے مارا گیا ہے۔ لکڑیاں کاٹنے کا کام راجر صبح صبح ۶، ۷ بجے کرتا ہے۔ مس برنٹ ساڑھے دس بجے گھر میں داخل ہوئیں۔ اگر انہوں نے راجر کا قتل کیا بھی ہے تو چار گھنٹے جزیرے پر گھومنے کی کیا تک تھی؟ میرے خیال میں راجر کے قاتل نے اس بات کاخاص خیال رکھا ہوگا کہ وہ مارنے کے بعد آرام سے جا کر اپنے کمرے میں سوتا بن جائے۔‘‘
’’دیکھو تم اصل نکتہ مس کر رہے ہو۔ اگر وہ معصوم ہوتیں تو وہ اکیلے گھر سے باہر نکلنے کے خیال سے ہی ڈرتی کہ کہیں قاتل سے آمنا سامنا نہ ہوجائے لیکن فرض کرو کہ اسے معلوم ہوکہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ تب وہ بے خوف وخطر جزیرے پر مٹر گشت کر سکتی ہے کیونکہ قاتل تو وہ خود ہے۔‘‘
’’ہوں ں ں۔۔۔‘‘ لمبورڈ سوچ میں پڑ گیا: ’’ایک طرح سے تمہاری بات صحیح بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ پھر وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ تم اب تک مجھ پر شک نہیں کررہے۔‘‘
’’خیر!‘‘ بلور کے لہجے میں ہلکی سی شرمندگی تھی۔ ’’پہلے میرا شبہ تم ہی پر تھا کیوں کہ تم نے فرضی کہانی سنائی تھی تمہارے پاس پسٹل بھی تھی لیکن یہ سب ایسی باتیں ہیں جو قاتل ہر صورت میں چھپانے کی کوشش کرے گا۔ جب کہ تم نے اپنے اوپر لگا الزام بھی تسلیم کرلیا۔ پسٹل بھی دکھا دی اپنے جھوٹ کا بھی اعتراف کرلیا۔۔۔ اور مسٹر اوین جو کہ ہمارا مطلوبہ قاتل ہے کبھی اپنے آپ کو اتنا واضح نہیں کرے گا۔‘‘
لمبورڈ ہنس پڑا۔ ’’میرا بھی یہی خیال ہے بلور کہ تم مسٹر اوین نہیں ہوسکتے۔۔۔ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں پر مجھے نہیں لگتا کہ تمہاری تصور اتی قوت اتنی مضبوط ہوگی کہ تم یہ سارا ڈرامہ تخلیق کرو لیکن اگر تم مسٹر اوین ہو تو تم شان دارادا کار بھی ہو۔‘‘ بلور مسکرایا۔
’’ویسے ایک بات پوچھوں؟‘‘ لمبورڈ سنجیدہ ہوگیا۔
’’جون لنڈر والے کیس میں کیا تم نے پوری ایمانداری سے کام لیا۔‘‘ بلور کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ آخر کار بولا: ’’مجھے اب تک حیرت ہے کہ اس مسٹر اوین نے یہ واقعہ کیسے ڈھونڈ نکالا اور اس کو اصل بات کیسے پتہ چلی۔ نہیں! میں نے واقعی ہیرا پھیری کی تھی۔ جون لنڈر ایک بد قسمت انسان تھا۔ وہ پتہ نہیں کس طرح ڈاکو کے اس گروہ میں شامل ہوگیا تھا۔ اس گروہ نے بینک میں ڈاکہ ڈالا اور چوکیدار کو بری طرح زخمی کردیا لیکن اس میں جون لنڈ ر کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ وہ بس اپنے گروہ کے ساتھ جائے وقوع پر موجود تھا۔ پولیس نے حملہ کیا تو باقی سارے بھاگ گئے اور وہ پکڑا گیا۔‘‘ بلور تھوڑی دیر رکا پھر بولا:’ ’پھر اس گروہ نے مجھ سے ڈیل کی کہ میں سارا الزام جون لنڈر پر ڈال دوں اس کے بعد وہ اپنے اختیارات استعمال کر کے مجھے ترقی دلوادیں گے تو میں نے جون لنڈر کے خلاف مقدمہ کرایا اور اسے جیل میں ڈلوادیا۔ وہاں جانے کے تھوڑے عرصے بعد وہ طبعی موت مر گیا یعنی بد قسمتی نے اس کا ساتھ وہاں بھی نہ چھوڑا۔‘‘ 
’’اس کے بعد بدقسمتی نے تمہارا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔‘‘ لمبورڈ نے ایک دم بڑ بڑا کر کہا۔
’’میرا؟‘‘ بلور نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ہاں کیونکہ اب موت کے شکنجے میں تم پھنسے ہو۔‘‘ 
*۔۔۔*
ناشتہ ختم ہوچکا تھا۔ جج وارگریو نے اپنا گلا کھنکھار کر سب کو متوجہ کیا۔
’’پہلے یہ کھانے کے برتن دھو کر رکھ دیں کیونکہ راجر کے بعد ہمیں یہ سب خود کرنا ہوگا۔‘‘ ویرا برتن سمیٹنے لگی بلور اور لمبورڈ بھی مدد کرنے لگے۔
’’تو ٹھیک ہے۔ سب اپنے اپنے کام کر کے آدھے گھنٹے میں ڈرائینگ روم میں جمع ہوجائیں۔‘‘ جج یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ مس ایملی برنٹ نے بھی کرسی پیچھے کر کے کھڑا ہونا چاہا کہ ایک دم انھیں زبر دست چکر آگیا۔
’’آپ ٹھیک تو ہیں مس برنٹ؟‘‘ جج نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’ہاں بس ایک دم چکر آگئے تھے۔‘‘ 
’’آپ کوئی دوا کھانا پسند کریں گی؟‘‘ ڈاکٹر ان کی طرف بڑھا۔
’’نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔‘‘ مس برنٹ نے اتنے زور سے جو اب دیا کہ سب چونک گئے۔ ڈاکٹر آرم اسٹور نگ کا چہرہ سرخ پڑگیا۔ کیونکہ مس برنٹ کی آنکھوں میں واضح شک اور خوف نظر آرہا تھا۔
’’آپ کی مرضی۔‘‘ ڈاکٹر خفت کے مارے کمرے سے نکل گیا۔
’’یہ کیفیت ابھی ختم ہوجائے گی۔ میں بس تھوڑی دیر یہیں بیٹھی رہوں گی۔‘‘ ایک ایک کر کے سب کمرے سے نکلنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد سوائے ان کے کمرے میں کوئی نہ رہا۔ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت بحال ہورہی تھی۔ اب انھیں نیند آرہی تھی۔ کمرے میں بالکل سکوت طاری تھا کہ اچانک اس خاموشی کو کسی مکھی کی بھنبھنا ہٹ نے توڑا۔ مس برنٹ چونک گئی۔ انھیں لگا ان کے کان بج رہے ہیں لیکن پھر وہ بھنبھنا تی مکھی ان کے سامنے میز پر آبیٹھی۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر اسے بھگا ناچاہا لیکن نقاہت کے مارے وہ ہاتھ نہیں ہلا پارہی تھیں۔ ان کے ذہن میں ویرا کی چیختی ہوئی آواز گونجنے لگی۔ جب وہ سیڑھیوں پر کھڑی چلارہی تھی تو کچن میں ناشتہ بناتی وہ اس کی آواز صاف سن سکتی تھیں۔ وہ شہد کی مکھی اور اس کے ڈنک کے بارے میں ہی کچھ کہہ رہی تھی لیکن اس وقت ان کو اتنی کمزوری ہورہی تھی کہ انھیں یاد نہیں آرہا تھا اس نے کیا کہا تھا۔ اچانک انھیں لگا ان کے پیچھے کمرے میں کوئی موجود ہے۔ کسی بھیگی بھیگی چیز کی خوشبو ان کے نتھنو ں سے ٹکرائی وہ گردن موڑ کر دیکھنا چاہتی تھیں لیکن گردن ہلا نہیں پارہی تھیں۔ اُف پیچھے کوئی دبے قدموں سے چل رہا تھا۔ ان کے بدن میں خوف کی لہراٹھ گئی۔ بیکڑائس ٹیلر جس نے ان کی سختی کی وجہ سے پانی میں کود کر جان دی تھی وہ ندی سے اٹھ کر ان سے بدلہ لینے آگئی ہے۔ پہلی دفعہ انھیں زندگی میں پچھتاوا ہورہا تھا۔ وہ کسی کو مدد کے لیے پکارنا چاہتی تھیں لیکن ان کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ بیکٹرائس ٹیلر اب ان کے پیچھے کھڑی تھی۔ وہ اس کی موجودگی محسوس کر سکتی تھیں۔ میز پر بیٹھی مکھی اب ادھر اُدھر اڑنے لگی۔ ویرا نے مکھی کے بارے میں کیا کہا تھا وہ یاد کرنے کوشش کر رہی تھی۔ ایک دم انھیں گردن میں چبھن کا احساس ہوا اسی لمحے انھیں ویرا کی بات یاد آگئی لیکن مس برنٹ کو پتا تھا اب بہت دیر ہوگئی ہے کیونکہ شہد کی مکھی کا ڈنک سوئی کی طرح ان کی گردن میں اتر چکا تھا۔
*۔۔۔*
ڈرائینگ روم میں بیٹھے وہ لوگ مس برنٹ کا انتظار کررہے تھے۔
’’کیا میں انھیں بلا کر لاؤں؟‘‘ ویرا دروازے کی طرف بڑھی۔
’’ایک منٹ رکو!‘‘ بلور نے جلدی سے اسے روکا۔ ویرا واپس بیٹھ گئی۔
میرا خیال ہے ہم سب یہاں بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہیں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ جس قاتل کو ہم ڈھونڈ رہے ہیں، وہ اس وقت کھانے کے کمرے میں مس برنٹ کی صورت میں موجود ہے۔‘‘
’’لیکن وہ یہ سب کیوں کرے گی؟‘‘ ڈاکٹر نے حیرانی سے پوچھا۔
’’کیونکہ وہ ایسی خاتون ہے جو برائی اور بھلائی کو ہمیشہ اپنے پیمانے سے ناپتی ہے۔ ہوسکتا ہے اس کے نزدیک ہم سب بہت بڑے مجرم ہوں اور ہم سب کا قتل اس کا سب سے اہم فریضہ ہو۔‘‘
’’ہم اس طرح ہوا میں تیر نہیں چلا سکتے بلور! تمہارا دماغ کھسک گیا ہے۔‘‘ لمبورڈ بھی اس کی بات سن کر حیران ہوگیا۔
’’لیکن یہ بھی تو دیکھو، وہ واحد ہے جس نے اس الزام کی وضاحت پیش نہیں کی جو کیسٹ میں موجود آواز نے اس کے اوپر لگایا تھا۔‘‘ بلور اب بھی مصر تھا۔
’’ایسی بات نہیں ہے۔‘‘ ویرا نے پہلو بدلا: ’’انھوں نے مجھے بتادیا تھا۔‘‘ اس نے مس برنٹ کی داستا ن دوبارہ دوہرادی۔
’’سیدھی سادھی روایتی کہانی۔‘‘ جج نے سب سن کر اطمینان سے کہا: ’’کافی دیر ہوگئی ہے۔ لگتا ہے مس برنٹ کی طبیعت ابھی بحال نہیں ہوئی تو ہم انھیں کے پاس کھانے کے کمرے میں چلتے ہیں۔‘‘
’’آپ میری بات پر توجہ نہیں دے رہے۔‘‘ بلور اچھل پڑا۔
’’میں صرف شک کی بنا کر کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتا۔ اگر تم ہو تو ثبوت لے کر آؤ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور باقی سب نے بھی اس کی پیش قدمی کی۔
مس برنٹ کھانے کے کمرے میں دروازے کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھی تھیں۔ ان سب کے اندر داخل ہونے کا انھوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
’’مس برنٹ! کیا آپ کی طبیعت۔۔۔‘‘ ڈاکٹر یہ کہتے کہتے آگے بڑھا اور ایک دم رک گیا۔ سامنے کا منظر سب صاف دیکھ سکتے تھے۔ مس برنٹ کی انکھیں باہر کو ابلی ہوئیں تھیں۔ ہونٹ نیلے ہورہے تھے اور منہ سے نکلتی خون کی لکیر گردن تک آگئی تھی۔
*۔۔۔*
ڈاکٹر آرم اسٹورنگ مس برنٹ پرجھکا ان کا چیک اپ کررہا تھا۔
’’یہ اچانک ایسے کیسے کوچ کر گئیں۔‘‘ لمبورڈ جھنجھلا گیا۔ ’’تھوڑی دیر پہلے تک تو ٹھیک ٹھاک تھیں۔‘‘
آرم اسٹورنگ لاش کی گردن کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ’’ ان کی گردن پر کسی انجکشن کا نشان ہے۔‘‘
کمرے میں ایک دم پھر مکھی کے بھنبھنا نے کی آواز آئی۔
’’شہد کی مکھی! شہد کی مکھی!‘‘ ویرا چلائی۔
’’کسی شہد کی مکھی نے انھیں نہیں کاٹا مس ویرا۔ ایک انسانی ہاتھ نے زہر سے بھرا انجکشن پکڑ کر ان کی گردن میں لگایا ہے۔ وہی زہر جو انوتھی مارسٹن کو دیا گیا تھا۔‘‘
’’لیکن یہ مکھی؟‘‘ ویرانے کمرے میں اِدھر اُدھر اڑتی مکھی کی طرف اشارہ کیا: ’’یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’نہیں یہ اتفاق نہیں ہے۔ یہ ہمارے قاتل صاحب کی حس مزاح کا نمونہ ہے۔ وہ ان حالات کو پوری طرح اس بچوں کی نظم سے مماثل بنانا چاہ رہا ہے۔‘‘ پہلی دفعہ لمبورڈ کی آواز میں لرزش تھی۔ اس کا مضبوط اعصابی نظام آخر کار جواب دے رہا تھا۔
’’کیا ہم سب میں سے کسی کے پاس انجکشن لگانے کے لیے سرنج موجود ہے؟‘‘ جج وار گریو نے ایک دم زور سے پوچھا۔ ڈاکٹرآرم اسٹورنگ سیدھا کھڑا ہوگیا اور ہلکی آواز میں جواب دیا۔ ’’جی میرے پاس ہے۔ ڈاکٹر ہمیشہ ایسی چیزیں ساتھ لیکر جاتے ہیں۔‘‘
’’وہ سرنج اس وقت کہاں ہے؟‘‘ جج نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
’’اوپر میرے سوٹ کیس میں۔ چاہیں تو میں دکھا دوں۔‘‘
ڈاکٹر باہر کی طرف بڑھا اور باقی بھی اس کے پیچھے پیچھے اس کے کمرے میں آگئے۔ ڈاکٹر نے سارا سوٹ کیس خالی کردیا لیکن سرنج نہ ملی۔
’’کسی نے اسے چرالیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر بد حواس ہوگیا۔ ’’میں سچ کہہ رہاہوں مجھے نہیں معلوم سرنج کہاں ہے۔ میں نے خود اس میں رکھی تھی۔‘‘ لیکن چاروں مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتے رہے۔
’’معاملہ اب حد سے زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔ اس کمرے میں موجود ۵ میں سے کوئی ایک مجر م ہے جب کہ باقی چار معصوم۔ اب ہمیں ہر وہ احتیاط اپنانی ہوگی۔ جو باقی چار کی جان بچا سکے۔‘‘ جج کا لہجہ بے حد سنجیدہ تھا۔ ’’اس لیے ڈاکٹر تم ابھی اسی وقت اپنی ساری ادویہ اور میڈیکل سے متعلق چیزیں ہمارے سامنے جمع کر کے یہاں لے آؤ۔‘‘ جواباً ڈاکٹر نے فوراََ اپنی چیزیں ایک ڈبے میں جمع کرنا شروع کردیں اور ان کے سامنے لا کر رکھ دیں۔
’’کیپٹن لمبورڈ۔ تمہارے پاس ایک پسٹل ہے؟‘‘ جج لمبورڈ کی طرف متوجہ ہوا۔
’’وہ بھی ہمارے حوالے کردو۔‘‘ 
’’کیا!‘‘ لمبورڈ چلا اٹھا: ’’کس لیے۔۔۔؟ میں ہر گز آپ کو اپنی پسٹل نہیں دوں گا۔‘‘
’’ڈاکٹر کی ادویہ، تمہاری پسٹل اور ہر ایسی چیز جو ہتھیار کے طور پر استعمال ہوسکتی ہے ان سب کو جمع کر کے ایک محفوظ جگہ پر رکھنا ضروری ہے۔‘‘
’’سوری میں اپنی پسٹل کسی صورت نہیں دوں گا۔‘‘
’’کیپٹن آپ بیشک ایک مضبوط اور توانا نوجوان ہیں لیکن یہاں پر موجود مسٹر بلور بھی آپ کی طرح کثرتی بدن کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ ہم تین بھی اس کا ساتھ دیں گے تو بہتر ہے کہ آپ تعاون پر راضی ہوجائیں ورنہ زبردستی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔‘‘ جج وار گریو نے سرد آواز میں جواب دیا۔
