ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
اسلامی مضامین
تاریخی مضامین
معلوماتی مضامین
سائنسی مضامین
دلچسپ مضامین
مزاحیہ مضامین
جنگی مضامین
دیگر مضامین
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
زبان و بیان
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقناولآلیور ٹوئسٹ

آلیور ٹوئسٹ

تحریر: چارلس ڈکنس

ترجمہ: مبینہ بیگم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک یتیم بچے کی دکھ بھری زندگی کےسنسنی خیز واقعات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آلیور ٹوئسٹ کی زندگی کا آغاز دکھوں سے ہوا۔ مسلسل کیے سالوں تک اس نے دکھ اٹھائے۔۱۸۳۷ء میں آلیور ایک یتیم خانے میں جاڑوں کی ایک رات میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں اسی رات مر گئی۔

ڈاکٹر نے کہا:

’’افسوس! کتنی جوان اور خوب صورت ہے۔‘‘

وہ بوڑھی عورت کی طرف بڑھا، جس نے اس کی مدد کی تھی۔ اس نے عورت سے پوچھا:’’وہ کون تھی؟‘‘

’’کوئی نہیں جانتا۔ ہمیں وہ گلی میں ملی تھی اور ہم اس کو اٹھا کر یہاں لے آئے تھے۔‘‘

ڈاکٹر نے اس کے پھٹے ہوئے جوتے دیکھ کر کہا:

’’شاید وہ بہت دور سے آئی ہے۔‘‘

اُس نے اُس کا مردہ بایاں ہاتھ اُٹھا کر دیکھا اور کہا:

’’اس کی انگلی میں شادی کی کوئی انگوٹھی نہیں... آہ! اچھا......‘‘ کہتا ہوا وہ جلدی سے چلا گیا۔

اس غریب چھوٹے لا وارث بچے کا نام آلیور ٹوئسٹ رکھا گیا۔ انہوں نے اس کو دوسرے بچوں کے ساتھ یتیم خانے میں ڈال دیا۔ مسٹر بمبل جو یتیم خانے کا مالک تھا ان بچوں سے بہت برا برتاؤ کرتا تھا۔ نو سال کی عمر میں آلیور دبلا پتلا کمزور لڑکا تھا۔ سب لڑکے دبلے پتلے اور کمزور تھے، کیوں کہ انہیں کام تو بہت کرنا پڑتا تھا لیکن کبھی انہیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا۔ وہ ہمیشہ بھوکے رہتے تھے۔ یہ سچ بات تھی کہ وہ دن میں کئی مرتبہ کھانا کھاتے تھے، لیکن ہر خوراک میں انہیں ایک پیالہ شوربا ملتا تھا۔ ہفتے میں دو دفعہ انہیں پیاز کی ایک گانٹھ دی جاتی اور اتوار کے دن آدھا کیک۔ لڑکے اکثر بھوک سے بلبلا تے رہتے تھے۔ کبھی وہ اتنے بھوکے ہوتے تھے کہ انہیں بھوک کی وجہ سے نیند بھی نہیں آتی تھی۔

ایک لڑکا جو ان میں سب سے لمبا تھا اس نے کہا:

’’اگر مجھے ایک پیالہ شوربا اور نہیں ملا تو میں تم میں سے ایک کو کھا لوں گا۔‘‘

اس کی آنکھوں سے وحشت ٹپکتی تھی۔بھوک نے اس لڑکے کو پاگل بنا دیا تھا۔ اس کی بات کو سب چھوٹے لڑکے سچ سمجھتے تھے اور اس سے بہت زیادہ خوف زدہ تھے۔ غریب یتیم بچے کر بھی کیا سکتے تھے! وہ سوچتے تھے اور آپس میں باتیں کرتے تھے۔ پھر انہوں نے پلان بنایا کہ جب مالک شوربا دے رہا ہو تو ایک لڑکا اس کے پاس جائے اور اس سے زیادہ مانگے۔ یہ پلان سب کوبہت پسند آیا، لیکن کون اتنا بہادر تھا جو زیادہ شوربا مانگتا؟

سب مسٹر بمبل سے ڈرتے تھے۔ سب اس سے مار کھائے ہوئے تھے۔ وہ اس کے بھاری ہاتھوں اور اس سے بھی بھاری چھڑی کو اچھی طرح جانتے تھے۔ کسی کی بھی اتنی ہمّت نہ ہوئی کہ اس سے زیادہ مانگے۔ بہت دیر تک باتیں ہوئیں۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ آلیور ٹوئسٹ آج شام کے کھانے پر زیادہ شوربا مانگے گا۔ جب شام کے کھانے کا وقت آیا تو سب لڑکے پتھر کے ٹھنڈے ہال میں اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے۔ کمرے کے آخری سرے پر ماسٹر شوربے کا ایک بڑا برتن لئے کھڑا تھا۔ اس کے سیدھے ہاتھ میں ایک بڑا چمچا تھا۔ ہر لڑکا باری باری اپنا پیالہ لئے ماسٹر کے پاس آتا۔ ماسٹر ااس کو چمچا بھر کر شوربا دے دیتا۔ شوربا بہت جلدی ختم ہوگیا تو لڑکے اپنا پیالہ اور انگلیاں چاٹنے لگے۔ وہ ابھی بھوکے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ کانا پھوسی کرنے لگے۔ آخر انہوں نے دھکّا دے کر آلیور ٹوئسٹ کو آگے بڑھایا۔ آلیور اپنا پیالہ لے کر آہستہ آہستہ ماسٹر کے پاس گیا۔ پھر اس نے آہستہ سے سہمی ہوئی آواز میں کہا:

’’جناب، مہربانی کر کے مجھ کو تھوڑا شوربا اور دیجئے۔‘‘

ماسٹر جو ایک تندرست اور موٹا آدمی تھا غصے سے اچانک مڑا ور دھاڑا:

’’کیا۔‘‘

آلیور نے پتے کی طرح کانپتے ہوئے دوبارہ کہا:

’’مہربانی کر کے مجھ کو تھوڑا شوربا اور دیجیے۔‘‘

مسٹر بمبل نے اپنے ہاتھ کا چمچا اس کے سر پر مارا، پھر آلیور کو پکڑ لیا اور اپنی مدد کے لئے چلانے لگا۔ اس کی آواز سن کر باورچی خانے میں کام کرنے والے لڑکے بھاگے ہوئے آئے۔ انہوں نے غریب آلیور کو پکڑ لیا اور اس وقت چھوڑا جب مارتے مارتے مسٹر بمبل کے ہاتھ دکھ گئے۔

آلیور کو ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ دوسری صبح یتیم خانے کے دروازے پر یہ نوٹس لگ گیا:

’’جو شخص نو سال کے یتیم آلیور ٹوئسٹ کو ملازم رکھے گا اسے پانچ پونڈ انعام دیا جائے گا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعد یہ پیشکش قبول ہوئی۔ اس وقت تک آلیور کو تاریک کمرے میں رکھا گیا۔ شام کو ایک گھنٹے کے لئے باہر نکال کر سب بچوں کے سامنے ٹھنڈے پتھر کے حال میں لا کر مارا جاتا تاکہ سب کو سبق حاصل ہو۔ آخر ایک آجر جس کا نام مسٹر سوربری تھا۔ یتیم خانے میں آیا۔ مسٹر سوربری تابوت بناتے تھے۔ انہیں اپنے کارخانے میں اپنی مدد کے لئے ایک لڑکے کی ضرورت تھی۔ آلیور نے اپنی سب چیزیں رومال میں باندھ کر اپنی بغل میں دبا لیں اور یتیم خانے سے مسٹر سوربری کی دکان چلا گیا۔

مسٹر سوربری دبلے پتلے بد اخلاق آدمی تھے۔ ان کی بیوی بھی ایسی ہی تھی۔ وہ جتنے لمبے تھے وہ اتنی ہی پستا قد تھی۔ دونوں بے رحم اور ظالم تھے۔ انہوں نے پہلے ہی دن سے آلیور پر ظلم کرنا شروع کر دیا، کیوں کہ مسٹر بمبل نے آلیور کے خلاف ان کے کان اچھی طرح سے بھرے تھے۔ مسز سوربری آلیور پر کڑی نگاہ رکھتی تھیں۔ اس نے مسٹر بمبل سے شکایت کرتے ہوئے کہا:

’’یہ بہت چھوٹا ہے۔‘‘

’’ہاں، مگر یہ بڑا ہو جائے گا۔‘‘

’’ہاں مگر یہ ہماری روٹی کھا کر بڑا ہوگا۔ ان یتیم خانے کے بچوں کو جو ہمیشہ کھانے پینے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، میں اچھی طرح جانتی ہوں، لیکن کیا وہ کام بھی کرتے ہیں؟‘‘

مسز سوربری نے آلیور کو دھکّا دے کر کہا:

’’ہڈیوں کی مالا، نیچے اترو۔‘‘

زینہ اتر کر آلیور اندھیرے اور سیلے ہوئے کمرے میں پہنچاجہاں ایک گندی میلی کچیلی سی لڑکی بیٹھی تھی۔ یہ شارلٹ سوربری تھی۔

’’شارلٹ! گوشت کے ٹکڑے جو میں نے کتے کے لئے رکھوائے تھے، کہاں ہیں؟ وہ اس لڑکے کو دے دو۔‘‘

شارلٹ نے گوشت کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ایک پلیٹ آلیور کے آگے کھسکا دی، جس کو دیکھ کر آلیور کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ بھوک کی وجہ سے وہ سب کھا گیا۔

مسز سوربری جو خوف زدہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں، بولیں:

’’اگر یہ اسی طرح کھاتا رہا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔‘‘

جب آلیور کھا چکا تو مسز سوربری اسے مدھم لیمپ کی روشنی میں زینے کے اوپر کارخانے میں لے گئیں اور کاؤنٹر کی طرف اشارہ کر کے آلیور سے کہا:

’’"اس کے نیچے تمہارا بستر ہے۔ تم تابوتوں کے درمیان سوؤ گے۔ امید ہے کہ تم کچھ خیال نہیں کرو گے، کیوں کہ ہمارے پاس اور کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ آلیور کو تابوتوں کے درمیان اکیلا چھوڑکر چلی گئیں۔ غریب آلیور ڈر کی وجہ سے کپکپا رہا تھا۔ ان تابوتوں میں تو مردے ہوتے ہیں اور ان کے بھوت ہوتے ہیں۔ اس کے سونے کے بعد وہ کفن سے باہر آ جائیں گے۔ اس ڈر کی وجہ سے وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔

آخر صبح کے قریب بڑی مشکل سے آنکھ لگ گئی۔ کسی نے دکان کے دروازے پر لات ماری تو آلیور کی آنکھ کھل گئی۔ وہ دروازہ کھولنے کے لیے بھاگا۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے تھے۔ وہ آہستہ سے زنجیر کھول رہا تھا۔ غصے میں بھری آواز آئی:

’’جلدی کرو میں تمہارا انتظار نہیں کرسکتا۔‘‘

’’جناب، میں آ رہا ہوں، ایک منٹ۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ تم یتیم خانے کے لڑکے ہو۔‘‘

’’جی جناب۔‘‘

’’تمہاری عمر کیا ہے؟‘‘

’’دس سال۔‘‘

’’میں اندر آکر تمہارے ایک لات ماروں گا۔‘‘

بولنے والے نے سیٹی بجاتے ہوئے خوشی سے کہا۔

آخر آلیور دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ باہر ایک بڑا اور موٹا لڑکا کھڑا تھا۔ آلیور نے یہ سوچ کر کہ شایدوہ کوئی گاہگ ہے اس سے پوچھا:

’’جناب، کیا آپ کو تابوت کی ضرورت ہے؟‘‘

’’جب تم کوختم کر دوں گا تب مجھے تابوت کی ضرورت ہوگی۔ کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں، اے حقیر لڑکے؟‘‘

موٹے لڑکے نے سوال کیا، پھر خود ہی جواب دیا:

’’میں نو آکلے پول ہوں۔ تم میرے ماتحت کام کرو گے اور میں دیکھوں گا کہ تم کیسے محنت نہیں کرو گے۔ کھڑکیاں کھولو حقیر لڑکے!‘‘

اس نے آلیور کے ایک لات ماری اور زینے سے اتر کر باورچی خانے میں ناشتہ کرنے چلا گیا۔ آلیور بھی اس کے پیچھے چل دیا۔

شارلٹ’ نوآ‘ پر بہت مہربان تھی:

’’آؤ آگ کے پاس بیٹھ جاؤ پیارے نوآ، تمہیں میں ناشتے میں اچھے گوشت کے نمکین سوکھے ٹکڑے دوں گی۔‘‘

شارلٹ آلیور سے جلتی تھی۔ اس نے کمرے کے ٹھنڈے کونے میں ایک صندوق کی طرف اشارہ کر کے آلیور سے کہا:

’’"جاؤ اس پر بیٹھ جاؤ۔‘‘

’’کیا تم نے سنا نہیں حقیر لڑکے؟‘‘ نوآ نے کہا۔

شارلٹ نے سوچا کہ یہ ایک اچھا مذاق ہے۔ وہ دل کھول کر ہنسی۔ آلیور ٹھنڈ میں بیٹھا کھا رہا تھا اور وہ دونوں اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔

کافی دنوں اور مہینوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آلیور پر سب ظلم کرتے تھے۔ وہ خاموشی سے برداشت کرتا رہا۔ پھر ایک دن اس نے سب کو حیران کر دیا۔ وہ سوچتے تھے کہ وہ ان سے ڈرتا ہے اور تھا بھی ایسا ہی، لیکن ایک دن اس نے اپنے اندر ہمت پیدا کر کے دکھا دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشائیے کا وقت تھا۔ آلیور اور نوآکلے پول باورچی خانے میں بیٹھے کھانے کا انتظام کر رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح نوآ کا مزاج خراب تھا۔ وہ آلیور کو غصہ دلانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے پاؤں میز پر رکھ چھوڑے تھے۔ پھر اس نے آلیور کے بال نوچے، چٹکی لی اور لات ماری۔ وہ یہ سب اس لیے کر رہا تھا کہ آلیور روئے چلائے لیکن آلیور پھر بھی نہیں رویا۔ آخر اس نے آلیور سے پوچھا:

’’حقیر لڑکے، تمہاری ماں کیسی ہے؟‘‘

’’وہ مر چکی ہے۔ تم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘

’’حقیر لڑکے، وہ کیسے مر گئی؟‘‘

’’اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔‘‘ آلیور نے اس سے کہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

نوا ہنسا،’’رونا بچّہ، رونا بچّہ، یہ اپنی ماں کے لیے رو رہا ہے۔‘‘

’’میری ماں کے بارے میں کچھ مت کہو، تمہارے لیے اچھا ہے کہ خاموش۔۔۔‘‘

’’میرے لیے اچھا ہے۔ کیا میں خاموش ہو جاؤں! حقیر لڑکے، تم بہت گستاخ ہوتے جا رہے ہو۔ مجھے حیرت ہے کہ تم اتنی چھوٹی عمر میں کتنے بے ادب ہو۔ مجھے اپنی ماں کے بارے میں بتاؤ کیا وہ حقیقت میں ایک بری عورت۔۔۔‘‘

آلیور نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا،’’تم نے کیا کہا؟‘‘

’’میں نے یہ کہا کہ وہ حقیقت میں ایک بری عورت تھی۔ یہ اچھا ہوا کہ وہ مر گئی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو سزا ملتی۔ یہ بات یقینی ہے کہ وہ۔۔۔‘‘

آلیور نے اتنا موقع ہی نہ دیا کہ وہ آگے کچھ بولے۔ اس نے جھپٹ کر اس کا گلا دبوچ لیا اور اسے فرش پر پٹک دیا۔

نوا خوف سے چلّایا۔:

’’بچاؤ! بچاؤ شارلٹ!‘‘

شارلٹ اور مسز سوربری بھاگ کر باورچی خانے میں آئیں۔ انہوں نے آلیور کو پکڑ کر مارا۔ نوآ نے بھی اٹھ کر ان کی مدد کی۔ آخر جب وہ مارتے مارتے تھک گئے تو اس کو کھینچ کر برا بھلا کہتے ہوئے بڑی مشکل سے ایک تاریک تہ خانے میں بند کر دیا۔

مسز سوربری ایک کرسی پر گر کر زار و قطار رونے لگی۔

شارلٹ چلائی،’’وہ بے ہوش ہو رہی ہیں۔ نوآ جلدی سے ایک گلاس پانی لاؤ۔‘‘

مسز سوربری ہوش میں آتے ہی چلائی، ’’شارلٹ! شارلٹ! وہ ہم سب کو سوتے میں ضرور مار ڈالے گا۔‘‘

شارلٹ نے کہا،’’ نوآ بیچارا تو مر چکا ہوتا، اگر ہم یہاں نہ ہوتے۔‘‘

’’بے چارا نوآ۔‘‘

مسز سوربری نے اس کی طرف ہمدردی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر پوچھا:

’’"اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ مسٹر سوربری ابھی گھنٹوں واپس نہیں آئیں گے۔‘‘

آلیور نے ایک منٹ میں دروازے پر لاتیں مارنی شروع کردیں۔

’’اس کا مطلب ہے وہ ہم سب کو مار ڈالے گا۔ میں جانتی ہوں وہ ایسا ہی کرے گا۔ نوآ، بھاگ کر یتیم خانے جاؤ اور مسٹر بمبل کو بلا کر لاؤ۔‘‘

نوآ بھاگتا ہوا یتیم خانے پہنچا۔ اس نے سانس لئے بغیر کہا:

’’مسٹر بمبل! مسٹر بمبل! جناب! آلیور ٹوئسٹ پاگل ہوگیا ہے۔ اس نے مجھے مار ڈالنے کی کوشش کی اور شارلٹ اور مسز۔۔۔ وہ ہم سب کو مار ڈالے گا، اگر آپ میرے ساتھ نہیں چلے۔‘‘

مسٹر بمبل نے جلدی سے اپنی لکڑی اُٹھائی اور تابوت بنانے والے کے ہاں چلے گئے۔تہ خانے کے پرانے دروازے پر آکر انھوں نے زور سے آواز دی ،’’آلیو ر ٹوئسٹ‘‘۔

’’مجھے یہاں سے باہر نکالو!‘‘

’’تم جانتے ہو میں کون ہوں؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’اور پھر بھی تمہیں ڈر نہیں۔‘‘

’’نہیں ،میں نہیں ڈرتا۔‘‘

مسٹر بمبل کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔وہ حیرت سے سب کی طرف دیکھنے لگے۔مسزسور بری نے کہا ،’’یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے۔اگر پاگل نہ ہوتا تو اس کو اس طرح بولنے کی جرأت نہ ہوتی۔وہ پاگل ہے۔‘‘

مسٹر بمبل بہت سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔انھوں نے سوچتے ہوئے کہا:

’’خاتون ،یہ پاگل پن نہیں گوشت کا کرشمہ ہے۔‘‘

’’گوشت!‘‘مسز سوربری نے حیرت اور تعجب سے کہا۔

’’ہاں گوشت محترمہ، کیا تم اس لڑکے کو گوشت کھانے کو نہیں دیتی ہو۔‘‘

’’اچھا!’’ہاں تو پھر؟‘‘

’’اگر تم اس لڑکے کو شوربا دیتیں تو یہ واقعہ کبھی نہیں ہوتا۔ یہ سارا فساد گوشت کا پیدا کیا ہوا ہے۔‘‘

مسز سوربری نے حیرانی سے کہا:

’’یہ سب اس لیے ہوا کہ میں اس پر بہت مہربان تھی۔‘‘

’’اس کو دو تین دن یہیں رہنے دو۔جب وہ باہر آئے تو اس کو گوشت کبھی نہیں دینا۔اگر تم نے ایسا کیا تو تمہیں ایک دن ہاتھ ملنا پڑے گا۔وہ ایک برے خاندان سے ہے۔محترمہ اس کی ماں ۔۔۔‘‘

آلیور نے پوری طاقت سے دروازے پر لاتیں مارنا شروع کر دیں۔اب مسٹر سور بری بھی واپس آچکے تھے۔سب نے انہیں اس واقعے کے بارے میں بتایا۔انھوں نے آلیور کو تہ خانے سے باہرگھسیٹا۔

’’اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟‘‘

اُنھوں نے برُی طرح کانپتے ہوئے لڑکے سے پوچھا۔

آلیور نے کہا،’’اس نے میری ماں کو برا کہا تھا۔‘‘

مسٹر سوربری نے کہا،’’وہ اس لاأق تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ بُری تھی۔‘‘

’’وہ ایسی نہیں تھی،وہ ایسی نہیں تھی۔یہ جھوٹ ہے۔‘‘

مسز سوربری زاروقطار رونے لگیں۔

مسٹر سوربری نے آلیور کو بے رحمی سے مارنا شروع کردیا۔

آخر جب آلیور تابوتوں کے درمیان اپنے بستر میں لیٹا تو اُس نے رونا شروع کر دیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے اس کا دل پھٹ جائے گا۔وہ تمام رات روتا رہا۔جب صبح ہوئی تو اس نے اپنے آنسو پونچھے۔اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ بھاگ جائے گا۔اس نے اپنی تمام چیزیں رومال میں باندھیں اور خاموشی سے دوکان کا دروازہ کھول کر گلی میں نکل گیا۔

آلیور تیزی سے تنہا جا رہا تھا۔جب کبھی کوئی گاڑی یا کار اس کے نزدیک آتی وہ جلدی سے چھپ جاتا۔آٹھ بجے تک وہ قصبے سے سات میل دور پہنچ گیا تھا ۔ وہ سستانے کے لیے تھوڑی دیر بیٹھ گیا۔قریب ہی لگے ہوئے سنگ میل کو دیکھنے سے اسے معلوم ہوا کہ وہ لندن سے ستر میل دور ہے۔

لندن!

