ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںلوک کہانیاںساشا

ساشا

روسی لوک کہانی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساشا اپنی امی سے ضد کر رہا تھا کہ وہ اس کو پٹاخوں والی بندوق لے کر دیں۔
’’تمہیں وہ کس لئے چاہئے؟‘‘ اس کی امی نے پوچھا ’’وہ تو بڑی خطرناک ہوتی ہے۔‘‘
’’خطرناک کیسے ہوتی ہے؟‘‘ وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، اس میں سے صرف پٹاخہ چلتا ہے، گولی تو باہر نہیں آتی ہے، اس سے کوئی مر تو نہیں سکتا۔‘‘
’’تمہیں نہیں پتا کہ اس سے کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ اس کی امی نے جواب دیا ’’گولی اچھل کر باہر نکل سکتی ہے اور تمہاری آنکھ میں بھی لگ سکتی ہے۔‘‘
’’وہ نہیں لگے گی۔‘‘ ساشا نے کہا۔ ’’میں گولی چلاتے ہوئے اپنی آنکھیں کس کے بند کرلوں گا۔‘‘
’’نہیں، نہیں اس قسم کی بندوقوں سے کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے۔‘‘ ساشا کی امی نے کہا۔ ’’تم اگر اس سے کسی کو مار نہیں سکتے تو لوگوں کو خوف زدہ تو کرسکتے ہونا۔‘‘ خیر انہوں نے ساشا کو بندوق خرید کر نہ دی۔
ساشا کی دو بہنیں مرینہ اور عائرہ تھیں۔ وہ ان کے پاس گیا۔
’’پیاری بہنو! براہ مہربانی مجھے ایک بندوق خرید دو۔ مجھے اس کی بہت خواہش ہے۔ اگر تم نے وہ مجھے دلا دی تو میں ہمیشہ تم دونوں کا کہنا مانا کروں گا۔‘‘
’’ساشا تم واقعی بڑے چالاک ہو۔‘‘ مرینہ نے کہا۔ ’’جب تمہیں چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو تم چکنی چپڑی باتیں کرنے لگتے ہو اور ہمیں پیاری بہنو کہنے لگتے ہو۔ لیکن جب ذرا امی گھر پر نہیں ہوتیں تو تم اپنی ساری خوش مزاجی بدل لیتے ہو۔‘‘
’’نہیں میں ایسا نہیں کروں گا، ہرگز نہیں کروں گا، میں تمیز سے رہوں گا، آزما کر دیکھو، میں ایسا نہیں کروں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے۔‘‘ عائرہ نے کہا
’’میں اور مرینہ سوچیں گے۔ اگر تم اچھا لڑکا بننے کا وعدہ کرتے ہو تو ہم تمہیں بندوق خرید دیں گے۔‘‘
’’میں وعدہ کرتا ہوں، میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘ ساشا نے کہا۔
’’اگر تم دونوں مجھے بندوق خرید دوگی تو مجھ سے جو بھی کہو گی، میں کروں گا۔‘‘
اگلے دن اس کی بہنوں نے اسے بندوق اورپٹاخوں والی گولیوں کا ڈبہ تحفے میں دے دیا۔ بندوق بالکل نئی اور چمک دار تھی۔ اس کے ساتھ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پٹاخوں والی گولیاں بھی تھیں۔
