ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںجاسوسی کہانیاںسلور بلیز کا اغوأ

سلور بلیز کا اغوأ

آرتھر کونن ڈائل

ترجمہ: عمیر صفدر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرلاک ہومز ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ سلجھانے میں مصروف ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ واٹسن مجھے ہر حال میں آج ہی جانا پڑے گا‘‘ یہ الفاظ میرے دوست شرلاک ہومز کے تھے جو اس نے ایک صبح ادا کیے۔

’’ لیکن کہاں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ پائی لینڈ‘‘ ہومز نے جواب دیا۔

’’لیکن یہ میرے لیے کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ میں تو حیران ہوں کہ تم نے اب تک اس کیس پر کام نہیں شروع کیا۔ آخر یہ ریس کے مشہور گھوڑے سلور بلیز کی گمشدگی اور اس کے سدھانے والے کے قتل کا معاملہ ہے اور اب تم وہاں جائزہ لینے کے لیے جا رہے ہو۔ تو کیا میں بھی تمہارے ساتھ جا سکتا ہوں؟‘‘

’’ میرے دوست واٹسن ہاں تم ضرور چلو۔ ایسی بہت سی چیزیں سامنے آرہی ہیں جس سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ کوئی عام واقعہ نہیں۔ ‘‘

ایک گھنٹے بعد ہم ریل میں پائی لینڈ نامی قصبہ کی طرف سفر کررہے تھے۔ 

’’میرے خیال میں تمہیں سلور بلیز اور اس کے ٹرینر کے متعلق کافی کچھ پتہ چل چکا ہو گا؟‘‘ ہومز نے کہا۔

’’ میں نے اخبارات میں پڑھاہے تھوڑا بہت۔‘‘

’’بہرحال ہمیں لوگوں کی باتوں پر دھیان دینے سے زیادہ حقائق پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اس کے متعلق بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن حقائق ہی ہمیں اصل بات تک لے جائیں گے۔‘‘ ہومز نے مزید کہا۔ 

’’ مجھے منگل کے روز گھوڑے کے مالک کرنل روز اور پولیس کے سراغ رساں گریگری کے تار موصول ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے مدد کی اپیل کی تھی۔‘‘

’’ منگل کو!!‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’ لیکن آج تو جمعرات ہے تم کل ہی کیوں نہ چلے گئے؟‘‘

’’ ہاں مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اصل میں میرا یہ خیال تھا کہ سلور بلیز جیسا مشہور ریس جیتنے والا گھوڑا زیادہ دیر لاپتہ نہیں رہ سکتا اور مل جائے گا لیکن میں غلط تھا۔ خیر میں تمہیں اس کیس کی چند باتیں بتاتا چلوں۔ سلور بلیز اگلے ہفتے ہونے والی ویسکس کپ کے لیے ہونے والی اہم دوڑ کے لیے پسندیدہ گھوڑا تھا۔ اس پر بہت بڑی رقمیں شرط میں لگی ہوئی تھیں، لہٰذا اس کی گمشدگی سے کچھ لوگوں کا فائدہ بھی ہے ۔ کرنل روز نے سختی سے اس واقعہ کے ذمہ دار کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قتل ہونے والے گھوڑے کا ٹرینر جان نامی شخص کئی سال سے کرنل کے پاس کام کررہا ہے۔ اس کے پاس اصطبل میں مزید تین لڑکے کام کرتے تھے جب کہ وہ اور اس کی بیوی اصطبل کے پاس ہی رہتے ہیں۔ جان نے کبھی اپنے مالک سے بے ایمانی نہیں کی۔‘‘

’’ وہاں سے دو میل کے فاصلے پر کیپلٹن کے مقام پر کچھ مزید اصطبل ہیں جہاں ریس کے گھوڑے رکھے جاتے ہیں۔ اس طرف چاروں جانب کھیت اور جنگل ہیں۔ پیر کی رات کرنل روز کے اصطبل میں نیڈ نامی لڑکا ڈیوٹی پر تھا ۔جب باورچن اسے رات کا کھانا دینے آئی تو اس نے دیکھا ایک اجنبی نیڈ کو گھوڑوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی شرط پر رقم کی پیشکش کر رہا ہے۔ اس پر نیڈ غصے میں آگیا اور کتے کو لینے کے لیے دوڑا ۔ باورچن کو یقین ہے کہ اس نے پھر اجنبی کو اصطبل کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے دیکھا۔‘‘

