ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںوطن کہانیاںپاک پور کا باغ

پاک پور کا باغ

محمد الیا س نواز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر سے پوچھ لو محسن!

کہ ہم سویا نہیں کرتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریلوے کی تباہی ہی سبب تھی کہ فائق کو اتنا لمبا سفر بس میں کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ائیر کنڈیشنڈ بس میں داخل ہوتے ہی اسے کافی حد تک سکون ملاکیونکہ باہر تو سورج نے قیامت جو ڈھارکھی تھی۔’’اس سفر پر اچھی خاصی تحریر لکھی جا سکتی ہے‘‘اس خیال کے آتے ہی اس نے ہینڈ بیگ سے نوٹ پیڈ اور قلم نکالا اور خاص خاص باتیں پوائنٹس کی شکل میں لکھنے لگا۔’’قلم کار ہو؟‘‘ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ادھیڑ عمر انکل نے اس سے پوچھاتو اسکا جواب تھا’’اپنے آپ کو قلمکاروں میں تو کبھی شمارنہیں کیا مگر لکھنے لکھانے کا شوق ضرور ہے‘‘۔ پتاچلا کہ انکل بھی کافی عرصہ یہ شوق فرماتے رہے ہیں۔انکا دوسرا سوال تھا’’آجکل کیا لکھ رہے ہو؟‘‘تو اسکا جواب تھا’’انکل آجکل میں مختلف ممالک،شہروں اور علاقوں کے بارے میں لکھ رہا ہوں‘‘اور پھر باتوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

انکل بس میں اکیلے ہیں ، مجھے جانے دو!
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

’’بیٹا اگر تم اجازت د و تو میں تمہیں ایک علاقے کی تخیلاتی (خیالی)کہانی سناتا ہوں‘‘۔اسے بھلا اور کیا چاہئے تھا۔ہم سفر اور وہ بھی ہم ذوق۔سفر تو کٹے ہی کٹے، کہانی بھی ملے۔فوراًبولا’’ارے!بسم اللہ کیجئے‘‘ اور انکل بغیر بسم اللہ کئے ہی شروع ہوگئے:
’’ہجرت پور والے اپنا علاقہ چھوڑ کر مدد پور آرہے تھے ۔ انکے یہاں آنے کا مقصد اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانا تھا جو دونوں طرف کے بزرگوں نے مل کرکیا تھاکہ دونوں علاقوں کے ایک جیسی سوچ رکھنے والے باسی مل کر ایک الگ علاقہ آباد کریں اوراس میں باغ لگائیں۔جس کی نہ صرف تعمیر وہ اپنی مرضی سے کریں بلکہ اپنی مرضی سے اسے سنواریں اور اپنی مرضی سے ہی اس میں بسیرا کریں،اور یہ باغ نہ صرف انہیں ہر آندھی اور طوفان سے بچائے رکھے بلکہ خوشبو، خوبصورتی اورہریالی کی علامت بھی بنا رہے اور اس علاقے میں اس باغ کو مر کزی حیثیت حاصل ہو۔ جہاں سے علاقے کا نظام چلایا جا سکے۔ یہی خواہش لئے ہجرت پور والے اپنا علاقہ، اپنے گھر بار، جائیدادیں جاگیریں اور رشتے دار سب کچھ چھوڑ کر صرف تن کے کپڑوں میں اُٹھ کر اتنی بڑی قربانی دیتے ہوئے مدد پور آگئے تھے ، راستے میں ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا.....؟