وہ اپنی خوشی کیلئے انہیں چلا سکتا تھا۔ ساشا خوشی کے مارے کمرے میں اچھلا کودا۔ اس نے بندوق کو بڑا پیار کیا یہاں تک کہ اس نے ’’میری اچھی بہت ساری بندوق! مجھے تم سے بہت زیادہ محبت ہے۔‘‘ کہتے ہوئے اسے چوما بھی۔ اس کے بعد اس نے اس کے دستے پر کھرچ کر اپنا نام لکھا اور پھر فائر کرنا شروع کردیا۔ فوراً کمرے میں پٹاخوں کی بوپھیل گئی اور آدھے گھنٹے بعد کمرا دھوئیں سے بالکل نیلا ہوگیا۔
’’اب تک کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔‘‘ آخر کار عائرہ نے کہا۔ ’’ہر بار جب بندوق چلتی ہے تو میں اچھل جاتی ہوں۔‘‘
’’بزدل کہیں کی‘‘ ساشا نے دندان شکن جواب دیا۔ ’’ساری لڑکیاں بزدل ہوتی ہیں۔‘‘
’’اچھا تو ٹھیک ہے۔ جب میں تم سے بندوق واپس لے لوں گی پھر تمہیں دکھاؤں گی کہ ہم کتنی بزدل ہیں۔‘‘ مرینہ نے کہا۔
’’میں باہر صحن میں جارہا ہوں۔‘‘ ساشا نے جواب دیا ’’بچوں کو اپنی بندوق سے خوف زدہ کرنے کیلئے۔‘‘ اور وہ باہر چلا گیا لیکن وہاں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اس لئے وہ گیٹ سے باہر نکل گیا اور یہیں سے اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔
اسی لمحے ایک بوڑھی عورت گلی میں سے گزر رہی تھی، ساشا نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر ’’ٹھاہ‘‘ اس نے اس کے پیچھے چپکے سے بندوق چلا دی۔ ایک حیران کن چیخ کے ساتھ بوڑھی عورت وہیں رک گئی۔ پھر پیچھے مڑتے ہوئے وہ بولی: ’’اوہ! تم نے مجھے ڈرا ہی دیا۔ تم ہی تھے جس نے بندوق چلائی۔‘‘
’’نہیں تو۔۔۔‘‘ ساشا نے بندوق اپنے پیچھے چھپاتے ہوئے کہا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ہاتھ میں بندوق نہیں دیکھ سکتی؟‘‘ بوڑھی عورت نے کہا ’’اور تم مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہو، تمہیں شرم آنی چاہئے۔ میں سیدھا پولیس اسٹیشن جارہی ہوں۔‘‘ اپنی انگلی ہلاتے ہوئے اس نے سڑک پار کی اور ایک طرف گلی میں غائب ہوگئی۔
’’ایسا لگتا ہے سچ مچ پولیس کو بلانے چلی گئی ہے۔‘‘ وہ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ گھر بھاگ گیا۔ ’’تمہیں کیا ہوا ہے جو اتنے خوف زدہ لگ رہے ہو؟ جیسے بھیڑ یا تمہارا پیچھا کر رہا ہے۔‘‘ ساشا گھر میں داخل ہوا تو اس کی بہن عائرہ نے پوچھا۔ ’’بہتر یہی ہے کہ بتا دو یہ تو تمہارے چہرے پہ لکھا ہوا ہے کہ تم نے کچھ کیا ہے۔‘‘
’’میں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ ساشا کی سانس پھول گئی۔
’’صرف یہ ہوا کہ میں نے ایک بوڑھی عورت کو ڈرا دیا ہے۔‘‘
’’کیسی بوڑھی عورت؟‘‘
’’کیسی بوڑھی عورت سے تمہارا کیا مراد ہے؟‘‘ ساشا نے کہا ’’بس کوئی بوڑھی عورت تھی جو گلی میں سے گزر رہی تھی، مجھے نظر آگئی تو میں نے گولی چلا دی۔‘‘
’’تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ اس کی بہن نے پوچھا۔
