ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاں ٹارزن کی کہانیاںہمارے رسول پاکﷺحضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا گھرانا
خرابی
  • JUser: :_load: نہیں کرسکتا to load user with id: 43

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا گھرانا

 

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا گھرانا

طالب ہاشمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت ابراہیم کے دونوں بیٹوں کو بھی اللہ نے نبی بنایا۔حضرت اسحق علیہ السلام شام اور فلسطین کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مامور ہوئے اور حضرت اسمٰعیل کو کعبہ کی دیکھ بھال اور عرب کے لوگوں کی ہدایت پر مامور کیا گیا۔حضرت اسمٰعیل نے ایک سو تیس برس کی عمر میں وفات پائی تو نابت ان کے جا نشین بنے جو ان کے بارہ بیٹوں میں سب سے بڑے تھے۔نابت کی وفات کے بعدقبیلہ جرہم کے لوگوں نے زبردستی کعبہ اور مکہ پر قبضہ کر لیا۔اس کے نتیجے میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولا د کا بہت تھوڑا حصہ مکہ میں بسا رہ گیا۔باقی سب عرب کے مختلف حصوں میں بکھر گئے۔نابِت بن اسمٰعیل کی نسل سے عدنان نے بڑا نام پایاکیونکہ ان کی اولاد میں اللہ نے بڑی برکت دی اور عرب کے بہت سے قبیلے ان کی نسل سے ہوئے۔
قریش

۔۔۔۔۔
عدنان کی نسل سے دسویں پشت میں فہر بن مالک پیدا ہوئے۔ان کا لقب قریش تھا۔فہر کے زمانے میں یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا۔فہر نے اسکا مقابلہ کیا اور شکست دے کر گرفتار کر لیا۔اس فتح سے فہرسارے عرب میں مشہور ہوگئے۔حجار میں ’’قُرَیش‘‘وہیل مچھلی کو کہاجاتا تھا جوسمندر کا سب سے بڑا جانور ہے۔چونکہ فہر اور اس کی اولاد عرب کے سب قبیلوں سے طاقت ور تھے۔اس لیے ان کا لقب قریش پڑگیا۔
قُصَیّ بن کلاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہر یا قریش کی نسل سے چھٹی پشت میں قصی بن کلاب پیداہوئے۔جب وہ جوان ہوئے تو انہوں نے کعبہ اور مکہ پربنو خُزاعہ کو قابض پایا۔اس قبیلے نے تین چار سال پہلے قبیلہ جرہم سے یہ قبضہ حاصل کیا تھااور اب یہ لوگ بڑی خرابیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔قصی بڑے دانا، بہادر اور حوصلہ مند آدمی تھے۔انہوں نے مکہ کے اطراف میں آباد قریش کے تمام لوگوں کو جمع کیا اور بنو خُزاعہ کو مکہ سے نکال کر شہر پر قبضہ کر لیا۔پھر کعبے کی نگرانی بھی اپنے ہاتھ میں لے لی۔
قریش عرب کا سب سے معزز قبیلہ بن گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کعبہ کو نزدیک اور دور کے سارے عرب بہت مقدس سمجھتے تھے اور اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والے کو وہ سب سے بڑھ کر عزت کے قابل سمجھتے تھے۔کعبہ اور مکہ شہر پر قبضہ کرنے کے بعد قصی عرب کے سب سے معزز سردار بن گئے اور ان کا قبیلہ قریش عرب کا سب سے معزز قبیلہ بن گیا۔
مکہ ایک شہری ریاست بن گیا

