ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںلوک کہانیاںہاتھی دانت کا محل

ہاتھی دانت کا محل

یونانی لوک کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برسوں پہلے یونان میں ایک شکاری رہتا تھا۔اس کا ایک بیٹا تھا۔جب شکاری مرنے لگا تو اس نے اپنی بیوی کو بلایااور کہاکہ’’ شکار بہت مشکل کام ہے،اس کام میں میری ساری عمر گزر گئی ہے۔میری زندگی بڑی تکلیفوں میں گزری ہے،تمہارے بیٹے کو شکار کا بہت شوق ہے،وہ میرے ساتھ کئی بار شکار پر گیا ہے اور شکار بھی کھیلا ہے، یہ چونکہ بہت مشکل کام ہے،اسی لئے اسے کسی اور کام کا شوق دلانا۔‘‘
چند روز بعد شکاری مر گیا۔وقت بہت تیزی کے ساتھ گزرتا رہا۔شکاری کا بیٹا اب جوان ہو گیاتھا۔ایک دن وہ اپنی ماں سے پوچھنے لگا’’ابا جان کی رائفل کہاں ہے؟‘‘
ماں نے جواب دیا’’تمہارے اباجان کی دلی آرزو تھی کہ تم شکاری نہ بنو،کوئی اور کام سیکھو۔شکاری کی جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے،میری مانو تو کوئی اچھا سا کام کر لو‘‘۔
لڑکے نے کہا’’اباجان شکاری کی زندگی سے خوش کیوں نہیں تھے۔مجھے تو شکار کھیلنے کا بہت شو ق ہے،اس میں آدمی بہادر بنتا ہے۔جان جوکھوں میں ڈال کر اپنا نام پیدا کرتا ہے۔اباجان نے بھی شکاری زندگی میں نام پیدا کیا ہے۔سب انکی بہادری کے گن گاتے ہیں۔حکومت کی طرف سے انہیں خوفناک جانوروں کو ہلاک کرنے پر انعام بھی ملا تھا۔وہ بہت بہادر اور نڈر انسان تھے اور میں بھی ان کا بیٹا ہوں اور مجھے بھی شکار کا بہت شوق ہے۔اب میں کوئی بچہ نہیں ہوں،رائفل چلانا جانتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے اپنے باپ کی رائفل اٹھائی اور چپ چاپ جنگل کی طرف نکل پڑا۔جنگل میں دیر تک شکار ڈھونڈنے کے بعد ایک ہرن پر اس کی نظر پڑی۔اس نے رائفل سے ہرن کا شکار کیا اور اسے اپنے کاندھے پر ڈال کر بیچنے کے لئے شہر لے آیا۔وہ بازار میں بیچنے کے لئے بیٹھا تھا کہ اتنے میں بادشاہ کاایک وزیروہاںآ پہنچا اور اس نے پوچھا: ’’ یہ ہرن کتنے میں بیچو گے؟‘‘
شکاری کے بیٹے نے کہا: ’’آپ کیا دام دیں گے؟‘‘
’’بیس روپے وزیر نے کہا‘‘۔
’’یہ تو بہت کم ہیں میں نہیں بیچوں گا‘‘شکاری کے بیٹے نے کہا۔وزیر کو یہ سن کر بہت غصہ آیا۔وہ سیدھا بادشاہ کے پاس پہنچا اور بادشاہ سے کہا:’’حضور والا ایک شخص بازار میں بیٹھا ہرن بیچ رہا ہے،آپ ضرور خریدیں۔بہت اچھا گوشت ہے مگر دس روپے سے زیادہ قیمت نہ دیجئے۔‘‘
بادشاہ نے شکاری کے بیٹے کو بلوایا۔وہ ہرن لئے آپہنچا تو اس نے پوچھا’’کیا لوگے اس ہرن کا مناسب دام بتاؤ،ہم اسے خریدنا چاہتے ہیں۔‘‘
شکاری کے بیٹے نے کہا:’’جناب آپ بہتر جانتے ہیں کہ اس کی قیمت کیا ہونی چاہیے‘‘۔
’’دس روپے کافی ہیں۔‘‘بادشاہ نے کہا۔
