ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںجاسوسی کہانیاںانوکھی چال

انوکھی چال

آرتھر کونن ڈائل

ترجمہ: عمیر صفدر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ایسا معمہ جسے سلجھاتے ہوئے شرلاک ہومز اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ایسا کہنا نہیں چاہیے لیکن لندن میں میرے لیے اب وہ دلچسپی نہیں رہی۔ تم جانتے ہو اگر میں یہ کہہ رہا ہوں تو کیوں؟‘‘ شرلاک ہومز نے کہا۔

’’ہاں ضرور۔۔۔ موریارٹی کی موت کے بعد تمہارا ایک بہت بڑا دشمن ختم ہو گیا ۔ تمہیں اس کے شیطانی دماغ کے بنائے ہوئے منصوبوں تک پہنچے میں بہت لطف آرہا تھا۔ اب تمہارا شاید ہی ایسے کسی شاطر دماغ سے واسطہ پڑے۔‘‘

ہماری یہ گفتگو جاری تھی کہ ایک شخص بدحواسی میں بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔

’’مجھے اس طرح اندر آنے پر معاف کیجئے گا۔ لیکن بات ہی کچھ ایسی ہے۔ ہومز، میں ہی وہ بدنصیب چارلس ہوں۔‘‘

اس کے رویے سے لگا کہ ہم اسے جانتے ہیں۔ لیکن ہومزکے چہرے سے میں سمجھ گیا کہ وہ بھی میری طرح اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔

’’آپ تشریف رکھیے مسٹر چارلس اور اطمینان سے اپنا مسئلہ بتائیے۔‘‘

’’مسٹر ہومز میں شاید لندن میں سب سے بدقسمت شخص ہوں۔ خدا کے لیے میری مدد کریں۔ اس سے پہلے کہ پولیس یہاں پہنچ کر مجھے گرفتار کرے میں آپ کو پوری داستان سنانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس شخص نے جلدی جلدی کہا۔

’’ لیکن تم یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ گرفتار کیے جاؤ گے۔‘‘ ہومز نے کہا جسے اب کیس میں دلچسپی محسوس ہورہی تھی۔

’’جونز اسٹورٹ کے قتل کے الزام میں۔‘‘ چارلس نے مزید کہا۔ ’’ آج کے اخبار میں یہ رپورٹ چھپی ہے۔ میرا ریلوے اسٹیشن سے پیچھا ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے جلد گرفتار کر لیں گے۔‘‘

میں نے اس نوجوان کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں خوف اور چہرے کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔

’’واٹسن، کیا تم آج کی اخبار میں سے یہ رپورٹ پڑھ کر سناؤ گے؟‘‘میں نے رپورٹ پڑھنا شروع کی۔

’’ رات کو نارووڈ میں نہایت سنگین قسم کا واقعہ پیش آیا۔ مسٹر جونز اسٹورٹ ، جو کہ ایک معمار ہے، کئی سالوں سے وہاں رہ رہا ہے۔ وہ باون برس کی عمر کے ساتھ غیر شادی شدہ ہے۔ اس کے گھر کی پچھلی طرف ایک لکڑی کا مکان ہے۔ رات کو وہاں لکڑی نے آگ پکڑ لی۔ دور دراز قصبہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانا ممکن نہ ہو سکا۔جب تک پولیس پہنچی سب کچھ جل چکا تھا۔ پہلے پولیس کا خیال تھا کہ یہ ایک حادثہ ہے مگر شواہد سے کچھ اور سامنے آیا۔ جونز اسٹورٹ غائب ہے۔ اس کے کمرے میں لگتا ہے کہ لڑائی وغیرہ ہوئی ہے اور ایک چھڑی پر خون کے دھبے بھی پائے گئے۔ وہ چھڑی ایک نوجوان وکیل مسٹر چارلس کی ہے۔ بعد میں راکھ سے ہڈیاں اور جلے ہوئے کپڑے کے ٹکڑے برآمد ہوئے۔ پولیس کو یقین ہے کہ جونز اسٹورٹ کو قتل کیا گیا ۔ پھر شواہد کو ختم کرنے کے لیے آگ لگا دی گئی۔ اب پولیس کو اس چارلس نامی نوجوان وکیل کی تلاش ہے۔‘‘

اچانک دروازے کی گھنٹی دوبارہ بجی اور پولیس افسر جان ہیگرڈ داخل ہوا جو ہمارا پرانا دوست بھی تھا۔