’’تو کیا وہ لڑکا اصطبل کے دروازے کو تالا نہیں ڈال کے گیا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ ہاں میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا لیکن مجھے تار کے ذریعے جو تفصیل ملی ہے اس میں لکھا ہے کہ لڑکے نے دروازے پر تالا ڈالا تھا۔‘‘

’’ پھر اسی رات کو‘‘ ہومز نے اپنی بات جاری رکھی۔’’ جان اپنی بیوی کو یہ کہہ کر اصطبل کی طرف گیا کہ ابھی جائزہ لے کر آرہا ہے۔ لیکن صبح اس کی بیوی نے جان کو غائب پایا تو اصطبل کی طرف گئی۔ وہاں اس نے نیڈ کو فرش پر گہری نیند میں پایا البتہ جان اور سلور بلیز دونوں غائب تھے۔ اگرچہ بقیہ دونوں لڑکے اصطبل کے اوپر ہی سوتے ہیں لیکن انہوں نے بھی رات کچھ نہیں سنا۔‘‘

پھر مسز جان ان لڑکوں کے ساتھ ان کی تلاش میں گئیں تو کچھ دور جا کر انہیں جان کی لاش نظر آگئی۔ اس کے سر پر کسی بھاری چیز سے ضرب کا نشان اور ٹانگ پر تیز آلے کا زخم تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خون آلود چھری بھی تھی۔ جس سے لگتا تھا کہ اس نے مقابلے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس کے بائیں ہاتھ میں موجود رومال کے متعلق باورچن اور نیڈ دونوں کو یقین ہے کہ یہ اس اجنبی کا ہے۔ نیڈ کو اس کا بھی یقین ہے گزشتہ شام باورچن جب اس کے لیے شوربہ لائی تھی تو اس اجنبی نے اس میں کوئی نشہ آور چیز ڈال دی تھی جس سے وہ سوتا رہا۔‘‘

’’اب تک پولیس نے کیا کچھ کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ یہ معاملہ گریگری نامی پولیس افسر کے پاس ہے جو ایک قابل شخص ہے۔ لیکن وہ ابھی تک معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ پایا۔اس نے اجنبی کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے لیکن جوئے میں اپنی ساری جمع پونجی ہار چکا ہے۔ اس نے ویسکس کپ کے مقابلے میں سلور بلیز کی شکست پر پانچ ہزار پاؤنڈ لگا رکھے تھے۔ اس اجنبی کا نام سمپسن ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ تو صرف وہاں گھوڑوں سے متعلق معلومات جمع کرنے گیا تھا اور جان کو اس نے قتل نہیں کیا ہے۔ وہ اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کیوں جان کے پاس اس کا رومال موجود ہے۔ اس کے پاس چلنے کے لیے ایک لاٹھی بھی تھی جس پر شبہ ہے کہ یہی وہ آلہ ہے جس سے جان کے سر پر زخم آیا البتہ اس کے پاس سے کوئی چھری برآمد نہیں ہوئی۔‘‘

’’ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جان کی ٹانگ پر آنے والا چیرا اسی چھری کا ہو جو اس کے ہاتھ میں تھی۔‘‘

’’ہاں ایسا ہو سکتا ہے ۔ پولیس کا خیال ہے کہ سمپسن نے رات نیڈ کو سلانے کے لیے افیون استعمال کی تھی۔ پھر وہ دوسری چابی سے گھوڑا کھول کر لے گیا۔ شاید جان نے اسے گھوڑا لے جاتے دیکھ لیا تھا۔ پھر سمپسن نے اسے قتل کیا اور گھوڑا کہیں چھپا دیا ۔۔۔ یا پھر گھوڑا بھاگ گیا ہے۔‘‘

جب ہم صبح پائی لینڈ کے قریب واقع ایک قصبے پہنچے تو کرنل روز اور پولیس افسرگریگری اسٹیشن پر ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔

آپ کی تفصیل نے مزید کئی سوالات چھوڑے ہیں مسٹر گریگری ۔‘‘ ہومز نے کہا۔ 

’’ آخر سمپسن اس گھوڑے کا کیا کرنا چاہتا تھا؟ دوسرے یہ کہ کیا اس کے پاس سے دوسری چابی برآمد ہوئی؟ اور کیا ایک اجنبی کسی گھوڑے کو کہیں چھپا سکتا ہے؟‘‘

’’ آپ کے سوال اپنی جگہ پر مگر میرے خیال میں دوسری چابی کو کہیں پھینکنا مشکل نہیں۔ اس کے علاوہ پائی لینڈ کے اریب قریب جنگلوں میں خانہ بدوش قبائل آکر اپنے خیمے لگا لیتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ پیر کی رات بھی ایسے ہی کسی خانہ بدوش قبیلے نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور ہم انہی کی تلاش میں ہیں۔گھوڑا ان کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

’’ کیا یہاں قریب میں کوئی اور اصطبل ہے؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔ 

’’ جی ہاں، کیپلٹن میں ایک اصطبل ہے جہاں دوڑ کے لیے دوسرے نمبر پر پسندیدہ گھوڑا موجود ہے۔ اس پر بھی بڑی بڑی رقمیں شرط میں لگی ہوئی ہیں۔ البتہ ہم وہاں اس سارے معاملے سے متعلق کچھ بھی نہ تلاش کرپائے اور مسٹر سمپسن کا بھی کیپلٹن سے کوئی تعلق نہیں بن پا رہا۔‘‘ یہ ساری گفتگو پائی لینڈ پہنچنے تک جاری رہی۔ وہاں پہنچ کر ہومز چند منٹ تک کچھ سوچتا رہا اور آسمان کو تکتا رہا۔

’’ کیا آپ وہاں پر جانا چاہتے ہیں جہاں یہ واقعہ ہوا؟ ‘‘گریگری نے پوچھا۔

’’ نہیں ابھی نہیں اس سے پہلے بھی دو تین چیزیں جاننا چاہوں گا۔‘‘

اس کے بعد شرلاک ہومز نے کہا کہ وہ جان کے قتل کے وقت اس کی جیبوں میں موجود اشیاء دیکھنا چاہتا ہے۔ ہم جان کے گھر پہنچے۔ کچھ دیر بعد گریگری نے میز پر چند اشیا ڈھیر کر دیں۔ ان میں ایک ماچس کی ڈبیا، ایک پینے والا پائپ، گھڑی، کچھ تمباکو ، چند کاغذ اور ایک چھوٹی چھری شامل تھی۔

’’ یہ ایک غیر معمولی چھری ہے واٹسن۔ کیا تم نے غور کیا؟‘‘

’’ ہاں بالکل ۔ یہ چھری تو میڈیکل وغیرہ کے کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کی دھار نہایت تیز ہوتی ہے۔‘‘

’’ اور اس چھری کا جیب میں لے کر پھرنا بھی عجیب بات ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر ہومز نے کاغذوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

’’ اس کے علاوہ باقی سب فضول ہیں۔ ‘‘ گریگری نے ایک پرچہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ یہ کسی لندن کے کپڑوں کی دکان سے آیا ہوا بل ہے جو مسٹر ڈربی کے نام بھیجا گیا ہے۔ مسز جان کا کہنا ہے کہ مسٹر ڈربی ان کے شوہر کا دوست ہے اور اس کے خط عام طور پر ان ہی کے یہاں آتے ہیں۔‘‘

جب ہم جان کے گھر سے نکل کر اس جگہ پہنچے جہاں وہ قتل ہوا تھا تو شرلاک ہومز زمین پر کچھ ڈھونڈنے لگا۔ پھر اس نے وہاں مٹی وغیرہ ہٹائی اور ایک آدھی جلی ہوئی ماچس کی تیلی ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا۔

’’ یہ ہے وہ جس کی مجھے تلاش تھی۔‘‘

’’تو کیا تمہیں پتہ تھا کہ یہ یہاں پر مل جائے گی؟‘‘ گریگری نے حیرانی سے پوچھا۔

’’ہاں۔‘‘ ہومز نے جواب دیا۔

یہاں سے گریگری اور کرنل روز روانہ ہو گئے اور ہم کیس پر مزید غور کرنے کے لیے تنہارہ گئے۔ ہومز نے مجھے بتانا شروع کیا۔

