ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںسبق آموز کہانیاںنئی جیکٹ

نئی جیکٹ

کہانی:He was afraid

تحریر: Enid blyton

ترجمہ: گل رعنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلن کو اپنی سائیکل اور جیکٹ کو کھونے سے زیادہ کسی اور بات کی فکر تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلن اپنی نئی جیکٹ پا کر بے حد خوش تھا کیوں کہ اس کی پرانی جیکٹ کا رنگ بہت خراب ہوگیا تھا اور وہ اسے چھوٹی بھی ہوگئی تھی۔ ’’تم اپنی نئی جیکٹ میں بہت اچھے لگ رہے ہو۔‘‘اس کی امی نے کہا۔ ’’مگر یاد رکھنا، یہ نئی جیکٹ صرف اسکول پہن کر جانے کے لیے ہے یا دعوتوں میں اور بس! جب تم کھیلنے باہر جاؤ تو اسے ہر گز پہن کر نہ جانا ورنہ میلی ہوجائے گی یا پھٹ جائے گی۔‘‘

’’جی امی! میں وعدہ کرتا ہوں، ایسا ہی کروں گا۔‘‘ ایلن نے کہا۔

اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ اپنی نئی جیکٹ کو بہت حفاظت سے رکھتا تھا اور اسکول سے واپسی پر وہ ہمیشہ جیکٹ جھاڑ کر الماری میں لٹکادیتا تھا۔ اس کی امی اس بات سے بہت خوش تھیں۔

’’تم نہایت ذمہ دار ہوگئے ہو۔ یہ جیکٹ تمھارے ابو نے ایک مہینے پہلے دلائی تھی اور آج بھی ویسی ہی نئی ہے۔ ڈیڈی بھی اس بات سے بہت خوش ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر تمھیں اپنی چیزوں کی حفاظت کرنی آگئی ہے تو وہ اگلی سالگرہ پر تمھیں سائیکل دلادیں گے۔‘‘

’’اوہ سائیکل! کتنا مزہ آئے گا۔‘‘ ایلن امی کی بات سن کر اچھل پڑا۔

ہفتے کی صبح ایلن کے دوست پیٹر نے اسے اپنے گھر آکر کھیلنے کی دعوت دی۔ ایلن نے کپڑے اور جوتے تبدیل کرنے کے بعد جب جیکٹ نکالنے کے لیے اپنی الماری کھولی تو پرانی جیکٹ نکالتے، نکالتے ٹھٹک کر رک گیا۔ ’’نہیں! یہ پرانی اور بدرنگی جیکٹ پہن کر میں اب کسی کے گھر نہیں جاسکتا۔ پیٹر کی امی کیا خیال کریں گی۔‘‘ اس نے سوچا اور پھر ہاتھ بڑھا کر نئی جیکٹ نکال لی۔ اس کی امی مارکیٹ گئی ہوئی تھیں اور وہاں سے اُنھیں نانی کے ہاں جانا تھا۔ ان کے گھر آنے سے پہلے، پہلے وہ پیٹر کے گھر سے واپس آجائے گا اور امی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ وہ کون سی جیکٹ پہن کر گیا تھا۔

وہ پیدل ہی اچھلتا، کودتا پیٹر کے گھر روانہ ہوگیا۔ پیٹر کی امی گھر پر موجود نہیں تھیں۔ اس لیے اُنھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ان کے بیٹے کا دوست کیسی جیکٹ پہن کر آیا ہے۔ 

’’باہر تو بارش کی وجہ سے بہت کیچڑ ہورہی ہے۔ چلو اندر ہی کھیلتے ہیں۔‘‘ پیٹر نے کہا۔ 

’’مجھے بارہ بجے واپس جانا ہے۔ یاد دلادینا۔‘‘ ایلن نے کہا۔ 

’’ہاں بالکل! لیکن واپسی میں فارم ہاؤس سے ہوتے ہوئے جانا۔ وہاں بہت پیارے پیارے گاے کے بچے ہیں۔ انھیں دیکھنا نہ بھولنا۔‘‘ پیٹر بولا۔

