ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
مسلم خواتین
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
شریف شیوؔہ
عبد الرحمٰن مومن
عنایت علی خان
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںجاسوسی کہانیاںپرچے کی چوری

پرچے کی چوری

آرتھر کونن ڈائل

ترجمہ: عمیر صفدر

...............

مشہور سراغ رساں شرلاک ہومز کا ایک اور کارنامہ

...............

کئی سال پہلے برطانیہ کے ایک شہر میں مشہور یونیورسٹی کا یہ واقعہ ہے ۔ اس وقت ہم یونیورسٹی کی لائبریری کے قریب واقع ایک چھوٹے سے ہوٹل میں رہتے تھے۔ شرلاک مومز لائبریری میں کچھ دن کے لیے اپنا کام نمٹا رہا تھا۔ 

ایک شام جب ہم اپنے ہوٹل واپس پہنچے تو یونیورسٹی کے ایک استاد مسٹر ولسن کو اپنا منتظر پایا۔ وہ ایک اچھے اور ہنس مکھ آدمی تھے لیکن اس وقت نہایت پریشان نظر آرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو وہ ہم سے ایک نہایت اہم مسئلہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔

’’میں بہت خوش قسمت ہوں ہومز کہ آپ اس ہفتے اتفاقیہ یونیورسٹی کے دورے پر ہیں۔ بہت گڑبڑ والی بات ہوگئی ہے اور میں آپ کی مدد چاہتا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟‘‘

ہومز نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنی بات جاری رکھنے کا کہا۔ وہ جلدی جلدی شروع ہوا۔

’’ جیسا کہ مسٹر ہومز آپ جانتے ہیں کل سے یونیورسٹی میں وظیفے کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں۔ جو طالبعلم ان میں کامیاب ہوگا۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھاری رقم حاصل کرے گا۔ میں یہاں یونانی زبان پڑھاتا ہوں جو امتحانات میں شامل مضامین میں سے ایک ہے۔ اس پرچے میں ایک پیرا گراف دیا گیا ہے جسے انگریزی میں لکھنا ہے۔ گزشتہ ہفتے پرچے چھپنے کے لئے دیے گئے تھے۔ آج تقریباً تین بجے وہ چھپ کر آگئے۔ مجھے ان کا اچھی طرح مطالعہ کرنا تھا تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے۔

مسٹر ولسن نے یہاں وقفہ لیا اورپھر شروع ہوئے۔ ’’میں یونیورسٹی میں ہی ایک کالج میں رہائش پذیر ہوں جہاں اساتذہ اور طلباء دونوں کے کمرے ہیں۔ میں نے ایک استاد سے اس کے کمرے میں ساڑھے چار بجے چائے کا وعدہ کررکھا تھا۔ میں نے وہ پرچے میز پرچھوڑے اور تقریباً گھنٹے کے لیے باہر رہا۔ جب میں واپس آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازے کے اندر چابی لگی ہوئی ہے۔ میں نے اپنی جیب پر ہاتھ مارا تو میری چابی موجود تھی جب کہ دوسر ی چابی صرف میرے ملازم ہنری کے پاس ہوتی ہے۔ ہنری میرے پاس دس سال سے کام کررہا ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں وہ بہت ایماندار شخص ہے۔‘‘

’’ اس نے مجھے بتایا کہ وہ میرے کمرے میں چائے کا پوچھنے گیا تھا اور واپسی میں چابی نکالنا بھول گیا۔ وہ میرے جانے کے چند منٹ بعد داخل ہوا تھا۔‘‘

’’ پھر جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میں نے دیکھا کہ کوئی اور بھی آیا ہے جس نے پرچوں کو دیکھا ہے۔ یہ امتحانی پرچے تین کاغذوں پر مشتمل تھے جنہیں میں ساتھ رکھ کر گیا تھا۔ جب واپس آیا توایک نیچے گرا ہوا تھا۔ دوسرا کھڑکی کے پاس رکھی چھوٹی میز پرپڑا تھا اورتیسرا وہیں جہاں چھوڑ کرگیا تھا۔‘‘

