ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںجاسوسی کہانیاںنیلا ہیرا

نیلا ہیرا

تحریر: آرتھر کونن ڈائل

ترجمہ: محمد الیاس نواز

۔۔۔۔۔۔۔

نیلے ہیرے کی کہانی۔۔۔۔جو ایک عجیب و غریب طریقے سے چھپایا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

میرانام’ ڈاکٹر واٹسن‘ ہے اور میں مشہورکھوجی(سراغ رساں)’شرلاک ہومز‘کااچھا دوست ہوں۔پچھلے سال عید کے دو دن بعد میں اس کے گھر’221Bبیکراسٹریٹ گیا۔میں اسے عید کی مبارکباد دینا چاہتا تھا۔وہ مجھے بیٹھک میں کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا ملا ۔ اس کے ساتھ ہی چند اخبارات رکھے ہوئے تھے۔ قریب رکھی کرسی پر ایک پرانا ہیٹ(Hat) ٹنگا ہوا تھا۔شرلاک کے ہاتھ میں ایک محدب عدسہ(magnifying glass)تھا۔

’’تم کچھ کام کر رہے ہو،میں جاؤں؟‘‘میں نے کہا۔

’’نہیں،بیٹھ جاؤاور ا س پرانے اوردلچسپ ہیٹ کی طرف دیکھو۔‘‘اس نے جواب دیا۔

میں بیٹھ گیا۔اس وقت باہر سڑک پر کافی ٹھنڈ تھی مگر ہومز کی بیٹھک گرم تھی۔

’’اس پرانے ہیٹ میں تمہاری کیا دل چسپی ہے ،کیا یہ کسی جرم میں استعمال ہوا ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔

ہومز نے ہنستے ہوئے جواب دیا’’نہیں جرم میں نہیں۔مجھے یہ بیکر اسٹریٹ ہوٹل کے دربان’ پیٹرسن‘ سے ملا ہے۔اور اسے عید والے دن سڑک پر پڑا ہوا ملا تو اس نے مجھے دکھانے کے لئے اٹھا لیا۔اسی وقت دربان کواِس کے ساتھ ایک پرندہ بھی ملاتھا....یہ ایک اچھا اور صحت مند عید ہنس (ایک پرندہ راج ہنس)تھا۔میں نے وہ ہنس آج صبح اسے واپس کر دیا۔وہ آج رات اسے اپنے گھر پر پکا کر کھانے جا رہا ہے۔‘‘

’’پہلے یہ ہیٹ تھا اور اب تم ہنس کے بارے میں با ت کر رہے ہو،میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا۔‘‘میں نے کہا۔

’’چلو پھر شروع کرتے ہیں کہ اس کا آغاز کیسے ہوا۔‘‘ہومز نے کہا۔

’’عید والے دن صبح تقریباً چار بجے’ پیٹرسن‘ اپنا کام ختم کرکے گھر جا رہاتھا۔جب وہ ’عدالتی سڑک‘ پر پہنچا تواس نے دیکھا کہ ایک لمبا آدمی کندھے پر ہنس لٹکائے جارہاہے۔وہ تھوڑی دیر اس کے پیچھے چلتا رہا۔ سامنے ہی سڑک پر چند نوجوان بھی موجود تھے۔اچانک ان میں سے ایک نے لمبے آدمی کے سر پر رکھے ہیٹ کو نشانہ بنایا جس سے اس کا ہیٹ سڑک پر گر گیا۔لمبے آدمی نے اپنی چھڑی سے نوجوان کو مارنے کی کوشش کی ،مگرحادثاتی طور پروہ پچھلی دوکان کی کھڑکی سے ٹکرا گیا،جس سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔اسی لمحے پیٹرسن اس آدمی کی طرف بڑھا تاکہ اس کی مدد کر سکے مگرلمبے آدمی نے دوڑ لگادی، شاید دکان کا شیشہ ٹوٹنے سے وہ گھبراگیا تھا۔اورپیٹرسن کودربان والے کوٹ اور ہیٹ میں دیکھ کر شاید وہ اسے پولیس والا سمجھا۔جب وہ بھاگا تو اپنا ہیٹ اورساتھ ہی عید ہنس بھی سڑک پر ہی چھوڑ گیا۔اسی لمحے نوجوان بھی بھاگ گئے۔پیٹرسن ہیٹ اور ہنس اٹھا کر اپنے گھر لے گیا اور اگلے دن یہاں لے آیا۔ہنس کے بائیں پاؤں کے ساتھ ایک چھوٹی سی دلچسپ چٹھی(پرچی) لگی ہوئی تھی۔جس پر لکھا تھا’مسٹر ہنری بیکر اور اہلیہ کے لئے‘۔اس کے علاوہ ہیٹ پر بھی ’ایچ.بی‘لکھا ہوا ملا ہے۔‘‘ہومز نے بتایا۔

’’اوہ.....ہیٹ اور ہنس کے مالک کا نام ’ہنری بیکر‘ہے۔‘‘میں نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔!مگر واٹسن....میرے عزیز...اس سے ہمیں کوئی زیادہ مدد نہیں ملتی۔یہاں لندن میں تو سیکڑوں ہنری بیکر ہیں۔میں نے آج صبح پیٹرسن کویہ کہہ کر ہنس واپس کر دیاکہ’’یہ تمہارے رات کے کھانے کے لئے ہے۔کیوں کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ کچھ برا ہو جائے.....تم توجانتے ہو۔‘‘

’’کیا مسٹر بیکر نے اپنے ہیٹ اور ہنس کے حوالے سے اخبار میں کوئی اشتہاردیا؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’نہیں‘‘ہومز نے جواب دیا۔

’’پھر ہم کس طرح اسے ڈھونڈ سکتے ہیں؟‘‘

’’درست...شاید یہ ہیٹ ہماری مدد کر سکتاہے۔۔۔ واٹسن!فرض کرو کہ تم منٹ دومنٹ کے لئے ایک کھوجی ہواوریہ میرا محدب عدسہ ہے۔تم مجھے اس ہیٹ کے مالک کے بارے میں کیا بتا سکتے ہو؟‘‘ہومز نے کہا۔

میں نے محدب عدسہ لیا اورکالے رنگ کے ہیٹ کو دیکھاجو بے حد گندااور پرانا تھا۔میں نے اس پر الفاظ’HB‘بھی دیکھے۔میرے لئے یہ کسی بھی طرح کسی دوسرے پرانے اور کالے ہیٹ سے مختلف نہیں تھا۔