یہ ہر آدمی کی ایک الگ کہانی ہے، ہزاروں درد بھری داستانیں ہیں۔ ہجرت پور والوں کے آتے ہی مدد پور والوں نے ان کے ساتھ مل کر ایک بہترین علاقہ آباد کیااوراسکے درمیان میں ایک حسین اورعظیم باغ لگایا۔جس کے عین درمیان میں ایک بہت بڑا اور خوبصورت چاند اور تارے کی شکل کا چبوترہ تعمیر کیا گیا، پھر اس چبوترے پر ایک اور عالیشان تعمیرکھڑی کی گئی ۔ یہ تعمیر کوئی رہائشی تعمیر نہ تھی بلکہ چبوترے پرلفظ ’’پاکپور‘‘ یعنی اس علاقے اور باغ کا نام تعمیر کیا گیا تھا ۔جو نہ صرف ان کی قربانیوں کی یادگار تھا بلکہ انکے بزرگوں کے فیصلے کی تکمیل،انکے عزم و اتحاد کی مثال اور شان و شوکت اور عظمت کی نشانی بن گیا۔جب سورج مشرق کی طرف سے سر اٹھاتاتو چبوترے پر کھڑی انکی عظمت کی نشانی یعنی ’’پاکپور‘‘ انہیں مغرب کی طرف سایہ دیتا اور جب سورج سایوں کا پیچھا کرتا ہوامغرب کی طرف آجاتا تو یہ تعمیر انہیں مشرق کی طرف چھاؤں فراہم کرتی اور جب سورج عین درمیان میں سر جلانے آجاتا تو باغ کا ایک ایک درخت نعمت خدا وندی بن جاتا ۔آندھی طوفان تو کیا مبارک مہینے میں لگائے گئے اس باغ نے اپنے باسیوں کو کبھی گرم لُو تک نہ لگنے دی تھی‘‘۔انکل ذرا دیر رکے اور پھر بولے ’’یاد رکھو! بیٹا کہ کسی بھی چیز کو بنانا یا تعمیر کرنا ایک الگ چیز ہے اور اسکو چلانا یا اسکا انتظام چلانا ایک الگ بات ہے۔مثال سے بات ذرا جلدی اور آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے،اسی لئے میں تمہیں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں جیسے گاڑی بنانا اور بات ،اور اسکو چلانا اور بات ہے۔ کسی ادارے کی تعمیر ایک کام ہے اور تعمیر کے بعد اسکا انتظام سنبھالنا ایک الگ کام۔اسی طرح جب پاک پور والوں نے باغ تعمیر کر لیاتو انہوں نے سوچا کہ اس باغ کا انتظام ایسے لوگوں کے سپرد کیا جائے جنکا کام صرف اور صرف اس باغ کی دیکھ بھال ،تعمیروترقی اور خدمت ہو۔اور ان لوگوں کے ذمے دوسرا کوئی کام نہ ہوتاکہ انکی توجہ صرف پاک پور پر رہے۔اس کیلئے انہوں نے یہ حکمت عملی بنائی کہ اس باغ کا انتظام ٹھیکے پر دے دیا جائے۔چنانچہ طے یہ پایاکہ ٹھیکیدار اپنا پورا وقت اور پوری صلاحیتباغ اورباسیوں کے مفاد، بہتری، خوشحالی، تعمیروترقی اور خدمت پر صرف کریں گے اور باغ کے مفادکا ہر کام اور ہر فیصلہ باسیوں کے مشورے اور مرضی سے کریں گے،جبکہ باسی نہ صرف باغ کا سارا خرچ مہیاکریں گے بلکہ ٹھیکیداروں کی خدمات کے بدلے میں انکو،انکے خاندان کو،انکے جانوروں کو، انکے کتوں، بلوں،گھوڑوں اور گدھوں کو ہر قسم کی سہولیات مہیا کریں گے اور ہر قسم کا خرچ بھی برداشت کریں گے تاکہ ٹھیکیداروں کو کسی چیز کی فکر نہ ہو اور وہ اپنا کام ٹھیک طرح سے کر سکیں۔ یہاں تک تو پھر بھی بات ٹھیک تھی کہ باسی یہ سب کچھ اپنے بنائے ہوئےؓ ٓؓٓباغ یعنی پاک پور کیلئے کر رہے تھے جسکو انہوں نے کتنی ہی قربانیاں دے کر بنایا تھا۔ مگرباسیوں نے اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے جن لوگوں کو ٹھیکہ دیدیا تھا وہ اصل میں ٹھیکیدار نہیں تھے بلکہ ’’فنکار ‘‘تھے ۔وہ کیسے؟میں بتاتا ہوں۔یہ اتنے بڑے کاری گر تھے کہ ان کے ہا تھوں کی’’ صفائی ‘‘ساری دنیا میں مشہور تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی کہ یہ ان لوگوں کا خاندانی پیشہ تھا۔ میں نہایت ہی مختصر انداز میں صرف تین کا تعارف کراؤں گا۔’’فضول افضل‘‘کے دادا نے’’فنکاری‘‘ باپ کی جیب سے شروع کی۔ پھر اسکے والدنے اس فن کوگھر سے باہر نکالا اور آگے بڑھایااور اس طرح پوتے تک آتے آتے یہ خاندانی فن کمال تک پہنچا۔ ’’خیانت خان ‘‘کے بزرگوں کواس کام میں کمال تھا کہ جو بھی کوئی امانت ان کے حوالے کرتا تو وہ انصاف کے ساتھ دو حصے کرتے ۔آدھی اپنے لئے رکھ چھوڑتے تھے جبکہ باقی آدھی نہایت ایمانداری کے ساتھ واپس کردیتے۔’’ حریص اکبر‘‘کا خاندانی فن یہ تھا کہ وہ کسی بھی چیز کو بیچنے میں کمال رکھتے تھے ۔ گوشت پوست کے زندہ انسان کو اسی کے سامنے بیچ دیتے تھے مگر کمال ہے جو اسے بتا بھی چل جائے۔یہ ایک بہت بڑا فن تھا۔بعد میں انہوں نے اس میں نئے نئے انداز،نئے گر، نئے اصول اور نئے طریقے متعارف کرائے۔
بس یہی دن تھا جب یہاں کے باسی اپنے ہی باغ سے جو انہوں اپنے ہاتھوں سے لاکھوں قربانیاں دے کر بنایا تھا بے دخل ہو گئے۔پہلا کام توٹھیکیداروں نے یہ کیا کہ جو رقم باسی انہیں باغ پر خرچ کرنے کیلئے دیتے تھے ۔جس میں ان کے اخراجات کیلئے بھی ایک بہت بڑا حصہ ہوتا تھا، وہ رقم انہوں نے پوری کی پوری ’’پاک پور‘‘ کے بجائے ’’پال پوس‘‘پر ہی خرچ کرنا شروع کردی۔ جو کوئی آنا ٹکا بچ بھی جاتا تو وہ انکے ملازمین کہاں چھوڑتے تھے۔جیسے جیسے ’’خاندانی فن‘‘ ترقی کرتا گیا۔وسائل کم پڑتے گئے اور آخر وہ ہاتھوں کی میل ( پیسہ) فنکاروں کے ہاتھوں کے آگے نہ ٹھہر سکا۔مگر وہ فنکار ہی کیا جو دوسرا راستہ نہ جانتا ہو۔ یہاں کے باسی بہت ہی سیدھے،صابراور ایمان دار تھے ۔ یہ ٹھیکیدار ہیر پھیر کرکے انکو بتاتے تھے کہ آپ لوگوں کی دی ہوئی رقم اس باغ کی تعمیر میں خرچ ہو رہی ہے۔مگر اب یہ رقم کم پڑ رہی ہے لہٰذا اسے بڑھایا جائے۔ باسیوں کو تو یہ باغ جان سے عزیز تھا پیسہ کیا چیز تھی۔ اسی لئے وہ بھی رقم بڑھاتے گئے مگر ٹھیکیدار اور ان کے ملازمین بھی اپنے پیٹ بڑھاتے گئے۔ نتیجہ یہاں تک آ پہنچا کہ جب کسی حال میں بھی انکا پیٹ نہ بھرا تو انہوں نے پاک پور کے اخراجات پورے کرنے کیلئے یہاں کے باسیوں کو بیچنا شروع کر دیا۔ اوروہ اسی صبر کے ساتھ پاکپور کی خاطر ٹھیکیداروں کے ذریعے غیروں کے ہاتھ بکتے چلے گئے۔تم سوچوگے کہ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ ٹھیکیداروں نے باسیوں کے نام پر ان علاقوں سے ادھار لینا شروع کردیا ۔جن سے باسیوں کی دشمنی تھی مگر ان سے پوچھتا کون تھا۔ طے یہ ہواتھا کہ پاکپور کے کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کاہر فیصلہ باسی کریں گے مگر باسی ،باسی ہی رہے۔یہ ٹھیکیدار سارے فیصلے خود ہی کر لیا کرتے تھے اور ضرورت پڑتی تو باسیوں کو بتا دیا کرتے ورنہ بتاتے بھی نہیں تھے۔رقم باغ کی تعمیر و ترقی پر خرچ نہ ہونے کی وجہ سے یہ عالیشان گلستان کھنڈرہوتا جا رہا تھا۔ اسکی ہریالی قائم رکھنے کیلئے پانی تک تو میسر نہ تھا۔تین نسلیں گزر گئیں یہ تو گلستان کو روشنی تک نہیں دے سکے۔باغ اکثر اندھیروں میں ڈوبا رہتا ،وہ تو بھلاہو یہاں کے باسیوں کا جو اپنے لہو کے چراغ جلا کر جتنی ہو سکتی ہے روشنی کر لیتے ہیں۔بلکہ ان لوگوں نے باغ کو کیا دینا تھا،یہ توپاکپورکے درخت تک کاٹ کر بیچ گئے اورپھرانکے بچے تو سبحان اللہ۔ حفاظتی جنگلوں کا لوہاوہ قلفیوں کے بدلے دے آئے۔بارش کے پانی سے بچاؤ کیلئے رکھی گئی رقم کھا کرانتظار کرتے رہے کہ بارش سے باغ تباہ ہو تاکہ پڑوسی علا قوں سے باسیوں کیلئے آنے والی امدادی رقم کھا سکیں۔ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ہر پانچ سال بعد ٹھیکے نیلام ہوں گے مگر یہ خود ہی آپس میں مل ملا کر ٹھیکے نیلام کرتے اور ایک جاتا تو دوسرا آجاتا۔
اب ذرا اس محافظ دستے کی بات سن لیں جو ٹھیکیداروں نے باغ کی حفاظت پر مقرر کیا تھا۔ایک دن اچانک اس دستے کے ’’بڑے ‘‘نے ٹھیکیداروں کے محلات پر دھاوا بول دیا اور انکو نکال باہر کیا۔اور اعلان کیا کہ تم لوگوں نے اس باغ کاجو حال کیا ہے وہ ہم سے نہیں دیکھا جاتا۔اس باغ اور یہاں کے باسیوں کی خدمت ایک عبادت ہے جو تم سے نہیں ہو سکی ۔اسی لئے آج سے ہم خود ٹھیکیدار ہیں۔ہم یہ عبادت کرکے ’’اجرو ثواب‘‘ کی’’ صاف ستھری‘‘بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں۔پھر انہوں نے ایسی اچھی’’خدمت‘‘کی کہ باسیوں کونہ صرف یہ کہ ہر چیز اچھی لگنے لگی بلکہ ان کو وہ پرانے ٹھیکیدار بھی اچھے لگنے لگے۔انہوں نے محافظوں کے بڑے سے کہا کہ ’’آپ لوگوں نے جو خدمت ہماری کی ہے!اس سے ہمارادل بہت’’خوش‘‘ ہوااور اسکاصحیح ’’بدلہ‘‘تو اللہ ہی دے سکتا ہے۔ہم دعاء کرتے ہیں کہ خدا آپکو خیر کے ساتھ واپس لے جائے‘‘۔ مگر کہاں !...اب انہوں نے ٹھیکیداروں کے محلات کے سارے راستے دیکھ لئے تھے۔بس اسی لئے انہیں باسیوں کی خدمت کاجذبہ اور پاکپور کی فکر بار بار محلات میں لے آتی۔اور وہ ہر چوتھے دن آنازل ہوتے۔ باسی پھر بھی صبر کرکے بیٹھے رہے کہ کوئی بھی ایسی صورتحال نہ بیش آئے کہ پاک پور کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے۔