’’پہلے میرا شک ہنری پرگیا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے کسی چیز کو نہیں چھوا اور مجھے یقین ہے کہ وہ سچا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی اور نے چابی لگی دیکھ کر دروازہ کھولا اور شاید میرے ہی کسی شاگرد نے یہ حرکت کی اور اب وہ آسانی سے امتحان بھی دینے کے قابل ہو جائے گا۔ ساتھ ہی وظیفے کی بھاری رقم بھی حاصل کرلے گا۔ ہنری یہ سن کر بہت پریشان ہوا تھا اور کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ میں نے اس کے بعد کمرے کو اچھی طرح دیکھا تھا اور کئی ایسی چیزیں نظر آئیں جو ہمیں اس شخص تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ کھڑکی کے پاس والی میز پر کسی نے پنسل چھیلی تھی کیوں کہ وہاں اس کا کچراپڑا تھا۔ اس نے پرچہ نقل کرنے میں جلدی کی ہوگی تب ہی پنسل کی نوک ٹوٹ گئی جو وہاں موجود تھی۔ یہی نہیں بلکہ میری اس نئی لکھنے والی میز پر تقریباً تین انچ لمبا کٹ کا نشان لگا تھا۔ اور اوپر کالی مٹی اورریت سے ملا ہوا چھوٹا سا نرم گولا پڑا تھا۔’’ کیا یہ سب عجیب نہیں ہے؟ میں یہ سب سمجھ نہیں پایا۔ پھر مجھے آپ کا یاد آیا کہ یہیں ہیں اور میں سیدھا آپ کے پاس آگیا۔۔۔ ہمیں وہ طالبعلم ہر صورت ڈھونڈنا ہوگا ورنہ کل امتحان منسوخ کردیے جائیں گے۔‘‘

’’ مجھے آپ کی مدد کرکے خوشی ہوگی۔ کیا آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ پرنٹر سے پرچے آجانے کے بعدکوئی آپ سے ملنے آیا؟‘‘ شرلاک ہومز نے سوال کیا۔

’’ ہاں۔ دولت راس جو ایک ہندوستانی طالب علم ہے اورمیرے کمرے کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ وہ مجھ سے کچھ سوالات پوچھنے آیا تھا۔‘‘

’’ کیا وہ کل امتحان دے رہاہے؟‘‘

’’ ہاں‘‘

’’ اور اس وقت پرچے میز پر تھے؟‘‘

’’ لیکن وہ لفافے میں بندتھے۔ مجھے یقین ہے اسے ان کے متعلق نہیں پتہ چلا ہوگا۔‘‘

’’ اور کس کوپتہ تھاپرچے وہاں پڑے ہیں۔‘‘

’’ صرف پرنٹر کو۔‘‘

’’ ہنری کو بھی نہیں؟‘‘

’’ نہیں۔‘‘

’’ وہ ابھی کہاں ہے؟‘‘

’’ وہ طبیعت خراب محسوس کررہا تھا میں پرچے الماری میں تالا لگا کر اسے اپنے کمرے میں ہی چھوڑ آیا ہوں۔‘‘

’’چلو پھر وہیں چل کر دیکھتے ہیں کیا ماجرا ہے۔‘‘ ہومز نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

مسٹر ولسن کاگھر گراؤنڈ فلور پر تھا اور اوپری منزل پر تین طالبعلموں کے کمرے تھے۔ مسٹر ولسن کا کمرا ذرا اونچائی پرتھاکہ ہومز اگرپنجوں پرکھڑاہو توکھڑکی سے جھانک سکتا تھا۔

’’ یقیناًوہ شخص دروازے سے ہی داخل ہوا ہوگا۔‘‘ ہومز بولا۔

ہم اندر داخل ہوئے۔ ہومز نے اردگرد کا جائزہ لینا شروع کیا۔ ’’ آپ نے کہا تھا کہ اپنے نوکر کو کرسی پرچھوڑ کر آئے تھے۔ کون سی والی؟‘‘