...................................
قصی نے فہر کی ساری اولاد کوجو قریش کہلاتی تھی اور عرب کے مختلف حصوں میں آباد تھی مکہ میں جمع کر لیااور شہر کو ان کے درمیان بانٹ کر ایک ایک حصے میں ایک ایک خاندان کو آباد کر دیا۔یوں مکہ میں ایک شہری ریاست قائم ہو گئی اور قریش کے تمام خاندانوں نے قصی کو اپنا سردار مان لیا۔وہ قریش کی لڑکیوں اور لڑکوں کی شادیاں کرتے تھے، ان کے جھگڑے چکا تے تھے۔کسی دوسرے قبیلے کے خلاف لڑائی پیش آجائے تو اس کا انتظام کرتے تھے۔حج کا سارا انتظام بھی ان کے ہاتھ میں تھا۔وہ حاجیوں کی مہمان داری کرتے ،ان کو کھانا کھلاتے،پانی پلاتے اور خانۂ کعبہ ان کے لیے کھولتے اور بند کرتے تھے۔آ پس میں مشورے کے لئے انہوں نے قریش کے تمام سرداروں کی ایک قومی مجلس قائم کی جس کے اجلاس کے لئے ایک عمارت(دارالندوہ)تعمیر کی۔قصی جب بہت بوڑھے ہو گئے تو انہوں نے اپنے بڑے بیٹے عبدالدّ ارکو اپنا جانشین مقررکیا۔چنانچہ ان کی وفات کے بعدعبدالدار قریش کے سردار اور کعبہ کے نگران بن گئے۔
عبدِ مناف.........مکّہ کا چاند

.....................................
قصی کے دوسرے بیٹے اور عبد الدار کے چھوٹے بھائی کا اصل نام مُغیرہ اور مشہور نام عبدِ مناف تھا۔وہ اپنی لیاقت ،بہادری اور خوب صورتی کی وجہ سے سار ے عرب میں مشہور تھے اور لوگ ان کو ’’مکہ کا چاند‘‘ کہاکرتے تھے۔جب تک عبد الدار اور عبد مناف زندہ رہے دونوں بھائی ایک دوسرے کی عزت کرتے رہے۔لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو عبد مناف کے بڑے بیٹے عبد شمس نے عبد الدار کی اولاد کوسردارماننے سے انکار کر دیا۔قریش کے کچھ قبیلے عبدالدّ ارکی اولاد(پوتے)کے طرف دار بن گئے اور کچھ عبد شمس کے۔جب یہ جھگڑا بہت بڑھ گیاتو کچھ دانا لوگ بیچ میں پڑے اور انہوں نے مکہ کی ریاست کے عہدے ان لوگوں میں تقسیم کر دیے۔حاجیوں کو کھانا کھلانے(رفادہ)اور پانی پلانے(سقایہ)کے عہدے عبد شمس کو دیے گئے اور کعبہ کو کھولنے اور بند کرنے(حجابہ)جنگ کے موقع پر جھنڈااٹھانے(لِواء)اور قومی مجلس کے انتظام(ندوہ)کے عہدے عبدالدارکی اولاد کے پاس رہے۔
ہاشم

.....
اس انتظام کو تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ عبد شمس نے اپنے سارے فرائض اپنے بھائی ہاشم کے سپرد کر دیے۔ہاشم بڑے بہادر اوردریادل آدمی تھے۔ان کا اصل نام عمروتھا۔ہاشم کے لقب سے اس وقت مشہور ہوئے جب مکہ میں ایک دفعہ سخت قحط پڑااور انہوں نے شام سے غلہ لا کرروٹیاں پکوائیں پھر بہت سے اونٹ ذبح کرکے سالن تیار کیا اور روٹیوں کو چورہ کرکے اس سالن میں ڈال دیا ۔اس کے بعد سب لوگوں کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور یہ مالیدہ کھائیں۔ہَشم کے معنی توڑنے اور کچلنے کے ہیں۔روٹیوں کو توڑ کر سالن میں مالیدہ بنانے کی وجہ سے ان کو ہاشم کہا جانے لگا۔قحط ختم ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے یہ دستور جاری رکھا۔ہر سال حج کے موقع پر وہ حاجیوں کوعمدہ عمدہ کھانا کھلاتے اور ان کے لئے پانی کاخاص انتظام کرتے کیونکہ زم زم کوبنو جرہم بند کر گئے تھے اور اس وقت اس کا نشان تک نہ تھا۔عام زندگی میں بھی وہ بہت نیک اور رحم دل تھے۔غریبوں اور کمزوروں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔ان خوبیوں کی وجہ سے لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور وہ سارے عرب میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ہاشم نے قریش کی تجارت کو بڑی ترقی دی اور ان کی کوششوں کی وجہ سے مکہ عرب کی سب سے بڑی تجارتی منڈی بن گیا۔
ہاشم نے اپنی زندگی میں کئی شادیاں کیں۔ان کی ایک بی بی کا نام سلمیٰ تھاجو مکہ سے شمال کی طرف ۴۲۱ کلومیٹر دور ایک پرانے شہر یثرب کی رہنے والی تھیں۔ان کا تعلق قبیلہ خَزرَج کی ایک شاخ بنو نجار سے تھا اور وہ عمرو بن زید نجاری کی بیٹی تھیں۔ہاشم تجارت کے لئے شام جاتے ہوئے اکثر یثرب میں ٹھہرا کرتے تھے۔ایسے ہی ایک سفر میں انہوں نے سلمیٰ سے شادی کی اور کچھ دن یثرب میں ٹھہرنے کے بعد شام کی طرف روانہ ہوگئے۔جب غزہ پہنچے تو بیمار ہو گئے اور وہیں فوت ہو گئے۔ ان کی وفات کے بعد سلمیٰ کے بطن سے ان کے ایک فرزند پیدا ہوئے اور ان کا نام پہلے عامر اور پھرشیبہ رکھاگیا۔کیونکہ ان کے سر پر کچھ سفید بال تھے اور شیبہ کے معنی بوڑھے کے ہیں۔