یتیم خانے میں اس نے بوڑھے آدمی سے لندن کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنی تھیں۔اس نے سوچا کہ کیا ایک لڑکے کو اتنے بڑے شہر میں کام مل جائے گا۔لندن اتنا بڑا شہر ہے کہ مسٹر سوربری اس کو وہاں تلاش نہیں کر سکیں گے۔لندن جانا ہی اس نے اپنے لیے مناسب سمجھا۔

آلیور لندن جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کی جیب میں سوائے ایک سوکھی روٹی کے کوئی چیز نہیں تھی۔جب وہ ختم ہو گئی تواس کو کھانا مانگ کر کھانا پڑا۔جہاں کہیں اس کوسایہ ملتا وہ وہیں سو جاتااور جب موسم اچھا ہوتا وہ کھیت میں یا کسی سائبان کے نیچے سو جاتا۔اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے۔اس کو ٹھنڈ لگتی تھی۔وہ بہت تھکا ہوا اور بھوکا تھا۔اس کے پاؤں پھٹ گئے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔لیکن پھربھی وہ لگاتارسات دن تک چلتا رہا۔ایک دن صبح سویرے وہ برنٹ کے ایک چھوٹے قصبے میں داخل ہوا جو لندن سے زیادہ دور نہیں تھا۔

یہ سوچ کر کہ اب اس سے اور آگے نہیں چلا جا سکتا وہ ایک دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔اتنی صبح بھی وہاں کچھ آدمی موجود تھے۔آلیور اتنا تھکا ہوا تھا کہ اس نے کسی کی طرف دھیان نہیں دیا،لیکن اچانک اس کا دھیان ایک لڑکے کی طرف گیا جو اس کے پاس سے گزر کر دوبارہ واپس آیا تھا۔وہ دیکھنے میں بڑا عجیب و غریب تھا۔ آلیور سے زیادہ عمر کا نہیں تھا لیکن دیکھنے میں ایک چھوٹاسا آدمی لگتا تھا۔ وہ کسی آدمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھا جو اس کے بدن پر ڈھیلے تھے۔ اس کی آنکھیں چھوٹی اور تیز تھیں اور وہ بے ایمان لگتا تھا۔اجنبی لڑکا آلیور کے قریب آیا اور بولا:

’’ہیلو!تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘

آلیور نے کہا،’’مجھے چلتے ہوئے سات دن ہو گئے ہیں۔میں بہت بھوکا ہوں۔‘‘

’’میں خود بہت غریب ہوں۔اچھا!تم فکر مت کرو میری جیب میں ایک شلنگ ہے۔آؤ کچھ ناشتا کریں۔‘‘

اس نے آلیور کو اٹھنے میں مدد دی۔پھر اس کو قریب کے ہوٹل میں لے گیا۔آلیور نے ایک بھوکے بھیڑیئے کی طرح کھایا۔جب وہ کھا چکا تو اجنبی نے اس سے سوال پوچھنا شروع کیے:

’’لندن جا رہے ہو؟‘‘

’’ہاں!‘‘

’’کیا کوئی ٹھکانا ہے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’وہاں کسی کو جانتے ہو؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

لڑکے نے سیٹی بجائی اور کہا:

’’نوجوان چھوکرے،تمہاری حالت بہت خستہ ہے،لیکن فکر مت کرو۔میں ایک بوڑھے شریف آدمی کو جانتا ہوں جو لندن میں رہتا ہے۔تم اس کے ساتھ رہ سکتے ہو۔وہ تمہارے لیے کوئی کام تلاش کر دے گا۔‘‘

آلیور نے کہا،’’سچ!تمہاری بڑی مہربانی کہ تم نے میری مدد کی۔تمہارا بہت بہت شکریہ، تمہارا کیا نام ہے؟‘‘

’’ڈاکنس جیک،ڈاکنس میرا نام ہے لیکن میرے دوست مجھے آرٹفل ڈاجر کہتے ہیں۔ میں حقیقت میں ایک چالاک لڑکا ہوں، تمہارا کیا نام ہے؟‘‘

’’آلیور ٹوئسٹ۔‘‘

’’اچھا آلیور،اب ہم چلنے کے قابل ہوگئے ۔آؤ۔‘‘

پھر دونوں لڑکے لندن کے لیے تیار ہوگئے۔

جب وہ وہاں پہنچے تو رات زیادہ ہوچکی تھی۔آلیورکو ڈاجر کئی اندھیری اور گندی گلیوں میں لے گیا۔کیا لندن ایک بری جگہ ہے! آلیور یہ سوچ کر ڈرنے لگا۔ڈاجر نے ایک دروازہ دھکیل کر کھولا اور آلیور کو کھینچ کر اندر لے گیا۔اس نے کہا:

’’یہ جگہ ہے۔سیڑھیوں سے اوپر چڑھو۔‘‘

گندی اورٹوٹی ہوئی سیڑھیوں پر چڑھنے میں اس نے آلیور کی مدد کی۔اوپر پہنچ کر اس نے ایک دروازہ کھولااور اس کو ایک چھوٹے کمرے میں لے گیا۔کمرے کی دیواریں اور چھت بہت پرانی تھی اور دھویں سے کالی ہو رہی تھی۔ایک طرف آگ جل رہی تھی۔ اس کے سامنے میز پر روٹی ،کچھ مکھن ،کچھ گندی پلیٹیں اور پیالیاں رکھی تھیں۔آگ کے اوپر فرائی پین میں کچھ سموسے تلے جا رہے تھے۔ ایک میلا کچیلا آدمی ایک لمبا کانٹا اپنے ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔اس کا مجرموں جیسا چہرہ لمبے بالوں میں چھپا ہوا تھا۔اس کے سر کے اوپر ریشمی رومالوں کی الگنی لٹک رہی تھی ۔دیواروں کے سہارے توشکیں رکھی تھیں پانچ لڑکے میز کی چاروں طرف بیٹھے تھے۔وہ عمر میں ڈاجر کے برابر تھے لیکن پائپ پی رہے تھے۔یہ لڑکے اپنی جگہ سے اٹھ کر ڈاجر کی چاروں طرف جمع ہو گئے جو بوڑھے آدمی کے کان میں کچھ چپکے چپکے کہہ رہا تھا۔پھر ڈاجر نے زور سے کہا:

’’یہ فیگن ہے اور یہ میرا دوست آلیور ٹوئسٹ ہے۔‘‘

فیگن نے بڑے تپاک سے اس سے ہاتھ ملایا اور کہا:

’’مجھے تم سے مل کربہت خوشی ہوئی۔‘‘

پھر وہ لڑکوں کی طرف مڑ کر بولا:

’’میرے عزیزو،آلیور سے ہاتھ ملاؤ۔‘‘

لڑکے آلیور کے چاروں طرف جمع ہو گئے۔وہ ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ بوڑھے آدمی نے اپنا کانٹا لہرا کر لڑکوں کوپیچھے دھکا دیا اور کہا:

’’میرے عزیزو، پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو جاؤ۔

ڈاجر نے آگ کے پاس ایک کرسی کھسیٹ کر آلیور کو بٹھا دیا۔

’’یہ سموسے اس کو دو۔‘‘

آلیور آگ کے پاس بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔پھر اس نے ریشمی رومالوں کی طرف دیکھ کر سوچا کہ کتنے خوب صورت ہیں !فگن نے اس کے خیالات پڑھ لیے۔

’’میرے عزیز،یہ ہمارے رومال ہیں۔بس انہیں دھونے کی کسر ہے۔‘‘

آلیور حیران ہوا کہ لڑکے قہقہہ مار کر کیوں ہنس رہے ہیں۔ڈاجر ایک پیالی میں کچھ لے کر آلیور کے پاس آیا۔آلیور نے پوچھا:

’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’گرم شربت اور پانی ہے۔‘‘

آلیور نے حیرت سے دیکھا،’’افسوس میں نہیں پی سکتا۔میں نے یہ کبھی نہیں پیا۔‘‘

بوڑھے نے کہا،’’میرے عزیز اس کو پی جاؤ۔ یہ تم کو اچھا کر دے گا۔پی جاؤ تاکہ پیالہ دوسرے شخص کے لئے خالی ہو جائے۔‘‘

آلیور نے اس کو پی لیا۔تین منٹ میں وہ گہری نیند سو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری صبح آلیور دیر تک سوتا رہا۔اس نے اپنی آنکھیں کھولیں لیکن اسے اتنی نیند آرہی تھی کہ وہ ہل تک نہ سکا۔وہ آدھا سوتا اور آدھا جاگتا لیٹا رہا۔کمرے میں سوائے فیگن کے کوئی نہیں تھا جو کافی بنا رہا تھا۔اس نے آلیور کی طرف دیکھا جو ابھی تک خاموش لیٹاتھا۔پھر اس نے خاموشی سے دروازہ بند کرکے تالا لگا دیااور جھک کر فرش کی ایک اینٹ اٹھائی جس کے نیچے ایک سوراخ تھا۔اس میں سے ایک ڈبا نکالا،اسے میز پر رکھ کراحتیاط سے کھولا اور ایک ایک کرکے اس کی چیزیں باہر نکالیں۔آلیور حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔بوڑھے نے سونے کی ایک گھڑی اٹھائی، جس میں ہیرے چمک رہے تھے۔بوڑھاہنسا،’’کتنی خوب صورت ہے!‘‘پھر اس نے دوسری گھڑی نکال کر اس کا جائزہ کیا۔انگوٹھیاں، نکلس،پہنچیاں اور بروچ نکالے ، جنہیں بڑی محنت اور حفاظت سے رکھا گیا تھا۔پھر وہ آلیور کی طرف مڑا جو اس کو دیکھ رہا تھا۔ آلیور نے سب کچھ دیکھ لیا تھا۔وہ جاگ رہا تھا۔فیگن نے روٹی کاٹنے والی چھری اٹھائی اور اس کی طرف جھپٹا:

’’تم مجھے دیکھ رہے ہو!تم نے کیا دیکھا ہے؟مجھے بتاؤ!جلدی سے مجھے بتاؤ۔‘‘

بوڑھا اس کے چھری مارنے لگا۔

’’جناب،میں ....میں.....سو نہ سکا،میں جاگ گیا....جناب، مجھے معاف کر دیجئے۔‘‘

’’کیا تم ایک گھنٹہ پہلے جاگے تھے؟‘‘

’’نہیں جناب۔‘‘

’’کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘

فیگن نے اس سے پوچھا اور اپنی چھری اس کے گلے پر رکھ دی۔

’’جناب،میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘

’’اچھا! میرے عزیز، پھر صحیح ہے۔میں تم سے مذاق کر رہا تھا۔‘‘

اس نے اپنی چھری واپس میز پر رکھ دی۔

’’میں تم کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔تم....تم ایک بہادر لڑکے ہو۔آہا!ہاہا!تم ایک بہادر لڑکے ہو۔‘‘اور اپنے ہاتھ ملنے لگا۔پھر اس نے اچانک پوچھا،’’کیا تم نے میری قیمتی چیزیں دیکھی ہیں؟‘‘

’’ہاں جناب!‘‘

فیگن پیلا پڑ گیا۔اس نے کہا:

’’وہ سب میری ہیں،میں نے ان کو اپنے بڑھاپے کے لیے رکھاہے۔ جب میں بوڑھا ہو جاؤں گاتب مجھ کو ان کی ضرورت ہوگی۔میرے عزیز ،میں جلد ہی بوڑھا ہو جاؤں گا۔ جب میں کوئی کام نہ کر سکوں گا اس وقت مجھے زندہ رہنے کے لیے کچھ چیزیں رکھنی چاہئیں۔کیا یہ میرے لیے ضروری نہیں ہیں؟‘‘

آلیور نے آہستہ سے جواب دیا:

’’ہاں جناب!‘‘

پھر اس نے پوچھا،’’کیا میں اب کھڑا ہو جاؤں ؟‘‘

’’ضرور میرے دوست ضرور۔پانی کا جگ اُس کونے سے اٹھا لاؤ۔میں تمہیں منہ دھونے کے لیے سلفچی دیتا ہوں۔‘‘

آلیور گیا۔جب وہ پانی لے کر مڑا تو اس نے دیکھا وہ ڈبہ غائب ہو گیا تھا۔آلیور نے ابھی مشکل سے منہ بھی نہیں دھویا تھا کہ آرٹفل ڈاجر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ اندر آیا۔اس کا نام چارلی بیٹس تھا۔وہ سب اکٹھے ناشتا کرنے بیٹھ گئے۔ آلیور کو ناشتہ بہت مزے کا لگا، کیوں کہ گرم کافی اور گرم روٹی کے علاوہ خشک نمکین ران بھی تھی۔ فیگن نے ڈاجر اور چارلی بیٹس سے کہا۔’’اچھا میرے دوستو!مجھے امید ہے کہ تم آج صبح سے کام کرو گے۔‘‘

’’ہاں انہیں دیکھو۔‘‘ڈاجر نے چمڑے کی جیسی کتابیں فیگن کو دیں۔فیگن نے انہیں اندر باہر سے اچھی طرح دیکھا،’’یہ بہت خوب صورت بنی ہیں۔حالانکہ یہ اتنی بھاری نہیں ہیں جتنی کہ ہونی چاہئیں۔‘‘

پھر اس نے آلیور کی طرف مڑ کر پوچھا،’’ڈاجر ایک ہو شیار کام کرنے والا ہے۔کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘

’’ہاں جناب،بہت۔‘‘آلیور نے کہا۔

آلیور کو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ دونوں لڑکے قہقہے لگا رہے تھے ۔چارلی بیٹس نے حیرت سے کہا کہ یہ بہت سادہ لوح ہے۔

فیگن نے کہا،’’اچھا چارلی،تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘

چارلی نے اسے چار ریشمی رومال دکھائے۔فیگن نے انہیں غور سے دیکھا اور اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا:

’’ہاں،یہ اچھے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ نشانات پہچان لیے جائیں گے۔ ہم نوجوان آلیور کو سکھائیں گے۔‘‘

دوبارہ آلیور کو لڑکوں کے قہقہوں پر حیرت ہوئی۔فیگن آلیور کی طرف مرا،’’کیا تم نشانات کو ختم کرنا پسند کروگے؟‘‘

’’جی ہاں جناب!‘‘

یہ جواب سن کر بھی لڑکے ہنسنے لگے۔ چارلی بیٹس نے کہا،’’یہ بہت ناتجربے کار ہے۔‘‘

ناشتا ہنسی خوشی ختم ہو گیا۔فیگن نے اونچی آواز میں ڈاجر اور اس کے ساتھی سے پوچھا کہ کیا ہم آلیور کو اپنا کھیل دکھائیں لڑکو؟

وہ آلیور کی طرف مڑا:

’’میرے دوست،کیا تم ایک مزیدار کھیل کھیلنا پسند کرو گے؟‘‘

’’اوہ!ہاں جناب۔‘‘

وہ ایک عجیب و غریب کھیل کھیلتے ہیں۔فیگن نے اپنی ایک جیب میں گھڑی اور دوسری جیب میں ایک جیبی کتاب رکھی۔پھر وہ یہ کوشش کرنے لگا جیسے وہ ایک بوڑھا شریف آدمی ہے جو رستہ چلتے ہوئے اِدھر اُدھردیکھتا جا رہا ہے۔ پھر وہ رکتا ہے جیسے وہ ایک دوکان کی طرف دیکھ رہا ہے۔

چارلی اور ڈاجر اس کے پیچھے سائے کی طرح رینگتے ہیں جب فیگن رکتا ہے تو وہ بھی رک جاتے ہیں۔ جب وہ چلتا ہے تو وہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔ اچانک ڈاجر نے اس کے پیر کے اوپر پیر مارا۔چارلی نے بوڑھے آدمی کو پیچھے سے دھکا دیا۔اسی وقت لڑکوں نے اس کی جیب سے گھڑی اور جیبی کتاب نکالی۔یہ سب کچھ اتنی پھرتی سے ہوا کہ آلیور کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ لیکن فیگن اتنا مسخرا لگ رہا تھاکہ آلیور کو اس پر ہنسی آگئی اور ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ یہ کھیل بار بار کھیلتے رہے۔ پھر فیگن نے آلیور سے کہا کہ اب تم کوشش کرو میرے دوست۔

اس نے ایک ریشمی رومال اپنی جیب میں رکھا،’’دیکھو کیا تم اس کو ایسے نکال سکتے ہو کہ مجھے خبر نہ ہو؟‘‘

آلیور بوڑھے آدمی کو خوش کرنے کے لیے راضی ہو گیا اور اس کا پیچھا کرنے لگا جیسا کہ ڈاجر نے کیا تھا۔اس نے ایک ہاتھ سے فیگن کے کوٹ کا کونا پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے رومال نکال لیا۔فیگن نے حیرانی سے پوچھا،’’کیا نکال لیا؟‘‘

’’دیکھئے جناب، میں نے اس کو نکال لیا۔‘‘

’’تم ایک ہوشیار لڑکے ہو میرے دوست۔‘‘

فیگن نے اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا،’’یہ ایک شِلنگ تمہارا انعام ہے۔اگر تم اسی طرح کرتے رہے تو ایک دن بڑے آدمی بن جاؤ گے۔‘‘

دوبارہ اس نے اپنے ہاتھوں کوملتے ہوئے عیاری سے مسکراکر آگے کہا:

’’لیکن پہلے تمہیں بہت سیکھنا پڑے گا۔تمہارے لیے بہتر ہوگا کہ ان رومالوں کے نشانات کا پتا چلانا سیکھو۔یہاں آؤ،میں تمہیں سکھاؤں گا۔‘‘

آلیور فوراً اس کام میں مصروف ہو گیا۔

کافی دنوں تک آلیور فیگن کے کمرے میں کام میں مصروف رہا۔وہ مزے دار کھیل باربار کھیلا جاتا،یہاں تک کہ آلیور کا دل چاہنے لگا کہ وہ تازہ ہوا میں سانس لے۔اس نے فیگن سے کہا کہ اس کو بھی چارلی بیٹس اور ڈاجر کے ساتھ کام کرنے کے لیے بھیج دے۔

آخر فیگن راضی ہوگیا۔ ایک صبح اس نے تینوں کو ساتھ بھیج دیا۔ڈاجر اور اس کا ساتھی آہستہ آہستہ جا رہے تھے ۔اکثر وہ رک جاتے تھے۔آلیور یہ سوچ کے حیران تھا،کہ کیا یہ کام کرنے جا رہے ہیں یا نہیں؟

اچانک ڈاجر نے اس سے کہا،’’اس طرف دیکھو۔‘‘

اس نے بوڑھے آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاجو کتابوں کی ایک دکان کے سامنے کھڑ اہوا تھا۔بوڑھا آدمی بہت دل چسپی سے کتاب پڑھ رہا تھا۔

آلیور نے پوچھا،’’کیا بات ہے؟‘‘

’’تم یہاں کھڑے رہو،چارلی،تم ادھر آؤ۔‘‘

ڈاجر اور چارلی خاموشی سے بوڑھے آدمی کی طرف چلے گئے۔پھر چاروں طرف دیکھنے لگے۔گلی میں سوائے آلیور کے کوئی نہیں تھا۔ڈاجر نے اپنا ہاتھ بوڑھے آدمی کی جیب میں ڈال کر اس کا رومال باہر نکال لیا۔اس وقت آلیور سمجھ گیا کہ یہ لڑکے چور ہیں!اور وہ پُر لطف کھیل چوری کی مشق تھی۔فیگن اس کو چوری کرنا سکھا رہا تھا۔

آلیور دہشت زدہ کھڑا رہا۔پھر اس نے پوری طاقت سے بھاگنا شروع کردیا۔اسی وقت بوڑھے آدمی نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھاکہ اس کا رومال نہیں ہے۔اس نے ادھر اُدھر دیکھا تو آلیور بھاگتا ہوا نظر آیا۔

’’چور! چور!‘‘وہ چلایا اور اس کے پیچھے بھاگا۔

ڈاجر اور چارلی نے شور سنا تو وہ بھی چیخنے لگے،’’چور کو پکڑو!چور کو پکڑو!‘‘

لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر شور مچاتے ہوئے آلیور کے پیچھے بھاگنے لگے:

’’چور کو پکڑو۔‘‘

جلدی ہی ایک بڑی بھیڑ آلیور کے پیچھے بھاگنے لگی۔آلیور جتنا تیز بھاگ سکتا تھا بھاگا۔ اس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا۔اس کا چہرہ پسینے سے بھیگ رہا تھا اور سانس پھول رہا تھا بھیڑ اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔ ایک آدمی نے آلیور کے سر پر کوئی چیز ماری، جس سے غریب آلیور گلی کے فرش پر گر پڑااور اس کے چاروں طرف بھیڑ لگ گئی۔ بوڑھا شریف آدمی بھیڑ کو چیر کرآگے بڑھا اور چیخ کر بولا:

’’پیچھے ہٹو۔ اسے تازہ ہوا تو لگنے دو۔‘‘

ایک سپاہی نے آکر آلیور کا کالر پکڑ کر کھڑا کر دیا۔غریب آلیور نے فریاد کی:

’’میں وہ نہیں ہوں جناب۔۔۔وہ دونوں دوسرے لڑکے ہیں۔‘‘

سپاہی نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا،’’ سچ؟‘‘

’’اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔‘‘شریف بوڑھے آدمی نے کہا۔

’’نہیں جناب، میں اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔‘‘

سپاہی نے کہا،پھر آلیور کو سختی سے پکڑتے ہوئے کہا،’’میرے ساتھ چلو!میں تمہیں جانتا ہوں۔تم چھوٹے شیطان ہو۔پولیس چوکی چلو!‘‘

آلیور کو گھسیٹ کر پولیس چوکی لے جایا گیا۔

کچھ لوگوں نے کہا،’’اس کی سزا یہی ہے۔‘‘

لیکن بوڑھے شریف آدمی کو اس پر رحم آگیا۔وہ اس کے پیچھے پیچھے پولیس چوکی گیا۔

جج کے سامنے آلیور اور بوڑھا شریف آدمی کھڑے تھے۔ مسٹر فانگ جج کا مزاج اس دن بہت خراب تھا۔ بوڑھے نے جس کا نام براؤن لو تھا اپنی کہانی سنانی شروع کی:

’’میں ایک کتب خانے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔‘‘

جج نے چیخ کر کہا،’’تم چپ رہو!‘‘ پھر وہ سپاہی کی طرف مڑا اور کہا:

’’ہاں آفیسر !اب تم بتاؤ کہ کیا قصہ ہے۔‘‘

سپاہی نے اپنی بات بتائی اور یہ کہتے ہوئے ختم کی کہ میں نے اس لڑکے کی تلاشی لی ہے لیکن مجھے اس کے پاس سے کچھ نہیں ملا۔

مسٹر براؤن لو نے جج سے رحم کی اپیل کی اور کہا،’’لڑکا زخمی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ بیمار ہے۔‘‘

جج نے کہا،’’بیمار! یہ تو صرف اس کی مکاری ہے۔‘‘

جج نے آلیور سے پوچھا،’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

آلیور نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن اس سے کچھ نہ کہا گیا۔اس پر موت کی زردی چھائی ہوئی تھی۔اس کو کمرہ گھومتا ہوا نظر آرہا تھا۔

مسٹر براؤن لو نے نرم آواز سے پوچھا،’’تم کہاں رہتے ہو؟ کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟‘‘

آلیور نے جواب دیا،’’نہیں جناب ،وہ مرچکے ہیں۔‘‘یہ کہہ کر وہ بے ہوش ہو گیا۔

جج نے کہا:

’’یہ صرف بن رہا ہے لیکن میں اس کی چال میں نہیں آؤں گا۔ میں بھی ہوشیار ہوں۔ افسر اس کو لے جاؤ ۔یہ تین مہینے قید خانے میں رہے گا۔‘‘

جب سپاہی آلیور کو لے جا رہا تھا تو اس وقت ایک آدمی بھاگتا ہوا کمرے میں آیا اور چلایا،’’رکو!رکو!اس لڑکے کو یہاں سے نہ لے جاؤ۔‘‘

جج نے چلا کر کہا،’’اس آدمی کو باہر کو نکال دو۔‘‘

’’میں ضرور کہوں گا جناب، میں ضرور کہوں گا،میں نے سب کچھ دیکھا ہے۔میں کتابوں کی دکان کا مالک ہوں۔رومال دوسرے دو لڑکوں نے چرایا ہے۔ اس لڑکے نے چوری نہیں کی، یہ معصوم ہے۔‘‘

’’تم نے پہلے آکر کیوں نہیں بتایا؟‘‘

’’میں نہیں آسکتا تھا۔آنے سے پہلے مجھے کسی نہ کسی کو دوکان پر بٹھانا تھا۔بہرحال میں جتنی جلدی آسکتا تھا آگیا۔‘‘

جج غصے سے مسٹر براؤن لو کی طرف مڑا:

’’آئندہ جب تک صحیح حالات کاعلم نہ ہو عدالت کا دروازہ مت کھٹکھٹانا۔ لڑکے کو آزاد کرو،عدالت خالی کرو۔‘‘

رحم دل مسٹر براؤن لو فوراً آلیور کو دیکھنے گئے۔انہوں نے آلیور کو پولیس چوکی کے فرش پر پڑا دیکھا۔ وہ مردے کی طرح پیلا تھا اور پتے کی طرح لرز رہا تھا۔

شریف بوڑھے آدمی نے ایک گاڑی منگوائی،پھر آلیور کو آہستہ سے سیٹ پر لٹا دیا۔ انہوں نے ڈرائیور کو اپنے گھر پنٹن ویل چلنے کا حکم دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب چارلی بیٹس اور ڈاجر واپس پہنچے تو فیگن نے تشویش سے پوچھا ،’’آلیور کہاں ہے؟‘‘

دونوں لڑکے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ منہ سے ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ فیگن غصے سے بولا،’’آلیور کہاں ہے؟‘‘اس نے زور سے ڈاجر کا کالر پکڑا اور اسے زور زور سے جھنجھوڑا:

’’اسے پولیس نے پکڑ لیا۔‘‘

’’پولیس!‘‘فیگن نے خوف زدہ ہوکر کہا۔ پھر اس نے سختی سے ڈاجر کو ہلایا۔ ڈاجر نے خود کو فیگن کی گرفت سے آزاد کرایا اور اپنی حفاظت کے لیے کانٹا اٹھا لیا۔

فیگن نے پانی کی بوتل اٹھا کر لڑکے کے سر پر کھینچ ماری۔ بوتل نشانے پر نہ لگی ،دروازے سے ٹکرا کر ٹوٹ گئی۔ پانی کے چھینٹے ٹولی کے ایک دوسرے شخص پر پڑے جو اندر داخل ہو رہا تھا۔اس کا نام بِل شیک تھا۔اس کے پیچھے اس کا کتا تھا۔یہ لمبا اور مضبوط شخص تقریباً ۳۵ سال کا تھا۔اس کے کپڑے پھٹے پرانے اور گندے تھے۔اس کی آنکھ کے پاس ایک تازہ زخم تھا۔وہ سب سے زیادہ چالاک اور وحشی دکھائی دے رہاتھا۔ اس نے اپنے کتے کو لات مار کر کہا،’’بیٹھ جاؤ بد صورت شیطان۔‘‘کتا کرسی کے نیچے گھس گیا۔

’’اچھا فیگن! تم پرانے چالاک چور ہو۔یہ سب کیا ہورہا ہے؟تم لڑکوں سے لڑ رہے ہو۔کسی دن تمہیں یہ قتل کر دیں گے۔ اپنا برتاؤ صحیح کرو چالاک شیطان۔‘‘

فیگن نے اس کو گھور کر دیکھا۔ پھر آہستہ سے بولا:

’’بل!آج تمہارا مزاج خراب ہورہا ہے۔‘‘

’’ہاں تمہاری طرح۔‘‘اس نے پانی کی بوتل پھینکتے ہوئے کہا اور ہیٹ اتار کر میز پر رکھ دیا۔پھر بولا:

’’مجھے کافی دو لیکن اس میں زہر مت ملانا۔‘‘

ڈاجر نے بل کو بتایا کہ آلیور گرفتار ہو گیا ہے۔

فیگن بہت پریشان تھا۔وہ بولا،’’کہیں لڑکا پولیس سے ہماری مخبری نہ کردے۔اگر ایسا ہوگیا تو سب کے لیے مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔‘‘

’’ہاں فیگن، اس کا مطلب تمہارے لیے مصیبت ہے۔‘‘

فیگن نے اس سے کہا،’’ہاں یہ تمہارے لیے بہت بڑی پریشانی ہوگی بل شیک!مجھ سے بھی بہت زیادہ۔‘‘

سب خاموش تھے۔ آخر شیک نے کہا:

’’اگر لڑکے نے انہیں کچھ نہیں بتایا ہے تو ہم محفوظ ہیں۔ کوئی پولیس چوکی جاکر معلوم کرے کہ کیا ہوا ہے۔‘‘

فیگن نے سر ہلایا اور چاروں طرف دیکھ کر پوچھا،’’پولیس چوکی جا کر کون معلوم کرے گا؟‘‘

کسی نے بھی کوئی جواب نہیں دیا،کیوں کہ سب پولیس چوکی سے ڈرتے تھے۔اسی وقت زینے میں قدموں کی آہٹ ہوئی۔پھر دروازہ کھلا اور ایک عورت جو چمکیلا لباس پہنے تھی اندر آئی۔اس کا نام نینسی تھا۔اس کی عمر صرف اکیس سال تھی لیکن وہ کمزور،پیلی اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔ نینسی بل شیک سے بہت محبت کرتی تھی۔حالانکہ وہ اس پر بہت ظلم کرتا تھا۔

فیگن نے اس سے کہا،’’تم صحیح وقت پر آئی ہو میری عزیزہ، تم جاؤ۔‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’پولیس چوکی۔‘‘

’’نہیں،میں نہیں جاؤں گی۔‘‘

نینسی نے جلدی سے کہا۔

’’تم اس کام کے لیے مناسب ہو، کیوں کہ وہاں تمہیں کوئی نہیں جانتا۔‘‘

’’لیکن میں تم سے کہتی ہوں میں نہیں جاؤں گی، کسی اور کو بھیجو۔‘‘

’’بل شیک نے نینسی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، یہ جائے گی فیگن۔‘‘

’’شیک بالکل صحیح کہتا ہے۔نینسی پولیس چوکی جائے گی۔یہ اپنا کام وہاں اچھی طرح کرے گی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اوہ!میرا غریب بھائی کہاں ہے؟تم نے اس کے ساتھ کیاکیا؟مجھے اس کے بارے میں بتاؤ۔‘‘ نینسی نے پولیس کے آدمی سے التجا کی۔

پولیس افسر کو اس پر رحم آگیا۔ اس نے اسے بتایا کہ آلیور کو مسٹر براؤن لے گئے۔

’’کہاں؟‘‘

’’کوئی جگہ ہے پنٹن ویل،شاید وہاں۔‘‘

نینسی نے فیگن اور اس کی ٹولی کو یہ خبر پہنچائی۔

بل شیک کو خطرہ محسوس ہوا۔اس نے اپنے کتے کو آواز دی اور یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ اگر اس لڑکے نے سب کچھ بتا دیا تو ہم مصیبت میں پھنس جائیں گے۔

فیگن کو بھی خطرہ محسوس ہوا۔ وہ بولا،’’اس لڑکے کو فوراً تلاش کرو میری عزیزہ ، ڈاجر اور چارلی تم بھی جاؤ اور اس کو تلاش کرو، جب تک وہ مل نہ جائے واپس نہ آنا۔ اسے اپنے ساتھ لے کر ہی آنا۔لو یہ رُپے اور واپس یہاں نہ آنا۔میں ایک دوسری جگہ جا رہا ہوں ۔ تم جانتے ہو کہ اب مجھ سے کہاں ملنا ہے۔جاؤ فوراً جاؤ اور اس لڑکے کو پکڑ کر لاؤ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے فیگن نے ان سب کو کمرے کے باہر دھکیل دیا اور دروازہ بند کر دیا۔ پھر اپنے خزانے کا ڈبا نکالا۔اس نے ڈبے اور دوسری چیزوں کو تھیلے میں رکھا اور جلدی سے وہاں سے چلاگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے تک آلیور مسٹر براؤن لو کے گھر بہت بیمار رہا۔ وہ اتنا بیمار تھا کہ اس کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ مسٹر برواؤن لو اس پر کتنے مہربان ہیں اور وہ گھنٹوں اس کے بستر پر بیٹھے رہتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں کہ کیسے اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں۔

گھر کی مالکن مسز بیڈوین بھی اس کی دیکھ بھال کرتی تھیں ۔آخر وہ اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہوگیا۔ مسز بیڈوین نے اس کے کپڑے بدلے جو مسٹر براؤن لو خرید کر لائے تھے۔ وہ زینے سے اٹھاکر اسے مسٹر براؤن لو کے کمرے میں اسے آگ کے پاس لے گئیں جہاں آلیور نے اپنی درد بھری کہانی سنائی جسے سن کر سب خوف زدہ ہوگئے ۔مسٹر براؤن لو نے کہا،’’پولیس کو ضرور بتانا چاہئے۔‘‘

لیکن آلیور لندن سے بہت کم واقف تھا،وہ یہ نہیں بتا سکا کہ فیگن کا گھر کہاں ہے۔اسی رات مسٹر براؤن لو کے ایک پرانے دوست مسٹر گرم وگ ملنے آئے۔مسٹر گرم وگ رحم دل انسان تھے لیکن وہ اپنے کو ایک سخت دل ظاہر کرتے تھے۔ 

مسٹر براؤن نے اپنے دوست سے کہا:

’’یہ ہے وہ لڑکا جس کے بارے میں ،میں نے کہا تھا۔‘‘

’’اچھا یہ لڑکاہے۔‘‘مسٹر گرم وگ نے آلیور کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا:

’’لڑکے تم کیسے ہو؟‘‘

’’جناب، میں اب بہتر ہوں۔بہت بہت شکریہ۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے آلیور سے کہا:

’’زینہ اتر کر جاؤ اور مسز بیڈوین سے کہو کہ ہم چائے کے منتظر ہیں۔‘‘

جب آلیور چلاگیا تو انہوں نے اپنے دوست سے کہا:

’’دیکھنے میں لڑکا شریف معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’شریف لگتا ہے لیکن میں اس پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔تم نہیں جانتے اس کو۔ یہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور اگر اس نے جھوٹ بولا تو مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوگی۔‘‘

’’مجھے یقین ہے وہ ایسا نہیں ہے۔‘‘

’’کیا تمہیں اس کو دیکھ کر کوئی یاد آتا ہے؟‘‘

’’ہاں،ہمارے پرانے دوست لیفڈ، جو روم میں مر گئے تھے۔ دس بار ہ سال پہلے کی بات ہے۔‘‘

’’اس سے پہلے کہ مسٹر براؤن کوئی جواب دیتے مسز بیڈوین چائے لے کر آگئیں۔ آلیور ان کے پیچھے کتابوں کا بنڈل اٹھا کرلا رہا تھا۔ مسز بیڈوین نے آلیور سے بنڈل لیتے ہوئے مسٹر براؤن لوسے کہا:

’’کتب خانے کا آدمی یہ کتابیں ابھی دے گیا ہے۔‘‘

’’کیا وہ موجود ہے؟‘‘

’’نہیں وہ جا چکا ہے۔‘‘

’’افسوس!میں ان کتابوں کے پیسے دیتا اور کچھ کتابیں واپس دیتا۔‘‘

اچانک مسٹر گرم وگ نے کہا:

’’آلیور کو کتابیں دے کر بھیج دو۔‘‘

آلیور نے خوشی سے کہا:

’’ہاں جناب ، مجھ کو بھیج دیجئے ،میں بھاگ کرجاؤں گا۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے ہچکچاتے ہوئے گرم وگ پرنظر ڈالی اور کہا:

’’ہاں تم جا سکتے ہو۔ کتابیں میرے بستر کے پاس میز پر رکھی ہیں۔ وہاں سے اٹھا لاؤ۔‘‘

آلیور بہت خوش ہوا اور کتابیں اٹھا لایا۔مسٹر براؤن لو نے اس سے کہا:

’’اس سے کہنا کہ میں یہ کتابیں واپس کرنے آیا ہوں اور یہ رقم بھی ادا کر دینا، مجھے چار پونڈ دس شلنگ دینے ہیں۔ یہ پانچ پونڈ کا نوٹ ہے۔دس شلنگ واپس لانے ہیں۔‘‘

’’جناب، میں دس منٹ میں واپس آتا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر آلیور نے رپے احتیاط سے اپنی جیب میں رکھ لیے اور کتابیں بغل میں دبا لیں ۔ پھر جھک کر سلام کیا اور جلدی سے چلا گیا۔

’’اب میں دیکھوں گا کہ یہ بیس منٹ میں واپس آتا ہے یا نہیں۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور اٹھا کر میز پر رکھ دی۔

’’ابھی اندھیرا ہونے میں دیر ہے۔‘‘

’’کیا تم حقیقت میں اس پر بھروسہ کرتے ہو کہ وہ واپس آئے گا؟‘‘ مسٹر گرم وگ نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔کیا تمہیں نہیں ہے؟‘‘

مسٹر براؤن لو نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’نہیں مجھے بھروسا نہیں ہے۔ لڑکے کے جسم پر نیا جوڑا ہے ۔اس کے ہاتھ میں قیمتی کتابیں ہیں اور جیب میں پانچ پاؤنڈ کا نوٹ ہے۔ وہ اب واپس نہیں آئے گا۔وہ اپنے گروہ کے پرانے دوستوں کے پاس جا کر تمہاری ہنسی اڑائے گا اور اگر لڑکا واپس آگیا تو میں تمہیں مان جاؤں گا۔‘‘

یہ کہتے ہوئے مسٹر گرم وگ نے اپنی کرسی میز کے قریب کھسکا لی، جہاں دونوں دوستوں کے سامنے گھڑی رکھی تھی، اندھیرا ہونے لگا لیکن وہ پھر بھی بیٹھے انتظار کرتے رہے ۔ انہوں نے بہت انتظار کیا لیکن آلیور واپس نہیں آیا۔

ادھر آلیور جب کتب خانے جا رہا تھا تو وہ بہت زیادہ خوش تھا۔ اس سے پہلے اسے اتنی خوشی نہیں ملی تھی۔اس کی زندگی کتنی خوش گوار ہوگئی تھی۔ مسٹر براؤن لو کتنے اچھے اور مہربان ہیں اور اچھی بیڈوین۔۔۔

ایک عورت کی آواز نے آلیور کے خوش کن خیالات کا سلسلہ منقطع کر دیا۔

’’اوہ میرے بھائی !میرے پیارے ننھے آلیور!‘‘

اس نے اپنے بازو آلیور کے گلے میں ڈال دیے اور اسے سختی سے پکڑ لیا۔آلیور نے اس سے چھٹکارا پانے کی بہت کوشش کی وہ چلایا:

’’مجھے جانے دو۔‘‘

پھر اس نے عورت کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

’’کیا تم نینسی ہو‘‘

’’تم نے دیکھا یہ مجھے جانتا ہے۔‘‘

رستہ چلتے ہوئے جو لوگ رک گئے تھے عورت نے ان سے کہا۔

ایک آدمی نے پوچھا:

’’اس نے کیا کیاہے؟‘‘

نینسی نے اس سے کہا:

’’یہ ایک مہینہ پہلے گھر سے بھاگ گیا تھا اور اب چوروں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس کی غریب ماں کا دل ٹوٹ گیا ہے۔‘‘

ایک عورت نے کہا:

’’گھر جاؤ۔۔۔تم اپنی بد نصیب ماں کے پاس گھر جاؤ۔‘‘

آلیور نے کہا:’’یہ سچ نہیں ہے۔‘‘

ایک مضبوط آدمی جس کے پاس کتا تھااس نے کہا:

’’یہ بالکل سچ ہے آلیور، تم ابھی بچے ہو، اپنی ماں کے پاس گھر چلو۔ننھے شریر آؤ۔‘‘

’’نہیں ،نہیں۔‘‘

’’آلیور نے اس سے اپنے کو چھڑانے کی پوری کوشش کی۔ بل شیک نے پوچھا:

’’تم نے یہ کتابیں کہاں سے لیں؟ کیا تم نے چوری کی ہے؟‘‘

یہ کہتے ہوئے بل شیک نے اس کی کتابیں چھین لیں اور اس کے سر پر ضرب ماری ۔بے چارہ آلیور زیادہ دیر تک اپنے کو چھڑانے کی کوشش نہ کر سکا۔ اچانک اس کی طاقت ختم ہوگئی۔

نینسی اور بل شیک آلیور کو گھسیٹ کر اندھیری اور گندی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک ایسے گھر میں لے آئے جو خالی نظر آرہا تھا۔اس کے دروازے پر نوٹس لگا تھا:

’’کرائے کے لئے خالی ہے۔‘‘

بل شیک نے دروازہ کھولنے سے پہلے چاروں طرف غور سے دیکھا۔پھر آلیور کو گھسیٹ کر ایک تاریک رستے سے کمرے کے پیچھے لے گیا جہاں فیگن آرٹفل، ڈاجر اور چارلی بیٹس اس کا انتظار کر رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیگن نے عیاری سے مسکراتے ہوئے کہا:

’’مجھے تمہیں دوبارہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔تم بہت اچھے نظر آرہے ہو پیارے لڑکے، تم کہاں سے آرہے ہو؟ اگر ہم کو یہ بتا دو تو تمہیں کھانے میں اچھی اچھی چیزیں دیں گے۔‘‘

یہ سن کر ڈاجر اور چارلی ہنسنے لگے۔ ڈاجر آلیور کے قریب آیا۔

’’فیگن، اس کے سوٹ کی طرف دیکھو اور اس کی کتابیں! بالکل ایک شریف آدمی لگ رہا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے پانچ پونڈ کا نوٹ آلیور کی جیب سے نکال لیا۔فوراً فیگن نے اس سے جھپٹ کر چھین لیا۔بل شیک غرایا:

’’فیگن، یہ میرا ہے۔‘‘

’’نہیں میرے دوست، یہ میرا ہے تم کتابیں لے سکتے ہو۔‘‘

’’یہ مجھے دو، میں تم سے کہتا ہوں چالاک بوڑھے چور۔‘‘

یہ کہتے ہوئے بل شیک نے نوٹ چھین لیا۔ اس نے فیگن سے کہا:

’’تم کتابیں لے سکتے ہو۔‘‘

’’نہیں ،نہیں! آلیور چیخا۔‘‘

’’یہ ایک شریف آدمی کی ہیں۔ وہ اتنا اچھاہے کہ میں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکا۔مہربانی کرکے کتابیں اور پیسے اس کو واپس بھیج دو۔چاہے مجھے یہاں رکھ لو مہربانی کرکے یہ سب واپس بھیج دو۔ نہیں تو وہ یہ سوچے گاکہ میں چرا کر بھاگ گیا ہوں اور اس کی مہربان بوڑھی بیوی بھی یہی سمجھے گی۔‘‘

آلیور فیگن کے پیروں میں گر گیا اور اس سے رحم کی بھیک مانگنے لگا۔

’’آہا!آہا!آہا!‘‘فیگن نے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے اور ہنستے ہوئے کہا،’’تم صحیح کہتے ہو میرے دوست، وہ ضرور یہی سوچیں گے کہ تم چوری کرکے بھاگ گئے ہو۔آہا!آہا!‘‘

فیگن اور اس کے گروہ کے لوگ قہقہے مار کے ہنسنے لگے ۔اچانک آلیور کود کر پاگلوں کی طرح کمرے سے بھاگا۔