’’ وہاں کھڑکی کے پاس والی۔‘‘

’’ اچھا۔ وہ جو چھوٹی میز کے ساتھ ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہوا ہوگا۔ وہ طالبعلم آپ کی بڑی میز سے پرچے اٹھا کرچھوٹی میز پر آیا تاکہ کھڑکی سے آپ کو آتا دیکھ لے۔‘‘

’’خیر اس نے مجھے آتا نہیں دیکھا ہوگا کیوں میں سامنے والے کے بجائے اس دروازے سے آیا تھا۔‘‘ مسٹر ولسن نے کہا۔

’’ میرے خیال میں اسے پہلا صفحہ اتارنے میں پندرہ منٹ لگے ہوں گے اور جب اس نے دوسرا صفحہ آدھا اتارا ہوگا تو آپ کو آتے ہوئے سنا۔ وہ نہایت جلدی میں تھا کہ پرچوں کو واپس میز پررکھتا۔ کیا آپ نے کسی کو سیڑھیوں سے بھاگ کر اترتے ہوئے سنا جب آپ اندر داخل ہوئے؟‘‘

’’ نہیں میرا نہیں خیال۔‘‘

’’ اس نے نہایت تیزی میں لکھا کہ پنسل بھی ٹوٹ گئی۔‘‘ اتنا کہہ کر ہومز نے پنسل کا نیلے رنگ کا ٹکرا اٹھالیا جس پر انگریزی کا صرف N دوبار لکھا تھا۔

’’ پتہ ہے یہ این این کیا ہے؟ یہ ایک لفظ کا آخر ہے۔ جوہان فیبر ایک مشہور پنسل ساز ہے۔ اب آپ کی درمیان میں رکھی میز دیکھتے ہیں۔ یہ ٹکڑا جو کیچڑ یا کسی اورچیز سے بنا ہے۔ اور آپ کا کہنا ہے کہ اس میں ریت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ کٹ بھی میز پر ہے جو ایک پتلی لکیر سے شروع ہو کر بڑے سوراخ پر ختم ہوتا ہے۔‘‘

اس دوران ہومزنے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ یہ کہاں کھلتا ہے مسٹرولسن؟‘‘

’’ یہ میری خواب گاہ کی طرف کھلتا ہے۔‘‘

’’ کیا آپ اس واقعہ کے بعد سے اس کے اندرداخل ہوئے ہیں؟‘‘

’’ نہیں۔‘‘

’’ تو پھر اس کے اندر کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔ مگر رکیے۔ میں ذرافرش دیکھ لوں۔ ہوں ۔۔۔ یہاں فرش پر تو کچھ نہیں ہے مگر یہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟‘‘ ہومز جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ سوالات بھی کررہا تھا۔ اسی دوران اس نے پردے کے پیچھے جا کرجھک کر کچھ اٹھایا۔ وہاں سے بھی مٹی اور ریت کا وہی ٹکڑا برآمد ہوا جو پہلے میز پرملا تھا۔

’’تو مسٹر ولسن آپ کے سامنے والے دروازے سے آنے کے بجائے دوسرے دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد وہ طالب علم ضرور بد حواس ہوگیا ہوگا اوراپنا سامان اٹھا کر یہیں آکر پردے کے پیچھے چھپ گیا ہوگا۔ اب آپ ذرامجھے ان تینوں طالبعلموں کے بارے میں تفصیل سے بتائیں جو اوپری منزل پر رہتے ہیں۔‘‘