’’اوہ اچھا ٹھیک ہے۔ جب آپ فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو میری مزاحمت کی کیا اہمیت۔‘‘ لمبورڈ نے طنزیہ انداز میں اسے گھورا۔
’’تمہاری پسٹل کہاں رکھی ہے؟‘‘ جج نے اس کے رویے کو ذرا برابر اہمیت نہیں دی۔
’’میرے بستر کے ساتھ رکھی میز کی دراز میں۔‘‘
’’چلو پھر ہم سب کے ساتھ چل کر اسے نکال لو۔‘‘ 
جواباً لمبورڈ پیر پٹختا کمرے سے نکل گیا۔ راہداری کے دوسرے سرے پر اس کا کمرہ تھا۔ وہ غصے سے تیز تیز قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا اور پٹاخ سے میز کی دراز کھول کر پسٹل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن اسی تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ دراز میں پسٹل موجود نہیں تھی۔
’’مطمئن ہوگئے؟‘‘ لمبورڈ نے جلے بھنے لہجے میں کہا۔ ان لوگوں نے پوری باریک بینی سے اس کی اور اس کے کمرے کی تلاشی لے لی تھی۔ اس کے بعد ایک ایک کر کے باقی چاروں کی بھی اسی طرح تلاشی لی گئی۔
’’اب ہمیں یقین ہوگیا ہے ہر طرح کی خطرناک چیزیں اس ڈبے میں موجود ہیں۔‘‘ آخر ی کمرے سے نکلتے ہوئے جج نے ہاتھ میں پکڑا ڈبہ لہرایا۔ ’’ہم انھیں کسی ایسی جگہ بند کر دیتے ہیں جہاں سے کوئی نہ نکال سکے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ نیچے کچن کی طرف بڑھ گیا۔ کچن میں پہنچ کر اس نے ڈبے کو تالا لگایا اور برتن رکھنے والے ایک صندوق کو کھول کر اسے رکھ دیا۔ پھر اس کو بھی بند کر کے لاک کردیا۔ اس کے بعد اس نے دونوں کی چابیوں کو ہاتھ میں پکڑا اور ایک چابی لمبورڈ کی طرف بڑھا دی ایک بلور کی طرف۔
’’تم دونوں طاقتور جوان ہو اور ایک دوسرے سے خونی جنگ کے بعد ہی چابیاں حاصل کرسکوگے۔ باقی ہم تینوں کے لیے یہ صندوق توڑنا نا ممکن ہے۔ اب ہمیں لمبورڈ کی پسٹل اور آرم اسٹورنگ کی سرنج تلاش کرنی ہے۔‘‘
’’سرنج کے بارے میں مجھے کچھ اندازہ ہے۔‘‘ بلور نے ان کو مخاطب کیا اور اس کی رہنمائی میں وہ لوگ گھر سے باہر نکل کر پیچھے کی طرف کھلنے والی کھانے کے کمرے کی کھڑکی کی طرف آگئے۔ جہاں واقعی ایک سرنج پڑی تھی۔
’’دیکھا!‘‘ بلور نے فاتحانہ انداز میں کہا۔‘‘ یہی وہ جگہ ہوسکتی ہے جہاں سے باہر قاتل قتل کر کے سرنج اچھالے۔‘‘
سرنج ملنے بعد کے بعد انہوں نے پسٹل کی تلاش شروع کی۔ گھر کا ہر کونا چھان مارا لیکن پسٹل کا کہیں نام ونشان بھی نہیں ملا۔
*۔۔۔*
’’ہم میں سے ایک۔۔۔ ہم میں سے ایک۔۔۔ ہم میں سے ایک۔۔۔‘‘ یہ چار الفاظ مسلسل ان کے ذہنوں میں گردش کررہے تھے۔ پانچ لوگ۔۔۔ پانچ ڈرے سہمے لوگ جو ایک دوسرے کے سائے سے بھی خوفزدہ تھے اب اپنے خوف کو چھپانے کی زحمت بھی نہیں کررہے تھے۔ وہ لوگ اس وقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ ان سب ہی کی حالت قابل رحم تھی لیکن آرم اسٹورنگ کے ہاتھ تو باقاعدہ کانپ رہے تھے۔ وہ ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا۔
’’ہمیں۔۔۔ ہمیں ایسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے۔ کچھ کرو خدا کے لیے۔ کیا ہم یہاں آگ جلا کر قصبے تک مدد کا سگنل نہیں بھیج سکتے۔‘‘
’’اس موسم میں!‘‘ آخر بلور نے تنگ آکر اسے جواب دیا۔ بارش دوبارہ شروع ہوگئی تھی۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے جزیرے پر موجود ہر چیز لرز رہی تھی۔ کھڑکیوں کے پٹوں پر برستی بارش کی آواز ان سب کو پاگل کیے دے رہی تھی۔ اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر تیار تھے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں پر کچھ کرنے کو تھاہی نہیں سوائے بیٹھے بیٹھے یہ سوچنے کی کہ اب کس کی باری ہے۔ کمرے میں اندھیرا بڑھتا جارہاتھا جس کو کم کرنے کے لیے لمبورڈ نے اٹھ کر لائٹ کا بٹن جلایا لیکن لائٹ نہیں جلی۔
’’اوہ۔‘‘ اسے یاد آیا : ’’آج تو بجلی کا جنریٹر چلایا ہی نہیں گیا۔ یہ کام تو راجر کرتا تھا۔‘‘ وہ تھوڑا ہچکچا کر رکا۔ ’’ہم لوگ باہر جا کر اسے چلا سکتے ہیں۔‘‘
’’اس تیز بارش میں باہر جانے سے بہتر ہے موم بتیاں جلالو۔ باورچی خانے میں ضرور ان کا کوئی ڈبہ موجود ہوگا۔‘‘ جج وارگریو نے جواب دیا۔
لمبورڈ سرہلاتا باہر چلاگیا اور تھوڑی دیر بعد ہی ایک چھوٹا سا گتے کا ڈبہ پکڑے واپس آگیا جس میں سے پانچ موم بتیاں نکال کر اس نے جلائیں اور کمرے کے مختلف کونوں میں رکھ دیں اور اپنی جگہ پر واپس آکر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی جیسے ویرا کی برداشت سے باہر ہوگیا۔ اس سے مزید صوفے پر بیٹھے بیٹھے ان لوگوں کی شکلوں کو دیکھا نہیں جارہا تھا۔ وہ اٹھی اور ڈبہ سے ایک اور موم بتی نکال کر جلائی پھر ان لوگوں کو شب بخیر کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ وہ موم بتی کی لو کو اپنے ہاتھوں سے بچاتے ہوئے آہستہ آہستہ اوپر چڑھ کر اپنے کمرے تک آگئی۔ دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی تو اس کے قدم ٹھٹک گئے۔ سمندر کی مخصوص بو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ بالکل سمندر کے کنارے کھڑی ہو۔ اس کے ذہن نے یہ بو پہچان لی اور ایک کے بعد ایک مختلف باتیں ویرا کے ذہن میں گھومنے لگیں۔
’’مس ویرا! کیا آج سمندر میں تھوڑی دور تیر سکتا ہوں پلیز۔۔۔‘‘
’’مس ویرا! آپ مجھے آگے تک تیرنے کیوں نہیں دیتیں۔‘‘ ویرا کو لگا جیسے وہ بچہ اس کے برابر کھڑا اس سے پوچھ رہا ہو۔ ہونہہ!! اس نے اپنا سر جھٹکا، وہ بدتمیز سر چڑھا بچہ۔۔۔ اچانک ہی کھلی کھڑکی سے اندر آتی تیز ہوا نے اس کی موم بتی بجھادی جس کے گرد ابھی بھی ویرانے اپنا ہاتھ پھیلایا ہوا تھا۔ اندھیرا ہوتے ہی ویرا کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑلیا۔ اسے خوف محسوس ہونے لگا۔ ’’بیوقوف مت بنو ویرا‘‘۔ اس نے زیر لب اپنے آپ کو ڈپٹا۔ ’’وہ چاروں نیچے ہیں اور اس کمرے میں کوئی موجود نہیں۔‘‘ لیکن اس کا دل یہ تسلی ماننے کو تیار نہ تھا۔ سمندر کی تیز بو کمرے میں ہر جگہ پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ کوئی کمرے میں موجود ہے! وہ کانپ اٹھی۔ اچانک ایک کھٹکا ہوا اور ایک ہاتھ نے ویرا کلیتھرون کی گردن کو چھولیا۔
*۔۔۔*
ویرا کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں۔۔۔ وہ اپنی پوری قوت سے مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ اس نے نیچے سے آتی آوازوں کو نہیں سنا۔۔۔ کوئی کرسی گرنے کی، دروانے کھولنے بند ہونے کی، سیڑھیوں سے اوپر آتے بھاگتے قدموں کی۔۔۔ اس کو اگر کچھ احساس تھا تو صرف شدید ترین خوف کا احساس تھا۔ آخر اس کو اپنے کمرے کے دروازے پر روشنیاں نظر آئیں۔
’’کیا ہو؟‘‘
’’کیا ہوگیا؟‘‘
’’اف خدایا۔ مس ویرا آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘
ویرا روشنی تک پہنچنا چاہتی تھی۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور پھر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اس کا دماغ سن ہوچکا تھا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کسی کی حیرت زدہ آواز سن کر اس طرف دیکھا جدھر اشارہ کیا گیا تھا۔ کسی سمندری پودے کی ایک بڑی سی بیل چھت سے لٹکتی ہوئی نیچے آرہی تھی۔ اسی کا کونا ویرا کی گردن سے ٹکرایا تھا جسے وہ کسی کا ہاتھ سمجھ بیٹھی تھی۔ اس پر بے ہوشی کی کیفیت طاری ہورہی تھی۔ اب اسے کچھ پینے کے لیے دیا جارہا تھا۔ کیا؟ یہ اسے معلوم نہ تھا وہ بس شکر گزار تھی کیوں کہ اسے شدت سے پیاس لگ رہی تھی۔ گلاس جیسے ہی اس کے ہونٹوں سے لگا اس کے دماغ نے اسے الرٹ کردیا۔ اس نے ایک دم گلاس کو ہونٹوں سے دور کیا۔
’’یہ کہاں سے آیا ہے۔‘‘ اس کے حواس بحال ہورہے تھے۔ ’’یہ میں نیچے سے لایا ہوں‘‘۔ بلور کی آواز نے حیرت سے جوب دیا۔
’’میں یہ نہیں پیؤں گی۔‘‘ وہ زور سے بولی۔ ایک لمحے کے لیے سب چپ ہو کر اسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ پھر لمبورڈ بے ساختہ ہنس دیا۔
’’زبردست مس ویرا! باوجود اس کے کہ آپ ڈر کے مارے بے ہوش ہونے والی ہیں لیکن دماغ اب تک کام کررہا ہے۔‘‘
’’مجھے پانی پینا ہے۔‘‘ ویرا نے لمبورڈ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا اور واش روم کے نل کے پاس لے آیا۔ جہاں سے ویرا نے خود گلاس میں پانی ڈالا اور اسے غٹاغٹ پی گئی۔
’’جو میں نے پانی دیا تھا وہ بھی ٹھیک ٹھاک تھا‘‘۔ بلور نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’چلو بھئی، اس دفعہ تو مسٹر یو این اوین کا پلان فیل ہوگیا۔‘‘ لمبورڈ جو کافی دیر سے سمندری پودے کا معائنہ کررہا تھا ان کی طرف متوجہ ہوا۔
’’کیا وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا؟‘‘ ویرا کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہ تھی۔ لمبورڈ نے سر ہلایا۔ ’’ہاں وہ یہی توقع کررہا ہوگا کہ ڈر اور خوف سے تمہارا دل کام کرنا بند کردے۔ ایسا ہوسکتا ہے ناں ڈاکٹر؟‘‘
’’ہاں ہو تو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ خوف سے مر بھی جاتے ہیں‘‘۔ وہ سب خاموش ہوگئے۔ ویرا نے ادھر ادھر دیکھا۔
’’جج کہاں ہے؟‘‘ اس نے حیرانی سے پوچھا۔ باقی تینوں نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’عجیب بات ہے۔ مجھے لگا وہ میرے پیچھے ہی آیا تھا۔‘‘
’’اف خدایا، ہمیں اسے ڈھونڈنا ہوگا‘‘۔ بلور مارے پریشانی کے تیزی سے باہر نکلا باقی سب نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’جج وارگریو! جج وارگریو!‘‘ سیڑھیاں اترتے ہوئے ڈاکٹر نے زور سے پکارا۔ جواباً سوائے بارش کی آواز کے کوئی آواز نہیں آئی۔ ڈاکٹر سب سے آگے چل رہا تھا۔ ان سب کے قدم تیزی سے اٹھتے ہوئے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جہاں داخل ہوتے ہی وہ سب دھک سے رک گئے۔
جج ڈرائنگ روم کے سب سے کونے والے حصے میں ایک اونچی پشت والی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے اردگرد رکھی چھوٹی میزوں پر چاروں موم بتیاں رکھی تھیں لیکن جس چیز نے ان سب کو ششدر کیا وہ جج کا حلیہ تھا۔ وارگریو نے وہ مخصوص لبادہ پہنا ہوا تھا جو جج کسی بھی کیس کی سماعت کے وقت یا عدالت میں پہن کر آتے ہیں۔ نقلی بالوں کی وگ اس کے سر پر جمی ہوئی تھی جبکہ اس کا جسم ایک سرخ چوغہ اوڑھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر لڑکھڑاتے قدموں سے جج کی طرف بڑھا۔ اس نے جھک کر جج کا چہرہ دیکھا اورتھوڑا معائنہ کرنے کے بعد اس کے سر پر سے وگ اتاردی۔ جج کے گنجے سر کے بیچوں بیچ ایک لال دھبہ پڑا تھا جس سے کوئی چیز بہہ بہہ کر نکل رہی تھی۔ ڈاکٹر نے ہاتھ اٹھا کر اس کی نبض چیک کی اور پھر باقی سب کی طرف مڑتے ہوئے مردہ آواز میں کہا۔
’’اس کے سر پر گولی ماری گئی ہے۔‘‘
’’یہ وگ۔۔۔‘‘ ویرا نے زمین پر گری ہوئی وگ کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ وگ مس برنٹ کی سرمئی اون سے تیار کی گئی ہے جو کھو گئی تھی۔‘‘
’’اور چوغہ، باتھ روم کے اس سرخ پردے سے جو راجر کو نہیں مل رہا تھا‘‘۔ بلور نے اس کی بات مکمل کردی۔ 
لمبورڈ جج کو دیکھتے ہوئے ہلکے سے بولا۔ ’’تو آج جج لورنس وارگریو کا بھی خاتمہ ہوا۔‘‘
’’پانچ چھوٹے نیگرو بچے کررہے تھے ڈرامہ۔۔۔
ایک بچہ بن گیا جج، باقی رہ گئے چار!‘‘
*۔۔۔*
وہ لوگ باورچی خانے میں بیٹھے کسی ربوٹ کی طرح کھانا کھارہے تھے، انہوں نے جج وارگریو کو اوپر ان کے بستر پر لٹادیا تھا۔ چاروں کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
’’آخر جج کو اتنی جلدی اور اچانک کیسے ماردیا گیا۔‘‘ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ ہلکے سے بڑبڑایا۔
’’جیسے باقی سب کو ایک دم اور اچانک مارا گیا ہے۔ بس اس دفعہ مسٹر یو این اوین نے ہم سب کا دھیان بٹا کریہ کام کیا۔ مس ویرا کے کمرے میں اس نے سمندری پودے کی بیل لگادی تاکہ وہ ڈر جائیں اور ہم سب اس کی مدد کو بھاگیں اور اسی افراتفری میں وہ بوڑھے جج کا کام تمام کردے‘‘۔ لمبورڈ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح قاتل کو کچا چبا جائے۔
