ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںلوک کہانیاںدولت کا درخت

دولت کا درخت

جاپانی لوک کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑ ہارا رہتا تھا۔اس کے والدین وفات پا چکے تھے اور وہ بے چارا اکیلا رہتا تھا۔لکڑ ہارا بہت نیک اور رحم دل تھا۔ایک دن وہ جنگل میں سوکھی اور ٹوٹی ہوئی لکڑیاں تلاش کر رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک عجیب سی آواز آئی۔اس نے غور کیا تو صنوبر کے درخت کی آواز تھی جس کے نیچے وہ کھڑا تھا، وہ کہہ رہا تھا:
’’میرارس لیس دار ہے،جو میری نازک شاخیں ٹوٹنے کی وجہ سے ٹپک رہا ہے۔‘‘
لکڑ ہارے نے دیکھاکہ اس کی شاخیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اس میں سے رس نکل رہاہے۔اسے محسوس ہوا کہ درخت اپنا دکھ بیان کر رہا ہے۔اس نے اپنے لباس میں سے کپڑا پھاڑا اوردرخت کی کٹی ہوئی شاخوں پر پٹیاں باند ھ دیں۔شاخیں اپنی جگہ کھڑی ہو گئیں اور رس نکلنا بند ہو گیا۔لکڑ ہارا بہت خوش ہوا اور واپس جانے ہی لگا تھا کہ اچانک درخت سے سونے اور چاندی کے سکے برسنے لگے۔وہ حیران رہ گیا۔یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا پھر درخت سے آواز آئی’’یہ تمہاری رحم دلی کا انعام ہے‘‘لکڑ ہارا ساری دولت سمیٹ کر گھر پہنچا۔
لکڑ ہارا اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ کھڑکی سے دوسرے لکڑ ہارے کا چہرہ نمودار ہوا۔یہ دراصل وہ لالچی شخص تھا جس نے صنوبر کے درخت کی شاخین توڑی تھیں۔اس نے کھڑکی سے سیکھ لیا تھا کہ کہ نیک دل لکڑ ہارا اپنی دولت گن رہا ہے۔لہٰذا حسرت سے بولا’’تمہارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی چند دن پہلے تو فاقوں تک نوبت آئی ہوئی تھی۔‘‘نیک دل لکڑ ہارے نے اسے بتایا کہ یہ دولت فلاں علاقے کے صنوبر کے درخت نے دی ہے۔
’’کیا اس کی شاخیں کٹی ہوئی تھیں؟‘‘لالچی شخص بولا۔’’ہاں وہی درخت ہے‘‘نیک دل لکڑ ہارا بولا۔
’’اور مجھے چلنا چاہئے‘‘یہ کہہ کر وہ بھاگم بھاگ صنوبر کے درخت کے پاس پہنچ گیا جس کی سر سبز شاخیں اس نے توڑی تھیں ،جیسے ہی وہ درخت کے قریب گیا درخت سے آواز آئی’’میرا خون لیس دار ہے تم مجھے چھوؤ گے تو بے شمار دولت کے مالک بن جاؤ گے۔
بد خصلت لکڑ ہارے نے جوں ہی درخت کو چھوا اس میں سے سونے چاندی کے بجائے لیس دار مادہ گرنے لگا۔وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس میں مکمل طور پر ڈوب گیا۔اس سے پہلے کہ وہ اس مادے کی موٹی تہہ میں جم جاتا ادھر سے نیک دل لکڑ ہارے کا گزر ہوا۔اس نے بڑی مشکل سے اس اسے باہر نکالاورنہ دولت کا لالچی زندہ ہی قبر میں چلا جاتا۔اس واقعے کے بعد لالچی لکڑ ہارے نے ایسی دوڑ لگائی کہ پھر کبھی مڑ کر بھی اس گاؤں میں نہ آیا۔