عبدالمطلب

..............
مکہ میں ہاشم کی وفات کی خبر پہنچی تو ان کے چھوٹے بھائی مُطّلب ان کے جانشین ہوئے ۔اُدھر ہاشم کے فرزند جوانی کی عمر کے قریب پہنچنے تک یثرب میں اپنی ماں کے پاس پرورش پاتے رہے۔وہ بڑے ہی نیک اور خوبصورت جوان تھے اور اپنی خوبیوں کی وجہ سے ’’شَیبَۃُالحَمد‘‘کہلاتے تھے۔ایک دفعہ یثرب کے ایک شخص نے مُطَّلِب کے سامنے ان کے بھتیجے کی بہت تعریف کی۔یہ سن کر وہ بے تاب ہو گئے اور یثرب جاکر شیبہ کو اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھا کر مکّہ لے آئے۔قُریش کے لوگوں نے سمجھا کے یہ مُطّلِب کا غلام ہیں۔چنانچہ وہ شیبہ کو عبدالمُطَّلب (مُطَّلِب کا غلام)کہنے لگے۔مُطَّلِب نے ان کو بہت سمجھایا کہ یہ میرے بھائی ہاشم کا لڑکا شیبہ ہے۔لیکن عبدالمُطَّلِب کا نام کچھ ایسا مشہور کہ ان کااصل نا م لوگوں کو بھول ہی گیا۔کچھ عرصہ کے بعد مُطَّلِب اپنے کاروبار کے سلسلے میں یمن گئے اور وہیں فوت ہوگئے،اب عبدالمُطَّلِب ان کے جانشین ہوئے۔وہ قریش میں سب سے زیاداہ خوبصورت ،سب سے زیادہ تنومند،سب سے زیادہ دانا،سب سے زیادہ نرم مزاج اور سب سے زیادہ بہادر،سخی اور انصاف پسندتھے۔وہ ایک اللہ کو مانتے تھے اور ان سب برائیوں سے دور تھے جن میں قریش اور عرب کے دوسرے لوگ مبتلا تھے۔ان کی قوم ان سے بہت محبت کرتی تھی۔اپنی قوم میں ان کو عزت کا جو مقام حاصل ہوااس سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہواتھا۔وہ حاجیوں کی بہت خدمت کرتے تھے اور ان کو دل کھول کر کھلاتے پلاتے تھے۔اس طرح ان کی نیکی اور فیّاضی کی سارے عرب میں شہرت ہو گئی۔
زم زم پھر برآمد ہو گیا