’’تو پھر کسی نے گولی چلنے کی آواز کیوں نہیں سنی؟‘‘ بلور اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔
’’مس ویرا پوری شدت سے چیخ رہی تھیں۔ باہر بارش تیز ہواؤں کے ساتھ زور و شور سے برس رہی تھی۔ ہمارا پورا دھیان مس ویرا کی طرف تھا۔ اس لیے اگر کسی نے گولی چلنے کی آواز بھی سنی ہوگی تو دھیان نہیں دیا گیا۔‘‘ ایک بار پھر وہ سب خاموش ہوگئے۔
’’اف! میں جارہی ہوں سونے۔‘‘ اس بار بھی ویرا سب سے پہلے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’چلو سب ایک ساتھ ہی چلتے ہیں۔‘‘ آرم اسٹورنگ اور لمبورڈ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’میں سوچ رہا ہوں کہ قاتل نے وہ پسٹل اب کہاں رکھی ہوگی۔‘‘ بلور سب سے آخر میں پرسوچ انداز میں کہتا ہوا اوپر کی طرف بڑھ گیا۔
*۔۔۔*
کیپٹن لمبورڈ نے اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرکے سکون کا سانس لیا۔ موم بتی کی روشنی میں اس نے آئینہ میں اپنے چہرہ کا جائزہ لیا اور گھڑی اتارنے لگا۔ گھڑی اتار کر اس نے ہاتھ میں پکڑی اور بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔ 
وہ ہمیشہ اپنی گھڑی بستر کے برابر والی میز کی دراز میں رکھتا تھا۔ آج بھی اس نے دراز کھولی تو ایک ہلکی سی حیرت بھری چیخ اس کے منہ سے نکلی۔ اس کی پسٹل دراز میں واپس موجود تھی۔
*۔۔۔*
سابق انسپکٹر بلور اپنے بستر پر الرٹ بیٹھا تھا۔ اس کا سونے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس کے ذہن میں مختلف سوچیں گردش کررہی تھیں۔ جب نیچے ہال میں لگے گھڑیال نے ایک بجایا تو بلور بستر پر نیم دراز ہوگیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ طوفان کا زور ٹوٹ گیا تھا اور بنگلے میں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اچانک بلور چونک کر اٹھ بیٹھا۔ اسے اپنے کمرے کے دروازے کے باہر کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز آئی۔ بلور بالکل آہستگی سے اپنے بستر سے اترا اور دروازے کے پاس آکر اس سے کان لگادیے۔ کافی دھیان سے سننے کے باوجود اس کو دوبارہ کوئی آواز نہیں آئی۔
’’کون تھا یہ؟‘‘ بلور کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ جو رات کے اس وقت چپکے چپکے راہ داری میں چل رہا تھا۔ یہ سوچ کر بلور کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ باہر قاتل موجود ہوسکتا ہے لیکن پھر اس کی رگ تفتیش خوف پر غالب آگئی۔ اس کا دل باہر جا کر دیکھنے کے لیے مچل اٹھا لیکن کیا اس وقت اپنے کمرے کا حفاظتی حصار چھوڑ کر باہر نکلنا بے وقوفی نہیں ہوگی۔ ہوسکتا ہے قاتل یہی چاہ رہا ہو کہ بلور باہر نکلے اور اس پر حملہ کردے۔ بلور ابھی اسی غور و فکر میں مبتلا تھا کہ اسے قدموں کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
بلور نے مزید انتظار نہیں کیا۔ وہ پنجوں کے بل چلتا چھوٹی میز کے پاس آیا اور موم بتی کے ساتھ ماچس اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لی، پھر میز پر رکھے لیمپ کا تار سوئچ سے نکالا اور اسے ہاتھ میں ہتھیار کے طور پر پکڑلیا۔ پھر انتہائی خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ چاند کی روشنی کھڑکی کی جالیوں سے چھن چھن کر سیڑھیوں پر پڑ رہی تھی۔ اسی روشنی میں اسے گھر کے مرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہوئے کسی شخص کی جھلک نظر آئی۔ وہ فوراً اس کے پیچھے لپکا۔ اچانک وہ سیڑھیوں کے وسط میں پہنچ کر رک گیا۔ اُف وہ کتنی بڑی بے وقوفی کرنے جارہا تھا۔ اس طرح رات کے اندھیرے میں اندھا دھن کسی شخص کے پیچھے بنگلے سے نکلنا بے وقوفی نہ تھی تو کیا تھا۔ اس کے ذہن میں ابھی ابھی خیال آیا کہ وہ اب صرف 4 لوگ بچے ہیں۔ بلور خود، لمبورڈ، مس ویرا، ڈاکٹر آرم اسٹورنگ۔۔۔ جو کوئی بھی اس وقت باہر گیا ہے اس کا کمرہ خالی ہوگا۔ اگر بلور ابھی جا کر چیک کرلے تو اسے پتا چل جائے گا کہ چوری چھپے باہر نکلنے والا کون تھا۔
بلور یہ سوچ کر الٹے قدموں واپس مڑ کر اوپر آگیا۔ راہ داری میں سب سے پہلے بلور کا اپنا کمرہ تھا اس کے بعد ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کا۔ بلور نے زور زور سے اس کا دروازہ بجایا لیکن ڈاکٹر کے کمرے سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے تھوڑی دیر انتظار کیا پھر لمبورڈ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
’’کون ہے؟‘‘ اس کے کھٹکھٹاتے ہی لمبورڈ نے جواب دے دیا۔ 
’’میں ہوں بلور! سنو لمبورڈ میں نے ابھی ابھی ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کو گھر سے باہر جاتے دیکھا ہے، وہ کمرے میں موجود نہیں ہے ۔‘‘ اس لمحہ لمبورڈ موم بتی پکڑے کمرے سے باہر آگیا۔ اسے دیکھتے ہی لمبورڈ نے ساری تفصیل تیزی سے اسے سنادی۔ اس بار لمبورڈ نے آرم اسٹورنگ کا دروازہ بجایا لیکن آرم اسٹورنگ کا کوئی جواب نہ ملا۔ اس کا دروازہ باہر کی جانب سے بند تھا۔
’’چلو آؤ! اس کے پیچھے چلیں۔ اس بار ہم اسے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیں گے۔‘‘ لمبورڈ جوش میں آگیا۔ جاتے جاتے وہ لوگ ویرا کے کمرے تک آگئے۔
’’مس ویرا! مس ویرا‘‘
’’کون؟ کیا ہوگیا؟‘‘ ویرا نے فوراً گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
’’سنو! میں اور بلور ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کو ڈھونڈنے جارہے ہیں کیوں کہ وہ اپنے کمرے میں موجود نہیں ہے۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے آپ اپنے کمرے سے نہیں نکلیے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ویرا نے جواب دیا۔
’’اگر آرم اسٹورنگ آکر کہے کہ میں یا بلور مرگئے ہیں ہرگز یقین نہیں کریے گا۔ اپنا دروازہ ٹھیک سے بند کرلیں اور جبھی باہر آئیے گا جب میں یا بلور آپ کو بلائیں؟‘‘
’’ہاں ہاں سمجھ گئی۔‘‘ ویرا شاید جھنجھلا گئی تھی جب کہ لمبورڈ اور بلور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے۔
’’ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا کیوں کہ آرم اسٹورنگ کے پاس پسٹل موجود ہے۔‘‘ بلور دو سیڑھیاں ایک ساتھ اتر رہا تھا۔ لمبورڈ جواباً ہنس پڑا۔ یہ تمہاری غلط فہمی ہے دوست۔‘‘ مرکزی دروازہ کھولتے ہوئے اس نے اپنے چہرے کا رخ بلور کی جانب کیا۔ ’’مسٹر اوین نے جج کا کام تمام کرنے کے بعد پسٹل میری دراز میں واپس پہنچادی تھی اور وہ اس وقت میری جیب میں ہے۔‘‘ بلور کے بڑھتے ہوئے قدم فوراً رک گئے۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا جو لمبورڈ کی تیز آنکھوں سے چھپ نہ پایا۔
’’احمق مت بنو بلور۔ اس وقت میرا تمہیں گولی مارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر تمہیں مجھ پر شک ہے تو جاؤ واپس اپنے کمرے میں جا کر بند ہوجاؤ۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ اس وقت تمہارے شکوک و شبہات دور کرنے کے بجائے آرم اسٹورنگ کو ڈھونڈنا زیادہ ضروری ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔ بلور ایک منٹ تک اسے جاتا دیکھتا رہا پھر تھوڑا ہچکچا کر اس کے پیچھے نکل کھڑ اہوا کیوں کہ ایک سابق پولیس انسپکٹر ہونے کے ناطے وہ خطروں سے کھیلنے کا عادی تھا۔
*۔۔۔*
اوپر کمرے میں بیٹھی ویرا دو تین بار اپنے دروازے کا جائزہ لے چکی تھی جو کہ مضبوط لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ ویرا نے اس کی کنڈی چڑھا کر لاک لگادیا تھا اور ساتھ میں ایک بھاری کرسی بھی اس کے ساتھ ٹکادی تھی۔ اسے یقین تھا کہ آرم اسٹورنگ کیا لمبورڈ جیسا مضبوط جسم کا مالک بھی اس دروازے کو توڑ نہیں سکتا۔ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کو اگر ویرا کو کمرے سے نکالنا بھی ہوا تو وہ کوئی اور حربہ استعمال کرے گا۔ شاید وہ وہی کہے کہ بلور اور لمبورڈ مرگئے ہیں۔ یا وہ کہے کہ گھر میں آگ لگ گئی ہے یا پھر وہ واقعی آگ لگا دے اور مجبوراً ویرا کو باہر نکلنا پڑے۔۔۔ ویرا بہت دیر تک مختلف باتیں سوچتی رہی۔ اچانک اسے لگا کہ باہر کوئی چل رہا ہے۔ اس نے غور سے سنا لیکن اسے کوئی آواز نہیں آئی تو اپنا سر جھٹک کر وہ دوبارہ سوچنے میں مگن ہوگئی۔
تھوڑی دیر بعد اسے واضح طور پر نیچے والے گھر سے چلنے پھرنے اور بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔ دروازے کھل بند ہورہے تھے۔ کوئی جیسے کچھ تلاش کررہا تھا۔ آخر کافی دیر بعد اس کے دروازے کے باہر لمبورڈ کی آواز ابھری۔
’’مس ویرا! آپ ٹھیک ہیں؟‘‘
’’ہاں! کیا ہوا؟ آرم اسٹورنگ ملا۔‘‘ اس نے بے چین ہو کر پوچھا۔
’’کیا آپ دروازہ کھولیں گی؟‘‘ اب کی بار بلور نے کہا۔ جواباً ویرا نے دروازہ کھول دیا۔ وہ دونوں باہر کھڑے بری طرح ہانپ رہے تھے اور ان کے جوتوں اور پائنچوں پر ریت اور کیچڑ لگا ہوا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ویرا نے پریشانی سے دونوں کو اوپر سے نیچے دیکھا۔
’’آرم اسٹورنگ غائب ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’آرم اسٹورنگ جزیرے پر سے ایسے غائب ہوچکا ہے جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ۔‘‘ لمبورڈ نے پھر بتایا۔
’’ہاں، یا پھر جیسے اسے جادو کے زور پر مکھی بنا کر یہاں سے اڑادیا گیا ہو۔‘‘ بلور نے بھی وضاحت کی۔
’’بالکل ہی عقل سے پیدل ہو تم لوگ۔ وہ یہیں کہیں چھپا ہوا ہوگا۔‘‘ ویرا ان کی تشبیہات سن کر چڑگئی۔
’’نہیں، بنگلے کے باہر جزیرے پر چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ آج تو ویسے بھی چاندنی رات ہے سب کچھ صاف نظر آرہا ہے۔ وہ نہ بنگلے کے باہر کہیں موجود ہے نہ بنگلے میں۔‘‘
’’مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘ ویرا چکرا گئی۔
’’بلور صحیح کہہ رہا ہے۔‘‘ لمبورڈ نے تصدیق کی اور پھر ایک لمحے توقف کے بعد بولا۔ ’’نیچے کھانے کی میز پر اب صرف 3 گڑیاں ہیں‘‘۔
*۔۔۔*
باورچی خانے کی کھڑکی سے آنے والی دھوپ اس میز پر پڑ رہی تھی جس پر بیٹھے وہ لوگ ناشتہ کررہے تھے۔
’’آج ہم پہاڑی پر شیشے کے ذریعے مدد کے سگنل بھیجیں گے۔‘‘
’’ہاں تاکہ قصبے سے کوئی کشتی آکر نکال لے جائے‘‘۔ ویرا پرجوش ہوگئی۔
’’طوفان کا زور ٹوٹا ضرور ہے لیکن سمندر ابھی بھی چڑھا ہوا ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ شام تک پھر بارش شروع ہوجائے۔ کل سے پہلے تو جزیرے تک کوئی کشتی نہیں پہنچ سکتی۔‘‘ لمبورڈ نے آہستگی سے اس کی امید توڑی۔
’’اُف! ایک اور رات اس جہنم میں۔‘‘ ویرا کپکپا گئی۔ وہ دونوں جواباً خاموش رہے۔ تھوڑی دیر بعد بلور گلا کھنکھار کر گویا ہوا۔
’’آرم اسٹورنگ آخر گیا تو کہاں گیا؟‘‘
’’کھانے کی میز پر موجود 3 گڑیاں تو اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا‘‘۔ لمبورڈ نے جواب دیا۔
’’پھر اس کی لاش کہاں ہے؟‘‘ ویرا نے پوچھا۔
’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ لمبورڈ نے کندھے اچکائے۔
’’ہوسکتا ہے کسی نے اس کی لاش کو سمندر میں پھینک دیا ہو‘‘۔ بلور نے ہچکچا کر کہا۔
لمبورڈ نے چونک کر اسے دیکھا اور تیز لہجے میں اس کی بات کاٹی: ’’لیکن آخر کس نے۔ کل رات تک جزیرے پر ہم 4 کے علاوہ تھا ہی کون؟ 6 مردہ لوگ!!! پھر لاش کون سمندر میں پھینکے گا؟ تم؟ میں؟ آرم اسٹورنگ کو دروازے سے باہر تم نے جاتے دیکھا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر تم میرے پاس دوڑے آئے۔ میں تمہارے سامنے اپنے کمرے میں سے نکلا تھا۔ ہم دونوں ایک ساتھ باہر گئے ایک ساتھ اسے ڈھونڈا۔ میں ایک لمحے کے لیے بھی تم سے جدا نہیں ہوا تھا پھر آخر کس طرح میں اسے مار کر سمندر میں پھینک سکتا ہوں۔‘‘
’’مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے نہیں معلوم! لیکن مجھے ایک بات پتا ہے۔ پسٹل اب تمہارے پاس ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ مسٹر اوین نے چرالی تھی اور پھر اسے تمہارے کمرے میں واپس رکھ دیا۔‘‘
’’خدا کے لیے بلور۔ تم لوگوں نے خود میری تلاشی لی تھی۔ اب میں اس کے علاوہ کیسے ثابت کروں کہ پسٹل میری دراز سے غائب ہوگئی تھی اور کل رات یہ پھر اپنی جگہ موجود تھی۔‘‘ لمبورڈ جھنجھلا گیا۔