مسٹر ولسن نے بتانا شروع کیا۔ ’’پہلے طالبعلم کا نام گلکرسٹ ہے اوروہ ایک اچھا طالبعلم ہے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی آگے ہے۔ وہ کالج کی فٹبال ٹیم میں کھیلتاہے ۔اس کا قد کافی لمبا ہے اور اونچی چھلانگ کے مقابلوں میں بھی اچھا ہے۔ اس کا باپ بھی تھوڑا مشہور آدمی ہے لیکن اپنی دولت گھوڑوں پر ضائع کرچکا ہے۔ گلکرسٹ کے پاس جیب خرچ کم ہوتا ہے لیکن وہ نہایت محنتی ہے اور اسے وظیفے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ دوسرا طالبعلم دولت راس ایک ہندوستانی لڑکا ہے جو محنتی بھی ہے لیکن اس کی یونانی بہت کمزور ہے۔ جب کہ تیسرا مک لارن ہے وہ نہایت ذہین ہے مگر اس سال اس نے زیادہ محنت نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ امتحان کے متعلق بہت پریشان ہے۔‘‘

’’ چلو اب تمہارے ملازم سے ملتے ہیں۔‘‘ ہومز نے مسٹر ولسن کی بات ختم ہوتے ہی کہا۔

ہنری ایک چھوٹے منہ اور سرمئی بالوں والا پچاس سالہ آدمی تھا جب ہومز نے اس سے گفتگو شروع کی تو وہ کچھ خوفزدہ تھا۔

’’ مسٹر ولسن نے مجھے بتایا ہے تم اپنی چابی دروازے میں لگی چھوڑ گئے تھے۔ 

’’ جی ہاں۔ میں اسی پر شرمندہ ہوں۔ ایساپہلی بار نہیں ہوا ہے۔‘‘

’’ تم اندر کب آئے تھے؟‘‘

’’تقریباً ساڑھے چار بجے تھے کہ میں مسٹر ولسن کے لیے چائے لے کر گیا تھا۔‘‘

’’ تم کتنا وقت اندر رہے؟‘‘

’’ میں مسٹر ولسن کو اندر نہ دیکھ کرنکل گیا تھا۔‘‘

’’ کیا تم نے میز پرپڑے کاغذوں کو دیکھا؟‘‘

’’ جی نہیں۔ جب میں نے دروازہ بند کیا تو چابی نکالنا بھی بھول گیا کیوں کہ میرے ہاتھ میں چائے تھی۔‘‘

’’ مسٹرولسن نے تم سے اس بارے میں کہاں گفتگو کی؟‘‘

’’ کیوں؟ یہیں یہاں دروازے کے قریب۔‘‘

’’ تو پھر تم خرابی طبیعت کے بہانے ان کرسیوں کو چھوڑ کر اس کھڑکی والی کرسی میں کیوں جابیٹھے؟‘‘

’’ مجھے نہیں پتہ سر۔‘‘

’’ کیا تم نے اس بارے میں ان تین طالب علموں سے کوئی ذکر کیا؟‘‘

’’ جی نہیں۔‘‘

’’ شکریہ۔ چلیں مسٹر ولسن اب ہم ذراآپ کے کمروں کے باہرباغیچے کو دیکھیں گے۔

اس وقت اندھیرا ہوچکا تھا اورجیسے ہی ہم باغ میں داخل ہوئے‘ ان تینوں کے کمروں کی کھڑکیاں روشن تھیں۔ ہندوستانی طالب علم اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ پھر ہومز نے کہا۔

’’ میں ان تینوں سے ان کے کمروں میں ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’ بالکل سر۔‘‘

’’ لیکن انہیں میرے بارے میں بتانا نہیں۔‘‘

پہلے ہم گلکرسٹ کے کمرے میں گئے۔ ہومز نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ طالب علموں کے کمرے دیکھنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ یونیورسٹی کے متعلق ایک کتاب لکھ رہاہے۔ ہومز اس سے یونیورسٹی کے متعلق باتیں بھی کررہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنی کتاب میں کچھ خاکے بھی بنارہا تھا۔ اچانک ہومز کی پنسل ٹوٹ گئی اور اس نے گلکرسٹ سے پنسل کا تقاضا کیا۔