’’میں کچھ نہیں دیکھ پایا۔‘‘میں نے یہ کہتے ہوئے کالا ہیٹ اپنے دوست کو دے دیا۔

’’معاف کرنا واٹسن۔تم نے دیکھا تو سہی مگر تم نے سوچا نہیں کہ تم نے کیا دیکھا۔‘‘

’’بالکل ٹھیک!۔۔۔تم اس ہیٹ میں کیا دیکھ سکتے ہو؟‘‘میں نے کہا۔

’’اس ہیٹ کا مالک ایک ذہین آدمی ہے۔وہ کبھی امیر تھا مگر اب غریب ہے۔اس کی بیوی پہلے کبھی اس سے محبت کرتی تھی مگر اب نہیں کرتی،اور وہ ایک تیس سے چالیس سال کے درمیان کا آدمی ہے۔‘‘ہومز بولا۔

’’درست...شاید میں کندذہن ہوں ہومز!... مگرمجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم یہ کیسے سوچ سکتے ہو کہ وہ ایک ذہین آدمی ہے؟‘‘

ہومز نے ہیٹ اپنے سر پر رکھاتو وہ اس کی ناک تک آگیا۔’’یہ ایک بڑاہیٹ ہے۔ایک بڑے ہیٹ والے آدمی کا ایک بڑا سر ہوتا ہے۔اور ایک بڑے سر والے آدمی کا ایک بڑا دماغ ہوتا ہے۔اور ایک بڑے دماغ کے ساتھ ایک انسان بہت کچھ سوچتا ہے۔‘‘

’’مگر تم نے کہا کہ وہ کبھی امیر تھا مگر اب غریب ہے،...کیسے؟‘‘

’’ہیٹ تین سال پرانا ہے اور مجھے یاد ہے کہ یہ ہیٹ اُن دنوں ساری دکانوں پر آئے تھے اور کافی مہنگے تھے۔تین سال پہلے اس آدمی نے ایک اچھا ہیٹ خریدا تھا یعنی وہ اس وقت امیر تھا،مگر اب اس کے پاس رقم نہیں ہے کہ وہ نیا ہیٹ خرید سکے۔لہٰذا اِن دنوں وہ غریب ہے۔‘‘

’’بالکل ٹھیک،مگر تم نے کہا کہ وہ ایک تیس سے چالیس سال کا آدمی ہے۔یہ بات ہیٹ تمہیں کس طرح بتاتا ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’ہاں...جب میں نے اپنے محدب عدسے کے ذریعے دھیان کے ساتھ ہیٹ کا معائنہ کیا تومیں ہیٹ پر لگے چند سرمئی بال دیکھنے کے قابل ہوسکا۔عام طور پر لوگوں کے سرمئی بال تیس سے چالیس کے درمیان ہوتے ہیں۔‘‘

’’میں سمجھ گیا،...مگر اس کی بیوی کے بارے میں کیا خیال ہے....تم نے کہا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی۔‘‘

’’کیونکہ اس کا ہیٹ بہت گند اہے ۔جب ایک عورت اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے تواس کا ہیٹ بھی صاف رکھتی ہے۔‘‘

’’شاید اس کی بیوی نہیں ہے۔‘‘

’’ہاں!اس کی بیوی ہے،یاد کروہنس کی بائیں ٹانگ پر چٹھی۔‘‘

’’اوہ..ہاں۔تمہارے پاس تو ہر چیز کا جواب ہے۔‘‘میں نے کہا۔

اسی لمحے دروازہ کھلااور ہوٹل کا دربان پیٹرسن بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔وہ بہت جذباتی نظر آرہا تھا۔

’’ہنس...مسٹرہومز....ہنس۔‘‘وہ بولا۔

’’ہنس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟کیا وہ دوبارہ زندہ ہو کر باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر اُڑ گیاہے؟‘‘ہومز نے پوچھا۔

’’نہیں مسٹر ہومز،میری بیوی کو پرندے کے اندر سے یہ ملا ہے۔‘‘پیٹرسن نے مٹھی کھولی تو اس میں ایک نیلے رنگ کا خوب صورت ہیرا تھا۔

جب شرلاک ہومز نے دربان کے ہاتھ میں ہیرا دیکھا تو سیدھا تن کر بیٹھ گیااور بولا’’بہت خوب پیٹرسن۔ہنس کے اندر سے کیا حیرت انگیز چیز ملی ہے۔تم جانتے ہو کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘

’’میرے خیا ل میں یہ ایک ہیرا ہے مسٹر ہومز۔۔۔کیا یہ قیمتی ہے؟‘‘

’’یہ نواب مارکر کی بیوی کا نیلاہیر اہے اور ایک ہفتے پہلے گم ہوا تھا۔‘‘

’’یہ تم کیسے جانتے ہو؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’واٹسن،تم اکثر و بیشتراخبار ضرور پڑھا کرو۔آج کے ٹائمز اخبار میں اس کے بارے میں اشتہار ہے۔یہ دیکھو۔‘‘ہومز نے اخبار مجھے دیا اور پھر وہ دربان سے مخاطب ہوا۔

’’یہ بہت قیمتی ہیرا ہے پیٹرسن!..بیگم نواب تقریباً’ بیس ہزار پاؤنڈاس کی قیمت ادا کر چکی ہیں۔اسکوپچھلے ہفتے کاسموپولیٹن ہوٹل میں ان کے کمرے سے کسی نے اٹھا لیا تھا۔اب وہ اسے واپس حاصل کرنا چاہتی ہیں اوران کا کہنا ہے کہ وہ تلاش کرنے والے کو ہزاروں پاؤنڈ دینے کو تیار ہیں۔‘‘

’’ہزاروں پاؤنڈ‘‘پیٹرسن جذباتی انداز میں چیخااورپھر کچھ کہے بغیرہمارے درمیان کرسی پر بیٹھ کر پہلے ہومز کو اور پھر مجھے دیکھا۔

’’میرے خیال میں ہیرا پانچ دن پہلے گم ہوا تھا۔‘‘میں نے کہا۔

’’ہاں!اس معاملے کی اخباری رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک جوان آدمی’جان ہارنر‘کو دیکھا تھاجس نے ہیرا اٹھایا ۔‘‘ہومز نے جواب دیا۔

ہومز نے مجھے ایک پرانا اخبار دیا اور میں نے رپورٹ پڑھی۔

کاسموپولیٹن ہوٹل سے ہیرے کی گم شدگی:

’’اس مہینے کی 22تاریخ کو کاسمو پولیٹن ہوٹل کے کمرے سے بیگم نواب کا ایک نیلا ہیرا گم ہو گیا ۔پولیس کا خیال ہے کہ یہ ہیرا 26سالہ جان ہارنر نے زیورات کے ڈبے میں سے اس وقت اٹھایا جب وہ کھڑکی کی مرمت کرنے آیا۔ہوٹل کے اسسٹنٹ منیجر’ جیمزرائیڈر‘نے عدالت کو بتایاکہ’’میں ہارنرکولے کربیگم نواب کے کمرے میں آیا ، پھر اسکو چھوڑ کرتھوڑی دیر کے لئے باہر چلاگیا ،اور جب دوبارہ واپس آیا توہارنر وہاں نہیں تھا۔البتہ ڈبہ بستر کے ساتھ والی میز پرکھلا پڑاتھا اور ہیرا اس میں نہیں تھا۔‘‘

بیگم نواب کی ملازمہ’کیتھرین کوسیک‘نے بیان دیا کہ’’میں نے مسٹررائیڈرکو آواز دیتے ہوئے سنا تو میں دوڑی ہوئی کمرے میں آئی۔میں نے دیکھا کہ مسٹر رائیڈر وہاں کھڑے ہیں اورڈبہ ان کے سامنے ہے۔‘‘

واردات کے ایک دن بعد ہارنرکو پولیس نے گھر سے گرفتارکیا مگروہ ہیرا برآمد نہیں کروا سکے۔اس کے بعد تفتیش کار’ بریڈا سٹریٹ ‘نے عدالت کو بتایا’’جب میں نے اس سے کہا کہ تم ہیرا چور ہوتو اس نے مجھے مارا۔‘‘

اس کے بعد ہارنر نے عدالت کو غصے میں کہا’’آپ نے غلط آدمی کو پکڑا ہے۔میں نے بیگم نواب کا ہیرا نہیں اٹھایا۔میں چور نہیں ہوں۔‘‘

اس کے بعد بریڈ اسٹریٹ نے عدالت کو بتایا ’’ہارنر پہلے بھی ایک بار چوری کے الزام میں قید کاٹ چکا ہے۔میں کہتا ہوں اسی نے ہیرا چرایا ہے۔‘‘

معاملہ اگلے ہفتے اعلیٰ عدالت میں جا رہا ہے۔‘‘

’’خوب... تو یہ ہے ہیرے کے بارے میں اخباری رپورٹ۔‘‘

ہومز نے کہا’’اب ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہیراکس طرح کاسمو پولیٹن ہوٹل میں موجود بیگم نواب کے کمرے سے نکلا اور عدالتی سڑک پر ایک ہنس کے اندر پہنچا۔تم نے دیکھا واٹسن،اس معاملے میں ایک جرم ہے،یعنی یہاں ایک ہیرا ہے،جو ہنس کے اندر سے ملا،اورہنس پرانے ہیٹ والے آدمی ہنری بیکرسے ملا۔میں جانتا ہوں کہ جب میں تمہیں مسٹر ہنری بیکر کے بارے میں بتا رہا تھا تو تم ہلکی سی بیزاری محسوس کر رہے تھے مگر اب ہم اسے ضرور تلاش کر لیں گے۔وہ نیلے ہیرے والے معاملے میں کب اور کیسے آیا؟ان دوسوالوں کے جواب بہت اہم ہیں۔‘‘

’’مگر ہم کس طرح اسے تلاش کر سکتے ہیں۔‘‘میں نے پوچھا۔

’’اخباری اشتہار کے ذریعے۔‘‘ہومز نے کہا۔

اس نے قلم اٹھایااور لکھنا شروع کردیا:

’’کیا آپ کا ہنس اور کالا ہیٹ کچھ دن پہلے عدالتی سڑک پر گم ہوا؟

کیاآپ کا نام ’ہنری بیکر‘ ہے؟

مہربانی فرما کر آج شام6:30بجے،221Bبیکراسٹریٹ پر تشریف لائیے اور اپنی چیزیں لے جائیے۔‘‘

’’میرا خیال ہے یہ اشتہار سب کچھ بول رہا ہے۔‘‘ہومز نے کہا۔

’’ہاں ،مگر کیاوہ اسے پڑھے گا؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’ہاں واٹسن!میرے خیال سے وہ ایک غریب آدمی ہے۔یادرکھو!اس وقت وہ خوف زدہ تھاکیونکہ وہ دکان کی کھڑکی کے ساتھ ٹکرا گیا تھا،مگر مجھے یقین ہے کہ اب وہ افسوس کر رہا ہوگاکہ ’’میں اپنا پرندہ سڑک پر چھوڑ کر کیوں بھاگا؟‘‘،میرا خیال ہے اشتہارات کیلئے اس نے کل کے اخبارات بھی دیکھے ہوں گے اور آج کے بھی دیکھے گا۔‘‘

’’ہاں ،میں سمجھ رہاہوں۔‘‘میں نے کہا۔

ہومز نے دربان کوکچھ رقم دی اور کہا’’پیٹرسن!مہربانی کرکے نیچے جاؤاور شام کے سارے اخبارات میں یہ اشتہار لگوا دو۔‘‘

’’بہت اچھا جناب!....اور کیا ہیرا آپ کے پاس ہی چھوڑ جاؤں ؟‘‘

’’ہاں پیٹرسن! ...اور میں یہ کہہ رہاتھاکہ کیا تم اشتہار دینے کے بعد واپس آتے ہوئے ایک ہنس خریدکریہاں لا سکتے ہو؟ہمیں ہنری بیکر کے لئے ایک نیا ہنس چاہیے ...اگروہ آتا ہے تو...پرانے ہنس کوتو تمہارا خاندان آج رات کے کھانے میں کھا نے جا رہا ہے،لہٰذاوہ تو اسے نہیں مل سکتا۔‘‘

دربان دروازے سے باہر نکلااور سڑک پر اتر گیا۔ہومز نے نیلا ہیرا اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے دیکھتے ہوئے بولا۔’’کیاخوب صورت چیز ہے۔اس کے عجیب رنگوں کو دیکھو۔تیز نیلا اور ٹھنڈا سفید۔تمام بڑے نگینے بالآخرلوگوں کو چور اور قاتل بناتے ہیں۔یہ جنوبی چین کے دریا آموئے کے قریب سے آیا ہے اور صرف بیس سال پرانا ہے،یعنی یہ ایک نئی چیز ہے۔مگر پہلے سے ہی اس کی وجہ سے بھیانک جرائم ہو رہے ہیں۔

میں اسے اپنی تجوری میں رکھنے جا رہا ہوں۔اور پھر میں بیگم نواب کو خط لکھوں گااور کہوں گا کہ خوب صورت نیلا ہیرا ہمارے پاس ہے۔‘‘

’’مگرہومز!۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنے سب کچھ کے بعد بھی نوجوان ہارنرمعصوم کیسے ہے۔‘‘میں نے کہا۔

’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘

’’اور ہیٹ اور ہنس والے ایک لمبے آدمی.... ہنری بیکر کے بارے میں کیا خیال ہے؟...شاید وہ ہیرے کا چور ہو؟‘‘