’’مسٹر چارلس میں آپ کو نارووڈ کے جونز اسٹورٹ کے قتل کے الزام میں گرفتار کرتا ہوں۔‘‘ ہیگرڈ نے جونز کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔

’’ ایک منٹ رکیے مسٹر ہیگرڈ ۔ آدھا گھنٹہ انتظار سے شاید کچھ زیادہ فرق نہ پڑے۔ یہ شخص مجھے کچھ بتانا چاہتا ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے مسٹر ہومز جیسا آپ چاہیں۔‘‘

’’ میں آپ تک صرف سچ پہنچاؤں گا۔‘‘ چارلس سانس لے کر شروع ہوا۔ ’’ میں گزشتہ کل سے پہلے مسٹر جونز اسٹورٹ سے کبھی نہیں ملا۔البتہ میرے والدین اسے کئی سالوں سے جانتے ہیں۔ گزشتہ دوپہر کو وہ میرے دفتر آئے۔ انہوں نے جب آنے کی وجہ بتائی تو میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے میرے سامنے ہاتھ سے لکھے ہوئے کاغذ رکھے جو ان کے مطابق ان کی وصیت تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک وکیل کی حیثیت سے ان کو قانونی طریقے سے تیار کروں۔ میں حیران اس لیے ہوا کہ وہ اپنی موت کے بعد ساری جائیداد میرے نام کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی خاندان موجود نہیں لیکن میرے والدین کو جانتے ہیں۔ انہوں نے میرے متعلق سن رکھا ہے اور اب میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پھر میں نے وہ وصیت قانونی طریقے سے بنائی جس پر انہوں نے دستخط کر دیئے اور یہ رہے وہ کاغذ جنہیں وہ میرے پاس لائے تھے۔ پھر جونز اسٹورٹ نے کہا کہ میرے گھر پر بھی چند ضروری کاروباری کاغذات پڑے ہیں جنہیں ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ اس لیے انہوں نے اس رات مجھے اپنے گھر آنے کا کہا۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی تاکید کی کہ یہ بات ابھی اپنے والدین کو مت بتاؤں۔ میں نے اس کی ہامی بھر لی۔ کیوں کہ میں اپنی بے تابی کی وجہ سے منع نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے گزشتہ روز ساڑھے نو بجے رات کو میں نارووڈ میں ان کے گھر پر چلا گیا۔‘‘

’’ رکیے۔۔۔ ذرا یہ بتائیے کہ دروازہ کس نے کھولا؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

’’ان کے ملازم نے۔‘‘ چارلس مزید بتانا شروع کیا۔’’کھانے کے بعد جونز اسٹورٹ مجھے اپنے کمرے میں لے گئے۔ انہوں نے صندوق سے کچھ کاغذات نکالے جنہیں میں نے غور سے پڑھا۔ ساڑھے گیارہ بجے تک میں اپنا کام ختم کرچکا تھا۔ جاتے ہوئے مجھے اپنی چھڑی نہیں ملی۔ میں نے ڈھونڈنے کی کوشش کی تو جونز نے اطمینان دلایا کہ میں خود ڈھونڈ کر واپس کر دوں گا۔ اس رات کافی دیر ہو چکی تھی اس لیے میں نے گھر جانا مناسب نہ سمجھا اور وہیں قریب کے ایک ہوٹل میں رات گزاری۔ صبح اخبار میں مجھے اس افسوس ناک واقعہ کا پڑھ کے پتہ چلا۔‘‘

’’ اس کے علاوہ آپ کچھ جاننا چاہیں گے مسٹر ہومز؟‘‘ پولیس افسر ہیگرڈ نے کہا۔

’’نہیں ۔۔۔ جب تک نارووڈ نہ پہنچ جاؤں۔‘‘ ہومز نے جواب دیا۔ اس کے بعد ہومز نے وہ کاغذات دیکھے جو چارلس نے پیش کیے تھے۔

’’ آپ نے کچھ غور کیا، مسٹر ہیگرڈ؟‘‘

’’ تو یہ وصیت نامہ ہے۔‘‘ پولیس افسر نے کاغذ گھماتے ہوئے کہا۔ ’’ ہوں۔۔۔ ویسے اس کی شروع کی چند سطریں تو پڑھی جارہی ہیں البتہ درمیانی لکھائی نہایت خراب ہے۔ آخر کی لکھائی کچھ بہتر ہے۔‘‘