چند منٹوں بعد ہم وہاں سے اٹھ گئے اور ہندوستانی طالب علم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ یہاں بھی ہومز نے وہی بات کہی اور ہندوستانی سے پنسل ادھار لی۔

لیکن جب ہم تیسرے طالب علم مک لارن کے کمرے کی طرف بڑھے تو اس نے ہمیں اندر آنے سے منع کردیا۔

’’ آپ لوگ چلے جائیں۔ میرا کل امتحان ہے اور میں کسی سے نہیں ملنا چاہتا۔‘‘

مسٹر ہومز کو یہاں مسٹر ولسن سے صرف ایک ہی سوال کرنا تھا۔

’’ اس کا قد کتنا لمبا ہے۔‘‘

’’ مک لارن ہندوستانی سے تھوڑا اونچا ہے لیکن گلکرسٹ سے چھوٹا ہے۔

’’ شکریہ۔ یہ بہت اہم بات تھی۔‘‘

’’ لیکن مسٹر ہومز۔ ہمیں ابھی تک اس طالب علم کا پتہ نہیں چل سکا۔‘‘ مسٹر ولسن نے بے چینی سے کہا۔

’’ پریشان مت ہوں۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں آپ کے پاس کل آؤں گا اور بتاؤں گا کہ کیا کرنا ہے۔ ابھی آپ کچھ مت کریں۔‘‘

’’ ٹھیک ہے۔‘‘ 

’’لیکن میں یہ مٹی کی گولیاں اور پنسل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے لے جارہاہوں۔

ہم باہر نکلے تو ہومز نے مجھ سے پوچھا کہ تینوں میں سے کون سا طالب علم ہوسکتا ہے۔

’’ ویسے تو یہ مشکل ہے۔ لیکن ہندوستانی بہت بے چین نظر آرہا تھا۔‘‘

’’ ہاں۔ ہوسکتا ہے، مگر میرے خیال میں یہ ہنری کاکام ہے۔‘‘

’’ ہنری؟‘‘

’’ ہاں واٹسن۔ ہنری جیسا ایماندار آدمی بھی کبھی۔ چلو چھوڑو۔ دیکھو سامنے اسٹیشنری کی دکان ہے۔‘‘

یونیورسٹی کے پاس چار دکانیں تھیں جہاں پنسل دستیاب تھی۔ ہومز نے چاروں جگہ پنسل کا وہ ٹکڑا دکھایا مگر وہ پنسل کسی کے پاس نہ تھی۔

’’کوئی بات نہیں واٹسن۔ ہمیں اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ۔ چلو چل کر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘

اگلی صبح، ہومز میرے کمرے میں بہت جلدی آگیا۔ اس نے مجھے فوراً مسٹر ولسن کے کمرے چلنے کو کہا۔

’’ کیا تم نے پتہ لگا لیا؟‘‘

’’ہاں مجھے یقین ہے۔ میں صبح جلدی اٹھ گیا تھا اور ایک لمبی واک کے لیے نکل گیا تھا۔ دیکھو یہ مجھے کیا ملا ہے؟‘‘ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جس میں مٹی کی تین گیندیں تھیں۔ 

’’مگر کل تو تمہارے پاس دو تھیں؟‘‘

’’اور آج صبح مجھے ایک اور مل گئی۔ مجھے یقین ہے یہ بھی وہیں سے آئی ہے جہاں سے پہلی دو۔ چلو مسٹر ولسن کو چل کر بتاتے ہیں کہ اب وہ مزید پریشان نہ ہوں۔‘‘

جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ بہت بے چین تھے کیوں کہ امتحان شروع ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے اور انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔

’’ مجھے آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ کیا ہم امتحان کروا سکتے ہیں؟‘‘

’’ ہاں، کیوں نہیں۔ لیکن ایک طالب علم سوالات جانتا ہے۔ وہ امتحان میں حصہ نہیں لے گا۔‘‘