’’نہیں،میرا نہیں خیال کہ وہ ایساہے۔مجھے یقین ہے کہ وہ معصوم آدمی ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ ہنس کے اندر ایک قیمتی ہیرا موجودتھا۔ہیرے کی مالیت بیس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔دیکھو اور انتظار کرو،شایدآج شام مسٹربیکر ہمارے اشتہار کاجواب دے اورہم اس کے بارے میں کچھ اور جان سکیں۔‘‘

’’بالکل ٹھیک۔میں آج شام کام ختم کر کے آتا ہوں،مجھے اس معاملے کے حل کے بارے میں بہت دل چسپی ہے۔‘‘میں نے کہا۔

’’بہت اچھا،رات کا کھاناسات بجے ہے۔‘‘ہومز نے جواب دیا۔

میں شام 6:30بجے بیکراسٹریٹ پرآیا تووہاں پہلے سے ایک لمبا آدمی شرلاک ہومز کے دروازے پر موجود تھا۔اس نے سردیوں کا لمبا کوٹ پہن رکھا تھا اوراس کے سر پر اسکاٹش ہیٹ تھا۔جب میں قریب پہنچا تودروازہ کھلا۔ہومز کی گھریلو ملازمہ’ مسز ہڈسن‘ نے ہمیں شام بخیر کہااور ہم سیڑھیاں چڑھ کر ہومز کے کمرے میں جا پہنچے۔

’’مجھے یقین ہے کہ آپ مسٹر ہنری بیکر ہیں۔۔۔مہربانی فرماکر بیٹھئے!‘‘جب وہ آدمی اندر داخل ہواتوہومز نے اس سے کہا ۔‘‘

ہومز نے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔

’’آہا...واٹسن،تمہاری کیا بات ہے،جب بھی ہم تمہاری ضرورت محسوس کرتے ہیں تم یہاں ملتے ہو۔‘‘

پھر اس نے دوبارہ اپنے دوسرے مہمان کی طرف دیکھا۔

’’کیایہ آپ کا ہیٹ ہے ،مسٹر بیکر؟‘‘

مسٹر بیکر نے کرسی پر ٹنگے ہیٹ کو دیکھا۔

’’ہاں،جناب یہ میرا ہیٹ ہے ،اس کے بارے میں تو کوئی دوسرا سوال ہی نہیں ہے۔‘‘

یہ ایک بڑے سر والا بڑا آدمی تھا۔ذہانت بھرے چہرے اور سرمئی بالوں والا۔مجھے اس کے بارے میں ہومز کے کہے ہوئے الفاظ یاد آگئے۔اس نے پرانا اور گندا کوٹ پہن رکھاتھا جس کے اندر قمیض نہیں تھی،مگروہ آہستہ اور احتیاط سے بول رہا تھا۔میں نے اسے دیکھا ،سنا اورپھر سوچا ’’یہ ایک ذہین آدمی ہے۔یہ کبھی امیرتھا مگر اب اس کے پاس دولت نہیں ہے اور چیزیں خریدنااس کے لئے اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘

’’ہمیںآپ کا ہیٹ اور ہنس کچھ دن پہلے ملے مگر آپ ہمیں اتنی آسانی سے نہیں مل سکتے تھے مسٹر بیکر!....ہم آپ کا پتا نہیں جانتے تھے۔آپ نے اخبار میں اپنے پتے کے ساتھ ایک اشتہار کیوں نہیں دے دیا؟ہم نے آپ کی طرف سے کسی اشتہار کا بہت انتظار کیا مگر ہمیں کچھ نظر نہیںآیا۔‘‘ہومز نے کہا۔

مسٹر بیکر مسکر ایا’’میں معافی چاہتا ہوں۔اشتہار مہنگا ہوتا ہے اور میرے پاس آج کل زیادہ رقم نہیں ہے،کبھی ہوتی تھی مگر اب نہیں ہے۔‘‘وہ رکا اور بولا۔’’اور میں یہ سمجھا کہ عدالتی سڑک والے نوجوان میرا ہیٹ اور ہنس لے گئے ہوں گے۔اور میں بے کار کے لئے اخبار میں کوئی مہنگا اشتہار نہیں دینا چاہتا تھا۔‘‘

’’میں سمجھ گیا۔اب اس سے پہلے کہ ہم مزید کچھ کہیں،میں آپ کوآپ کے ہنس کے بارے میں کچھ بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔مسٹر بیکر!... میں معافی چاہتا ہوں مگر....خیر....ہم اسے کل کھا چکے ہیں،اگر آپ کو معلوم نہ ہو۔‘‘ہومز نے کہا۔

’’آپ اسے کھا چکے ہیں۔‘‘ہمارے مہمان نے جذباتی انداز میں کھڑے ہو تے ہوئے کہا ۔

’’ہاں،خیر ہم نہیں چاہتے کہ آپ نامناسب طریقے سے جائیں...آپ دیکھئے کہ ہم نے آج صبح ہی آپ کے لئے ایک نیااور دلکش ہنس خریدا ہے۔وہ دروازے کے ساتھ میز پر رکھا ہے...یہ سب تو آپ کے لئے ٹھیک ہے ناں؟‘‘

’’اوہ،ہاں ہاں۔‘‘مسٹر بیکر خوشی سے بولا اور دوبارہ بیٹھ گیا۔

’’اور چلئے چل کردیکھتے ہیں۔۔۔میرا خیال ہے کہ آپ کے پرانے ہنس کی ٹانگیں،سر اور اندر کی ہر چیزباورچی خانے میں رکھی ہوگی،آپ کو اگر چاہئے تو....‘‘

آدمی ہنسااور بولا’’نہیں نہیں۔۔۔مگر میں یہ ضرور پسند کروں گا کہ نیا اور دلکش ہنس اپنے ساتھ گھر لے کر جاؤں۔آپ کابہت شکریہ۔‘‘

شرلاک ہومز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔پھراس نے مسٹر بیکر سے کہا’’بہت اچھا۔۔۔وہ رہاآپ کا ہنس اور ہیٹ ،مہربانی فرما کر انہیں اٹھا لیجئے...او ہ ہاں...اس سے پہلے کہ آپ رخصت ہوں،آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ نے یہ ہنس کہاں سے لیا تھا؟۔۔۔میں ہنسوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں اور اسی لئے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ایک شاندار پرندہ تھا۔‘‘