’’اس سے آپ کیا سمجھ سکتے ہیں؟‘‘ ہومز نے پوچھا۔

’’ اور آپ کیا سمجھ سکتے ہیں؟‘‘ پولیس افسر نے جواب دیا۔

’’وہ یہ کہ یہ نوٹس ریل گاڑی میں لکھے گئے ہیں۔‘‘ ہومز کی اس بات پر سب نے حیرت سے منہ بنایا۔ 

’’اور یہ جو واضح لکھائی ہے اسٹیشن پر کی گئی ہے۔ جبکہ بقیہ چلتی ریل گاڑی میں ۔لکھائی دیکھ کر صاف معلوم ہو رہا ہے۔‘‘

’’اس سے آپ کیا اخذ کر سکتے ہیں؟‘‘ ہیگرڈ نے پوچھا۔

’’ نہایت تعجب کی بات ہے کہ اتنی اہم چیز کو اس طرح لاپروائی سے لکھا جائے یعنی ریل کے سفر کے دوران ۔ میرے خیال میں وہ اس کو اہم نہیں سمجھتا تھا۔ نہ ہی اسے اپنی اصلی وصیت خیال کرتا تھا۔‘‘

’’بہرحال ، یہ معاملہ میرے نزدیک بالکل شفاف ہے۔ ایک نوجوان کو اچانک پتہ چلا کہ وہ ایک بوڑھے شخص کی موت سے بے پناہ دولت حاصل کر لے گا۔ اس لیے وہ رات میں اس کے گھر گیا۔ اسے قتل کرنے کے بعد لاش کو آگ لگا دی۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔‘‘

’’ لیکن ایسا بالکل ہوتا نظر نہیں آتا مسٹر ہیگرڈ ۔ کیا ایک شخص کو مارنے میں اتنی جلدی کہ ابھی وصیت کو ایک رات ہی گزری ہو؟ پھر اس کے قتل کے لیے جانا جب کہ پتہ ہو کہ اس کا ملازم گھر میں موجود ہے؟ اور پھر اپنی چھڑی پیچھے چھوڑ جانا تاکہ پولیس کو مل جائے ؟‘‘ ہومز کہتا چلا گیا۔

پولیس افسر نے اپنا سر جھٹکا لیکن وہ پہلے سے کم پراعتماد نظر آرہا تھا۔ اس نے چارلس کو ہتھکڑی لگائی اور گاڑی میں لے گیا۔

’’واٹسن اب مجھے چارلس کے والدین سے ملنے کے لیے لیک ٹاؤن جانا ہوگا۔‘‘

’’لیکن نارووڈ کیوں نہیں؟‘‘

’’کیوں کہ اس واقعہ سے پہلے ایک اور انوکھا واقعہ ہوا ہے۔ یعنی جونز اسٹورٹ کی عجیب و غریب وصیت۔ مجھے اس کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے لازمی چارلس کے والدین سے ملنا ہوگا۔‘‘

رات کو جب ہومز واپس بیکر اسٹریٹ آیا تو اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ اسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ وہ کافی دیر تک اپنی آرام کرسی میں بیٹھا رہا۔ پھر گویا ہوا :

’’سب کچھ میرے خلاف ہو رہا ہے واٹسن۔ شاید ہیگرڈ ہی صحیح ہے۔‘‘

’’ کیا تم لیک ٹاؤن گئے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں ۔۔۔ مجھے پتا چلا کہ چارلس کی والدہ کی منگنی جونز اسٹورٹ سے ایک بار ٹوٹ چکی ہے۔ وہ جونز سے سخت نفرت کرتی ہے۔ جب اسے پتہ چلا کہ وہ مر گیا ہے تو اس کے چہرے پر سکون تھا مگر جلد ہی بیٹے پر لگنے والے الزام کا سن کر وہ پریشان ہو گئی۔ اسے یقین ہے کہ اس کا بیٹا قاتل نہیں ہو سکتا۔ بہرحال اس کی والدہ اور جونز اسٹورٹ کی رقابت کیس کو چارلس کے خلاف مضبوط کررہی ہے۔‘‘

’’ میں چوں کہ لیک ٹاؤن میں کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا اس لیے نارووڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ جونز اسٹورٹ چوں کہ ایک معمار تھا اس لیے اس نے اپنا گھر بھی نہایت شاندار بنایا تھا۔ البتہ جس لکڑی کے مکان میں آگ لگی تھی وہ اس گھر کی عمارت سے ذرا ہٹ کر تھا۔ اس راکھ کے ڈھیر میں پولیس کوکچھ بٹن ملے جو یقیناًجونز کی قمیص کے تھے۔ میں اس کے کمرے میں بھی گیا مگر کوئی نیا سراغ نہ لگا سکا۔