’’واٹسن اب سے ہمیں جان کے قتل سے متعلق نہیں بلکہ صرف سلور بلیز کے بارے میں جاننا ہے کہ وہ کہاں پر ہے۔ فرض کیا وہ بھاگ نکلا ہے لیکن گھوڑا ویرانے سے ڈرتا ہے اور دوسرے گھوڑوں کے ساتھ رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ جب کہ خانہ بدوش بھی اسے ہتھیا نہیں سکتے کیوں کہ وہ پولیس کے معاملے سے ڈرتے ہیں۔ کہو کیا ایسا ہی ہے؟‘‘

’’ بالکل ۔۔۔ لیکن پھر وہ گیا کہاں۔ کیا ہم اس کی تلاش میں جا سکتے ہیں۔‘‘

’’وہ پائی لینڈ کے کسی اصطبل میں نہیں۔ ضرور وہ کیپلٹن کی طرف گیا ہوگا۔ گریگری وہاں اسے تلاش کر چکا ہے لیکن اگر وہ وہاں واقعی موجود ہے تو رستے میں اس کے قدموں کے نشان مل جائیں گے۔‘‘

کچھ دیر کی مسافت کے بعد ہمیں نرم زمین پر کسی گھوڑے کے قدموں کے نشان نظر آئے۔ ہم ان کا پیچھا کرتے ہوئے نصف میل تک چلے گئے۔ حتیٰ کہ کیپلٹن کے قریب پہنچ گئے۔ پھر ہم نے ان نشانات کے ساتھ کسی آدمی کے جوتوں کے نشان بھی پائے۔ 

’’اچھا تو یہاں تک گھوڑا اکیلا تھا۔‘‘ ہومز کے منہ سے نکلا۔ ہم ان نشانات کے پیچھے چلتے رہے حتیٰ کہ وہ ایک اصطبل کے دروازے پر جا کر ختم ہو گئے۔ ایک لڑکا وہاں کھڑا تھا۔ ہومز نے اسے بلاکر پوچھا۔

’’ یہ بتاؤ کہ تمہارا مالک کتنے بجے صبح اٹھتا ہے؟‘‘ 

’’ وہ سب سے پہلے اٹھ جاتے ہیں۔‘‘

اتنے میں اصطبل کا مالک خود آگیا۔ 

’’ ہمیں یہاں اجنبیوں کا آنا بالکل پسند نہیں۔ تم لوگ جاتے ہو یا میں کتے کو خبردار کروں۔‘‘ اصطبل کا مالک چلاتے ہوئے بولا۔ ہومز نے آگے بڑھ کر اس کے کان میں کچھ کہا ۔ پھر وہ ہنسی خوشی ہومز کو اندر لے جانے پر راضی ہو گیا۔ تقریباً بیس منٹ بعد جب وہ دونوں باہر آئے تو اس اصطبل کے مالک کی شکل پر ہوائیاں اڑرہی تھیں۔

’’ میں ویسا ہی کروں گا جیسا تم نے کہا۔‘‘ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ہومز سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ پھر ہم پائی لینڈ آگئے۔ 

’’ کیا اس کے پاس گھوڑا موجود ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ پہلے تواس نے انکار کیا لیکن جب میں نے اسے وہ سب بتا دیا جو اس نے منگل کی صبح کیا تھا تو اسے یقین ہو گیا کہ میں اسے دیکھ چکا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ واقعی جب اس نے ویرانے میں ایک گھوڑا دیکھا تو حیران ہوا اور پھر جب وہ سلور بلیز نکلا تو اس نے اسے ویسکس کپ کی دوڑ ہونے تک چھپانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اب وہ مزید مشکل میں پڑنے سے بچنا چاہتا ہے۔ ‘‘

’’ لیکن پولیس تو اس کے اصطبل کی تلاش لے چکی ہے۔‘‘ میں نے تعجب سے کہا۔

’’ واٹسن ایک تجربہ رکھنے والے ٹرینر کو بہت سے طریقے آتے ہیں۔ تم بہرحال ابھی کرنل کو یہ بات مت بتانا ۔ میں اس سے ایک چھوٹا سا مذاق کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اس کا تعلق جان کے قتل سے بالکل نہیں۔‘‘