بیکر نے ہیٹ اور ہنس اپنے ہاتھ میں اٹھالئے ،پھربولا’’بہت اچھا جناب!میں نے یہ برطانوی عجائب گھر کے ساتھ والی سرائے ’الفا‘سے لیا تھا۔اس سال الفا کے مالک ’ونڈیکیٹ‘ نے ہنس کلب کھولا ہے۔ہر ہفتے ہم کچھ پیسے گلک میں ڈال دیتے ہیں اور عید کے موقع پر ہم اس ساری رقم سے ہنس لے لیتے ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے خدا حافظ کہا اور چلا گیا۔

’’خوب۔یہ توجوابات ہو گئے ایک سوال کے کہ مسٹربیکر ہیراچور نہیں ہے۔واٹسن تمہیں بھوک تو نہیں لگی؟‘‘میرے کھوجی دوست نے کہا۔

’’نہیں زیادہ نہیں۔‘‘

’’توپھر ہم کھانابعد میں ہی کھائیں گے،ہمیں اس وقت لازمی الفا جانا ہے۔ہمیں اسی رات مسٹر ونڈیکیٹ سے ملناچاہئے‘‘

ہومز اور میں کوٹ اور ہیٹ لے کر سردی میں ٹھنڈی سڑک پر نکل کھڑے ہوئے۔ہمارے سروں پر اندھیرا آسمان تھا۔ہم مشرق کی طرف کچھ دیر چل کر الفا کے سامنے جا پہنچے۔ہومز نے دروازہ کھولا اور ہم اندر داخل ہو گئے۔

اندر سرائے کے مالک ونڈیگیٹ نے ہمیں کچھ مشروب پیش کیا۔

’’کیا یہ مشروب اچھا ہے؟۔۔۔میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے ہنس بہت اچھے ہیں۔مسٹر ہنری بیکر نے ہمیں تمہارے ہنس کلب کے بارے میں بتایا ہے۔‘‘ہومز نے اس سے پوچھا۔

’’آہ ہاں،مگر یہ ہنس ہمارے ہنس نہیں تھے۔ایک اور آدمی کی طرف سے آئے تھے۔اس کی ’کووینٹ گارڈن‘ میں چھوٹی سی دکان ہے۔اس کا نام ’بریکن رِج‘ہے۔‘‘

’’شکریہ میرے اچھے انسان۔‘‘ہومز نے کہا۔ہم نے مشروب کی قیمت اد اکی۔سرائے میں ہی ٹہلتے ہوئے مشروب پیا اور گرم سرائے سے نکل کر دوبارہ ٹھنڈی رات میں آگئے۔

’’اور اب کووینٹ گارڈن۔‘‘ہومز نے کہااور ہم برطانوی عجائب گھروالی سڑک کی طرف چل پڑے۔

’’یادرکھو واٹسن!یہ سب ایک ہنس سے شروع ہوا اوریہ ختم ہونے جا رہا ہے ہارنر کی سات سالہ قید پر۔شاید ہم اس دل چسپ معاملے کے بارے میں مسٹر بریکن رج کی دکان پر مزید جان سکتے ہیں۔‘‘

ہم جنوب کی طرف چلتے ہوئے جلد ہی مسٹر بریکن رج کی دکان پر پہنچ گئے۔بریکن رج اورایک لڑکا دکان کے دروازے پر ہی موجود تھے۔شاید رات کے اس پہر دکان بند ہونے کے قریب تھی۔

’’شب بخیر ،بڑی سرد رات ہے۔‘‘مسٹر ہومز بولا۔

’’میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔‘‘ مسٹربریکن رج نے پوچھا۔

ہومز نے دکان کی خالی کھڑکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا’’میر اخیال ہے کوئی ہنس نہیں ہے۔‘‘

’’دوسری دکان میں ہیں کچھ...آپ کی پچھلی طرف۔‘‘

’’آہ ہاں،مگر میں آپ کی طرف آیا ہوں کیوں کہ میں نے سناہے کہ آپ کے ہنس بہت اعلیٰ ہیں۔۔۔’’بریکن رج کے پرندے شاندار۔‘‘۔۔۔وہ بولا۔

’’کس نے کہا؟‘‘

’’الفا کے مالک نے۔‘‘

’’آہا،ہاں...اس نے عیدسے دودن پہلے چوبیس ہنس لئے تھے۔‘‘

’’وہ تو بہت اچھے تھے،آپ نے کہاں سے لئے تھے؟‘‘

’’یہ تو میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔‘‘بریکن رج غصے سے بولا۔

’’باربار لوگ آ کر ان ہنسوں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔میں نے ان کی اچھی خاصی رقم ادا کی تھی۔میں انہیں الفا بھیج کر سب بھول گیا مگر پھربھی اس کے بعد سارے سوالات شروع ہوگئے کہ ...ہنس کہاں ہیں؟...آپ ان کا کتنا معاوضہ چاہتے ہیں؟...کون آپ کو بیچتا ہے؟...مجھے نہیں پتا کہ لوگ ان میں اتنی دل چسپی کیوں لیتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ لندن میں صرف یہی ہنس تو نہیں ہیں۔‘‘

’’میں جانتا ہوں،مگر اس سے پہلے کس نے تم سے ان ہنسوں کے بارے میں پوچھا؟میں نے تو نہیں پوچھا۔اور مجھے اس کی ضرورت بھی کیا تھی،مگر مجھے اب تمہاری مدد چاہئے۔ہوا یہ کہ ہم نے الفا میں ایک ہنس کھایا تومیں نے کہاکہ یہ ایک دیسی ہنس تھا ،مگر یہ جومیرے دوست ہیں ڈاکٹرواٹسن،یہ کہتے ہیں کہ یہ لندن کا ہنس تھا۔اب ہم میں سے کون ٹھیک ہے ۔یہ ایک اہم سوال ہے،کیونکہ جیتنے والے کو پانچ پاؤنڈ ملیں گے۔‘‘ہومز نے کہا۔

’’اچھا پھر تو تمہارا نقصان ہو گیا اور تمہارا دوست جیت گیا۔وہ ہنس لندن سے آئے تھے۔‘‘بریکن رج بولا ۔

’’میں کیسے یقین کر لوں؟‘‘ہومز بولا۔

’’ایک پاؤنڈ کہتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں۔‘‘

ہومزنے ایک پاؤنڈ جیب سے نکالا اور بولا’’بہت اچھا،میں دینے کو تیار ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ تم اپنی رقم کھونے جا رہے ہو۔‘‘

’’بل بکس (Bill Books)اٹھا کر لاؤ۔‘‘بریکن رج نے ہنستے ہوئے کہا تو لڑکا اٹھا کر لے آیا۔