.......................
کئی سو سال پہلے جب قبیلہ جُرہُم کو مکّہ سے نکالا گیا تو وہ جاتے ہوئے زم زم چشمے کوبند کرگئے تھے۔جناب عبدالمُطَّلِب کو یہ عزّت حاصل ہوئی کہ انھوں نے زم زم کا چشمہ برآمد کرلیا۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں زم زم کی جگہ بتائی۔اس وقت ان کا ایک ہی بیٹا حارث تھا۔اس کو ساتھ لے کر انھوں نے خواب میں بتائی گئی جگہ پر کھدائی شروع کردی یہاں تک کہ زم زم کا چشمہ برآمد ہوگیا۔اس سے ان کی عزت اور توقیر پہلے سے بھی بڑھ گئی۔
عجیب منت

................
جناب عبدالمُطَّلِب نے زم زم کی کھدائی کے وقت ایک عجیب منَّت مانی،وہ یہ کہ اللہ اگر مجھے دس بیٹے دے تو ان میں سے ایک کو اللہ کی راہ میں قربان کردوں گا۔جب اللہ نے ان کی یہ دعا پوری کردی تو ایک دن وہ سب بیٹوں کو اپنے ساتھ خانۂ کعبہ میں لے گئے تاکہ قرعہ ڈال کرمعلوم کیا جائے کہ کس بیٹے کو قربان کیاجائے۔
جناب عبداللہ

................
جب قرعہ ڈالاگیا تو وہ سترہ سالہ عبداللہ کے نام نکلاجو جناب عبدالمُطَّلِب کے سب سے خوبصورت پیارے بیٹے تھے۔عبدالمُطَّلِب اپنے ارادے کے پکّے تھے۔انھوں نے فوراًچھری ہاتھ میں لی اور جناب عبداللہ کو ذبح کرناچاہا۔اتنے میں قریش کے سب لوگ جمع ہو گئے اور جناب عبدالمُطَّلِب کا ہاتھ پکڑ کر اس کام سے روک دیا۔پھر سب نے مشورہ دیا کہ آپ عبداللہ پر اور دس اونٹوں پر قرعہ ڈالیں۔چنانچہ دوسر ی دفعہ قرعہ ڈالا گیا مگر اب بھی عبداللہ ہی کا نام آیا۔لوگوں نے کہا کہ اب بیس اونٹوں اور عبداللہ پر قرعہ ڈالیں لیکن اس مرتبہ بھی قرعہ میں عبداللہ ہی کا نام آیا۔لوگوں کے اصرار پر عبدالمُطَّلِب ہر مرتبہ دس اونٹ زیادہ کرکے قرعہ ڈالتے رہے مگر ہر بار قرعہ عبداللہ ہی کے نام کا نکلتارہا۔آخر سو اونٹوں پر پہنچ کر قرعہ عبداللہ کے بجائے اونٹوں کے نام نکلا۔اب عبدالمُطَّلِب بہت خوش ہوئے اور عبداللہ کے بجائے سو اونٹ ذبح کر دیے۔
جناب عبداللہ کی شادی

............................
جناب عبداللہ کی عمر پچیس برس کی ہوئی تو جناب عبدالمُطّلِب نے ان کی شادی قریش کی ایک شاخ بنوزُہرہ کے سردار وہب بن عبدِمناف کی بیٹی آمنہ سے کردی ۔وہ اپنی قوم کی سب سے اچھی لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی۔
جناب عبداللہ کی وفات

............................
شادی کے چند ماہ بعد جناب عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام گئے۔وہاں سے واپس آتے ہوئے یثرب پہنچے تو بیمار ہو گئے اور اپنی دادی سلمیٰ کے خاندان میں ٹھہر گئے۔وہیں ایک مہینہ بعد وفات پا گئے اوریثرب ہی میں ان کی قبر بنی۔
مکّہ پر ابرہہ کی چڑھائی