’’ کیا آپ کو اس کا پتہ ہے؟‘‘

’’میرے خیال میں۔۔۔ چلیں ابھی سچ کا پتہ چل جائے گا۔ مسٹر ولسن آئیے یہاں بیٹھیں۔ واٹسن تم یہاں اور میں یہاں درمیان میں بیٹھوں گا۔ اب ذرا ہنری کو بلائیں۔‘‘

ایک منٹ بعد ملازم ہنری دروازے سے داخل ہوا۔ وہ ہمیں یہاں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔

’’برائے مہربانی دروازہ بند کریں۔ ‘‘ ہومز نے کہا۔

ہنری نے بڑھ کے دروازہ بند کر دیا۔

’’تو مسٹر ہنری کیا آپ بتائیں گے کہ گزشتہ دن کیا ہوا تھا؟‘‘ ہومز نے کہا۔ ہنری کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ ’’ لیکن میں آپ کو سب کچھ بتا چکا ہوں۔‘‘

’’تو پھر مجھے کچھ بتانے دیں۔ کیا جب آپ کل طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر کھڑکی کے پاس والی کرسی کے پاس جا کر بیٹھے تھے تو آپ نے کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی؟‘‘

’’ نہیں سر ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘ہنری کی شکل پر پریشانی کے آثار ابھر آئے۔

’’ یہ ممکن نظر آتا ہے کہ جب مسٹر ولسن دیکھ نہیں رہے تھے تو آپ نے کسی کو کمرے سے نکل جانے کا موقع دیا تھا جو خواب گاہ میں چھپا ہوا تھا۔‘‘

’’ مگر وہاں کوئی نہیں تھا سر۔‘‘

’’ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے مسٹر ہنری کہ مجھے آپ سے سچ اگلوانے کے لیے کچھ اور کرنا پڑے گا۔ اب آپ ذرا سامنے کھڑے ہوجائیں اور مسٹر ولسن آپ گلکرسٹ کو یہاں بلوائیں۔‘‘

چند منٹوں بعد مسٹر ولسن گلکرسٹ کو لیے داخل ہوئے۔ اس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔ پہلے تو وہ ہمیں دیکھ کر ٹھٹھکا ۔ پھر یک دم ہنری کی طرف مڑا اور عجیب نظروں سے دیکھا۔

’’دیکھیں مسٹر گلکرسٹ۔ یہاں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ہم ایک دوسرے سے ایمانداری کے ساتھ معاملہ کر سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ خود ہی بتادیں کہ آپ نے گزشتہ روز ایسا کیوں کیا۔‘‘

اب کی مرتبہ گلکرسٹ نے ہنری کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔

’’ نہیں نہیں مسٹر گلکرسٹ میں نے ایک لفظ نہیں انہیں بتایا۔‘‘ 

’’ دیکھا گلکرسٹ، ہنری کے ان الفاظ کے بعد اب کچھ ایک ہی کام کر سکتے ہیں۔ آپ کو ہمیں سچ بتانا ہوگا۔‘‘

گلکرسٹ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے؟ پھر وہ اچانک گھٹنوں کے بل گر پڑا اور ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر معافی مانگنے لگا۔ 

’’اٹھ جاؤ گلکرسٹ۔ کبھی نہ کبھی سب اس طرح کی مشکلات میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ شاید یہ بات زیادہ آسان رہے گی کہ میں مسٹر ہنری کو گزشتہ دن کے بارے میں بتاتا جاؤں اور وہ صرف مجھے اتنا بتاتے رہیں کہ میں ٹھیک ہوں یا غلط۔ تمہیں کوئی جواب نہیں دینا ہو گا صرف سننا ہوگا۔‘‘ یہاں ہومز نے تھوڑا توقف کیا پھر شروع ہوا۔ 