لہٰذا جب ایلن گھر کی جانب روانہ ہوا تو راستے میں فارم ہاؤس کے پاس رُک گیا۔ اسے فوراً ہی ننھے منے بچھڑے نظر آگئے۔ ایلن ان کو قریب سے دیکھنے کے لیے جنگلا پھلانگ کر اندر کود گیا لیکن اندر داخل ہوتے ہی کوئی خوف ناک انداز میں اس پر حملہ آور ہوا۔ یہ گاے تھی جس کو اپنے بچوں کے پاس کسی کا آنا پسند نہیں تھا۔ ایلن بدحواسی میں پلٹ کر گیٹ کی طرف بھاگا لیکن گاے نے اسے ٹکر مار کر کیچڑ میں دھکیل دیا۔ دو بچھڑے خوشی، خوشی اس کے اوپر سے دوڑتے ہوئے گزر گئے۔ ایلن جیسے ہی اُٹھ کر کھڑا ہوا، گاے نے اسے پھر نیچے گرادیا۔ ایلن نے روتے ہوئے کہا۔ ’’دور ہٹو! میں تمھارے بچوں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتا تھا۔ میں تو صرف اُنھیں دیکھ رہا تھا۔‘‘

اس کے دوسری دفعہ کھڑے ہوتے ہی گاے پھر اس کی طرف دوڑی مگر اس بار ایلن گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ گیٹ پھلانگتے ہوئے اس کی جیکٹ ایک کیل میں پھنس گئی، کپڑا پھٹنے کی آواز آئی اور جب اس نے اپنی جیکٹ کی طرف دیکھا تو وہ پھٹ چکی تھی۔ ایلن اپنے گھر کی طرف دوڑ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے دوڑتے دوڑتے ایک بار پھر کیچڑ میں لتھڑی ہوئی جیکٹ کی جانب دیکھا۔ بڑا سا سوراخ سامنے ہی نظر آرہا تھا۔

ایلن نے دوڑنا بند کردیا۔ وہ خوف زدہ ہوگیا تھا۔ اس کی امی نئی جیکٹ کا یہ حال دیکھ کر کیا کہیں گی؟ وہ اسے پہلے ہی بتاچکی ہیں کہ باہر کھیلنے کے لیے نئی جیکٹ استعمال نہیں کی جائے گی۔ وہ یقیناًبہت غصہ کریں گی اور ابو سے بھی میری شکایت کریں گی اور پھر ابو اسے سالگرہ پر سائیکل بھی نہیں دلائیں گے۔

ایلن نے اپنا دل ڈوبتے ہوئے محسوس کیا۔ اس کو ڈانٹ کھانے سے نفرت تھی۔ اسے سزا ملنے سے ڈر لگتا تھا۔ وہ اپنی امی کو بتانے سے ڈر رہا تھا۔ ’’مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ اس نے سوچا۔ وہ چپکے، چپکے گھر کے پچھلے دروازے سے داخل ہوا۔ اس کی امی ابھی تک نانی کے گھر سے نہیں لوٹی تھیں۔ ملازمہ کچن میں کھانا پکارہی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایلن کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ دبے پاؤں چلتا وہ اپنے کمرے میں گیا۔ الماری کھول کر اپنی پرانی جیکٹ نکالی اور نئی اُتار کر پرانی پہن لی۔ پھر وہ خاموشی سے نئی جیکٹ لے کر باغ میں گیا۔ جیکٹ کو توڑ مروڑ کر چھوٹا سا کیا اور گھما کر دیوار سے باہر پھینک دیا، جہاں وہ کھیتوں کے کنارے اُگی جھاڑیوں میں جاگری۔ وہ ایسا کرتے ہوئے خوف زدہ ضرور تھا لیکن خوش بھی تھا۔ اب کسی کو پتا نہیں چلے گا کہ اس کی نئی جیکٹ خراب ہوچکی ہے۔ اس کو کوئی ڈانٹ نہیں سکے گا اور اسے سالگرہ پر نئی سائیکل بھی مل جائے گی۔