’’ کیا تم یہ مسئلہ ابھی نہیں سلجھانا چاہتے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ نہیں بلکہ ہم ابھی رات کی ٹرین سے واپس لندن جا رہے ہیں۔‘‘ میں ہومز کے اس جواب پر حیران رہ گیا۔ آخر وہ کیوں جانا چاہ رہا ہے جب کہ معاملہ کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم وہاں سے جان کے گھر پہنچے جہاں کرنل اور گریگری ہمارا انتظار کررہے تھے۔

’’ میں اور واٹسن آج رات لندن جارہے ہیں ۔ آپ سلور بلیز کا نام دوڑ میں شامل رکھئے گا ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کا گھوڑا ہی دوڑ جیتے گا۔‘‘ اتنا کہہ کر ہومز نے گریگری سے جان کی تصویر مانگی۔

پھرہم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جاتے جاتے ہومز کو جیسے کچھ یاد آیا۔ اصطبل کے ایک لڑکے کی طرف مڑا اور پوچھا۔

’’ کیا تم نے اصطبل میں موجود دوسرے جانوروں کے رویے میں کوئی تبدیلی محسوس کی؟‘‘

’’ ہاں تین بھیڑیں ذرا لنگڑا کر چل رہی ہیں۔‘‘ لڑکے نے کہا۔

’’ اور کیا اس رات کتے نے کسی قسم کا غیر معمولی مظاہرہ کیا؟‘‘

’’ نہیں بلکہ وہ تو خاموش رہا ۔‘‘ ہومز اس جواب سے کچھ مطمئن سا ہو کر نکل آیا۔

*۔۔۔*

چار دن بعد میں اور ہومز ٹرین میں بیٹھے تھے۔ اس مرتبہ ہم ویسکس کپ کا مقابلہ دیکھنے جارہے تھے۔ کرنل روز ہمیں اسٹیشن پر ملا۔ اس کا رویہ کافی سرد تھا۔

’’ مجھے ابھی تک گھوڑا نہیں ملا۔ لیکن اس کا نام دوڑ میں ابھی تک شامل ہے جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔‘‘

’’ سب سے زیادہ شرط کس پر لگی ہوئی ہے؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

’’حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک سلور بلیز پہلے نمبر پر ہے۔‘‘

’’تو پھر سلور بلیز دوڑ میں ضرور ہوگا۔‘‘

اتنے میں دوڑ شروع ہو گئی۔’’ مجھے تو کہیں بھی سلور بلیز نظر نہیں آرہا۔ یہ جس نے میرے گھوڑے کے نمبر والا کپڑا اوڑھ رکھا ہے سلور بلیز کسی طرح نہیں ہو سکتا۔‘‘ کرنل روز اس سارے منظر کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ دوڑ اپنے عروج پر تھی۔ کیپلٹن کا گھوڑا سب سے آگے تھا۔ مگر ابھی آدھا راستہ ہی طے ہو پایا تھا کہ وہ تھک کر ذرا ایک طرف ہو گیا۔ اتنے میں وہی گھوڑا جسے ہومز سلور بلیز کہہ رہا تھا آگے بڑھا اور ااختتام تک اپنی سبقت برقرار رکھی۔ سب چلتے ہوئے اس گھوڑے تک پہنچے۔

’’اب ذرا کرنل تم اپنے گھوڑے کا منہ اور ٹانگیں وغیرہ اچھی طرح دھو لینا۔ پھر تمہیں اپنا گھوڑا پہچاننے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔‘‘

’’تمہارا بہت شکریہ ہومز۔ تم نے میرا گھوڑا ڈھونڈنے میں واقعی کمال ذہانت سے کام لیا۔ لیکن اب تمہیں جان کے قاتل کے بارے میں بھی پتہ لگانا ہے۔‘‘کرنل نے گھوڑے کی لگام تھامتے ہوئے کہا۔