کسی کی مجال تھی کہ بادشاہ سے تکرار کرے۔وہ اپنے شکار کے بہت کم دام سن کر چپ ہو رہا۔بادشاہ سے بحث فضول تھی۔وہ انکار بھی تو نہیں کر رہاتھا۔غنیمت یہی تھا کہ جو کچھ بادشاہ ہرن کے دے رہا ہے،وہ قبول کر لے۔شکاری کا بیٹا دس روپے میں بادشاہ کوہرن دے کر گھر چلا گیا۔
دوسرے دن بادشاہ نے شکاری کے بیٹے کو بلوایا اور کہا:’’ہم اپنے لئے ہاتھی دانت کا ایک محل بنوانا چاہتے ہیں۔تم شکاری ہو اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ جنگل میں جا کر ہاتھیوں کا شکار کرو اور ان کے دانت جمع کر کے ہمارے لئے محل تیار کرو۔‘‘
شکاری کا بیٹا خاموش کھڑا رہا۔تھوڑی دیر بعد بادشاہ نے کہا’’چپ چاپ کیوں کھڑے ہو۔بتاؤ تم یہ کام کر سکتے ہو یا نہیں۔اور اگر تم ہاتھیوں کا شکار کرکے ہمارے لئے محل بنا دوتو جان کی سلامتی ہے ورنہ تمہیں جان سے ما ر دیا جائے گا۔‘‘
شکاری کے بیٹے نے کہا:’’جناب یہ کام ضرور کروں گا‘‘یہ کہہ کر وہ گھر گیا۔گھر جا کر اس نے اپنی ماں سے کہا۔’’اب میرا زندہ رہنا واقعی بہت مشکل ہے۔ باد شاہ نے اپنے لئے ہاتھی دانت کا محل بنانے کا حکم دیا ہے۔یہ کام مجھ سے نہ ہو سکے گااور بادشاہ ضرور مجھے مار ڈالے گا۔مجھے ایک تھیلا اور تھوڑی سی روٹی دے دو،میں کہیں بھاگ نکلوں تاکہ بادشاہ کے آدمی مجھے گرفتار نہ کر سکیں۔‘‘
اس کی ماں نے کہا’’تمہارے ابا نے واقعی ٹھیک کہا تھاکہ بیٹے کوکسی اور کام کا شوق دلانا۔اب اپنے آپ کو مصیبت میں پھنسا لیا ہے توگھبراؤ مت۔بہادر بنو اور اپنے باپ کا نام روشن کرنے کی کوشش کرو۔تمہارے ابا کہا کرتے تھے’’بڑے پہاڑ پر جو پانی کا چشمہ ہے،وہاں بہت سے ہاتھی ہفتے میں ایک دن پانی پینے آتے ہیں۔اگر بادشاہ نے ہماری مدد کی تو ہم ان کے دانت نکال سکتے ہیں۔ہم چشمے کا پانی نکال کر اس میں شراب بھر دیں گے۔جب ہاتھی یہ شراب پئیں گے تو انہیں نشہ آجائے گا اور وہ سو جائیں گے،ہم آسانی سے ان کے دانت نکال لیں گے۔‘‘
یہ سن کر شکاری کا بیٹا بہت خوش ہوا۔دوسرے دن وہ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کی ’’جناب اگر مجھے شراب کے پچاس پیپے اور چند آدمی مل جائیں تو میں ہاتھی دانت جمع کرکے آپ کے لئے محل بنوا سکتاہوں۔
بادشاہ نے اسے پچاس پیپے شراب اور چند آدمی دے دیئے۔وہ سب چیزیں ساتھ لیکر بڑے پہاڑ پر پہنچا اور چشمے کا پانی نکال کر اس میں شراب بھر دی۔پھر وہ خود اور اس کے ساتھی جنگل میں چھپ گئے،ہاتھی آئے اور پانی میں شراب ملی ہوئے پی کر لڑ کھڑا نے لگے اور سب کے سب وہیں گر کر بے ہوش ہو گئے۔شکاری کا بیٹا اور اس کے ساتھی جنگل سے نکلے اورآسانی سے انہوں نے ہاتھیوں کے دانت نکال لئے اور ہاتھی دانت لے کر انہوں نے بادشاہ کے لئے محل تیار کر دیا۔وزیر نے جو دیکھا کہ شکاری کا بیٹا اس میں بھی کامیاب رہا ہے تو جل گیا۔اب اس نے دل میں ٹھان لی کہ شکاری کے بیٹے کو مار کر ہی دم لوں گا۔