اس نے ایک بہت غلط حرکت کی تھی۔ بجاے اپنی غلطی کو ماننے کے، وہ اس پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک اور غلط حرکت کررہا تھا اور وہ یہ بات جانتا تھا۔ 

’’مجھے کوئی پرواہ نہیں۔‘‘ وہ بار بار خود سے کہہ رہا تھا۔ ’’گاے کو مجھے ٹکر نہیں مارنی چاہیے تھی، یہ سب گاے کا قصور ہے۔‘‘ حالاں کہ ایسا نہیں تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اسے باہر کھیلنے کے لیے پرانی جیکٹ پہن کر جانا چاہیے تھا۔ اب دوسرا مشکل سوال جو اس کے سامنے تھا وہ یہ کہ اپنی نئی جیکٹ گم ہونے کے بارے میں وہ کیا وضاحت دے گا؟ ایلن بنیادی طور پر کوئی بُرا یا جھوٹا بچہ نہیں تھا۔ وہ کوئی جھوٹی کہانی نہیں گھڑنا چاہتا تھا لیکن پھر وہ کیا کرے؟ اُف خدا! ایک غلط حرکت انسان کو کیسی مشکل میں پھنسا دیتی ہے۔

مگر معاملات حیرت انگیز طور پر اس کے لیے آسان ہوتے چلے گئے۔ ابھی وہ باغ سے اندر جاہی رہا تھا کہ اس کی امی گھر میں داخل ہوئیں۔ ’’ایلن! تم بھی ابھی گھر واپس آئے ہو۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ تم اپنی پرانی جیکٹ پہن کر گھر سے باہر کھیلنے گئے تھے۔ اگرچہ میں آج صبح تمھیں یاد دلانا بھول گئی تھی۔‘‘ اس کی امی نے کہا۔ ایلن خاموش رہا۔ اس کی امی اس کے ساتھ اوپر آئیں۔ وہ باتیں کرتی جارہی تھیں۔ ایلن نے اپنے جوتے اور جیکٹ اُتاری۔ امی نے اس کی الماری کھولی تاکہ وہ اپنی جیکٹ لٹکاسکے اور اُنھوں نے فوراً ہی دیکھ لیا کہ الماری میں نئی جیکٹ موجود نہیں ہے۔ ’’ارے! تمھاری نئی جیکٹ کہاں ہے؟ وہ صبح تک تو الماری میں لٹکی ہوئی تھی۔‘‘ وہ بولیں۔اُنھوں نے آس پاس جائزہ لیا اور کہا۔’’ میں نے جیکٹ خود دیکھی تھی اور تم نے پوری صبح پیٹر کے گھر گزاری ہے۔ وہ جیکٹ الماری سے ضرور کسی نے اس وقت نکالی ہے جب تم اور میں گھر سے باہر تھے۔ اُف خدایا! یہ کس کی حرکت ہوسکتی ہے!‘‘ اس کی امی دوڑ کر سیڑھیوں کے پاس گئیں اور ملازمہ کو آواز دی۔

’’عینی! کیا آج صبح گھر میں کوئی آیا تھا؟‘‘ نہیں۔۔۔ کوئی بھی نہیں! بس کھڑکی صاف کرنے والا آیا تھا مگر وہ تو باہر والی کھڑکیاں صاف کرکے چلاگیا۔ اندر تو وہ بھی نہیں آیا۔‘‘ عینی نے کہا۔ 