.........................
جناب عبدالمُطّلَب کو اپنے پیارے بیٹے کی وفات کی خبر ملی تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ابھی ان کا غم ہلکا نہیں ہوا تھا کہ یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے مکّہ چڑھائی کردی۔اس کا سبب یہ ہوا کہ ابرہہ نے کعبہ کے مقابلے میں یمن کے شہر صنعا میں ایک عالی شان گرجا بنوایا تھااور حکم جاری کیا تھا کہ لوگ اس گرجا کو کعبہ سمجھیں اور مکّہ جانے کے بجائے اس گرجا میں آیا کریں۔عربوں کو کعبہ سے بڑی محبت تھی ان کو ابرہہ کے حکم پر سخت غصّہ آیا۔ان میں سے کسی نے چھپ کر ابرہہ کے گرجے میں گندگی ڈال دی۔جب ابرہہ کو پتا چلا تو اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ مکّہ پر چڑھائی کردی تاکہ کعبہ کو گراکر اپنے گرجے کی ہتک کا بدلہ لے۔اُس فوج کے ساتھ چند خوفناک ہاتھی بھی تھے۔
ابرہہ کی فوج نے مکہّ کے باہر ڈیرہ ڈالا۔وہاں عبدالمُطّلِب کے کچھ اونٹ چر رہے تھے۔ابرہہ کے لشکریوں نے ان کو پکڑلیا۔عبدالمُطِّلِب کو خبر ہوئی تو ابرہہ کے پاس گئے اور اس سے کہا کے آپ کے آدمیوں نے میرے اونٹ پکڑ لئے ہیں،مہربانی کر کے وہ واپس دے دیں۔اُن کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ عبدالمُطَّلِب ان سے کعبہ کونہ چھیڑنے کی درخواست کریں گے۔اس نے کہا،اے قریش کے سردار !بڑی حیرت کی بات ہے کہ تم کو اپنے مقدّس مقام کعبہ کاتو کچھ خیال نہیں اور اپنے چند اونٹوں کی فکر ہے۔
عبدالمُطَّلِب اس کی بات پر ہنس پڑے اور کہا’’ان اونٹوں کا مالک میں ہوں اس لئے ان کو چھڑانے کے لئے آپکے پاس آیا ہوں ،اس گھر (کعبہ )کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘
ابرہہ نے طیش میں آکر کہا’’میں دیکھتاہوں کہ کعبہ کا مالک اس کو میرے ہاتھ سے کیسے بچاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تم اپنے اونٹ لے جاؤ۔‘‘اس سوال وجواب کے بعد عبدالمُطّلِب واپس آگئے۔
کھایا ہوابھوسا

...............
عبدالمُطَّلِب کے واپس آنے کے بعد ابرہہ نے فوج کو تیاری کا حکم دیا اور پھر مکّہ پر حملہ کے لئے آگے بڑھا۔ا س و قت ایک عجیب واقعہ ہوا ۔آسمان پر عجیب قسم کے پرندوں کے جھنڈ نمودار ہوئے جن کی چونچوں میں پتھر کے کنکرتھے۔انھوں نے یہ کنکر ابرہہ کے لشکر پر برسانے شروع کردیے۔جس پر بھی یہ کنکر پڑتے تھے۔اس کا جسم فوراً چیچک کے دانوں سے گل سڑجاتاتھا۔اس طرح ابرہہ،اس کی فوج اور ہاتھی سب کے سب بری طرح ہلاک ہوگئے اور ان کی لاشیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ہو گئیں۔اس کے بعد سیلاب آیا اور سب لاشوں کو سمندر میں بہالے گیا۔یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھرکوبچالیا۔
یہ واقعہ ۵۷۱ ؁عیسوی میں پیش آیا۔قرآن مجید کی سورۂ فیل میں ا سی کا ذکر ہواہے ۔ا س میں ابرہہ کے لشکر کو’’اصحاب الفیل‘‘کہا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس ہاتھی بھی تھے۔اسی نسبت سے عربوں میں یہ سال’’ عام الفیل‘‘یعنی’’ ہاتھیوں کا سال ‘‘کے نام سے مشہور ہو گیاوہ اسی سال سے تاریخوں کا حساب کرنے لگے۔
برائیوں کااندھیرا