’’ٹھیک ہے۔ اگر تم اتنے ہی سچے ہو تو ایک کام کرو۔ اس پسٹل کو اس صندوق میں بند کردو جس میں دوا وغیرہ ہیں کیوں کہ جب تک یہ تمہارے پاس موجود ہے میں اور مس ویرا تمہارے رحم و کرم پر ہیں۔‘‘
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئے۔ میں کیوں جانتے بوجھتے ایک ایسی چیز کسی صندوق میں بند کروں گا جو خطرے کے وقت میرے کام آسکتی ہے۔‘‘ لمبورڈ اچھل پڑا۔
’’تو پھر اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے۔۔۔‘‘ بلور تپ گیا۔
’’کیا؟ یہی کہ میں ہی مسٹر یو۔ این۔ اوین ہوں؟ تمہاری مرضی جو سمجھنا چاہو سمجھو۔‘‘
’’اُف! تم دونوں کیوں احمقوں کی طرح لڑ رہے ہو۔‘‘ ویرا کو آخر بیچ میں بولنا پڑا۔ ’’کیا تم لوگوں کو وہ بچوں کی نظم یاد نہیں رہی جو اوپر آتش دان پر لٹکی ہے۔ اس کا آخری سے چوتھے نمبر والا شعر یہ تھا۔
چار چھوٹے نیگرو بچے سمندر پر گئے کھیلنے
ایک بچے کو اژدھا کھا گیا باقی رہ گئے تین
اب ذرا سوچو۔ اس جزیرے یا سمندر پر اژدھا کہاں سے آئے گا۔ یہاں پر اژدھے کو جھوٹ یا دھوکے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہوسکتا ہے آرم اسٹورنگ مر انہ ہو۔ وہ اس جزیرے پر کہیں چھپا ہوا ہو۔ کھانے کی میز پر سے کانچ کی ایک گڑیا کم کرنا کیا مشکل ہے۔ اس طرح وہ ہم سب کو دھوکا دے رہا ہو۔‘‘ ویرا نے اس طرح ان کو سمجھایا جیسے وہ دو چھوٹے بچوں کو دو جمع دو، چار سکھا رہی ہو۔
’’اور وہ چھپنے کی جگہ کون سی ہے۔ ہم نے ہر جگہ تو تلاش کرلیا۔‘‘ بلور تلملا گیا۔
’’پسٹل کی تلاش تو یاد ہے نا مسٹر بلور۔ وہ بھی نہیں ملی تھی اور آج وہ لمبورڈ کے کوٹ کی جیب میں موجود ہے۔‘‘ ویرا نے طنز کیا۔
’’پسٹل اور انسان کے سائز میں کافی فرق ہوتا ہے؟‘‘
’’مانو یا نہ مانو۔‘‘ ویرا نے ناک پر سے مکھی اڑائی۔
’’آرم اسٹورنگ یہیں کہیں موجود ہے مجھے پکا یقین ہے۔‘‘
*۔۔۔*
ان کی پوری صبح پہاڑی پر گزری۔ باری باری وہ لوگ شیشے کی مدد سے آسمان پر سگنل دے رہے تھے۔ بہت دفعہ سگنل بھیجنے کے باوجود کوئی سگنل نہیں آیا۔ آخر تھک ہار کر انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے وقفہ کیا۔
’’بنگلے کے باہر کھلی فضا کتنی محفوظ لگ رہی ہے نا۔ میں اب واپس نہیں جاؤں گی۔‘‘ ویرا نے سمندری ہوا کو اپنے اندر اتارتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔ اس کھلے میدان میں اگر کسی نے ہم تک آنے کی کوشش کی تو ہمیں پتا چل جائے گا۔‘‘ لمبورڈ نے حامی بھری۔
’’لیکن اب تو دو بج چکے ہیں، کیوں نہ پہلے دوپہر کا کھانا اندر جا کر کھالیا جائے۔‘‘ بلور نے گھڑی پر نظر دوڑائی۔
’’نہیں بھئی۔ مجھے معاف رکھو۔ میں اندر نہیں جاؤں گی۔‘‘ ویرا نے صاف جواب دیدیا۔
’’اور تم لمبورڈ؟‘‘
’’نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔ میں یہیں رہوں گا‘‘۔ لمبورڈ نے نفی میں سرہلایا۔
’’مجھے تو اپنے معمول کے مطابق وقت پر کھانا کھانے کی عادت ہے لیکن ہم لوگوں نے طے کیا تھا کہ اب کسی صورت الگ نہیں ہونا۔‘‘ بلور نے یاد دلایا۔
’’تو تم خود ہی شیر کی کچھار میں جانا چاہ رہے ہو۔ میں یا مس ویرا نہیں۔‘‘ لمبورڈ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ بلور اس کی بات سن کر بنگلے کی جانب اکیلا بڑھتا چلا گیا۔
’’کیا یہ رسکی کام نہیں۔‘‘ ویرا نے اسے جاتا دیکھ کر فکر مندی سے لمبورڈ سے پوچھا۔
’’نہیں‘‘۔ لمبورڈ نے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ بلور ہی ہمارا مطلوبہ مسڑ یو۔ این۔اوین ہے۔‘‘ ویرا کے چہرے پر بے یقینی پھیلتے دیکھ کر اس نے مزید وضاحت کی۔ دیکھئے مس ویرا۔ کل رات بلور نے ایک دم ہم لوگوں سے آکر کہا کہ اس نے ڈاکٹر آرم اسٹورنگ کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا ہے لیکن کیا اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تھا؟ نہیں سوائے اس بات کہ آرم اسٹورنگ واقعی اپنے کمرے میں موجود نہیں تھا۔ کیا پتا اس نے ہم لوگوں کو جگانے سے پہلے جا کر آرم اسٹورنگ کو ٹھکانے لگا دیا ہو۔ جو کہانی اس نے ہمیں سنائی اس میں خود اس نے قبول کیا ہے کہ میں اور آپ اپنے اپنے کمرے سے نہیں نکلے تھے یہاں تک کہ اس نے ہمیں آکر اٹھایا۔‘‘
ویرا نے لمبورڈ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ خاموش بیٹھی سمندر کو تکتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے لمبورڈ سے ایک عجیب بات کہی۔
’’کیپٹن! کیا آپ کو یہ محسوس ہوا ہے کہ کوئی آپ کو مستقل دیکھ رہا ہے؟ یہاں کوئی اور بھی موجود ہے۔‘‘
’’یہ ہمارا وہم ہے۔‘‘ لمبورڈ نے پرسوچ انداز میں جواب دیا۔
’’ہمارا! اس کا مطلب ہے کہ آپ کو بھی یہ محسوس ہوا ہے۔ کیا۔۔۔‘‘ ویرا ایک دم بات ادھوری چھوڑ کر اچھل کر کھڑی ہوگئی۔
’’کیا۔۔۔ کیا آپ نے وہ آواز سنی۔‘‘ اس نے بدحواسی سے لمبورڈ سے پوچھا جو کہ اس کے ساتھ ہی چونک کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’ہاں، جیسے کوئی بھاری چیز زمین سے ٹکرائی ہو اور ایک ہلکی سی چیخ بھی۔‘‘ دونوں کا رخ بنگلے کی طرف تھا۔ وہ اسے واضح دیکھ سکتے تھے۔
’’یہ آواز وہیں سے آئی ہے۔ چلو آؤ چل کر دیکھیں۔‘‘ لمبورڈ نے جلدی جلدی کہا۔
’’نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔‘‘ ویرا وہاں جانے کے خیال سے ہی لرز گئی۔ 
’’اوکے پھر تم یہیں کھڑی رہو۔ میں جا رہا ہوں‘‘۔ لمبورڈ کو روکنا مشکل تھا۔ ویرا کو بھی مجبوراً اس کے پیچھے آنا پڑا۔
’’بنگلے کا سامنے والا ٹیرس پرسکون تھا وہاں کوئی گڑ بڑ کے آثار نہیں تھے۔ وہ لوگ پورے بنگلے کا چکر لگاتے ہوئے جب پچھلی جانب آئے تو دھک سے رک گئے۔
پچھلے ٹیرس کی پتھر کی زمین پر بلور اوندھا پڑا تھا۔ اس کا سر کچلا ہوا تھا جب کہ سفید ماربل کی بھاری سی کوئی چیز اس کے سر سے تھوڑی دور پڑی چمک رہی تھی۔ لمبورڈ نے سر اٹھا کر اوپری منزل کو دیکھا۔
’’یہ والی کھڑکی کس کے کمرے کی ہے۔ یقیناً اس سے یہ پتھر پھینکا گیا ہے۔‘‘
’’میری!‘‘ ویرا کی آواز بھی اب واضح طور پر لرز رہی تھی۔
’’میری کھڑکی ہے یہ والی اور یہ پتھر نہیں بلکہ سفید ماربل کی گھڑی ہے جو میرے آتش دان پر رکھی تھی اور۔۔۔ اور اس کی شکل بھالو جیسی ہے‘‘۔ لمبورڈ بری طرح چونک گیا۔ اس کے ماتھے کی رگ پھڑک رہی تھی۔
’’آرم اسٹورنگ اندر کہیں موجود ہے۔ اب کوئی شک نہیں رہا۔ میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔‘‘
’’نہیں خدا کے لیے نہیں!‘‘ ویرا چلائی۔ ’’وہ یہی چاہتا ہے کہ ہم گھر میں داخل ہو کر اسے ڈھونڈیں اور اسے ہم پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔ وہ پاگل ہے۔ آرم اسٹورنگ پاگل ہے اور ایک پاگل شخص کسی صحیح الدماغ شخص سے زیادہ چالاک ہوسکتا ہے۔‘‘
*۔۔۔*
وہ ساحل کے کنارے کنارے ٹہل رہے تھے اور اپنی اپنی مختلف باتیں سوچ رہے تھے۔ اچانک لمبورڈ رک گیا جس پر ویرا نے اسے سوالیہ انداز میں دیکھا۔
’’وہ کیا ہے؟ کیا آپ کو نظر آرہا ہے مس ویرا؟‘‘ اس کی آواز قدرے بلند تھی۔
ویرا نے محتاط انداز میں اس جانب گردن موڑی جس طرف لمبورڈ اشارہ کررہا تھا۔
’’کپڑے۔‘‘ ویرا بھی چونک گئی۔ ’’کسی کے کپڑے پڑے ہوئے ہیں ان دو پتھروں کے درمیان میں‘‘۔ وہ دونوں اس پتھر کی جانب تیزی سے بڑھے۔ ’’ساتھ میں جوتے بھی ہیں اور۔۔۔ اور۔۔۔‘‘ ویرا بولتے بولتے رک گئی۔
’’یہ کپڑے نہیں کوئی آدمی ہے‘‘۔ لمبورڈ نے اس کی بات مکمل کی۔ جتنی تیزی سے وہ لوگ اس تک پہنچے تھے اتنی ہی تیزی سے کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹے۔
نیلا چہرہ۔۔۔ پھولا ہوا جسم۔۔۔ بے جان آنکھیں۔
’’اف خدایا۔‘‘ لمبورڈ کے گلے سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
’’یہ۔۔۔ یہ تو آرم اسٹورنگ ہے۔‘‘
*۔۔۔*
وقت ساکت ہوگیا تھا۔ کبھی کبھار اپنی آنکھوں پر یقین کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ اس دن ویرا اور لمبورڈ کو شاید پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا۔ سامنے پڑی وہ لاش دیکھ کر انہیں نہ حیرانی ہوئی نہ پریشانی کیوں کہ ان دونوں کی ساری حسیات منجمد ہوگئی تھیں۔ ان کو احساس تھا تو بس ایک بات کا۔
آرم اسٹورنگ کل رات کو چھپا نہیں تھا بلکہ کسی نے اسے سمندر میں پھینک دیا تھا اور اس نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں سمندر میں ہی لی تھیں اور اب پوری ایک رات اور آدھے دن کے بعد کسی لہر نے اسے پھر واپس پہنچا دیا تھا۔ تو پھر وہ آخر کون تھا جس نے کل رات کھانے کی میز پر موجود گڑیوں میں سے ایک کم کی۔ وہ کون تھا جس نے بلور کے سر کو ایک بھاری گھڑی سے کچل دیا۔ کون تھا وہ؟؟
’’ مس ویرا مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ لیکن میں اب یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم دونوں کے خاتمے کا وقت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘ لمبورڈ کی مدھم سی آواز ابھری جیسے لہروں کے شور کی وجہ سے ویرانے بمشکل سنا۔ 
خاتمہ!! ویرا نے سوچا۔ خاتمہ!! اس لفظ نے بجائے اسے مایوس کرنے کے اس کے اندر ایک قوت پیدا کردی۔ اس نے اپنے پیروں کے پاس پڑے آرم اسٹورنگ کا چہرہ دیکھا جو اگر وہ عام حالات میں دیکھتی تو اس کو ہفتوں نیند نہ آتی۔
’’بے چارہ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ! ہمیں کم از کم اسے لہروں کی زد سے تو دور کردینا چاہیے۔ ایسا کرتے ہیں اس کی لاش اٹھا کر بنگلے کے قریب پہنچا دیتے ہیں‘‘۔ اس نے اپنے لہجے میں دنیا جہاں کی ہمدردی سموتے ہوئے ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے لمبورڈ کی بات سنی ہی نہ ہو۔
’’ٹھیک ہے جیسے تم کہو۔‘‘ لمبورڈ نے اگر کچھ محسوس بھی کیا تو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ آرم اسٹورنگ کا جسم خاصا بھاری ہوگیا تھا۔ ویرا لمبورڈ کی جتنی مدد کرسکتی تھی اس نے کی۔ اس کو اٹھانے میں مدد دی پھر اس کا لاشہ پکڑ کر کافی دور تک بمشکل لائی۔ بنگلے کے قریب پہنچ کر اسے نیچے رکھ دیا۔ لمبورڈ نے نیچے بیٹھ کر اس کے ہاتھ اس کے سینے پر باندھ دیئے اور ٹانگیں سیدھی کردیں۔
’’اطمینان ہوگیا؟‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے اپنی پشت پر کھڑی ویرا سے پوچھا۔
’’ہاں! کافی زیادہ۔‘‘ ویرا کے لہجے میں کوئی انہونی محسوس کرتے ہوئے وہ تیزی سے اس کی جانب مڑا۔
ویرا کلیتھرون کیپٹن لمبورڈ کا پسٹل ہاتھ میں پکڑے اس کے دل کا نشانہ لیے کھڑی تھی۔
*۔۔۔*
لمبورڈ ششدر رہ گیا۔ ’’تو تمہیں اس لیے ہمدردی ہورہی تھی ڈاکٹر سے تاکہ تم میری پسٹل چرا سکو۔‘‘
ویرا نے جواب دینے کے بجائے سر ہلادیا اور پسٹل پر اپنی گرفت مضبوط کردی۔ موت پہلی دفعہ کیپٹن لمبورڈ کے اتنے قریب کھڑی تھی۔ اس نے اپنے حواس بحال رکھے اور تیزی سے اپنے ذہن کو دوڑایا۔
’’مس ویرا!‘‘ اس نے اپنے تاثرات کو نارمل کیا اور انتہائی نرم لہجے میں کہا۔ ’’یہ حماقت نہ کریں۔ لائیں یہ پسٹل واپس کریں۔‘‘
جواباً ویرا اسی ہسٹریائی انداز میں ہنسی جیسے راجر کی موت کے بعد ہنسی تھی۔
’’آپ کیا کرنے والی ہیں مس ویرا۔ میری آپ سے کیا دشمنی ہے‘‘۔ لمبورڈ کو پتا تھا اسے جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہے۔
ویرا نے خاموشی سے پسٹل لوڈ کی اور ٹریگر پر انگلی رکھ دی۔ لمبورڈ کو اس کی خاموشی سے خوف آرہا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ اس وقت ویرا کو کچھ سمجھانا مشکل ہے۔ اسی لیے اس نے اسے باتوں میں لگا کر پسٹل چھیننے کا فیصلہ کیا۔
’’کیا باقی لوگوں کو تم نے مارا ہے؟‘‘
’’میں نے! حد ہوتی ہے اداکاری کی کیپٹن لمبورڈ۔ جاتے جاتے اپنے کیے کا الزام مجھ پر تھوپنا چاہتے ہو‘‘۔ ویرا کو اس کی بات سن کر سخت تاؤ آیا۔
’’میرا کیا! میرا س سب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آخر کس طرح سمجھاؤں۔‘‘ لمبورڈ جھنجھلا گیا۔
’’نہیں سمجھاؤ کچھ۔ میں نے ویسے بھی تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کرنا۔ جو شخص صرف اپنی جان بچانے کے لے اتنے سارے لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے اس کا کیا اعتبار۔‘‘