البتہ اس کی جائیداد کے کاغذات دیکھ کر اندازہ ہوا کہ قیمتی نوعیت کے اصل کاغذ ان میں سے غائب ہیں۔ اگر چارلس نے وہ کاغذ چرائے بھی ہیں تو اس نے ایسا کیوں کیا جب کہ وہ اسی کو ملنے والے تھے؟‘‘

’’ کیا تم نے ملازم سے کچھ پوچھا؟ ‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھے وہ سب کچھ نہیں بتایا جو اسے معلوم تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ساڑھے نو بجے اپنے کمرے میں سونے کے لیا گیا تھا ۔ پھر جلنے کی بو آئی اور وہ اس طرف بھاگا۔ اس نے بتایا کہ راکھ کے ڈھیر سے ملنے والے بٹن ان ہی کپڑوں کے ہیں جو اسٹورٹ نے رات کو پہنے ہوئے تھے۔‘‘

’’ لہٰذا اب واٹسن، تم بتاؤ کہ اس سے کیا نتیجہ سامنے آرہا ہے۔ پولیس کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت میں ذرا سی غلطی ڈھونڈنا بھی مشکل ہے۔ لیکن جونز کے کمرے میں موجود کاغذات میں ایک چیز عجیب ملی۔ وہ یہ کہ گزشتہ سال کسی سمپسن نامی شخص کو ایک بڑی رقم ادا کی گئی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ مسٹر سمپسن کون ہیں۔ ان کا اس معاملے سے تعلق ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب اگلی چیز یہ ہے کہ ہم اسٹورٹ کے بنک جا کر مسٹر سمپسن کا پتہ لگائیں گے لیکن واٹسن، ابھی تک مجھے لگ رہا ہے اس دفعہ جیت ہماری نہیں ہوگی۔‘‘

اگلی صبح ہومز نہایت تھکا ہارا لگ رہا تھا اس نے میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک تار سے موصول ہونے والا پیغام میز پر پھینک دیا۔ 

’’اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے واٹسن؟‘‘

وہ تار نارووڈ سے آیا ہوا تھا۔

لکھا تھا ’’ ایک نیا اہم سراغ۔ چارلس کا جرم مزید واضح ہو گیا ہے۔ مشورہ ہے کہ آپ مزید تحقیقات نہ کریں۔ پولیس افسر جان ہیگرڈ۔‘‘ 

’’لگتا ہے کہ پولیس افسر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ ضروری نہیں کہ ہر سراغ سے ہر شخص ایک مطلب نکالے۔ خیر ہم کھانے کے بعد نارووڈ جائیں گے۔‘‘

ایک گھنٹہ بعد ہم جونز اسٹورٹ کے مکان پر تھے۔ پولیس افسر ہیگرڈ نے دروازے پر ہمارا استقبال کیا۔

’’ اس طرف سے آئیں۔ میں شاید آپ کو ثابت کر دکھاؤں کہ چارلس ہی قاتل ہے۔‘‘ ہیگرڈ ہمیں ایک اندھیرے ہال میں لے گیا اور ماچس جلائی۔ 

’’ یہ وہ جگہ ہے جہاں چارلس لازمی اپنا ہیٹ کھونٹی سے اتارنے کے لیے آیا ہوگا۔ دیوار پر دیکھیں ۔ یہ خون آلود انگوٹھے کا نشان ہے۔ آپ کو پتا ہے مسٹر ہومز کہ کوئی دو انگوٹھے کے نشان ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘‘

’’ہاں میں نے تھوڑا بہت اس بارے میں سنا ہے۔‘‘میرے دوست نے پولیس افسر کے رویے پر قدرے برہمی سے کہا۔ 

’’تو پھر ذرا اس نشان سے اس کو ملائیے جو میں نے آج ہی چارلس کے انگوٹھے سے لیا ہے۔ یہ دونوں بلاشبہ ایک ہی انگوٹھے کے ہیں۔ اب میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘ 

’’ویسے یہ اہم دریافت کی کس نے ہے؟‘‘

’’ملازم نے۔‘‘ ہیگرڈ نے فوراً جواب دیا۔ ’’اس نے آج صبح یہ نشان دیکھا تو اطلاع کرنے پولیس اسٹیشن چلا آیا۔‘‘