’’مجھے خود نہیں پتا۔‘‘ ساشا نے کہا ’’وہ چل رہی تھی اور میں نے اپنے آپ سے کہا چلو بھئی اس کو گولی مار دو اور میں نے ایسا کردیا۔‘‘
’’پھر اس کا کیا بنا؟‘‘ عائرہ نے پوچھا۔
’’کچھ بھی نہیں، وہ پولیس اسٹیشن چلی گئی ہے۔‘‘
’’دیکھانا‘‘ عائرہ نے کہا
’’تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ تمیز سے رہو گے اور اب دیکھو تم نے کیا کیا ہے۔‘‘
’’میرا کیا قصور ہے۔ بوڑھی عورت کی شکل ہی ڈراؤنی بلی جیسی تھی۔‘‘ ساشا نے بڑے غرور سے کہا۔
’’اب ایک پولیس والا آئے گا اور تمہیں خوب مزہ چکھائے گا۔‘‘ عائرہ نے بات جاری رکھی۔ ’’تب تمہیں پتا چلے گا کہ لوگوں کو ڈرانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔‘‘
’’وہ مجھے کیسے ڈھونڈے گا؟‘‘ ساشا نے پوچھا۔ ’’اسے کیا پتا کہ میں کہاں رہتا ہوں، وہ تو میرا نام تک نہیں جانتا۔‘‘
’’تم فکر نہ کرو۔ وہ ڈھونڈ لے گا۔‘‘ عائرہ نے کہا ’’پولیس والوں کو سب پتا ہوتا ہے۔‘‘
پورا گھنٹہ ساشا عاجزی سے بیٹھا کھڑکی میں سے باہر دیکھتا رہا کہ کہیں سے کوئی پولیس والا تو نہیں آرہا ہے۔ لیکن کوئی بھی پولیس والا نظر نہ آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پرسکون ہوا اور تھوڑا سا اکڑ کر بولا ’’یقیناًاس بڑھیا نے مجھے ڈرانے اور سبق سکھانے کیلئے ایسا کہا تھا۔‘‘
پھر اس نے اپنی پیاری بندوق کے ساتھ فائر کرنے کا سوچا اور اس کا ہاتھ اس کی جیب کی طرف گیا۔ اسے پٹاخوں والی ڈبیا مل گئی۔ اس کے بعد اس نے بندوق کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا لیکن بندوق نہ ملی۔ تب اس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کمرے میں تلاش شروع کردی۔ اس نے میز اور صوفے کے نیچے جھانکا بندوق اس طرح غائب تھی جیسے زمین نے نگل لی ہو۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ’’مجھے اس سے کھیلنے کا ٹھیک وقت ہی نہیں ملا۔‘‘ اس نے سسکی لی۔ ’’وہ تھی بھی تو اتنی اچھی۔‘‘
’’کہیں تم نے وہ صحن میں تو نہیں گرادی؟‘‘ عائرہ نے پوچھا۔
’’ہوسکتا ہے وہ گیٹ سے باہر کہیں گر گئی ہو۔‘‘ ساشا نے اچانک پوچھا۔
اس نے دروازہ کھولا اور صحن میں سے دوڑتا ہوا باہر گلی میں آگیا لیکن وہاں بندوق کا نام ونشان تک نہ تھا۔
’’کسی نے اٹھا کر اپنے لئے رکھ لی ہوگی‘‘ اس نے دکھ سے سوچا۔ تب اچانک ایک پولیس والا ایک گلی سے نکل کر تیزی سے اسے اپنی جانب آتا ہوا نظر آیا۔ وہ سیدھا ساشا کے گھر کی طرف آرہا تھا۔ ’’وہ میری طرف آرہا ہے‘‘ ساشا نے سوچا۔ ’’اس بوڑھی عورت نے میرے بارے میں بتا دیا ہوگا؟‘‘
اور پھر وہ جتنی تیزی سے بھاگ سکتا تھا، گھر کی طرف بھاگا۔
’’کیا بندوق مل گئی ہے؟‘‘ مرینہ اور عائرہ نے پوچھا۔