’’ہونہہ! اور تم تو مجھ سے بھی زیادہ سفاک ہو ایک بچے کو موت کے منہ دکھیل دیا۔‘‘ لمبورڈ نے ساری شرافت بھلا کر منہ توڑ جواب دیا۔
ویرا سے سچ برداشت نہیں ہوا س نے ٹریگر پر دباؤ بڑھادیا۔ اس لمحے دو چیزیں ایک ساتھ ہوئیں۔
ویرا کی ٹانگ پر اچانک کوئی تیز دھار چیز آکر لگی اور دوسری طرف لمبورڈ اپنی جگہ سے اچھلا اور ویرا کے پسٹل والے ہاتھ پر حملہ کیا۔
ویرا کے دماغ نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں آرڈر دیا اور انگلی نے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ٹریگر دبادیا۔ پسٹل سے نکلتی گولی لمبورڈ نے بالکل آخری لمحے میں دیکھی لیکن سامنے سے ہٹنے کا وقت اس کے پاس بچا نہ تھا۔ گولی ٹھیک نشانے پر لگی اور لمبورڈ مردہ حالت میں زمین پر آگرا۔
*۔۔۔*
ویرا کی ٹانگ سے خون دھڑا دھڑ بہہ رہا تھا۔ ایک منٹ تک وہ پسٹل کو اسی پوزیشن میں پکڑے پکڑے شاک کی حالت میں لمبورڈ کو دیکھتی رہی لیکن پھر تیزی سے پلٹی اور اس چیز کی تلاش میں نظریں دوڑائیں جس سے اس کے اوپر حملہ کیا گیا تھا۔ اسے وہ کلہاڑی تھوڑے قدم کے فاصلے پر پڑی نظر آگئی۔ کلہاڑی کس سمت سے آئی تھی اس کا اندازہ ہوتے ہی ویرا نے چونک کر بنگلے کو دیکھا۔ سیڑھیوں پر بنی وہ کھڑکیاں جو مرکزی دروازے کے اوپر کھلتی تھیں ان میں سے کسی کی جھلک دکھائی دی لیکن جو کوئی بھی تھا غائب ہوگیا۔
ویرا نے آگے بڑھنا چاہا لیکن اس کے زخم نے اس کو اجازت نہیں دی اور لڑکھڑا گئی۔ اس کی منتظر نظریں مرکزی دروازے کی جانب اٹھیں لیکن اس سے بھی کوئی نکل کر باہر نہیں آیا۔
ویرا پر کمزوری طاری ہورہی تھی۔ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اس کا سر چکرا رہا تھا۔ اس کا زخم کافی گہرا تھا۔ ویرا نے جھک کر اس کا معائنہ کیا لیکن پھر جلدی سے سیدھی کھڑی ہوگئی۔ اچانک بنگلے کے دائیں جانب سے کوئی نمودار ہوا جس کو دیکھ کر ویرا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
اف خدایا! نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ وہ ضرور خواب دیکھ رہی ہے۔ وہ شخص آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ویرا کو یقین ہوگیا کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ کوئی مرا ہوا شخص زندہ ہوسکتا ہے۔
نہیں ہرگز نہیں۔ یہ اس کا وہم تھا۔ اس کے دماغ کا فتور ہے۔ وہ جو کچھ بھی تھا اس کے تھوڑی دور آکر رک گیا۔
’’ویری گڈ مس ویرا ویری گڈ۔ آپ نے اپنی زندگی کا دوسرا قتل بڑی کامیابی سے سرانجام دیا۔‘‘ اس نے تالیاں بجاتے ہوئے لمبورڈ کے اکڑے جسم پر نظر ڈالی جو دھوپ میں بے جان پڑا تھا۔
’’تت۔۔۔ تم۔۔۔‘‘ ویرا ہکلائی۔
’’ہاں میں! کیوں حیرت ہوئی؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’لیکن۔۔۔ لیکن تم مرگئے تھے۔ ہم نے خود دیکھا تھا‘‘۔ ویرا کا لہجہ کمزور پڑگیا۔
وہ ہنس پڑا۔ ’’کبھی کبھار آنکھوں دیکھا بھی دھوکا ہوتا ہے مس ویرا‘‘۔
’’تو اب تم مجھے مارنے آئے ہو؟‘‘
’’ہاں ہاں! تمہیں مارنا تو ہے لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ نیچے دیکھو۔ آہستہ آہستہ خون تمہارے جسم سے نکل کر ریت میں جذب ہورہا ہے۔ تمہیں ختم کرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ تھوڑی دیر بعد تم خود ہی بے ہوش ہو کر گر جاؤ گی اور میرا کام صرف تمہیں تمہارے کمرے میں موجود پھانسی کے پھندے میں لٹکانا ہوگا۔ اس طرح نظم کے آخری شعر کے مطابق تم بھی ختم ہوجاؤ گی‘‘۔
’’کیوں آخر کیوں؟‘‘ ویرا کے پاس واقعی وقت ختم ہورہا تھا۔
’’کیوں! مس ویرا تم جتنا چاہو حقیقت کو جھٹلاؤ لیکن جو سچ ہے وہ سچ ہے۔ تم ایک قاتل ہو۔ ایک معصوم بچے کی قاتل اور باقی لوگ بھی تمہاری ہی طرح گناہ گار تھے۔ تم جیسے لوگ زندہ رہنے کے قابل نہیں۔ اس زمین پر سے تم لوگوں کے بوجھ کو کم کرنے کا فریضہ میں نے اٹھالیا۔‘‘
’’اوہ تو ہم لوگ گناہ گار ہیں۔ تمہارا پنے بارے میں کیا خیال ہے مسٹر۔ ہم میں اور تم میں فرق کیا رہ گیا ہے۔ ہم قاتل تھے تو تم بھی قاتل ہو۔ تم سمجھتے ہو ہم سب کو مار کر تم بچ جاؤ گے۔‘‘ ویرا چیخ پڑی لیکن اس نے ویرا کی بات کاٹ دی۔
’’میں نے کب کہا کہ میں بچ جاؤں گا۔ فکر مت کرو۔ تمہیں مارنے کے بعد میں بھی زندہ نہیں رہوں گا۔ اگر آج نہیں تو ویسے بھی چند مہینوں کے بعد میں نے مرنا ہی تھا تو کیوں نہ میں یہیں اس جزیرے پر اپنی آخری سانس لوں جہاں میں نے اپنی زندگی کا مقصد پورا کیا۔‘‘ وہ رکا اور گھوم کر سمندر کی طرف مڑگیا۔ ’’تم اگر زندہ رہتیں تو دیکھتیں کہ جب پولیس یہاں آئے گی تو کس مشکل میں گرفتار ہوجائے گی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ یہاں کون سی آفت ٹوٹی ہے۔ وہ کس طرح اس معمے کا حل نکال سکیں گے اور تمہیں پتا ہے مس ویرا‘‘۔ وہ واپس اس کی جانب مڑا۔ ’’یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ یہ کلہاڑی دیکھ رہی ہو‘‘۔ اس نے زمین پر پڑی کلہاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ’’میں نے اس سارے ہفتے کی روداد لفظوں میں پرو کر تحریر کی شکل دے دی ہے اور اسے اسی جگہ دفن کیا ہے جہاں پر اس کلہاڑی نے پہلے بھی خون بہایا تھا۔ سالوں بعد اگر کسی نے بھولے سے وہاں کوئی کھدائی کردی تو وہ کاغذات برآمد ہوں گے اور لوگ میری ذہانت پر اَش اَش کراٹھیں گے۔‘‘
ویرا کا دل غصے سے بھرگیا اس نے لاشعوری طور پر اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا اور ٹریگر دبادیا۔
ہنستے ہوئے شخص کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ ہوا کیا ہے۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں نے جھک کر اپنا سینہ دیکھا جہاں پر گولی لگی تھی اور پھر اس کی زندگی نے اسے سر اٹھانے کی بھی مہلت نہ دی اور اس کے جسم سے روح پرواز کرگئی۔
*۔۔۔*
ویرا نے اپنی باقی ہمت جمع کی اور پلٹ کر بنگلے کی طرف آگئی۔ اس کا لرزتا وجود ایک لمحے کے لیے مرکزی دروازے کے سامنے رکا۔ لیکن وہ آگے بڑھ گئی۔
اس شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ حقیقت حقیقت ہے اور آج بلاآخر اس نے بھی یہ بات تسلیم کرلی۔ وہ قاتل ہے۔ اب اس بات پر اس کے دماغ نے کوئی توجیہہ پیش نہ کی۔ اس نے ایک بچے کو قتل کیا تھا اور اسے اس کی سزا ملی تھی۔ اب اس نے بنگلے میں جا کر اپنی مرہم پٹی کرنے کا ارادہ ترک کیا اور بنگلے کے پچھلی جانب بڑھ گئی۔
اسے جاتے جاتے ایک کام کرکے جانا تھا۔ ایک آخری کام۔۔۔!
*۔۔۔*
اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر اپنے آفس میں سر پکڑے بیٹھے تھے۔
’’ناقابل یقین‘‘۔ انہوں نے اپنی میز کی دوسری سمت کرسی پر بیٹھے انسپکٹر کو مخاطب کیا۔ ’’دس لوگ ایک جزیرے پر۔۔۔ دس مردہ لوگ، ان کے علاوہ ایک بھی ذی روح موجود نہیں ہے وہاں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘‘۔
’’ایسا ہوچکا ہے سر‘‘۔ انسپکٹر نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
’’ایک ہفتہ میں دس لوگوں کی موت قدرتی بات تو نہیں ہے۔ ڈاکٹر کیا کہتا ہے اموات کی وجہ کیا ہے؟‘‘
’’کوئی ایک وجہ نہیں ہے سر۔ جج وار گریو اور کیپٹن لمبورڈ کو گولی ماری گئی ہے۔ مس برنٹ، انوتھی مارسٹن اور مسز راجر کو زہر دیا گیا ہے۔ آرم اسٹورنگ ڈوب کر مرا ہے۔ راجر کے سر کو کلہاڑا مار کر دو ٹکڑے کیا ہے۔ ویرا کلیتھرون کی ٹانگ پر گہرا زخم موجود ہے اور ڈاکٹر کے بقول وہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئی ہے۔ جرنل میکر تھور اور سابق انسپکٹر بلور کے سروں پر کوئی بھاری چیز ماری گئی ہے۔‘‘
’’اُف خدایا‘‘۔ تفصیل سن کر اس کا سر چکرا ہی گیا۔ ’’مطلب ان سب کو قتل کیا گیا ہے لیکن قاتل جزیرے پرموجود نہیں ہے۔‘‘
’’جی سر۔‘‘
قصبے والوں سے بات چیت کی؟‘‘
’’یس سر! وہ لوگ سادے سے ہیں، جزیرے کو پہلے بھی بہت سے امیر کبیر لوگ خرید چکے ہیں تو اس دفعہ جب کسی یو این اوین نامی شخص نے اس کو خرید تو انہیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔‘‘
’’اس یو این اوین کا حلیہ تو بتایا ہوگا انہوں نے؟‘‘
’’نہیں سر! انہوں نے کبھی اس شخص کو نہیں دیکھا سارے انتظامات اس کا ایجنٹ مورس نامی ایک شخص کرتا تھا۔‘‘
’’تو پھر اس ایجنٹ کا پتا لگاؤ۔‘‘
’’ہم نے اس کا پتا ڈھونڈ لیا ہے سر لیکن افسوس اب اس سے کوئی معلومات حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ شخص 7 اگست کی رات کو زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں کھانے سے مرچکا ہے۔‘‘
’’ایک اور قتل؟‘‘
’’لگتا تو ایسا ہی ہے۔ قصبے والوں کے بقول اسی ایجنٹ مورس نے 4 ماہ پہلے یو این اوین کے نام پر یہ جزیرہ خریدا تھا۔ ایک دو مہینوں تک اس پر کام ہوتا رہا جس کی نگرانی بھی ایجنٹ مورس کرتا تھا۔ دو ہفتے پہلے یہاں نوکر جوڑا آیا۔ ایجنٹ مورس کے بقول مسٹر اوین باقاعدہ طور پر یہاں آباد ہونے سے پہلے ایک پارٹی منعقد کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے دوستوں کو دعوت دی۔ اس پارٹی کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کوئی کھیل کھیلا جانا تھا۔ کھیل کے بارے میں کوئی تفصیل ایجنٹ مورس نے قصبے والوں کو نہیں بتائی، بس انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ ایک ہفتہ تک جریزے پر موجود لوگوں کو بالکل ڈسٹرب نہ کیا جائے نہ ہی وہاں سے ملنے والے سگنل کی پروا کی جائے کیوں کہ یہ سب اس کھیل کا حصہ تھا۔‘‘
’’اور اس بات نے بھی جزیرے والوں کو نہیں چونکایا؟‘‘ اے سی نے بیچ میں مداخلت کی۔
’’نہیں سر! بقول ان کے کہ امیر لوگوں کے اسی طرح کے عجیب و غریب مشغلے ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی لیکن جب دو دن پہلے وہاں سے سگنل موصول ہوئے تو ایک ملاح سے صبر نہ ہوا اور وہ کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلا لیکن بارش کی وجہ سے سمندر چڑھا ہوا تھا اور وہ لوگ آج صبح ہی پہنچنے میں کامیاب ہوئے، وہاں پر انہیں دس کے دس لوگ جو جزیرے پر منعقد ہونے والی پارٹی میں مدعو تھے۔ مردہ حالت میں ملے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہاں کوئی گیارہواں شخص بھی موجود ہو جس کے بارے میں قصبے والوں کو پتا نہ ہو۔‘‘ اے سی نے پرسوچ انداز میں کہا۔
’’نہیں سر! قصبے والوں کے بقول جزیرے تک جانے کے لیے صرف کشتی کو ہی استعمال کیا جاسکتا ہے اور تمام ملاحوں کی متفقہ رائے یہ ہے کہ جزیرے پر صرف دس لوگوں کو پہنچایا گیا ہے۔‘‘ انسپکٹر تھوڑی دیر کے لیے رکا ’’اور اگر کسی طرح وہ گیارہواں شخص وہاں موجود بھی تھا تو اسے آج صبح تک زندہ یا مردہ حالت میں وہیں جزیرے پر ہونا چاہیے تھا کیوں کہ پچھلے ایک ہفتے میں بارشوں کے باعث سمندر بپھرا ہوا تھا اور کوئی ماہر سے ماہر تیراک بھی زندہ تیر کر قصبے تک نہیں پہنچ سکتا۔
’’ابھی تم کسی ڈاکٹر کا ذکر کررہے تھے جو ڈوب کر مرا ہے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ مسٹر اوین کوئی گیارہواں شخص نہیں انہیں دس میں سے ایک ہے تو کیا یہ ڈاکٹر مسٹر اوین نہیں ہوسکتا۔ جب اس نے باقی سب کو ختم کردیا ہو تو پھر جزیرے سے بھاگنے کے لیے وہ تیر کر جزیرے تک آنے کی کوشش کررہا ہو لیکن پھر سمندر میں ڈوب گیا ہو اور بعد میں کسی لہر نے اسے واپس جزیرے پر لا پھینکا ہو؟‘‘
’’ہم یہ فرض کرسکتے تھے سر اگر ڈاکٹر کی لاش سمندر کے کنارے پائی جاتی لیکن اس کی لاش کو کسی نے واضح طور پر ساحل سے ہٹا کر بنگلے کے پاس لا کر رکھا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی کوئی جزیرے پر موجود تھا۔‘‘
’’اور جزیرے پر سے کوئی ثبوت نہیں ملا؟ ان دس میں سے کوئی بھی ڈائری وغیرہ لکھنے کا عادی نہیں تھا؟‘‘
’’ہمیں تلاشی کے دوران مس برنٹ، مس ویرا اور جج وارگریو کی ڈائریاں ملیں ہیں جن میں کوئی خاص بات تو موجود نہیں لیکن مس ویرا کی ڈائری سے ایک بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ یہ لوگ ایک ترتیب سے مرے ہیں۔ انوتھی مارسٹن، مسز راجر، جرنل میکرتھور، راجر، مس برنٹ، جج وارگریو۔۔۔ اس کے بعد ڈائری میں کچھ موجود نہیں سوائے ایک بات کے کہ ڈاکٹر آرم اسٹورنگ جزیرے سے غائب ہوگیا ہے، بلور اور لمبورڈ اسے ڈھونڈنے گئے ہیں، بس اس کے بعد کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