’’بچاؤ!بچاؤ!‘‘وہ خوف سے چلایا۔

فیگن ، ڈاجر اور چارلی بیٹس اس کے پیچھے بھاگے۔ جب بل شیک اس کے پیچھے جانے لگا تو نینسی خوف سے چلائی:

’’کتے کو پکڑے رہو،ورنہ یہ لڑکے کو پھاڑ ڈالے گا۔‘‘

بل شیک غرایا:

’’اس کو ابھی سیدھا کرتا ہوں۔‘‘

نینسی نے اس کو روکنے کے لیے پکڑا۔

نینسی چلائی،’’تم لڑکے کو مار دوگے۔نہیں نہیں!‘‘

’’میں اس کو اس طرح ماروں گا جیسے۔۔۔‘‘

شیک غرایا۔اسی وقت فیگن اور اس کے دونوں شاگرد آلیور کو گھسیٹتے ہوئے لائے ۔فیگن نے کہا:

’’اچھا تم بھاگنا چاہتے تھے میرے دوست، شاید تم پولیس کو خبر کرنا چاہتے تھے۔تمہیں سبق دینا چاہیے۔اب تم اس کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘

فیگن نے ایک بھاری لکڑی اٹھا کر اس کے ماری ۔جب دوبارہ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہا تھا تو نینسی اس پر جھپٹی ۔اس کے ہاتھ سے لکڑی لے کر آگ میں پھینک دی۔اس نے کہا:

’’لڑکے کو اکیلا چھوڑ دو۔اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو میں خود پولیس اسٹیشن جاؤں گی اور سب باتیں بتاؤں گی اور تمہیں پھانسی ہو جائے گی چالاک بوڑھے شیطان!‘‘

’’ہوش میں آؤ نینسی میری دوست، ہمیں تہذیب سے بولنا چاہیے۔‘‘

’’تہذیب!تم سے تہذیب!تم نے مجھے چور بنایا جب میں اس لڑکے کی عمر سے بھی آدھی تھی۔ چودہ سال سے میں گلیوں میں تمہارے لیے چوری کر رہی ہوں۔‘‘

’’اچھا!اچھا!اگر تم ایسا کرتی ہو تو اس میں تمہاری بھلائی ہے۔‘‘

’’میری بھلائی!ہاں!یہ گندی اور ٹھنڈی گلیاں میرا گھر ہیں۔تم نے مجھے اس میں ڈبو دیا ہے اور اس وقت تک تم مجھے ان میں رکھو گے جب تک مجھے موت نہ آجائے۔‘‘

فیگن نے ہاتھ ملتے ہوئے عیاری سے مسکراتے ہوئے کہا:

’’اگر تم نے اس سے زیادہ کہا تو میں اس سے بھی برا ہو جاؤں گا میری دوست۔‘‘

نینسی نے خوف سے چیخ ماری، پھر وہ فیگن کے اوپر جھپٹی جیسے وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔

بل شیک نے اس کی کمر پکڑ کر گھسیٹا اور چیخ کر کہا:

’’اپنا منہ بند کرتی ہے یا میں کروں۔‘‘

اس نے ایک گھونسا نینسی کے چہرے پر مارا۔ایک گھونسا اور مارا۔ پھر اس غریب کواٹھا کر کمرے کے ایک کونے میں پھینک دیا۔جہاں وہ بے حرکت پڑی رہی۔فیگن نے اپنے ماتھے سے پسینا پونچھا،پھروہ چارلی بیٹس کی طرف مڑا:

’’چارلی میرے دوست،آلیور کو سونے کے کمرے میں لے جاؤ۔‘‘

آلیور جب چلاگیا تو چارلی بیٹس نے کہا،’’میرے خیال میں کل اس کے بدن پر یہ نیا سوٹ نہیں ہونا چاہیے ۔‘‘

’’یقیناًنہیں! اسے میرے پاس لانا۔میں اس کی زیادہ حفاظت کروں گا۔‘‘فیگن نے اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آلیور کو سیلن زدہ تاریک کمرے میں کئی دن تک رکھا گیا۔ایک صبح فیگن نے اس سے کہا:

’’آج رات بل شیک کے گھر لے جایا جائے گا۔‘‘

’’وہاں۔۔۔کیا وہاں رہنے کے لیے جناب؟‘‘

آلیور نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔

’’میں تمہیں صرف بل کی مدد کے لیے بھیجوں گا۔ہم تمہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے۔تم ہمارے ساتھ رہوگے ، ڈرو مت۔‘‘فیگن نے عیاری سے مسکراتے ہوئے لڑکے کو بتایا۔

آلیور نے کپکپاتے ہوئے پوچھا؛

’’مجھے وہاں کیا کرنا ہوگا؟‘‘

’’کوئی سوال نہ کرو،خاموشی سے سنتے رہو،بل تمہیں بتائے گا، وہ آج رات تمہیں لینے آرہا ہے،بس خاموشی سے انتظار کرو۔

میرے دوست ہوشیار رہنا۔بل شیک ایک جھگڑالو آدمی ہے۔اگر تم نے اس کے لیے کوئی پریشانی پیدا کی تو وہ تم کو مار ڈالے گا،چاہے کچھ بھی ہو۔تم اپنا منہ بند رکھو گے اور وہی کرو گے جو بل کہے گا۔اس بات کو یاد رکھنا۔‘‘

رات کوآلیور اکیلابیٹھا ہوا موم بتی کو دیکھتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔آلیور کا دل دھڑکنے لگا۔اس نے تھرتھراتے ہوئے پوچھا،’’کون ہے؟‘‘

’’میں ہوں نینسی۔‘‘

نینسی جلدی سے اندر آئی۔وہ مردے کی طرح پیلی لگ رہی تھی۔ اس نے کہا،’’بل شیک نے مجھے بھیجا ہے۔آؤ آلیور ہم دیر نہیں کر سکتے۔بل ہمارا انتظار کر رہا ہے۔‘‘

’’وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟‘‘

’’تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘اس نے اپنی گردن پھیر کر کہا۔

جب نینسی اس کو لے کر گلی سے گزر رہی تھی۔ اچانک آلیور کے دل میں خیال آیا کہ وہ بھاگ جائے۔ نینسی نے اس کا ارادہ بھانپ لیا۔اس نے کہا،’’آلیور،اگر تم سیدھی طرح نہیں چلو گے تو بل شیک مجھے دوبارہ مارے گا۔دیکھو اس نے پچھلی رات کو میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔‘‘اس نے اپنی گردن اوربازوؤں پر پڑے چوٹ کے نیلے اور کالے نشان دکھائے اور کہا:

’’آؤ جلدی جلدی چلو۔‘‘

نینسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔پھر اس نے آلیور کو کھینچ کراپنے ساتھ اندر بٹھا لیا۔گاڑی بان نے اپنے گھوڑوں کو ہانکا اور تیزی سے بل شیک کے گھر کی طرف چل پڑا۔بل نے پہلا سوال پوچھا،’’کیا لڑکا آسانی سے آیا ہے؟‘‘

’’بالکل بھیڑ کے بچے کی طرح سے۔‘‘نینسی نے اس کو بتایا۔

’’اگر یہ نہیں آتا۔۔۔‘‘بل شیک نے اپنا پستول اٹھاکر دکھایا جو میز پر رکھاتھا۔

’’تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟‘‘

’’ہاں جناب۔‘‘

بل شیک نے اس کے سر پرنشانہ لگا کر کہا:

’’میری بات سنو،تم میرے ساتھ باہر جاؤگے۔ اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو میں تمہارا بھیجا باہر نکال دوں گا، سمجھ گئے؟‘‘

’’جی جناب‘‘آلیور نے خوف زدہ ہو کر کہا۔

بل شیک نینسی کی طرف مڑا اور حکم دیا ،’’اب ہمارے لیے کچھ کھانا لاؤ۔‘‘

اگلی شام وہ آلیور کو شہر سے باہر لے گیا۔اندھیرا ہو چکا تھا اور سخت بارش ہو رہی تھی۔وہ کچی سڑکوں اورگلیوں سے گزر رہے تھے۔ آخر وہ ایک سنسان مکان میں پہنچے۔مکان کی کھڑکیوں سے کوئی روشنی نظر نہیں آرہی تھی۔ایسا معلوم ہوتا تھاکہ مکان کے اندر کوئی موجود نہیں ہے۔شیک نے دروازے پر لات ماری۔وہ چلایا:

’’ٹوبی!ہمارے لیے لالٹین لاؤ۔‘‘

ٹوبی کریکیٹ ایک لالٹین لے آیا۔اس نے لالٹین بل شیک کو دی اور خود اندھیرے کمرے میں چلاگیا جہاں آگ جل رہی تھی اور دھواں پھیل رہا تھا۔اس نے مطمئن ہوکر خوشی سے کہا،’’آہا،تم لڑکے کو لے آئے، میں دیکھتا ہوں۔‘‘اس نے آلیور کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور شیک سے بولا:

’’اس کا قد ہمارے مطلب کے لیے ٹھیک ہے۔‘‘

بل شیک نے کہا:

’’مجھے پینے کے لیے کچھ دو۔‘‘

’’کیا سب کچھ تیار ہے؟‘‘

’’بالکل تیار!‘‘ٹوبی نے دو پستول اپنی جیب سے نکالے اور بولا:

’’چلو ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔میں نے مکان کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔وہ سب گھنٹوں سے سو رہے ہیں۔‘‘

شیک نے آلیور کا ایک ہاتھ پکڑا اور ٹوبی نے دوسرا۔پھر دونوں چور آلیور کو بیچ میں لے کر چلنے لگے۔تقریباً آدھا میل چلنے کے بعد وہ ایک بڑے مکان کے پاس پہنچے جس کی دیواریں بہت اونچی تھیں۔ ٹوبی کریکیٹ بلی کی طرح دیوار کے اوپر چڑھ گیا۔بل شیک نے آلیور کو اٹھایا ،پھر ٹوبی نے اس کو دیوار کے اوپر کھینچا۔پھروہ دیوار کی دوسری طرف گھاس پر کود گئے اورتینوں مکان کی طرف رینگنے لگے۔

اچانک آلیور کی زبان سے آہ نکل گئی۔ اس کی سمجھ میں آگیا کہ دونوں آدمی ڈاکہ ڈالنے جارہے ہیں اور اسے بھی اسی لیے لائے ہیں کہ وہ چوری میں ان کی مدد کرے۔ شاید کسی کو قتل کریں ۔یہ سوچ کر غریب لڑکا بے ہوش ہونے لگا۔اس کی ٹانگوں نے جواب دے دیا اور وہ گھاس پر گر گیا۔شیک نے خبردار کیا:

’’اٹھو، جلدی اٹھو۔۔۔ورنہ میں تمہارا بھیجا نکال دوں گا۔‘‘

آلیور نے درد بھری آواز میں کہا،’’مجھے جانے دو!مہربانی کرکے مجھے جانے دو۔‘‘

شیک اس کو گولی مارنے ہی والا تھا کہ ٹوبی کریکیٹ نے اس کا پستول چھین کر کہا:

’’بے وقوف!ابھی سب لوگ جاگ جائیں گے۔‘‘

اس نے آلیور کو پکڑ کہا،’’آتے ہو یا میں تمہارے سر پر ماروں۔‘‘

تینوں مکان کی طرف بڑھنے لگے۔ٹوبی نے اشارہ کرکے کہا،’’بل وہاں ایک کھڑکی ہے جو چھوٹی ہے اور زمین سے تقریباً چھ فٹ اونچی ہے۔‘‘

بل شیک نے آلیور کے کان میں کہا:

’’تم اس کھڑکی کے ذریعے سے اندر جاؤ گے۔‘‘

بل شیک آلیور کو اٹھا کر ٹوبی کی پیٹھ پر چڑھ گیا۔

’’پہلے کھڑکی میں اپنا پیر رکھو،پھر سیدھے چلتے رہو جب دروازہ سامنے آجائے تو اس کو ہمارے لیے کھول دو۔اب جاؤ اورکوئی آواز نہ ہو۔سمجھ گئے؟‘‘اس نے آلیور کو دھکا دیا۔آلیور آگے بڑھا۔اس نے اپنے دل میں سوچا کہ میں زینے کے اوپر چڑھ کر بھاگ جاؤں گا۔

لیکن شیک نے اس کو پستول کا نشانہ بنا رکھا تھا۔اس نے آلیور سے کہا:

’’اگر تم نے کوئی حرکت کی تو میں تمہیں گولی مار دوں گا۔‘‘

آلیور نے ابھی ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ اچانک شیک کے چلانے کی آواز آئی:

’’واپس آؤ!جلدی!‘‘

آلیور نے اپنے سامنے روشنی میں دیکھا کہ دو نیم برہنہ آدمی بندوق لیے کھڑے ہیں ۔آلیور کھڑکی میں واپس کود گیا۔دھماکا ہوا کسی نے فائر کیا تھا۔شیک نے آلیور کا کالر پکڑ کر کھینچا، پھر اس کو اپنے بازو میں اٹھا کر تیزی سے بھاگنے لگا۔ آلیور کو گولی لگ گئی تھی۔ وہ بے حرکت شیک کے بازوؤں میں جھول رہا تھا۔اسے نہیں معلوم کہ دوں چور کس طرح اس کو احاطے سے باہر لائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیک اندھیرے میں بھاگا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے کتوں کے بھاگنے کی آوازیں آرہی تھیں۔آگے ٹوبی بھاگا جا رہا تھا۔شیک نے چلا کر ٹوبی کریکیٹ سے کہا،’’رکو!رکو!اس لڑکے کو سہارا دینے میں میری مدد کرو۔‘‘

ٹوبی کریکیٹ بغیر جواب دیے بھاگتا رہا۔شیک پھر چلایا:

’’رک جاؤ ورنہ میں تمہاری کمر میں گولی مار دوں گا۔‘‘

ٹوبی کریکیٹ رک گیا۔

’’لڑکے کو چھوڑ دو۔اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو یہ ہمیں پکڑوا دے گا۔‘‘

شیک نے بے ہوش لڑکے کو ایک کھائی میں لٹا دیا۔پھر دونوں ایک باڑھ پر کود کر بھاگ گئے۔

بڑے مکان کے دو نوکر چوروں کے پیچھے آرہے تھے ۔ان میں سے ایک ان کاہیڈ تھا جس کا نام گلس تھا، دوسرے کا برٹلس تھا۔ تھوڑی دیر وہ رک گئے۔

’’میرا خیال ہے ہمیں واپس گھر جانا چاہیے۔‘‘

موٹے آدمی گلس نے سانس لیے بغیر کہا۔

’’میں تمہاری بات سے اتفاق کرتا ہوں۔‘‘برٹلس نے کہا،جو ڈر کے مارے زرد ہو رہا تھا۔دونوں خوف زدہ تھے واپس گھر چلے گئے۔

بے چارہ آلیور کھائی میں پڑا رہا۔تیز آندھی چل رہی تھی لیکن آلیور کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ پھر تیز بارش شروع ہو گئی لیکن آلیور کو کچھ احساس نہیں ہوا۔آخر اس کو ہوش آگیا۔اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور حرکت کی،بہت درد ہو رہا تھا۔ اس کا دایاں ہاتھ بھاری ہو رہا تھا اور اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔اس کی آستین خون میں بھیگ رہی تھی۔ بے چارہ بہت کوشش کے بعد بیٹھنے میں کامیاب ہوا۔پھر کھڑا ہوا، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ نہیں اٹھا تو پڑے پڑے مر جائے گا۔اس نے چلنے کی کوشش کی۔بڑی مشکل سے سڑک پر آیا۔اسے ایک بڑا مکان دکھائی دیا۔یہ مکان وہی تھا جس میں بل شیک اور ٹوبی کریکیٹ نے ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

وہ بہت کمزوری محسوس کر رہا تھا۔بڑی مشکل سے اس نے دروازے پر آکر آہستہ سے دستک دی۔نوکر باورچی خانے میں چائے پی رہے تھے۔ مسٹر گلس باورچن اورکام کرنے والی عورت کوچوری کی کہانی سنا رہے تھے وہ سب سہمے ہوئے خوف ناک کہانی سن رہے تھے۔مسٹر گلس نے کہا:

’’تقریباً ڈھائی بجے میری آنکھ کھلی تو میں نے ایک آواز سنی۔میں نے اپنے دل میں کہا گلس،یہ صرف وہم ہے اور میں دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔ابھی میں پوری طرح سویا بھی نہیں تھا کہ پھر میں نے ایک آواز سنی۔‘‘

’’اوہو۔‘‘تعجب سے باورچن اور کام کرنے عورت نے ایک ساتھ کہا اور پھر انہوں نے اپنی کرسیاں اور قریب کر لیں۔مسٹر گلس نے اپنی بات جاری رکھی:

’’میں نے اپنے دل میں سوچا کہ کوئی چوری کی کوشش کررہا ہے۔ہم سب اپنے بستر میں قتل کر دئیے جائیں گے۔وہ غریب برٹلس کا گلا ۔۔۔‘‘

ہر شخص برٹلس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔جس کے چہرے سے خوف ظاہرہو رہا تھا۔

’’میں نے اپنی پستول اٹھائی اور برٹلس کے کمرے کی طرف گیا۔برٹلس جاگ جاؤ، ہم مردہ آدمی ہیں لیکن ڈرو نہیں۔‘‘

’’کیا وہ ڈر رہا تھا؟‘‘باورچن نے پوچھا۔

’’نہیں وہ بہت بہادر ہے جیسے کہ۔۔۔میں بہادر ہوں۔‘‘

’’اگر میں وہاں ہوتی تو مر جاتی۔‘‘کام کرنے والی نے کہا۔

’’تم ایک عورت ہو۔‘‘مسٹر برٹلس نے کہا۔

مسٹر گلس بولے،’’ہم مرد کسی بات سے نہیں ڈرتے۔ ہم زینہ اتر کرگئے جیسے کہ۔۔۔‘‘

پھر وہ دونوں عورتوں کو بتانے لگے کہ وہ زینے سے کس طرح اترے۔اسی وقت آلیور کے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آہستہ سے آئی۔

اچانک ہر شخص زرد پڑ گیا۔مسٹر گلس نے لرزتی ہوئی آواز میں حکم دیا،’’یہ آوز کیسی ہے ، دروازہ کھولو کوئی ہے۔‘‘

کسی نے بھی جنبش نہیں کی۔

’’عجیب بات ہے۔۔۔اس وقت کوئی کھٹکھٹا رہا ہے....برٹلس دروازہ کھولومیں تمہارے پیچھے آرہا ہوں۔‘‘

مسٹر برٹلس نے آہستہ سے بڑھ کر دروازہ کھول دیا، دونوں عورتیں بھی ان کے پیچھے گئیں۔پھر انہوں نے تیز آواز میں بولنا شروع کر دیا تاکہ پتا لگ جائے کہ وہ تعداد میں زیادہ ہیں۔پھر انہوں نے کتوں کی چٹکی لی تاکہ وہ بھونکنے لگیں۔ برٹلس نے جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک چھوٹا لڑکا بے ہوش پڑا ہے۔ مسٹر گلس آلیور کو اٹھا کر اندر لے آئے پھر بڑی جوشیلی آواز سے چلا کر زینے کے اوپرمنہ کرکے کہا:

’’مالکن یہاں ایک چور ہے جو زخمی ہے۔مالکن اسے میں نے گولی ماری ہے۔‘‘

ایک جوان لڑکی زینے کے اوپر کھڑی ہوئی اور بولی،’’شش شش!تم آنٹی کو ڈرا رہے ہو کیا آدمی بری طرح زخمی ہے؟‘‘

’’مس !یہ لیٹا ہوا ہے کیا آپ اس کو دیکھنا پسند کریں گی؟‘‘

’’ایک منٹ انتظار کرو میں آنٹی کو بتا آؤں۔‘‘

یہ کہتے ہوئے نوجوان لڑکی چلی گئی اور جلد ی واپس آگئی۔

’’گلس،اس کو اوپر اٹھا لاؤ اور اپنے بستر پر لٹا دو۔ برٹلس ،تم ڈاکٹر کو بلا لاؤ۔‘‘

برٹلس نے دوبارہ پوچھا،’’کیا آپ اس کو ایک نظر دیکھنا پسند کریں گی؟‘‘

’’ابھی نہیں گلس،اس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آؤ۔‘‘

یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔

گلس آلیور کو بڑی ہوشیاری سے اٹھا کر اوپر لے گیا اور آہستہ سے اپنے بستر پر لٹا دیا۔

دو دن بعد فیگن اپنے کمرے میں بڑے جوش میں بیٹھا تھا۔ڈاجر اور ثارلی بیٹس بھی اس کے ساتھ بیٹھے تاش کھیل رہے تھے ۔اچانک گلی کے دروازے پر دستک ہوئی۔

’’ڈاجر جاکر دیکھو کون آیا ہے؟‘‘

ڈاجر ٹوبی کریکیٹ کو لے کر جلدی واپس آیا۔

’’بل شیک کہاں ہے؟‘‘

ٹوبی کریکیٹ نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:

’’تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘

فیگن نے اپنی کرسی گھماتے ہوئے کہا:

’’تم مطلب نہیں سمجھے، سمجھاتا ہوں ۔۔۔‘‘ٹوبی کریکیٹ نے کہنا شروع کیا:

فیگن غرایا،’’کیا مطلب؟کوئی نہ کوئی مصیبت ہے؟ میں جانتا ہوں اسے۔‘‘

فیگن نے اپنی جیب سے اخبار نکال کر اشارہ کرکے ٹابی کریکیٹ سے غصے سے پوچھا :

’’حقیقت میں کیا ہوا ہے۔‘‘

’’ایک نو کر نے لڑکے کو گولی ماردی ہے۔اس وقت ہم اس کو بیچ میں لے کر بھاگ رہے تھے۔ہمارے پیچھے کتے بھونکتے آرہے تھے۔اس لئے ہمیں لڑکے کو چھوڑنا پڑا۔‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’ایک کھائی میں ،وہ زندہ ہے یا مر گیا،میں نہیں جانتا۔‘‘