’’لیکن اس ثبوت میں ایک بڑی غلطی موجود ہے۔‘‘

’’مگر وہ کیا؟‘‘ ہیگرڈ کا منہ کھلا رہ گیا۔

’’ میں نے گزشتہ روز اس ہال کا معائنہ کیا تھا تو یہ نشان یہاں موجود نہیں تھا۔ چلو واٹسن ، ذرا باہر باغیچے کا چکر لگا کر آتے ہیں۔‘‘

ہم باہر آگئے جہاں ہومز نے بیرونی دیواروں کا اچھی طرح معائنہ کیا۔ پھر ہومز نے ایک ایک کونے کو دیکھا حتیٰ کہ خالی کمروں کو بھی۔ ایک جگہ آکر لگا کہ اسے کوئی نئی چیز ملی ہے۔‘‘

’’واٹسن، اب تک یہ پولیس افسر ہم سے کھیلتا رہا۔ ایک چھوٹا سا مذاق ہم بھی کر لیں۔‘‘

ہم اندر گئے تو پولیس افسر کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ 

’’مسٹر ہیگرڈ ، اس سے پہلے کہ آپ رپورٹ مکمل کریں۔ میرے پاس آپ کے لیے کچھ نئی معلومات ہیں۔‘‘

’’ کیا مطلب؟‘‘

’’ایک اہم گواہی۔ شاید کہ وہ میں آپ کے سامنے پیش کروں۔ اپنے سپاہیوں سے کہئے کہ گھر کے پچھلے حصے سے کچھ لکڑیاں جمع کرکے لے آئیں۔ واٹسن تمہاری جیب میں ایک عدد ماچس تو ضرور ہو گی۔ اب آپ سب میرے ساتھ مکان کے سب سے اوپر والے حصے میں آجائیں۔‘‘

سب سے اوپر والی منزل پر ایک مرکزی ہال واقع تھا۔ ہم سب ایک کونے میں جا کھڑے ہوئے۔

’’مسٹر ہومز، اگر آپ کے پاس کوئی پکا ثبوت ہے تو پیش کیجئے گا کیوں کہ میرا وقت نہایت قیمتی ہے۔‘‘ پولیس افسر نے منہ بنا کر کہا۔

’’ ضرور ضرور مسٹر ہیگرڈ۔ تو پھر واٹسن اب تم کھڑکیاں کھول دو اور یہ لکڑیاں یہاں رکھ کر آگ لگا دو۔‘‘

میں نے لکڑیاں درمیان میں رکھ کر انہیں آگ لگا دی۔ جلد ہی دھوئیں کے بادل ہر طرف پھیل گئے۔ 

’’اب آپ لوگ جتنی زور سے آگ آگ پکار سکتے ہیں پکار یئے۔‘‘

ہم کچھ دیر تک اسی طرح کرتے رہے جیسا کہ ہومز نے کہا تھا۔ پھر اچانک ایک دروازہ ہال کے اختتام سے کھلا۔ اس میں سے ایک چھوٹے قد کا ڈرا سہما شخص بھاگتا ہوا باہر نکلا۔ 

’’زبردست۔‘‘ ہومز کے منہ سے نکلا۔ ’’واٹسن آگ بجھا دو۔ مسٹر ہیگرڈ، یہ رہا گمشدہ ثبوت، مسٹر جونز اسٹورٹ۔‘‘ پولیس افسر حیرت سے تکے جا رہا تھا۔

’’ میں نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔‘‘ اسٹورٹ چیخا ۔

’’نقصان؟‘‘ ہیگرڈ بولا۔ ’’ تم نے ایک بے گناہ شخص کو موت کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مگر تم ناکام ہو گئے صرف مسٹر ہومز کی وجہ سے۔‘‘ اب پولیس افسر کا رخ اسٹورٹ کی طرف تھا۔ 

’’ آپ نے تو کمال کر دیا مسٹر ہومز۔ لیکن یہ سب ابھی تک میرے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔ آپ نے نہ صرف چارلس کو بچایا ہے بلکہ میرا نام بھی ایک پولیس افسر کی حیثیت سے ۔‘‘

’’ہاں اب آپ کو اپنی رپورٹ میں چند تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ دیکھتے ہیں کہ یہ چالاک شخص کہاں چھپا ہوا تھا۔‘‘