یہ سوچ کر وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا ’’حضوراتر کی طرف پہاڑوں میں سات بھائی رہتے ہیں،ان کی ایک بہن ہے ، بڑی خوبصورت۔آپ اسے اپنی ملکہ بنائیں اور اپنے محل میں رکھیں تو آپ بہت خوش رہیں گے۔شکاری کے بیٹے کو بھیجئے،اس کو لے آئے گا۔‘‘بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا۔اس نے شکاری کے بیٹے کو بلایااور حکم دیا کہ جاؤ اور پہاڑ سے اس لڑکی کو لے آؤ۔
شکاری کے بیٹے کو یقین ہو گیا کہ یہ وہ کام وہ نہیں کر سکتا،گھر پہنچا ،کچھ روٹی اور تھیلا لیا اور شمال کی طرف چل دیا۔اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ پھر کبھی لوٹ کر آئے گا بھی یا نہیں ۔چلتے چلتے وہ ایک دن دریا کے کنارے پہنچا۔اس نے دیکھا کہ ایک آدمی وہاں بیٹھا پانی پی رہا تھا۔وہ آدمی پانی پیتا جاتا تھا اور کہتا جا رہا تھا’’اف میری پیاس ہی نہیں بجھی۔‘‘اور یہ کہتے کہتے اس نے اتنا پانی پیا کہ دریا سوکھ گیا۔شکاری کا بیٹا یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اس نے آدمی سے پوچھا:
’’بھئی یہ کیسی پیاس ہے جو بجھتی ہی نہیں؟‘‘
اس آدمی نے کہا:’’ہاں میاں میری پیاس کبھی نہیں بجھتی اور پھر مصیبت یہ ہے کہ میں اکیلا ہوں۔اس سفر میں میرا کوئی ساتھی نہیں ہے۔‘‘
شکاری کے بیٹے نے کہا:’’چلو میرے ساتھی بن جاؤ‘‘ اور پھر دونوں مل کے چلنے لگے۔تھوڑی دور گئے تو انہیں ایک آدمی ملا۔جس نے آگ جلا رکھی تھی۔وہ آگ تاپتا چلا جاتا تھا اورکہتا چلا جاتا تھا’’اف کتنی سردی ہے‘‘۔شکاری کے بیٹے نے اسے بھی اسی طرح ساتھ لے لیا۔اب تینوں مل کر چلنے لگے۔تھوڑی دور گئے تھے کہ ایک آدمی ملا جو کھانا کھا رہا تھا۔یہ آدمی سیروں کھانا چٹ کئے جاتا تھااور کہتا جاتا ’’اف پیٹ نہیں بھرتا‘‘۔شکاری کے بیٹے نے اسے بھی ساتھ لے لیا۔چاروں مل کر آگے بڑھے تو ان کو ایک آدمی اور ملا۔یہ آدمی زمین سے کان لگائے لیٹا تھا۔اس نے بتایا کہ وہ اس طرح زمین سے کان لگا کر ساری دنیا کی باتیں سن سکتا ہے۔شکاری کے بیٹے نے اسے بھی اپنا ساتھی بنا لیا۔پانچوں مل کر آگے بڑھے تو انہیں ایک آدمی اور ملا۔یہ آدمی لمبی لمبی چھلانگیں لگاتااور دونوں ہاتھوں میں دو بڑے بڑے پتھر اٹھا لیتا تھا۔انہیں زور سے پیچھے کی طرف پھینکتااور اسی زور سے آگے کی طرف چھلانگ لگاتا۔شکاری کے بیٹے نے اسے بھی اپنا ساتھی بنا لیا۔اب یہ چھ کے چھ ساتھی روانہ ہو گئے۔تھوڑی دور گئے تو انہیں ایک اور آدمی ملا۔یہ آدمی جب چاہتا تھا زمین کو ہلادیتا تھااور زلزلہ پیدا کر دیا تھا۔یہ بھی شکاری کے بیٹے کے ساتھ ہو گیااور ساتوں مل کر آگے چلے۔چلتے چلتے یہ ساتوں اس بڑے پہاڑ پر پہنچے جہاں وہ سات بھائی اپنی بہن کے ساتھ رہتے تھے۔شکاری کے بیٹے اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ کر ساتوں بھائی نکلے کہ انہیں مار ڈالیں مگر جب انہوں نے دیکھا کہ یہ ساتوں بھی طاقت ور ہیں تو لڑائی کا ارادہ ترک کر دیااور ان سے پوچھا:’’تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