’’ میں نے اس کا بھی پتہ لگا لیا ہے۔‘‘

میں اور کرنل اس جواب پر حیرت زدہ رہ گئے۔ 

’’ اور وہ قاتل ابھی میرے پاس ہی کھڑا ہے۔‘‘ 

’’ہومز یہ کوئی اچھا مذاق نہیں۔‘‘ کرنل نے قدرے برہمی سے کہا۔

ہومز نے ایک قہقہہ لگایا۔ ’’ میرا اشارہ تمہاری طرف نہیں کرنل بلکہ جس پر تمہارا ہاتھ رکھا ہے وہ ہے جان کا قاتل۔ لیکن اس نے ایسا اپنی حفاطت کے لیے کیا۔ بہرحال مجھے کہنا پڑرہا ہے کہ جان کوئی ایماندار آدمی نہیں تھا۔‘‘ ہومز نے واپسی پر بقیہ قصہ سنانا شروع کیا۔

’’اخبارات سے مسٹر سمپسن ہی قصوروار ٹھہرے تھے۔ مگر حقائق کچھ اور کہہ رہے تھے۔ جب میں پائی لینڈ آیا تو مجھے خیال آیا کہ اس رات باورچن جو کھانا لے کر آئی تھی وہ شوربے پر مشتمل تھا۔ جب کہ سمپسن کیسے نیڈ کے شوربے میں افیون ملانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ آخر ایک اجنبی کیوں کر جان سکتا ہے کھانے میں کیا پکاہے؟ کیوں کہ صرف شوربے جیسی چیز میں افیون حل ہو سکتی ہے اور اس کا ذائقہ غائب ہو سکتا ہے۔ لیکن جان نے یہ کام کیا تاکہ لڑکے گہری نیند سو جائیں۔ اس کے علاوہ کتے کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ گھوڑا کوئی اجنبی شخص نہیں لے کر گیا۔‘‘

’’لیکن اسے آخر ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘

’’ کیوں کہ وہ گھوڑے کو کسی ویران جگہ لے جا کر اس ٹانگ میں چیرا لگانا چاہتا تھا تاکہ وہ دوڑ نہ جیت سکے۔ اس کے لیے اس نے موم بتی اور ماچس بھی رکھ لی تھی۔ لیکن گھوڑا اندھیرے میں جلنے والی روشنی سے بدک گیا اور اس نے جان کو چھری کا زخم لگانے کی بھی اجازت نہ دی بلکہ اس کی مزاحمت کے دوران جان گر گیا اور اس کا سرکسی پتھر وغیرہ سے لگ کر پھٹ گیا۔ جہاں تک اس کی ٹانگ پر موجود زخم کا نشان ہے یہ بھی اسی چھری کا لگا ہوا ہے جو اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کی ٹانگ سے لگ گئی۔ اس کی جیب سے جس دکان کا بل ملا ہے تو جب میں نے وہاں جا کر اس کی تصویر دکھائی تو انہوں نے اسے مسٹر ڈربی کی حیثیت سے پہچان لیا۔ یعنی جان ایک بڑی رقم کا مقروض بھی تھا اس لیے اس نے ایک بڑی شرط سلور بلیز کی شکست پر لگائی اور پھر اسے دوڑ کے لیے ناساز بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس لیے اس نے تجربہ کے طور پر پہلے بھیڑوں کی ٹانگوں پر اس چھری سے چیرے لگائے جو نہایت باریک اور نظر نہ آنے والے تھے۔‘‘

’’اور وہ رومال جو اس کے پاس سے برآمد ہوا کیا سمپسن کا نہیں تھا؟ ‘‘ کرنل روز نے پوچھا۔

’’ ہاں وہ سمپسن کا ہی ہوگا اور ایسا محض اتفاقی ہوا ہے۔‘‘

’’تم نے تو سب معاملہ صاف کر دیا ہومز۔ اچھا اس دوران گھوڑا کہاں پر تھا؟‘‘ کرنل نے کہا۔

’’یوں سمجھو کہ پڑوس میں کوئی اس کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ میں اس سے زیادہ نہیں بتا سکتا۔‘‘

میں ہومز کا آخری نکتہ سمجھ گیا تھا۔ اتنے میں ہم اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔

*۔۔۔*۔۔۔*