’’شش‘‘ ساشا نے سرگوشی کی۔ ’’پولیس والا آرہا ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’یہاں ہمارے گھر میں‘‘ ساشا بڑ بڑایا۔
’’تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟‘‘
’’گلی میں‘‘
مرینہ اور عائرہ نے اس پر ہنسنا شروع کردیا۔
’’تم کتنے بزدل ہو! پولیس والے پر ایک نظر پڑتے ہی تمہاری گھگھی بندھ ہوگئی ہے۔ وہ پولیس والا غالباً کہیں اور جارہا ہوگا یہاں نہیں آرہا ہوگا۔‘‘
’’میں اس سے نہیں ڈرتا‘‘ ساشا نے کہا۔
’’میرے آگے پولیس والا کیا چیز ہے؟‘‘
اسی لمحے دروازے پر بھاری قدموں کی آواز سنائی دی اور چانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ مرینہ اور عائرہ دروازہ کھولنے کیلئے بھاگیں۔ ساشا اپنا سر گھما کر ڈرائنگ روم کی طرف لپکا اور پھنکارا ’’اسے اندر نہ آنے دینا۔‘‘
لیکن مرینہ پہلے ہی دروازہ کھول چکی تھی اور وہاں ایک پولیس والا کھڑا تھا جس کے کوٹ پر چمک دار بٹن لگے ہوئے تھے۔ ساشا چاروں شانے چت لیٹ گیا اور رینگتا ہوا صوفے کے پیچھے چھپ گیا۔
’’تو بچیو! آپ مجھے یہ بتاؤ کہ فلیٹ نمبر6کہاں ہے؟‘‘
’’یہاں نہیں ہے‘‘ عائرہ نے کہا ’’یہ فلیٹ نمبر1ہے اگر آپ نے فلیٹ نمبر6ڈھونڈنا ہے تو چوک میں جائیے۔ فلیٹ نمبر6دائیں طرف کا پہلا دروازہ ہے۔‘‘
’’چوک میں جائیے دائیں طرف کا پہلا دروازہ ہے‘‘
پولیس والے نے آہستہ سے دہرایا۔
’’جی ہاں!‘‘ عائرہ نے کہا۔
ساشا کو پتا چل گیا کہ پولیس والا اسے پکڑنے نہیں آیا۔ وہ صوفے کے پیچھے سے رینگتا ہوا نکلنے ہی والا تھا کہ پولیس والے نے کہا ’’ویسے کیا یہاں ساشا نامی کوئی لڑکا نہیں رہتا؟‘‘
’’ہاں رہتا ہے!‘‘ عائرہ نے جواب دیا۔
’’اچھا یہ وہی لڑکا ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔‘‘
پولیس والے نے کہا اور ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا پھر مرینہ اور عائرہ نے دیکھا کہ ساشا کہیں غائب ہوگیا ہے۔ مرینہ نے تو صوفے کے نیچے تک جھانکا، ساشا نے اسے دیکھا تو بھینچی ہوئی مٹھیوں کے ساتھ دھمکی دی کہ وہ اسے باہر نہ نکالے۔
’’اچھا تو ساشا کدھر ہے؟‘‘ پولیس والے نے پوچھا۔
لڑکیاں ساشا کیلئے ڈر رہی تھیں اور انہیں نہیں پتا تھا کہ جواب کیا دینا ہے۔ آخر مرینہ نے کہا ’’وہ اس وقت گھر پر نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ سیر کرنے نکلا ہے مگر آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟‘‘
’’میں اس کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا ہوں۔‘‘
پولیس والے نے کہا ’’بس یہ جانتا ہوں کہ اس کا نام ساشا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کے پاس بالکل نئی بندوق تھی جواب اس کے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’اس کو تو سب کچھ پتا ہے‘‘ ساشا نے سوچا۔ ڈر کے مارے اس کی ناک میں کھجلی شروع ہوگئی اور اچانک اسے چھینک آگئی۔ ’’آ آچھ‘‘