شکاری کے بیٹے نے کہا:’’ہم تمہاری بہن کا پیام لیکر آئے ہیں۔ہمارا بادشاہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔بادشاہ تمہاری بہن کو ہاتھی دانت کے محل میں رکھے گا۔‘‘
ساتوں بھائی یہ سن کر گھر میں چلے گئے۔شکاری کے بیٹے نے اپنے اس ساتھی سے جو زمین سے کان لگا کر سب کچھ سن لیتا تھا کہا’’ذرا سنو تو کیا باتیں کر رہے ہیں؟‘‘
اس آدمی نے زمین سے کان لگا کر سننے کے بعد کہا کہ پہلے وہ ہمیں کھانے سے بھرے ہوئے سات بڑے بڑے خوان دیں گے۔اگر ہم نے سارا کھانا کھا لیا تو وہ اپنی بہن کو ہمارے ساتھ بھیج دیں گے ورنہ نہیں۔
شکاری کا بیٹا یہ سن کر گھبرا گیا اور کہنے لگا مگر ہم اتنا کھانا کیسے کھائیں گے؟
اس کے ساتھ نے جو ہمیشہ بھوکا رہتا تھا’’میں جو ہوں تم گھبراتے کیوں ہو‘‘تھوڑی دیر بعد ساتوں بھائی گھر سے باہر آئے اور ان ساتوں کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔وہاں انہوں نے کھانے سے بھرے ہوئے سات خو ان ان کے سامنے رکھ دئیے۔ساتوں نے مل کرکھانا شروع کر دیا۔تھوڑی دیر میں چھ کا پیٹ بھر گیا اور وہ چپ چاپ بیٹھ گئے مگر ساتویں نے وہ سارا کھانا صاف کر دیا۔مگر اس پر بھی سات بھائی اپنی بہن کوان کے حوالے کرنے کو تیار نہ ہوئے۔انہوں نے اور ترکیبیں انہیں ہرانے کی نکالیں۔پانی کے سات بڑے بڑے مٹکے لے آئے اور کہا کہ یہ سارا پانی پی لوتوہم اپنی بہن تمہارے حوالے کر دیں گے۔شکاری کے بیٹے کے ساتھی نے جو ہمیشہ پیاسا رہتا تھا،ساتوں مٹکوں کا پانی پی لیااور پانی پی کر کہنے لگا ’’مجھے تھوڑا سا پانی اور پلاؤ،میں ابھی پیاسا ہوں‘‘۔
ساتوں بھائیوں نے ایک اور شرط پیش کی اور کہا کہ ہماراایک گرم حمام ہے۔تم میں سے کوئی ایک اس کے اندر جا کرتھوڑی دیر بیٹھے تو ہم تمہاری بات مان لیں گے۔شکاری کے بیٹے کے اس ساتھی نے جسے ہمیشہ سردی لگتی رہتی تھی،کہا’’میں جاؤں گا اس حمام میں،میں تو سردی سے اکڑا جا رہا ہوں۔‘‘
لڑکی کے بھائیوں نے حمام کو اس قدر گرم کردیا تھا کہ کوئی بھی اس میں جاے تو جھلس کر مر جائے۔وہ آدمی اندر چلا گیا تو تھوڑی دیر تک سب اسکی واپسی کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ نکلا،نہ اس کی آواز آئی۔انہوں نے حمام کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تووہ چلایا،دروازہ بند کرو مجھے سردی لگ جائے گی۔میرا پہلے ہی برا حال ہے۔
جب وہ باہر آیا تو لڑکی کے بھائیوں نے کہا کہ تم لوگوں نے ہماری ساری شرطیں پوری کر دیں مگر ابھی ایک شرط باقی ہے۔اگلے پہاڑ پر ایک چشمہ ہے۔تم میں سے کوئی شخص وہاں سے تھوڑا سا پانی لے آئے ہماری بہن بھی جا کر پانی لائے گی۔اگر تمہارا آدمی ہماری بہن سے پہلے پانی لے آیا تو ہم ہارے اور تم جیتے۔