’’ تو جو طالب علم یہاں آیا اسے معلوم تھا کہ پرچے یہاں پڑے ہیں اور وہ کھڑکی سے داخل نہیں ہوا۔ کیوں کہ ایسا کرتے ہوئے اسے دوسرے دیکھ لیتے اور صرف لمبے قد کا شخص ہی اس کھڑکی سے یہاں نظر دوڑا سکتا ہے۔ اور یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ضرور امتحانی پرچے ہوں گے۔ گلکرسٹ چوں کہ لمبی چھلانگ کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتا ہے اس لیے یہ دوپہر کو اپنی مشقوں سے واپس آرہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے گزرتے ہوئے میز پر پڑے پرچے دیکھ لیے تھے اور جب دروازے کے آگے سے گزرتے ہوئے اس نے چابی لگی دیکھی تو اندر جانے کا ارادہ کیا۔ گلکرسٹ نے اسپورٹس شوز اتار لیے تاکہ فرش پر مٹی نہ گرے اور انہیں میز پر رکھ دیا۔ اچھا گلکرسٹ تم نے صوفے پر کیا چیز پھینکی تھی؟‘‘

’’جی۔۔۔ وہ دستانے۔‘‘

’’ہاں تو اس کے بعد گلکرسٹ نے ان پرچوں کی نقل اتارنا شروع کی لیکن جب مسٹر ولسن غیر متوقع طور پر سامنے کے بجائے اس دروازے سے آئے تو گلکرسٹ کو جلدی میں صرف جوتے اٹھانے کا موقع ملا اور وہ خواب گاہ میں جا کر پردے کے پیچھے چھپ گیا۔‘‘ جس کا ایک ثبوت یہ میز پر پڑنے والا نشان ہے جو اسپورٹس شوز کے کیل سے پیدا ہوا اور ایک لکیر کی صورت میں گہرا ہوتے ہوئے خواب گاہ کی طرف جا کر ختم ہو رہا ہے۔‘‘ ہومز بولے جا رہا تھا اور باقی حیرت سے تک رہے تھے۔

’’اس کے علاوہ آج صبح میں جب چہل قدمی کے لیے ذرا دور نکل گیا تو مجھے کچھ لڑکے لمبی چھلانگ کی مشقیں کرتے نظر آئے۔ وہاں بھی ایسی ہی قسم کی مٹی مجھے نظر آئی جو یہاں فرش پر اور خواب گاہ میں ملی تھی۔ کیا میں نے درست کہا گلکرسٹ؟‘‘

’’جی ۔۔۔ بالکل۔‘‘

’’تو آپ بتانا پسند کریں گے مسٹر ہنری کہ آپ نے گلکرسٹ کی مدد کیوں کی؟‘‘ ہومز نے مڑتے ہوئے سوال کیا۔

’’جناب میں جب گزشتہ روز کمرے میں داخل ہوا تو پہلی چیز جو دیکھی وہ اس کرسی پر گلکرسٹ کے دستانے پڑے دیکھے۔ میں سمجھ گیا کہ کیا ہوا۔ میں جا کر ان پر بیٹھ گیا اور اتنے میں مسٹر ولسن آپ کو دیکھنے چلے گئے۔ پھر گلکرسٹ باہر نکلا اور مجھے بتایا کہ اس نے کیا کیا ہے۔ میں ان کے والد کو برسوں سے جانتا ہوں جو آج کل سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لیے میں نے ان کی مدد کرتے ہوئے کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔‘‘ ہنری نے اتنا کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔

’’ہاں۔۔۔ لیکن تمہیں صرف ایک حقدار کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ وظیفے کا امتحان دینے والا ہر طالب علم انصاف کا حقدار ہوتا ہے۔‘‘ ہومز نے یہاں کہہ کر مسٹر ولسن کی طرف دیکھا۔

’’ ہاں البتہ گلکرسٹ میں تمہیں معاف کر دینے کے بعد اتنی رعایت کر سکتا ہوں کہ اس مضمون کا الگ سے پرچہ بنا کر تم سے لے لوں۔ تم ابھی جاؤ اور بقیہ پرچوں کی تیاری کرو۔‘‘ مسٹر ولسن نے اتنا کہا تھا کہ گلکرسٹ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے باہر نکل گیا۔

*۔۔۔*۔۔۔*