فیگن وحشی پن سے چلایا اور پاگلوں کی طرح بھاگ کر بل شیک کے گھرپہنچا۔ وہاں پر اس نے نینسی کو اکیلا پایا۔ اس نے جو بھی ٹوبی کریکیٹ سے سنا تھا اسے بتا دیا۔ پھر اس سے پوچھا،

’’میری دوست نینسی ،تمہارے خیال میں بل شیک اب کہاں ہوگا؟‘‘

نینسی نے کوئی جواب نہیں دیا اور نا امید ہو کر رونا شروع کر دیا۔

فیگن نے کہا،’’وہاں وہ بے چارہ چھوٹا لڑکا بھی۔۔۔اسے ایک کھائی میں چھوڑ دیا نینسی!‘‘

نینسی پاگلوں کی طرح چلائی،’’مجھے امید ہے وہ مر گیا ہوگا۔ اس کے لئے ہمارے درمیان زندہ رہنے سے مرنا اچھا ہے۔وہ لڑکا میرے لیے سو پونڈ کا تھا۔‘‘

فیگن نے چیخ کر غصے سے کہا۔،’’سو پونڈ !شاید ہزار اگر میں اس لڑکے کو چور بنا دیتا تو مونکس مجھے دیتا۔۔۔‘‘

اچانک وہ رک گیا۔اس کو احساس ہو گیا کہ وہ کچھ زیادہ کہہ گیا۔نینسی نے حیرت سے پوچھا ’’مونکس؟مونکس کون ہے؟وہ تمہیں کیوں قیمت دیتا؟‘‘

فیگن نے اپنا لہجہ بدلا اور اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا،’’نینسی میری دوست میری باتوں کا خیال مت کرو۔میں اپنے عزیز چھوٹے آلیور کے لیے اتنا فکر مند ہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیا کہا ہے۔‘‘

نینسی نے بڑے دکھ سے کہا،’’مجھے امید ہے کہ بل شیک حفاظت سے ہوگا۔اگر ٹوبی کریکیٹ بھاگ سکتاہے توپھر مجھے یقین ہے کہ بل شیک نے بھی ایسا کیا ہوگا، کیوں کہ بل شیک ٹوبی کریکیٹ سے دس گنا زیادہ چالاک ہے۔‘‘

’’تم بالکل ٹھیک کہتی ہو میری دوست،مجھے یقین ہے کہ بل شیک بھاگ گیا، جب واپس آئے تو مجھے اس کی خبر کرنا۔ وہ ہمیں بتائے گا کہ ہم لڑکے کو کہاں تلاش کریں۔‘‘

یہ کہتے ہوئے فیگن جلدی سے چلاگیا۔

ابھی وہ زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ نینسی اپنے پنجوں کے بل اچھل کر اس کا پیچھا کرنے لگی۔فیگن بغیر یہ جانے کہ نینسی اس کاپیچھا کر رہی ہے اپنے گھر میں داخل ہو گیا۔ وہاں ایک لمبا کالا اور برے چہرے والا آدمی اس کا انتظار کر رہا تھا۔یہ مونکس تھا جس کے دائیں گال پر ایک بھدا سرخ نشان تھا۔

’’تم کہاں تھے میں ایک گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

مونکس نے غصے سے کہا۔

’’میں تمہارے ہی کام سے باہر گیا تھا میرے دوست ۔‘‘

فیگن نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔

’’کیا تم نے لڑکے کو تلاش کر لیا؟‘‘

فیگن نے ساری باتیں بتا دیں جو اسے ٹوبی کریکیٹ نے بتائی تھیں۔

’’تم نے لڑکے کو باہر کیوں بھیجا؟تم نے اسے یہاں کیوں نہیں رکھا؟تمہیں یہاں رکھ کر اسے ایک بڑا چور بنانا چاہیے تھا۔‘‘مونکس نے غصے سے کہا۔

’’تم غلط کہتے ہو میرے دوست ، لڑکے کی تربیت کرنا مشکل ہے۔یا د کرو کہ کیا واقعہ پیش آیا تھا جب میں نے اس کو ڈاجر اور چارلی بیٹس کے ساتھ۔۔۔وہ تو لڑکی پکڑ کر واپس لے آئی۔۔۔لیکن وہ اب بدل گئی ہے اور اس لڑکے کی مدد کرنا چاہتی ہے۔‘‘

’’تو پھر اس لڑکی کو مار ڈالو۔‘‘

’’شاید مجھے ایسا ہی کرنا پڑے گا۔لیکن ابھی نہیں، ابھی وہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ہمیں تھوڑا انتظار کرنا چاہیے۔جب لڑکا مشکل میں ہوتا ہے تو نینسی اس سے ہمدردی کرنے لگتی ہے۔ یہ میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں۔‘‘فیگن ایک منٹ کے لیے رکا پھر کہنے لگا،‘‘ بوڑھے فیگن پر بھروسہ رکھو مونکس!اگر لڑکا زندہ رہا تو میں تمہارے لیے اس کو چور بنا دوں گا اور اگر وہ مر گیا۔۔۔‘‘

’’مر گیا!اگر وہ مر گیا تو اس میں میری غلطی نہیں ہے۔‘‘

اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔پھر فیگن کے بازو کس کر پکڑ لیے ۔

’’کیا تم نے میر بات سنی؟ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کچھ نہیں کیا اس کے قتل کے لیے۔۔۔‘‘مونکس غصے میں بھر گیا۔غصے کے عالم میں وہ ایک حیوان لگ رہا تھا جیسے وہ ایک سفید بھوت ہے جس کے گال کا سرخ نشان آگ کی طرح دہک رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے وحشت برس رہی تھی۔ اچانک اس نے چلا کر کہا:

’’وہ کیا ہے؟‘‘

’’کیا؟کہاں؟‘‘فیگن نے پوچھا۔

’’وہاں؟‘‘

مونکس نے دیوار کی طرف اشارہ کرکے بتایا،’’میں نے دیوار پر ایک عورت کی پرچھائیں دیکھی ہے۔‘‘

وہ یہ دیکھنے کے لیے باہر بھاگے کہ وہاں کون ہے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔رستہ خالی تھا اور مکان میں خاموشی۔

’’میں نے اسے دیکھا ہے وہ ایک عورت تھی وہ بھی ضرور چھپ کر ہماری باتیں سن رہی تھی۔‘‘مونکس نے بڑے خوف سے اور ڈرے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’تم نے کچھ نہیں دیکھا۔گھر میں کوئی نہیں ہے۔سوائے ٹوبی کریکیٹ اور لڑکوں کے جو گہری نیند سو رہے ہیں آؤ اور دیکھو۔‘‘

فیگن مونکس کو ہر کمرے میں لے گیا جہاں کوئی نہیں تھا سوائے تین چوروں کے جو خراٹے لے کر سورہے تھے۔

فیگن بولا،

’’تم نے دیکھا!تم غلطی پر ہو۔‘‘

’’شاید میں غلطی پر تھا۔‘‘مونکس جو ڈر کے مارے کپکپا رہا تھا یہ کہہ کر چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حویلی میں کھانے کے کمرے میں ناشتے کی میز پر دو عورتیں بیٹھی تھیں ۔مسٹر گلس اب صاف ستھرا کالے رنگ کا لباس پہنے ادب سے کھڑے تھے۔ان عورتوں میں ایک بوڑھی اور ایک سترہ سال کی نوجوان عورت تھی۔

’’برٹلس کو گئے ہوئے بہت دیر ہوگئی۔‘‘بوڑھی عورت نے گلس سے کہا۔

گلس نے اپنی گھڑی دیکھ کر کہا،’’ایک گھنٹہ تیس منٹ ہو گئے ہیں میڈم۔‘‘

اسی وقت باغ کے دروازے پر ایک گاڑی رکی اس میں سے ایک بھاری بھرکم شریف آدمی اترااور پھر جلدی سے کمرے میں چلا گیا۔اس نے حیرت اور تعجب سے پوچھا:

’’میں نے کبھی ایسا نہیں سنا میری عزیزہ مسز مے لی! میری عزیزہ مس روز! یہ آپ کے لیے کتنا بڑا صدمہ ہے۔‘‘

’’ڈاکٹر لوس برن، کیا آپ مہربانی سے اوپر جا کر اس بے چار ے کو دیکھیں گے؟‘‘روز نے التجا کی۔

’’ضرور ضرور گلس، مجھے وہاں لے چلو۔‘‘

گلس اسے مریض کے پاس لے گیا۔ڈاکٹر کافی دیر تک غائب رہا۔اس کی گاڑی سے ایک بڑا چمکتا بیگ نکالا گیا۔سونے کے کمرے کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی۔نو کر جلدی جلدی کبھی اوپر اور کبھی نیچے آجا رہے تھے۔آخر بہت دیر بعد ڈاکٹر کھانے کے کمرے میں آکر خواتین سے باتیں کرنے لگا۔اس نے کہا،’’بڑے تعجب کی بات ہے مسز مے لی ۔‘‘

بوڑھی عورت نے کہا،’’میں امید کرتی ہوں کہ وہ اب خطرے سے باہر ہے۔‘‘

’’نہیں وہ دو ایک ہفتے میں بالکل اچھا ہو جائے گا۔‘‘ڈاکٹر نے انہیں بتایا پھر اس نے پوچھا،’’ کیاآپ نے اس چور کو دیکھا ہے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’کیا آپ اس کو دیکھنا پسند کریں گی اگر میں آپ کے ساتھ چلوں؟‘‘

’’ہاں میں دیکھوں گی اور اگر روز چاہے تووہ بھی دیکھ سکتی ہے۔‘‘

ڈاکٹردونوں عورتوں کو زینے کے اوپر گلس کے کمرے میں لے گیا۔اس نے بستر کی طرف اشارہ کرکے کہا،’’وہ چالاک چور وہاں لیٹا ہے۔‘‘

دونوں عورتوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ وہاں تو ایک بچہ گہری نیند سو رہا ہے۔

ایک معصوم سا بچہ!جس کا چہرہ سفید ہو رہا تھا۔ اس کا زخمی ہاتھ اس کے سینے پر رکھا تھا اور دوسرا اس کے سر کے نیچے۔دونوں آہستہ سے اس کے بستر کی طرف بڑھیں۔روز نے جھک کر اپنے ہاتھ سے آہستہ سے اس کے ماتھے پر پڑے ہوئے بالوں کو اوپر ہٹایا۔لڑکے نے حرکت کی اور سوتے میں ایسے مسکرانے لگا جیسے وہ ان کی ہمدردی کو محسوس کر رہا ہو۔

’’اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘مسز مے لی نے پوچھا۔

’’یہ غریب لڑکا چور نہیں ہے۔ یہ بہت نو عمر ہے۔‘‘روز نے کہا جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر گالوں پر آرہے تھے۔

’’ہمیں اس کو جگانا چاہئے۔‘‘ڈاکٹر لوس برن نے کہا۔

’’ہمیں دوسرے کمرے میں چلنا چاہئے۔‘‘

 مس روز نے کہنا شروع کیا:

’’سوچو! یہ کتنا نو عمر ہے شاید اسکو ماں کا پیار نہیں ملا۔ شاید اس کا کوئی گھر بھی نہیں ، بے چارہ! آنٹی اس لڑکے کو جیل نہ بھیجئے گا۔‘‘

بوڑھی عورت نے کہا:

’’کیا تم سوچتی ہو کہ میں اس کا بال بھی بیکا ہونے دوں گی۔میں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتی۔ میں اس کی ہر ممکن مدد کروں گی۔ڈاکٹر لوس برن میں اس کی مدد کس طرح کر سکتی ہوں۔‘‘

’’میں سوچ کر بتاتا ہوں۔‘‘ رحم دل ڈاکٹرنے کہا۔

کچھ دیر تک وہ سوچ میں ڈوبا رہا،پھر اس نے کہا:

’’کیا ان نوکروں پر بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ اس لڑکے کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔‘‘

’’وہ وہی کریں گے جو میں ان سے کہوں گی۔‘‘

ڈاکٹر نے کہا،’’ٹھیک ہے ۔لیکن سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ لڑکا ہوش میں آنے کے بعد کیا کہتا ہے۔اگر ہم نے اس کو بے گناہ پایا تو ہم اس کی مدد کریں گے لیکن اگر وہ مجرم ہے تو ہم اس کو پولیس کے حوالے کر دیں گے۔کیا آپ کو اس بات سے اتفاق ہے؟‘‘

دونوں عورتیں اس پر راضی ہو گئیں، کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ آلیور بے گناہ ہے۔آلیور کئی گھنٹے تک سوتا رہا۔شام کو جب وہ جاگا تو اس کو بہت کمزوری محسوس ہو رہی تھی، وہ اپنی بپتا سنانے کے لئے بے تاب تھا۔عورتیں اس کی دکھ بھری کہانی سن کر رونے لگیں۔ رحم دل ڈاکٹر نے بھی اپنے آنسو چھپانے کی بہت کوشش کی۔انہوں نے لڑکے کے آرام کا بہت خیال رکھا۔آلیور اس رات اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے ہوئے سو گیا،کیوں کہ اس کو ایک گھر مل گیا تھا۔

جب پولیس پوچھ گچھ کرنے آئی تو مسٹر گلس اور مسٹر برٹلس نے جیسا کہ انہیں ہدایت کی گئی تھی کہہ دیا کہ آلیور بندوق سے کھیل رہا تھا کہ بندوق چل گئی اور وہ زخمی ہو گیا۔انہوں نے دونوں چوروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ پولیس کو ان پر یقین آگیا اور اس طرح آلیور پولیس کی گرفت سے بچ گیا۔

آلیور دس دن تک بیمار رہا،پھر وہ دھیرے دھیرے اچھا ہونے لگا۔کچھ باتیں ایسی تھیں جن سے وہ فکر مند تھا۔روز نے اس سے پوچھا

’’ کیا بات ہے؟‘‘

آلیور نے اس کو بتایا:

’’میری خواہش ہے کہ میں مسٹر براؤن لو سے ملوں ۔میں ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے پیسے اور کتابیں نہیں چرائی تھیں۔‘‘

’’جب تمہارے بدن میں طاقت آجائے تو جا کر مل آنا۔‘‘روز نے اسے اطمینان دلایا۔

اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ڈاکٹر لوس برن آلیور کو مسٹر براؤن لو سے ملانے لندن لے گئے ۔ جب وہ مسٹر براؤن لو کی گلی میں داخل ہوئے تو آلیور کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

’’یہی ہے ۔‘‘ اس نے چلا کر کہا اور ایک بڑے سفید مکان کی طرف اشارہ کیا۔گاڑی رک گئی۔مسٹر براؤن لو کے دروازے پر تختی لگی تھی:

’’مکان خالی ہے۔‘‘

مسٹر براؤن لو مکان چھوڑ کر جا چکے تھے اور مکان خالی تھا۔آلیور مایوس ہو کر رونے لگا۔’’شاید پڑوس کے لوگ کچھ بتا سکیں کہ اب وہ کہاں ہیں؟‘‘ڈکٹر لوس برن نے کہا۔

لیکن پڑوسی صرف اتنا بتا سکے کہ مسٹر براؤن لو چھ ہفتے پہلے مکان چھوڑ گئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالکۂ مکان اور ان کے دوست گرم وگ بھی ان کے ساتھ گئے ہیں۔آلیور اور ڈاکٹر لوس برن کا اب وہاں ٹھہرنا بے کار تھا اس لئے وہ واپس آگئے ۔آلیور بہت مغموم تھا۔حالانکہ وہ ایک طرح سے اپنے گھر ہی جا رہا تھا جہاں اس کو مے لی اور روز کا پیار اور رحم دل ڈاکٹر لوس برن کی ہمدردی ملنے کا یقین تھا۔

موسم بہار کے شروع میں مسز مے لی آلیور کو اپنے شہر کے مکان میں لے گئیں جہاں باغوں میں پھلوں کے درخت تھے اور کھیتوں میں پھول کھلے تھے۔ پھر ان پر کیسے پرندے گانا گاتے تھے!آلیور کو ایسا سکون اور خوشی کبھی نہیں ملی تھی۔ ہر صبح آلیور ایک شریف بوڑھے آدمی سے پڑھنے لکھنے جاتا۔مسز مے لی اور مس روز کے ساتھ چہل قدمی کرتا۔شام کو وہ ایک ساتھ مل کر باتیں کرتے یا روز ان کو کچھ پڑھ کر سناتی۔ اکثر روز پیانو بجا کر گانا گاتی۔بوڑھی مسز مے لی اس کو بڑی محبت سے سنا کرتی۔ رات آلیور آرام سے صاف ستھرے بستر پر علیٰحد ہ کمرے میں سوتا۔تین مہینے آلیور ٹوئسٹ کے لیے بہت خوشی کے دن تھے۔

لیکن اس کی یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔آرٹفل ڈاجر نے پتا لگا لیا تھا کہ آلیور کہاں رہتا ہے۔فیگن اس کے پیچھے لگا تھا اور مونکس بھی ۔کسی پر اسرار مقصد کے لیے مسٹر مونکس آلیور کو ایک مجرم بنانا چاہتا تھا۔

ایک شام کو آلیور نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھا۔واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ آلیور اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا ۔ اس کی میز کھڑکی کے قریب تھی۔ شام کافی ہو گئی تھی۔آلیور پڑھتے پڑھتے میز پر سر رکھ کر سو گیا تھا۔سوتے میں اس نے ایک خوف ناک خواب دیکھا کہ وہ فیگن کے کمرے میں ہے ۔پھر وہ ایک چیخ مار کر جاگ گیا۔کھڑکی میں دو شیطان چہرے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ فیگن اور سرخ نشان والے کے چہرے تھے۔ آلیور مدد کے لئے چلایا۔گلس، برٹلس اور ڈاکٹر لوس برن بھاگے ہوئے آئے ۔ان کے ساتھ مسز مے لی اور روز بھی تھیں۔

’’یہ فیگن ہے، وہاں باہر فیگن ہے۔‘‘آلیور نے خوف بھرے لہجے میں کہا۔

وہ سب بھاگ کر باغ میں گئے اور ہر جگہ تلاش کیا۔لیکن دونوں مجرم فرار ہو چکے تھے۔

’’شاید تم نے خواب دیکھا ہے میرے لڑکے۔‘‘ڈاکٹر نے کہا۔

’’نہیں نہیں ،میں نے انہیں جاگتے ہیں دیکھا ہے۔‘‘

ڈاکٹر نے گھبرا کر کہا،’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ فیگن ابھی تک اس لڑکے کے پیچھے کیوں لگا ہے؟اس کے پیچھے ضرور کوئی راز ہے اور وہ سرخ نشان والا آدمی آلیور کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ میں اس راز کو معلوم کروں ۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔

مسٹر بمبل اس کہانی میں دوبارہ آتے ہیں۔ایک بار جب آلیور یتیم خانے میں تھا ،وہ اس کے مالک تھے اور اب وہ ایک دل شکستہ شخص تھے۔ ان کے غم کاسبب ان کی بیوی تھی۔ جس سے انہوں نے حال ہی میں شادی کی تھی۔مسز بمبل یتیم خانے کی مالکن تھی۔ شادی سے پہلے وہ بے زبان اور فرماں بردار تھی لیکن شادی کے بعد وہ بالکل بدل گئی تھی! مسٹر بمبل اس کی بدزبانی اور بھاری ہاتھوں سے ڈرتے تھے۔ وہ اکثر انہیں مارتی تھی۔اسی طرح جیسے خود بمبل لڑکوں کو مارتے تھے۔مسٹر بمبل کی زندگی اب بہت دکھی تھی۔

مسٹر بمبل یتیم خانے میں اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ۔اتنے میں ایک ملاقاتی اندر آیا۔وہ ایک لمبے قد کا کالا آدمی تھا، جس کے داہنے گال پر سرخ نشان تھا۔اس کے کپڑے دھول سے اٹے ہوئے تھے۔جیسے وہ لمبا سفر طے کرکے آیا ہو۔ اجنبی نے راہداری کو دھیان سے دیکھا کہ وہاں کوئی ہے تو نہیں، پھر اس نے بڑی احتیاط سے دروازہ بند کیا اور کہا:

’’میں تم سے کچھ معلوم کرنے آیا ہوں۔ اس کام کے لیے میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔‘‘

اس نے کچھ سونے کے سکے میز پر پھینکے اور کہا،’’انہیں اٹھا لو،اگر تم نے واقعی میری مدد کی تو میں اس سے زیادہ دوں گا۔‘‘

پھر اس نے پوچھا، ’’ کیا تمہیں یاد ہے بارہ سال پہلے۔۔۔ گزشتہ جاڑوں میں اس واقعے کو بارہ سال ہوگئے ...جب ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔‘‘

مسٹر بمبل نے اس سے کہا،’’ اس وقت ایک کیا بہت سے لڑکے پیدا ہوئے تھے۔‘‘

’’وہ لڑکا کمزور، پیلا اور ڈراؤنا لگتا تھا۔تم نے اسے تابوت بنانے والے کے ہاں کام کرنے کے لیے بھیجا تھا ، لیکن وہاں وہ زیادہ دن نہیں رکا تھا اور کہیں بھاگ گیا تھا۔۔۔‘‘

’’اوہو!تمہارا مطلب آلیور ٹوئسٹ سے ہے! وہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔ وہ ایک چھوٹا سا بد نصیب لڑکاجس نے مجھ سے کھانے کو زیادہ مانگا تھا وہ ۔۔۔‘‘

’’میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں۔ اس کی ماں کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں۔وہ بوڑھی عورت کہاں ہے جو مرتے وقت اس کے پاس تھی۔‘‘

’’تقریباً تین مہینے ہوئے وہ مر گئی۔‘‘

اجنبی یہ سن کر خوش نظر آنے لگا۔ وہ جانے کے لیے اٹھا لیکن مسٹر بمبل نہیں چاہتے تھے کہ وہ جلدی واپس جائے وہ اس سے اور زیادہ پیسے لینے کی امید میں تھے۔