’’لاشیں کہاں کہاں ملی ہیں؟‘‘
’’5 لوگوں کی لاشیں ان کے کمروں سے۔۔۔ دو کی ساحل کے پاس، ایک کی بنگلے سے نزدیک، ایک کی لکڑی رکھنے والے شیڈ سے، ایک کی پچھلے ٹیرس سے ملی ہے‘‘۔
’’قدموں کے نشانات وغیرہ؟‘‘
’’رات کو بارش کی وجہ سے سارے نشانات بہہ چکے ہیں‘‘۔
اسی لمحے اے سی کے پاس رکھے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھایا۔ دوسری طرف موجود شخص کی بات سن کو وہ چونک گیا۔ تھوڑی دیر بات سننے کے بعد اس نے ریسیور واپس رکھا اور انسپکٹر کی طرف مڑا۔
’’ویرا کلیتھرون کی لاش کے پاس سے کچھ شواہد ملے ہیں، چلو اب ہم خود جزیرے جاتے ہیں۔‘‘
*۔۔۔*
اے سی، انسپکٹر اور باقی پولیس ٹیم ویرا کی لاش کے گرد جمع تھی، جب کہ آپریشن کا انچارج افسر ان سے مخاطب تھا۔
’’دیکھئے سر! مس ویرا کی موت ڈاکٹر کے مطابق ان کی ٹانگ پر موجود گہرے گھاؤ سے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ زخم کسی تیز دھار شے سے لگایا گیا ہے جیسے کوئی چاقو یا کلہاڑی وغیرہ، ساحل کے پاس موجود کیپٹن لمبورڈ کی لاش سے تھوڑی دور ایک کلہاڑی پڑی ملی جس کا پھل بارش کے باعث کافی حد تک صاف ہوگیا ہے لیکن کچھ خون کے قطرے اس پر موجود تھے جن سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ وہ خون مس ویرا کا ہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ویرا پر حملہ وہاں کیا گیا تھا تو وہ اتنی دور کیوں آئی اور اگر آبھی گئی تھی تو اس نے بنگلے میں جا کر اپنی مرہم پٹی کرنے کے بجائے یہ لکڑیاں رکھنے کا شیڈ کیوں چنا۔
اس شیڈ کے اندر کیوں کہ بارش کا پانی نہیں آسکتا اس لیے ویرا کی لاش اپنی اصل حالت میں موجود رہی، اب جب اس لاش کا معائنہ کیا گیا تو ایک بات سامنے آئی کہ ویرا کے ہاتھوں پر اس کا اپنا کافی سارا خون لگا ہے جو کہ کوئی خاص بات نہیں۔ یقیناً اس نے ہاتھوں سے زخم کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی شہادت کی انگلی کے پوروں پر سے خون گھسا ہوا ہے جیسے اس نے کچھ لکھنے کی کوشش کی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر انچارج نے اپنے دستانے چڑھائے۔ ہاتھ سے ویرا کی انگلی اٹھا کر دکھائی۔ ’’یہ دیکھتے ہوئے ہم نے اس جگہ کا پوری باریک بینی سے جائزہ لیا اور نتیجتاً ہمیں خاطر خواہ رزلٹ ملا۔‘‘ وہ رکا اور ڈرامائی انداز میں ان سب کو دیکھا۔ ’’ادھر دیکھئے، یہ اس نیچے والی لکڑی پر، ویرا کلیتھرون نے مرنے سے پہلے اپنے خون سے یہاں ایک پیغام لکھا ہے‘‘۔ وہ تھوڑا پیچھے ہٹا تو سب کو واضح طور پر 3 لفظ لکھے نظر آگئے۔
’’اس کے نیچے‘‘
*۔۔۔*
’’جس شخص نے بھی میری اس تحریر کو برآمد کیا ہے اس کو آداب۔۔۔
نیگر آئی لینڈ پر کیا ہوا تھا مجھے اس کے لیے کسی بھی طرح کی تمہید باندھنے کی یقیناً ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ یہ کاغذات میں نے اس جزیرے پر ہی چھپائے ہیں، اس لیے اسے ڈھونڈنے والے کو جزیرے پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بھی ضرور معلوم ہوگی، یہاں میرا یہ سب لکھنے کا مقصد صرف ایک چیز ہے، دنیا کو بتانا کہ میں کتنا ذہین شخص تھا جس نے ایک ایسا معما ترتیب دیا جس کو حل کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ یہ کاغذات یقیناً 6 ماہ ایک دو سال میں کسی نہ کسی کو ضرور مل جائیں گے اور یہی میں چاہتا ہوں، اس تحریر کو لکڑی رکھنے والے شیڈ میں لکڑیوں کے نیچے زمین کھود کر میں صرف اس لیے رکھ رہا ہوں تاکہ یہ فوراً کسی کو نہ مل پائیں، جب سب اپنا دماغ لڑا لڑا کر تھک جائیں تو اس کیس کو حل کرنا ناممکن قرار دے دیں تب اگر کوئی یہ کاغذات ڈھونڈ لے تو الگ ہی مزا آئے گا۔ خیر اب میں اصل بات کی جانب آؤں گا۔ سب سے پہلے مجھے تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔ مجھے بچپن سے ہی کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ خصوصاً جاسوسی کہانیاں، مختلف جرائم اور پھر ان کو ملنے والی سزاؤں کے بارے میں پڑھ کر عجیب لطف محسوس ہوتا تھا۔ میرے دو ہی مشغلے تھے یا تو جاسوسی کہانیاں پڑھنا یا فارغ وقت میں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ کوئی جرم کتنے مختلف طریقے سے ہوسکتا ہے۔
جب میں نے اپنی تعلیم حاصل کی تو اپنے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے شعبے کو چنا، یوں میں کچھ ہی سالوں میں ایک جج کا فریضہ انجام دینے لگا۔ جب تک میں جج رہا شاید ہی کوئی ایسا مجرم ہو جسے اپنے کیے کی سزا نہ ملی ہو۔ میری انصاف پسند طبیعت کو یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی بھی چور، ڈاکو، قاتل سزا سے بچ جائے۔
عمر گزارنے کے ساتھ ساتھ میرے بچپن کی ایک خواہش نے میرے دل میں تناور درخت کی صورت اختیار کرلی۔ اب جب کہ میرے پاس پیسہ اور طاقت دونوں موجود تھے تو میں کچھ خاص کچھ الگ کرنا چاہتا تھا۔ کوئی ایسا معما تخلیق کرنا چاہتا تھا جو انسانی عقل کو حیران کردے، یہ بات میرے ذہن میں ہر طرف چھائی ہوئی تھی، جب میری ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو میرے ڈاکٹر نے مجھے ایک روح فرسا خبر سنائی کہ میری بیماری کی وجہ سے اب میرے پاس صرف کچھ مہینوں کی زندگی بچی ہے، یہ خبر سن کر آخر کار میں نے فیصلہ کرلیا، مجھے مرنے سے پہلے پہلے اپنی خواہش کی تکمیل کرنی تھی۔
ایک دن میری اپنے ایک پرانے ڈاکٹر دوست سے ملاقات ہوئی جو ایک قصبہ میں کام کرتا تھا۔ وہ مجھ سے ایک مشورہ لینے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کی ایک پرانی مریضہ چند دنوں پہلے انتقال کرگئی ہے۔ میرے دوست کو شک تھا کہ وہ قدرتی موت نہیں مری بلکہ اس کے ہاں کام کرنے والے نوکر جوڑے نے اس کو دوا دینے میں تاخیر کی جس کی وجہ سے اس کا دل بند ہوگیا۔ میرے دوست نے کافی کوشش کی لیکن اسے کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کا کہنا تھا کہ کچھ جرم ایسے ہوتے ہیں جنہیں قانون چاہ کر بھی کچھ نہیں کہہ سکتا، چاہے وہ قتل ہی کیوں نہ ہو۔
اس بات نے مجھے آئیڈیا دیا کہ کیوں نہ میں کسی ایسے شخص کو اپنے طور پر کیفر کردار تک پہنچاؤں جس نے اسی طرح کا جرم کیا ہو۔ جب اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ میرے ذہن میں منصوبہ بنتا چلاگیا۔ ایک کے بجائے میں نے ایک ساتھ 9 لوگوں کو ڈھونڈ لیا جو اس طرح کے جرم کرچکے تھے، 2 مجرم تو میرے ڈاکٹر دوست نے جانے بوجھے بغیر ہی دے دئیے تھے۔
جس ہسپتال میں میرا علاج چل رہا تھا وہاں پر ایک نرس نے باتوں ہی باتوں میں اس سرجن کے بارے میں بتایا جس کے ساتھ وہ کام کررہی تھی۔ بقول نرس کے کہ سرجن نے ایک مریضہ کو آپریشن ٹیبل پر غلط شریان کاٹ کر ماردیا تھا۔ اس واقعہ کی تحقیق میں مجھے کچھ زیادہ مشکل پیش نہ آئی۔ اس طرح ڈاکٹر آرم اسٹورنگ میرا تیسرا شکار تھا۔ ایک فوجی کلب جہاں میں اکثر جاتا تھا وہاں سے مجھے جرنل میکر تھور کے قصے کا علم ہوا۔ کیپٹن لمبورڈ کا پتا مجھے جنوبی افریقا سے واپس آنے والے ایک سپاہی نے دیا۔ میری بیوی کی پرانی جاننے والی نے مجھے مس برنٹ اور اس کی مظلوم ملازمہ کا بتایا۔ انسپکٹر بلور کا واسطہ اکثر میرے شعبے سے پڑتا رہتا تھا جب کہ اسی طرح ویرا کلیتھرون اور انوتھی مارسٹن کو ڈھونڈا۔ یوں ان 9 لوگوں پر مبنی میری فہرست مکمل ہوگئی، اب مجھے ایک جزیرہ خریدنا تھا جو بالکل سمندر کے بیچوں بیچ ہو۔ اس کے لیے میں نے نیگر آئی لینڈ کا انتخاب کیا۔ جزیرے کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے میں نے ایک شخص ایجنٹ مورس کا انتخاب کیا جو غیر قانونی کام کرنے کا ماہر تھا۔ اسی نے جزیرے کو خریدا اس کو رہنے سہنے کے لیے ٹھیک کیا۔ سب کو خطوط وغیرہ بھیجے۔ یہ طے ہوگیا تھا کہ 8 اگست کو سب مہمان جزیرے پر پہنچ جائیں گے جس دن مجھے جزیرے جانے کے لیے نکلنا تھا اس سے ایک رات پہلے میں نے ایجنٹ مورس کو ہاضمے کی گولیوں کی صورت میں زہر کی گولیاں دے دیں، اس کو ختم کرنا ناگزیر تھا کیوں کہ وہ میرے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
سب کچھ پروگرام کے مطابق ہوا اور 8اگست کی شام تک 9 افراد جس میں دسواں میں خود تھا جزیرے پر پہنچ گئے۔ اگست کا مہینہ اس لیے منتخب کیا تھا کیوں کہ ان دنوں نیگر آئی لینڈ اور قریبی علاقوں میں کافی بارشیں ہوتی تھیں۔ مجھے اپنا کام ایک ہفتے میں مکمل کرنا تھا اس لیے ضروری تھا کہ جزیرے کا رابطہ قصبے سے بالکل ختم ہوجائے۔۔۔ یہ انتظام مورس نے کردیا تھا۔
میں نے اپنے منصوبے کو اپنے بچپن کی پسندیدہ نظم کے مطابق ترتیب دیا تھا اور اس سارے معاملے میں وہاں موجود لوگوں میں تجسس پیدا کرنے کے لیے دس گلاس ڈولز بھی خاص طور پر رکھوائی تھیں، میں ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ذہنی اذیت سے دوچار کرنا چاہتا تھا۔ ان کے اندر خوف تجسس اور سنسنی پھیلانے کے لیے پراسرار فضا قائم رکھنا ضروری تھا۔
پروگرام کے مطابق پہلا شکار مجھے اسی رات کرنا تھا اور وہ تھا انوتھی مارسٹن، راجر کو پہلے ہی ہدایات مل گئیں تھیں کہ کھانے کے بعد ٹیپ ریکارڈز میں کیسٹ لگانا ہے، اب جو کیسٹ کے بعد افراتفری پھیلی اس میں کسی نے دھیان نہیں دیا کہ میں نے انوتھی مارسٹن کے کپ میں کچھ ملایا ہے۔ کافی کا وہ کپ پیتے ہی 5 منٹ کے اندر اندر مارسٹن ختم ہوگیا۔
مسز راجر کے لیے میں نے کم اذیت ناک موت کا طریقہ کار چنا کیوں کہ مجھے یقین تھا کہ اس نے جو کچھ کیا اپنے شوہر کے دباؤ ڈالنے پر کیا تھا۔ مسز راجر کو ڈاکٹر نے جب حواس بحال کرنے کے لیے کافی پلائی تو اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کپ میں نیند کی دوا زیادہ مقدار میں گھلی ہوئی ہے۔ یوں مسز راجر سکون سے سوتے انتقال کرگئیں۔ دوسرے دن میری توقع کے مطابق مسز راجر کی موت کا سن کر لمبورڈ، آرم اسٹورنگ اور بلور جزیرے پر مسٹر اوین (وہ فرضی نام جو میں نے جزیرے کے مالک کے طور پر استعمال کیا تھا) کی تلاش میں نکلے جب کہ مس برنٹ، ویرا اور راجر اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ تھوڑی سی احتیاط سے کام لیتے ہوئے بغیر کسی کے نوٹس میں لائے، میں ساحل کے کنارے بیٹھے جرنل میکر تھور کے پاس پہنچ گیا۔ وہ رات ہی سے بہت پریشان تھا۔ شاید اسے اپنے دوست کو موت کے منہ میں بھیجنے پر پچھتاوا تھا۔ خیر جو بھی تھا اس وقت اس نے میری آہٹ نہ سنی، اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس کے سر کے پچھلی جانب ایک بھاری چیز دے ماری، وہ پہلے ہی کافی کمزور تھا اس جھٹکے کی تاب نہ لاسکا اور چل بسا۔
شام تک سب کو معلوم ہوگیا کہ جرنل میکرتھور بھی مر گیا ہے۔ اب باقی بچے لوگوں کو صرف واقعات کی کڑی ملانی تھی، لمبورڈ وغیرہ کی تلاشی کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ یوں سب کو اندازہ ہوگیا کہ قاتل ہم میں سے ہی کوئی ایک ہے۔ دوسری طرف میں نے میز پر رکھی دس گڑیوں میں سے 3 غائب کرکے سمندر میں پھینک دیں تھیں۔ ان سب واقعات سے ان چھ لوگوں میں بے چینی پھیل گئی اور ہرکوئی دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے تمام نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
اس صورتحال میں مجھے کوئی پارٹنر چاہیے تھا جو مجھ پر اعتماد کرلے اور میرے ساتھ مل کر کام کرے۔ اس کے لیے میں نے آرم اسٹورنگ کو چنا، کیوں کہ آرم اسٹورنگ مجھے جج کے طور پر جانتا تھا اور اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجھ جیسا شخص یہ سب کرسکتا ہے، اسے اعتماد میں لینے کے لیے مجھے اس سے کافی باتیں بگھارنی پڑیں وہ بھی مجھ سے بے تکلف ہوگیا۔ اسے کیپٹن لمبورڈ پر سب سے زیادہ شک تھا، پھر باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے سرسری تذکرہ کیا کہ میں نے مجرم کو پکڑنے کے لیے ایک طریقہ سوچا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے اسے کوئی تفصیل نہیں بتائی تاکہ وہ تجسس میں مبتلا ہوجائے۔