’’کھڑکیاں صاف کرنے والا؟ ہوں! یقیناًوہ تمھارے کمرے کی کھڑکی کھول کر اندر گھسا ہوگا اور تمھاری الماری سے نئی جیکٹ نکال لی ہوگی کیوں کہ صبح تک تو وہ الماری میں موجود تھی اور اب غائب ہے جبکہ اس دوران اس کے سوا کوئی باہر کا آدمی یہاں نہیں آیا۔‘‘ اس کی امی کہہ رہی تھیں۔ ایلن یہ سب کچھ سن کر بے حد خوف زدہ ہوگیا تھا۔ اس کی امی نے اسے تھپ تھپایا۔’’ تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمھاری جیکٹ واپس لے کر رہوں گی۔ اگر آج اس نے جیکٹ چرائی ہے تو کل اور بھی قیمتی چیزیں چُراسکتا ہے۔‘‘

’’مگر امی!‘‘ ایلن نے بے چین ہو کر کچھ کہنا چاہا لیکن اس کی امی کمرے سے باہر جاچکی تھیں۔ اب وہ اپنے کمرے میں سامان کا جائزہ لے رہی تھیں کہ کہیں کوئی اور قیمتی چیز بھی غائب نہ ہو۔

اسی شام ایلن کے گھر کے باہر سے ایک مزدور گزر رہا تھا کہ اسے جھاڑیوں میں اَٹکا ہوا تڑا مڑا کپڑوں کا ڈھیر سا نظر آیا۔ اس نے قریب جا کر جائزہ لیا تو اسے جیکٹ نظر آگئی۔ ’’کتنی بُری بات ہے کہ لوگ اپنے گھروں کا کچرا اس طرح باہر پھینک دیتے ہیں۔‘‘ اس نے جیکٹ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’کسی کی پھٹی پرانی، میلی جیکٹ ہے لیکن شاید یہ میرے بیٹے کے کام آسکے۔‘‘ مزدور نے سوچا اور اسے اپنی بغل میں دبالیا۔

اس کی بیوی نے جیکٹ اچھی طرح دھو کر سکھائی اور پھر اس کی سلیقے سے مرمت کردی۔ پھر اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر جیکٹ پہنائی۔ جارج پر یہ جیکٹ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ’’دیکھو! میں نے یہ جیکٹ بالکل نئی کردی۔ اچھی بھلی تو جیکٹ ہے۔ پتا نہیں کس ناقدرے نے باہر پھینک دی تھی۔ اب میرا جارج روزانہ یہ جیکٹ پہن کر اسکول جائے گا۔‘‘

پیر کو جارج جب جیکٹ پہن کر اسکول روانہ ہوا تو اتفاق سے ایلن کی امی نے اسے دیکھ لیا۔ وہ گھر کا کچھ سامان خریدنے باہر نکلی تھیں۔ ان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ یہ کیا؟ ایک اجنبی بچہ ان کے بیٹے کی نئی جیکٹ پہن کر گھوم رہا تھا۔ اس کو یہ کہاں سے ملی؟ اُنھوں نے جارج کو روک لیا۔ ’’تمھیں یہ جیکٹ کہاں سے ملی؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔ جارج نے اُنھیں حیران ہو کر دیکھا پھر بولا۔ ’’یہ میرے ابو کو ملی تھی۔‘‘ ایلن کی امی کو اس بات پر ذرا بھی یقین نہیں آیا۔ 

’’کیا تمھارے ابو کھڑکیوں کی صفائی کرتے ہیں؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔

’’نہیں۔ وہ مزدوری کرتے ہیں۔ ہاں! میرے چچا کھڑکیوں کی صفائی کرتے ہیں۔‘‘ 

’’اوہ! اب میری سمجھ میں آیا کہ یہ ہوا کیا ہے؟‘‘ ایلن کی امی نے سوچا۔ ’’کھڑکی صاف کرنے والے نے ایلن کی جیکٹ چرا کر بھتیجے کو دے دی ہے۔‘‘ اُنھوں نے جارج سے دوبارہ سوال کیا جو اب تک کافی سہم چکا تھا۔ ’’تمھارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتے ہو؟‘‘ 

’’میرا نام جارج ہے اور میرا گھر کھیتوں کی دوسری طرف ہے۔‘‘ ایلن کی امی نے مزید کوئی سوال نہیں کیا بلکہ تیز، تیز قدم اٹھاتی قصبے کے پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں۔