’’ابھی مت جاؤ۔‘‘انہوں نے کہا،’’مجھے اور باتیں یاد آگئی ہیں۔‘‘

’’جلدی بتاؤ۔‘‘

’’مسز بمبل اس بوڑھی عورت کے پاس تھی۔ جب وہ مری تھی تو اس نے میری بیوی کو آلیور کی ماں کے بارے میں کچھ بتایا تھا۔‘‘

’’کیا؟‘‘اجنبی نے حیرانی سے پوچھا۔

’’مجھے نہیں معلوم! تمہیں میری بیوی سے بات کرنی ہوگی، وہی بتا سکتی ہے۔ اس کے پاس آلیور کی ماں کا لاکٹ بھی ہے۔‘‘

’’اس کے اندر کیا ہے؟‘‘

’’بالوں کی دو لٹیں اور ایک شادی کی انگوٹھی جس پر’ ایگنس‘ لکھا ہے۔‘‘

’’اسے میرے پاس لانا۔‘‘

’’کب؟‘‘

’’کل شام کے سات بجے میں اس پتے پر تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘

اجنبی نے لرزتی انگلیوں سے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر پتا لکھا۔

’’لاکٹ کو اپنے ساتھ لانا۔ یاد رکھنا میں اس کی اچھی قیمت دوں گا۔ اور ہاں کسی کو کچھ بتانا مت۔ سن لیا؟‘‘

اجنبی اتنا وحشی نظر آرہا تھا کہ مسٹر بمبل کو ڈر لگنے گا۔

’’ہم ضرور آئیں گے۔‘‘اس نے پتے کو دیکھتے ہوئے کہا،’’کیا نام لے کر آپ کے بارے میں پوچھیں؟‘‘

’’مونکس۔‘‘اجنبی نے جواب دیا۔

یہ کہہ کر وہ جلدی سے چلا گیا۔

اگلی شام ساڑھے آٹھ بجے مسٹر بمبل اپنی بیوی کو لے کر ایک گندے قصبے میں گئے۔یہ قصبہ دریا کے نزدیک تھا۔ اس وقت آندھی اور طوفان آرہا تھا۔دونوں خوف زدہ تھے۔ گرج اور چمک سے زیادہ وہ اس قصبے سے ڈر رہے تھے جو جرائم پیشہ لوگوں کا اڈا تھا ۔آخر وہ مونکس کے دیے ہوئے پتے پر پہنچے ۔یہ ایک گودام تھا جس کا نچلا حصہ پانی میں ڈوبا تھااور اوپر کا حصہ کسی بھی وقت ڈوب سکتا تھا۔

زینے کے اوپر کھڑکی کھلی اور آواز آئی،’’نیچے ہی رہو میں ایک منٹ میں آتا ہوں۔‘‘چند منٹ کے بعدمونکس نے دروازہ کھول کر کہا،’’جلدی اندر آجاؤ۔‘‘

اپنا ڈر چھپاتے ہوئے مسز بمبل اندر داخل ہوئیں۔مسٹر بمبل ڈرے ڈرے سے ان کے پیچھے تھے ۔مونکس نے دروازے میں تالا لگایا اور ٹوٹے ہوئے زینے سے انہیں اوپر لے گیا۔بادل کی گرج سے پوری عمارت لرز رہی تھی۔مونکس انہیں شکستہ کمرے میں لے گیا۔جہاں لیمپ کی مدہم روشنی ہورہی تھی۔کمرے میں تین کرسیوں اور ایک ٹوٹی ہوئی میز کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

مونکس نے کہا،’’بیٹھ جاؤ میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے۔‘‘

مسز بمبل کی طرف گھورتے ہوئے اس نے کہا،’’ مجھے اس عورت کے بارے میں تفصیل سے بتاؤ۔‘‘

’’تمہارے لیے اس کی کیا اہمیت ہے؟‘‘

’’میں نہیں بتا سکتا جب تک مجھے اس کی تفصیل نہ معلوم ہو جائے۔‘‘

’’اور میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک مجھے یہ نہ معلوم ہو جائے کہ مجھے کیا معاوضہ ملے گا۔‘‘

’’میں تمہیں بیس پاؤنڈ تک دوں گا۔بتانا شروع کرو۔‘‘

’’اکیس۔‘‘مسٹر بمبل جلدی سے بولے۔

’’اپنا منہ بند کرو بوڑھے۔‘‘اس کی بیوی نے کہا۔

’’میں پچیس پاؤنڈ لوں گی تب بتاؤں گی۔‘‘اس نے مونکس سے کہا۔

’’ٹھیک ہے شروع کرو!‘‘

مسز بمبل نے کہنا شروع کیا،’’جس وقت بڑھیا کا انتقال ہوا تو میں اس کے پاس تھی ۔اس نے مجھے ٹوئسٹ کی جوان ماں کے بارے میں بتایا۔۔۔بوڑھی سیلی نے اس کا سامان چرایا تھا۔‘‘

’’آگے کہو۔‘‘

’’جب وہ مر رہی تھی تو نوجوان نے بڑھیا سیلی کو ایک لاکٹ دیا تھا۔سیلی نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس لاکٹ کو آلیور ٹوئسٹ کو دے دے گی۔لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور لاکٹ اپنے قبضے میں ہی رکھا۔‘‘

’’لاکٹ کہاں ہے؟‘‘

’’پچیس پاؤنڈ کہاں ہیں؟‘‘

مونکس نے پچیس پاؤنڈ گن کر میز پر رکھ دیے، جو مسز بمبل نے اٹھا کر اپنے پرس میں رکھ لئے، پھر اس نے جیب سے چمڑے کا ایک چھوٹا سا بٹوانکال کر میز پر ڈال دیا اور کہا،’’لاکٹ اس میں ہے۔‘‘

مونکس نے جھپٹ کر بٹوا اٹھایا اور لرزتے ہاتھوں سے اسے کھولا اور سونے کا لاکٹ نکالا جس میں دو بالوں کی لٹین اور شادی کی انگوٹھی رکھی تھی۔

’’کیا اس میں صرف یہی چیزیں ہیں؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

مونکس نے اچانک انہیں حکم دیا،’’ حرکت مت کرنا! جہاں ہو وہیں بیٹھے رہو۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے میز کو ایک طرف ہٹایا جس کے نیچے لوہے کا ایک کڑا تھا۔مونکس نے کڑے کو کھینچا تو فرش میں ایک چور خانہ نظر آیا ۔

’’آؤ اور دیکھو۔‘‘اس نے کہا اور لیمپ کی روشنی چور خانے کے قریب کر دی۔مسٹر اور مسز بمبل سوراخ کے نزدیک آئے اور نیچے جھانک کر دیکھا ان کے نیچے دریا بڑی تیزی سے بہہ رہاتھا۔مونکس نے لاکٹ کو دریا میں پھینک دیا اور اس کو بہتے ہوئے دیکھتا رہا۔

’’اب .... یہ اب کبھی نظر نہیں آئے گا۔‘‘پھر اس نے مسٹر بمبل اور ان کی بیوی کی طرف مڑ کر کہا،’’اب تم جا سکتے ہو اور ہاں اپنی زبان بند رکھنا اور اگر ایسا نہیں کیا تو۔۔۔‘‘

مسٹر بمبل اور ان کی بیوی جلدی سے زینے کی طرف بھاگے ۔ وہ بہت خوف زدہ تھے۔ لیکن وہ طوفان سے زیادہ مونکس سے ڈر رہے تھے۔ وہ جلدی سے بارش اور اندھیرے میں ہی اپنے گھر چلے گئے۔بادل اب بھی گرج رہے تھے اور بجلی بھی چمک رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوبی کریکیٹ کے تھوڑے دنوں بعد بل شیک واپس گھر لوٹ آیا۔ صرف نینسی کو اس کے لوٹنے کی خوشی تھی۔پھر بل شیک بیمار ہو گیا۔ اکیلی نینسی اس کی بیماری کے دوران اس کے پاس رہی۔وپہ ایک ماں کی طرح اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ فیگن اور اس کے گروہ کے لوگ کبھی اسے دیکھنے نہیں آئے ۔ بل شیک کام بھی نہیں کر سکتا تھا۔اس کو اور نینسی کو روپوں کی بہت ضرورت تھی۔ ان کی ضرورت بہت بڑھ گئی تھی لیکن فیگن ابھی تک ان کے ہتھے نہیں چڑھا تھا۔

آخر فیگن بل شیک کو دیکھنے آیا۔بل شیک اس وقت پہلے سے بہتر تھا،حالانکہ اس کا مزاج ابھی تک بہت خراب تھا۔

’’افسوس! آخر تم آہی گئے۔‘‘وہ غرایا،’’تم سوچتے تھے کہ میں مر جاؤں گا بوڑھے چالاک چور! اگر یہ لڑکی یہاں نہ ہوتی تو میں مر جاتا۔۔۔‘۔‘

’’اور کون لایا تھا اس لڑکی کو تمہارے پاس۔‘‘

’’یہ سچ ہے ‘‘نینسی نے کہا۔

بل شیک نے کہا،’’ادھر دیکھو، مجھے روپوں کی ضرورت ہے اور ابھی۔‘‘

’’میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔‘‘ فیگن نے اس سے کہا۔

’’لیکن گھر پر تمہارے پاس بہت زیادہ پیسہ ہے۔‘‘

’’بل شیک تم غلطی پر ہو۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے، میں بوڑھا آدمی ہوں۔‘‘

’’بکواس بند کرو مکار بوڑھے شیطان!‘‘ بل شیک غرایا۔

’’اچھاآج شام کو میں ڈاجر کے ہاتھ بھیج دوں گا۔‘‘

’’نہیں تم نہیں جانتے ! میں تمہیں جانتا ہوں۔نینسی تمہارے ساتھ جائے گی اور تم اس کو فوراً روپے دوگے۔‘‘

نینسی نے اپنا کوٹ اور ہیٹ پہن لیا۔ وہ اور فیگن ایک ساتھ گھر سے چلے گئے۔تمام رستے فیگن اس سے کہتا رہا،’’میں ایک غریب آدمی ہوں،میرا تمام روپیہ لڑکوں پر خرچ ہو چکا ہے۔ میں انہیں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔حالانکہ وہ میرے ساتھ بہت برا برتاؤ کرتے ہیں۔ جومیرے پاس ہوتا ہے وہ سب لے لیتے ہیں ۔ میں ایک غریب بوڑھاآدمی ہوں میری دوست۔‘‘

جب وہ فیگن کے گھر پہنچے تو وہاں پر ایک آدمی فیگن کا انتظار کر رہاتھا۔وہ ایک لمبا اور کالا آدمی تھا۔جس کے گال پر سرخ نشان تھا۔

’’مونکس !‘‘فیگن نے تعجب سے کہا، پھر وہ نینسی کی طرف مڑا اور بولا،’’تم یہاں رکو میری دوست ،مجھے اس شریف آدمی سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ مونکس کو لے کر زینے کے اوپر چلا گیا۔

چند منٹ کے بعد نینسی ان کے پیچھے چپکے سے اوپر چلی گئی۔ وہ دروازے سے لگ کر کھڑی ہوئی اور ان کی باتیں سننے لگی۔ان کی باتیں سن کر وہ پیلی پڑ گئی۔وہ وہاں تقریباً دس منٹ تک رکی اور پھر آہستہ سے نیچے اتر آئی۔

فیگن اور مونکس بھی اس کے آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد نیچے آگئے۔ مونکس فوراً چلا گیا۔فیگن نینسی کے پاس آیا،’’کیوں نینسی میری دوست،تم اتنی پیلی کیوں ہو رہی ہو؟‘‘ اس نے تعجب سے کہا۔نینسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

فیگن نے اسے بل شیک کے لئے روپے دیے ۔جنہیں لے کر وہ فوراً چلی گئی۔

گلی کے آدھے رستے میں اس کی طاقت نے جواب دے دیا ۔وہ ایک دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی پھر کچھ دیر بعد وہ جلدی سے اٹھ کر بل شیک کے گھر چلی گئی۔

شروع میں بل شیک نے اس کے پیلے چہرے پر دھیان نہیں دیا۔اس نے اسے پھل اور شربت لانے کے لیے باہر بھیج دیا۔جلدی ہی وہ اتنا زیادہ کھا گیا کہ اسے کسی بات کا ہوش نہ رہا۔اسی شام نینسی کو جاڑا بخار آگیا۔

’’کیا بات ہے۔‘‘ بل شیک نے غریب لڑکی سے پوچھا،’’تم مردے کی طرح پیلی دکھائی دے رہی ہو۔‘‘

’’بات کیا ہو سکتی ہے؟ کوئی بات نہیں ہے۔۔۔تم مجھ سے کیوں مذاق کر رہے ہو؟‘‘

شیک نے اس کے بازوؤں کو بے ڈھنگے پن سے جھٹکا دیا۔’’مجھے بتاؤ تمہیں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ چلایا۔

’’کچھ نہیں بل... میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

’’اچھا تم اس طرح دیکھنا بند کرو۔اپنا چہرہ تبدیل کرو ورنہ میں اسے خود بدل دوں گا۔‘‘بل شیک نے اسے اٹھا لیا۔نینسی مسکرانے کی کوشش کرنے لگی پھر وہ میز کے پاس جا کر اس کے لیے شربت کا گلاس بھرنے لگی۔

’’اسے پی لو ۔‘‘اس نے کہا۔شیک نے شربت جلدی سے پی لیا۔

’’اب ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا۔

’’تھوڑا شربت اور دوں؟‘‘نینسی نے اس سے کہا اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر اورگلاس بھرنے لگی ۔بل شیک کی آنکھ بچا کر اس نے نیند کی دوا ملا دی۔شیک نے اسے پی لیا، تین منٹ کے بعد وہ گہری نیند سو گیا۔

نینسی جلدی سے باہر آئی ، باہر اندھیرا ہو گیا تھا۔چرچ کے گھنٹے نے دس بجائے ۔ اسے دیر ہوگئی۔ نینسی نے بھاگتا شروع کر دیا آخر وہ اپنی منزل پر پہنچ گئی۔یہ ایک سنسان ہوٹل تھا جو ایک ہائیڈ پارک کے قریب تھا۔ وہ ا ندر گئی اور دربان سے پوچھنے لگی،’’کیا میں مس روز سے بات کر سکتی ہوں۔‘‘

دربان نے پوچھا،’’تم مس روز مے لی سے کیا چاہتی ہو؟‘‘

’’مہربانی کرکے مجھے ان سے ملنے دیجئے۔بہت ضروری کام ہے ۔‘‘نینسی نے اس سے التجا کی۔

آدمی نے اس کے اداس چہرے کی طرف ہمدردی سے دیکھا۔ پھر وہ اوپر بھاگا اور جلدی ہی دوبارہ واپس آگیا اور بولا:

’’میرے ساتھ آؤ۔‘‘وہ اس کو اپنے ساتھ مس روز مے لی کے کمرے میں لے گیا جہاں وہ ڈری اور سہمی ہوئے اس کا انتظار کرنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’میں روز مے لی ہوں۔‘‘ایک نرم آواز نے کہا،’’میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں‘‘

نینسی نے اوپر دیکھا وہ نرم آواز اسکے دل میں کھب گئی۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

’’تم مصیبت میں ہو۔‘‘روز نے آہستہ سے کہا،’’مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔‘‘

’’ کیا دروازہ بند ہے؟‘‘نینسی نے خوف سے پوچھا،’’کیا یہاں کوئی آدمی سن رہا ہے؟‘‘

’’نہیں !کیوں؟‘‘

’’میری زندگی تمہارے ہاتھوں میں ہے۔‘‘نینسی نے اس سے کہا۔

’’اگر گروہ کو پتا چل گیا کہ میں یہاں آئی ہوں تو مجھے مار ڈالے گا تم کسی سے کچھ نہیں کہنا۔‘‘

’’نہیں ، نہیں کہوں گی۔‘‘

’’میں نوجوان آلیور ٹوئسٹ کے بارے میں ....میں وہی لڑکی ہوں جو اسے دوبارہ فیگن کے پاس دھوکے سے لے گئی تھی جب وہ کتاب گھر جا رہا تھا۔‘‘

’’تم!‘‘

’’ہاں محترمہ میں وہی ملعون ہوں....‘‘

’’محترمہ، میری تمام زندگی چوروں کے درمیان گزری ہے۔جب سے میں پیدا ہوئی ہوں میں نے برائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا ہے۔چوری ، مکاری، شراب اور برائی۔‘‘

’’خاموش!خاموش!‘‘روز چلائی ،’’تمہاری یہ باتیں سن کر میرا دل غمگین ہو جائے گا۔مجھے تم پر رحم آتا ہے۔ مجھے تم سے بہت ہمدردی ہے۔‘‘

غریب نینسی نے کہا:

’’تمہیں میری بات سننی پڑے گی۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔میں ایک راز کی خبر آپ کو ضرورو بتاؤں گی کیا آپ مونکس نامی شخص سے واقف ہیں؟‘‘

’’مونکس کون؟نہیں میں نے اس کا نام کبھی نہیں سنا۔‘‘

’’وہ آپ کو جانتا ہے اور آپ کے بارے میں سب معلومات رکھتا ہے۔ میں نے اسے فیگن سے کہتے ہوئے سنا ہے، اسی لیے میں آپ کے پاس یہاں آئی ہوں ۔بہت جلدی آپ کے گھر ڈاکہ ڈالا جائے گا۔ میں نے یہ چھپ کر سنا ہے جب فیگن اور مونکس باتیں کررہے تھے۔ مونکس نے فیگن کو بہت دولت دینے کا وعدہ کیا ہے اگر وہ آلیور کو چور بنا دے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں نہیں جانتی ۔ میں اس کے آگے کچھ نہیں جانتی کیوں کہ مونکس نے میری پرچھائیں دیوار پر دیکھ لی تھی اور میں جلدی سے وہاں سے بھاگ آئی تھی۔کل رات مونکس فیگن سے ملنے آیا تو میں نے ان کی باتیں سنیں۔میں نے مونکس کو یہ کہتے ہوئے سنا:

مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ لڑکا کون ہے۔میں نے لاکٹ دریا میں پھینک دیا ہے جو بوڑھی عورت نے آلیور کی ماں سے حاصل کیا تھا۔‘‘

’’میں بالکل نہیں سمجھی کہ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘

’’میں بالکل نہیں جانتی مگر یہ سچ ہے محترمہ، یہ سب باتیں جو میں نے اپنی زبان سے کہی ہیں بالکل سچی ہیں۔ اس کے بعد میں نے مونکس کو یہ کہتے سنا:

اگر میری زندگی اس سے خطرے میں پڑتی تومیں لڑکے کو مار ڈالتالیکن میں نے اس پر کڑی نگاہ رکھی ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا۔ میرا چھوٹا بھائی آلیور!‘‘

’’اس کا بھائی!‘‘

’’اس نے یہی کہا تھا محترمہ۔‘‘نینسی نے چاروں طرف خوف سے دیکھا،’’اب میں چلتی ہوں بہت دیر ہو گئی۔مجھے واپس جانا ہے۔‘‘

’’واپس؟اوہ! ان کے پاس واپس نہ جاؤ۔یہیں رہو۔میں تمہارے لیے ایک محفوظ جگہ تلاش کر دوں گی جہاں وہ تم کو کبھی نہ پا سکیں گے۔‘‘

’’محترمہ ، میں ضرور جاؤں گی وہ سب خراب آدمی ہیں لیکن ان میں ایک آدمی ایسا ہے جس کو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتی ،کسی بھی صورت میں نہیں۔‘‘

’’اوہ! اللہ آپ کی حفاظت کرے۔ اللہ آپ کو اس دکھ بھری زندگی سے چھٹکارا دلائے۔‘‘

’’بہت زیادہ دیر ہو گئی ہے محترمہ بہت زیادہ!‘‘

نینسی ہچکیاں لینے لگی، پھر وہ اندھوں کی طرح دروازے میں چلی گئی۔

’’ایک منٹ رکیے!مجھے بتائیے میں آپ سے کہاں مل سکتی ہوں۔ ‘‘

’’ہر اتوار کی شام کو گیارہ بجے سے آدھی رات تک تم مجھ سے لندن برج پر مل سکتی ہو۔ اگر میں اس وقت تک زندہ رہی تو ضرور ملوں گی۔‘‘

’’مجھے آپ پر بہت رحم آتا ہے۔میں آپ کی کس طرح مدد کروں؟‘‘

’’کوئی میری مدد نہیں کر سکتا محترمہ۔ صرف موت ہی۔‘‘ نینسی ہچکیاں لیتی ہوئی جانے لگی۔دروازے پر پہنچ کر اس نے کہا،’’معصوم آلیور کی حفاظت کرنا۔‘‘

روز مے لی کرسی پر گر پڑی۔ وہ بے ہوش ہونے لگی۔ پھر کچھ دیر کے بعد اس نے سوچنا شروع کیا کہ وہ آلیور کو بچانے کے لیے ضرور کچھ کرے گی۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟وہ سوچ میں پڑ گئی۔ ساری رات وہ سوچتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز مے لی لندن میں دو تین روز گزارنے آئی تھیں۔وہاں مس روز اسی دوران میں کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ وہ کیا کرے؟ساری رات اس نے جاگ کر گزاری دوسری صبح تک اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آیاکہ وہ کیا کرے۔اس نے نینسی کی کہانی اپنی آنٹی کو نہیں سنائی کیوں کہ وہ ڈرتی تھی کہ اس سے بوڑھی عورت پریشان ہو جائے گی۔ کہاں تک وہ اس کی مدد کرے گی؟

صبح ہی صبح آلیور مسٹر گلس کے ساتھ چہل قدمی کو گیا۔جب وہ واپس آیا تو اس نے خوش ہو کر بتایا کہ’’ میں نے مسٹر براؤن کو دیکھا ہے۔میں نے انہیں ان کی گاڑی سے اترتے دیکھا ہے ۔ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں رہتے ہیں ۔کیا آپ میرے ساتھ ان کو میری کہانی سنانے چلیں گی؟‘‘