10 اگست کی صبح عین نظم کے چوتھے مصرے کے مطابق میں نے صبح صبح راجر کا سر اس وقت دو ٹکڑے کیا جب وہ لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ اس کی جیب سے کھانے کے کمرے کی چابیاں نکال کر میں نے کھانے کی میز پر سے چوتھی گڑیا کو غائب کردیا۔ پھر میں خود جا کر سونے لیٹ گیا۔
10 بجے جب راجر کسی کو جگانے نہیں آیا تو باقی لوگ بے چین ہو کر خود ہی باہر نکل آئے۔ افراتفری پھیل گئی اور اس افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے لمبورڈ کی پسٹل چرالی۔ بعد میں اسے لے جا کر اس الماری میں جہاں بند ڈبوں میں کھانے کا سامان رکھا تھا، ایک ڈبہ میں چھپادی۔ کسی کا اس طرف دھیان بھی نہیں جاتا۔
میرے پاس اب صرف 2 نیند کی گولیاں اور ایک انجکشن بھرا زہر بچا تھا۔ انہیں کو مجھے مس برنٹ پر آزمانا تھا۔ اس سے پہلے کہ تلاشیاں شروع ہوتیں ناشتے کے آغاز میں سب سے نظر بچا کر دو نیند کی گولیاں مس برنٹ کے چائے کے کپ میں ڈال دیں جس کی وجہ سے انہیں شدت سے نیند آنے لگی، جب ان کا سر چکرانے لگا تو وہ سمجھیں ان کی طبیعت خراب ہے نتیجتاً انہوں نے تھوڑی دیر تک کھانے کے کمرے میں ہی بیٹھے رہنے کا ارادہ ظاہر کیا، باقی سب ان کے آرام کے خیال سے کمرے سے چلے گئے، جاتے جاتے میں ایک شہد کی مکھی جو میرے پاس پہلے ہی سے ایک ڈبے میں بند موجود تھی اسے وہاں کھول دیا۔
کافی دیر بعد جب مجھے یقین ہوگیا کہ اندر کمرے میں کوئی نہیں بچا سوائے مس برنٹ کے تو میں واپس کمرے میں آگیا۔ اس وقت تک مس برنٹ کا دماغ تقریباً سوگیا تھا۔ میں نے اس دفعہ ڈاکٹر کے میڈیکل کیس سے سرنج نکال کر اس میں زہر بھر دیا تھا۔ اس وقت میں نے اس سرنج کو مس برنٹ کی گردن میں چبھودیا۔
لاش ملتے ہی سب کی فرداً فرداً تلاشی شروع ہوئی۔ پسٹل میں پہلے ہی چھپا چکا تھا اور کسی بھی قسم کا زہر یا دوا میرے پاس باقی نہیں تھی اس لیے تلاشی لینے پر کچھ بھی نہیں ملا۔
میری توقع کے مطابق ڈاکٹر اس واقعے کے بعد میرے پاس آیا اور دریافت کیا کہ میں نے مجرم کو پکڑنے کے لیے کیا طریقہ سوچ رکھا ہے۔ وہ مجھ پر پورا اعتماد کیے ہوا تھا تھوڑی ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے اسے بتایا کہ اب ہم دونوں مل کر قاتل کو بے وقوف بناتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اب میں مرنے کی اداکاری کرتا ہوں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے کہ ایک تو قاتل چکرا کر کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کردے گا جس سے اس کی اصلیت ظاہر ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ اگر قاتل کا پتا نہ بھی چلا تو میں آزادی سے تفتیش کرسکوں گا، کسی کا دھیان میری طرف نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر نے جھٹ ہامی بھرلی۔ اب ہم نے مل کر ویرا کے کمرے میں سمندری پودا لگایا تاکہ وہ ڈر جائے اور سب اس کی طرف متوجہ ہوجائیں، اتنی دیر۔۔۔ میں اپنے مرنے کا اسٹیج سیٹ کرلوں گا جس کے لیے باتھ روم کا لال پردہ اور مس برنٹ کی سرمئی اون میں نے ڈرائینگ روم میں صوفے کے کشن کے نیچے چھپائی ہوئی تھی۔
واقعی ویرا نے کمرے میں جاتے ہی چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیا۔ آرم اسٹورنگ، بلور اور لمبورڈ کے ساتھ اوپر بھاگا اور میں سب کچھ سیٹ کرکے کرسی پر بیٹھ گیا۔ خون کے طور پر لال رنگ استعمال کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ لوگ نیچے آگئے اور مجھے دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے۔ قریب سے مجھے صرف آرم اسٹورنگ نے چیک کیا اور مردہ قرار دے دیا۔
جب وہ سب سونے چلے گئے تو میں باہر چلا گیا اور آرم اسٹورنگ کی کھڑکی پر پتھر مار کر اسے باہر بلایا۔ آرم اسٹورنگ بھی کچھ سوچے سمجھے بغیر مجھ سے ملنے آگیا۔ میں اسے لے کر پہاڑی کے اوپر آگیا اور راستے میں اسے بتایا کہ مجھے ایک خاص بات معلوم ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ باتیں کرتے کرتے میں نے ایک دم چونک کر سمندر میں جھانکا۔ اس نے بھی میری تقلید کی۔ میں نے پھرتی سے کام لیتے ہوئے اسے دھکا دے دیا۔ یوں وہ سمندر کی گہرائیوں کی نظر ہوگیا۔
ادھر آرم اسٹورنگ کوڈھونڈتے ہوئے بلور اور لمبورڈ باہر نکل آئے جبکہ میں چھپ چھپا کر واپس کمرے میں آگیا جبکہ ساتھ میں میز پر سے ایک گڑیا مزید غائب کردی۔
آج آخر وہ دن بھی آگیا جب جزیرے پر میرے علاوہ صرف 3 لوگ رہ گئے۔ پوری صبح وہ لوگ مدد کے سگنل بھیجتے رہے۔ آخر دوپہر میں بلور نے اکیلے بنگلے کا رخ کیا۔ میں پہلے ہی موقع کی تاک میں تھا۔ ویرا کے کمرے میں میں نے پہلے ہی ایجنٹ مورس کے ذریعے ایک بھالو کی شکل کی ماربل کی گھڑی رکھوائی تھی تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔
جیسے ہی بلور کھڑکی کے نیچے سے گزرا میں نے وہ گھڑی اسے دے ماری اور اس کا سر پچک کر رہ گیا۔
اوہو! میری کھڑکی سے یہ منظر صاف نظر آرہا ہے، ویرا اور لمبورڈ، آرم اسٹورنگ کی لاش اٹھائے یہاں لارہے ہیں اور میں نے خود دیکھا ہے کہ ویرا نے لمبورڈ کی جیب سے پسٹل نکال لی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ ایک اور قتل کرے گی۔ وہ ضرور پسٹل سے لمبورڈ کو ڈرائے گی صرف، مجھے اب ایسا کچھ کرنا ہوگا جس سے وہ واقعی لمبورڈ کو گولی ماردے۔
اچھا پھر میں یہاں پر اس کا اختتام کرتا ہوں۔ جاتے جاتے یہ بھی بتادوں کہ میں ویرا کو ٹھکانے لگانے کے بعد خود بھی اپنی آخری سانس اسی جزیرے پر لوں گا جہاں میں نے اپنے بچپن کا خواب پورا کیا۔
فقط
جج لورنس وارگریو
*۔۔۔*
اے سی نے گہری سانس لے کر وہ صفحہ ختم کیا اوربے یقینی سے اسے گھورنے لگا۔ انسپکٹر جو اس کے کندھے کے پیچھے کھڑے ہو کر وہ تحریر پڑھ رہا تھا، سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’ویرا کلیتھرون کی ٹانگ پر ضرور جج نے ہی حملہ کیا ہوگا تاکہ وہ خون کی کمی کے باعث کمزور پڑ جائے اور جج اسے آرام سے اس پھانسی کے پھندے پر لٹکادے جو اس کے کمرے سے ملا ہے۔‘‘
اے سی نے وہ کاغذات ایک آفیسر کے ہاتھ میں تھمادیے۔
’’لیکن ویرا نے ہمت دکھاتے ہوئے اسے ہی گولی ماردی ہوگی‘‘۔ انسپکٹر نے سر ہلایا۔ ’’ اور پھر کسی نہ کسی طرح یہاں تک پہنچ گئی ہوگی۔‘‘
’’جج وارگریو کی روح ابھی بھی بے چین ہی ہوگی کیوں کہ ویرا نے اس کا مقصد پورا نہیں ہونے دیا اور وہ ہار گیا۔‘‘ اے سی نے یہ کہہ کر واپس ساحل پر منتظر موٹر بورڈ کی طرف قدم بڑھادئیے کیوں کہ اب اس جزیرے پر اس کا کوئی کام باقی نہیں رہا تھا۔
*۔۔۔*
ختم شد
‚¢Žˆ¤ Š ¥ œ¤ œ§œ¤ ’¥ ³ ¥ ¢ž¤ ‹§¢ƒ ’ Ÿ¤ ƒŽ ƒ Ž¦¤ „§¤ ‡’ ƒŽ ‚¤…§¥ ¢¦ ž¢  “„¦ œŽŽ¦¥ „§¥ó
þþ³‡ ¦Ÿ ƒ¦¤ ƒŽ “¤“¥ œ¥ Ž¤˜¥ Ÿ‹‹ œ¥ ’ ž ‚§¤‡¤¡ ¥óýý
þþ¦¡ „œ¦ ›”‚¥ ’¥ œ¢£¤ œ“„¤ ³œŽ  œž ž¥ ‡£¥ýýó ¢¤Ž ƒŽ‡¢“ ¦¢£¤ó
þþ–¢š  œ ¢Ž …¢… •Ž¢Ž ¦¥ ž¤œ  ’Ÿ ‹Ž ‚§¤ ‚§¤ ˆ§ ¦¢ ¦¥ó œˆ§ ‚˜¤‹  ¦¤¡ œ¦ “Ÿ „œ ƒ§Ž ‚Ž“ “Ž¢˜ ¦¢‡£¥ó œž ’¥ ƒ¦ž¥ „¢ ‡¤Ž¥ „œ œ¢£¤ œ“„¤  ¦¤¡ ƒ¦ ˆ ’œ„¤óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ³¦’„¤ ’¥ ’ œ¤ Ÿ¤‹ „¢¤ó
þþ¬šÚ ¤œ ¢Ž Ž„ ’ ‡¦ Ÿ Ÿ¤¡óýý ¢¤Ž œƒœƒ £¤ó ¢¦ ‹¢ ¢¡ ‡¢‚Ç ŠŸ¢“ Ž¦¥ó „§¢¤ ‹¤Ž ‚˜‹ ‚ž¢Ž ž œ§ œ§Ž œŽ ¢¤ ¦¢ó
þþ³ŽŸ ’…¢Ž  ³ŠŽ ¤ „¢ œ¦¡ ¤îýý
þþœ§ ¥ œ¤ Ÿ¤ ƒŽ Ÿ¢‡¢‹ 3 ¤¡ „¢ ’ ‚„ œ¤ –Žš “Ž¦ œŽŽ¦¤ ¦¤¡ œ¦ ¢¦ ‚ ’ ‹ ¤ Ÿ¤¡  ¦¤¡ Ž¦ýýó žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ‡¢‚ ‹¤ó
þþƒ§Ž ’ œ¤ ž“ œ¦¡ ¦¥îýý ¢¤Ž  ¥ ƒ¢ˆ§ó
þþŸ‡§¥  ¦¤¡ Ÿ˜ž¢Ÿóýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ œ ‹§¥ ˆœ£¥ó
þþ¦¢’œ„ ¦¥ œ’¤  ¥ ’ œ¤ ž“ œ¢ ’Ÿ ‹Ž Ÿ¤¡ ƒ§¤ œ ‹¤ ¦¢ýýó ‚ž¢Ž  ¥ ¦ˆœˆ œŽ œ¦ó
žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ˆ¢ œ œŽ ’¥ ‹¤œ§ ¢Ž „¤ ž¦‡¥ Ÿ¤¡ ’ œ¤ ‚„ œ…¤é þþž¤œ  ³ŠŽ œ’  ¥ó œž Ž„ „œ ‡¤Ž¥ ƒŽ ¦Ÿ 4 œ¥ ˜ž¢¦ „§ ¦¤ œ¢ î 6 ŸŽ‹¦ ž¢ÚÚÚ ƒ§Ž ž“ œ¢  ’Ÿ ‹Ž Ÿ¤¡ ƒ§¤ œ¥ î „Ÿî Ÿ¤¡î ³ŽŸ ’…¢Ž  œ¢ ‹Ž¢¥ ’¥ ‚¦Ž „Ÿ  ¥ ‡„¥ ‹¤œ§ „§à ¤¦ ‹¤œ§ œŽ „Ÿ Ÿ¤Ž¥ ƒ’ ‹¢¥ ³£¥ó Ÿ¤¡ „Ÿ¦Ž¥ ’Ÿ ¥ ƒ ¥ œŸŽ¥ Ÿ¤¡ ’¥  œž „§ó ¦Ÿ ‹¢ ¢¡ ¤œ ’„§ ‚¦Ž £¥ ¤œ ’„§ ’¥ Œ§¢ Œó Ÿ¤¡¤œ žŸ‰¥ œ¥ ž¤¥ ‚§¤ „Ÿ ’¥ ‡‹  ¦¤¡ ¦¢ „§ ƒ§Ž ³ŠŽ œ’ –Ž‰ Ÿ¤¡ ’¥ ŸŽ œŽ ’Ÿ ‹Ž Ÿ¤¡ ƒ§¤ œ ’œ„ ¦¢¡óýý
þþŸ‡§¥  ¦¤¡ Ÿ˜ž¢Ÿà Ÿ‡§¥  ¦¤¡Ÿ˜ž¢ŸÚ ž¤œ  Ÿ‡§¥ ¤œ ‚„ ƒ„ ¦¥ó ƒ’…ž ‚ „Ÿ¦Ž¥ ƒ’ ¦¥ ¢Ž ’ œ œ¤ †‚¢„ ¦¥ œ¦ Ÿ’…Ž ¢¤   ¥ ˆŽž¤ „§¤ ¢Ž ƒ§Ž ’¥ „Ÿ¦Ž¥ œŸŽ¥ Ÿ¤¡ ¢ƒ’ Žœ§ ‹¤óýý
þþŠ‹ œ¥ ž¤¥ ‚ž¢Žó „Ÿ ž¢¢¡  ¥ Š¢‹ Ÿ¤Ž¤ „ž“¤ ž¤ „§¤ó ‚ Ÿ¤¡ ’ œ¥ ˜ž¢¦ œ¤’¥ †‚„ œŽ¢¡ œ¦ ƒ’…ž Ÿ¤Ž¤ ‹Ž ’¥ ™£‚ ¦¢£¤ „§¤ ¢Ž œž Ž„ ¤¦ ƒ§Ž ƒ ¤ ‡¦ Ÿ¢‡¢‹ „§¤óýý žŸ‚¢ŽŒ ‡§ ‡§ž ¤ó
þþ…§¤œ ¦¥ó Ž „Ÿ „ ¥ ¦¤ ’ˆ¥ ¦¢ „¢ ¤œ œŸ œŽ¢ó ’ ƒ’…ž œ¢ ’ ” ‹¢› Ÿ¤¡‚ ‹ œŽ‹¢ ‡’ Ÿ¤¡ ‹¢ ¢™¤Ž¦ ¦¤¡ œ¤¢¡ œ¦ ‡‚ „œ ¤¦ „Ÿ¦Ž¥ ƒ’ Ÿ¢‡¢‹ ¦¥ Ÿ¤¡ ¢Ž Ÿ’ ¢¤Ž „Ÿ¦Ž¥ Ž‰Ÿ ¢ œŽŸ ƒŽ ¦¤¡óýý
þþ„Ÿ ƒž „¢  ¦¤¡ ¦¢£¥ó Ÿ¤¡ œ¤¢¡ ‡ „¥ ‚¢‡§„¥ ¤œ ¤’¤ ˆ¤ œ’¤ ” ‹¢› Ÿ¤¡ ‚ ‹ œŽ¢¡  ‡¢ Š–Ž¥ œ¥ ¢›„ Ÿ¤Ž¥ œŸ ³’œ„¤ ¦¥óýý žŸ‚¢ŽŒ ˆ§ž ƒó
þþ„¢ ƒ§Ž ’ œ ¤œ ¦¤  „¤‡¦  œž„ ¦¥àýý ‚ž¢Ž „ƒ ¤ó
þþœ¤î ¤¦¤ œ¦ Ÿ¤¡ ¦¤ Ÿ’…Ž ¤¢ó ¤ ó ¢¤  ¦¢¡î „Ÿ¦Ž¤ ŸŽ•¤ ‡¢ ’Ÿ‡§  ˆ¦¢ ’Ÿ‡§¢óýý
þþ¬šÚ „Ÿ ‹¢ ¢¡ œ¤¢¡ ‰Ÿ›¢¡ œ¤ –Ž‰ ž Ž¦¥ ¦¢óýý ¢¤Ž œ¢ ³ŠŽ ‚¤ˆ Ÿ¤¡ ‚¢ž  ƒó þþœ¤ „Ÿ ž¢¢¡ œ¢ ¢¦ ‚ˆ¢¡ œ¤  —Ÿ ¤‹  ¦¤¡ Ž¦¤ ‡¢ ¢ƒŽ ³„“ ‹  ƒŽ ž…œ¤ ¦¥ó ’ œ ³ŠŽ¤ ’¥ ˆ¢„§¥  Ÿ‚Ž ¢ž “˜Ž ¤¦ „§ó
ˆŽ ˆ§¢…¥  ¤Ž¢ ‚ˆ¥ ’Ÿ ‹Ž ƒŽ £¥ œ§¤ž ¥
¤œ ‚ˆ¥ œ¢ ‘‹§ œ§ ¤ ‚›¤ Ž¦ £¥ „¤ 
‚ Ž ’¢ˆ¢ó ’ ‡¤Ž¥ ¤ ’Ÿ ‹Ž ƒŽ ‘‹§ œ¦¡ ’¥ ³£¥ ó ¤¦¡ ƒŽ ‘‹§¥ œ¢ ‡§¢… ¤ ‹§¢œ¥ ’¥ „“‚¤¦ ‹¤ £¤ ¦¥ó ¦¢’œ„ ¦¥ ³ŽŸ ’…¢Ž  ŸŽ  ¦ ¦¢ó ¢¦ ’ ‡¤Ž¥ ƒŽ œ¦¤¡ ˆ§ƒ ¦¢ ¦¢ó œ§ ¥ œ¤ Ÿ¤ ƒŽ ’¥ œ ˆ œ¤ ¤œ ¤ œŸ œŽ  œ¤ Ÿ“œž ¦¥ó ’ –Ž‰ ¢¦ ¦Ÿ ’‚ œ¢ ‹§¢œ ‹¥ Ž¦ ¦¢óýý ¢¤Ž  ¥ ’ –Ž‰   œ¢ ’Ÿ‡§¤ ‡¤’¥ ¢¦ ‹¢ ˆ§¢…¥ ‚ˆ¢¡ œ¢ ‹¢ ‡Ÿ˜ ‹¢í ˆŽ ’œ§ Ž¦¤ ¦¢ó
þþ¢Ž ¢¦ ˆ§ƒ ¥ œ¤ ‡¦ œ¢  ’¤ ¦¥ó ¦Ÿ  ¥ ¦Ž ‡¦ „¢ „ž“ œŽž¤óýý ‚ž¢Ž „žŸž ¤ó
þþƒ’…ž œ¤ „ž“ „¢ ¤‹ ¦¥   Ÿ’…Ž ‚ž¢Žó ¢¦ ‚§¤  ¦¤¡ Ÿž¤ „§¤ ¢Ž ³‡ ¢¦ žŸ‚¢ŽŒ œ¥ œ¢… œ¤ ‡¤‚ Ÿ¤¡ Ÿ¢‡¢‹ ¦¥óýý ¢¤Ž  ¥ –  œ¤ó
þþƒ’…ž ¢Ž  ’  œ¥ ’£ Ÿ¤¡ œš¤ šŽ› ¦¢„ ¦¥îýý
þþŸ ¢ ¤  ¦ Ÿ ¢óýý ¢¤Ž  ¥  œ ƒŽ ’¥ Ÿœ§¤ £¤ó
þþ³ŽŸ ’…¢Ž  ¤¦¤¡ œ¦¤¡ Ÿ¢‡¢‹ ¦¥ Ÿ‡§¥ ƒœ ¤›¤  ¦¥óýý
èàè
  œ¤ ƒ¢Ž¤ ”‚‰ ƒ¦¤ ƒŽ Ž¤ó ‚Ž¤ ‚Ž¤ ¢¦ ž¢ “¤“¥ œ¤ Ÿ‹‹ ’¥ ³’Ÿ  ƒŽ ’ ž ‹¥ Ž¦¥ „§¥ó ‚¦„ ‹š˜¦ ’ ž ‚§¤‡ ¥ œ¥ ‚¢‡¢‹ œ¢£¤ ’ ž  ¦¤¡ ³¤ó ³ŠŽ „§œ ¦Ž œŽ  ¦¢¡  ¥ „§¢¤ ‹¤Ž œ¥ ž¤¥ ¢›š¦ œ¤ó
þþ‚ ž¥ œ¥ ‚¦Ž œ§ž¤ š• œ„ ¤ Ÿ‰š¢— ž Ž¦¤ ¦¥  ó Ÿ¤¡ ‚ ¢ƒ’  ¦¤¡ ‡£¢¡¤óýý ¢¤Ž  ¥ ’Ÿ ‹Ž¤ ¦¢ œ¢ ƒ ¥  ‹Ž „Ž„¥ ¦¢£¥ œ¦ó
þþ¦¡ó ’ œ§ž¥ Ÿ¤‹  Ÿ¤¡ Ž œ’¤  ¥ ¦Ÿ „œ ³ ¥ œ¤ œ¢““ œ¤ „¢ ¦Ÿ¤¡ ƒ„ ˆž ‡£¥ óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ‰Ÿ¤ ‚§Ž¤ó
þþž¤œ  ‚ „¢ ‹¢ ‚‡ ˆœ¥ ¦¤¡í œ¤¢¡  ¦ ƒ¦ž¥ ‹¢ƒ¦Ž œ œ§   ‹Ž ‡ œŽ œ§ž¤ ‡£¥óýý ‚ž¢Ž  ¥ §¤ ƒŽ  —Ž ‹¢£¤ó
þþ ¦¤¡ ‚§£¤ó Ÿ‡§¥ Ÿ˜š Žœ§¢ó Ÿ¤¡  ‹Ž  ¦¤¡ ‡£¢¡ ¤óýý ¢¤Ž  ¥ ”š ‡¢‚ ‹¥‹¤ó
þþ¢Ž „Ÿ žŸ‚¢ŽŒîýý
þþ ¦¤¡ Ÿ‡§¥ ‚§¢œ  ¦¤¡ ¦¥ó Ÿ¤¡ ¤¦¤¡Ž¦¢¡ ýýó žŸ‚¢ŽŒ  ¥  š¤ Ÿ¤¡ ’Ž¦ž¤ó
þþŸ‡§¥ „¢ ƒ ¥ Ÿ˜Ÿ¢ž œ¥ Ÿ–‚› ¢›„ ƒŽ œ§  œ§ ¥ œ¤ ˜‹„ ¦¥ ž¤œ  ¦Ÿ ž¢¢¡  ¥ –¥ œ¤ „§ œ¦ ‚ œ’¤ ”¢Ž„ ž  ¦¤¡ ¦¢ óýý ‚ž¢Ž  ¥ ¤‹ ‹ž¤ó
þþ„¢ „Ÿ Š¢‹ ¦¤ “¤Ž œ¤ œˆ§Ž Ÿ¤¡ ‡  ˆ¦ Ž¦¥ ¦¢ó Ÿ¤¡ ¤ Ÿ’ ¢¤Ž  ¦¤¡óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ‚¥  ¤¤ ’¥ œ ‹§¥ ˆœ£¥ó ‚ž¢Ž ’ œ¤ ‚„ ’  œŽ ‚ ž¥ œ¤ ‡ ‚ œ¤ž ‚§„ ˆž ¤ó
þþœ¤ ¤¦ Ž’œ¤ œŸ  ¦¤¡óýý ¢¤Ž  ¥ ’¥ ‡„ ‹¤œ§ œŽ šœŽ Ÿ ‹¤ ’¥ žŸ‚¢ŽŒ ’¥ ƒ¢ˆ§ó
þþ ¦¤¡ýýó žŸ‚¢ŽŒ  ¥ –Ÿ¤   ’¥ ‡¢‚ ‹¤ó þþœ¤¢¡ œ¦ Ÿ‡§¥ ¤›¤  ¦¥ œ¦ ‚ž¢Ž ¦¤ ¦ŸŽ Ÿ–ž¢‚¦ Ÿ’ ¤¢ó ¤ 󁢤  ¦¥óýý ¢¤Ž œ¥ ˆ¦Ž¥ ƒŽ ‚¥ ¤›¤ ¤ ƒ§¤ž„¥ ‹¤œ§ œŽ ’  ¥ Ÿ¤‹ ¢•‰„ œ¤ó ‹¤œ§£¥ Ÿ’ ¢¤Žó œž Ž„ ‚ž¢Ž  ¥ ¤œ ‹Ÿ ¦Ÿ ž¢¢¡ ’¥ ³œŽ œ¦ œ¦ ’  ¥ Œœ…Ž ³ŽŸ ’…¢Ž  œ¢ §Ž ’¥ ‚¦Ž  œž„¥ ‹¤œ§ ¦¥ ž¤œ  œ¤ ’ œ¥ ƒ’ ’ ‚„ œ œ¢£¤ †‚¢„ „§î  ¦¤¡ ’¢£¥ ’ ‚„ œ¦ ³ŽŸ ’…¢Ž  ¢›˜¤ ƒ ¥ œŸŽ¥ Ÿ¤¡ Ÿ¢‡¢‹  ¦¤¡ „§ó œ¤ ƒ„ ’  ¥ ¦Ÿ ž¢¢¡ œ¢ ‡ ¥ ’¥ ƒ¦ž¥ ‡ œŽ ³ŽŸ ’…¢Ž  œ¢ …§œ ¥ ž ‹¤ ¦¢ó ‡¢ œ¦ ¤ ’  ¥ ¦Ÿ¤¡ ’ £¤ ’ Ÿ¤¡ Š¢‹ ’  ¥ ›‚¢ž œ¤ ¦¥ œ¦ Ÿ¤¡ ¢Ž ³ƒ ƒ ¥ ƒ ¥ œŸŽ¥ ’¥  ¦¤¡  œž¥ „§¥ ¤¦¡ „œ œ¦ ’  ¥ ¦Ÿ¤¡ ³œŽ …§¤óýý