شکارے کے بیٹے کا وہ ساتھی جو چھلانگیں لگاتا تھا،تیار ہو گیا۔اس نے دو بڑے بڑے پتھر اٹھا کر نیچے کی طرف پھینکے اور ایک ہی چلانگ میں اس پہاڑ پر جا پہنچا۔چشمے سے پانی لے کر وہ معمولی چال سے واپس آنے لگا۔راستے میں اسے وہ لڑکی مل گئی۔وہ ابھی چشمے کی طرف جا رہی تھی۔اس آدمی نے لڑکی سے کہاہم جیت گئے اور تمہارے بھائی ہار گئے ہیں۔آؤ جانے سے پہلے تھوڑی دیر باتیں کر لیں۔لڑکی اس کے پاس بیٹھ گئی مگر اس آدمی کوباتیں کرتے کرتے نیند آگئی۔وہ سو گیا تو لڑکی نے اس کی بوتل کا پانی اپنی بوتل میں انڈیل لیا اور گھر کی طرف واپس ہونے لگی۔
جب اس کے ساتھی کو گئے ہوئے بہت دیر ہو گئی تو شکاری کے بیٹے کو فکر ہونے لگی۔اس نے اپنے ساتھی سے زمین پر کان لگا کر سننے کے لئے کہا۔اس نے کہا کہ’’ہمارا ساتھی تو سو رہا ہے،ہم ہار جائیں گے۔‘‘
شکاری کے بیٹے کا ساتھی جو زمیں ہلا سکتا تھا ، اس نے کہا کہ ’’ٹھہرو! میں زمین کو ہلاتا ہوں اور اسے جگاتاہوں۔‘‘یہ کہہ کر اس نے زور سے زمین کو ہلایاتو وہ جاگ پڑا اوردیکھا کہ لڑکی اس کا پانی لے کے چلی گئی ہے۔اس نے وہیں سے ایک چھلانگ لگائی اور لڑکی کو راستے میں جا لیا۔اس نے پانی چھین کر پھر ایک چھلانگ لگائی اور اپنے ساتھیوں سے آملا۔
شکاری کا بیٹا اور اس کے ساتھی ساری شرطیں جیت چکے تھے۔اس لئے ساتوں بھائیوں نے اپنی بہن ان کے حوالے کر دی اور شکاری کا بیٹا اس لڑکی اور اپنے ساتھیوں کو لے کر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔
باد شاہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا مگر وزیراور بھی جل گیا۔لڑکی نے پہلے بادشاہ کو پھر وزیر کواور پھر ہاتھی دانت کے محل کو غور سے دیکھا اور بادشاہ سے پوچھا:
’’اس محل کے لئے ہاتھی دانت کون لایا تھا؟‘‘
’’شکاری کا بیٹا‘‘بادشاہ نے کہا۔
’’اور محل کس نے بنایا؟‘‘لڑکی نے پوچھا۔
’’شکاری کے بیٹے نے ‘‘بادشاہ نے کہا۔
’’اور مجھے پہاڑوں سے اتنا لمبا سفر کرکے کون لایا؟‘‘لڑکی نے پوچھا۔
’’شکاری کا بیٹا‘‘بادشاہ نے کہا۔
لڑکی نے پوچھا:’’جب شکاری کے بیٹے نے سب کچھ کیا ہے تو میں تم سے شادی کیوں کروں؟‘‘اور پھر اس نے کہا ’’تمہارا وزیر بری عادت کی سزا میں چوہا بن جائے اور تم بلی بن کر اس کے پیچھے دوڑتے رہو۔‘‘لڑکی کا یہ کہنا تھا کہ وزیر چوہا بن گیا اور بادشاہ بلی بن کر اسے پکڑنے کے لئے دوڑنے لگا۔شہر کے لوگوں نے شکاری کے بیٹے کو اپنابادشاہ بنا لیا۔وہ بادشاہ سے پہلے بھی نالاں تھے اور وزیر انہیں تنگ کرتا رہتا تھا۔
شکاری کے بیٹے نے اس لڑکی سے شادی کر لی اور دونوں مل کر ہاتھی دانت کے محل میں خوشی خوشی رہنے لگے۔وہ اب اپنی ماں کو بھی محل میں لے آیا تھا۔ماں لڑکی سے مل کر بہت خوش ہوئی۔شکاری کا بیٹا ملک کا بادشاہ بن کر راج کرنے لگا۔

مزید اس صنف میں: « ساشا دولت کا درخت »