بریکن رج نے چھوٹی بُک کھولی اور بولا’’یہ میری ایڈریس بُک ہے۔جب لوگ ہنس فروخت کرنے آتے ہیں تو ان کے ایڈریس یہاں ہوتے ہیں۔دیہاتیوں کے بائیں طرف اور شہریوں کے دائیں طرف۔ناموں کے بعد لکھے ہوئے نمبر اصل میں بڑی والی بک کے صفحہ نمبر ہیں۔سیدھی طرف والا تیسرا نام پڑھیے۔‘‘

’’مسز اوکس ہاٹ،117بریکسٹن روڈ،نمبر249‘‘ہومز نے پڑھا۔

پھر بریکن رج نے بڑی بک کھولی اور بولا’’اور یہ ہے میری ’اِن اور آؤٹ‘بک۔اب دیکھو صفحہ نمبر249۔ہم یہاں ہیں۔مسز اوکس ہاٹ۔22دسمبر کی تاریخ میں تمہیں کیا نظرآرہا ہے؟‘‘

’’مسزاوکس ہاٹ کی طرف سے چوبیس ہنس آئے اورتمام کے تمام الفا میں مسٹر ونڈیگیٹ کی طرف گئے۔‘‘ہومز نے پڑھا۔

’’اب یہاں تم کیا کہو گے؟‘‘بریکن رج نے کہا۔

ہومز نے غصے میں پاؤنڈ بریکن رج کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

۔۔۔***۔۔۔

ہومزسڑک پر رک گیا۔وہ حیرت انگیز طور پر بالکل غصے میں نہیں تھا۔اچانک وہ ہنسنا شروع ہو گیااور بولا’’۔تم نے دیکھا واٹسن!پہلے تو بریکن رج مسز اوکس ہاٹ کا نام اور پتا بتانے کو بالکل تیار نہیں تھامگربعد میں جب اس نے دیکھاکہ وہ مجھ سے آسانی سے ایک پاؤنڈ حاصل کر سکتاہے تواس نے مجھے ہر چیز بتا دی۔اور تم نے سنا کہ اس نے ایک چیز بڑی دل چسپ کہی، جب وہ غصے میں تھا؟کہ دوسرے لوگ مجھ سے ہنسوں کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔‘‘

اچانک ہماری پیٹھ کے پیچھے بریکن رج کی دکان کی طرف سے شور کی آواز آئی۔ہم نے مڑکردیکھا تو بریکن رج اپنی دکان کے سامنے غصے میں کھڑا نظر آیا۔جب کہ ایک چھوٹا او ر کمزور آدمی اس کے سامنے سڑک پر کھڑا تھا۔

بریکن رج چیخا۔’’دیکھو!میں اُن ہنسوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سننا چاہتا۔مسزاوکس ہاٹ جب چاہیں آسکتی ہیں اور مجھ سے بات کر سکتی ہیں مگر تم نہیں۔تمہارے پاس کوئی کام نہیں ہے کرنے کو؟کیا میں نے ہنس تم سے لئے تھے ؟‘‘

’’نہیں، مگران میں سے ایک ہنس میرا تھا۔میں نے تمہیں بتایاہے۔‘‘چھوٹے آدمی نے التجا کی۔

’’اس کے بارے میں مسز اوکس ہاٹ سے پوچھو۔‘‘

’’مگر وہ مجھ سے کہتی ہیں کہ مسٹر بریکن رج سے پوچھو۔‘‘

’’اچھا!تو پھرمیں کچھ نہیں کر سکتا۔میں تم سے مزید کچھ نہیں سننا چاہتا،سمجھے تم؟اب دفع ہو جاؤ۔‘‘

بریکن رج نے غصے سے دکان کا دروازہ بند کیا اور چھوٹا آدمی اندھیری سڑک پر دوڑنے لگا۔

’’اِس سب کچھ کے بعد شاید ہمیں مسز اوکس ہاٹ کے گھر بریکسٹن روڈ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔چلو اس آدمی سے بات کرتے ہیں۔شاید یہ ہماری مدد کر سکتاہے۔‘‘ہومز پر سکون انداز میں مجھ سے بولا۔

ہومزنے خاموشی سے اس آدمی کے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔آدمی رکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کندھے کے پیچھے ہمیں کھڑے پایا۔اس کا چہرہ سفید تھا۔

’’آپ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔‘‘اس نے کمزورآواز میں کہا۔

’’معذرت کے ساتھ۔۔۔مگر ہم نے وہ سوالات سنے جو تم نے دکان دار سے کئے۔میرا خیال ہے کہ میں تمہاری مدد کر سکتاہوں۔‘‘ہومز نے کہا۔

’’آپ کون ہیں اور میری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘

’’میرا نام شرلاک ہومز ہے اور میرا کام یہی ہے کہ چیزوں کے بارے میں وہ کچھ جانوں جو دوسرے لوگ نہیں جانتے۔‘‘

’’مگر آپ تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔‘‘

’’معاف کیجئے گا....میں ہر چیز جانتا ہوں۔تم ان چوبیس ہنسوں کی تلاش میں ہو جو بریکسٹن روڈ سے مسز اوکس ہاٹ نے یہاں بریکن رج کو فروخت کئے۔اس نے الفا کے مالک مسٹر ونڈیگیٹ کو فروخت کر دئیے۔اور ونڈیگیٹ نے اپنے ہنس کلب میں لوگوں کو بیچ دئیے۔‘‘

’’اوہ...جناب!یہ تو حیرت انگیز ہے۔مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔مجھے ان ہنسوں میں بہت دل چسپی ہے۔جتنی میں کہہ سکتا ہوں اس سے بھی کہیں زیادہ۔‘‘چھوٹے آدمی نے جذباتی انداز میں کہا۔

’’مزید بات کرنے کے لئے کیوں نہ ہم میرے گھر کے گرم کمرے میں چلیں؟مجھے اس ٹھنڈی سڑک پر کھڑے ہو کر بات کرنا پسند نہیں۔‘‘

ہومز نے ہاتھ کا اشارہ کیا تو ایک ٹیکسی آکر رکی۔

’’مگر اس سے پہلے کہ ہم چلیں،کیا آپ ہمیں اپنا نام بتا سکتے ہیں؟‘‘

چھوٹے آدمی نے جواب دینے سے پہلے ہومز کو دیکھا پھر مجھے دیکھا۔’’جے.جے.جان روبنسن۔‘‘وہ بولا۔

’’نہیں،نہیں۔ہم آپ کا اصل نام جاننا پسند کریں گے۔مہربانی ہوگی۔‘‘ہومز اطمینان سے بولا۔

اجنبی کے چہرے کا رنگ سفید سے بدل کر سرخ ہو گیا۔

’’بہت اچھا!میرا اصل نام ’جیمزرائیڈر‘ہے۔‘‘وہ بولا۔

’’خوب،خوب،خوب۔۔۔کاسمو پولیٹن ہوٹل کے اسسٹنٹ منیجر۔۔۔فی الحال تو ٹیکسی لے کر گھر چلتے ہیں،پھر ہم تمہیں ہر وہ چیز بتا سکیں گے جو تم جاننا چاہو گے۔‘‘ہومز بولا۔