’’یہ کھڑکی صاف کرنے والا قصبے میں بہت ایمان دار اور محنتی شخص سمجھا جاتا ہے، حیرت ہے کہ اس نے اچانک ہی ایک جیکٹ چرالی۔ ہم اس معاملے کی تحقیقات کریں گے محترمہ!‘‘ پولیس آفیسر نے کہا۔

ایلن آج اپنی پرانی جیکٹ پہن کر اسکول گیا تھا۔ سارا دن وہ بے حد فکر مند رہا خصوصاً اپنی امی کے اس خیال سے کہ جیکٹ کھڑکی صاف کرنے والے نے چرائی ہے۔ جبکہ وہ جانتا تھا کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ کاش اس نے جیکٹ گھر سے باہر نہ پھینکی ہوتی! شام کو اس کی امی نے ایک اور دھچکا دینے والی خبر سنائی۔ ’’ایلن! مجھے تمھاری جیکٹ مل گئی۔ آج صبح مجھے کھڑکی صاف کرنے والے کا بھتیجا اسے پہنے ہوئے نظر آگیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے ابو کو وہ جیکٹ کہیں ملی تھی۔ واہ بھئی! چوری کی جیکٹ پہن کہتا ہے کہ یہ کہیں سے ملی تھی!‘‘

اس کی امی اس کی حالت سے بے خبر کہے جارہی تھیں۔ ایلن کا رنگ سفید پڑگیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ ’’میں نے فوراً تھانے جا کر رپورٹ درج کرادی ہے اب تمھاری جیکٹ جلد ہی مل جائے گی۔‘‘

ایلن کے والد بھی ان کے ساتھ چاے کی میز پر موجود تھے۔ اُنھوں نے ایلن کے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھ لیا۔ 

’’تمھیں کیا ہوا ایلن؟‘‘ اُنھوں نے پوچھا لیکن اس سے قبل کہ ایلن کوئی جواب دے پاتا، دروازے کی گھنٹی بجی اور ملازمہ نے اطلاع دی کہ پولیس سارجنٹ ایلن کی والدہ سے بات کرنا چاہتا ہے۔ 

’’ان کو اندر ہی بلالو۔‘‘ ایلن کے والد نے کہا۔ چند لمحوں بعد ایک لمبا چوڑا بارعب سارجنٹ کمرے میں داخل ہوا۔ ایلن کے گھٹنے کانپنے لگے۔ 

’’شام بخیر!‘‘ سارجنٹ نے کہا۔ ’’اس جیکٹ کے بارے میں ہم نے جارج کے والد سے تفتیش کی ہے مگر وہ اپنے اسی بیان پر ڈٹا ہوا ہے کہ یہ جیکٹ اسے آپ کے گھر کے باہر اُگی جھاڑیوں سے ملی ہے جبکہ کھڑکی صاف کرنے والے کا کہنا ہے کہ وہ اس جیکٹ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ 

’’مگر یہ تو سوچیں کہ آخر وہ جیکٹ گھر سے باہر جھاڑیوں میں کیسے پہنچ گئی؟ کیا اس کے پَر نکل آئے تھے؟‘‘ ایلن کی والدہ نے طنزیہ انداز اختیار کیا۔ وہ ابھی کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھیں لیکن ایلن کے والد نے اُنھیں روک دیا۔

’’ایک منٹ رُکو! وہ جھاڑیوں میں بہت آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔ ایلن! تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ وہ ایلن کی طرف مڑے۔ ایلن بُری طرح کانپ رہا تھا۔