¢¤Ž  ¥ žŸ‚¢ŽŒ œ¤ ‚„ œ œ¢£¤ ‡¢‚  ¦¤¡ ‹¤ó ’ œ¥ ˆ¦Ž¥ œ Ž   ¤ó ¢¦ ŠŸ¢“ ‚¤…§¤ ’Ÿ ‹Ž œ¢ „œ„¤ Ž¦¤ó „§¢¤ ‹¤Ž ‚˜‹ ’  ¥ žŸ‚¢ŽŒ ’¥ ¤œ ˜‡¤‚ ‚„ œ¦¤ó
þþœ¤ƒ… Ú œ¤ ³ƒ œ¢ ¤¦ Ÿ‰’¢’ ¦¢ ¦¥ œ¦ œ¢£¤ ³ƒ œ¢ Ÿ’„›ž ‹¤œ§ Ž¦ ¦¥î ¤¦¡ œ¢£¤ ¢Ž ‚§¤ Ÿ¢‡¢‹ ¦¥óýý
þþ¤¦ ¦ŸŽ ¢¦Ÿ ¦¥óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ƒŽ’¢ˆ  ‹ Ÿ¤¡ ‡¢‚ ‹¤ó
þþ¦ŸŽÚ ’ œ Ÿ–ž‚ ¦¥ œ¦ ³ƒ œ¢ ‚§¤ ¤¦ Ÿ‰’¢’ ¦¢ ¦¥ó œ¤àýý ¢¤Ž ¤œ ‹Ÿ ‚„ ‹§¢Ž¤ ˆ§¢ œŽ ˆ§ž œŽ œ§¤ ¦¢£¤ó
þþœ¤à œ¤ ³ƒ  ¥ ¢¦ ³¢ ’ ¤óýý ’  ¥ ‚‹‰¢’¤ ’¥ žŸ‚¢ŽŒ ’¥ ƒ¢ˆ§ ‡¢ œ¦ ’ œ¥ ’„§ ¦¤ ˆ¢ œ œŽ œ§ ¦¢¤ „§ó
þþ¦¡í ‡¤’¥ œ¢£¤ ‚§Ž¤ ˆ¤ Ÿ¤  ’¥ …œŽ£¤ ¦¢ ¢Ž ¤œ ¦žœ¤ ’¤ ˆ¤Š ‚§¤óýý ‹¢ ¢¡ œ ŽŠ ‚ ž¥ œ¤ –Žš „§ó ¢¦ ’¥ ¢•‰ ‹¤œ§ ’œ„¥ „§¥ó
þþ¤¦ ³¢ ¢¦¤¡ ’¥ ³£¤ ¦¥ó ˆž¢ ³£¢ ˆž œŽ ‹¤œ§¤¡óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ‡ž‹¤ ‡ž‹¤ œ¦ó
þþ ¦¤¡à  ¦¤¡àýý ¢¤Ž ¢¦¡ ‡ ¥ œ¥ Š¤ž ’¥ ¦¤ žŽ £¤ó 
þþ¢œ¥ ƒ§Ž „Ÿ ¤¦¤¡ œ§¤ Ž¦¢ó Ÿ¤¡ ‡ Ž¦ ¦¢¡ýýó žŸ‚¢ŽŒ œ¢ Ž¢œ  Ÿ“œž „§ó ¢¤Ž œ¢ ‚§¤ Ÿ‡‚¢ŽÇ ’ œ¥ ƒ¤ˆ§¥ ³  ƒó
þþ‚ ž¥ œ ’Ÿ ¥ ¢ž …¤Ž’ ƒŽ’œ¢  „§ ¢¦¡ œ¢£¤  ‚ œ¥ ³†Ž  ¦¤¡ „§¥ó ¢¦ ž¢ ƒ¢Ž¥ ‚ ž¥ œ ˆœŽ ž„¥ ¦¢£¥ ‡‚ ƒˆ§ž¤ ‡ ‚ ³£¥ „¢ ‹§œ ’¥ Žœ £¥ó
ƒˆ§ž¥ …¤Ž’ œ¤ ƒ„§Ž œ¤ Ÿ¤  ƒŽ ‚ž¢Ž ¢ ‹§ ƒ „§ó ’ œ ’Ž œˆž ¦¢ „§ ‡‚ œ¦ ’š¤‹ ŸŽ‚ž œ¤ ‚§Ž¤ ’¤ œ¢£¤ ˆ¤ ’ œ¥ ’Ž ’¥ „§¢¤ ‹¢Ž ƒ¤ ˆŸœ Ž¦¤ „§¤ó žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ’Ž …§ œŽ ¢ƒŽ¤ Ÿ ž œ¢ ‹¤œ§ó
þþ¤¦ ¢ž¤ œ§œ¤ œ’ œ¥ œŸŽ¥ œ¤ ¦¥ó ¤›¤ Ç ’ ’¥ ¤¦ ƒ„§Ž ƒ§¤ œ ¤ ¦¥óýý
þþŸ¤Ž¤Úýý ¢¤Ž œ¤ ³¢ ‚§¤ ‚ ¢•‰ –¢Ž ƒŽ žŽ Ž¦¤ „§¤ó
þþŸ¤Ž¤ œ§œ¤ ¦¥ ¤¦ ¢ž¤ ¢Ž ¤¦ ƒ„§Ž  ¦¤¡ ‚žœ¦ ’š¤‹ ŸŽ‚ž œ¤ §¤ ¦¥ ‡¢ Ÿ¤Ž¥ ³„“ ‹  ƒŽ Žœ§¤ „§¤ ¢Žà ¢Ž ’ œ¤ “œž ‚§ž¢ ‡¤’¤ ¦¥ýýó žŸ‚¢ŽŒ ‚Ž¤ –Ž‰ ˆ¢ œ ¤ó ’ œ¥ Ÿ„§¥ œ¤ Ž ƒ§œ Ž¦¤ „§¤ó
þþ³ŽŸ ’…¢Ž   ‹Ž œ¦¤¡ Ÿ¢‡¢‹ ¦¥ó ‚ œ¢£¤ “œ  ¦¤¡ Ž¦ó Ÿ¤¡ ’¥ Œ§¢ Œ  œž¢¡ óýý
þþ ¦¤¡ Š‹ œ¥ ž¤¥  ¦¤¡Úýý ¢¤Ž ˆž£¤ó þþ¢¦ ¤¦¤ ˆ¦„ ¦¥ œ¦ ¦Ÿ §Ž Ÿ¤¡ ‹Šž ¦¢ œŽ ’¥ Œ§¢ Œ¤¡ ¢Ž ’¥ ¦Ÿ ƒŽ ‰Ÿž¦ œŽ ¥ œ Ÿ¢›˜ Ÿž ‡£¥ó ¢¦ ƒž ¦¥ó ³ŽŸ ’…¢Ž  ƒž ¦¥ ¢Ž ¤œ ƒž “Š” œ’¤ ”‰¤‰ ž‹Ÿ™ “Š” ’¥ ¤‹¦ ˆžœ ¦¢’œ„ ¦¥óýý
èàè
¢¦ ’‰ž œ¥ œ Ž¥ œ Ž¥ …¦ž Ž¦¥ „§¥ ¢Ž ƒ ¤ ƒ ¤ ŸŠ„žš ‚„¤¡ ’¢ˆ Ž¦¥ „§¥ó ˆ œ žŸ‚¢ŽŒ Žœ ¤ ‡’ ƒŽ ¢¤Ž  ¥ ’¥ ’¢ž¤¦  ‹ Ÿ¤¡ ‹¤œ§ó
þþ¢¦ œ¤ ¦¥î œ¤ ³ƒ œ¢  —Ž ³Ž¦ ¦¥ Ÿ’ ¢¤Žîýý ’ œ¤ ³¢ ›‹Ž¥ ‚ž ‹ „§¤ó
¢¤Ž  ¥ Ÿ‰„–  ‹ Ÿ¤¡ ’ ‡ ‚ Ž‹  Ÿ¢¤ ‡’ –Žš žŸ‚¢ŽŒ “Ž¦ œŽŽ¦ „§ó
þþœƒ¥óýý ¢¤Ž ‚§¤ ˆ¢ œ £¤ó þþœ’¤ œ¥ œƒ¥ ƒ¥ ¦¢£¥ ¦¤¡   ‹¢ ƒ„§Ž¢¡ œ¥ ‹ŽŸ¤  Ÿ¤¡ýýó ¢¦ ‹¢ ¢¡ ’ ƒ„§Ž œ¤ ‡ ‚ „¤¤ ’¥ ‚§¥ó þþ’„§ Ÿ¤¡ ‡¢„¥ ‚§¤ ¦¤¡ ¢Žà ¢Žàýý ¢¤Ž ‚¢ž„¥ ‚¢ž„¥ Žœ £¤ó
þþ¤¦ œƒ¥  ¦¤¡ œ¢£¤ ³‹Ÿ¤ ¦¥ýýó žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ’ œ¤ ‚„ ŸœŸž œ¤ó ‡„ ¤ „¤¤ ’¥ ¢¦ ž¢ ’ „œ ƒ¦ ˆ¥ „§¥ „ ¤ ¦¤ „¤¤ ’¥ œŽ … œ§ œŽ ƒ¤ˆ§¥ ¦…¥ó
 ¤ž ˆ¦Ž¦à ƒ§¢ž ¦¢ ‡’Ÿà ‚¥ ‡  ³ œ§¤¡ó
þþš Š‹¤óýý žŸ‚¢ŽŒ œ¥ ž¥ ’¥ ƒ§ ’¤ ƒ§ ’¤ ³¢  œž¤ó
þþ¤¦à ¤¦ „¢ ³ŽŸ ’…¢Ž  ¦¥óýý
èàè
¢›„ ’œ„ ¦¢¤ „§ó œ‚§¤ œ‚§Ž ƒ ¤ ³ œ§¢¡ ƒŽ ¤›¤  œŽ  œ„  Ÿ“œž ¦¢„ ¦¥í ¤¦ ’ ‹  ¢¤Ž ¢Ž žŸ‚¢ŽŒ œ¢ “¤‹ ƒ¦ž¤ ‹š˜¦ Ÿ˜ž¢Ÿ ¦¢ „§ó ’Ÿ ¥ ƒ¤ ¢¦ ž“ ‹¤œ§ œŽ  ¦¤¡  ¦ ‰¤Ž ¤ ¦¢£¤  ¦ ƒŽ¤“ ¤ œ¤¢¡ œ¦   ‹¢ ¢¡ œ¤ ’Ž¤ ‰’¤„ Ÿ ‡Ÿ‹ ¦¢£¤ „§¤¡ó   œ¢ ‰’’ „§ „¢ ‚’ ¤œ ‚„ œó
³ŽŸ ’…¢Ž  œž Ž„ œ¢ ˆ§ƒ  ¦¤¡ „§ ‚žœ¦ œ’¤  ¥ ’¥ ’Ÿ ‹Ž Ÿ¤¡ ƒ§¤ œ ‹¤ „§ ¢Ž ’  ¥ ƒ ¤  ‹¤ œ¤ ³ŠŽ¤ ’ ’¤¡ ’Ÿ ‹Ž Ÿ¤¡ ¦¤ ž¤ „§¤¡ ¢Ž ‚ ƒ¢Ž¤ ¤œ Ž„ ¢Ž ³‹§¥ ‹  œ¥ ‚˜‹ œ’¤ ž¦Ž  ¥ ’¥ ƒ§Ž ¢ƒ’ ƒ¦ ˆ ‹¤ „§ó „¢ ƒ§Ž ¢¦ ³ŠŽ œ¢  „§ ‡’  ¥ œž Ž„ œ§ ¥ œ¤ Ÿ¤ ƒŽ Ÿ¢‡¢‹ ¤¢¡ Ÿ¤¡ ’¥ ¤œ œŸ œ¤ó ¢¦ œ¢  „§ ‡’  ¥ ‚ž¢Ž œ¥ ’Ž œ¢ ¤œ ‚§Ž¤ §¤ ’¥ œˆž ‹¤ó œ¢  „§ ¢¦îî
þþ Ÿ’ ¢¤Ž Ÿ‡§¥  ¦¤¡ Ÿ˜ž¢Ÿ œ¦ ¤¦ ’‚ œ¤ ¦¢ Ž¦ ¦¥ó ž¤œ  Ÿ¤¡ ‚ ¤¦ œ¦¦ ’œ„ ¦¢¡ œ¦ ¦Ÿ ‹¢ ¢¡ œ¥ Š„Ÿ¥ œ ¢›„ ‚§¤ ¤‹¦ ‹¢Ž  ¦¤¡ ¦¥óýý žŸ‚¢ŽŒ œ¤ Ÿ‹§Ÿ ’¤ È¢ ‚§Ž¤ ‡¤’¥ ž¦Ž¢¡ œ¥ “¢Ž œ¤ ¢‡¦ ’¥ ¢¤Ž ¥ ‚Ÿ“œž ’ ó 
Š„Ÿ¦ÚÚ ¢¤Ž  ¥ ’¢ˆó Š„Ÿ¦ÚÚ ’ žš—  ¥ ‚‡£¥ ’¥ Ÿ¤¢’ œŽ ¥ œ¥ ’ œ¥  ‹Ž ¤œ ›¢„ ƒ¤‹ œŽ‹¤ó ’  ¥ ƒ ¥ ƒ¤Ž¢¡ œ¥ ƒ’ ƒ¥ ÈŽŸ ’…¢Ž  œ ˆ¦Ž¦ ‹¤œ§ ‡¢ Ž ¢¦ ˜Ÿ ‰ž„ Ÿ¤¡ ‹¤œ§„¤ „¢ ’ œ¢ ¦š„¢¡  ¤ ‹  ¦ È„¤ó
þþ‚¥ ˆŽ¦ Œœ…Ž ³ŽŸ ’…¢Ž Ú ¦Ÿ¤¡ œŸ  œŸ ’¥ ž¦Ž¢¡ œ¤ ‹ ’¥ „¢ ‹¢Ž œŽ‹¤  ˆ¦¤¥ó ¤’ œŽ„¥ ¦¤¡ ’ œ¤ ž“ …§ œŽ ‚ ž¥ œ¥ ›Ž¤‚ ƒ¦ ˆ ‹¤„¥ ¦¤¡ýýó ’  ¥ ƒ ¥ ž¦‡¥ Ÿ¤¡ ‹ ¤ ‡¦¡ œ¤ ¦Ÿ‹Ž‹¤ ’Ÿ¢„¥ ¦¢£¥ ¤’¥ —¦Ž œ¤ ‡¤’¥ ’  ¥ žŸ‚¢ŽŒ œ¤ ‚„ ’ ¤ ¦¤  ¦ ¦¢ó
þþ…§¤œ ¦¥ ‡¤’¥ „Ÿ œ¦¢óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ Ž œˆ§ Ÿ‰’¢’ ‚§¤ œ¤ „¢ —¦Ž ¦¢ ¥  ¦¤¡ ‹¤ó ³ŽŸ ’…¢Ž  œ ‡’Ÿ Š” ‚§Ž¤ ¦¢¤ „§ó ¢¤Ž žŸ‚¢ŽŒ œ¤ ‡„ ¤ Ÿ‹‹ œŽ’œ„¤ „§¤ ’  ¥ œ¤ó ’ œ¢ …§ ¥ Ÿ¤¡ Ÿ‹‹ ‹¤ ƒ§Ž ’ œ ž“¦ ƒœ œŽ œš¤ ‹¢Ž „œ ‚Ÿ“œž ž£¤ó ‚ ž¥ œ¥ ›Ž¤‚ ƒ¦ ˆ œŽ ’¥  ¤ˆ¥ Žœ§ ‹¤ó žŸ‚¢ŽŒ  ¥  ¤ˆ¥ ‚¤…§ œŽ ’ œ¥ ¦„§ ’ œ¥ ’¤ ¥ ƒŽ ‚ ‹§ ‹¤£¥ ¢Ž … ¤¡ ’¤‹§¤ œŽ‹¤¡ó
þþ–Ÿ¤   ¦¢¤îýý ’  ¥ …§„¥ ¦¢£¥ ƒ ¤ ƒ“„ ƒŽ œ§¤ ¢¤Ž ’¥ ƒ¢ˆ§ó
þþ¦¡Ú œš¤ ¤‹¦óýý ¢¤Ž œ¥ ž¦‡¥ Ÿ¤¡ œ¢£¤  ¦¢ ¤ Ÿ‰’¢’ œŽ„¥ ¦¢£¥ ¢¦ „¤¤ ’¥ ’ œ¤ ‡ ‚ Ÿó
¢¤Ž œž¤„§Ž¢  œ¤ƒ…  žŸ‚¢ŽŒ œ ƒ’…ž ¦„§ Ÿ¤¡ ƒœ¥ ’ œ¥ ‹ž œ  “ ¦ ž¤¥ œ§¤ „§¤ó
èàè
žŸ‚¢ŽŒ ““‹Ž Ž¦ ¤ó þþ„¢ „Ÿ¦¤¡ ’ ž¤¥ ¦Ÿ‹Ž‹¤ ¦¢Ž¦¤ „§¤ Œœ…Ž ’¥ „œ¦ „Ÿ Ÿ¤Ž¤ ƒ’…ž ˆŽ ’œ¢óýý
¢¤Ž  ¥ ‡¢‚ ‹¤ ¥ œ¥ ‚‡£¥ ’Ž ¦ž‹¤ ¢Ž ƒ’…ž ƒŽ ƒ ¤ Žš„ Ÿ•‚¢– œŽ‹¤ó Ÿ¢„ ƒ¦ž¤ ‹š˜¦ œ¤ƒ…  žŸ‚¢ŽŒ œ¥ „ ¥ ›Ž¤‚ œ§¤ „§¤ó ’  ¥ ƒ ¥ ‰¢’ ‚‰ž Žœ§¥ ¢Ž „¤¤ ’¥ ƒ ¥ ¦  œ¢ ‹¢¤ó
þþŸ’ ¢¤ŽÚýý ’  ¥ ƒ ¥ „†Ž„ œ¢  ŽŸž œ¤ ¢Ž  „¦£¤  ŽŸ ž¦‡¥ Ÿ¤¡ œ¦ó þþ¤¦ ‰Ÿ›„  ¦ œŽ¤¡ó ž£¤¡ ¤¦ ƒ’…ž ¢ƒ’ œŽ¤¡óýý
‡¢‚Ç ¢¤Ž ’¤ ¦’…Ž¤£¤  ‹ Ÿ¤¡ ¦ ’¤ ‡¤’¥ Ž‡Ž œ¤ Ÿ¢„ œ¥ ‚˜‹ ¦ ’¤ „§¤ó
þþ³ƒ œ¤ œŽ ¥ ¢ž¤ ¦¤¡ Ÿ’ ¢¤Žó Ÿ¤Ž¤ ³ƒ ’¥ œ¤ ‹“Ÿ ¤ ¦¥ýýó žŸ‚¢ŽŒ œ¢ ƒ„ „§ ’¥ ‡¢ ‚§¤ œŽ  ¦¥ ‡ž‹¤ œŽ  ¦¥ó
¢¤Ž  ¥ ŠŸ¢“¤ ’¥ ƒ’…ž ž¢Œ œ¤ ¢Ž …Ž¤Ž ƒŽ  ž¤ Žœ§ ‹¤ó žŸ‚¢ŽŒ œ¢ ’ œ¤ ŠŸ¢“¤ ’¥ Š¢š ³Ž¦ „§ó ’ œ¢ ƒ„ „§ œ¦ ’ ¢›„ ¢¤Ž œ¢ œˆ§ ’Ÿ‡§  Ÿ“œž ¦¥ó ’¤ ž¤¥ ’  ¥ ’¥ ‚„¢¡ Ÿ¤¡ ž œŽ ƒ’…ž ˆ§¤  ¥ œ š¤”ž¦ œ¤ó
þþœ¤ ‚›¤ ž¢¢¡œ¢ „Ÿ  ¥ ŸŽ ¦¥îýý
þþŸ¤¡  ¥Ú ‰‹ ¦¢„¤ ¦¥ ‹œŽ¤ œ¤ œ¤ƒ…  žŸ‚¢ŽŒó ‡„¥ ‡„¥ ƒ ¥ œ¤¥ œ žŸ Ÿ‡§ ƒŽ „§¢ƒ  ˆ¦„¥ ¦¢ýýó ¢¤Ž œ¢ ’ œ¤ ‚„ ’  œŽ ’Š„ „£¢ ³¤ó
þþŸ¤Ž œ¤Ú Ÿ¤Ž ’ ’‚ ’¥ œ¢£¤ „˜ž›  ¦¤¡ ¦¥ó ³ŠŽ œ’ –Ž‰ ’Ÿ‡§£¢¡óýý žŸ‚¢ŽŒ ‡§ ‡§ž ¤ó
þþ ¦¤¡ ’Ÿ‡§£¢ œˆ§ó Ÿ¤¡  ¥ ¢¤’¥ ‚§¤ „Ÿ¦Ž¤ œ’¤ ‚„ ƒŽ ¤›¤   ¦¤¡ œŽ ó ‡¢ “Š” ”Žš ƒ ¤ ‡  ‚ˆ ¥ œ¥ ž¥ „ ¥ ’Ž¥ ž¢¢¡ œ¢ Ÿ¢„ œ¥ Ÿ ¦ Ÿ¤¡ ‹§œ¤ž ’œ„ ¦¥ ’ œ œ¤ ˜„‚Žóýý
þþ¦¢ ¦¦Ú ¢Ž „Ÿ „¢ Ÿ‡§ ’¥ ‚§¤ ¤‹¦ ’šœ ¦¢ ¤œ ‚ˆ¥ œ¢ Ÿ¢„ œ¥ Ÿ ¦ ‹œ§¤ž ‹¤óýý žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ’Ž¤ “Žš„ ‚§ž œŽ Ÿ ¦ „¢ ‡¢‚ ‹¤ó
¢¤Ž ’¥ ’ˆ ‚Ž‹“„  ¦¤¡ ¦¢ ’  ¥ …Ž¤Ž ƒŽ ‹‚£¢ ‚§‹¤ó ’ žŸ‰¥ ‹¢ ˆ¤¤¡ ¤œ ’„§ ¦¢£¤¡ó
¢¤Ž œ¤ …  ƒŽ ˆ œ œ¢£¤ „¤ ‹§Ž ˆ¤ ³œŽ ž¤ ¢Ž ‹¢’Ž¤ –Žš žŸ‚¢ŽŒ ƒ ¤ ‡¦ ’¥ ˆ§ž ¢Ž ¢¤Ž œ¥ ƒ’…ž ¢ž¥ ¦„§ ƒŽ ‰Ÿž¦ œ¤ó
¢¤Ž œ¥ ‹Ÿ™  ¥ ’¤œ Œ œ¥ ¦Ž¢¤¡ ‰”¥ Ÿ¤¡ ³ŽŒŽ ‹¤ ¢Ž  ž¤  ¥ ’ ‰œŸ œ¤ „˜Ÿ¤ž œŽ„¥ ¦¢£¥ …Ž¤Ž ‹‚‹¤ó ƒ’…ž ’¥  œž„¤ ¢ž¤ žŸ‚¢ŽŒ  ¥ ‚žœž ³ŠŽ¤ žŸ‰¥ Ÿ¤¡ ‹¤œ§¤ ž¤œ  ’Ÿ ¥ ’¥ ¦… ¥ œ ¢›„ ’ œ¥ ƒ’ ‚ˆ  ¦ „§ó ¢ž¤ …§¤œ  “ ¥ ƒŽ ž¤ ¢Ž žŸ‚¢ŽŒ ŸŽ‹¦ ‰ž„ Ÿ¤¡ Ÿ¤  ƒŽ ³Žó
èàè
¢¤Ž œ¤ …  ’¥ Š¢  ‹§ ‹§ ‚¦¦ Ž¦ „§ó ¤œ Ÿ … „œ ¢¦ ƒ’…ž œ¢ ’¤ ƒ¢¤“  Ÿ¤¡ ƒœ¥ ƒœ¥ “œ œ¤ ‰ž„ Ÿ¤¡ žŸ‚¢ŽŒ œ¢ ‹¤œ§„¤ Ž¦¤ ž¤œ  ƒ§Ž „¤¤ ’¥ ƒž…¤ ¢Ž ’ ˆ¤ œ¤ „ž“ Ÿ¤¡  —Ž¤¡ ‹¢£¤¡ ‡’ ’¥ ’ œ¥ ¢ƒŽ ‰Ÿž¦ œ¤ ¤ „§ó ’¥ ¢¦ œž¦¤ „§¢¥ ›‹Ÿ œ¥ š”ž¥ ƒŽ ƒ¤  —Ž ³£¤ó œž¦¤ œ’ ’Ÿ„ ’¥ ³£¤ „§¤ ’ œ  ‹¦ ¦¢„¥ ¦¤ ¢¤Ž  ¥ ˆ¢ œ œŽ ‚ ž¥ œ¢ ‹¤œ§ó ’¤§¤¢¡ ƒŽ ‚ ¤ ¢¦ œ§œ¤¡ ‡¢ ŸŽœ¤ ‹Ž¢¥ œ¥ ¢ƒŽ œ§ž„¤ „§¤¡   Ÿ¤¡ ’¥ œ’¤ œ¤ ‡§žœ ‹œ§£¤ ‹¤ ž¤œ  ‡¢ œ¢£¤ ‚§¤ „§ ™£‚ ¦¢¤ó
¢¤Ž  ¥ ³¥ ‚§  ˆ¦ ž¤œ  ’ œ¥ ŠŸ  ¥ ’ œ¢ ‡„  ¦¤¡ ‹¤ ¢Ž žœ§ £¤ó ’ œ¤ Ÿ „—Ž  —Ž¤¡ ŸŽœ¤ ‹Ž¢¥ œ¤ ‡ ‚ …§¤¡ ž¤œ  ’ ’¥ ‚§¤ œ¢£¤  œž œŽ ‚¦Ž  ¦¤¡ ³¤ó
¢¤Ž ƒŽ œŸ¢Ž¤ –Ž¤ ¦¢Ž¦¤ „§¤ó Š¢  ¤‹¦ ‚¦¦ ‡ ¥ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ’ œ ’Ž ˆœŽ Ž¦ „§ó ’ œ ŠŸ œš¤ ¦Ž „§ó ¢¤Ž  ¥ ‡§œ œŽ ’ œ Ÿ˜£ ¦ œ¤ ž¤œ  ƒ§Ž ‡ž‹¤ ’¥ ’¤‹§¤ œ§¤ ¦¢£¤ó ˆ œ ‚ ž¥ œ¥ ‹£¤¡ ‡ ‚ ’¥ œ¢£¤  Ÿ¢‹Ž ¦¢ ‡’ œ¢ ‹¤œ§ œŽ ¢¤Ž œ¤ ³ œ§¤¡ ƒ§…¤ œ¤ ƒ§…¤ Ž¦ £¤¡ó
š Š‹¤Ú  ¦¤¡ ¤¦  ¦¤¡ ¦¢’œ„ó ¢¦ •Ž¢Ž Š¢‚ ‹¤œ§ Ž¦¤ ¦¥ó ¢¦ “Š” ³¦’„¦ ³¦’„¦ ›‹Ÿ …§„ ’ œ¤ ‡ ‚ ‚§ Ž¦ „§ó ¢¤Ž œ¢ ¤›¤  ¦¢¤ œ¦ ’ œ ‹Ÿ™ ˆž ¤ ¦¥ó œ¢£¤ ŸŽ ¦¢ “Š”  ‹¦ ¦¢’œ„ ¦¥ó
 ¦¤¡ ¦Ž  ¦¤¡ó ¤¦ ’ œ ¢¦Ÿ „§ó ’ œ¥ ‹Ÿ™ œ š„¢Ž ¦¥ó ¢¦ ‡¢ œˆ§ ‚§¤ „§ ’ œ¥ „§¢¤ ‹¢Ž ³œŽ Žœ ¤ó
þþ¢¤Ž¤ Œ Ÿ’ ¢¤Ž ¢¤Ž¤ Œó ³ƒ  ¥ ƒ ¤  ‹¤ œ ‹¢’Ž ›„ž ‚¤ œŸ¤‚¤ ’¥ ’Ž ‡Ÿ ‹¤óýý ’  ¥ „ž¤¡ ‚‡„¥ ¦¢£¥ žŸ‚¢ŽŒ œ¥ œ¥ ‡’Ÿ ƒŽ  —Ž Œž¤ ‡¢ ‹§¢ƒ Ÿ¤¡ ‚¥ ‡  ƒ „§ó
þþ„„à „Ÿàýý ¢¤Ž ¦œž£¤ó
þþ¦¡ Ÿ¤¡Ú œ¤¢¡ ‰¤Ž„ ¦¢£¤îýý ¢¦ Ÿ’œŽ¤ó
þþž¤œ à ž¤œ  „Ÿ ŸŽ£¥ „§¥ó ¦Ÿ  ¥ Š¢‹ ‹¤œ§ „§ýýó ¢¤Ž œ ž¦‡¦ œŸ¢Ž ƒ¤ó
¢¦ ¦ ’ ƒó þþœ‚§¤ œ‚§Ž ³ œ§¢¡ ‹¤œ§ ‚§¤ ‹§¢œ ¦¢„ ¦¥ Ÿ’ ¢¤Žýýó
þþ„¢ ‚ „Ÿ Ÿ‡§¥ ŸŽ ¥ ³£¥ ¦¢îýý
þþ¦¡ ¦¡Ú „Ÿ¦¤¡ ŸŽ  „¢ ¦¥ ž¤œ  Ÿ‡§¥ œ¢£¤ ‡ž‹¤  ¦¤¡ ¦¥ó  ¤ˆ¥ ‹¤œ§¢ó ³¦’„¦ ³¦’„¦ Š¢  „Ÿ¦Ž¥ ‡’Ÿ ’¥  œž œŽ Ž¤„ Ÿ¤¡ ‡‚ ¦¢Ž¦ ¦¥ó „Ÿ¦¤¡ Š„Ÿ œŽ ¥ Ÿ¤¡ ¤‹¦ Ÿ‰ „  ¦¤¡ œŽ ¤ ƒ¥ ¤ó „§¢¤ ‹¤Ž ‚˜‹ „Ÿ Š¢‹ ¦¤ ‚¥ ¦¢“ ¦¢ œŽ Ž ‡£¢ ¤ ¢Ž Ÿ¤Ž œŸ ”Žš „Ÿ¦¤¡ „Ÿ¦Ž¥ œŸŽ¥ Ÿ¤¡ Ÿ¢‡¢‹ ƒ§ ’¤ œ¥ ƒ§ ‹¥ Ÿ¤¡ ž…œ  ¦¢ó ’ –Ž‰  —Ÿ œ¥ ³ŠŽ¤ “˜Ž œ¥ Ÿ–‚› „Ÿ ‚§¤ Š„Ÿ ¦¢‡£¢ ¤ýýó
þþœ¤¢¡ ³ŠŽ œ¤¢¡îýý ¢¤Ž œ¥ ƒ’ ¢›˜¤ ¢›„ Š„Ÿ ¦¢Ž¦ „§ó
þþœ¤¢¡Ú Ÿ’ ¢¤Ž „Ÿ ‡„  ˆ¦¢ ‰›¤›„ œ¢ ‡§…ž£¢ ž¤œ  ‡¢ ’ˆ ¦¥ ¢¦ ’ˆ ¦¥ó „Ÿ ¤œ ›„ž ¦¢ó ¤œ Ÿ˜”¢Ÿ ‚ˆ¥ œ¤ ›„ž ¢Ž ‚›¤ ž¢ ‚§¤ „Ÿ¦Ž¤ ¦¤ –Ž‰  ¦ Ž „§¥ó „Ÿ ‡¤’¥ ž¢  ‹¦ Ž¦ ¥ œ¥ ›‚ž  ¦¤¡ó ’  Ÿ¤  ƒŽ ’¥ „Ÿ ž¢¢¡ œ¥ ‚¢‡§ œ¢ œŸ œŽ ¥ œ šŽ¤•¦ Ÿ¤¡  ¥ …§ž¤óýý
þþ¢¦ „¢ ¦Ÿ ž¢  ¦ Ž ¦¤¡ó „Ÿ¦Ž ƒ ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ œ¤ Š¤ž ¦¥ Ÿ’…Žó ¦Ÿ Ÿ¤¡ ¢Ž „Ÿ Ÿ¤¡ šŽ› œ¤ Ž¦ ¤ ¦¥ó ¦Ÿ ›„ž „§¥ „¢ „Ÿ ‚§¤ ›„ž ¦¢ó „Ÿ ’Ÿ‡§„¥ ¦¢ ¦Ÿ ’‚ œ¢ ŸŽ œŽ „Ÿ ‚ˆ ‡£¢ ¥óýý ¢¤Ž ˆ¤Š ƒ¤ ž¤œ  ’  ¥ ¢¤Ž œ¤ ‚„ œ… ‹¤ó
þþŸ¤¡  ¥ œ‚ œ¦ œ¦ Ÿ¤¡ ‚ˆ ‡£¢¡ ó šœŽ Ÿ„ œŽ¢ó „Ÿ¦¤¡ ŸŽ ¥ œ¥ ‚˜‹ Ÿ¤¡ ‚§¤  ‹¦  ¦¤¡ Ž¦¢¡ ó Ž ³‡  ¦¤¡ „¢ ¢¤’¥ ‚§¤ ˆ ‹ Ÿ¦¤ ¢¡ œ¥ ‚˜‹ Ÿ¤¡  ¥ ŸŽ  ¦¤ „§ „¢ œ¤¢¡  ¦ Ÿ¤¡ ¤¦¤¡ ’ ‡¤Ž¥ ƒŽ ƒ ¤ ³ŠŽ¤ ’ ’ ž¢¡ ‡¦¡ Ÿ¤¡  ¥ ƒ ¤  ‹¤ œ Ÿ›”‹ ƒ¢Ž œ¤óýý ¢¦ Žœ ¢Ž §¢Ÿ œŽ ’Ÿ ‹Ž œ¤ –Žš Ÿ¤ó þþ„Ÿ Ž  ‹¦ Ž¦„¤¡ „¢ ‹¤œ§„¤¡ œ¦ ‡‚ ƒ¢ž¤’ ¤¦¡ ³£¥ ¤ „¢ œ’ Ÿ“œž Ÿ¤¡ Žš„Ž ¦¢‡£¥ ¤ó   œ¤ ’Ÿ‡§ Ÿ¤¡  ¦¤¡ ³£¥  œ¦ ¤¦¡ œ¢  ’¤ ³š„ …¢…¤ ¦¥ó ¢¦ œ’ –Ž‰ ’ Ÿ˜Ÿ¥ œ ‰ž  œž ’œ¤¡ ¥ ¢Ž „Ÿ¦¤¡ ƒ„ ¦¥ Ÿ’ ¢¤Žýýó ¢¦ ¢ƒ’ ’ œ¤ ‡ ‚ Ÿó þþ¤¦¤ Ÿ¤Ž¤ ’‚ ’¥ ‚¤ œŸ¤‚¤ ¦¢¤ó ¤¦ œž¦¤ ‹¤œ§ Ž¦¤ ¦¢ýýó ’  ¥ Ÿ¤  ƒŽ ƒ¤ œž¦¤ œ¤ –Žš “Ž¦ œ¤ó þþŸ¤¡  ¥ ’ ’Ž¥ ¦š„¥ œ¤ Ž¢‹‹ žš—¢¡ Ÿ¤¡ ƒŽ¢ œŽ „‰Ž¤Ž œ¤ “œž ‹¥ ‹¤ ¦¥ ¢Ž ’¥ ’¤ ‡¦ ‹š  œ¤ ¦¥ ‡¦¡ ƒŽ ’ œž¦¤  ¥ ƒ¦ž¥ ‚§¤ Š¢  ‚¦¤ „§ó ’ž¢¡ ‚˜‹ Ž œ’¤  ¥ ‚§¢ž¥ ’¥ ¢¦¡ œ¢£¤ œ§‹£¤ œŽ‹¤ „¢ ¢¦ œ™„ ‚Ž³Ÿ‹ ¦¢¡¥ ¢Ž ž¢ Ÿ¤Ž¤ ¦ „ ƒŽ «“ «“ œŽ…§¤¡ ¥óýý
¢¤Ž œ ‹ž ™”¥ ’¥ ‚§Ž¤ ’  ¥ ž“˜¢Ž¤ –¢Ž ƒŽ ƒ  ’¤‹§ ¦„§ ‚ž ‹ œ¤ ¢Ž …Ž¤Ž ‹‚‹¤ó
¦ ’„¥ ¦¢£¥ “Š” œ¤ ’Ÿ‡§ Ÿ¤¡ ¦¤  ¦ ³¤ œ¦ ¦¢ œ¤ ¦¥ó ’ œ¤ ‰¤Ž„ ‹¦ ³ œ§¢¡  ¥ ‡§œ œŽ ƒ  ’¤ ¦ ‹¤œ§ ‡¦¡ ƒŽ ¢ž¤ ž¤ „§¤ ¢Ž ƒ§Ž ’ œ¤  ‹¤  ¥ ’¥ ’Ž …§ ¥ œ¤ ‚§¤ Ÿ¦ž„  ¦ ‹¤ ¢Ž ’ œ¥ ‡’Ÿ ’¥ Ž¢‰ ƒŽ¢ œŽ£¤ó
èàè
¢¤Ž  ¥ ƒ ¤ ‚›¤ ¦Ÿ„ ‡Ÿ˜ œ¤ ¢Ž ƒž… œŽ ‚ ž¥ œ¤ –Žš ³£¤ó ’ œ žŽ„ ¢‡¢‹ ¤œ žŸ‰¥ œ¥ ž¤¥ ŸŽœ¤ ‹Ž¢¥ œ¥ ’Ÿ ¥ Žœó ž¤œ  ¢¦ ³¥ ‚§ £¤ó
’ “Š”  ¥ …§¤œ ¦¤ œ¦ „§ œ¦ ‰›¤›„ ‰›¤›„ ¦¥ ¢Ž ³‡ ‚ž³ŠŽ ’  ¥ ‚§¤ ¤¦ ‚„ „’ž¤Ÿ œŽž¤ó ¢¦ ›„ž ¦¥ó ‚ ’ ‚„ ƒŽ ’ œ¥ ‹Ÿ™  ¥ œ¢£¤ „¢‡¤¦¦ ƒ¤“  ¦ œ¤ó ’  ¥ ¤œ ‚ˆ¥ œ¢ ›„ž œ¤ „§ ¢Ž ’¥ ’ œ¤ ’ Ÿž¤ „§¤ó ‚ ’  ¥ ‚ ž¥ Ÿ¤¡ ‡ œŽ ƒ ¤ ŸŽ¦Ÿ ƒ…¤ œŽ ¥ œ Ž‹¦ „Žœ œ¤ ¢Ž ‚ ž¥ œ¥ ƒˆ§ž¤ ‡ ‚ ‚§ £¤ó
’¥ ‡„¥ ‡„¥ ¤œ œŸ œŽœ¥ ‡  „§ó ¤œ ³ŠŽ¤ œŸàÚ
⇁Ž¤ ¦¥îá
èàè