’’یہ کون ہے؟‘‘ پولیس والے نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہ ہمارا۔۔۔وہ ہمارا کتا ہے۔‘‘ مرینہ نے جھوٹ بولا۔
’’تو پھر وہ صوفے کے نیچے کیا کر رہا ہے؟‘‘ پولیس والے نے پوچھا۔
’’اوہ وہ ہمیشہ صوفے کے نیچے سوتا ہے۔‘‘ مرینہ نے جھوٹ جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘ پولیس والے نے پوچھا۔
’’اوں۔۔۔ بوبی‘‘ مرینہ نے چقندر کی طرح سرخ پڑتے ہوئے کہا۔
’’بوبی بوبی باہر آجاؤ‘‘ پولیس والے نے پکارا اور اس نے کتے کیلئے سیٹی بجائی۔ ’’وہ باہر کیوں نہیں آنا چاہتا؟ آؤ بھئی آؤنا، کیا تم اچھے کتے نہیں ہو؟ کیا یہ اچھا کتا نہیں ہے؟ یہ کس نسل کا کتا ہے؟‘‘
’’اونہہ۔۔۔‘‘ مرینہ نے لفظ کھینچتے ہوئے مایوسی سے جواب دیا۔ اسے تو کچھ پتا نہیں تھا کہ کتوں کی کتنی قسمیں یا نسلیں ہوتی ہیں اور اس کی کیا نسل ہے؟ اس نے کہا ’’اچھا تو یہ کس نسل کا ہے؟ یہ اچھی نسل کا کتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ۔۔۔ اوہ ہاں یہ۔۔۔ لمبے بالوں والا لومڑی کی نسل کا کتا ہوتا ہے! یہ وہی ہے‘‘۔
’’اوہ کتنا زبردست کتا ہے‘‘ پولیس والے نے چہکتے ہوئے کہا ’’ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس کی پیاری سی نرم نرم بالوں والی ناک ہوتی ہے۔‘‘ اس نے جھک کر صوفے کے نیچے جھانکا۔
ساشا ایسے لیٹا ہوا تھا جیسے زندہ نہیں بلکہ مردہ ہو۔
اس نے اپنی پوری کھلی ہوئی آنکھوں سے پولیس والے کو دیکھا۔
’’اچھا تو یہ جو یہاں پڑا ہوا ہے یہ ہے لومڑی کی نسل کا کتا‘‘۔ پولیس والے نے کہا۔
’’اے تم صوفے کے نیچے کیا کر رہے ہو؟ لڑکے باہر نکلو۔ میں نے تمہیں ڈھونڈ لیا ہے‘‘ پولیس والا بولا۔
’’میں باہر نہیں نکلوں گا۔‘‘ ساشا نے واویلا مچاتے ہوئے کہا۔
’’کیوں بھئی‘‘ پولیس والے نے پوچھا۔
’’آپ مجھے پولیس اسٹیشن لے جائیں گے‘‘ ساشا نے کہا۔
’’کس وجہ سے؟‘‘
’’بوڑھی عورت کی وجہ سے‘‘ ساشا بولا ’’جس پر میں نے گولی چلائی تھی اور جوڈر گئی تھی‘‘۔
’’میں سمجھا نہیں کہ تم کس بوڑھی عورت کی بات کر رہے ہو؟‘‘ پولیس والے نے کہا۔
’’یہ باہر اپنی پٹاخوں والی بندوق سے گولی چلانے گیا تھا‘‘ عائرہ نے وضاحت کی، ’’کہ ایک بوڑھی عورت پاس سے گزری، پٹاخے کی آواز سن کر وہ ڈر گئی۔‘‘
’’اچھا تو یہ بات ہے‘‘ پولیس والے نے کہا ’’تو یہ اس کی بندوق ہے؟‘‘ اور اس نے اپنے کوٹ سے ایک نئی نویلی چمک دار بندوق نکالی۔
’’یہی ہے، یہی‘‘ عائرہ نے خوشی سے چلانا شروع کردیا۔ ’’میں نے اور مرینہ نے اسے خرید کر دی تھی اور اس نے گم کردی تھی۔ یہ آپ کو کہاں سے ملی ہے؟‘‘