’’مجھے اُلٹی آرہی ہے۔ میری طبیعت خراب ہورہی ہے۔‘‘ وہ بمشکل بولا۔ 

’’خوب! طبیعت بعد میں خراب کرتے رہنا۔ پہلے میرے سوال کا جواب دو! تم سن رہے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ اس کے ابو نے سختی سے کہا۔ کمرے میں موت کا سناٹا طاری ہوگیا۔ پولیس سارجنٹ نوٹ بک ہاتھ میں تھامے انتظار کررہا تھا۔ ایلن کی امی نے اپنی سانس روک لی۔ اس کے والد آندھی سے زیادہ خطرناک لگ رہے تھے بالآخر ایلن نے کہنا شروع کیا۔ اس کی آواز بُری طرح لرز رہی تھی۔ 

’’جیکٹ میں نے خود جھاڑیوں میں پھینکی تھی، وہ بہت میلی ہوگئی تھی اور پھٹ بھی گئی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ امی مجھے ڈانٹیں گی اور جب آپ کو پتا چلے گا تو آپ مجھے سائیکل نہیں دلائیں گے۔‘‘ کمرے میں دوبارہ خاموشی چھاگئی۔ پھر ایلن کے والد سارجنٹ کی طرف مڑے۔ 

’’معاف کیجیے گا سارجنٹ صاحب! آپ کو زحمت ہوئی۔ جارج سے کہہ دیجیے گا کہ وہ جیکٹ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ کھڑکی صاف کرنے والے کو میری طرف سے یہ دس پاؤنڈ کا نوٹ دے دیجیے گا اور میری طرف سے اس سے معذرت کرلیجیے گا کہ ایک غلط فہمی کی بنا پر اسے ذہنی تکلیف اُٹھانی پڑی۔ باقی ایلن سے میں خود نمٹ لوں گا۔‘‘

ایلن سوچ رہا تھاکہ اس کے والد اسے کیا سزا دیں گے۔ اس کے و الد نے اسے سختی سے مگر اُداس نظروں سے دیکھا۔ ’’پریشان نہ ہو، میں تمھیں کوئی سزا نہیں دوں گا کیوں کہ تمھیں خود ہی اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔ دیکھو! تم نے اپنی نئی جیکٹ کھودی، تم نے اپنی سائیکل بھی کھودی کیوں کہ ابھی جو میں نے سارجنٹ کو پیسے دیے وہ میں نے اُنھی پیسوں سے نکالے تھے جو میں تمھاری سائیکل خریدنے کے لیے جمع کررہا تھا اور سب سے بڑھ کر تم نے وہ اعتماد اور فخر کھودیا جو مجھے اور تمھاری امی کو تم پر تھا۔ اگر تم اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ تم معمولی سی ڈانٹ ڈپٹ سے ڈر رہے تھے اور اب تم دیکھو تمھیں کیا سزا مل رہی ہے!‘‘ 

ایلن کی امی نے اس کے کندھے کے گرد اپنے بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو ایلن! میں تم پر اب بھی بھروسہ کرتی ہوں۔ تم کوئی جھوٹے اور بزدل لڑکے نہیں ہو، بس تم یہ نہیں سمجھ سکے کہ بعض دفعہ انسان خوف زدہ ہو کر وہ کام کرجاتا ہے جو اس کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔‘‘

’’جی امی!‘‘ ایلن نے سرجھکا کر کہا۔ ’’لیکن اب میں یہ بات اچھی طرح جان گیا ہوں۔ ایسا اب دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ لیکن پلیز آپ مجھ پر اعتبار کرنا نہ چھوڑیں۔ مجھے اپنی جیکٹ یا سائیکل کھونے کا اتنا غم نہیں ہوگا جتنا اس بات کا کہ میرے والدین مجھ پر بھروسہ کرنا چھوڑدیں۔‘‘

’’ہاں! یہ چیزوں کو دیکھنے کا صحیح طریقہ ہے۔‘‘ اس کے ابو نے کہا۔ ’’مجھے اب بھی تم پر فخر ہے۔ تم بہرحال ایک سمجھ دار بچے ہو۔‘‘

ایلن نے چھوٹی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ سے بچنے کے لیے کوئی بڑی غلطی کرنے کی غلطی پھر کبھی نہیں کی۔۔۔!

 

مزید اس صنف میں: « مغرور لڑکی