....................
چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جس میں ابرہہ نے کعبہ کو گرانے کا اردہ کیا ،برائیوں کے اندھیرے کا زمانہ تھا۔دنیا کے کسی ملک میں بھی اسلام باقی نہ رہاتھا۔اگرچہ پہلے پیغمبر وں کی تعلیم کا تھوڑا بہت اثر کچھ نیک لوگوں کے اندر موجود تھا لیکن ایک خدا کی خاص فرمانبرداری جس میں کسی دوسرے کی فرمانبرداری شامل نہ ہو ساری دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی تھی۔اسی وجہ سے لوگ طر ح طرح کی بری عادتوں میں مبتلا ہوگئے تھے اور ان کے چال چلن بگڑ گئے تھے۔پہلے پیغمبروں پر خدا کی طرف سے جو کتابیں اتری تھیں،ان میں سے کتنی کتابوں کا تو نام ونشان باقی نہ رہا تھااور جو کتابیں باقی تھیں وہ بھی اصلی حالت میں نہ تھیں ۔کیونکہ ان کے ماننے کا دعویٰ کرنے والوں نے اپنی پسند کے مطابق ان میں تبدیلیاں کرد ی تھیں ۔
بڑے بڑے ملکوں میں لوگوں کی حالت یہ تھی کو ایران میں آگ کی پوجا کی جاتی تھی۔ہندوستان کے لوگ ہوا،پانی،آگ سورج اور دیوی دیوتاؤں کو پوجتے تھے۔اپنے دیوی دیوتاؤں کے انھوں نے کروڑوں بُت بنارکھے تھے جن سے مرادیں مانگتے تھے۔ذات پات کی تفریق کازور تھا۔شراب پینے اور جوا کھیلنے کا عام رواج تھا۔چین اور کئی دوسرے ملکوں میں گوتم بدھ کے بت بنا بنا کر پوجے جاتے تھے۔ان ملکوں کے لوگوں نے اور بھی بہت سے بت بنا رکھے تھے۔کسی سے اولاد مانگتے تھے کسی سے دولت اور کسی سے بارش۔ان میں جادو ٹونے اور بہت سی دوسری بری رسموں رواج بھی تھا۔فلسطین ،عَرَب اور کچھ ملکوں میں یہودی بھی موجود تھے۔وہ اگرچہ ایک خدا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا ان سے پہلے آنے والے پیغمبروں کو مانتے تھے لیکن انھوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں ردوبدل کرڈالاتھا اور ان کے اخلاق میں سخت بگاڑ ہو گیا تھا۔دولت جمع کرنے کا لالچ ان میں حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا اوراس کام کے لئے جھوٹ ،دغابازی اور فریب ہر چیز کوجائز سمجھتے تھے،سود کھاتے تھے اور فیصلہ کرتے وقت انصاف سے کام نہیں لیتے تھے۔امیر اور طاقتور لوگوں سے رعایت کرتے اور غریب اور کمزور لوگوں پر سختی۔
یورپ کے کئی ملکوں کے لوگ بالکل اجڈاور وحشی تھے۔ان میں سے بعض کاکوئی دین مذہب نہیں تھا اور بعض بُتوں کی پوجا کرتے تھے۔
مصر ،روم،شام ،یمن اور کئی دوسرے ملکوں میں عیسائیت کا زورتھا لیکن عیسائیوں نے بھی اپنی آسمانی کتاب’’انجیل‘‘میں ردوبدل کرڈالاتھا۔وہ ایک کے بجائے تین خدا مانتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک خدا کا بیٹا کہتے تھے۔بہت سے عیسائی حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بت اور تصویریں بنا کر ان کو پوجتے تھے۔انھوں نے کئی حرام چیزوں کو حلال بنا لیا تھا اور بے شمار برائیاں ان میں جڑ پکڑ گئی تھیں۔