چنانچہ ہم نے ٹیکسی پکڑی اور گھر روانہ ہو گئے۔رائیڈر جذباتی نظر آرہا تھا مگر وہ کچھ بولا نہیں۔ہومز بھی سارے راستے خاموش رہا۔ہم جب اس کے گھر221Bبیکراسٹریٹ پہنچے تو ٹیکسی سے اتر کر سیدھے ہومز کی بیٹھک میں آگئے۔بالآخر ہومز بولا:

’’مہربانی فرما کر بیٹھ جائیے مسٹر رائیڈر....تو ہم کہاں تھے...آہا،ہاں....تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ ان چوبیس ہنسوں پر کیا گزری،اور شاید یہ بھی کہ ان میں سے ایک پر کیا بیتی؟کیونکہ میرا خیال ہے کہ تمہیں صرف ایک ہی پرندے میں دل چسپی ہے۔سفید رنگ کا وہ ہنس جس کی کالی دم تھی۔‘‘

’’اوہ جناب!۔۔۔وہ پرندہ کہاں گیا؟‘‘رائیڈر جذباتی ہو کر بولا۔

’’ وہ ایک بہت دل چسپ پرندہ تھااور یہاں آیا تھا۔اسے ذبح کرنے کے بعدہمیں ایک بہت ہی حیرت انگیز چیز ملی...یہ رہی وہ۔‘‘

ہمارا مہمان کمزوری کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ہومز نے اپنی تجوری کھولی اورجب ہاتھ باہر نکالا توہیرا اس کے ہاتھ پرتھا،جوکہ آنکھوں کو ٹھنڈااور خوب صورت لگ رہا تھا۔رائیڈر نے ہیرے کی طرف دیکھا مگر کچھ نہیں بولا۔

ہومز نے اس سے کہا’’ہمیں معلوم ہے کہ وہ تم تھے رائیڈر!...بیٹھ جاؤ اورمشروب لے لو،تم بہت کمزور لگ رہے ہو۔‘‘

میں نے رائیڈرکو ایک گلاس مشروب دیا۔وہ بیٹھ گیا اور آہستہ سے پیتے ہوئے ہومز کو دیکھنے لگا۔میں نے دیکھا کہ وہ خوف زدہ ہے۔

’’تم مجھے زیادہ نہیں بتانا چاہو گے۔اس معاملے کے بارے میں،میں تقریباًہر چیز جانتا ہوں۔مگر میرے پاس صرف ایک دو سوال ہیں پوچھنے کیلئے۔تم نے بیگم نواب کے نیلے ہیرے کے بارے میں کیسے سنا؟‘‘ہومز نے پوچھا۔

’’اس کی ملازمہ کیتھرائن کوسیک نے مجھے بتایاتھا۔‘‘رائیڈر نے جواب دیا۔

’’میں سمجھ گیا،تو تم اور کیتھرائین کوسیک ہیرا حاصل کرکے بیچنا چاہتے تھے تاکہ بہت ساری رقم حاصل کر سکو۔تم نے جان ہارنر سے کہا کہ وہ آئے اور کھڑکی کی مرمت کرے کیونکہ تم اس کی پچھلی قید سے واقف تھے۔جب وہ چلا گیا تو تم نے بیگم نواب کے زیورات کے ڈبے سے ہیرا اٹھا لیا۔پھر تم نے پولیس بلا لی۔وہ ایک بارپہلے بھی آچکے تھے۔چونکہ ہارنر نے قید میں وقت گزارا تھا اسی لئے ان کو یقین تھا کہ ہارنر چور ہے۔یہ سب کچھ کرنا بہت آسان تھا۔پھر.......‘‘

’’اوہ ،مہربانی کیجئے!مہربانی کیجئے!میرے والد کے بارے میں سوچئے!....میری والدہ کے بارے میں سوچئے!....میں نے اس سے پہلے کوئی غلط کام نہیں کیا،اور میں آئندہ بھی ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گا۔مہربانی کرکے پولیس کو مت بتائیے۔میں نہیں چاہتا کہ میں قید میں جاؤں۔‘‘رائیڈر نے فریاد کرتے ہوئے ہومز کے پاؤں پکڑ لئے۔

’’اپنی کرسی پر بیٹھو!۔۔۔اب تم فریاد کر رہے ہو،مگر نوجوان ہارنر کے بارے میں تمہیں ذرا سی بھی شرم آئی ؟جو اس جرم کے بارے میں جانتا تک نہیں مگر پولیس کو یقین ہے کہ وہی ہیرا چور ہے۔اور اسی وجہ سے وہ عدالت گیا اور اب قید ہونے جا رہا ہے...اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہے۔‘‘ہومز نے سرد مہری سے کہا۔

’’میں ملک چھوڑ دوں گا مسٹر ہومز!۔۔۔پھر جب میں عدالت ہی نہیں جاؤں گا تو ہارنرقید سے آزاد ہوجائے گا۔‘‘

’’اس معاملے کو تو ہم بعد میں دیکھ سکتے ہیں۔مگر فی الحال ہمیں مہربانی کرکے یہ بتاؤ کہ تم نے ہوٹل سے ایک ہنس میں ہیراکیسے حاصل کیا؟اور کس طرح ہنس دکان میں پہنچا؟اور مہربانی کرکے سچ بتانا۔‘‘ہومز نے کہا۔

رائیڈر نے بتانا شروع کیا:

’’جب پولیس نے ہارنر کو گرفتار کیا تو میں ہیرا جیب میں لیکر ہوٹل سے نکل گیا۔میں ہوٹل میں مزید نہیں رکنا چاہتا تھا جبکہ پولیس ہر جگہ تھی اور ہرچیز کو دیکھ رہی تھی۔چنانچہ میں اپنی بہن کے گھر جنوبی لندن چلا گیا۔وہ بریکسٹن میں اپنے شوہر مسٹر اوکس ہاٹ کے ساتھ رہتی ہیں۔میں نے اپنے راستے میں بہت سارے پولیس افسردیکھے اور جب میں بریکسٹن روڈ پہنچا تو بہت خوف زدہ تھا۔

’’کیا معاملہ ہے؟‘‘میری بہن نے پوچھا۔

میں نے اسے ہیرے کی چوری اورہارنرکی گرفتاری کے بارے میں بتایا۔پھر میں گھر کے پچھلے باغیچے میں سگریٹ نوشی کیلئے چلا گیا اورسوچنے لگاکہ اب میں اس باغ میں اس ہیرے کا کیا کر سکتا ہوں؟