وہاں ہال کے اختتام سے چھ فٹ پہلے ایک اور دیوار تعمیر کی گئی تھی جس کا دروازہ نہایت خفیہ طریقے سے بنایا گیا تھا۔ اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں فرنیچر سمیت کھانے پینے کا سامان اور کتابیں تک موجود تھیں۔

’’چوں کہ جان اسٹورٹ ایک معمار ہے، اس لیے یہ اس طرح کا کمرہ خود بھی بنا سکتا ہے۔‘‘ ہومز نے بتانا شروع کیا۔’’ اس خفیہ کمرے کا سوائے ملازم کے کسی کو علم نہ تھا۔ آپ اسے بھی شریک جرم کر سکتے ہیں مسٹر ہیگرڈ۔ مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ اسٹورٹ اسی عمارت کے اندر کہیں چھپا ہوا ہے۔ جب میں نے تمام ہالوں کو ناپا تو یہ چھ فٹ چھوٹا نکلا۔ اس طرح اس کمرے کا سراغ لگا۔‘‘

’’ لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ واقعی مکان میں موجود ہے؟‘‘

’’انگوٹھے کے نشان سے۔ یہ نشان گزشتہ دن تک موجود نہیں تھا۔ اسی لیے رات کو ہی ڈالا گیا تھا۔‘‘

’’مگر کیسے؟‘‘

’’بہت آسان ۔ اسٹورٹ پہلے ہی وصیت کے کاغذات پر چارلس کے انگوٹھے کے نشان لے چکا تھا۔ اس نے کسی طرح یہ خون آلود کرکے دیوار پر منتقل کر دیئے۔ ‘‘

’’ بہت خوب۔ لیکن یہ سب اس نے کیوں کیا مسٹر ہومز؟‘‘

’’ اس کی وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ایسا انتقام کی خاطر کیا۔ چارلس کی ماں نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں سب سے پہلے لیک ٹاؤن گیا تھا۔اس کے علاوہ گزشتہ دو سالوں سے جونز اسٹورٹ کا کام نہایت خراب چل رہا تھا۔ اس نے بینک سے ایک بڑی رقم قرض لی ہوئی تھی۔ اس نے بینک کو دھوکہ دینے کا سوچا۔ اس نے ایک بڑی رقم مسٹر سمپسن کو بھجوا دی، جو میرے خیال میں یہ خود ہی تھا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی طرح غائب ہوجائے اور پھر مسٹر سمپسن کے نام سے ایک نئی زندگی کا آغاز کرے۔ لیکن اس نے ساتھ ہی اپنی پرانی رنجش کا بدلہ لینا بھی ضروری سمجھا۔ وہ چاہتا تھا کہ چارلس گرفتار ہو کر قتل کی سزا بھگتے۔ اس کے منصوبے میں جعلی وصیت (جو قتل کی وجہ بن سکے)، رات کو اپنے گھر پر بلانا، چارلس کی چھڑی اپنے پاس رکھنا، پھر خون ، ہڈیاں اور قمیص کے بٹن وغیرہ آگ میں ڈالنا یہ سب شامل تھا۔ اس کے بعد یہ اپنے اہم ترین کاغذات کے ساتھ اس کمرے میں چھپ گیا۔ لیکن اسٹورٹ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اسے کہاں اپنا منصوبہ ختم کرنا ہے۔ اس نے انگوٹھے کے غیر ضروری نشان سے اپنی اس انوکھی چال پر پانی پھیر دیا۔‘‘

’’ یہ کھلا جھوٹ ہے۔ میں قطعی چارلس کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ میرا بنک کو رقم لوٹانے کا بھی پورا ارادہ تھا۔‘‘

اسٹورٹ نے ساری بات سننے کے بعد احتجاج کیا۔ 

’’ یہ تو آپ کے مقدمے کے دوران پتہ چلے گا۔ ویسے ہڈیاں آپ نے کس قبرستان سے حاصل کی تھیں۔‘‘ ہومز نے اسٹورٹ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 

’’ میں تم سے ضرور ایک دن بدلہ لے کر رہوں گا۔‘‘ اسٹورٹ نے چیختے ہوئے کہا۔

’’ آپ چند سال تک تو اسی مقدمے میں مصروف رہیں گے۔ واٹسن اس کیس کی روداد ذرا تفصیل سے لکھنا۔‘‘ ہومز نے کہا اور باہر نکل گیا۔

*۔۔۔*۔۔۔*