اب آجائیے پاکپورکے پڑوسیوں کی طرف تو ہجرت پور والے تو ویسے ہی ناراض تھے کیوں کہ وہاں کے بہت سارے باسی جو روٹھ کر یہاں آگئے تھے اور انہوں نے مدد پور والوں سے مل کر الگ علاقہ پاکپور بنا لیا تھا ۔ ہجرت پور والوں کو تو یہی جلن ہی لے کر بیٹھ گئی۔بس انکا ایک ہی کام ہے اسلحہ جمع کرنا۔مگر پھر وہ ڈرتے بھی کہ جب بھی کوئی جھگڑاپاکپورکیلئے ہوتا تو محافظوں کے ساتھ باسی بھی لڑنے آجاتے تھے۔ دو چار مرتبہ لڑائیاں بھی ہوئیں مگربراہ راست لڑائیوں میں وہ پاکپور کا کچھ نہ بگاڑ سکے البتہ سازشوں اور ٹھیکیداروں سے مل ملاپ میں انکا پلہ بھاری ہی رہا۔ اس لئے ان کے ساتھ تو تعلقات خراب ہی رہے۔ جن پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اچھے ہو سکتے تھے ان کے ساتھ دوستی پر ٹھیکیدار وں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ جن دشمنوں سے یہ قرضہ لیکر باسیوں کو بیچ کر کھاگئے تھے وہ جب چاہتے باسیوں میں سے جتنوں کو چاہتے اٹھا کر لے جاتے یا مار کر چلے جاتے مگر ٹھیکیداریہی کہتے کہ بس پیسہ دئیے جاؤ۔اور باسیوں کو کہتے کہ وہ ٹھیک ہی تو کر رہے ہیں اگر دوچار مار رہے ہیں تو بے شمار پیسہ بھی تو مل ہی رہا ہے ناں!.....انہوں نے دشمنوں کو راہ داریاں دی ہوئی تھیں جو پاک پور کو نقصان پہنچا رہے تھے۔حد تو یہ ہے ایک مرتبہ تو پاکپور کے ’’ک‘‘ کا شوشہ ہی توڑ دیا گیا مگر ٹھیکیدار خوش ہوئے کہ چلو اچھا ہوا پہلے بھی ہم اور ہماری نسلیں اس پر پل رہے تھے۔ اب اور اچھا ہو گیا کہ’’پال پور‘‘ہی رہ گیا۔ باسیوں کا تو یہ حال تھا کہ جب کوئی پاکپورکی طرف نشانہ لے کر نیزہ بھی پھینکتا تو باغ کی کسی اینٹ تک پہنچے سے پہلے آگے پیچھے دس دس باسی کھڑے ہوجاتے اور جان دیکرپاکپور کی حفاظت کرتے۔ کبھی علاقے کے اندرسے تو کبھی باہر سے ہزاروں بار اس باغ کو مکمل تباہ کرنے کی نہ صرف سازشیں کی گئیں بلکہ باقاعدہ کو ششیں بھی کی گئیں مگر سلام ہے باسیوں کو کہ انہوں نے اپنی ہمت اور صبر سے ہر کوشش ناکام بنا دی ۔پاکپور کو نقصان پہنچانے کی جتنی کوششیں ناکام ہوئی تھیں،سب باسیوں کے دم سے اور اگر کوئی کامیاب ہوئی تھی تو ٹھیکیداروں کی وجہ سے۔ابھی چند دن پہلے ایک نئی سازش تیار کی گئی جو ابھی تک چل رہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ باسیوں،قاضیوں اور محافظوں کو آپس میں کسی طریقے سے لڑا دیا جائے۔ اس کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی۔