’’آپ کے دروازے کے باہر سے‘‘ پولیس والے نے جواب دیا۔ ’’اچھا یہ لو اور بتاؤ کہ تم نے بوڑھی عورت کو کیوں ڈرایا تھا؟‘‘
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ ساشا نے صوفے کے نیچے سے کہا۔
’’تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘ پولیس والے نے کہا۔
’’میں تمہاری آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں، مجھے سچ مچ بتا دو، میں تمہیں بندوق واپس کردوں گا۔‘‘
’’اگر میں نے سچ سچ بتا دیا تو میرے ساتھ کیا ہوگا؟‘‘ ساشا نے کہا۔
’’کچھ بھی نہیں ہوگا۔ تمہیں تمہاری بندوق واپس مل جائے گی اور کیا ہوگا‘‘
’’تو آپ مجھے پولیس اسٹیشن تو نہیں لے جائیں گے نا؟‘‘
’’نہیں‘‘
’’میرا مقصد بوڑھی عورت کو ڈرانا نہیں تھا۔‘‘ ساشا نے کہا۔
’’میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ گھبراتی ہے کہ نہیں؟‘‘
’’ یہ تو اچھی بات نہیں ہے ننھے دوست‘‘ پولیس والے نے کہا۔
’’اس کے لئے تو تمہیں پولیس اسٹیشن لے کر جانا ہی چاہیے تھا لیکن اب میں کیا کروں، میں نے تو کہہ دیا ہے کہ میں تمہیں پولیس اسٹیشن نہیں لے جاؤں گا اور وعدہ کی خلاف ورزی کرنا تو بہت بڑا جرم ہے۔ اس دفعہ میں نہیں لے کر جاؤں گا۔ لیکن اگر آئندہ میں نے تمہیں شرارتیں کرتے دیکھا تو پھر تمہیں تھانے لے جانا ہی پڑے گا۔ ٹھیک ہے اب باہر نکلو اور اپنی بندوق رکھ لو۔‘‘
’’نہیں میں بعد میں باہر نکلوں گا، جب آپ چلے جائیں گے‘‘ ساشا نے کہا۔
’’کتنا مزاحیہ ہے ننھا دوست،‘‘ پولیس والا ہنس دیا۔ اس نے بندوق صوفے پر رکھی اور چلا گیا۔ مرینہ تیزی سے پولیس والے کے ساتھ اسے فلیٹ نمبر6دکھانے کیلئے چلی گئی جب کہ ساشا صوفے کے نیچے سے رینگتا ہوا باہر نکلا اور بندوق پر نظریں گاڑ کر اونچی آواز میں بولا یہ ہے میری قیمتی بندوق جو ایک بار پھر میرے پاس آگئی ہے۔ اس نے بندوق پکڑی اور کہا ’’ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ پولیس والے کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟‘‘
’’تم نے خود ہی تو اپنا نام بندوق پر لکھا تھا‘‘ عائرہ نے کہا۔
اسی لمحے مرینہ واپس آگئی اور اپنے بھائی پر پل پڑی۔
’’تم نے کتنی فضول حرکت کی،‘‘ وہ چلائی ’’تمہاری وجہ سے مجھے پولیس والے سے کئی جھوٹ بولنے پڑے میں تو شرم سے مری جارہی تھی، اب ذرا کرنا ایسے تماشے!! پھر دیکھنا میں تمہاری ذرا بھی مدد نہیں کروں گا۔ یہ آخری مرتبہ تھا۔‘‘
میں اب کوئی تماشا، کوئی فضول حرکت نہیں کروں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔‘‘ ساشا نے کہا ’’میں اب جان گیا ہوں کہ کسی کو یوں ڈرانا نہیں چاہئے۔‘‘
*۔۔۔*