’’مسٹر براؤن لو!وہی ایک ایسے آدمی ہیں جو مجھے مشورہ دے سکتے ہیں۔وہی مجھے بتائیں گے کہ مجھے کیا کرناچاہئے۔‘‘روز نے سوچا، پھر جلدی سے آلیور کے ساتھ مسز براؤن لو کے گھر جانے کے لئے تیار ہو گئی ۔ان کے گھر پہنچ کر اس نے آلیور کو گاڑی میں چھوڑا اور اپنا کارڈ ایک نوکر کو دے کر کہا کہ وہ مسٹر براؤن لو سے بہت اہم بات کرنا چاہتی ہے۔نوکر واپس آکر اس کو اپنے ساتھ اوپر لے گیا اور مسٹر براؤن لو کے کمرے میں پہنچا دیا،جہاں پر دو مہذب آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ مسٹر گرم وگ روز کو دیکھ کر کمرے سے جانے لگے ۔لیکن روز نے انہیں روک لیا۔اس نے کہا:

’’مہربانی سے آپ رک جائیے۔یہ ایک ایسی بات ہے جس میں آپ سب سے مشورہ کرنا ہے۔آپ دونوں اس نوجوان لڑکے سے ہمدردی کرتے ہیں جومیرا عزیز دوست آلیور ٹوئسٹ ہے۔‘‘

’’میری نوجوان عزیزہ !اگر آپ نے اس کے بارے میں اچھی خبر سنائی تو مجھے بڑی خوشی ہوگی۔‘‘مسٹر براؤن نے کہا۔انہوں نے اپنی کرسی مس مے لی کے قریب کر لی۔

’’وہ ایک برا لڑکا ہے۔‘‘ مسٹر گرم وگ نے کہا،’’حقیقت میں وہ ایک....یا پھر میں اپنی ٹوپی چبا لوں گا۔‘‘

’’اوہ،نہیں!‘‘روز چلائی۔’’سنئے میں آپ سے کیا کہنا چاہتی ہوں۔‘‘پھر روز نے انہیں تمام واقعہ بتا دیا جو آلیور کے ساتھ پیش آیا تھا جب وہ مسٹر براؤن لو کے گھر سے گیا تھا۔اس نے بتایا کہ کیسے آلیور نے مسٹر براؤن لو کو تلاش کرنے کی بہت کو شش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

جب روز نے اپنی کہانی ختم کی تو شریف آدمی نے کہا،’’اللہ کا شکر ہے ۔میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے۔ آپ نے مجھے بڑی خوشی دی ہے لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ لڑکا اب کہاں ہے؟کیا وہ آپ کے ساتھ نہیں آیا؟‘‘

’’وہ باہر گاڑی میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا ہے۔‘‘

مسٹر براؤن جلدی سے نیچے گئے اور کچھ دیر بعد آلیور کو لے کر واپس آگئے۔وہ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔

’’ایک شخص اور ہے جو آلیور کو دیکھ کر بہت خوش ہوگا ۔‘‘

’’مسز بیڈ وین کمرے میں آئیں اور آلیور ان کے بازوؤں می ں جھول گیا۔ کبھی وہ روتی تھیں اور کبھی ہنستی تھیں۔ باربار آلیور کو پیار کرتی تھیں،’’میں جانتی تھی کہ یہ واپس آئے گا۔ میرے معصوم بچے میرے پیارے آلیور۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے آلیور کو بیڈوین سے الگ کیا۔

مسٹر براؤن، مسٹر گرم وگ اور روز دوسرے کمرے میں چلے گئے جہاں روز نے نینسی کی کہانی جو اس نے رات سنائی تھی دہرائی۔دونوں شریف آدمیوں نے دل سے روز کی مدد کرنے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ آج شام کو روز کے ہوٹل جائیں گے۔اس وقت تک روز مسز مے لی اورڈاکٹر لوس برن کو بتائے گی پھر وہ شام کو کوئی منصوبہ بنائیں گے۔ اسی شام وہ اکٹھے ہوئے ۔ 

مسٹر براؤن لو نے کہا:’’ معمے کی چابی کیا وہ آدمی مونکس ہے؟ ہم اس کو پکڑیں گے اور اس سے بات کریں گے ۔ ہم اس لڑکی سے ملیں گے۔اگلی اتوار کی رات کو وہ ہمیں بتائے گی کہ مونکس کا حلیہ کیا ہے۔وہ ہمیں کہاں ملے گا۔اتوار تک ہم کچھ نہیں کر سکتے لیکن اتوار کی شام کو میں مس روز کے ساتھ لندن برج جاؤں گا۔‘‘

’’ہم لندن میں اس وقت تک رکیں گے جب تک مونکس کو تلاش نہ کر لیں۔‘‘مسز مے لی نے کہا۔

’’کون جانتا ہے کہ اتوار کو لڑکی ہمیں کیا بتائے گی۔‘‘

مسٹربراؤن لو نے پر امید لہجے میں کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتوار کی رات فیگن اور بل شیک آپس میں اکٹھے ڈاکوؤں کے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

انہوں نے گھنٹے کی آواز سن کر اپنی بات بند کر دی۔یہ آواز قریب کے چرچ سے آرہی تھی۔گیارہ بجے نینسی نے اپنی ٹوپی پہنی اور کمرے سے جانے لگی۔

’’تم کہاں جارہی ہو؟‘‘ بل شیک نے اس سے پوچھا۔

’’زیادہ دور نہیں۔‘‘

’’میں کہتا ہوں کہاں جارہی ہو؟‘‘

’’میں نہیں جانتی کہاں۔‘‘

’’پھر تم نہیں جا سکتیں، بیٹھ جاؤ۔‘‘

’’میری طبیعت خراب ہے۔مجھے تازہ ہوا کی ضرورت ہے۔‘‘

’’اپنا سر کھڑکی سے باہر نکال لو۔‘‘

’’گلی میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘

’’تم نہیں جا سکتیں۔‘‘ بل شیک نے دروازے میں تالا لگا دیا ۔ پھر اس کے سر سے ٹوپی کھینچ کر اتاری اور ٹوپی کو الماری کے اوپر اچھا ل دیا۔

’’اب خاموشی سے یہیں رہو۔‘‘

لڑکی نے اسے خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ کر کہا،’’مجھے جانے دو۔مجھے جانے دو، بل صرف آدھے گھنٹے کے لئے ۔‘‘اس نے ہچکیاں لے کر رحم کی بھیک مانگی، پھر وہ دروازے کے سامنے گر گئی۔بل شیک نے کہا:

’’لڑکی پاگل ہوگئی ہے۔اب اٹھتی ہو یا نہیں ...یا....‘‘اس نے لکڑی مارنے کے لیے اٹھائی۔

’’مجھے جانے دو۔‘‘نینسی خوف زدہ ہو کر بولی۔

بل شیک اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتا ہوا دوسرے کمرے میں لے گیااور د روازے میں تالا لگا دیا۔

نینسی پاگلوں کی طرح چلاتی رہی۔بل شیک واپس فیگن کے پاس آکر بیٹھ گیا۔

’’عجیب لڑکی ہے۔‘‘ اس نے اپنے چہرے سے پسینا پونچھتے ہوئے کیا۔‘‘

’’تم نے ٹھیک کہا۔‘‘فیگن نے سوچتے ہوئے کہا۔

’’وہ باہر کیوں جانا چاہتی ہے؟‘‘بل شیک نے پوچھا۔

’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘فیگن نے کہا جو گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔

’’میں نے اس کو اس حالت میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

اس کے بعد فیگن جلدی اپنے گھر چلا گیا ۔وہ ابھی تک اس کے بارے میں سوچ رہا تھا،’’کیا نینسی شیک سے اکتا گئی ہے؟ وہ اس سے ایسا برا برتاؤ کیوں کرتا ہے؟ کیا اس کو کوئی نیا دوست مل گیا ہے؟ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا مطلب ہے خطرہ۔کوئی نہیں جانتا کہ وہ ہمارے بارے میں اس سے کیا کہے گی۔اچھا خیر وہ آسانی سے معلوم کرے گا اور ایک لڑکے کو نینسی کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجے گا۔جہاں کہیں وہ جائے گی ۔ہاں صرف یہی طریقہ ہے جو وہ کر سکتا ہے۔‘‘

دوسری صبح اس نے چارلی بیٹس سے کہا:

’’چارلی میرے دوست ، میرے پاس تمہارے لیے ایک کام ہے جو تمہیں بہت ہوشیاری سے کرنا ہے۔‘‘

’’اس کا معاوضہ مجھے کتنا ملے گا؟‘‘

’’پورا ایک پاؤنڈ میرے دوست۔‘‘

یہ سن کر چارلی کی آنکھیں چمک گئیں۔اس نے پوچھا،’’مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘

’’بہت آسان کام ہے۔‘‘فیگن نے اپنے ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا۔’’نینسی کا پیچھا کرو،جہاں کہیں وہ جائے اور معلوم کرو کہ وہ کس سے بات کرتی ہے اور کیا کہتی ہے۔‘‘

’’تمہیں اس پر بھروسہ نہیں ہے؟‘‘

’’یہ بات نہیں ہے میرے دوست،بات یہ ہے اس نے ایک نیا دوست بنایا ہے۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون ہے۔‘‘

’’بہت اچھا ، میں یہ کام کروں گا۔‘‘

چارلی بیٹس نے نینسی پر کئی دنوں تک کڑی نگاہ رکھی۔وہ کبھی کبھی باہر نکلتی۔جب وہ جاتی تو وہ اس کا پیچھا پر چھائیں کی طرح کرتا لیکن نینسی نے کسی سے کوئی بات نہیں کی۔جب اتوار آیاتو فیگن نے چارلی بیٹس سے کہا:

’’بل شیک آج ایک کام سے باہر گیا ہے۔وہ صبح سے پہلے واپس نہیں آ سکتا۔ نینسی پرآج رات کڑی نگاہ رکھو۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتوار کی رات جب چرچ کے گھنٹے نے ساڑھے گیارہ بجائے تو لندن برج کے قریب ایک گاڑی آکر رکی جس میں سے ایک مہذب بوڑھا آدمی اور ایک نوجوان عورت اتری ۔انہوں نے پل کے اوپر چلنا شروع کر دیا۔ایک لڑکی کا سایہ قریب آیا اور جلدی سے ان کی طرف چلا گیا۔لڑکی چیخی:

’’یہاں نہیں، وہ مجھے دیکھ لیں گے۔وہاں۔‘‘اس نے اندھیرے میں سیڑھیوں کی طرف اشاری کرکے بتایا جو دریا کے قریب تھیں۔تینوں سائے دریا کی طرف چلے گئے۔چوتھا سایہ بھی ان کے پیچھے چلا گیا۔

’’تم پچھلے اتوار کو یہاں نہیں آئیں۔‘‘مسٹر براؤن لو نے کہا۔

’’میں نہیں آسکتی تھی۔ان لوگوں نے مجھے آنے نہیں دیا۔‘‘

’’کیا وہ تم پر شک کرتے ہیں؟‘‘

لڑکی نے کہا،’’نہیں۔‘‘پھر وہ بالی،’’جو میں نے نوجوان عورت سے وعدہ لیا تھا؟‘‘

’’تم مطمئن رہو میرا وعدہ پکا اور سچا ہے۔‘‘روز نے جواب دیا۔

’’تم کبھی مونکس کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔ جو کچھ میں تم سے کہوں گی۔‘‘

’’کبھی نہیں۔‘‘مسٹر براؤن نے کہا۔

نینسی نے کہا،’’مجھے آپ پر بھروسہ ہے۔آپ کو مونکس ہر شام ،تھری کرپیلس ان،میں ملے گا ۔وہ بہت لمبا اور کالا ہے۔جب وہ چلتا ہے تو اس کی نگاہ اس کے بازوؤں پر ہوتی ہے۔تم اس سے دھوکہ مت کھانا۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے کہا،’’اب سنو اس نوجوان عورت نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے جو کچھ تم نے اس سے کہا تھا۔میں تم سے ملنا چاہتا تھاتاکہ تم ہماری مدد کر سکو مونکس کو تلاش کرنے میں۔‘‘

’’مونکس ہمیں بتا سکتا ہے فیگن اور دوسرے....‘‘

’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ دوسرے لوگ بری ہو جائیں گے ۔ ‘‘مسٹر براؤن لو نے کہا۔

’’مونکس کے داہنے گال پر ایک سرخ نشان ہے جو اس کی گردن تک چلا گیا ہے۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے کہا:

’’تم اسے جانتے ہو!‘‘ نینسی نے تعجب سے کہا۔

’’میرا خیال ہے کہ میں اسے جانتا ہوں،ہاں میں اسے جانتا ہوں۔اچھا ہم اسے دیکھیں گے۔‘‘

انہوںے کچھ وقفے کے بعد کہا،’’نوجوان عورت، تم نے ہمیں بڑی قیمتی معلومات دیں ہیں میں تمہیں اس کا انعام دینا چاہتا ہوں۔مجھے بتاؤ کہ میں تمہاری کس طرح مدد کر سکتاہوں۔‘‘

’’کچھ نہیں۔‘‘نینسی نے روتے ہوئے کہا،’’بالکل کچھ نہیں ۔ اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔‘‘

’’اوہ، نہیں!‘‘ مسٹر براؤن لو نے بڑی ہمدردی سے کہا،’’ہم تمہیں ملک سے باہر کسی محفوظ جگہ بھیج دیں گے۔اگر تم پسند کرو تو وہاں اپنی ایک نئی زندگی شروع کر سکتی ہو اور اپنے پرانے ساتھیوں کو چھوڑ دو۔ ہمارے ساتھ آجاؤ۔‘‘

’’میں نہیں کر سکتی میں ایسا نہیں کر سکتی جناب۔‘‘نینسی ہچکیاں لے کر رونے لگی،’’مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہے لیکن میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔ میں بل شیک کو نہیں چھوڑ سکتی۔مہربانی سے جناب مجھے جانے دیجئے،اس سے پہلے کہ کوئی مجھے آپ کے ساتھ دیکھ لے۔‘‘

مسٹر براؤن لو نے روز کا ہاتھ پکڑکر کہا:

’’اب ہمیں چلنا چاہئے اسے ہمارے ساتھ کوئی دیکھ نہ لے، اس کے لئے یہاں خطرہ ہے۔‘‘پھر انہوں نے نینسی سے کہا:

’’اللہ حافظ! مجھے امید ہے کہ ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ آپ کی مدد کر سکیں۔‘‘

’’اللہ حافظ۔‘‘روز نے آہستہ سے کہا۔

’’اللہ آپ کی مدد کرے محترمہ!‘‘

مسٹر براؤن لو روز کو لے کرگاڑی کی طرف چلے گئے ۔پھر وہ دونوں وہاں سے روانہ ہو گئے۔

نینسی دریا کے قریب سیڑھیوں پر بیٹھ گئی پھر وہ بری طرح رونے لگی ۔ اس نے چارلی بیٹس کی طرف دھیان نہیں دیا۔وہ سیڑھیوں سے آہستہ آہستہ اترتا ہوا وہاں سے چلا گیااور بھاگتا ہوا فیگن کے پاس پہنچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیگن اپنی نشست گاہ میں بیٹھا خوف سے تھرا رہا تھا ۔چارلی بیٹس اپنی کہانی سنا چکا تھا اور اب وہ آگ کے نزدیک چٹائی پر سو رہا تھا۔فیگن بار بار اس کا چہرہ دیکھ رہاتھا۔فیگن کا چہرہ مردے کی طرح پیلا ہو رہا تھا۔اس کی آنکھیں خوف سے لال ہو رہی تھیں۔ وہ ایک بھوت کی طرح لگ رہا تھا۔پولیس کسی بھی وقت آکراسے پکڑ لے گی پھر اسے پھانسی ہوگی۔دن نکلنے سے ایک گھنٹہ پہلے زینے میں آہٹ ہوئی ۔ بل شیک اپنی بغل میں ایک بنڈل لئے جلدی سے اندر آیا۔اس نے بنڈل میز پر پھینکا اور بولا:

’’یہ لو!‘‘

فیگن نے حرکت نہیں کی۔اس نے اپنی آنکھیں بل شیک پر گاڑھ دیں اور منہ سے کچھ نہیں کہا۔

’’تم مجھے اس طرح کیوں تک رہے ہو؟ کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟‘‘

’’نہیں ۔‘‘فیگن نے اسے جواب دیا لیکن میں تمہیں کچھ باتیں بتاؤں گا۔‘‘

’’کیا؟‘‘

فیگن چارلی بیٹس کو ہلاتا رہا جب تک کہ وہ جاگ نہ گیا۔

’’اسے بتاؤ۔‘‘اس نے لڑکے کو حکم دیا۔

’’اسے کیا بتاؤں؟‘‘ لڑکا جو ابھی تک اچھی طرح جاگا نہیں تھا، اس نے کہا۔

’’نینسی کے بارے میں۔ تم نے اس کا پیچھا کیا تھا ، وہاں تم نے کیا دیکھا؟‘‘

’’لندن برج پر؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’وہ وہاں دو آدمیوں سے ملی تھی۔کیا اس نے ایسا نہیں کیا تھا؟ایک بوڑھے مرد اور ایک نوجوان لڑکی سے نہیں ملی تھی؟‘‘

’’یہ درست ہے؟‘‘

’’وہ ان سے پہلے بھی ملی تھی۔ کیا اس نے ایسا نہیں کیا؟اس نے ان کو مونکس کے بارے میں بتایا ہے اور وہ جگہ بھی بتا دی جہاں ہم سب ملتے ہیں۔کیا انہوں نے اس سے یہ نہیں کہاکہ وہ ان کے ساتھ دور چلی جائے؟کیا انہوں نے ایسا نہیں کہا؟‘‘

’’میں اسے جان سے مار دوں گا۔‘‘بل شیک غصے سے چلایا۔پھر وہ گلی میں بھاگ کر گیا اور جلدی ہی گھر پہنچ گیا۔بل شیک نے اپنا دروازہ کھول کر اس میں اندر سے تالا لگا دیا اور اس کے آگے میز کھسکا دی۔نینسی بستر پر لیٹی تھی۔

’’اوہ بل تم ہو!‘‘اس نے مسکرا کر کہا۔وہ اس کے باحفاظت واپس آنے سے بہت خوش تھی۔

’’ہاں میں ہوں اٹھو!‘‘

’’ایک موم بتی کمرے میں جل رہی تھی۔شیک نے اسے آگ میں اچھا ل دیا۔

’’اندھیرا ہو گیا ہے۔‘‘نینسی نے آہستہ سے کہا۔

’’جو کچھ میں کروں گا اس کے لیے اتنی روشنی کافی ہے۔‘‘

بل شیک نے گردن سے پکڑ کر اسے اٹھایااور کھینچتا ہوا کمرے کے بیچ میں لے آیا۔ پھر اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا۔

’’بل!بل!‘‘ نینسی کا سانس گھٹنے لگا۔ وہ اس سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

’’میں چلاؤں گی نہیں،مجھے بتاؤمیں نے کیا کیا ہے؟‘‘

تم جانتی ہو، تم ایک مکار عورت ہو! چارلی بیٹس تمہاری سب باتیں سن چکا ہے۔‘‘

’’مجھے مت مارو بل،میں نے تم سے کوئی دھوکہ نہیں کیا۔میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ایمانداری سے رہی ہوں۔‘‘

شیک نے اپنی پستول اٹھا کر پوری طاقت سے اس کے منہ پر مار دیا۔وہ فرش پر گر گئی۔ پھر بھاری ڈنڈا اٹھا کر وہ بے رحمی سے اسے مارنے لگا۔نینسی نے آہستہ سے ایک چیخ ماری پھر وہ ساکت ہو گئی۔ زمین پر اس کے چاروں طرف خون ہی خون پڑاتھا۔ بل شیک اس کے اوپر کھڑا ہو گیا۔ اسے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں ہلنے کی طاقت نہیں ہے۔پھر وہ خوف سے تھرتھرانے لگا۔ اس کی آنکھیں ! اس کی آنکھیں جو کھلی ہوئی تھیں اور پورے وقت اسی کو تک رہی تھیں ۔

جب سورج کی روشنی پردوں سے اندر آنے لگی تب بل شیک نے حرکت کی ۔اس نے آگ جلا کر بھاری ڈنڈے کو اس میں اچھا ل دیا ۔ پھر اپنے کوصاف کرنے لگا۔بہت ہوشیاری سے ، بہت دھیان سے ۔اس نے اپنے کپڑوں سے خون کے دھبے صاف کرنے کی کوشش کی لیکن وہ صاف نہ ہوئے تو اس نے دھبوں کی جگہ کو کاٹ کر ان کے ٹکڑے آگ میں ڈال دیے لیکن کمرے میں چاروں طرف خون ہی خون تھا۔اس کے کتے کے پیر خون سے لت پت ہو رہے تھے۔بل شیک نے اپنے کتے کو صاف کیا پھر اس نے کمرے سے نکل کر تالا ڈالا اور جلدی سے دور چلا گیا۔وہ چلتا رہا بغیر یہ جانے ہوئے کہ وہ کہاں جا رہاہے۔اس کا کتا اس کے پیچھے تھا۔

نینسی کی آنکھیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں!پورے وقت اس کی آنکھیں اسکو دیکھتی رہیں۔اس کی آخری درد ناک چیخ اس کے کانوں میں گونجتی رہی۔ بل شیک خوف سے کپکپا رہاتھا۔ لیکن پھر بھی وہ بغیر رکے چلتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شام بل شیک اور اس کا کتاایک گاؤں کی سرائے میں داخل ہوئے ۔دونوں پورے دن چلتے رہے۔ وہ دونوں بہت تھک گئے تھے۔گاؤں والے آگ کی چاروں طرف بیٹھے تھے ۔شیک بھی ان میں جا کر مل گیا۔وہ اور اس کا کتا اندھیرے کونے میں بیٹھ گئے۔ اس نے کھانا کھایا۔بغیر کسی سے بات کیے حالانکہ وہ کسی سے بھی بول نہیں رہا تھا لیکن سب کی باتیں سن رہا تھا۔گاؤں والے موسم اور اپنے کھیتوں کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔کسی نے بھی قتل کا ذکر نہیں کیا۔