جدید دور کے لحاظ سے پروپیگنڈے کیلئے اور ان سب کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانے کیلئے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا گیا مگر ناکام....‘‘انکل سانس لینے کیلئے رکے توفائق جوکہ سیٹ پر تقریباًلیٹے ہوئے سن رہا تھا وہ اچانک سنبھل کر اُٹھ بیٹھتے ہوئے کہانی کے درمیان پہلی بار بولا ’’مگر انکل یہ سارا کام یعنی پروپیگنڈا اور غلط فہمیاں پھیلانے کاتو انٹر نیٹ اور موبائل پیغامات کے ذریعے بہت تیزی سے اور آسانی سے ہو سکتا تھا ۔ایسے پیغامات کو ایک حد تک پھیلاناپڑتا۔ اس کے بعد عوام خود بخود آگے بڑھاتے رہتے ہیں‘‘انکل نے بھی فوراً جذ باتی انداز میں دومرتبہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی ماتھے پرمارتے ہوئے کہا’’ ارے بھئی بہت کوشش کی مگر یہاں کے باسی ان پیغامات کو آگے ہی نہیں بڑھاتے‘‘ یہ الفاظ کہنے کے بعد اچانک انکل بو کھلا سے گئے جیسے ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر انہوں نے فائق کو دیکھا جو بغیر کسی تأثر کے سن رہا تھا۔فائق نے انکل سے کہا ’’انکل! یہاں ایک چھوٹی سی مداخلت کی اجازت چاہوں گا اورایک نہایت چھوٹی سی کہانی سنا کر دوبارہ ہم پاکپور کی طرف آئیں گے۔کیونکہ سفر ساتھ ہے تو سننا سنانا بھی ساتھ ہے‘‘۔انکل نے کہا’’ضرور،ضرور کیوں نہیں!‘‘اور فائق نے کہنا شروع کیا:
’’کہتے ہیں کہ کسی محلے میں کسی شخص کے گھر پررات کو چوری ہو گئی۔محلے کے لوگ صبح گھر کے باہر جمع تھے اور اس واقعے پر اپنے تجزئیے اور رائے پیش کر رہے تھے۔کسی نے کہا کہ ان کی دیوار چھوٹی ہے چور یہاں سے دیوار پھلانگا ہوگا۔کسی نے کہا کہ نہیں وہ یہاں سے نہیں وہاں سے آیاہوگا۔اسی جگہ پر چور بھی موجود تھا وہ جوش میں آگے بڑھا اور اپنا تجزیہ دینے لگا کہ ’’میرا خیال ہے کہ چور یہاں سے آیا ہوگا۔اس جگہ آکر اس نے اندازہ لگایا ہوگا کہ یہ لوگ پکی نیند سو چکے ہیں۔پھروہ اس جگہ پاؤں رکھ کر دیوار پر چڑھا ہوگااور پھر میں خاموشی سے اندر کود گیا‘‘۔آپ نے خود کہا کہ پاکپورکے باسی ہمیشہ صبر کرتے آئے ہیں مگر یاد رکھئے کہ اب نہ تو غفلت کرتے ہیں اور نہ ہی صبر!

سحر سے پوچھ لو محسن!

کہ ہم سویا نہیں کرتے

آپ کو کس نے کہا تھا کہ آپ پاکپور کی کہانی سنائیں؟
اوریہ کہتے ہی فائق نے انکل کو دبوچ لیا ۔بس میں شور مچا توسب کو پتا چلا کہ پاکپور پر ظلم کس نے کیا؟اسکا دشمن کون ہے؟اور ہجرت پور کے جاسوس کس طرح علاقے میں سفر کر رہے ہیں۔ چوروں کی طرح واردات کی کہانی سناتے سناتے انکل کا سر پیٹنا ناکامی کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی کہانیاں سنا گیا تھااور بہت سی تو ابھی ان کے ذمے باقی تھیں...