مجھے اپنا دوست ’موڈسلے‘یاد آگیا۔اس کی شروع کی زندگی بڑی اچھی تھی مگر پھر غلط طرف چلاگیا تھا۔بالآخر وہ اپنے جرائم کی وجہ سے قیدی بن گیا تھا۔میں نے سوچا’شاید وہ ہیرے کی ٖفروخت کے بارے میں جانتا ہو۔‘چنانچہ میں نے شمالی لندن کے علاقے’ کلبرن‘ میں واقع اس کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

مگرمیں نے سوچا کہ’’ میں کس طرح اس ہیرے کے ساتھ چل کرلندن پارکر سکتاہوں ؟سڑکوں پر لگی پولیس افسروں کی اس بھیڑمیں ہیرے کو جیب میں رکھ کر تو نہیں لے جا سکتا۔‘‘پھر میں نے باغ میں ٹہلتے ہنسوں کی طرف دیکھا اور کچھ سوچا۔میں یہ جانتا تھا کہ ان میں سے ایک ہنس میرے عید کے عشائیے کے لئے ہے۔لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اپنا ہنس اسی جگہ اور اسی وقت حاصل کروں اور انتظار نہ کروں ۔

میں نے جلدی سے ایک کالی دم والا بڑاسفید ہنس پکڑا۔پھر میں نے جلدی سے اپنی جیب میں سے ہیرا نکال کر ہنس کے منہ میں ڈال دیا۔میں نے محسوس کیا کہ ہیرا ہنس کی گردن سے نیچے اتر گیاہے۔ہیرا اب ہنس کے اندر تھا اور میں خوش تھا کہ اب میں آسانی سے چل کرکلبرن کو واپس ہو سکتاہوں۔

اسی لمحے میری بہن باغیچے میں آگئی۔

’’تم اس ہنس کے ساتھ کیا کر رہے ہو؟‘‘اس نے کہا۔

میں نے پکڑاہوا ہنس چھوڑدیا اور وہ دوسرے ہنسوں کے ساتھ بھاگ گیا۔میں نے کہا’’میں عید کے لئے یہی ہنس لینا چاہتا ہوں۔‘‘

’’بہت اچھا،اسے پکڑو،ذبح کرو اور اپنے ساتھ لے جاؤ۔‘‘وہ بولی۔

بس مسٹرہومز،میں نے پرندہ پکڑا،ذبح کیا اور اپنے ساتھ کلبرن لے گیا۔وہاں میں نے اپنے دوست موڈسلے کو ہیرے کے بارے میں سب کچھ بتایاتو وہ ہنسا اور خوب ہنسا۔ہم نے چھری لے کر ہنس کوچیر دیا مگر ہمیں ہیرا نہیں ملا۔میں سمجھ گیا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔میں نے ہنس موڈسلے کے پاس ہی چھوڑا اور بہن کے گھر کی طرف دوڑا۔وہاں پہنچ کر سیدھا پچھلے باغیچے میں گیا مگر وہاں کوئی ہنس نہیں تھا۔

’’میگی!کہاں گئے یہ سب؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’کووینٹ گارڈن میں مسٹر بریکن رج کی دکان پر۔‘‘

’’یہاں دو کالی دم والے پرندے تھے۔‘‘میں نے پوچھا۔

’’ہاں تھے تو سہی جیمز۔اور میری نظر میں تو ان دونوں میں کوئی ایک بھی فرق نہیں تھا۔ ‘‘وہ بولی۔

میں ساری بات سمجھ گیاتھا کہ ہیرا کالی دم والے دوسرے ہنس کے اندر ہے اوروہ ہنس اب بریکن رج کی دکان میں ہے۔میں ایک مرتبہ پھر کووینٹ گارڈن میں بریکن رج کی دکان کی طرف بھاگامگر ہنس اب اس کی دکان میں نہیں تھے۔میں نے جب اس سے ان کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ’’میں نے وہ سارے ایک ہی بار میں فروخت کر دئیے ہیں۔‘‘

’’مگر تم مجھے یہ لازمی بتاؤ کہ اب وہ کہاں ہیں؟‘‘میں نے اس سے بار بار پوچھا مگر اس نے مجھے نہیں بتایا۔آپ نے اور ڈاکٹر واٹسن نے آج رات کے پہلے حصے میں اسے سنا ہی تھا۔مسٹرہومز!اس نے میرے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اب میری بہن کیا سوچے گی کہ میں ایک خطرناک بھائی ہوں۔میں ایک چور ہوں اور میں اپنی ساری نیک نامی گنوانے جا رہا ہوں۔اور اس سب کے بعد بھی میں اپنے جرم سے کوئی رقم حاصل نہیں کر پایا۔آہ...اب آپ میرے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں؟‘‘

وہ اپناچہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگا۔

ہومز نے کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کی۔آخر میں اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔

’’نکل جاؤ۔‘‘اس نے کہا۔

’’اوہ....شکریہ!بہت شکریہ جناب۔‘‘رائیڈر نے کہا۔

’’خاموش ہو جاؤاور نکل جاؤ۔‘‘ہومز نے دوبارہ کہا۔اس کے ساتھ ہی رائیڈر دروازے کی طرف دوڑا۔سیڑھیاں اترا اور سڑک پر دور ہوتا چلا گیا۔

ہومز بولا’’اس سب کچھ کے بعد واٹسن!یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ میں پولیس کے لئے اُن کاکام کروں،جبکہ نوجوان ہارنر کے حق میں بھی سب ٹھیک ہونے جا رہا ہے۔رائیڈر تو اب عدالت جائے گا نہیں۔اور اس کے بغیر پولیس کے پاس کوئی گواہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ کہہ سکے کہ ہارنر چور ہے۔

شاید میں کچھ غلط کرنے جا رہا ہوں مگرمیں اس پر یقین نہیں رکھتا۔میرا خیال ہے کہ میں ایک اچھا انسان بننے میں رائیڈر کی مدد کر رہا ہوں۔ابھی اسے قید میں بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے ساری زندگی کے لئے چور بنا رہے ہیں۔جبکہ اس وقت وہ خوف زدہ ہے اور آئندہ وہ کبھی غلط کام نہیں کرے گا۔ہمیں جرائم کا حل مل گیا ہے اور اس بات سے مجھے خوشی ہوئی ہے۔

اور پھر عید بھی تو ہے۔اور اس سب کے باوجود میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ عید دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کا نام ہے۔

اور واٹسن!اب مسز ہڈسن سے کہو کہ ہمارے لئے رات کاکھانا لے آئے۔‘‘

مزید اس صنف میں: « پُراسرارقتل