ایک پھیری والا اندرآیا۔اپنا صندوق کھول کر چیزیں دکھانے لگا۔کنگھے برش،جوتے کے فیتے اور بہت سی چیزیں بیچ رہا تھا۔

’’اور وہ کیا ہے؟‘‘ایک آدمی نے اس کے صندوق کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔‘‘

’’یہ جادو ہے۔‘‘ پھیری والے نے کہا۔’’اس سے ہر دھبہ چھٹ جائے گا،ہر طرح کا دھبہ یہاں تک کہ خون کا دھبہ بھی!‘‘

پھیری والے نے بل شیک کی ٹوپی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو میز پر رکھی ہوئی تھی۔

’’ادھر دیکھو لوگو!اس نشان کی طرف!تین سیکنڈ میں اسے چھٹا دوں گا۔میری طرف دھیان سے دیکھو!‘‘

بل شیک اچھل پڑا۔ پھر اس نے جھپٹ کر پھیری والے سے اپنی ٹوپی چھینی اور جلدی سے سرائے سے نکل گیا۔وہ واپس مڑ مڑ کر دیکھنے لگا کہ کوئی اس کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے،نہیں،کوئی بھی اس کا پیچھا نہیں کر رہاتھا۔پھر اس نے چلنا شروع کر دیا۔ جب وہ گاؤں کے بیچ میں پہنچا تو اس وقت ایک ڈاک گاڑی لندن سے آکر ڈاک خانے کے پاس رکی۔ڈاکیا گاڑی سے ڈاک کا تھیلا نکال رہا تھا۔

’’لندن کی کیا خبر ہے؟‘‘اس نے کوچوان سے پوچھا جو ڈاک کا تھیلا ڈاکیے کو پکڑا رہا تھا۔

’’کیا تم نے نہیں سنا؟ ایک خوف ناک قتل کے بارے میں ....‘‘

’’آدمی کا یا عورت کا؟‘‘

’’ایک عورت کا...خوف ناک .... وہ کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کس نے کیا ہے۔وہ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔‘‘

بل شیک یہ سن کر اندھیرے میں بھاگ گیا۔

وہ اس کا پیچھا کر رہے ہیں !کیا وہ ایک لڑکی تھی جو اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ اس کی آخری چیخ اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔اچانک اس کی طاقت نے جواب دے دیا۔ اس نے ایک سایہ کھیت میں دیکھا۔وہ نیچے کی طرف ہو کر لیٹ گیا۔اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں لیکن وہ نینسی کی آنکھوں کو بند نہیں کر سکا۔وہ کود کر کھلی ہوا میں جا کر لیٹ گیا ۔ اس کی آنکھیں اب بھی اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ وہ وہاں بھی پہنچ گئیں۔

’’میں لندن واپس چلا جاؤں ۔‘‘بل شیک نے سوچا۔

’’میں وہاں بھیڑ میں چھپ جاؤں گا۔ وہاں وہ مجھے کبھی نہیں پا سکیں گے۔ وہ مجھے نہیں پا سکتے۔فیگن میرے لیے کوئی محفوظ جگہ تلاش کر دے گا۔میں اسے پیسے دے کر راضی کر لوں گا۔ میں دوسرے ملک چلا جاؤں گا۔‘‘

یہ سوچتے ہوئے بل شیک نے لندن کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ پھر اسے اپنا کتا یاد آیا۔کتا اس کے لیے اب خطرہ تھا ۔ لوگ کتے کو پہچان لیں گے اور جان جائیں گے کہ اس کا ماسٹر قریب ہے۔کتے کو ضرور مارنا چاہئے۔

شیک ایک گہرے چشمے کے کنارے رک گیا۔اس نے ایک بھاری پتھر اٹھا کر اپنے رومال میں باندھ لیا۔اسکاپلان یہ تھا کہ وہ پتھر کتے کے گلے میں باندھ کر اسے ڈبو دے گا۔جب کتا پاس آیا تو وہ پتھر کو دیکھ کر غرایا اور واپس بھاگ گیا۔

شیک نے دوبارہ اس کو آواز دی مگر کتا اس کے پاس آکر بھاگ گیا۔وہ اپنے مالک سے ڈر رہا تھا۔

’’یہاں آؤ تم اجڈ!‘‘

کتے نے اس کا حکم مانا لیکن جب شیک نے اسے ہاتھ سے پکڑا تو وہ پھر بھاگ گیا۔شیک اس کا بہت دیر تک انتظار کرتا رہا لیکن وہ واپس نہیں آیا۔شیک نے پتھر کو پانی میں ڈال دیا۔پھر وہ لندن کی طرف چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

دودن بعد شام کے وقت مسٹر براؤن لو کے گھر کے سامنے ایک گاڑی آکر رکی۔ مسٹر براؤن باہر آئے ۔ ان کے پیچھے دو مضبوط آدمی تھے ۔ انہوں نے گاڑی میں سے ایک آدمی کو کھینچا اور جلدی سے گھر میں لے گئے۔ وہ پوشیدہ آدمی مونکس تھا۔

’’جناب، اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘مونکس نے مسٹر براؤن لو سے پوچھا،’’مجھے فوراً جانے دو۔ کیا تم نے نہیں سنا؟‘‘

’’تم آزاد ہو لیکن جس وقت تم ایسا کرو گے تو میں پولیس کو بلا لوں گا تاکہ وہ تمہیں گرفتار کر لے۔‘‘

’’گرفتار مجھے؟ کیوں؟‘‘

’’دغا بازی اور رہزنی کے جرم میں۔‘‘

’’میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔‘‘کچھ مونکس نے خوف سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’تم ایک منٹ میں سمجھ جاؤگے ۔ ‘‘ مسٹر براؤن لو نے اس سے کہا۔

مسٹر براؤن لو نے دونوں آدمیوں کو باہر بھیجا ۔پھر مونکس سے کہا،’’بیٹھ جاؤ مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے ایڈ ورڈ لی فورڈ!‘‘

مونکس نے جس کا اصلی نام ایڈ ورڈ لی فورڈتھا ان کے کہنے پر عمل کیا۔

’’ تم مجھ سے اس طرح کا برتاؤ کیوں کر رہے ہو؟میرا خیال ہے تم میرے باپ کے بہت گہرے دوست تھے۔‘‘

’’ہاں میں ہوں۔‘‘ مسٹر براؤن لو نے اس سے کہا،’’اور اسی وجہ سے تمہارے ساتھ مہربانی سے پیش آ رہا ہوں ۔ اگر میں تمہارے باپ کا دوست نہ ہوتا تو میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دیتا۔‘‘

’’اس کا کیا مطلب ہے؟میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘‘

’’کیا تم نے نہیں کیا؟اچھا ہم دیکھ لیں گے پھر تمہارا ایک بھائی ہے۔‘‘مسٹر براؤن لو نے اس سے کہا،’’میرا مطلب ہے تمہارا دوسری ماں سے جو بھائی تھا۔‘‘

’’نہیں میرا کوئی بھائی نہیں ہے۔تم جانتے ہو کہ میرا کوئی بھائی تھا؟‘‘

’’مجھے جو معلوم ہے وہ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔ تمہارا باپ اپنی شادی سے خوش نہیں تھا۔وہ بہت رنجیدہ رہتا تھا۔اس نے کبھی تمہاری ماں سے شادی کی خواہش نہیں کی تھی لیکن اس کے ماں باپ جو گھمنڈی اور لالچی تھے انہوں نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ جلدی ہی تم پیدا ہو گئے ۔ تمہارے ماں باپ نے علیٰحدگی اختیار کر لی۔ کچھ عرصے کے بعد نیوی کے ایک افسر کی لڑکی سے تمہارے با پ کو محبت ہو گئی۔اس کا نام ایگن تھا۔اس نے اس سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔‘‘

’’تم مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو؟‘‘

’’ تم جلدی سمجھ جاؤگے...پھر تمہارے باپ کا ایک دولت مند چچا اپنی ساری دولت تمہارے باپ کے نام کرکے مر گیا۔وہ روم میں تھا اس لیے تمہارے باپ کو وہاں معاملات کو نمٹانے کے لیے جانا پڑا۔تمہاری ماں بھی اس کے ساتھ گئی تھی اور تم بھی۔تمہارے باپ کا وہاں انتقال ہو گیا۔اس نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی۔ میرا خیال ہے کیوں؟‘‘

’’کوئی وصیت نہیں۔‘‘مونکس نے جلدی سے کہا۔

’’اچھا پھر توتم اور تمہاری ماں ساری جائیداد کے وارث ہوئے۔‘‘

’’بالکل صحیح، ہم وارث ہیں اور قانونی وارث ہیں۔‘‘

’’تمہارا باپ روم جانے سے پہلے۔‘‘مسٹر براؤن لو نے آگے کہا،’’مجھ سے ملنے آیا تھا۔‘‘

مونکس اچانک ہلدی کی طرح زرد ہو گیا۔’’میں اس بات کو نہیں جانتا۔‘‘اس نے کہا۔

’’اچھا وہ مجھ سے ملنے آیا اور اس نے مجھے ایگن اور اس کے پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں بتایا ۔ اس کا ارادہ ایگن کے ساتھ دوسرے ملک جانے کا تھا۔اور تم کو اور تمہاری ماں کو وہ ایک ہزار پاؤنڈ ہر سال بھیجتا رہتا۔‘‘مسٹر براؤن لو تھوڑی دیر رکے۔ پھر انہوں نے کہا:

’’میں نے اس کی معلومات کی ہے۔مجھے دو اہم باتیں ثبوت کے طور پر ملی ہیں۔ایگن ایک خیرات خانے میں ایک بچے کو پیدا کرکے مر گئی۔وہ لڑکا آلیور ٹوئسٹ ہے،تمہاری دوسری ماں کا بیٹا اور تمہیں بھی یہ بات معلوم ہے ایڈورڈلی فورڈ۔‘‘مونکس ابھی تک خاموش تھا۔

’’مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تمہار ے باپ نے وصیت کی تھی جو تمہاری ماں نے جلادی ۔تم جانتے ہو اس وصیت میں کیا تھا۔تم کو اورتمہاری ماں کو ایک ہزار پاؤنڈ ہر سال ملیں گے اور باقی تمام جائیداد ایگن اور ا س کے بچے کی ہے۔اس کے بعد جو اہم شرط ہے اس کو تم اچھی طرح جانتے ہو۔‘‘

’’میں جانتا ہوں؟‘‘مونکس نے پوچھا۔لیکن اس نے اس بات سے انکار نہیں کیا۔’’کیا اہم شرط ہے؟‘‘

’’تمہارا غریب باپ تمہاری مکاری کو جانتا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ ایگن کا بچہ تم سے بالکل مختلف ہو۔وہ اس کو ایک ایمان دار انسا ن بنانا چاہتا تھااس لیے اس نے یہ شرط رکھی۔اگر آلیور ایک مجرم بنے گا تواس کو اپنے باپ کی جائیداد میں سے کچھ نہیں ملے گا۔اس سبب سے تم نے ایڈورڈلی فورڈ!چھوٹے آلیور کو ایک مجرم بنانے،ایک چور بنانے کے لئے فیگن سے کہا۔کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟‘‘

’’ایک دل چسپ کہانی ہے۔‘‘مونکس نے کہا جو ہنسنے کی کوشش کر رہا تھا،’’ایک بہت دل چسپ کہانی!لیکن تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔مجھے اپنا کوئی ثبوت دکھاؤ۔‘‘

’’اس کا ثبوت ٹیمس دریا کی تہ میں ہے ایڈورڈلی فورڈ!تم نے وہاں اسے پھینک دیا ہے۔میں جانتا ہوں۔مسٹر بمبل اور ان کی بیوی نے مجھے ساری بات بتادی ہے۔وہ تمہارے گواہ ہیں جو تم نے مکاری کی ہے۔‘‘

مونکس کا سانس رُکنے لگالیکن اس نے ایک لفظ نہیں کہا۔

’’ایک گواہ اور تھی۔‘‘مسٹر براؤن لو نے سنجیدہ ہو کر کہا،’’وہ ایک سایہ جو تم نے دیوار پر دیکھا تھا۔اس نے چھپ کر ایک ایک لفظ تمہاری باتوں کا سنا تھاجو تم نے فیگن سے کی تھیں۔اس نے مجھے سب بتا دیا ہے۔اس کا قتل کر دیا گیا ہے۔۔۔قتل۔۔۔ایڈورڈلی فورڈ! تم اس کے قتل کا سبب ہو۔‘‘

’’میں نہیں تھا۔میں اس کے بارے میں بالکل نہیں جانتا۔‘‘مونکس نے خوف سے چیختے ہوئے کہا۔

’’تم اس کی موت کا سبب ہو۔‘‘مسٹر براؤن لو نے دوبارہ کہا،’’تم !اور پولیس اس کو جانتی ہے اور میں پولیس کو سب بتا دوں گا....لیکن اگر...‘‘

’’لیکن کیا؟‘‘مونکس نے خوف زدہ آواز میں پوچھا۔

’’جب تک تم اس کا اعتراف نہ کر لو جو میں نے پہلے سے لکھ لیاہے تمہارے لیے۔اور تم مجھ سے وعدہ کروگے کہ آلیور ٹوئسٹ کو اس کا جائز حق اس کے باپ کی جائیداد کا دوگے۔‘‘

’’میں دوں گا ۔ میں یہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

اس کے بعد مونکس یا ایڈورڈلی فورڈ نے اس معاہدے پر دستخط کردیے اور آلیور کو اس کے باپ کی جائید ادکا جائز حق دینے کا وعدہ کر لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منظر مسٹر براؤن لو کے گھر سے ایک مسمار گودام کی طرف بدلتا ہے جو ٹیمس دریا کے نزدیک تھا۔یہ وہی جگہ تھی جہاں مسٹر اور مسز بمبل اس طوفانی رات میں ملے تھے۔اب ٹوبی کریکیٹ اور فیگن کے گروہ کے دوسرے لوگ چھپے تھے۔وہ سب خاموش بیٹھے تھے کہ ہلکی آواز کھٹ کھٹانے کی آئی۔کریکیٹ نے جا کر دروازہ کھولا۔ چارلی بیٹس بغیر سانس لیے اندر آیا۔

’’فیگن اور ڈاجر پکڑے گئے ہیں۔‘‘اس نے انھیں بتایا۔وہ رُک گیا اور خوف زدہ ہو کر دیکھنے لگا۔اسی وقت بل شیک کا کتا بھاگا ہوا اندر آیا۔

’’بل دورنہیں ہوسکتا۔‘‘ٹوبی کریکیٹ نے ڈرتے ہوئے کہا۔ابھی اس نے مشکل سے اپنی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹ کھٹایا۔چارلی بیٹس دیکھنے گیا کہ کون ہے۔

’’بل ہے۔‘‘اس نے خوف زدہ ہو کر کہا۔

’’کیا تم اس کو اندر بلاؤ گے؟‘‘

’’ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔‘‘ٹوبی کریکیٹ نے کہا وہ دروازہ کھولنے کے لیے چلا گیا۔

اور جلدی ہی اس کے ساتھ واپس آگیا....یہ کیا بل شیک ہے یا اس کا بھوت؟اس کا چہرہ مردے کی طرح پیلا ہو رہا تھااس کی آنکھوں سے وحشت برس رہی تھی۔وہ بل شیک تھایا اس کا بھوت!ٖٖٖٖفیگن کے گروہ نے اس کی طرف خاموشی سے خوف زدہ ہوکر دیکھا۔

’’تم مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہو؟‘‘بل شیک کی آواز آئی کسی نے جواب نہیں دیا۔

’’کچھ کہو۔کیا تم نہیں بولو گے؟‘‘

کسی نے بھی کچھ نہیں کہا۔

بل شیک چارلی بیٹس کے پاس گیا۔’’چارلی کیا تم کچھ نہیں بتاؤ گے۔‘‘

’’میرے قریب مت آؤ۔‘‘لڑکے نے ڈرتے ہوئے کہا:

’’تم قاتل ہو!میں کبھی تم سے نینسی کے بارے میں کچھ نہ کہتااگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس کو مار ڈالوگے۔‘‘

’’قاتل!قاتل!دور ہو جاؤ!‘‘وہ اپنی پوری طاقت سے چلایا۔

’’پکڑو! پکڑو! یہ یہاں ہے !قاتل۔‘‘چارلی بیٹس نے اپنے کو اس کے اوپر پھینک دیا۔شیک نے آسانی سے اسے دوسری طرف اُلٹ دیا اوراپنے ہاتھ سے اس کا گلا دبانے لگا۔وہ اس کو مارنے کے لیے تیار ہو گیا۔کریکیٹ اور دوسرے لڑکو ں نے اس سے اس کو چھڑایا۔

’’سنو!‘‘ ٹوبی کریکیٹ چلایا۔

باہر نے لوگوں کے غصے سے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ایک سمندر کی طرح لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔’’وہ یہاں ہے۔‘‘چارلی بیٹس چیخا۔

بل شیک نے لڑکے کو پکڑ کر دوسرے کمرے میں پھینک دیااور دروازے میں تالا لگا دیا لیکن چارلی خوف زدہ آواز میں چیختا رہا:

’’قاتل یہاں ہے !دروازہ توڑ ڈالو!‘‘

باہر سے آوازیں اور تیزی سے آنے لگیں۔ہزاروں لوگوں کی آوازیں آنے لگیں۔

’’وہ یہاں ہے!‘‘

’’اسے جان سے ماردو۔‘‘

’’اس جگہ کو آگ لا دو۔‘‘

’’دروازہ توڑ دو۔‘‘

’’کیا سامنے کا دروازہ مضبوط ہے؟‘‘بل شیک نے ٹوبی کریکیٹ سے پوچھا۔اس نے گردن ہلادی۔

’’کیا تمام کھڑکیاں بند ہیں؟‘‘

کریکیٹ نے دوبارہ گردن ہلادی۔

’’پھر وہ مجھ کو نہیں پا سکیں گے۔میں ا بھی یہاں سے بھاگ جاؤں گا۔کوئی مجھے رسی دے دے۔‘‘

انہوں نے فرش کے اوپر ایک رسی کے ڈھیر کی طرف اشارہ کر دیا۔شیک نے ایک لمبی سی رسی اٹھائی اور چھت پر چلا گیا۔

’’وہ وہاں ہے۔‘‘بھیڑ نے نیچے سے غرا کر کہا۔

شیک نے دریا کی طرف دیکھا جو تیزی سے بہہ رہا تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ عمارت سے نیچے اتر کر دریا میں تیر کر دور چلا جائے گا لیکن دریا کا پانی وہاں سے بہت نیچے تھا۔

شیک نے ناامید ہو کر چاروں طرف دیکھا۔

چڑچڑاہٹ! بھیڑ نے دروازہ توڑ ڈالا۔اب وہ زینے سے اوپر آ رہے تھے اور جلدی ہی چھت پر پہنچنے والے تھے۔

شیک نے رسی کا ایک سرا چمنی میں باندھ دیا اور دوسرسرا اپنی کمر میں باندھا تاکہ وہ نیچے زمین پر کود جائے اور اندھیرے میں بھاگ جائے۔

شیک رسی کی گرہ اپنے سر کے اوپر کرکے لگا رہا تھا۔اس وقت اسے نینسی کی آنکھیں دکھائی دیں۔اس نے ایک وحشت بھری چیخ ماری۔اس کی آنکھیں !اس نے واپس قدم اٹھایا۔ایسا کرتے ہوئے وہ چھت سے گر گیا۔وہ پینتیس فیٹ نیچے گر پڑا جیسے ہی وہ گرا رسی کا پھندا اس کی گردن میں پڑ گیا اور اس طرح وہ خود ہی پھانسی چڑھ گیا۔

اس کا وفادار کتا چھت سے اس کے پیچھے بھاگا۔جب شیک گرا توکتے نے بھی اپنے مالک کے ساتھ چھلانگ لگا دی۔اس طرح وہ زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔اس کے جسم کی ہڈی ہڈی ٹوٹ گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی اپنے آئندانجام کو پہنچتی ہے۔

مسٹر براؤن لو نے آلیور کو گود لے لیا۔وہ مسز مے لی کے گھر کے قریب جا کر رہنے لگے۔اس طرح آلیور اپنے تمام دوستوں کے قریب ہو گیا۔ان کی وفادار ملازمہ مسز بیڈوین بھی ان کے پاس رہنے لگی۔

گلس اور برٹلس اسی طرح وفاداری سے مسز مے لی کی خدمت کرتے رہے ۔

مسٹر گرم وگ اور ڈاکٹر لوس برن آپس میں گہرے دوست بن گئے۔وہ سب مسٹر براؤن لو کی صحبت میں کئی کئی گھنٹے گزارتے۔ مونکس یا ایڈورڈلی فورڈ انگلینڈ چھوڑ کر امریکہ چلا گیااور اپنے ساتھ بہت سی دولت لے گیا۔لیکن جلد ہی اس کی ساری دولت ختم ہو گئی۔ایک بار پھر وہ مجرمانہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اسے جیل ہو گئی اور وہیں وہ مر گیا۔اس طرح فیگن کے گروہ میں،فیگن کو پھانسی ہو گئی اور چارلی بیٹس کے علاوہ تمام لوگ جیل چلے گئے۔چارلی بیٹس نے مجرمانہ زندگی ترک کر دی اور ایک کسان کا نوکر بن گیا اور اس طرح زندگی میں پہلی دفعہ اسے اطمینان اور آرام نصیب ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مزید اس صنف میں: « سائنس داں کا اغوا