عرب کے لوگوں کی حالت اس زمانے میں عجیب تھی۔گندمی رنگ،اونچی پیشانی،مضبوط جسم،سیاہ آنکھوں اور تیز نظروالے یہ لوگ بڑے بہادر،مہمان نواز،آزادی پسند،دریادل اور بات کے پکے تھے۔ان کا حافظہ بہت مضبوط تھا اور وہ شعر وشاعری کے بہت قدردان تھے۔اپنی زبان عربی پر ان کو اسقدر فخر تھا کہ دنیا کے دووسرے ملکوں کے لوگوں کو وہ گونگا کہتے تھے لیکن ان خوبیوں کے ساتھ ان میں دنیا بھر کے ملکوں اور قوموں کی برائیاں بھی جمع ہو گئی تھیں ۔اس وقت عرب کی آبادی چند لاکھ سے زیادہ نہ تھی ۔اس کا زیادہ حصہ صحراؤں میں خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتا تھا۔وہ اونٹوں ،گھوڑوں اور بھیڑ بکریوں کے گلے لئے چارے کی تلاش میں پھرتے رہتے۔جہاں کوئی چشمہ، کھجور کے کچھ پیڑاور کچھ سبزہ نظر آیا،وہیں ڈیرے ڈال دیے۔ان لوگوں کو بَدّو،بدوی یا اعرابی کہا جاتا تھا۔جو لوگ شہروں اور قصبوں میں آباد تھے وہ حضری کہلاتے تھے۔شہروں اور قصبوں میں مکہ ،طائف،یثرب اور خیبر بہت مشہور تھے۔شہری اور بدوی سارے ہی عرب طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا تھے۔کوئی مرکزی حکومت موجود نہیں تھی جو امن و امان قائم رکھتی۔اس لئے مختلف قبیلوں میں آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ۔ان کی وجہ معمولی ہوتی تھی۔ایک نے دوسرے کے چشمے سے پانی لے لیا،ایک کا جانور دوسرے کی چراگاہ میں چلا گیا ،ایک قبیلے کے شاعر نے کسی دوسرے قبیلے کے خلاف کوئی شعر کہہ دیابس اسی بات پر لڑائی چھڑ جاتی جو کئی کئی سال تک جاری رہتی اور ہزار وں آدمی مارے جاتے۔بعض لڑائیاں تیس تیس چالیس چالیس برس تک چلتی رہتیں ۔یہ لوگ کھلے بندوں شراب پیتے ،جوا کھیلتے،بے حیائی کے کام کرتے ،سود کھاتے اور راہ چلتے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔بعض ظالم لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے اور بعض ان کو کسی اندھے کنویں میں پھینک کر یا کسی پہاڑی کی چوٹی سے دھکا دے کر مار ڈالتے تھے۔
ان کے مذہب کا بھی عجب حال تھا۔زیادہ لوگ بتوں کو پوجتے تھے۔یہ بت پتھر کے بھی ہوتے اور لکڑی کے بھی۔ہر شخص کے پاس ایک چھوٹا بت بھی ہوتا تھا اور ہر قبیلے کا اپنا اپنا بڑا بت بھی تھا۔بت پرستی کا اتنا شوق تھا کہ راستے میں کوئی خوبصورت پتھر مل جاتا تو اسی کو بت بنا لیتے۔کچھ لوگ بتوں کے علاوہ چاند،سورج ،ستاروں ،درختوں غاروں اور پہاڑی چٹانوں کو بھی پوجتے تھے۔ان میں اللہ کا تصو ر موجود تھا لیکن وہ کہتے تھے کہ اللہ تک پہنچنے کے لئے کسی دیوی دیوتااور بتوں کا وسیلہ ضروری ہے۔فرشتوں اور دیویوں کو وہ اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ان کے دیوی دیوتاؤں میں عزّٰی،لات،منات بہت مشہور تھے۔انھوں نے مختلف شکلوں میں ان کے بت بنا رکھے تھے ان کی پوجا کرتے تھے۔ان سے مرادیں مانگتے اور ان پر چڑھاوا چڑھاتے تھے۔ان کو خوش کرنے کے لئے جانوروں کی قربانی کرتے تھے۔وہ بھوت پریت خبیث روحوں ۔جنوں ،نجومیوں اور منتر پڑھنے والوں کو بھی مانتے تھے۔انھوں نے اللہ کے گھر کعبہ میں بھی تین سو ساٹھ بت ر کھ دیے تھے اور اس کو دنیا کا سب سے بڑا بت خانہ بنا ڈالا تھا۔بے شرمی اور بے حیائی کا یہ حال تھا کہ مرد اور عورتیں ننگے ہوکر کعبہ کا طواف کرتے(اس کے گرد پھیرے لگاتے) قریش کی معزز قوم بھی جو کعبے کی نگران اور خادم تھی ۔ان برائیوں میں پوری طرح مبتلا ہو گئی تھی۔غرض ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا۔یکایک اس اندھیرے میں نور کی ایک چھوٹی کرن پھوٹی اور ہدایت کی امید کا چراغ روشن ہو گیا۔

.....